Yunus 10:81

Yunus · from ayah 81

10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰی مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ— السِّحْرُ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ ۟فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا قَالَ مُوۡسٰى مَا جِئۡتُمۡ بِهِۙ السِّحۡرُ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they had thrown, Moses said, "What you have brought is [only] magic. Indeed, Allah will expose its worthlessness. Indeed, Allah does not amend the work of corrupters.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 8 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:81

پھر جب انہوں نے اپنے آنچھر پھینک دیے تو موسیٰؑ نے کہا“یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادو ہے، اللہ ابھی اِسے باطل کیے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سدھرنے نہیں دیتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

سو جب انہوں نے ڈاﻻ تو موسی(علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم ﻻئے ہو جادو ہے۔ یقینی بات ہے کہ اللہ اس کو ابھی درہم برہم کیے دیتا ہے، اللہ ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب انہوں نے (اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کو) پھینکا (اور وہ سانپ بن کر چلتی ہوئی نظر آئیں) تو موسیٰ نے کہا کہ : یہ جو کچھ تم نے دکھایا ہے جادو ہے۔ اللہ ابھی اس کو مل یا میٹ کیے دیتا ہے۔ اللہ فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا یہ جو تم لائے یہ جادو ہے اب اللہ اسے باطل کردے گا، اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب انہوں نے (اپنی رسیاں اور لاٹھیاں) ڈال دیں تو موسٰی ؑ نے کہا: جو کچھ تم لائے ہو (یہ) جادو ہے، بیشک اللہ ابھی اسے باطل کر دے گا، یقیناً اللہ مفسدوں کے کام کو درست نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو جب انھوں نے پھینکا، موسیٰ نے کہا تم جو کچھ لائے ہو یہ تو جادو ہے، یقینا اللہ اسے جلدی باطل کر دے گا۔ بیشک اللہ مفسدوں کا کام درست نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب وہ پھینک چکے تو موسیٰ نے کہا : جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے۔ اللہ ابھی اسے مٹا ڈالے گا۔ اللہ فسادیوں کے کام کو سنوارا نہیں کرتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب انہوں نے پیش کیا موسیٰ نے کہا یہ جو کچھ تم لائے ہو، یہ جادو ہے، بیشک اللہ اس کو نیست کردے گا، اللہ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس جب وہ ڈال چکے (جو کچھ کہ انھیں ڈالنا تھا) تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے، یقیناً اللہ اسے ابھی درہم برہم کئے دیتا ہے، بلاشبہ اللہ سدھرنے (اور سنورنے) نہیں دیتا فسادی لوگوں کے کام کو

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب انہوں نے (رسے) ڈال دیئے تو موسیٰ ؑ بولے جادو یہ ہے جو کچھ تم (بنا کر) لائے ہو یقیناً اللہ اسے ابھی توڑ پھوڑ دے گا یقیناً اللہ فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب انہوں نے ڈال دیاتو موسیٰ نے فرمایا کہ تم لوگ جو کچھ لائے ہو یہ جادو ہے۔ یقیناً اللہ اسے ابھی باطل کر دے گا۔ بیشک اللہ مفسدوں کے عمل کو کامیاب نہیں کرتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب انہوں نے اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو ڈالا، تو موسیٰ نے کہا ”جو چیزیں تم بنا کر لائے ہو، جادو ہے۔ اللہ اس کو ابھی نیست و نابود کر دے گا۔ اللہ شریروں کا کام سنوارا نہیں کرتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then when they had cast (their staffs), Moses said: 'What you have produced is sheer sorcery. Allah will certainly reduce it to naught. Surely Allah does not set right the work of the mischief-makers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, when they had cast, Musa said, :All that you have brought is magic. Allah will certainly bring it to naught. Be assured that Allah does not set right the work of the mischief-makers.

