Explained with ayahs 75–78
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود رائی اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ ؑ نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو ؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں ؟ ان پر اس نصیحت نے بھی الٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
سورة یُوْنُس 72
اس موقع پر ان حواشی کو پیش نظر رکھا جائے جو ہم نے سورة اعراف (رکوع 13 تا 21) میں قصہ موسیٰ ؑ و فرعون پر لکھے ہیں۔ جن امور کی تشریح وہاں کی جا چکی ہے ان کا اعادہ یہاں نہ کیا جائے گا۔
سورة یُوْنُس 73
یعنی انہوں نے اپنی دولت و حکومت اور شوکت و حشمت کے نشے میں مدہوش ہو کر اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے بالاتر سمجھ لیا اور اطاعت میں سر جھکا دینے کے بجائے اکڑ دکھائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
خلاصہ تفسیر
پھر ان (مذکور) پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے معجزات (عصا اور ید بیضاء) دے کر بھیجا سو انہوں نے (دعوے کے ساتھ ہی ان کی تصدیق کرنے سے) تکبر کیا (اور طلب حق کے لئے غور بھی تو نہ کیا) اور وہ لوگ جرائم کے خوگر تھے (اس لئے اطاعت نہ کی) پھر جب (بعد دعوی کے) ان کو ہمارے پاس سے (نبوت موسویہ پر) صحیح دلیل پہنچی (مراد اس سے معجزہ ہے) تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقینا یہ صریح جادو ہے، مو سیٰ ؑ نے فرمایا کیا یہ جا دو ہے، حالانکہ جادوگر (جب کہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار معجزہ میں) کامیاب نہیں ہوا کرتے (اور میں کامیاب ہوا کہ اول دعوی کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
76۔ 77:۔ فَلَمَّا جَاۗءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْٓا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ۔ قَالَ مُوْسٰٓى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَكُمْ ۭ اَسِحْرٌ هٰذَا ۭ وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ۔ " حق " کے معنی ہیں ایک واضح، مبرہن اور مدلل حقیقت۔ یہاں اس سے مراد حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کا فرعون اور اس کے اعیان کے سامنے نہایت کھلے ہوئے معجزات کے ساتھ یہ دعوی ہے کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ اس دعوے کی تردید میں انہوں نے کہا کہ تمہارا یہ دعوی باطل ہے۔ جو نشانی تم دکھا رہے ہو یہ کوئی خدائی نشانی نہیں بلکہ یہ صریح جادو ہے اور یہ چیز تم سے کہیں زیادہ ہمارے اپنے جادوگروں کے پاس ہے۔…
Read the full tafseer →76۔ 1 جب انکار کے لئے کوئی معقول دلیل نہیں ہوتی تو اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
31: حضرت نوح ؑ کے واقعے کی مزید تفصیل اگلی سورت یعنی سورة ہود (25:11 تا 49) میں آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →فلماء جاء ھم الحق الخ : پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق پہنچ گیا تو کہنے لگے : بلاشبہ یہ (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات) کھلا ہوا جادو ہے۔ یعنی جب فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس دین حق پہنچا اور واضح ‘ ناقابل شک معجزات سے اس کی حقانیت و صداقت کو وہ سمجھ بھی گئے تب بھی ضد اور سرکشی کی وجہ سے انہوں نے نہ مانا اور موسیٰ کے پیش کردہ معجزات کو کھلاہوا جادو قرار دیا اور موسیٰ کو ماہر جادوگر کہا۔
Read the full tafseer →4 یعنی " عصا " اور " یدبیضا " وغیرہ کے معجزات دیکھ کر اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نہایت پر تاثیر باتیں سن کر کہنے لگے کہ یہ سب کھلا ہوا جادو ہے کیونکہ ان کے خیال میں تمام فوق العادت چیزوں کا آخری درجہ " جادو " ہی ہوسکتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
عام طور پر قرآن حکیم میں انباء الرسل کے ضمن میں چھ رسولوں کا تذکرہ بار بار آیا ہے ‘ لیکن یہاں اختصار کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کا صرف تین آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اس ایک آیت 74 میں باقی تمام رسولوں کا نام لیے بغیر صرف حوالہ دے دیا گیا ہے اور اس کے بعد حضرت موسیٰ کا ذکر قدرے تفصیل سے ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
89 سیدنا موسیٰ کے فرعون سے مطالبات اور اس کا جواب :۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا قصہ پہلے سورة اعراف (آیت نمبر 103 تا 171) میں پوری تفصیل سے گذر چکا ہے لہذا ان حواشی کو بھی مدنظر رکھا جائے جو پہلے پیش کیے جاچکے ہیں جب یہ دونوں پیغمبر، فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں پہنچے تو انھیں دو باتوں کی دعوت دی۔ ایک یہ کہ صرف ایک ہی سچے معبود پر ایمان لاؤ اور اسی کی عبادت کرو اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ ظاہر ہے کہ فرعون جیسے جابر اور خود خدائی کا دعویٰ کرنے والے حکمران کو یہ دعوت کسی طرح بھی راس نہ آسکتی تھی لہذا اس نے فوراً یہ…
