Yunus 10:82

Yunus · from ayah 82

10:82

وَیُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ ۟۠وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَـقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah will establish the truth by His words, even if the criminals dislike it."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 8 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:82

اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ﺛابت کردیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ سچ کو اپنے حکم سے سچ کر دکھاتا ہے، چاہے مجرم لوگ کتنا برا سمجھیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ اپنی باتوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے پڑے برا مانیں مجرم،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ اپنے کلمات سے حق کا حق ہونا ثابت فرما دیتا ہے اگرچہ مجرم لوگ اسے ناپسند ہی کرتے رہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کردیتا ہے، خواہ مجرم برا ہی جانیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دکھائے گا اگرچہ یہ بات مجرموں کو ناگوار ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ مجرموں کے علی الرغم اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ حق کو حق کر کے دکھاتا ہے اپنے فرامین (و ارشادات) کے ذریعے، اگرچہ یہ برا لگے مجرموں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ حق کو سچ کردکھاتا ہے اپنے وعدوں کے موافق خواہ مجرموں کو (کیسا ہی) ناگوار گزرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ تو حق کو حق ثابت کرتا ہے اپنے کلمات سے خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دے گا، اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah vindicates the truth by His commands, howsoever much the guilty might detest that.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And Allah establishes the truth through His words, even though the guilty ones may dislike it.

— Muhammad Taqi Usmani

And Allah establishes the truth through His words, even though the guilty ones may dislike it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And Allah will establish and make apparent the truth by His Words, however much the criminals may hate (it)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Allah will vindicate the Truth by His words, however much the guilty be averse.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah will establish the truth by His words, even if the criminals dislike it."

— Saheeh International

God will make the Truth stand supreme by His words, even though the wicked people dislike it."

— Muhammad Sarwar

And Allah will show the truth to be the truth by His words, though the guilty may be averse (to it).

— Muhammad Habib Shakir

And Allah justifieth the truth according to His words, even though the culprits may detest.

— Abdul Majid Daryabadi

"And Allah by His words doth prove and establish His truth, however much the sinners may hate it!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:82

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 79–82

موسیٰ ؑ بمقابلہ فرعونی ساحرین سورة اعراف، سورة طہ، سورة شعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور حضرت موسیٰ ؑ کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورة اعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کردیا۔ اس وقت فرعون کا منہ کالا ہوگیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 81–82

سورة یُوْنُس 77 یعنی جادو وہ نہ تھا جو میں نے دکھایا تھا، جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

خلاصہ تفسیر پھر ان (مذکور) پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے معجزات (عصا اور ید بیضاء) دے کر بھیجا سو انہوں نے (دعوے کے ساتھ ہی ان کی تصدیق کرنے سے) تکبر کیا (اور طلب حق کے لئے غور بھی تو نہ کیا) اور وہ لوگ جرائم کے خوگر تھے (اس لئے اطاعت نہ کی) پھر جب (بعد دعوی کے) ان کو ہمارے پاس سے (نبوت موسویہ پر) صحیح دلیل پہنچی (مراد اس سے معجزہ ہے) تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقینا یہ صریح جادو ہے، مو سیٰ ؑ نے فرمایا کیا یہ جا دو ہے، حالانکہ جادوگر (جب کہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار معجزہ میں) کامیاب نہیں ہوا کرتے (اور میں کامیاب ہوا کہ اول دعوی کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 79–82

79 تا 82: وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ۔ فَلَمَّا جَاۗءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰٓى اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ۔. فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبْطِلُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ۔ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۔ حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ : وَقَالَ فِرْعَوْنُ۔۔ الایۃ۔ فرعون اور اس کے درباریوں سے یہ حقیقت تو مخفی نہیں ہوسکتی تھی کہ نہ حضرت موسیٰ ساحر ہیں اور نہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں، وہ سحر ہے لیکن چونکہ ان کی بات مان لینے کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

