Yunus 10:78

Yunus · from ayah 78

10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَتَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ ؕ— وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ ۟قَالُـوۡۤا اَجِئۡتَـنَا لِتَلۡفِتَـنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِى الۡاَرۡضِؕ وَمَا نَحۡنُ لَـكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Have you come to us to turn us away from that upon which we found our fathers and so that you two may have grandeur in the land? And we are not believers in you."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 8 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:78

اُنہوں نے جواب میں کہا“کیا تواس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُ س طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تم دونوں کی قائم ہو جائے؟ تمہارے بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹادو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہنے لگے : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جس طور طریقے پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اس سے ہمیں برگشتہ کردو، اور اس سرزمین میں تم دونوں کی چودہراہٹ قائم ہوجائے ؟ ہم تو تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس سے پھیردو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور زمین میں تمہیں دونوں کی بڑائی رہے، اور ہم تم پر ایمان لانے کے نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ کہنے لگے: (اے موسٰی!) کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ تم ہمیں اس (طریقہ) سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو (گامزن) پایا اور زمین (یعنی سرزمینِ مصر) میں تم دونوں کی بڑائی (قائم) رہے؟ اور ہم لوگ تم دونوں کو ماننے والے نہیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اس سر زمین میں تم دونوں ہی کو بڑائی مل جائے ؟ اور ہم تم دونوں کو ہرگز ماننے والے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس طریقہ سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے اور ملک میں تم دونوں کی بڑائی قائم ہوجائے ؟ ہم تو تمہاری بات ماننے والے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس طریقہ سے ہٹا دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور ملک میں سیادت تم دونوں کو حاصل ہوجائے ؟ اور ہم تو تم دونوں کی بات کبھی ماننے والے نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ پھیر دو ہمیں ان طور طریقوں سے جن پر پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ؟ اور تم ہی دونوں کی بڑائی (اور سرداری) قائم ہوجائے اس سرزمین میں، اور (سن لو کہ) ہم کبھی تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

پاتے وہ بولے کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمیں ہٹا دے اس (طریقہ) سے جس پر ہم نے اپنے باپ (دادا) کو پایا تھا اور ملک میں بڑائی تم دونوں کے لئے ہوجائے تو ہم تو تم دونوں کو (کبھی) ماننے والے نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں پھیر دو ان طریقوں سے جن پر پایا ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو اور تم دونوں کی بڑائی قائم ہوجائے زمین میں ؟ اور ہم ہرگز تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جس راہ پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہمیں پھیر دو۔ اور اس ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They replied: 'Have you come to turn us away from the way of our forefathers that the two of you might become supreme in the land? We shall never accept what the two of you say.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Have you come to us to turn us away from the way on which we have found our fathers, and so that you both have supremacy on earth? We are not going to believe in you.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Have you come to us to turn us away from the way on which we have found our fathers, and so that you both have supremacy on earth? We are not going to believe in you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Have you come to us to turn us away from that we found our fathers following, and that you two may have greatness in the land We are not going to believe you two!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Hast thou come unto us to pervert us from that (faith) in which we found our fathers, and that you two may own the place of greatness in the land? We will not believe you two.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Have you come to us to turn us away from that upon which we found our fathers and so that you two may have grandeur in the land? And we are not believers in you."

— Saheeh International

They asked Moses, "Have you come to turn us away from the faith of our fathers and to make yourselves the rulers in the land? We shall never accept your faith."

— Muhammad Sarwar

They said: Have you come to us to turn us away from what we found our fathers upon, and (that) greatness in the land should be for you two? And we are not going to believe in you.

