Yunus 10:85

Yunus · from ayah 85

10:85

فَقَالُوْا عَلَی اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا ۚ— رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۟ۙفَقَالُوۡا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا‌ ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّـلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَۙ‏

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال

— Fateh Muhammad Jalandhari

So they said, "Upon Allah do we rely. Our Lord, make us not [objects of] trial for the wrongdoing people

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 9 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:85

انہوں نے جواب دیا“ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ﻇالموں کے لئے فتنہ نہ بنا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس پر انہوں نے کہا : اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کرلیا ہے، اے ہمارے پروردگار ہمیں ان ظالم لوگوں کے ہاتھوں آزمائش میں نہ ڈالیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا الہٰی ہم کو ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو انہوں نے عرض کیا: ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ہے، اے ہمارے رب! تو ہمیں ظالم لوگوں کے لئے نشانہء ستم نہ بنا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھوں نے کہا ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اے ہمارے رب ! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان ظالموں کا تختہ مشق نہ بنا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے کہ ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب ہمیں ظالموں کے ظلم کا آماجگاہ نہ بنا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے، اے ہمارے رب ہمیں فتنہ (اور ذریعہ آزمائش) نہ بنانا ظالم لوگوں کے لئے،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار ہم کو تختہ مشق نہ بنا ظالم لوگوں کا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ پر توکلّ کیا۔ اے ہمارے رب ! تو ہمیں ان ظالموں کے لیے تختۂ مشق نہ بنا دے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو وہ بولے کہ ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے رب ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They replied: 'We place our reliance on Allah. Our Lord! Do not make us a trial for the oppressors,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, they said, :In Allah we have placed our trust: Our Lord, do not make us a victim of the unjust people,

— Muhammad Taqi Usmani

So, they said, :In Allah we have placed our trust: Our Lord, do not make us a victim of the unjust people,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "In Allah we put our trust. Our Lord! Make us not a trial for the folk who are wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: In Allah we put trust. Our Lord! Oh, make us not a lure for the wrongdoing folk;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So they said, "Upon Allah do we rely. Our Lord, make us not [objects of] trial for the wrongdoing people

— Saheeh International

They said, "In God do we trust. Lord, do not subject us to the persecution of the unjust ones,

— Muhammad Sarwar

So they said: On Allah we rely: O our Lord! make us not subject to the persecution of the unjust people:

— Muhammad Habib Shakir

So they said: on Allah We rely, our Lord! make us not a trial for the wrong-doing people.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "In Allah do we put out trust. Our Lord! make us not a trial for those who practise oppression;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:85

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 84–86

اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔ فرمان رب ہے (فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۭ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ01203) 11۔ ھود :123) اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ ایک اور آیت میں اپنے نبی ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا۔ فرماتا ہے مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 85–86

سورة یُوْنُس 82 یہ جواب ان نوجوانوں کا تھا جو موسیٰ ؑ کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوئے تھے یہاں قالوا کی ضمیر قوم کی طرف نہیں بلکہ ذریہ کی طرف پھر رہی ہے جیسا کہ سیاق کلام سے خود ظاہر ہے۔ سورة یُوْنُس 83 ان صادق الایمان نوجوانوں کی یہ دعا کہ ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا، بڑے وسیع مفہوم پر حاوی ہے۔ گمراہی کے عالم غلبہ و تسلط کی حالت میں جب کچھ لوگ قیام حق کے لیے اٹھتے ہیں، تو انہیں مختلف قسم کے ظالموں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک طرف باطل کے اصلی علمبردار ہوتے ہیں جو پوری طاقت سے ان داعیان حق کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف نام نہاد حق پرستوں کا ایک اچھا خاصا گروہ ہوتا ہے جو حق کو ماننے کا دعوی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–86