82۔ 1 یا کلمات سے مراد وہ دلائل وبراہین ہیں، جو اللہ تعالیٰ اپنی کتابوں میں اتارتا رہا جو پیغمبروں کو وہ عطا فرماتا تھا۔ یا وہ معجزات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے انبیاء کے ہاتھوں سے صادر ہوتے تھے، یا اللہ کا وہ حکم ہے جو لفظ کُنْ سے صادر فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 80–82

32: جادو کی یوں تو بہت سی قسمیں ہوتی ہیں، لیکن چونکہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھایا تھا، اس میں سے انہوں نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینکی تھی، اور وہ سانپ دن گئی تھی، اس لیے مقابلے پر جو جادوگر بلائے گئے ان کے بارے میں ظاہر یہی تھا کہ وہ اسی قسم کا کوئی جادو دکھائیں گے کہ کوئی چیز پھینک کر سانپ بنادیں، تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ بھی اسی قسم کا کوئی جادو ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 81–82

فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر پھر جب جادوگروں نے پھینکاتو موسیٰ نے فرمایا : تم جادو ہی لائے ہو۔ ان اللہ سیبطلہ یقیناً اللہ اس کو مٹا دے گا ‘ اس کا بےحقیقت ہونا ظاہر کر دے گا۔ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو قائم نہیں رکھتا ‘ قوت نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ‘ یہ محض فریب کاری اور فساد انگیزی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 82–83

2 " بنی اسرائیل " فرعونیوں کے ہاتھوں سخت مصیبت اور ذلت اٹھا رہے تھے اور پرانی پیشین گوئیوں کے مطابق منتظر تھے کہ فرعون کے مظالم کا خاتمہ کرنے اور اس کی سلطنت کا تختہ الٹنے والا " اسرائیلی " پیغمبر مبعوث ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) ٹھیک اسی شان سے تشریف لائے جس کا انھیں انتظار تھا۔ اس لیے تمام " بنی اسرائیل " قدرتی طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کو نعمت عظمی سمجھتے تھے، وہ دل سے حضرت موسیٰ کو سچا جانتے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ مگر اکثر آدمی فرعونی سرداروں سے خوفزدہ تھے، اسی لیے ابتداء میں شرعی طور پر ایمان نہیں لائے وقت کے منتظر رہے کہ جس وقت حق کا غلبہ ہوگا مسلمان ہوجائیں گے۔ بنی اسرائیل کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 81–82

آیت 81 فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰی مَا جِءْتُمْ بِہِلا السِّحْرُ یعنی جادو وہ نہ تھا جو میں نے دکھایا تھا ‘ بلکہ جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ اللہ تعالیٰ ابھی تمہاری شعبدہ بازی کا باطل ہونا ثابت کردے گا ‘ اسے نیست و نابود کر دے گا ‘ ہَبَاءً مَنْثُوْرًا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 81–82

93 فیصلہ کن معرکہ حق و باطل میں حق کو یقینا تائید الٰہی حاصل ہوتی ہے :۔ جب جادوگر اپنی شعبدہ بازیاں دکھلا چکے اور ان کی پھینکی ہوئی رسیاں اور لاٹھیاں لوگوں کو سانپوں کی طرح حرکت کرتی اور بل کھاتی دکھائی دینے لگیں اور تماشا دیکھنے والے سب لوگ ان سے ڈر بھی گئے اور متاثر بھی ہوگئے تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ جو کچھ تم نے پیش کیا ہے یہ فی الواقع جادو ہے اور جو میں پیش کررہا ہوں وہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ معجزہ ہے جو تمہاری ان تمام شعبدہ بازیوں کا خاتمہ کر دے گا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بات اللہ کی عادت اور حکمت کے خلاف ہے کہ کسی جگہ حق و باطل کا معرکہ درپیش ہو۔ مصلح کے مقابلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

121۔ حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی کو جو کچھ مدنظر ہے وہ بہرحال و صورت واقع ہو کر رہے گا، منکرین خواہ کچھ بھی کرڈالیں، (آیت) ” بکلمۃ “۔ کلمات کے مفہوم میں کلام اور دلائل و شواہد سب داخل ہیں، اے بحجۃ التی جعلھا اللہ تعالیٰ لکم علیھم سلطانا مبینا (راغب) اے بکلامہ وحججہ وبراھینہ (قرطبی) یہاں مراد وعدہائے نصرت سے لی گئی ہے۔ اے بوعدہ النصر لمن جاء بہ (روح۔ عن الحسن)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–82