— Muhammad Habib Shakir

They said: art thou come unto us to turn us aside from that faith whereon We found our fathers, and that the greatness in the land shall be unto you twain! And for the sake of you twain we are not going to be believers.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Hast thou come to us to turn us away from the ways we found our fathers following,- in order that thou and thy brother may have greatness in the land? But not we shall believe in you!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:78

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–78

ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود رائی اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ ؑ نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو ؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں ؟ ان پر اس نصیحت نے بھی الٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 78–80

سورة یُوْنُس 76 ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا اصل مطالبہ رہائی بنی اسرائیل ہوتا تو فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ اندیشہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ ان دونوں بزرگوں کی دعوت پھیلنے سے سرزمین مصر کا دین بدل جائے گا اور ملک میں ہمارے بجائے ان کی بڑائی قائم ہوجائے گی۔ ان کے اس اندیشے کی وجہ تو یہی تھی کہ حضرت موسیٰ ؑ اہل مصر کو بندگی حق کی طرف دعوت دے رہے تھے اور اس سے وہ مشرکانہ نظام خطرے میں تھا جس پر فرعون کی بادشاہی اور اس کے سرداروں کی سرداری اور مذہبی پیشواؤں کی پیشوائی قائم تھی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، 66۔ المومن، 43)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

خلاصہ تفسیر پھر ان (مذکور) پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے معجزات (عصا اور ید بیضاء) دے کر بھیجا سو انہوں نے (دعوے کے ساتھ ہی ان کی تصدیق کرنے سے) تکبر کیا (اور طلب حق کے لئے غور بھی تو نہ کیا) اور وہ لوگ جرائم کے خوگر تھے (اس لئے اطاعت نہ کی) پھر جب (بعد دعوی کے) ان کو ہمارے پاس سے (نبوت موسویہ پر) صحیح دلیل پہنچی (مراد اس سے معجزہ ہے) تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقینا یہ صریح جادو ہے، مو سیٰ ؑ نے فرمایا کیا یہ جا دو ہے، حالانکہ جادوگر (جب کہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار معجزہ میں) کامیاب نہیں ہوا کرتے (اور میں کامیاب ہوا کہ اول دعوی کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت موسیٰ پر ایک سیاسی الزام : قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا وَتَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاۗءُ فِي الْاَرْضِ ۭ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِيْنَ۔ فرعونیوں کا یہ فقرہ نہایت زہر آلود ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خلاف بھڑکانے کے لیے ان پر آبائی دین اور ملک کی حکوت، دونوں کے خلاف بغاوت برپا کرنے کا الزام تھوپ دیا کہ تم ہمارے آبائی دین سے بھی ہم کو برگشتہ کرنا چاہتے ہو اور تمہاری یہ آرزو بھی ہے کہ اس ملک کا اقتدار تم دونوں کے ہاتھ آجائے۔ ہم سورة اعراف کی تفسیر میں تورات کے حوالوں کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں کہ مصرف میں اس وقت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 78–80

78۔ 1 یہ منکرین کی دیگر حجتیں ہیں جو دلائل سے عاجز آکر، پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم ہمارے آباء و اجداد کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہو، دوسرے یہ کہ ہمیں جاہ و ریاست حاصل ہے، اسے ہم سے چھین کر خود اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہو اسلیے ہم تو کبھی بھی تم پر ایمان نہ لائیں گے۔ یعنی تنقید آباء پر اصرار اور دنیاوی وجہ کی خواہش نے انھیں ایمان لانے سے روکے رکھا۔ اس کے بعد آگے وہی قصہ ہے کہ فرعون نے ماہر جادوگروں کو بلایا اور حضرت موسیٰ ؑ اور جادوں گروں کا مقابلہ ہوا، جیسا کہ سورت اعراف میں گزرا اور سورت طہ میں بھی اس کی کچھ تفصیل آئے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 73–79

31: حضرت نوح ؑ کے واقعے کی مزید تفصیل اگلی سورت یعنی سورة ہود (25:11 تا 49) میں آنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–80