خلاصہ تفسیر پس (جب عصا کا معجزہ ظاہر ہوا تو) موسیٰ ؑ پر (شروع شروع میں) ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں (ظاہر ہونے پر) ان کو تکلیف (نہ) پہنچاوے اور واقع میں (ڈرنا ان کا بےجا نہ تھا کیونکہ) فرعون اس ملک میں زور (سلطنت) رکھتا تھا اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد (انصاف) سے باہر ہوجاتا تھا (ظلم کرنے لگتا تھا پھر جو شخص حکومت کے ساتھ ظلم کرتا ہو اس سے تو ڈر لگتا ہی ہے) اور موسیٰ ؑ نے (جب ان کو خائف دیکھا تو ان سے) فرمایا اے میری قوم اگر تم (سچے دل سے) اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو (سوچ بچار مت کرو بلکہ) اسی پر توکل کرو اگر تم (اس کی) اطاعت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 84–86

84۔ 86:۔ وَقَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ۔ فَقَالُوْا عَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۔ وَقَالَ مُوْسٰى۔۔۔ الایۃ۔ یہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ایمان باللہ کی حقیقت سمجھائی ہے کہ اگر ایمان کا اظہار کیا ہے تو اس ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی راہ میں کسی کا ڈر اور کسی کا لحاظ حائل نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب سے بےنیاز و بےپروا ہو کر اللہ کی راہ میں بڑھنا چاہیے اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھنا چاہیے کہ جس نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 84–85

84۔ 1 بنی اسرائیل، فرعون کی طرف سے جس ذلت اور رسوائی کا شکار تھے، حضرت موسیٰ ؑ کے آنے کے بعد بھی اس میں کمی نہیں آئی، اس لئے وہ سخت پریشان تھے، بلکہ حضرت موسیٰ ؑ سے انہوں نے یہ تک کہہ دیا، اے موسٰی، جس طرح تیرے آنے سے پہلے ہم فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے تکلیفوں میں مبتلا تھے، تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہے۔ جس پر حضرت موسیٰ ؑ نے انھیں کہا تھا کہ امید ہے کہ میرا رب جلدی تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تم صرف ایک اللہ سے مدد چاہو اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو (ملاحظہ ہو سورت الا عراف آیات 128، 129) (قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 83–86

33: شروع میں حضرت موسیٰ ؑ پر بنو اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لائے تھے۔ اور وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے، اور فرعون کے سرداروں کو ان نوجوانوں کا سردار اس لیے کہا گیا ہے کہ عملاً وہ ان کے حاکم تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فقالوا علی اللہ توکلنا (چونکہ وہ لوگ مخلص تھے اور اللہ کے پیغمبر کے سچے صحابی تھے ‘ اسلئے) انہوں نے کہا : ہمارا بھروسہ اللہ ہی پر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دعا کی اور بولے۔ ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین۔ اے ہمارے رب ! ہم کو ان ظالم لوگوں کا تختۂ مشق نہ بنا۔ فتنہ سے مراد ہے نشانۂ عذاب ‘ نزول عذاب کا مقام۔ یعنی اے ہمارے رب ! ان ظالموں کو ہم پر قابو نہ دینا کہ ہم کو یہ اپنے عذاب کا نشانہ بنا سکیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کے کفر اور سرکشی میں اضافہ کا سبب ہم کو نہ بنانا کہ براہ راست تیرے امتحان میں ہم مبتلا ہوجائیں یا فرعون کے ہاتھوں ہم پر عذاب نازل ہوجائے اور پھر فرعون والے کہیں کہ اگر یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت پر انہوں نے اخلاص کا اظہار کیا کہ بیشک ہمارا بھروسہ خالص خدا پر ہے۔ اسی سے دعا کرتے ہیں کہ ہم کو ان ظالموں کا تختہ مشق نہ بنائے اس طرح کہ یہ ہم پر اپنے زور و طاقت سے ظلم ڈھاتے رہیں اور ہم ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ ایسی صورت میں ہمارا دین بھی خطرہ میں ہے۔ اور ان ظالموں یا دوسرے دیکھنے والوں کو یہ ڈینگ مارنے کا موقع ملے گا کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو تم پر ایسا تسلط و تفوق کیوں حاصل ہوتا اور تم اس قدر پست و ذلیل کیوں ہوتے۔ یہ خیال ان گمراہوں کو اور زیادہ گمراہ کر دے گا۔ گویا ایک حیثیت سے ہمارا وجود ان کے لیے فتنہ بن جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 85–86