— Muhammad Taqi Usmani

So, when they had cast, Musa said, :All that you have brought is magic. Allah will certainly bring it to naught. Be assured that Allah does not set right the work of the mischief-makers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then when they had cast down, Musa said: "What you have brought is sorcery, Allah will surely make it of no effect. Verily, Allah does not set right the work of the evildoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they had cast, Moses said: That which ye have brought is magic. Lo! Allah will make it vain. Lo! Allah upholdeth not the work of mischief-makers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when they had thrown, Moses said, "What you have brought is [only] magic. Indeed, Allah will expose its worthlessness. Indeed, Allah does not amend the work of corrupters.

— Saheeh International

When the magicians had thrown theirs, Moses said, "What you have performed is magic. God will certainly prove it to be false; He will not make the deeds of the corrupt people righteous.

— Muhammad Sarwar

So when they cast down, Musa said to them: What you have brought is deception; surely Allah will make it naught; surely Allah does not make the work of mischief-makers to thrive.

— Muhammad Habib Shakir

Then when they had cast down, Musa said: that which ye have brought is magic, verily Allah will soon make it vain; verily Allah setteth not right the work of the corrupters.

— Abdul Majid Daryabadi

When they had had their throw, Moses said: "What ye have brought is sorcery: Allah will surely make it of no effect: for Allah prospereth not the work of those who make mischief.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:81

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 79–82

موسیٰ ؑ بمقابلہ فرعونی ساحرین سورة اعراف، سورة طہ، سورة شعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور حضرت موسیٰ ؑ کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورة اعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کردیا۔ اس وقت فرعون کا منہ کالا ہوگیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 81–82

سورة یُوْنُس 77 یعنی جادو وہ نہ تھا جو میں نے دکھایا تھا، جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

خلاصہ تفسیر پھر ان (مذکور) پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے معجزات (عصا اور ید بیضاء) دے کر بھیجا سو انہوں نے (دعوے کے ساتھ ہی ان کی تصدیق کرنے سے) تکبر کیا (اور طلب حق کے لئے غور بھی تو نہ کیا) اور وہ لوگ جرائم کے خوگر تھے (اس لئے اطاعت نہ کی) پھر جب (بعد دعوی کے) ان کو ہمارے پاس سے (نبوت موسویہ پر) صحیح دلیل پہنچی (مراد اس سے معجزہ ہے) تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقینا یہ صریح جادو ہے، مو سیٰ ؑ نے فرمایا کیا یہ جا دو ہے، حالانکہ جادوگر (جب کہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار معجزہ میں) کامیاب نہیں ہوا کرتے (اور میں کامیاب ہوا کہ اول دعوی کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 79–82

79 تا 82: وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ۔ فَلَمَّا جَاۗءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰٓى اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ۔. فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبْطِلُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ۔ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۔ حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ : وَقَالَ فِرْعَوْنُ۔۔ الایۃ۔ فرعون اور اس کے درباریوں سے یہ حقیقت تو مخفی نہیں ہوسکتی تھی کہ نہ حضرت موسیٰ ساحر ہیں اور نہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں، وہ سحر ہے لیکن چونکہ ان کی بات مان لینے کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

81۔ 1 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بھلا جھوٹ بھی، سچ کے مقابلے میں کامیاب ہوسکتا ہے ؟ جادوگروں نے، چاہے وہ اپنی فن میں کتنے ہی درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے، جو کچھ پیش کیا، وہ جادو ہی تھا اور نظر کی شعبدہ بازی ہی تھی اور جب حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے اپنا عصا پھینکا تو اس نے ساری شعبدہ بازیوں کو آن واحد میں ختم کردیا۔ 81۔ 2 اور یہ جادوگر بھی مفسدین تھے، جنہوں نے محض دنیا کمانے کے لئے جادوگری کا فن سیکھا ہوا تھا اور جادو کے کرتب دکھا کر لوگوں کو بیوقوف بناتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے اس عمل فساد کو کس طرح سنوار سکتا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 80–82