قالوا اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ ابآء نا وتکون لکم الکبریاء فی الارض وما نحن لکما بمؤمنین۔ فرعون نے کہا : (موسیٰ ! ) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ جس (مذہب) پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ‘ اس سے ہم کو پھیر دو ( موڑ دو ۔ قتادہ۔ یعنی بت پرستی یا فرعون کی پوجا سے ہم کو پھیرنے کیلئے آئے ہو) اور تم دونوں کی ملک مصر میں حکومت ہوجائے اور ہم تمہاری بات کو سچا نہیں مانیں گے۔ کبریاء سے مراد ہے حکومت اور اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہوں میں غرور دنیوی پیدا ہو ہی جاتا ہے ‘ اسلئے بادشاہت کا نام ہی غرور ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی معاذ اللہ تم دنیا کے حریص اور بدنیت ہو، ایک سیاسی تحریک کو مذہبی رنگ میں پیش کرتے ہو۔ تمہاری غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ مذہبی حیثیت سے ایک انقلاب عظیم برپا کر کے اس ملک میں اپنی حکومت اور سرداری جماؤ۔ اور یہاں کے قدیم سرداروں (قبطیوں) کو برطرف کردو۔ سو یاد رہے کہ یہ خواہش پوری ہونے والی نہیں۔ ہم لوگ ہرگز تمہاری بات نہ مانیں گے نہ تمہاری بزرگی کبھی تسلیم کریں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 78–80

وَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِط وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ یعنی تم دونوں حضرت موسیٰ اور ہارون یہاں اپنی بادشاہی قائم کرنا چاہتے ہو۔ اس اندیشے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ اہل مصر کو بندگئ رب کی جو دعوت دے رہے تھے اس سے وہ مشرکانہ نظام خطرے میں تھا جس پر فرعون کی بادشاہی ‘ اس کے سرداروں کی سرداری اور مذہبی پیشواؤں کی پیشوائی قائم تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 78–79

91 فرعون اور درباریوں کے اس جواب سے بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ خوب جانتے تھے کہ سیدنا موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) جادوگر نہیں ہیں۔ جادوگر کو تو معاشرہ کی ایک حقیر سی مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بھلا بڑائی قائم ہوسکتی ہے ؟ اور اگر وہ حقیقت کا اعتراف کرلیتے تو اپنے تمام مناصب سے دستبردار ہونا پڑتا تھا۔ لہذا انہوں نے وہی جواب دیا جو دلیل سے عاجز اور ضدی لوگ دیا کرتے ہیں کہ تم تو ہمیں اپنے آباؤ و اجداد کے دین سے برگشتہ کرنے آئے ہو مگر ہم تمہارے جھانسے میں کبھی نہیں آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

117۔ مصری مذہب کے ” ہزار دیوتا “ مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ ہندی مشرکوں کی طرح مصریوں میں حیوان پرستی بھی جاری تھی، بندر، کتا، بلی وغیرہ ان کے مقدس جانور تھے۔ اپنے بادشاہ کو خدا کا اوتار مانتے تھے۔ تناسخ ارواح کے قائل تھے۔ وقس علی ہذا۔۔ تبلیغ موسوی سے ان سارے عقائد پر ضرب کاری لگ رہی تھی، موسیٰ (علیہ السلام) محض قومی لیڈر نہ تھے جو اپنی قوم اسرائیل کو ” سوراج “ دلانے کے لئے مصری گورنمنٹ سے نامہ وپیام کررہے تھے وہ سب سے پہلے توحید وعقیدۂ آخرت کے مناد تھے، اور پھر کچھ اور۔ (آیت) ” تکون لکما الکبریآء فی الارض “۔ دنیا پرست مادی زاویہ نظر رکھنے والا اپنے نفس پر قیام کرکے دوسروں کو بھی اسی عینک سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–82

آیت نمبر 71 تا 82 ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ ابآء نا وتکون لکم الکبریاء فی الارض وما نحن لکما بمؤمنین۔ فرعون نے کہا : (موسیٰ ! ) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ جس (مذہب) پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ‘ اس سے ہم کو پھیر دو ( موڑ دو ۔ قتادہ۔ یعنی بت پرستی یا فرعون کی پوجا سے ہم کو پھیرنے کیلئے آئے ہو) اور تم دونوں کی ملک مصر میں حکومت ہوجائے اور ہم تمہاری بات کو سچا نہیں مانیں گے۔ کبریاء سے مراد ہے حکومت اور اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہوں میں غرور دنیوی پیدا ہو ہی جاتا ہے ‘ اسلئے بادشاہت کا نام ہی غرور ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 78–79