آیت 85 فَقَالُوْا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَاج رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ اللہ پر توکل کرتے ہوئے ہم اپنا معاملہ اسی کے حوالے کرتے ہیں۔ پروردگار ! اب ایسا نہ ہو کہ ہمارے ذریعے سے تو ان کو آزمائے۔ جیسے ابو جہل اگر آل یاسر پر ظلم ڈھاتا تھا تو اللہ کے ہاں یہ اس کی بھی آزمائش ہو رہی تھی ‘ لیکن اس آزمائش میں تختۂ مشق حضرت یاسر اور حضرت سمیہ بن رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 85–86

96 کامیابی کے لئے وسائل اور اسباب اختیار کرنا اور دعا کرنا دونوں لازم و ملزوم ہیں :۔ اس آیت میں انبیاء کی دعوت و تبلیغ کے ابتدائی دور کا نقشہ پیش کیا جارہا ہے۔ انبیاء کی دعوت کو ابتداء میں قبول کرنے والے چند نوجوان اور باہمت لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں مخالفین کے شدائد اور ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ پھر ان کے بزرگوں کی مصلحت کوشیاں بھی ان کے آڑے آتی ہیں اور ایک کثیر طبقہ تماشا دیکھنے والوں کا بھی موجود ہوتا ہے جو ان حالات میں غیر جانب دار رہتے ہیں وہ صرف اس انتظار میں رہتے ہیں جو فریق بھی غالب ہوگا وہ اس کے ساتھ مل جائیں گے اور اگر ان جوانوں کی جماعت کو کوئی مصیبت پیش آجائے تو ان کے لیے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 85–86

124۔ اسرائیلی مومنین جواب دیتے ہیں کہ بیشک ہمارا بھروسہ تو حق تعالیٰ ہی پر ہے۔ اور پھر معا مناجات کرنے لگتے ہیں کہ یا الہی، جب تک ان کی حکومت مقدر ہے، وہ ہم پر ظلم نہ کرنے پائیں، اور پھر ان کی حکومت ہی کے دائرہ سے ہم کو نکال دے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–92

آیت نمبر 83 تا 92 ترجمہ : فرعون کی قوم کے نوجوانوں میں سے ایک مٹھی بھر نوجوانوں کے علاوہ کسی نے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی کہ وہ ان کو تکلیف دیکر ان کے دین سے پھیر دیں گے اور اس میں شک نہیں کہ فرعون ملک مصر میں (زور وتکبر میں) بہت چڑھا ہوا تھا، اور وہ تھا ہی دعوائے ربوبیت کرکے حد سے تجاوز کرنے والوں میں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار تو ہم کو ظالموں کے لئے تختہ مشق نہ بنا یعنی تو ان کو ہم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقالوا علی اللہ توکلنا (چونکہ وہ لوگ مخلص تھے اور اللہ کے پیغمبر کے سچے صحابی تھے ‘ اسلئے) انہوں نے کہا : ہمارا بھروسہ اللہ ہی پر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دعا کی اور بولے۔ ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین۔ اے ہمارے رب ! ہم کو ان ظالم لوگوں کا تختۂ مشق نہ بنا۔ فتنہ سے مراد ہے نشانۂ عذاب ‘ نزول عذاب کا مقام۔ یعنی اے ہمارے رب ! ان ظالموں کو ہم پر قابو نہ دینا کہ ہم کو یہ اپنے عذاب کا نشانہ بنا سکیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کے کفر اور سرکشی میں اضافہ کا سبب ہم کو نہ بنانا کہ براہ راست تیرے امتحان میں ہم مبتلا ہوجائیں یا فرعون کے ہاتھوں ہم پر عذاب نازل ہوجائے اور پھر فرعون والے کہیں کہ اگر یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 85–86

