Yunus 10:77

Yunus · from ayah 77

10:77

قَالَ مُوْسٰۤی اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ ؕ— اَسِحْرٌ هٰذَا ؕ— وَلَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ ۟قَالَ مُوۡسٰٓى اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ‌ ؕ اَسِحۡرٌ هٰذَا ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُوۡنَ

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Moses said, "Do you say [thus] about the truth when it has come to you? Is this magic? But magicians will not succeed."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 8 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:77

موسیٰؑ نے کہا:“تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے سامنے آگیا؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ کیا تم اس صحیح دلیل کی نسبت جب کہ وه تمہارے پاس پہنچی ایسی بات کہتے ہو کیا یہ جادو ہے، حاﻻنکہ جادوگر کامیاب نہیں ہوا کرتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : کیا تم حق کے بارے میں ایسی بات کہہ رہے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آچکا ہے ؟ بھلا کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

موسیٰ نے کہا کیا حق کی نسبت ایسا کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آیا کیا یہ جادو ہے اور جادوگر مراد کو نہیں پہنچتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

موسٰی ؑ نے کہا: کیا تم (ایسی بات) حق سے متعلق کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آچکا ہے، (عقل و شعور کی آنکھیں کھول کر دیکھو) کیا یہ جادو ہے؟ اور جادوگر (کبھی) فلاح نہیں پاسکیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں (یہ) کہتے ہو، جب وہ تمہارے پاس آیا، کیا جادو ہے یہ ؟ حالانکہ جادو گر کامیاب نہیں ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے ان سے کہا : جب تمہارے پاس حق آگیا ہے تو تم اسے جادو کہنے لگے ہو ؟ کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

موسیٰ نے کہا کہ کیا تم حق کو سحر کہتے ہو جب کہ وہ تمہارے پاس آچکا ہے، بھلا، یہ سحر ہے اور ساحر کبھی فلاح نہیں پاتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

موسیٰ نے (ان سے) کہا کہ کیا تم لوگ حق کے لئے ایسا کہتے ہو، جب کہ وہ پہنچ چکا تمہارے پاس ؟ کیا جادو ایسا ہی ہوتا ہے ؟ اور جادوگر تو (اپنی جادو گری کے زور پر دعوائے نبوت کر کے) کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے،

— مولانا اسحاق مدنی

موسیٰ ؑ نے کہا کہ کیا تم حق کے بارے میں یہ کہتے ہو جب وہ تمہیں پہنچ گیا ؟ کیا یہ (واقعی) جادو ہے ؟ درآنحالیکہ جادوگر فلاح نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ نے کہا کہ کیا تم لوگ حق کے بارے میں یہ کہہ رہے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آپہنچا ہے۔ کیا یہ جادو ہے ؟ اور جادو گر تو کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پاسکتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses said: 'Do you say this about the truth after it has come to you? Is this sorcery? You call this sorcery although sorcerers never come to a happy end.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Musa said, :Do you say (this) about the Truth when it came to you? Is this magic, while the magicians do not achieve success?

— Muhammad Taqi Usmani

Musa said, :Do you say (this) about the Truth when it came to you? Is this magic, while the magicians do not achieve success?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Musa said: "Say you (this) about the truth when it has come to you Is this magic But the magicians will never be successful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Moses said: Speak ye (so) of the Truth when it hath come unto you? Is this magic? Now magicians thrive not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Moses said, "Do you say [thus] about the truth when it has come to you? Is this magic? But magicians will not succeed."

— Saheeh International

Moses asked, "Why do you call the Truth which has come to you magic? Magicians, certainly, will not have happiness".

— Muhammad Sarwar

Musa said: Do you say (this) of the truth when it has come to you? Is it magic? And the magicians are not successful.

— Muhammad Habib Shakir

Musa said: say ye this of the truth after it hath come unto you? Is this magic? and the magicians fare not well.