(78۔ 79) ان لوگوں نے موسیٰ ؑ سے کہا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں ان بتوں کی پوجا سے ہٹا دو اور تم دونوں کو سرزمین مصر میں ریاست اور بادشاہت مل جائے، ہم تو تم دونوں کی کبھی تصدیق نہ کریں گے اور فرعون کہنے لگا میرے سامنے تمام ماہر جادوگروں کو حاضر کرو ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا۔۔ : فرعون اور اس کے ساتھی اپنے شرکیہ عقائد کی وجہ سے مذہبی برتری بھی جتاتے رہتے تھے اور سرزمین مصر کی حکومت پر قبضے کی وجہ سے تمام وسائل کے مالک بن کر سیاسی طور پر بھی سب سے بڑے بنے ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے یہ دو الزام دھر دیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح کی ہر تحریک، پرانی ہو یا نئی، وقت کے تمام فرعون اس پر یہی الزام رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کا مقصد اصلاح نہیں، بلکہ ہماری مذہبی سیادت اور سیاسی برتری کو ختم کرنا اور اپنی حکومت قائم کرنا ہے، جیسا کہ نوح ؑ کی قوم کے سرداروں نے بھی کہا تھا کہ یہ شخص محض تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے، فرمایا : (يُرِيْدُ اَنْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 78 قولہ تعالیٰ : (آیت) قالوا اجئتنا لتلفتنا کہنے لگے : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ ہمیں پھیر دو اور موڑ دو ۔ کہا جاتا ہے : لفتہ یلفتہ لفتا جب وہ اسے موڑدے اور پھیر دے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : تلفت نحوالحی حتی رایتنی وجعت من الا صفاء لیتا واخدعا اور اسی سے التفت (میں مڑگیا) ہے بیشک اس کا معنی سام نے کی جہت سے پھرجانا اور مڑجانا ہے۔ (آیت) عماوجدناعلیہ اباء نامراد بتوں کی عبادت سے ہٹادینا ہے۔ (آیت) وتکون لکما الکبریاء اور صرف تم دونوں کے لیے عظمت، بادشاہی اور سلطنت ہوجائے۔ (آیت) فی الارض مراد سرزمین مصر ہے۔ اور بادشاہی (ملک) کے لیے الکبریاء کہا جارہا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑی (شے)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–82

موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ : 1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتلفتنا “ یعنی تاکہ تو ہم کو پھیر دے دور ہٹا دے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” لتلفتنا “ تاکہ تو ہم کو اپنے معبودوں سے روک دے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتکون لکما الکبریآء فی الارض “ یعنی عظمت ملک اور بادشاہ ہی (تمہارے لئے ہی ہوجائے ) ۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْٓا [ انہوں نے کہا ] اَ [ کیا ] جِئْتَنَا [ تو آیا ہمارے پاس ] لِتَلْفِتَنَا [ تاکہ تو پھیر دے ہم کو ] عَمَّا [ اس سے ] وَجَدْنَا [ ہم نے پایا ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اٰبَاۗءَنَا [ اپنے آباؤاجداد کو ] وَتَكُوْنَ [ اور تاکہ ہوجائے ] لَكُمَا [ تم دونوں کے لیے ] الْكِبْرِيَاۗءُ [ بڑائی ] فِي الْاَرْضِ ۭ [ زمین میں ] وَمَا نَحْنُ [ اور ہم نہیں ہیں ] لَكُمَا [ تم دونوں پر ] بِمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ] لت : (ض) لفتا ، کسی کو کسی چیز سے پھیر دینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 78 ۔ (افتعال ) التفاتا ۔ اہتمام سے اپنی توجہ کسی طرف پھیرنا ۔ مڑکر دیکھنا ۔ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ [اور چاہیے کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–86