(85۔ 86) وہ کہنے لگے ہم نے اللہ پر توکل کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر ان مشرکین کو مسلط نہ فرما کہ پھر وہ ہمیں باطل پر اور اپنے کو حق پر جانیں اور ہمیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات عطا فرما ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 85–86

فَقَالُوْا عَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا۔۔ : انھوں نے پیغمبر کی نصیحت کو نہ صرف قبول کیا بلکہ زبان سے اقرار بھی کیا کہ ہم صرف اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں، وہی ہمارا سہارا ہے اور اس کے ساتھ دو دعائیں کیں اور یہ دونوں دعائیں ظالم حکمرانوں کے ظلم سے بچنے کے لیے اکسیر ہیں۔ پہلی دعا یہ کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ ”فِتنۃً“ کا لفظ مصدر ہے جو ”فَتَنَ“ فعل معروف کا مصدر بمعنی اسم فاعل ہوگا، یعنی ”فَاتِنِیْنَ“ فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے۔ اسی طرح یہ ”فُتِنَ“ فعل مجہول کا مصدر بمعنی اسم مفعول بھی ہوسکتا ہے، یعنی ”مَفْتُوْنِیْنَ“ فتنے میں ڈالے ہوئے۔ پہلی صورت میں معنی ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–85

آیت نمبر 85 قولہ تعالیٰ : (آیت) وقال موسیٰ یا قوم ان کنتم امنتم یعنی اگر تم نے تصدیق کی ہے۔ (آیت) باللہ فعلیہ توکلوا اللہ تعالیٰ کی تو اسی پر اعتماد کرو۔ (آیت) ان کنتم مسلمین شرط بطور تاکید مکرر ذکر کی گئی ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ کمال ایمان امر کو اللہ تعالیٰ کے حوالے اور سپرد کرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔ (آیت) فقالوا علی اللہ توکلنا انہوں نے عرض کی ہم نے اپنے امور اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیئے۔ اور ہم اس کی قضاء قدر کے ساتھ راضی ہیں اور ہماری انتہا اس کے امر تک ہے۔ (آیت) ربنا لاتجعلنا فتنۃ للقوم الظالمین یعنی تو ہمارے خلاف ان کی مدد نہ کر، پس وہ ہمارے لیے دین کے بارے فتنہ ہوجائے گا یا تو ہمیں نہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 83–86

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم و ابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ “ یعنی ان کی تھوڑی اولاد موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذریۃ من قومہ “ یعنی بنی اسرائیل میں۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ “ ان کی اولاد موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی جس کے طرف آپ کو لمبے زمانہ تک بھیجا گیا تھا اور ان کے آباؤ اجداد مرچکے تھے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَقَالُوْا [ تو انھوں نے کہا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ہی ] تَوَكَّلْنَا ۚ [ ہم نے بھروسہ کیا ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] لَا تَجْعَلْنَا [ تو نہ بنانا ہم کو ] فِتْنَةً [ آزمائش ] لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ [ظلم کرنے والے لوگوں کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–86

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–87

اسباب نجات از فرعون وقوم او قال اللہ تعالیٰ ٰ فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ وبشر ال مومن ین پس باوجود ان زبردست معجزات دیکھنے کے بھی ابتداء میں موسیٰ پر سوائے چند آدمیوں کے جو اس کی قوم سے تھے کوئی ایمان نہ لایا یعنی شروع شروع میں جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر آئے اور حق کی دعوت دینے لگے تو اس وقت ان کی قوم میں سے قدر قلیل لوگ ان پر ایمان لائے اور وہ بھی فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں مبادا فرعون ان کے ایمان کی خبر پا کر ان کو مبتلائے مصیبت نہ کردے یعنی جو قدرے قلیل لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ابتداء میں ایمان لائے وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے ایمان لائے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 85–86