آیت نمبر 71 تا 82 ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویحق اللہ الحق بکلمتہ اور اللہ اپنی آیات سے حق کو جما دیتا اور مضبوط کردیتا ہے۔ ولو کرہ المجرمون۔ خواہ مجرموں کو ناگوار ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 80–82

(80۔ 81۔ 82) جب وہ جادوگر آئے تو حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا کہ لکڑیاں اور رسیاں جو کچھ سامان جادو تمہیں ڈالنا ہو، ڈال دو لہذا جب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں ڈالیں تب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا جادو یہ ہے۔ جو کچھ تم نے ڈالا ہے۔ حق کی طاقت اس کو ابھی درہم برہم کردے گی کیوں کہ اللہ تعالیٰ جادوگروں کا کام بننے نہیں دیتا اور اللہ تعالیٰ دین صحیح کو اپنے وعدوں کے موافق ثابت کردیتا ہے، خواہ مشرکین کو یہ چیز کتنی ہی ناگوار اور بری لگے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 79–82

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ۔۔ : یہ قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طٰہٰ اور شعراء میں بھی آ رہا ہے۔ مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ : یعنی جادو تو وہ ہے جو تم لائے ہو، نہ کہ وہ جو میں پیش کر رہا ہوں۔ ”المفسدین“ جادوگروں کو مفسد قرار دیا ہے جو ایک مشرک ظالم اور خدائی کے دعوے دار کی حمایت محض دنیا کے لالچ میں کر رہے تھے۔ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات (اپنی باتوں) کے ساتھ، یعنی ان وعدوں کے مطابق جو اس نے حق کو غالب کرنے کے متعلق کیے ہیں، حق کو سچا کردیتا ہے۔ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ چاہے تو اپنے کلمہ ”کُنْ“ کے ساتھ، یعنی اپنے کسی حکم کے ساتھ ظاہری اسباب کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 82 قولہ تعالیٰ : (آیت) ویحق اللہ الحق یعنی اللہ تعالیٰ حق کو بیان کرتا ہے اور اس کی وضاحت کرتا ہے۔ (آیت) بکلمتہ یعنی اپنے کلام، حجج اور اپنے دلائل کے ساتھ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اپنی مدد نصرت عطا کرکے (حق کو حق کردکھاتا ہے) (آیت) ولو کرہ المجرمون آل فرعون کے مجرم اسے ناپسند ہی کریں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–82

موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ : 1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتلفتنا “ یعنی تاکہ تو ہم کو پھیر دے دور ہٹا دے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” لتلفتنا “ تاکہ تو ہم کو اپنے معبودوں سے روک دے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتکون لکما الکبریآء فی الارض “ یعنی عظمت ملک اور بادشاہ ہی (تمہارے لئے ہی ہوجائے ) ۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيُحِقُّ [ اور حق کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] الْحَقَّ [ حق کو ] بِكَلِمٰتِهٖ [ اپنے فرمانوں سے ] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] كَرِهَ [ کراہیت کریں ] الْمُجْرِمُوْنَ [ جرم کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–86

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–82

قال اللہ تعالی۔ ثم بعثنا من بعدہ رسلا۔۔۔ الی۔۔۔ علی قلوب المعتدین (ربط): اوپر کی آیات میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اجمالاً ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا قصہ ذکر ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلا کے بعد ہود اور صالح اور ابراہیم اور لوط اور شعیب (علیہم السلام) مبعوث ہوئے پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن جن لوگوں نے انبیاء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 79–82

98: آخر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلے کی ٹھان لی اور ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو بلانے کے احکام جاری کردئیے۔ “ فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ الخ ” ملک کے نامی گرامی جادوگر جمع ہوگئے جب مقابلے کے لیے آمنے سامنے ہوئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جو مکر و فریب لائے پیش کرو۔ “ فَلَمَّا اَلْقَوْا الخ ” جب انہوں نے اپنے جادو کی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر ڈال دیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو محض جادو اور مکر و فریب ہے جو ابھی باطل ہوا چاہتا ہے، تم لوگ میرا مقابلہ کر کے دعوت توحید کو روکنا اور شرک کو پھیلنے کا موقع دینا چاہتے ہو جو سراسر فساد فی الارض ہے اور اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–82