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–82

قال اللہ تعالی۔ ثم بعثنا من بعدہ رسلا۔۔۔ الی۔۔۔ علی قلوب المعتدین (ربط): اوپر کی آیات میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اجمالاً ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا قصہ ذکر ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلا کے بعد ہود اور صالح اور ابراہیم اور لوط اور شعیب (علیہم السلام) مبعوث ہوئے پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن جن لوگوں نے انبیاء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

97: برسر اقتدار لوگوں کو ہمیشہ اپنا وقار و اقتدار بحال رکھنے کی فکر دامنگیر رہتی ہے اور وہ اپنے ملک میں اٹھنے والی ہر تنظیم کا اسی نقطہ نگاہ سے جائزہ لیتے ہیں کہ یہ تنظیم ان کے اقتدار کے لیے کس قدر مفید یا نقصان رساں ہے فرعون نے بھی محسوس کرلیا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت توحید قبول کرلی گئی تو اس کی خدائی اور ربوبیت ختم ہوجائیگی۔ بات تحفظ اقتدار کی تھی مگر فرعون اور قوم فرعون نے مذہب کی آڑ میں دعوت توحید کی مخالفت کی اور کہا کیا تو ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے دین سے منحرف کرنے آیا ہے اور ہمارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ “ عَمَّا ”۔ “ مَا ” موصولہ سے مراد دین ہے۔ “ اَلْکِبْرِیَاء ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–82

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو سمجھانے کے لیے اور بعد میں آنے والے مشرکوں اور نافرمانوں کی عبرت کے لیے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال بیان فرمائی ، درمیان میں اجمالی طور پر دیگر انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ دیکھ لو ڈرائے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ ان تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی معرفت برے انجام سے ڈرایا تھا مگر وہ لوگ غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے اور انبیاء (علیہ السلام) کو برداشت نہ کیا مگر اللہ کے نبیوں نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تبلیغی مشن کو جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے منکرین کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْہِ اٰبَاۗءَنَا وَتَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاۗءُ فِي الْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِيْنَ۝ 78 لفت يقال : لَفَتَهُ عن کذا : صرفه عنه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِتَلْفِتَنا[يونس/ 87] أي : تصرفنا، ( لت ) لفتہ عن کذا ۔ کسی چیز سے پھیر دینا ۔ قرآن میں ہے : قالُوا أَجِئْتَنا لِتَلْفِتَنا[يونس/ 87] کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ( جس راہ پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو ۔ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 78–82

قَالُوْآ اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَاوَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآئُ فِی الْاَرْضِ ط وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ ۔ فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْن۔ فَلَمَّآ اَلْقُوْا قَالَ مُوْسٰی مَاجِئْتُمْ بِہِ لا السِّحْرُ ط اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْن۔ وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (یونس : 78، 79، 80، 81، 82) (انھوں نے کہا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان گفتگو جاری ہے۔ فرعون کے حواری اس کی تائید کرتے ہوئے بات میں اضافہ کرتے ہیں کہ اے موسیٰ اور ہارون کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے باپ دادا کے دین سے پھیر دو اور ملک میں تم بڑے لیڈر بن جاؤ ؟ یاد رکھو ہم ہرگز تمہیں ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حواریوں کی اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرعون نے کہا کہ ان دونوں جادوگروں کا مقصد یہ ہے کہ جادو کے ذریعے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارا مثالی تہذیب و تمدن ختم کردیں لہٰذا اپنی منصوبہ بندی کرو تاکہ ہم کامیاب رہیں۔ ( طہٰ : 63۔ 64) قرآن مجید اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ابتدا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