— Abdul Majid Daryabadi

Said Moses: "Say ye (this) about the truth when it hath (actually) reached you? Is sorcery (like) this? But sorcerers will not prosper."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–78

ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود رائی اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ ؑ نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو ؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں ؟ ان پر اس نصیحت نے بھی الٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 74 یعنی حضرت موسیٰ ؑ کا پیغام سن کر وہی کچھ کہا جو کفار مکہ نے محمد ﷺ کا پیغام سن کر کہا تھا کہ ”یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے“۔ (ملاحظہ ہو اسی سورة یونس کی دوسری آیت)۔ یہاں سلسلہ کلام کو نگاہ میں رکھنے سے یہ بات صریح طور پر ظاہر ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) بھی دراصل اسی خدمت پر مامور ہوئے تھے جس پر حضرت نوح ؑ اور ان کے بعد کے تمام انبیاء، سیدنا محمد ﷺ تک، مامور ہوتے رہے ہیں۔ اس سورة میں ابتدا سے ایک ہی مضمون چلا آرہا ہے اور وہ یہ کہ صرف اللہ رب العالمین کو اپنا رب اور الٰہ مانو اور یہ تسلیم کرو کہ تم کو اس زندگی کے بعد دوسری زندگی میں اللہ کے سامنے حاضر ہونا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

خلاصہ تفسیر پھر ان (مذکور) پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے معجزات (عصا اور ید بیضاء) دے کر بھیجا سو انہوں نے (دعوے کے ساتھ ہی ان کی تصدیق کرنے سے) تکبر کیا (اور طلب حق کے لئے غور بھی تو نہ کیا) اور وہ لوگ جرائم کے خوگر تھے (اس لئے اطاعت نہ کی) پھر جب (بعد دعوی کے) ان کو ہمارے پاس سے (نبوت موسویہ پر) صحیح دلیل پہنچی (مراد اس سے معجزہ ہے) تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقینا یہ صریح جادو ہے، مو سیٰ ؑ نے فرمایا کیا یہ جا دو ہے، حالانکہ جادوگر (جب کہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار معجزہ میں) کامیاب نہیں ہوا کرتے (اور میں کامیاب ہوا کہ اول دعوی کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 76–77

76۔ 77:۔ فَلَمَّا جَاۗءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْٓا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ۔ قَالَ مُوْسٰٓى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَكُمْ ۭ اَسِحْرٌ هٰذَا ۭ وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ۔ " حق " کے معنی ہیں ایک واضح، مبرہن اور مدلل حقیقت۔ یہاں اس سے مراد حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کا فرعون اور اس کے اعیان کے سامنے نہایت کھلے ہوئے معجزات کے ساتھ یہ دعوی ہے کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ اس دعوے کی تردید میں انہوں نے کہا کہ تمہارا یہ دعوی باطل ہے۔ جو نشانی تم دکھا رہے ہو یہ کوئی خدائی نشانی نہیں بلکہ یہ صریح جادو ہے اور یہ چیز تم سے کہیں زیادہ ہمارے اپنے جادوگروں کے پاس ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

77۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے کہ ذرا سوچو تو سہی، حق کی دعوت اور صحیح بات کو تم جادو کہتے ہو، بھلا یہ جادو ہے جادوگر تو کامیاب ہی نہیں ہوتے۔ یعنی مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے اور ناپسندیدہ انجام سے بچنے میں وہ ناکام ہی رہتے ہیں اور میں تو اللہ کا رسول ہوں، مجھے اللہ کی مدد حاصل ہے اور اس کی طرف سے مجھے معجزات اور آیات بینات عطا کی گئی ہیں مجھے سحر و ساحری کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اور اللہ کے عطا کردہ معجزات کے مقابلے میں اس کی حیثیت ہی کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 73–79