101: قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تلقین پر صبر و استقامت اور توکل علی اللہ کا عہد کرلیا اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اس مشرک اور فاسق وفاجر قوم سے نجات عطا فرما اور ہمیں ان کے ہاتھوں ذلت ورسوائی سے بچا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 83–87

ربط آیات سرکش لوگوں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا۔ پھر موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے مخالفین اور متکبرین فرعون اور اس کی قوم کا ذکر کیا۔ دراصل یہ مشرکین عرب اور ان کے بعد آنے والوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر وہ بھی سابقہ اقوام کی طرح غرور اور تکبر کو اختیار کریں گے ، حق کے خلاف بغاوت کریں گے تو ان کا انجام بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے مختلف نہیں ہوگا۔ فرعون کا واقعہ مختصرا پہلے بیان ہوچکا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے خدا تعالیٰ کا پیغام پیش کیا تو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اسے سحر کہہ کر رد کردیا ، اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقَالُوْا عَلَي اللہِ تَوَكَّلْنَا۝ 0 ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ۝ 85 ۙ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 85–86

فَقَالُوْا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا ج رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (یونس : 85، 86) ( پس انھوں نے جواب دیا ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے رب ہمیں ظالم قوم کے لیے فتنہ نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے دے۔ ) توکل کی حقیقت آیت کریمہ میں ” فقالوا “ کا جو لفظ آیا ہے اس کا فاعل کون ہے عام بنی اسرائیل ہیں یا ان کی اولاد میں وہ نوجوان ہیں جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ یہ ناچیز اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں رکھتا دونوں میں سے کوئی بھی ہو وہ بہ ہر صورت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 83–86

فہم القرآن ربط کلام : حق ثابت ہونے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غالب آنے کے باوجود چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر ملک کے نامی گرامی صاحب علم لاکھوں کے مجمع میں ہزاروں کی تعداد میں بیک وقت ایمان لے آئے، یاد رہے اس وقت مصر میں جادو ہی ترقی یافتہ علم سمجھا جاتا تھا۔ حق ثابت ہونے اور جادوگروں کے ایمان لانے کے باوجود فرعون کے جورو استبداد اور دبدبہ کی وجہ سے چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ فرعون بہت ظلم کرنے والا تھا۔ فرعون نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے ایک دفعہ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا قتل عام شروع کیا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

85: فَقَالُوْا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا (پس انہوں نے کہا ہم نے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا) انہوں نے یہ کہا کیونکہ وہ لوگ اس میں مخلص تھے یقینا باری تعالیٰ نے ان کے اس توکل کو منظور فرمایا۔ اور ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کو نجات عنایت فرمائی اور ان کو ہلاک کردیا جو فرعون سے ڈرتے تھے اور ان کا میاب لوگوں کو اپنی زمین میں نائب بنایا۔ نکتہ : جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل میں درست و خالص ہو اس کو چاہیے کہ وہ ملاوٹ چھوڑ دے اور ایک اللہ تعالیٰ ہی کا ہوجائے۔ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (اے ہمارے رب ہمیں ظالمین قوم کا تختہ مشق نہ بنا) فتنہ سے پہلے مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