78: قَالُوْا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا (وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس آئے ہوتا کہ تم ہٹا دو ) ہمیں پھیر دو ۔ عَمَّا وَجَدْنَاعَلَیْہِ اٰبَآئَ نَا (اس سے جس پر ہم نے اپنے آبائو اجداد کو پایا) یعنی بتوں کی عبادت یا فرعون کی عبادت وَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآئُ (اور ہوجائے تم دونوں کیلئے بڑائی) یعنی بادشاہت کیونکہ بادشاہوں ہی کی صفات بڑائی عظمت، بلندی ہوتی ہیں فِی الْاَرْضِ (زمین میں) یعنی سرزمین مصر میں۔ وَمَانََحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ (ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے نہیں ہیں) اس میں تصدیق کرنے والے جو کچھ تم لے کر آئے ہو۔ قراءت : حماد و یحییٰ نے یکونؔ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 78–80

78۔ ” قالوا “ یعنی فرعون اور اس کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو ” اجئتنا لتفلتنا “ تا کہ میں پھیر دے۔ ” عما وجدنا علیہ آباء نا وتکون لکما الکبیریائ “ بادشاہی اور سلطنت ” فی الارض “ مصر میں اور ابوبکر نے یکون یاء کے ساتھ پڑھا ہے ” وما نحن لکما بمومنین “ تصدق کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 76–82

76۔ 82۔ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا فرعون کے زمانہ میں جادو کا بڑا چرچہ اور زور تھا فرعون کی طرف سے بہت سے جادوگر جاگیریں پاتے تھے اور مصر کے اطراف میں اپنی جاگیرات میں رہتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اس لئے یہی جواب دیا کہ تائید آسمانی اور معجزہ نبوی کو اگر تو سمجھتا ہے تو اپنے بڑے بڑے جادوگروں کو بلا کر مجھ سے مقابلہ کرالے اور دیکھ لے کہ تائید آسمانی کے مقابلہ میں جادو کبھی سر سبز نہ ہوگا آخر فرعون نے اپنے جادوگر بلوائے اور فرعون کی سالگرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–93

آیت : ( 75-93) (ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

134 ۔ باپ دادا کی اندھی تقلید باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت حق کے جواب میں کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اسی لیے آئے ہو کہ ہمیں پھیر دو ان طور طریقوں سے جن پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ اور اس طرح تم دونوں کی بڑائی اور سرداری قائم ہوجائے اس سرزمین میں ؟ اور (سن لو کہ) ہم کبھی بھی تمہاری بات ماننے والے نہیں۔ سو یہ اہل باطل کی مشترکہ حجت بازی کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ انہوں نے حق و ہدایت کے مقابلے میں باپ دادا کے طور طریقوں کو ترجیح دی۔ سو یہ اہل حق کے مقابلے میں ایک ہی طرح کی اور مشترکہ حجت بازی کا ایک نمونہ و مظہر ہے۔ یعنی وہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–92

سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–82

آیات 71 تا 82 اسرار و معارف کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 78–80

ف 7 ۔ دنیا کے ہر متکبر و ظالم کا ہی قاعدہ ہے کہ جب اسے نصیحت کی جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ نصیحت میری ریاست اور سرداری کو چھیننے کے لئے جارہی ہے۔ اپنے شیطانی نفس پر قیاس کرکے وہ ہر شخص کے بارے میں یہی خیال کرتا ہے کہ اس کا مقصد دنیا کمانا اور اقتدار حاصل کرنا ہے۔ فرعون اور اس کے اہل کاروں نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے بارے میں بھی یہی خیال کیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 77–78

(10:77) لتلفتنا۔ کہ تم ہم کو پھیردے۔ لفت یلفت (ضرب) لفت سے واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ عما۔ عن ما۔ تکون۔ ای لتکون۔ یعنی اس لئے کہ اس سرزمین مصر میں تم دونوں کی سرداری ہوجائے ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–85

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82 استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–82

آنحضرت ﷺ کی تسکین کا ذکر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا، فرعون جس ذلت اور خواری سے ہوا اس کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طہ اور سورة شعراء اور سورة قصص میں پھر آئے گا۔ اس قصہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ اگرچہ قریش معجزہ اور قرآن کو جادو اور اے نبی تم کو جادوگر بتلا رہے ہیں ۔ بالاآخر فرعون کے جادوگروں کی طرح اکثر ان میں سے قائل ہو کر اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 77–82