31: حضرت نوح ؑ کے واقعے کی مزید تفصیل اگلی سورت یعنی سورة ہود (25:11 تا 49) میں آنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال موسیٰ اتقولون للحق لما جاء کم اسحر ھذا موسیٰ نے کہا : کیا حق جب تمہارے پاس آگیا تو تم اس کو سحر کہتے ہو۔ کیا یہ جادو ہے ؟ یعنی حضررت موسیٰ نے بطور عجب و انکار کہا کہ جس امر کی صداقت و حقانیت اللہ کی طرف سے ہے ‘ تم اس کو سحر کہتے ہو ؟ سحر کی تو کوئی حقیقت نہیں ہوتی ‘ وہ تو صرف فریب کاری ہوتا ہے۔ یَقُوْلُوْنَ کا مفعول محذوف ہے۔ اَسِحْرٌ مفعول نہیں ہے ‘ یہ الگ جملہ ہے۔ ولا یفلح الساحرون۔ اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتے۔ یہ جملہ حضرت موسیٰ کے کلام کا تتمہ ہے ‘ یعنی یہ جادو نہیں ہے۔ اگر جادو ہوتا تو نابود ہوجاتا اور جادوگروں کے جادو کو تباہ نہ کرسکتا۔ یا یہ فقرہ فرعونیوں کے قول (سحر ھذا) کا تکملہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی حق کو جادو کہتے ہو، کیا جادو ایسا ہوتا ہے ؟ اور کیا جادو کرنے والے نبوت کا دعویٰ کر کے حق و باطل کی کشمکش سے کامیاب نکل سکتے ہیں۔ سحر اور معجزہ میں تمیز نہ کر سکنا ان کوتاہ فہموں کا کام ہے جو سونے اور پیتل میں تمیز نہ کرسکیں۔ پیغمبر کے روشن چہرے، پاکیزہ اخلاق، نور تقویٰ ، پرشوکت و عظمت احوال میں بدیہی شہادت اس کی موجود ہوتی ہے کہ جادوگری اور شعبدہ بازی سے انھیں کوئی دور کی نسبت بھی نہیں۔ پھر پیغمبر کو " ساحر " کہنا کس درجہ بےحیائی یا دیوانگی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 75–77

عام طور پر قرآن حکیم میں انباء الرسل کے ضمن میں چھ رسولوں کا تذکرہ بار بار آیا ہے ‘ لیکن یہاں اختصار کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کا صرف تین آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اس ایک آیت 74 میں باقی تمام رسولوں کا نام لیے بغیر صرف حوالہ دے دیا گیا ہے اور اس کے بعد حضرت موسیٰ کا ذکر قدرے تفصیل سے ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 سیدنا موسیٰ کا جواب جادوگر اور نبی کا فرق :۔ فرعون اور اس کے درباریوں کے اس جواب پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ جس انداز میں میں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں کیا جادوگروں کے بھی ایسے رنگ ڈھنگ ہوتے ہیں ؟ جو اگر تمہارے پاس آنا چاہیں تو پہلے واسطہ تلاش کرتے اور داخلے کی اجازت چاہتے ہیں پھر اگر وہ اس مرحلہ میں کامیاب ہو کر تم لوگوں تک پہنچ جائیں تو نہایت ذلت سے سر عجزو نیاز جھکائے تمہیں دعائیں دیتے اور آداب بجا لاتے ہیں۔ پھر شعبدہ دکھلانے کی اجازت چاہتے ہیں۔ پھر اس دھندہ سے فارغ ہوں تو پھر سلام کرتے اور انعام و اکرام کا مطالبہ کرتے ہیں اگر تم چاہو تو انھیں کچھ دو یا جھڑک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

116۔ فلاح۔ یعنی آخری اور مستقل کامیابی ساحروں، شعبدہ بازوں کے نصیب میں کہاں ؟ ذرادیر کے لئے وہ گرمی محفل جیسی بھی پیدا کردیں، لیکن کمالات اخلاق سے وہ عاری اور تصرفات روحانی سے ان کا دامن خالی، دنیوی اعتبار سے بھی تو کوئی اعلی مستقل کمال ان میں نہیں ہوتا۔ (آیت) ” اسحرھذا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کمال حیرت وحیرانی سے فرما رہے ہیں کہ تم نے یہ کیا کہا ؟ ایسی کھلی ہوئی صداقتوں کے لئے تمہارے پاس لفظ ” سحر “ کا ہے ؟ جو تمہارے نزدیک بھی ایک بےحقیقت سی شے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–82

