Explained with ayahs 79–82
موسیٰ ؑ بمقابلہ فرعونی ساحرین
سورة اعراف، سورة طہ، سورة شعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور حضرت موسیٰ ؑ کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورة اعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کردیا۔ اس وقت فرعون کا منہ کالا ہوگیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
سورة یُوْنُس 76
ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا اصل مطالبہ رہائی بنی اسرائیل ہوتا تو فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ اندیشہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ ان دونوں بزرگوں کی دعوت پھیلنے سے سرزمین مصر کا دین بدل جائے گا اور ملک میں ہمارے بجائے ان کی بڑائی قائم ہوجائے گی۔ ان کے اس اندیشے کی وجہ تو یہی تھی کہ حضرت موسیٰ ؑ اہل مصر کو بندگی حق کی طرف دعوت دے رہے تھے اور اس سے وہ مشرکانہ نظام خطرے میں تھا جس پر فرعون کی بادشاہی اور اس کے سرداروں کی سرداری اور مذہبی پیشواؤں کی پیشوائی قائم تھی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، 66۔ المومن، 43)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
خلاصہ تفسیر
پھر ان (مذکور) پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے معجزات (عصا اور ید بیضاء) دے کر بھیجا سو انہوں نے (دعوے کے ساتھ ہی ان کی تصدیق کرنے سے) تکبر کیا (اور طلب حق کے لئے غور بھی تو نہ کیا) اور وہ لوگ جرائم کے خوگر تھے (اس لئے اطاعت نہ کی) پھر جب (بعد دعوی کے) ان کو ہمارے پاس سے (نبوت موسویہ پر) صحیح دلیل پہنچی (مراد اس سے معجزہ ہے) تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقینا یہ صریح جادو ہے، مو سیٰ ؑ نے فرمایا کیا یہ جا دو ہے، حالانکہ جادوگر (جب کہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار معجزہ میں) کامیاب نہیں ہوا کرتے (اور میں کامیاب ہوا کہ اول دعوی کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
79 تا 82: وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ۔ فَلَمَّا جَاۗءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰٓى اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ۔. فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبْطِلُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ۔ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۔
حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ : وَقَالَ فِرْعَوْنُ۔۔ الایۃ۔ فرعون اور اس کے درباریوں سے یہ حقیقت تو مخفی نہیں ہوسکتی تھی کہ نہ حضرت موسیٰ ساحر ہیں اور نہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں، وہ سحر ہے لیکن چونکہ ان کی بات مان لینے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
78۔ 1 یہ منکرین کی دیگر حجتیں ہیں جو دلائل سے عاجز آکر، پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم ہمارے آباء و اجداد کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہو، دوسرے یہ کہ ہمیں جاہ و ریاست حاصل ہے، اسے ہم سے چھین کر خود اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہو اسلیے ہم تو کبھی بھی تم پر ایمان نہ لائیں گے۔ یعنی تنقید آباء پر اصرار اور دنیاوی وجہ کی خواہش نے انھیں ایمان لانے سے روکے رکھا۔ اس کے بعد آگے وہی قصہ ہے کہ فرعون نے ماہر جادوگروں کو بلایا اور حضرت موسیٰ ؑ اور جادوں گروں کا مقابلہ ہوا، جیسا کہ سورت اعراف میں گزرا اور سورت طہ میں بھی اس کی کچھ تفصیل آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
32: جادو کی یوں تو بہت سی قسمیں ہوتی ہیں، لیکن چونکہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھایا تھا، اس میں سے انہوں نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینکی تھی، اور وہ سانپ دن گئی تھی، اس لیے مقابلے پر جو جادوگر بلائے گئے ان کے بارے میں ظاہر یہی تھا کہ وہ اسی قسم کا کوئی جادو دکھائیں گے کہ کوئی چیز پھینک کر سانپ بنادیں، تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ بھی اسی قسم کا کوئی جادو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