85۔” فقالوا علی اللہ توکلنا “ ہم نے بھروسہ اور اعتماد کیا، پھر دعا مانگتے ہوئے کہنے لگے ” ربنا لا تجعلنتا فتنہ للقوم الظالمین “ یعنی ان کو ہم پر غالب نہ کریں اور ہمیں ان کے ہاتھوں ہلاک نہ کریں کہ وہ گمان کرنے لگیں گے کہ ہم حق پر نہیں تو وہ سرکشی میں بڑھیں گے اور مجاہد رحمہ الہل فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی طرف سے عذاب نہ دیں تو قوم فرعون کہنے لگی کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو عذاب نہ دیئے جاتے تو وہ فتنہ میں پڑجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 84–86

84۔ 86۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے جو ایمان لا چکے تھے یہ کہا کہ جب تم ایمان لاچکے اور مسلمان ہوگئے تو اب خدا ہی پر بھروسہ کرو اور فرعون اور اس کے گروہ کا کوئی خوف نہ کرو ان لوگوں نے کہا کہ ہاں ہم نے خدا پر بھروسہ کرلیا اور پھر خدا سے دعا کی اے خدا ہم کو اس ظالم قوم کے فتنہ سے بچائیو اور ان کو ہم پر فتحیاب نہ کیجیو نہیں تو فرعون اور اس کی ساری قوم یہی کہیں گے کہ ہم ہی حق پر ہیں اور ایسی باتیں دل میں سوچ کر اور زبان سے کہہ کر یہ لوگ فتنہ میں پڑیں گے۔ مجاہد ؓ کا یہی قول ہے کہ ان لوگوں نے یہی دعا کی تھی کہ یا اللہ تو ان کو ہم پر غلبہ نہ دے اور اپنی رحمت سے اس ظالم قوم کے ظلم سے بچا کیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–93

آیت : ( 75-93) (ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 85–86

144 ۔ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سچے ایمانداروں نے اپنے خالق ومالک کے حضور عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہمیں نجات دے دے ان کافر لوگوں کے ظلم و ستم سے کہ نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا ہر کسی کا تو ہی تو ہے اے ہمارے مالک۔ سو قرآن حکیم جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا ہر کسی کا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مگر آج کا قبر پرست پھر بھی کہتا ہے اور دھڑلے سے کہتا ہے " بہاؤ الحق بیڑا دھک "۔ " خواجہ اجمیری پار لگا دے کشتی میری "۔ " یا پیر دستگیر "۔ اور " یا علی مدد " وغیرہ وغیرہ۔ اور دعوی اس کے باوجود وہ ایمان و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–92

سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–92

آیات 83 تا 92 اسرار و معارف فرعون کے مظالم سے خوفزدہ چندنوجوان ایمان سے مشرف ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت اختیار کی کہ فرعون روئے زمین پر بیحد ظالم انسان تھا اور حد سے بڑھ کر زیادتیاں کرتا تھا لہٰذا اس کا اور اس کے امرا کے مظالم کا خوف فطری بات تھی مگر نور ایمان کی تڑپ ان سب باتوں کے باوجود اپنا اثررکھتی ہے ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایمان تو اعتبارہی کا نام ہے جب اللہ سے ایمان نصیب ہواتو اسی پر بھروسہ رکھو ، جس کو بچاناچا ہے بھلافرعون اس کا کیا بگاڑلے گا۔ کام کا بیڑہ اٹھانے کے لئے مل کردعا کی جائے چنانچہ سب نے کہا کہ ہم اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں اور سب نے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 85–86

ف 5 ۔ یعنی ان ظالموں کو ہم پر مسلط نہ رکھ کہ وہ ہمیں اپنے ظلم کا نشانہ بناتے رہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 84–86

(10:84) یقوم۔ اے میری قوم۔ یہاں قوم سے مراد وہ نوجوان ہیں جو آیۃ ماقبل میں بالفاظ ذریۃ من قومہ مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–85

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82 استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 84–86