آیت نمبر 71 تا 82 ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال موسیٰ اتقولون للحق لما جاء کم اسحر ھذا موسیٰ نے کہا : کیا حق جب تمہارے پاس آگیا تو تم اس کو سحر کہتے ہو۔ کیا یہ جادو ہے ؟ یعنی حضررت موسیٰ نے بطور عجب و انکار کہا کہ جس امر کی صداقت و حقانیت اللہ کی طرف سے ہے ‘ تم اس کو سحر کہتے ہو ؟ سحر کی تو کوئی حقیقت نہیں ہوتی ‘ وہ تو صرف فریب کاری ہوتا ہے۔ یَقُوْلُوْنَ کا مفعول محذوف ہے۔ اَسِحْرٌ مفعول نہیں ہے ‘ یہ الگ جملہ ہے۔ ولا یفلح الساحرون۔ اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتے۔ یہ جملہ حضرت موسیٰ کے کلام کا تتمہ ہے ‘ یعنی یہ جادو نہیں ہے۔ اگر جادو ہوتا تو نابود ہوجاتا اور جادوگروں کے جادو کو تباہ نہ کرسکتا۔ یا یہ فقرہ فرعونیوں کے قول (سحر ھذا) کا تکملہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(77) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ تم کتاب اور رسول اور ان معجزات کے بارے میں جب کہ وہ تمہارے پاس پہنچے ایسی بات کہتے ہو حالانکہ جادوگر عذاب الہی سے محفوظ نہیں رہا کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ مُوْسٰٓى اَتَقُوْلُوْنَ۔۔ : مفسرین نے فرمایا کفار کے جواب میں درحقیقت یہ تین جملے ہیں، پہلا ”اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ“ یعنی یہ بات کہ ”یہ جادو ہے“ کیا تم حق کے بارے میں کہہ رہے ہو، جب کہ حق تمہارے سامنے ہے ؟ دوسرا ”اَسِحْرٌ ھٰذٰا“ کیا یہ جادو ہے ؟ یہ سوال انکار کے لیے ہے، جیسے کوئی پھول کو پتھر کہے تو اسے کہا جائے، کیا یہ پتھر ہے ؟ تیسرا یہ کہ جادوگر تو کامیاب نہیں ہوتے، جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ میں دلیل وبرہان کی رو سے کامیاب ہوں، تو پھر یہ جادو کیسے ہوسکتا ہے۔ اس میں آئندہ جادوگروں کے ساتھ مقابلہ میں اپنی کامیابی اور جادوگروں کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 76–77

آیت نمبر 76 اور 77 قولہ تعالیٰ : (آیت) فلماجاء ھم الحق من عندنا اس سے مراد فرعون اور اس کی قوم ہے (یعنی جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا) (آیت) قالوا ان ھذا لسحرمبین تو انہوں نے معجزات کو سحر (جادو) پر محمول کیا۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا : (آیت) اتقولون للحق لماجاء کم اسحر ھذا۔ کہا گیا ہے کہ کلام میں حذف ہے، اس کا معنی ہے : کیا تم حق کے متعلق کہتے ہو یہ سحر ہے، پس اتقولون یہ انکار ہے اور ان کا قول ھذا لسحر (یہ جادو ہے) محذوف ہے، پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ازسرنودوسرا انکار ہوا اور فرمایا : (آیت) اسحر ھذا (کیا یہ جادو ہے) پس ان کا پہلا قول ان کے دوسرے قول پر اکتفاء کرتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–82

موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ : 1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتلفتنا “ یعنی تاکہ تو ہم کو پھیر دے دور ہٹا دے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” لتلفتنا “ تاکہ تو ہم کو اپنے معبودوں سے روک دے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتکون لکما الکبریآء فی الارض “ یعنی عظمت ملک اور بادشاہ ہی (تمہارے لئے ہی ہوجائے ) ۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ کہا ] مُوْسٰٓى [ موسیٰ نے ] اَ [ کیا ] تَقُوْلُوْنَ [ تم لوگ کہتے ہو (یہ ) ] لِلْحَقِّ [ حق کے لئے ] لَمَّا [ جب ] جَاۗءَكُمْ ۭ [ وہ آیا تمہارے پاس ] اَ [ کیا ] سِحْرٌ [ جادو ہے ] هٰذَا ۭ [ یہ ] وَلَا يُفْلِحُ [ اور مراد نہیں پاتے ] السّٰحِرُوْنَ [ جادو کرنے والے ] ترکیب : (آیت ۔ 77) اتقولون کے بعد ھذا محذوف ہے جو کہ گذشتہ آیت میں لسحر مبین کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کے آگے سحر خبر مقدم اور ھذا مبتدا مؤخر ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–86