32: جادو کی یوں تو بہت سی قسمیں ہوتی ہیں، لیکن چونکہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھایا تھا، اس میں سے انہوں نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینکی تھی، اور وہ سانپ دن گئی تھی، اس لیے مقابلے پر جو جادوگر بلائے گئے ان کے بارے میں ظاہر یہی تھا کہ وہ اسی قسم کا کوئی جادو دکھائیں گے کہ کوئی چیز پھینک کر سانپ بنادیں، تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ بھی اسی قسم کا کوئی جادو ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 81–82

فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر پھر جب جادوگروں نے پھینکاتو موسیٰ نے فرمایا : تم جادو ہی لائے ہو۔ ان اللہ سیبطلہ یقیناً اللہ اس کو مٹا دے گا ‘ اس کا بےحقیقت ہونا ظاہر کر دے گا۔ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو قائم نہیں رکھتا ‘ قوت نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ‘ یہ محض فریب کاری اور فساد انگیزی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 ساحرین نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینک دیں اور تخیل و نظر بندی سے دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا تمام میدان زندہ سانپوں سے بھرا ہوا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ " جادو " یہ ہے وہ جادو نہ تھا جسے فرعون اور اس کے خوشامدیوں نے جادو کہا تھا۔ 1 یعنی بس تم اپنی قوت صرف کرچکے، اب سنبھل جانا کہ خدا اپنی قدرت و رحمت سے یہ سب بنا بنایا کھیل بگاڑتا ہے جو میرے مقابلہ میں پھر کبھی نہیں سنور سکے گا۔ کیونکہ خدا کی عادت و حکمت کے خلاف ہے کہ مصلح و مفسد کے مقابلہ کے وقت جبکہ اس سے مقصود خالص اتمام حجت ہو مفسدوں اور شریروں کی بات سنوار دے اور کلمہ حق کو پست و مغلوب کر دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 81–82

آیت 81 فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰی مَا جِءْتُمْ بِہِلا السِّحْرُ یعنی جادو وہ نہ تھا جو میں نے دکھایا تھا ‘ بلکہ جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ اللہ تعالیٰ ابھی تمہاری شعبدہ بازی کا باطل ہونا ثابت کردے گا ‘ اسے نیست و نابود کر دے گا ‘ ہَبَاءً مَنْثُوْرًا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 81–82

93 فیصلہ کن معرکہ حق و باطل میں حق کو یقینا تائید الٰہی حاصل ہوتی ہے :۔ جب جادوگر اپنی شعبدہ بازیاں دکھلا چکے اور ان کی پھینکی ہوئی رسیاں اور لاٹھیاں لوگوں کو سانپوں کی طرح حرکت کرتی اور بل کھاتی دکھائی دینے لگیں اور تماشا دیکھنے والے سب لوگ ان سے ڈر بھی گئے اور متاثر بھی ہوگئے تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ جو کچھ تم نے پیش کیا ہے یہ فی الواقع جادو ہے اور جو میں پیش کررہا ہوں وہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ معجزہ ہے جو تمہاری ان تمام شعبدہ بازیوں کا خاتمہ کر دے گا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بات اللہ کی عادت اور حکمت کے خلاف ہے کہ کسی جگہ حق و باطل کا معرکہ درپیش ہو۔ مصلح کے مقابلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

120۔ (جبکہ وہ بنیادی معجزات انبیاء سے معارضہ کو کھڑے ہوتے ہیں) (آیت) ” قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر “۔ موسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ سحر میری وہ دعوت حق نہ تھی جسے فرعون اور فرعونی سحر سے موسوم کررہے تھے، البتہ سحر تو یہ ہے جسے تم لے کر آئے ہو ! (آیت) ” السحر “۔ یہاں ال کے ساتھ معرفہ کی صورت میں لانا اسی لئے ہے کہ وہ قول فرعون (آیت) ” ھذا سحر “۔ (نکرہ) کے جواب میں ہے۔ قال الفراء انما قال السحر بالالف واللام لانہ جواب کلام سبق (کبیر) قال الفراء وانما قال السحر بالالف واللام لان النکرۃ اذا اعیدت اعیدت بالالف واللام (بحر) قال ابن عطیۃ والتعریف ھنا فی السحر ارتب لانہ قد تقدم منکرا فی قولھم ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–82