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے جو ایمان لا چکے تھے، یہ کہا کہ جب تم ایمان لا چکے اور مسلمان ہوگئے تو اب خدا ہی پر بھروسہ کرو۔ اور فرعون اور اس کے گروہ کا کوئی خوف نہ کرو۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے خدا پر بھروسہ کرلیا اور پھر خدا سے دعا کی :" اے خدا ! ہم کو اس ظالم قوم کے فتنہ سے بچائیو، اور ان کو ہم پر فتح یاب نہ کیجیئو۔ ورنہ فرعون اور اس کی ساری قوم یہی کہے گی کہ ہم حق پر ہیں اور ایسی باتیں دل میں سوچ کر اور زبان سے کہہ کر یہ لوگ فتنہ میں پڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–86

(ف 2) دین ودنیوی استقلال کے لئے پہلا زینہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کے لئے تجویز فرمایا وہ توکل ہے ، یعنی ۔ 1۔ خدا پر کامل ایمان ۔ 2۔ کامیابی کا پورا یقین ۔ 3۔ وسائل وذرائع میں دیانت وصیانت کا لحاظ ۔ ظاہر ہے جب قوم میں یہ تین چیزیں پیدا ہوجائیں تو سمجھ لیجئے کہ قوم بیدار ہوچکی ، اور کامرانی کی راہیں اس پر کھل چکی ہیں ۔ اللہ کو اگر چارہ ساز مان لیا جائے تو پھر کامیابی یقینی وقطی ہے ۔ توکل کا صحیح مفہوم یہی ہے آج توکل کے معنے تعلل وبے کاری کے ہیں ، اللہ مسلمانوں کو سمجھ دے ، آمین ۔ حل لغات : المسرفین : مسرف حدود فطرت سے تجاوز کرنے والا ، فتنۃ : وجہ آزمائش ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

85 اس پر انہوں نے کہا ہم اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم کو اس ظالم قوم کا تختہ مشق نہ بنا یعنی یہ ہم پر متواتر ظلم ڈھاتے رہیں اور ہم ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں اور ان کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتیت و ہم کو تم پر زورکیوں حاصل ہوتا اور اس سے ان کی گمراہی میں اور اضافہ ہوگا اور ہمارا وجود ان کے لئے موجب فتنہ ہوگا تو ان ظالموں کے لئے ہم کو فتنے اور ان کی گمراہی کا سبب نہ بنا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 85–86

ف 5۔ یعنی جب تک ہم پر ان کی حکومت مقدر ہے ظلم نہ کرنے پائیں اور پھر ان کی حکومت ہی کے دائرہ سے نکال دیجیے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 85–86

بنی اسرائیل کے نوجوانوں نے کہا کہ ہمارا بھروسہ تو یقینا اللہ ہی پر ہے 117 ؎ اوپر کی آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) نے جو تلقین اپنی قوم کو کی تھی اس کا جواب آپ کی قوم کی طرف سے دیا جا رہا ہے اور ان جان بازوں نے اپنے رسول ﷺ کے اس سبق کو یاد رکھنے اور اس کے مطابق عمل کرتے رہنے کا جو وعدہ کیا اور پھر اپنے پروردگار کی بارگاہ عزت و جلال میں دامن طلب پھیلا کر التجا کرنی شروع کردی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس ظلم قوم یعنی قوم فرعون کیلئے فتنہ نہ بنا اور یہ جواب ظاہر ہے کہ ان نوجوانوں ہی کا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دینے کیلئے واضح طور پر کھڑے ہوچکے تھے اور ان کے دلوں میں کسی طرح کا کوئی خوف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–86

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 85–86

82. This was the reply of the youths who came forward to support Moses (peace be on him). It is evident from the context that the ones who said: 'We place our reliance on Allah' were not the 'wrong-doing folk' [mentioned in the present verse] but the 'youths' [mentioned in verse 83 above]. 83. The supplication of these devout youths: 'Our Lord! Do not make us a trial for the oppressors', covers a very wide range of meanings. Whenever a people rise to establish the truth in the midst of prevalent falsehood, they encounter oppressors of all sorts. On the one hand, there are protagonists of…

Read the full tafseer →