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–82

قال اللہ تعالی۔ ثم بعثنا من بعدہ رسلا۔۔۔ الی۔۔۔ علی قلوب المعتدین (ربط): اوپر کی آیات میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اجمالاً ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا قصہ ذکر ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلا کے بعد ہود اور صالح اور ابراہیم اور لوط اور شعیب (علیہم السلام) مبعوث ہوئے پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن جن لوگوں نے انبیاء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 76–77

96: جب قوم فرعون کے پاس ہمارے پیغمبر معجزات لے کر پہنچے تو انہوں نے معجزات کو جادو قرار دیا اور ان کے من جانب اللہ ہونے سے انکار کیا۔ “ وَقَالَ مُوْسیٰ الخ ” ان کے اس قول باطل کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم اللہ کے دئیے ہوئے معجزات کو جو سراپا حق ہیں جادو کہہ رہے ہو کیا یہ معجزے جادو ہیں جو پوری تحدی اور چیلنج کے ساتھ تمہارے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں حالانکہ جادو گروں میں ایسی جرات و جسارت کہاں کہ وہ اس طرح تحدی کریں اور پھر کامیاب بھی ہوجائیں کیونکہ جادو ایک فریب ہے جو چل نہیں سکتا “ یعنی حاصل السحر تمویه و تخییل و صاحب ذلک لا یفلح ” (خازن ج 3 ص 202) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–82

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو سمجھانے کے لیے اور بعد میں آنے والے مشرکوں اور نافرمانوں کی عبرت کے لیے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال بیان فرمائی ، درمیان میں اجمالی طور پر دیگر انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ دیکھ لو ڈرائے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ ان تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی معرفت برے انجام سے ڈرایا تھا مگر وہ لوگ غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے اور انبیاء (علیہ السلام) کو برداشت نہ کیا مگر اللہ کے نبیوں نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تبلیغی مشن کو جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے منکرین کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ مُوْسٰٓى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَكُمْ۝ 0 ۭ اَسِحْرٌ ہٰذَا۝ 0 ۭ وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ۝ 77 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] والقَوْلُ يستعمل علی أوجه : أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى القصیدة والخطبة ونحوهما قَوْلًا . الثاني : يقال للمتصوّر في النّفس قبل الإبراز باللفظ : قَوْلٌ ، فيقال : في نفسي قول لم أظهره . قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–77

1 ؎ وعظ کرنے کے لئے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ میرا رہنا۔ 12 منہ ترکیب : اذ طرف والعامل فیہ بناء والجملۃ بدل من نباء نوح فعلی اللہ جواب۔ کان کبر فاجمعوا معطوف علیہ اتقولون اس کا مفعول سحر محذوف الکبریا اسم تکون لکما خبرہ ما جئتم بہ السحر ما استفہامیہ مبتداء وجئتم خبر والسحر بدل منہ اور ما کو خبریہ کہا جاوے تو یہ موصولہ جئتم صلہ یہ سب مبتداء السحر خبر جملہ محلا منصوب قال کا مفعول ہو کر ملائہم الضمیر عائد الی الذری ولم یونث لان الذریۃ قوم فھومذکر وقبل یرجع الی القوم ان یفتنہم بدل من فرعون تقدیرہ علی خوف من فتنۃ فرعون ان تبوآ تفسیر ہے اوحینا کی قبلۃ مفعول اجعلوا ای مصلی تصلون فیہ لتامنوا من الخوف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ مُوْسٰٓی اَتَقُّوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ کُمْ ط اَسِحْرٌ ھٰذَا ط وَلاَ یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ ۔ (یونس : 77) (موسیٰ نے کہا کہ کیا تم حق کو جادو کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آگیا۔ کیا یہ جادو ہے ؟ اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ ) حق اور سحر میں فرق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی جانب سے جو حق آیا ہے کیا تم اسے جادو کہتے ہو، تمہیں یہ جادو دکھائی دیتا ہے، کیا جادو ایسا ہوتا ہے کہ اس کے پیش کرنے والے دنیا کے صالح ترین افراد ہوں جو نادار اور فقیر ہو کر بھی اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔ جن کے سیرت و کردار میں کوئی عیب نہ ہو اور جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 76–77