Read the full tafseer →115۔ جاہلی قومیں فضائل اخلاقی و کمالات روحانی کی قدر تو بھلا کیا کرتیں انبیاء کے خوارق حسی جب دیکھتیں تو انہیں سحر وکہانت پر محمول کرنے لگتیں ہے فکر ہر کس بہ قدر ہمت اوست۔ (آیت) ” الحق من عندنا “۔ یعنی دین حق کی تبلیغ جس کے اندر احکام، دلائل، خوارق سب کچھ آگیا :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیت نمبر 71 تا 82
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…
Read the full tafseer →فلماء جاء ھم الحق من عند ما قالوا ان ھذا لسحر مبین پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق پہنچ گیا تو کہنے لگے : بلاشبہ یہ (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات) کھلا ہوا جادو ہے۔ یعنی جب فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس دین حق پہنچا اور واضح ‘ ناقابل شک معجزات سے اس کی حقانیت و صداقت کو وہ سمجھ بھی گئے تب بھی ضد اور سرکشی کی وجہ سے انہوں نے نہ مانا اور موسیٰ کے پیش کردہ معجزات کو کھلاہوا جادو قرار دیا اور موسیٰ کو ماہر جادوگر کہا۔
Read the full tafseer →(76) اور وہ لوگ مشرک تھے، جب ان کے پاس کتاب رسول اور معجزات آئے تو وہ لوگ کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ ؑ جس چیز کو لے کر آئے ہیں (نعوذ باللہ) وہ صریح جھوٹ جادو ہے اور اگر ساحر پڑھا جائے تو پھر مقصود یہ کہ نعوذ باللہ حضرت موسیٰ ؑ صریح جھوٹے جادوگر ہیں۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَھُمُ الْحَقُّ۔۔ : ”ہماری طرف سے حق“ اس حق کی عظمت کے بیان کے لیے ہے جو موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے۔ اس واضح حق کی تردید جب وہ کسی طرح نہ کرسکے تو اسے جادو کہہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
آیت نمبر 76 اور 77
قولہ تعالیٰ : (آیت) فلماجاء ھم الحق من عندنا اس سے مراد فرعون اور اس کی قوم ہے (یعنی جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا) (آیت) قالوا ان ھذا لسحرمبین تو انہوں نے معجزات کو سحر (جادو) پر محمول کیا۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا : (آیت) اتقولون للحق لماجاء کم اسحر ھذا۔ کہا گیا ہے کہ کلام میں حذف ہے، اس کا معنی ہے : کیا تم حق کے متعلق کہتے ہو یہ سحر ہے، پس اتقولون یہ انکار ہے اور ان کا قول ھذا لسحر (یہ جادو ہے) محذوف ہے، پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ازسرنودوسرا انکار ہوا اور فرمایا : (آیت) اسحر ھذا (کیا یہ جادو ہے) پس ان کا پہلا قول ان کے دوسرے قول پر اکتفاء کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ :
1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتلفتنا “ یعنی تاکہ تو ہم کو پھیر دے دور ہٹا دے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” لتلفتنا “ تاکہ تو ہم کو اپنے معبودوں سے روک دے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتکون لکما الکبریآء فی الارض “ یعنی عظمت ملک اور بادشاہ ہی (تمہارے لئے ہی ہوجائے ) ۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ…
Read the full tafseer →[فَلَمَّا [ پھر جب ] [ جَاۗءَھُمُ [ آچکا تھا انکے پاس ] [ الْحَقُّ [ حق ) مِّنْ (سے )] [ عِنْدِنَا (ہماری طرف ) قَالُوْٓا (سب نے کہا) اِنَّ (بیشک ) هٰذَا ] [ یہ [ لَسِحْرٌ [یقینا جادو ہے ] مُّبِيْنٌ [ (واضح)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–86
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا
ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–82
قال اللہ تعالی۔ ثم بعثنا من بعدہ رسلا۔۔۔ الی۔۔۔ علی قلوب المعتدین
(ربط): اوپر کی آیات میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اجمالاً ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا قصہ ذکر ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلا کے بعد ہود اور صالح اور ابراہیم اور لوط اور شعیب (علیہم السلام) مبعوث ہوئے پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن جن لوگوں نے انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
96: جب قوم فرعون کے پاس ہمارے پیغمبر معجزات لے کر پہنچے تو انہوں نے معجزات کو جادو قرار دیا اور ان کے من جانب اللہ ہونے سے انکار کیا۔ “ وَقَالَ مُوْسیٰ الخ ” ان کے اس قول باطل کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم اللہ کے دئیے ہوئے معجزات کو جو سراپا حق ہیں جادو کہہ رہے ہو کیا یہ معجزے جادو ہیں جو پوری تحدی اور چیلنج کے ساتھ تمہارے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں حالانکہ جادو گروں میں ایسی جرات و جسارت کہاں کہ وہ اس طرح تحدی کریں اور پھر کامیاب بھی ہوجائیں کیونکہ جادو ایک فریب ہے جو چل نہیں سکتا “ یعنی حاصل السحر تمویه و تخییل و صاحب ذلک لا یفلح ” (خازن ج 3 ص 202) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو سمجھانے کے لیے اور بعد میں آنے والے مشرکوں اور نافرمانوں کی عبرت کے لیے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال بیان فرمائی ، درمیان میں اجمالی طور پر دیگر انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ دیکھ لو ڈرائے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ ان تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی معرفت برے انجام سے ڈرایا تھا مگر وہ لوگ غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے اور انبیاء (علیہ السلام) کو برداشت نہ کیا مگر اللہ کے نبیوں نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تبلیغی مشن کو جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے منکرین کو…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْٓا اِنَّ ہٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ 76