آیت نمبر 71 تا 82 ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر پھر جب جادوگروں نے پھینکاتو موسیٰ نے فرمایا : تم جادو ہی لائے ہو۔ ان اللہ سیبطلہ یقیناً اللہ اس کو مٹا دے گا ‘ اس کا بےحقیقت ہونا ظاہر کر دے گا۔ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو قائم نہیں رکھتا ‘ قوت نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ‘ یہ محض فریب کاری اور فساد انگیزی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 80–82

(80۔ 81۔ 82) جب وہ جادوگر آئے تو حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا کہ لکڑیاں اور رسیاں جو کچھ سامان جادو تمہیں ڈالنا ہو، ڈال دو لہذا جب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں ڈالیں تب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا جادو یہ ہے۔ جو کچھ تم نے ڈالا ہے۔ حق کی طاقت اس کو ابھی درہم برہم کردے گی کیوں کہ اللہ تعالیٰ جادوگروں کا کام بننے نہیں دیتا اور اللہ تعالیٰ دین صحیح کو اپنے وعدوں کے موافق ثابت کردیتا ہے، خواہ مشرکین کو یہ چیز کتنی ہی ناگوار اور بری لگے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 79–82

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ۔۔ : یہ قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طٰہٰ اور شعراء میں بھی آ رہا ہے۔ مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ : یعنی جادو تو وہ ہے جو تم لائے ہو، نہ کہ وہ جو میں پیش کر رہا ہوں۔ ”المفسدین“ جادوگروں کو مفسد قرار دیا ہے جو ایک مشرک ظالم اور خدائی کے دعوے دار کی حمایت محض دنیا کے لالچ میں کر رہے تھے۔ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات (اپنی باتوں) کے ساتھ، یعنی ان وعدوں کے مطابق جو اس نے حق کو غالب کرنے کے متعلق کیے ہیں، حق کو سچا کردیتا ہے۔ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ چاہے تو اپنے کلمہ ”کُنْ“ کے ساتھ، یعنی اپنے کسی حکم کے ساتھ ظاہری اسباب کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 81 قولہ تعالیٰ : (آیت) فلما القواقال موسیٰ ماجئتم بہ السحر اس میں مامبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہوگا اور اس کی خبر جئتم بہ ہے۔ اور تقدیر عبارت ہے : ای شی جئتم بہ (جو شے بھی تم لے کر آئے ہو) یہ ایک توزجر وتوبیخ کے لیے ہے اور دوسرا جو جادولے کر آئے اس کی حقارت بیان کرنے کے لیے ہے۔ اور ابو عمرو کی قراءت السحر استفہام کی طرز پر ہے اس صورت میں مبتدا مضمر ہوگا اور تقدیر عبارت ہوگی اھوالسحر (کیا وہ جادو ہے ) ۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتدا ہو اور خبر محذوف ہو اور تقدیر عبارت ہو : السحر جئتم بہ۔ اور جنہوں نے استفہام کی صورت میں قراءت کی ہے ان کے مطابق مابمعنی الذی نہیں ہوگا، کیونکہ اس کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–82

موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ : 1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتلفتنا “ یعنی تاکہ تو ہم کو پھیر دے دور ہٹا دے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” لتلفتنا “ تاکہ تو ہم کو اپنے معبودوں سے روک دے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتکون لکما الکبریآء فی الارض “ یعنی عظمت ملک اور بادشاہ ہی (تمہارے لئے ہی ہوجائے ) ۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَلْقَوْا [ انھوں نے ڈالا ] قَالَ [ تو کہا ] مُوْسٰى [ موسیٰ نے ] مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ [ تم لوگ لائے ہو جس کو ] السِّحْرُ ۭ [ (تو وہ تو ) جادو ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] سَيُبْطِلُهٗ ۭ [ باطل کرے گا (ناکارہ کرے گا) اس کو ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] لَا يُصْلِحُ [ اصلاح نہیں کرتا ] عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والوں کے عمل کو ] (آیت ۔ 81) السحر سے پہلے فھو محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–86

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–82

قال اللہ تعالی۔ ثم بعثنا من بعدہ رسلا۔۔۔ الی۔۔۔ علی قلوب المعتدین (ربط): اوپر کی آیات میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اجمالاً ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا قصہ ذکر ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلا کے بعد ہود اور صالح اور ابراہیم اور لوط اور شعیب (علیہم السلام) مبعوث ہوئے پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن جن لوگوں نے انبیاء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 79–82

98: آخر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلے کی ٹھان لی اور ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو بلانے کے احکام جاری کردئیے۔ “ فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ الخ ” ملک کے نامی گرامی جادوگر جمع ہوگئے جب مقابلے کے لیے آمنے سامنے ہوئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جو مکر و فریب لائے پیش کرو۔ “ فَلَمَّا اَلْقَوْا الخ ” جب انہوں نے اپنے جادو کی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر ڈال دیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو محض جادو اور مکر و فریب ہے جو ابھی باطل ہوا چاہتا ہے، تم لوگ میرا مقابلہ کر کے دعوت توحید کو روکنا اور شرک کو پھیلنے کا موقع دینا چاہتے ہو جو سراسر فساد فی الارض ہے اور اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–82

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو سمجھانے کے لیے اور بعد میں آنے والے مشرکوں اور نافرمانوں کی عبرت کے لیے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال بیان فرمائی ، درمیان میں اجمالی طور پر دیگر انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ دیکھ لو ڈرائے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ ان تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی معرفت برے انجام سے ڈرایا تھا مگر وہ لوگ غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے اور انبیاء (علیہ السلام) کو برداشت نہ کیا مگر اللہ کے نبیوں نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تبلیغی مشن کو جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے منکرین کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِہِ۝ 0 ۙ السِّحْرُ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ سَيُبْطِلُہٗ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ۝ 81 موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 78–82

قَالُوْآ اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَاوَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآئُ فِی الْاَرْضِ ط وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ ۔ فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْن۔ فَلَمَّآ اَلْقُوْا قَالَ مُوْسٰی مَاجِئْتُمْ بِہِ لا السِّحْرُ ط اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْن۔ وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (یونس : 78، 79، 80، 81، 82) (انھوں نے کہا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 79–82

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت فقط اتنی تھی کہ بنی اسرائیل پر مظالم ڈھانے کی بجائے انہیں آزاد کر دو اور اللہ تعالیٰ کی بغاوت کرنے کی بجائے اس پر سچا ایمان لاکر اس کی غلامی اختیار کرو۔ مگر فرعون نے طاقت کے بل بوتے اور پروپیگنڈہ کے زور پر بات کا رخ موڑ دیا اور اپنے وزیروں اور مشیروں کو حکم صادر کیا۔ کہ پورے ملک سے ماہر جادوگروں کو میرے پاس حاضر کیا جائے۔ جس کی تفصیل سورة طٰہ میں یوں ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ہم بھی تیرے جادو جیسے جادوکا مظاہرہ کریں گے۔ بس ہمارے اور تمہارے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