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ سورۃ طہٰ میں تفصیل ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر شجر مبارکہ کے پاس روشنی کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے موسیٰ میں تیرا رب ہوں اور تو مقدس وادی میں داخل ہوچکا ہے۔ اس لیے اپنے جوتے اتار دے۔ میں نے تجھے نبوت کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ لہٰذا جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے اسے توجہ کے ساتھ سن، یقین کر ! میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بس میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ بیشک قیامت آنے والی ہے جس کے برپا ہونے کو میں نے چھپا رکھا ہے۔ جب وہ برپا ہوگی تو ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلا دیا جائے گا۔ جو شخص…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

77: قَالَ مُوْسٰی اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ کُمْ (موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم حق کو کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آچکا ہے) یہ استفہام انکاری ہے اور ان کا مقولہ محذوف ہے یعنی ہذا سحر کیا یہ جادو ہے پھر انکار کو دوسری مرتبہ لوٹا یا اور کہا اَسِحْرٌ ھٰذَا (کیا یہ جادو ہے) یہ خبر اور مبتداء ہے۔ وَلَایُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ (اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتے) یعنی وہ کامیاب نہ ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

77۔ ” قال موسیٰ اتقولون للحق لماء جا کم اسحر ھذا “ اصل عبارت یوں تھی ” لماء جا کم سحر اسحر ھذا “ پہلے سحر کو حذف کردیا گیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کر رہی تھی ۔ ” ولا یفلح الساحرون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 76–82

76۔ 82۔ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا فرعون کے زمانہ میں جادو کا بڑا چرچہ اور زور تھا فرعون کی طرف سے بہت سے جادوگر جاگیریں پاتے تھے اور مصر کے اطراف میں اپنی جاگیرات میں رہتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اس لئے یہی جواب دیا کہ تائید آسمانی اور معجزہ نبوی کو اگر تو سمجھتا ہے تو اپنے بڑے بڑے جادوگروں کو بلا کر مجھ سے مقابلہ کرالے اور دیکھ لے کہ تائید آسمانی کے مقابلہ میں جادو کبھی سر سبز نہ ہوگا آخر فرعون نے اپنے جادوگر بلوائے اور فرعون کی سالگرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–93

آیت : ( 75-93) (ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 76–77

132 ۔ متکبر فرعونیوں کے ضمیر سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حق ان لوگوں کے پاس پہنچ گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو یقینی طور پر ایک جادو ہے کھلم کھلا۔ تو اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ کیا تم لوگ حق کے بارے میں ایسے کہتے ہو ؟ کیا جادو ایسا ہی ہوتا ہے اے بدبختو ؟ کہ وہ حق و صدق اور توحید و دین حق کی دعوت دے ؟ اور اسی دعوت حق کی بناء پر وہ فرعون جیسے جابر و ظالم حکمران کو للکارے ؟ ایسا کوئی جادو اور اس طرح کا کوئی جادوگر کہیں تم دکھا سکتے ہو ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ صاف وصریح حق سے منہ موڑ کر ایسی بہکی بھٹکی باتیں کرتے ہو جو کہ عقل کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–92

سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–82

آیات 71 تا 82 اسرار و معارف کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 ۔ حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ میں دلیل وبرہان کی رو سے کامیاب ہوں تو پھر یہ جادو کیسے ہوسکتا ہے۔ اس میں آئندہ جادوگروں کے ساتھ مقابلہ میں کامیابی اور ان کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 77–78