[30] یعنی آخری اور مستقل کامیابی جادوگروں اور شعبہ بازوں کے نصیب میں کہاں۔ ذرا دیر کے لئے وہ گرمی محفل تو پیدا کرسکتے ہیں لیکن کمال اخلاق سے وہ عاری ہوتے ہیں۔ دنیوی اعتبار سے بھی تو کوئی اعلیٰ مستقل کمال ان میں نہیں ہوتا۔ کیا جادوگر کا یہ کام ہوتا ہے کہ ایک ظالم سرکش حکمران کو اللہ کی پرستش کی دعوت دے !

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–80

جادوگر کامیاب نہیں ہوتے : (ف 1) سحر وجادوگری کے معنی ذلیل قسم کی کرشمہ سازی اور فن نمائی کے ہیں ، جادوگر کے سامنے کوئی بلند نصب العین نہیں ہوتا ، اور نہ اس میں ایسی قوت ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے اہم امور میں کامیاب ہو سکے وہ چند لوگوں کو اپنی چالاکیوں سے حیرت میں ڈال سکتا ہے ، مگر حق وصداقت کے مقابلہ میں کسی طرح کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ، کیونکہ ادھر ایک نصب العین ہے مقدس اسوہ ہے اور ادھر صرف فریب دفن ، اس لئے قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تم جادوگر سمجھتے ہو تو واقعات کا انتظار کرو عنقریب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابیاں اور کامرانیاں تم سے خراج تحسین وصول کرلیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

78 انہوں نے جواب دیا کہ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے اور اپنے بزرگوں کو دیکھا ہے اس طریقہ سے ہم کو ہٹا دے اور تم دونوں بھائیوں کو اس ملک کی ریاست اور سرداری مل جائے اور ہم تم دونوں کو ماننے والے اور ایمان لانے والے نہیں ہیں یعنی جو ہمارے بڑے کرتے رہے ہیں اور جو ان کی دیکھا دیکھی ہم بھی کر رہے ہیں تو اس سے ہم کو برگشتہ کرنا چاہتا ہے اور اس ملک میں انقلاب پیدا کرکے چاہتا ہے کہ تم دونوں کو یہاں کی بڑائی اور سرداری مل جائے اور چونکہ تم ہمارا ملک چھیننا چاہتے ہو اس لئے ہم تم کو ماننے والے نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–81

ف 2۔ نہ وہ جس کو فرعون والے جادو کہتے ہیں۔ 3۔ یعنی ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا جو معجزہ کے ساتھ مقابلہ سے پیش آویں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون اور فرعون کی قوم کا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب 110 ؎ فرعونیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں کہا کہ ” کیا تو اس لئے آیا ہے کہ ہیں و اس طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں دونوں بھائیوں کی بڑائی ختم ہوجائے “ ۔ آپ کے معجزانہ کلام اور آپ کی بےدھڑک صاف گوئی کے باعث ان پر سکتہ کا عالم طاری ہوگیا اور جب کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو الزام تراشی پر اتر آئے کہ تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے آبائو اجداد کے عقائد سے برگشتہ ہوجائیں ۔ ہم اس کیلئے ہرگز تیار نہیں دوسرا یہ کہ تم مذہب کی آڑ لے کر سیاسی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہو تمہارے پیش نظر عقائد کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–86

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–80

76.Had the sole demand of Moses and Aaron (peace be on him) been the liberation of the Israelites, Pharaoh and his courtiers would not have suspected that the spread of these Prophets' message would transform the religion of the land and that the supremacy of Pharaoh and his courtiers would be undermined. What made them uneasy was the fact that Prophet Moses (peace be on him) was inviting the people of Egypt to the true faith and that this posed a threat to the whole polytheistic way of life which was the very cornerstone of the predominance of Pharaoh and his chiefs and clergy. (For further…

Read the full tafseer →