81: فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰی مَاجِئْتُمْ بِہِ السِّحْرُ (جب انہوں نے ڈـال دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے) نحو : ماؔ موصولہ ہے اور مبتداء ہے جئتم بہ اس کا صلہ ہے اور السحرؔ خبر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے الذین جئتم بہٖ ھوالسحرجو تم لائے ہو وہ جادو ہے۔ نہ کہ وہ جس کو فرعون اور اسکی قوم نے جادو قرار دیا حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں۔ قراءت : السحرؔ پر وقف ہے ابو عمرو نے اسی طرح پڑھا ہے۔ استفہام کی صورت میں۔ اس قراءت کے مطابق ما استفہامیہ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ ای شیء جئتم بہ۔ تم کونسی چیز لائے ہو کیا وہ جادو ہے ؟ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗ (بیشک اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 81۔ ” فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر ‘ ‘ ابو عمر و اور ابو جعفر نے ” آلسحر “ الف قطعی اور مد کے ساتھ استفہام کی بناء پر پڑھا ہے اور ” ما “ اس قرأت میں استفہام کے لیے ہے اور موصولہ نہیں ہے اور یہ مبتداء ہے اور ” جئتم بہ “ اس کی خبر ہے اور معنی یہ ہے کہ تم کون سی چیز لائے ہو ؟ اور باری تعالیٰ کا قول ’ ’ آلسحر “ اس سے بدل ہے اور باقی حضرات نے ” ما جئتم بہ السحر “ بغیر مد کے ہمزہ صلی کے ساتھ پڑھا ہے اور ” ما “ اس کی قرأت موصول ہے ” الذی “ کے معنی میں ” وجئتم بہ “ اس کا صلہ ہے اور یہ اپنے صلہ کے ساتھ موضع رفع میں ہے ابتداء کی وجہ سے اور باری تعالیٰ کا قول ” السحر “ اس کی خبر ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 76–82

76۔ 82۔ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا فرعون کے زمانہ میں جادو کا بڑا چرچہ اور زور تھا فرعون کی طرف سے بہت سے جادوگر جاگیریں پاتے تھے اور مصر کے اطراف میں اپنی جاگیرات میں رہتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اس لئے یہی جواب دیا کہ تائید آسمانی اور معجزہ نبوی کو اگر تو سمجھتا ہے تو اپنے بڑے بڑے جادوگروں کو بلا کر مجھ سے مقابلہ کرالے اور دیکھ لے کہ تائید آسمانی کے مقابلہ میں جادو کبھی سر سبز نہ ہوگا آخر فرعون نے اپنے جادوگر بلوائے اور فرعون کی سالگرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–93

آیت : ( 75-93) (ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

136 ۔ باطل حق کے مقابلے میں کبھی نہیں ٹھہر سکتا : سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان جادوگروں سے فرمایا کہ ڈال دو جو کچھ کہ تم لوگوں کو ڈالنا ہے۔ یقینا اللہ اس کو ابھی درہم برہم کردے گا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کبھی سدھرنے سنبھلنے نہیں دیتا فسادی لوگوں کے کام کو۔ سو باطل کی یہ جان نہیں کہ وہ حق کے آگے دم مار سکے۔ باطل کی چمک دمک اسی وقت تک ہوتی ہے جب تک کہ اس کا مقابلہ حق سے نہیں ہوتا۔ اور جب حق ظاہر ہوجاتا ہے تو باطل جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے کہ باطل بہرحال باطل ہے اور اس کی یہ جان نہیں کہ وہ حق صریح کے آگے دم مار سکے۔ سبحان اللہ۔ کیا کرشمے دکھاتی ہے ایمان و یقین کی یہ قوت۔ اللہم ارزقنا۔ اور حسن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–92

سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–82

آیات 71 تا 82 اسرار و معارف کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:81) القو ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے ڈالا۔ ما جئتم بہ السحر۔ یعنی جادو وہ نہیں جو میں لایا ہوں بلکہ جادو وہ ہے جو تم پیش کر رہے ہو۔ سیبطلہ۔ سیمحقہ او سیظھر بطلانہ۔ یعنی اس کو مٹا دیگا یا اس کا بطلان (جھوٹ) ظاہر کردیگا۔ لایصلح۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ وہ نہیں سنوارتا۔ وہ تقویت نہیں دیتا۔ لا یقویہ (بیضاوی) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–85