قالوا اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ ابآء نا وتکون لکم الکبریاء فی الارض وما نحن لکما بمؤمنین۔ فرعون نے کہا : (موسیٰ ! ) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ جس (مذہب) پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ‘ اس سے ہم کو پھیر دو ( موڑ دو ۔ قتادہ۔ یعنی بت پرستی یا فرعون کی پوجا سے ہم کو پھیرنے کیلئے آئے ہو) اور تم دونوں کی ملک مصر میں حکومت ہوجائے اور ہم تمہاری بات کو سچا نہیں مانیں گے۔ کبریاء سے مراد ہے حکومت اور اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہوں میں غرور دنیوی پیدا ہو ہی جاتا ہے ‘ اسلئے بادشاہت کا نام ہی غرور ہوگیا۔
Read the full tafseer →8 دوسری جگہ مذکور ہے کہ ساحرین نے موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کیا تھا کہ اپنا کرتب دکھلانے میں تم پہل کرتے ہو یا ہم کریں اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو تم کو دکھلانا ہے دکھلاؤ کیونکہ باطل کی پوری زور آزمائی اور نمائش کے بعد حق کا آنا اور باطل کو نیچا دکھا کر ملیامیٹ کردینا زیادہ موثر اور غلبہ حق کو زیادہ واضح کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
وَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِط وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ
یعنی تم دونوں حضرت موسیٰ اور ہارون یہاں اپنی بادشاہی قائم کرنا چاہتے ہو۔ اس اندیشے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ اہل مصر کو بندگئ رب کی جو دعوت دے رہے تھے اس سے وہ مشرکانہ نظام خطرے میں تھا جس پر فرعون کی بادشاہی ‘ اس کے سرداروں کی سرداری اور مذہبی پیشواؤں کی پیشوائی قائم تھی۔
Read the full tafseer →92 فرعون نے یہ سب کچھ جان لینے کے بعد جادوگر کیوں بلائے اور مقابلہ کا ڈھونگ کیوں رچایا ؟ اور اپنی اس تدبیر میں وہ کیسے ناکام ہوا اس کی تفصیل پہلے سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →119۔ (اپنے جادو کے سامان میں سے) (آیت) ” فلما جآء السحرۃ “۔ یعنی میدان مقابلہ طے پا گیا اور جادوگر وہاں جمع ہولئے۔ امام رازی (رح) فراء نحوی ولغوی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ پہلے فرعون اور فرعونیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیام کو سن کر کہا تھا ہذا سحر۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) اس قول کے جواب میں کہہ رہے ہیں کہ سحر وہ تو نہیں تھا یہ البتہ ہے۔ (آیت) ” ماجئتم بہ السحر “۔ اسی لئے سحر (نکرہ) کو یہاں الف لام کے ساتھ لا کر السحر (معرفہ) کردیا گیا۔ انما قال السحر بالالف واللام لانہ جواب کلام سبق (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیت نمبر 71 تا 82
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…
Read the full tafseer →فلما جاء السحرۃ قال لھم موسیٰ القوا ما انتم ملقون۔ پھر (فرعون کے طلب کرنے کے بعد) جب جادوگر (موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں) آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا : جو کچھ تم (جادو کی رسیاں وغیرہ) پھینکنے والے ہو ‘ پھینکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
(80۔ 81۔ 82) جب وہ جادوگر آئے تو حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا کہ لکڑیاں اور رسیاں جو کچھ سامان جادو تمہیں ڈالنا ہو، ڈال دو لہذا جب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں ڈالیں تب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا جادو یہ ہے۔ جو کچھ تم نے ڈالا ہے۔ حق کی طاقت اس کو ابھی درہم برہم کردے گی کیوں کہ اللہ تعالیٰ جادوگروں کا کام بننے نہیں دیتا اور اللہ تعالیٰ دین صحیح کو اپنے وعدوں کے موافق ثابت کردیتا ہے، خواہ مشرکین کو یہ چیز کتنی ہی ناگوار اور بری لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ۔۔ : یہ قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طٰہٰ اور شعراء میں بھی آ رہا ہے۔
مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ : یعنی جادو تو وہ ہے جو تم لائے ہو، نہ کہ وہ جو میں پیش کر رہا ہوں۔ ”المفسدین“ جادوگروں کو مفسد قرار دیا ہے جو ایک مشرک ظالم اور خدائی کے دعوے دار کی حمایت محض دنیا کے لالچ میں کر رہے تھے۔
وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات (اپنی باتوں) کے ساتھ، یعنی ان وعدوں کے مطابق جو اس نے حق کو غالب کرنے کے متعلق کیے ہیں، حق کو سچا کردیتا ہے۔ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ چاہے تو اپنے کلمہ ”کُنْ“ کے ساتھ، یعنی اپنے کسی حکم کے ساتھ ظاہری اسباب کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 80
یعنی انہیں زمین پر پھینکو جو تمہارے پاس رسیاں اور لاٹھیاں ہیں۔ اس کے بارے میں مکمل بحث سورة الاعراف میں گزرچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ :
1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتلفتنا “ یعنی تاکہ تو ہم کو پھیر دے دور ہٹا دے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” لتلفتنا “ تاکہ تو ہم کو اپنے معبودوں سے روک دے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتکون لکما الکبریآء فی الارض “ یعنی عظمت ملک اور بادشاہ ہی (تمہارے لئے ہی ہوجائے ) ۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ…
Read the full tafseer →فَلَمَّا [ پس جب ] جَاۗءَ [ آئے ] السَّحَرَةُ [ جادوگر لوگ ] قَالَ [ تو کہا ] لَھُمْ [ ان سے ] مُّوْسٰٓى [ موسیٰ نے ] اَلْقُوْا [تم لوگ ڈالو ] مَآ [ اس کو جو ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] مُّلْقُوْنَ [ ڈالنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–86
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا
ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–82
قال اللہ تعالی۔ ثم بعثنا من بعدہ رسلا۔۔۔ الی۔۔۔ علی قلوب المعتدین
(ربط): اوپر کی آیات میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اجمالاً ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا قصہ ذکر ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلا کے بعد ہود اور صالح اور ابراہیم اور لوط اور شعیب (علیہم السلام) مبعوث ہوئے پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن جن لوگوں نے انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
98: آخر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلے کی ٹھان لی اور ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو بلانے کے احکام جاری کردئیے۔ “ فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ الخ ” ملک کے نامی گرامی جادوگر جمع ہوگئے جب مقابلے کے لیے آمنے سامنے ہوئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جو مکر و فریب لائے پیش کرو۔ “ فَلَمَّا اَلْقَوْا الخ ” جب انہوں نے اپنے جادو کی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر ڈال دیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو محض جادو اور مکر و فریب ہے جو ابھی باطل ہوا چاہتا ہے، تم لوگ میرا مقابلہ کر کے دعوت توحید کو روکنا اور شرک کو پھیلنے کا موقع دینا چاہتے ہو جو سراسر فساد فی الارض ہے اور اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو سمجھانے کے لیے اور بعد میں آنے والے مشرکوں اور نافرمانوں کی عبرت کے لیے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال بیان فرمائی ، درمیان میں اجمالی طور پر دیگر انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ دیکھ لو ڈرائے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ ان تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی معرفت برے انجام سے ڈرایا تھا مگر وہ لوگ غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے اور انبیاء (علیہ السلام) کو برداشت نہ کیا مگر اللہ کے نبیوں نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تبلیغی مشن کو جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے منکرین کو…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰٓى اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ 80
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
1 ؎ یعنی تیری اور تیرے بھائی ہارون کی 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