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو سمجھانے کے لیے اور بعد میں آنے والے مشرکوں اور نافرمانوں کی عبرت کے لیے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال بیان فرمائی ، درمیان میں اجمالی طور پر دیگر انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ دیکھ لو ڈرائے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ ان تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی معرفت برے انجام سے ڈرایا تھا مگر وہ لوگ غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے اور انبیاء (علیہ السلام) کو برداشت نہ کیا مگر اللہ کے نبیوں نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تبلیغی مشن کو جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے منکرین کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيُحِقُّ اللہُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ۝ 82 ۧ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 78–82

قَالُوْآ اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَاوَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآئُ فِی الْاَرْضِ ط وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ ۔ فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْن۔ فَلَمَّآ اَلْقُوْا قَالَ مُوْسٰی مَاجِئْتُمْ بِہِ لا السِّحْرُ ط اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْن۔ وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (یونس : 78، 79، 80، 81، 82) (انھوں نے کہا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 79–82

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت فقط اتنی تھی کہ بنی اسرائیل پر مظالم ڈھانے کی بجائے انہیں آزاد کر دو اور اللہ تعالیٰ کی بغاوت کرنے کی بجائے اس پر سچا ایمان لاکر اس کی غلامی اختیار کرو۔ مگر فرعون نے طاقت کے بل بوتے اور پروپیگنڈہ کے زور پر بات کا رخ موڑ دیا اور اپنے وزیروں اور مشیروں کو حکم صادر کیا۔ کہ پورے ملک سے ماہر جادوگروں کو میرے پاس حاضر کیا جائے۔ جس کی تفصیل سورة طٰہ میں یوں ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ہم بھی تیرے جادو جیسے جادوکا مظاہرہ کریں گے۔ بس ہمارے اور تمہارے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

82: وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ (اور اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کردیں گے) اور اس کو قائم و مضبوط کردیں گے بِکَلِمٰتِہٖ ( اپنے کلمات کے ذریعہ) اپنے اوامرو قضایا کے ساتھ یا اسلام کو اپنی نصرت سے غلبہ دیں گے۔ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ (اگرچہ مجرموں کو ناپسند ہو) یہ بات۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 76–82

76۔ 82۔ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا فرعون کے زمانہ میں جادو کا بڑا چرچہ اور زور تھا فرعون کی طرف سے بہت سے جادوگر جاگیریں پاتے تھے اور مصر کے اطراف میں اپنی جاگیرات میں رہتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اس لئے یہی جواب دیا کہ تائید آسمانی اور معجزہ نبوی کو اگر تو سمجھتا ہے تو اپنے بڑے بڑے جادوگروں کو بلا کر مجھ سے مقابلہ کرالے اور دیکھ لے کہ تائید آسمانی کے مقابلہ میں جادو کبھی سر سبز نہ ہوگا آخر فرعون نے اپنے جادوگر بلوائے اور فرعون کی سالگرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–93

آیت : ( 75-93) (ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

137 ۔ اللہ حق کو حق کرکے دکھاتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ حق کو حق کرکے دکھاتا ہے اپنے فرامین و ارشادات کے ذریعے اگرچہ یہ برا لگے مجرموں کو۔ سو ثابت اور قائم و دائم رکھتا ہے کہ اس میں انسانیت کی فلاح اور پوری کائنات کی صلاح وبقاء کا سامان ہوتا ہے۔ اسی لیے اس قادر مطلق نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے فرد فرید کو فرعون جیسے طاغوت و سرکش پر فتح و کامرانی سے نوازا۔ اور ان کی قوم کو فرعون کی صدیوں کی غلامی سے نجات و رہائی نصیب فرمائی۔ جس کا ظاہری حالات میں کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔ بلکہ ظاہری صورت یکسر اس کے خلاف تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے یہ سب کچھ کرکے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–92

سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–82

آیات 71 تا 82 اسرار و معارف کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ یعنی جو اس نے فرمایا کہ ھق کو غالب رکھوں گا یا کلمات سے مراد حکم باری تعالیٰ ہے یا اپنی کتاب میں نازل کردہ آیات کی برکت سے۔ بکلماتہ کے یہ سب طلب ہوسکتے ہیں۔ (کذافی الوحیدی) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–85

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82 استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–82

آنحضرت ﷺ کی تسکین کا ذکر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا، فرعون جس ذلت اور خواری سے ہوا اس کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طہ اور سورة شعراء اور سورة قصص میں پھر آئے گا۔ اس قصہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ اگرچہ قریش معجزہ اور قرآن کو جادو اور اے نبی تم کو جادوگر بتلا رہے ہیں ۔ بالاآخر فرعون کے جادوگروں کی طرح اکثر ان میں سے قائل ہو کر اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 77–82

[30] یعنی آخری اور مستقل کامیابی جادوگروں اور شعبہ بازوں کے نصیب میں کہاں۔ ذرا دیر کے لئے وہ گرمی محفل تو پیدا کرسکتے ہیں لیکن کمال اخلاق سے وہ عاری ہوتے ہیں۔ دنیوی اعتبار سے بھی تو کوئی اعلیٰ مستقل کمال ان میں نہیں ہوتا۔ کیا جادوگر کا یہ کام ہوتا ہے کہ ایک ظالم سرکش حکمران کو اللہ کی پرستش کی دعوت دے !

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 81–82

(ف 1) فرعون چونکہ بصیرت سے محروم تھا اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے موقف ومقام اصلی سے آگاہ نہ ہوسکا جادوگروں کو بلایا ، اور کہا کہ اپنے کسب و کمال سے اس کی معجز نمائی کا جواب دو ۔ جادوگر آئے ، اس لئے کہ اس وقت ارض مصر میں اس قسم کی باتوں پر عموما یقین رکھتے تھے ، اور اپنے سحر سے انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو متحیر کرنا چاہا موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین تھا کہ (آیت) ” ان اللہ سیبطلہ “۔ خدا حق پرستوں کے مقابلہ میں جھوٹوں کو کبھی کامیابی عنایت نہیں فرماتا ، اس لئے آپ نے بالکل بےخوف ہو کر ان کا مقابلہ کیا اور انجام کار معجزہ کرشمہ سازی پر غالب آیا اور حق کو جھوٹ کے مقابلہ میں فتح نصیب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

82 اور اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے حق کو حق ہی کر دکھائے گا اور حق بات کو سچا کردے گا خواہ مجرم اور کافر کتنا ہی برا مانیں یعنی معجزے کو ثابات کردے گا اور جادو کو مٹادے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 82–84

ف 4۔ توکل کے لیے یہ لازم ہے کہ خلق پر نظر رہے طمعا یا خوفا پس یہ منافی دعاء کے نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ حق کو اپنے احکام کے مطابق ثابت کر دکھائے گا اگرچہ مجرم پسند نہ کریں 114 ؎ حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی کو جو کچھ مد نظر ہے وہ بہر حال و صورت واقع ہو کر رہے گا منکرین خواہ کچھ بھی کہیں اور کفارلوگ کتنا بھی ناک بھوں چڑھائیں اور جرائم پیشہ لوگوں کی پیشانیوں پر بل پڑتے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں وہ تو اپنے ارشادات طیبات سے حق کو سر بلند کر کے چھوڑے گا اس لئے کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔ ’ ’ وہ حق کو اپنے احکام کے مطابق ضرور ثابت کر دکھائے گا “۔ اس لئے کہ وہ جب بھی علامت تعریف کے ساتھ کس بات کو ” الحق “ کہتا ہے تو اس سے بھی مقصود یہی حقیقت ہوتی ہے اور اس لئے وہ اکثر حالتوں میں صرف ” الحق “…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–86

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 81–82

77. What Moses (peace be on him) presented before the court was no sorcery; rather it was the sorcerers who had made a show of their tricks of sorcery.

Read the full tafseer →