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82 استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–82

آنحضرت ﷺ کی تسکین کا ذکر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا، فرعون جس ذلت اور خواری سے ہوا اس کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طہ اور سورة شعراء اور سورة قصص میں پھر آئے گا۔ اس قصہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ اگرچہ قریش معجزہ اور قرآن کو جادو اور اے نبی تم کو جادوگر بتلا رہے ہیں ۔ بالاآخر فرعون کے جادوگروں کی طرح اکثر ان میں سے قائل ہو کر اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 77–82

[30] یعنی آخری اور مستقل کامیابی جادوگروں اور شعبہ بازوں کے نصیب میں کہاں۔ ذرا دیر کے لئے وہ گرمی محفل تو پیدا کرسکتے ہیں لیکن کمال اخلاق سے وہ عاری ہوتے ہیں۔ دنیوی اعتبار سے بھی تو کوئی اعلیٰ مستقل کمال ان میں نہیں ہوتا۔ کیا جادوگر کا یہ کام ہوتا ہے کہ ایک ظالم سرکش حکمران کو اللہ کی پرستش کی دعوت دے !

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 81–82

(ف 1) فرعون چونکہ بصیرت سے محروم تھا اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے موقف ومقام اصلی سے آگاہ نہ ہوسکا جادوگروں کو بلایا ، اور کہا کہ اپنے کسب و کمال سے اس کی معجز نمائی کا جواب دو ۔ جادوگر آئے ، اس لئے کہ اس وقت ارض مصر میں اس قسم کی باتوں پر عموما یقین رکھتے تھے ، اور اپنے سحر سے انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو متحیر کرنا چاہا موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین تھا کہ (آیت) ” ان اللہ سیبطلہ “۔ خدا حق پرستوں کے مقابلہ میں جھوٹوں کو کبھی کامیابی عنایت نہیں فرماتا ، اس لئے آپ نے بالکل بےخوف ہو کر ان کا مقابلہ کیا اور انجام کار معجزہ کرشمہ سازی پر غالب آیا اور حق کو جھوٹ کے مقابلہ میں فتح نصیب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

81 سو جب ان جادوگروں نے اس کو ڈال دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جو کچھ تم بنا کر لائے ہو یہی ہے جادو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ اس کو ابھی درہم برہم کئے دیتا ہے اور اس کے بطلان کو ظاہر کئے دیتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے شریروں کے کام کو بننے نہیں دیتا یعنی یہ جادو ہے اور وہ جادو نہ تھا جس کو فرعونی جادو کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–81

ف 2۔ نہ وہ جس کو فرعون والے جادو کہتے ہیں۔ 3۔ یعنی ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا جو معجزہ کے ساتھ مقابلہ سے پیش آویں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب انہوں نے اپنا افسوس لوگوں کے سامنے پیش کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں ! یہ جادو ہے 113 ؎ جب انہوں نے وہ سب کچھ پیش کردیا جو افسوں گری وہ بنا کر لائے تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم میری آیات بینات کو سحر کہتے تھے وہ سحر نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھی لیکن سحر تو یہ تمہاری شعبدہ بازیاں ہیں جن کا تم مظاہرہ کر رہے ہو ! ابھی تم کو میرے اس قول کی صداقت کا علم ہوجاتا ہے کیونکہ سحر کیا ہے ؟ باطل ہی تو ہے اور باطل کا کام ہی کیا ہے ؟ مٹ جانا اور ابھی تم کو مٹا مٹایا نظر آئے گا ۔ اس لئے کہ حق ہمیشہ زندہ و پائندہ ہوتا ہے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس مقابلہ کو کون جیتتا ہے اور کون ہارتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–86

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 81–82

77. What Moses (peace be on him) presented before the court was no sorcery; rather it was the sorcerers who had made a show of their tricks of sorcery.

Read the full tafseer →