قَالُوْآ اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَاوَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآئُ فِی الْاَرْضِ ط وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ ۔ فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْن۔ فَلَمَّآ اَلْقُوْا قَالَ مُوْسٰی مَاجِئْتُمْ بِہِ لا السِّحْرُ ط اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْن۔ وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (یونس : 78، 79، 80، 81، 82)
(انھوں نے کہا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت فقط اتنی تھی کہ بنی اسرائیل پر مظالم ڈھانے کی بجائے انہیں آزاد کر دو اور اللہ تعالیٰ کی بغاوت کرنے کی بجائے اس پر سچا ایمان لاکر اس کی غلامی اختیار کرو۔ مگر فرعون نے طاقت کے بل بوتے اور پروپیگنڈہ کے زور پر بات کا رخ موڑ دیا اور اپنے وزیروں اور مشیروں کو حکم صادر کیا۔ کہ پورے ملک سے ماہر جادوگروں کو میرے پاس حاضر کیا جائے۔ جس کی تفصیل سورة طٰہ میں یوں ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ہم بھی تیرے جادو جیسے جادوکا مظاہرہ کریں گے۔ بس ہمارے اور تمہارے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔…
Read the full tafseer →80: فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَھُمْ مُّّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ (جب جادوگر آگئے تو انہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم ڈالو ! جو تم نے ڈالنا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
78۔ ” قالوا “ یعنی فرعون اور اس کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو ” اجئتنا لتفلتنا “ تا کہ میں پھیر دے۔ ” عما وجدنا علیہ آباء نا وتکون لکما الکبیریائ “ بادشاہی اور سلطنت ” فی الارض “ مصر میں اور ابوبکر نے یکون یاء کے ساتھ پڑھا ہے ” وما نحن لکما بمومنین “ تصدق کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
76۔ 82۔ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا فرعون کے زمانہ میں جادو کا بڑا چرچہ اور زور تھا فرعون کی طرف سے بہت سے جادوگر جاگیریں پاتے تھے اور مصر کے اطراف میں اپنی جاگیرات میں رہتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اس لئے یہی جواب دیا کہ تائید آسمانی اور معجزہ نبوی کو اگر تو سمجھتا ہے تو اپنے بڑے بڑے جادوگروں کو بلا کر مجھ سے مقابلہ کرالے اور دیکھ لے کہ تائید آسمانی کے مقابلہ میں جادو کبھی سر سبز نہ ہوگا آخر فرعون نے اپنے جادوگر بلوائے اور فرعون کی سالگرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–93
آیت : ( 75-93)
(ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
135 ۔ پیغمبر کی قوت ایمان و یقین کا ایک نمونہ و مظہر : سو جادوگروں کے اس انبوہ کثیر کے مقابلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پورے اطمینان اور سکون و وقار کے ساتھ ان سے کہا کہ ڈال دو جو کچھ کہ تم لوگوں نے ڈالنا ہے۔ سو یہ بات اللہ کے سچے نبی کے ایمان و یقین کی پختگی اور اعتماد علی اللہ کی قوت کا مظہر ہے کہ جادوگروں کی اس کثرت کا اثر اور ان کی اس ہوش ربا شعبدہ بازی کی پرواہ تک نہ کی۔ اور ان کو صاف وصریح طور پر اور واضح انداز میں اس طرح دعوت مبازرت دے رہے ہیں۔ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔ سو ایمان و یقین کی قوت تاقابل شکست قوت ہے اور اس سے سرفرازی کے بعد انسان کے لیے خوف و خطر اور ضعف و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–92
سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان
تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیات 71 تا 82
اسرار و معارف
کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
ف 7 ۔ دنیا کے ہر متکبر و ظالم کا ہی قاعدہ ہے کہ جب اسے نصیحت کی جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ نصیحت میری ریاست اور سرداری کو چھیننے کے لئے جارہی ہے۔ اپنے شیطانی نفس پر قیاس کرکے وہ ہر شخص کے بارے میں یہی خیال کرتا ہے کہ اس کا مقصد دنیا کمانا اور اقتدار حاصل کرنا ہے۔ فرعون اور اس کے اہل کاروں نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے بارے میں بھی یہی خیال کیا۔