(10:77) لتلفتنا۔ کہ تم ہم کو پھیردے۔ لفت یلفت (ضرب) لفت سے واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ عما۔ عن ما۔ تکون۔ ای لتکون۔ یعنی اس لئے کہ اس سرزمین مصر میں تم دونوں کی سرداری ہوجائے ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–85

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82 استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–82

آنحضرت ﷺ کی تسکین کا ذکر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا، فرعون جس ذلت اور خواری سے ہوا اس کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طہ اور سورة شعراء اور سورة قصص میں پھر آئے گا۔ اس قصہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ اگرچہ قریش معجزہ اور قرآن کو جادو اور اے نبی تم کو جادوگر بتلا رہے ہیں ۔ بالاآخر فرعون کے جادوگروں کی طرح اکثر ان میں سے قائل ہو کر اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 77–82

[30] یعنی آخری اور مستقل کامیابی جادوگروں اور شعبہ بازوں کے نصیب میں کہاں۔ ذرا دیر کے لئے وہ گرمی محفل تو پیدا کرسکتے ہیں لیکن کمال اخلاق سے وہ عاری ہوتے ہیں۔ دنیوی اعتبار سے بھی تو کوئی اعلیٰ مستقل کمال ان میں نہیں ہوتا۔ کیا جادوگر کا یہ کام ہوتا ہے کہ ایک ظالم سرکش حکمران کو اللہ کی پرستش کی دعوت دے !

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–80

جادوگر کامیاب نہیں ہوتے : (ف 1) سحر وجادوگری کے معنی ذلیل قسم کی کرشمہ سازی اور فن نمائی کے ہیں ، جادوگر کے سامنے کوئی بلند نصب العین نہیں ہوتا ، اور نہ اس میں ایسی قوت ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے اہم امور میں کامیاب ہو سکے وہ چند لوگوں کو اپنی چالاکیوں سے حیرت میں ڈال سکتا ہے ، مگر حق وصداقت کے مقابلہ میں کسی طرح کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ، کیونکہ ادھر ایک نصب العین ہے مقدس اسوہ ہے اور ادھر صرف فریب دفن ، اس لئے قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تم جادوگر سمجھتے ہو تو واقعات کا انتظار کرو عنقریب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابیاں اور کامرانیاں تم سے خراج تحسین وصول کرلیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

77 موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اس صحیح دلیل اور سچی بات کے متعلق جب وہ تمہارے پاس آئی ایسی بات کہتے ہو کیا یہ جادو ہے حالانکہ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے یعنی جادوگر اگر نبوت کا دعویٰ کرے تو خوارقات نہیں دکھا سکتا یہ پیغمبر ہی کا کام ہے کہ دعویٰ نبوت کے ساتھ اس کے ہاتھ خوارقات کا بھی صدور ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی جادوگر جبکہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار خارق میں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سچائی کو جادو قرار دینے والوں کو موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا جواب دیا ؟ 109 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونیوں سے کہا کہ تم حق کی نشانیوں کو جادو کہتے ہو حالانکہ ایک موٹی سی بات جو عام طور پر دیکھی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ جو جادو ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ جادو انسان کی بناوٹ اور شعبدہ طرازی ہے اور ایک انسان اپنی بناوٹوں اور کرتبوں میں کتنا ہی ہوشیار ہو لیکن حق کے مقابلہ میں کبھی نہیں ٹک سکتا ۔ حق کو چھپا دیا جائے اور باطل کو پھیلا دیا جائے ممکن ہے ، ہوتا رہا ہے ، ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اس لئے کہ حق کی عدم موجودگی میں باطل کو پھیلایا جاتا رہا ہے ، پھیلایا جا رہا ہے اور پھلایا جاتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–86

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

75.In view of the apparent similarity between sorcery and miracle the Israelites hastily branded Moses (peace be on him) a sorcerer. In relegating Moses to the role of a sorcerer, however, these simpletons ignored the fact that the character and conduct as well as the motives underlying the activity of sorcerers are entirely different from those of the Prophets. Is it consistent with the known character of a sorcerer that he should fearlessly make his way to the court of a tyrant, reproach him for his error, and summon him to exclusively devote himself to God and to strive for his…

Read the full tafseer →