Read the full tafseer →(10:80) القو۔ تم ڈالو القاء سے امر جمع مذکر حاضر۔ ملقون اسم فاعل جمع مذکر۔ ڈالنے والے (ہو) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82
استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا)
تشریح : آیت نمبر 75 تا 82
مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آنحضرت ﷺ کی تسکین کا ذکر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا، فرعون جس ذلت اور خواری سے ہوا اس کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طہ اور سورة شعراء اور سورة قصص میں پھر آئے گا۔ اس قصہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ اگرچہ قریش معجزہ اور قرآن کو جادو اور اے نبی تم کو جادوگر بتلا رہے ہیں ۔ بالاآخر فرعون کے جادوگروں کی طرح اکثر ان میں سے قائل ہو کر اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
[30] یعنی آخری اور مستقل کامیابی جادوگروں اور شعبہ بازوں کے نصیب میں کہاں۔ ذرا دیر کے لئے وہ گرمی محفل تو پیدا کرسکتے ہیں لیکن کمال اخلاق سے وہ عاری ہوتے ہیں۔ دنیوی اعتبار سے بھی تو کوئی اعلیٰ مستقل کمال ان میں نہیں ہوتا۔ کیا جادوگر کا یہ کام ہوتا ہے کہ ایک ظالم سرکش حکمران کو اللہ کی پرستش کی دعوت دے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
جادوگر کامیاب نہیں ہوتے :
(ف 1) سحر وجادوگری کے معنی ذلیل قسم کی کرشمہ سازی اور فن نمائی کے ہیں ، جادوگر کے سامنے کوئی بلند نصب العین نہیں ہوتا ، اور نہ اس میں ایسی قوت ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے اہم امور میں کامیاب ہو سکے وہ چند لوگوں کو اپنی چالاکیوں سے حیرت میں ڈال سکتا ہے ، مگر حق وصداقت کے مقابلہ میں کسی طرح کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ، کیونکہ ادھر ایک نصب العین ہے مقدس اسوہ ہے اور ادھر صرف فریب دفن ، اس لئے قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تم جادوگر سمجھتے ہو تو واقعات کا انتظار کرو عنقریب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابیاں اور کامرانیاں تم سے خراج تحسین وصول کرلیں…
Read the full tafseer →80 پھر جب وہ جادوگر آگئے اور مقابلہ کی ٹھیر ہوگئی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا جو کچھ تمہی ڈالنا ہے وہ ڈالو یعنی جو کچھ ڈالنے والے ہو وہ ڈالو اور جو کچھ اپنے کرتب دکھانے چاہتے ہو وہ دکھائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
ف 2۔ نہ وہ جس کو فرعون والے جادو کہتے ہیں۔
3۔ یعنی ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا جو معجزہ کے ساتھ مقابلہ سے پیش آویں۔
Read the full tafseer →جادوگر میدان میں آ جمع ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ڈالو جو تم ڈالنا چاہتے ہو
112 ؎ جیسا کہ آپ پیچھے سورة الاعراف میں پڑھ چکے ہیں کہ میدان مقابلہ طے پا گیا تھا اور جادوگر وہاں جمع ہوئے۔ امام رازی ؓ فرماتے ہیں کہ پہلے تو فرعون اور اس کے لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ رہے تھے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے شعبدباز اپنی شعبدہ بازی کے ذریعے ایک ایسی چیز کو جس کی حقیقت تو کچھ نہ ہوتی لیکن دیکھنے والے یہ سمجھتے کہ کچھ ہوا ہے جس کو ہماری زبان بیان نہیں کرسکتی اور فی الواقع اس کے ہونے پر کوئی دلیل بھی نہیں ہے لیکن اب موسیٰ (علیہ السلام) پورے ایقان کے ساتھ ان سے مطالبہ فرما رہے ہیں کہ ہاں !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
76.Had the sole demand of Moses and Aaron (peace be on him) been the liberation of the Israelites, Pharaoh and his courtiers would not have suspected that the spread of these Prophets' message would transform the religion of the land and that the supremacy of Pharaoh and his courtiers would be undermined. What made them uneasy was the fact that Prophet Moses (peace be on him) was inviting the people of Egypt to the true faith and that this posed a threat to the whole polytheistic way of life which was the very cornerstone of the predominance of Pharaoh and his chiefs and clergy. (For further…
Read the full tafseer →