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
1 ؎ وعظ کرنے کے لئے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ میرا رہنا۔ 12 منہ
ترکیب : اذ طرف والعامل فیہ بناء والجملۃ بدل من نباء نوح فعلی اللہ جواب۔ کان کبر فاجمعوا معطوف علیہ اتقولون اس کا مفعول سحر محذوف الکبریا اسم تکون لکما خبرہ ما جئتم بہ السحر ما استفہامیہ مبتداء وجئتم خبر والسحر بدل منہ اور ما کو خبریہ کہا جاوے تو یہ موصولہ جئتم صلہ یہ سب مبتداء السحر خبر جملہ محلا منصوب قال کا مفعول ہو کر ملائہم الضمیر عائد الی الذری ولم یونث لان الذریۃ قوم فھومذکر وقبل یرجع الی القوم ان یفتنہم بدل من فرعون تقدیرہ علی خوف من فتنۃ فرعون ان تبوآ تفسیر ہے اوحینا کی قبلۃ مفعول اجعلوا ای مصلی تصلون فیہ لتامنوا من الخوف…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَآئُ ھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْآ اِنَّ ھٰذَالَسِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ (یونس : 76)
(اور جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا تو بولے یہ یقیناً ایک کھلا کھلا جادو ہے۔ )
ہر دور کے منکرین کی طرح پیغمبر کے معجزات کو رد کرنے کا انھوں نے یہ آسان طریقہ نکالا، کہ یہ جادو کے سوا اور کچھ نہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ موسیٰ ایک ایسی دعوت لے کر آئے تھے جس کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا کیونکہ معجزات کو دیکھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قوت ہے اور اس کی تائید کے لیے پروردگار نے مزید فرمایا کہ حق ہماری طرف سے آیا۔ ظاہر ہے کہ جو چیز اللہ کی طرف سے آئے گی اس کے حق ہونے میں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
سورۃ طہٰ میں تفصیل ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر شجر مبارکہ کے پاس روشنی کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے موسیٰ میں تیرا رب ہوں اور تو مقدس وادی میں داخل ہوچکا ہے۔ اس لیے اپنے جوتے اتار دے۔ میں نے تجھے نبوت کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ لہٰذا جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے اسے توجہ کے ساتھ سن، یقین کر ! میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بس میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ بیشک قیامت آنے والی ہے جس کے برپا ہونے کو میں نے چھپا رکھا ہے۔ جب وہ برپا ہوگی تو ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلا دیا جائے گا۔ جو شخص…
Read the full tafseer →76: فَلَمَّا جَآئَ ھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِ نَا (پس جب ان کے پاس حق آچکا ہماری طرف سے) جب انہوں نے پہچان لیا کہ وہ حق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ قَالُوْا (تو انہوں نے کہا) شہوت پرستی کی وجہ سے اِنَّ ہٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ (بیشک یہ کھلا ہوا جادو ہے) حالانکہ وہ جانتے تھے کہ جادو سے سب سے زیادہ دور چیز جو ہے وہ حق ہی ہے۔
Read the full tafseer →76۔ ” فلما جاء ھم “ یعنی فرعون اور اس کی قوم کے پاس آیا ۔ ” الحق من عندنا قالوا ان ھذا السحر مبین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
76۔ 82۔ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا فرعون کے زمانہ میں جادو کا بڑا چرچہ اور زور تھا فرعون کی طرف سے بہت سے جادوگر جاگیریں پاتے تھے اور مصر کے اطراف میں اپنی جاگیرات میں رہتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اس لئے یہی جواب دیا کہ تائید آسمانی اور معجزہ نبوی کو اگر تو سمجھتا ہے تو اپنے بڑے بڑے جادوگروں کو بلا کر مجھ سے مقابلہ کرالے اور دیکھ لے کہ تائید آسمانی کے مقابلہ میں جادو کبھی سر سبز نہ ہوگا آخر فرعون نے اپنے جادوگر بلوائے اور فرعون کی سالگرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–93
آیت : ( 75-93)
(ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
132 ۔ متکبر فرعونیوں کے ضمیر سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حق ان لوگوں کے پاس پہنچ گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو یقینی طور پر ایک جادو ہے کھلم کھلا۔ تو اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ کیا تم لوگ حق کے بارے میں ایسے کہتے ہو ؟ کیا جادو ایسا ہی ہوتا ہے اے بدبختو ؟ کہ وہ حق و صدق اور توحید و دین حق کی دعوت دے ؟ اور اسی دعوت حق کی بناء پر وہ فرعون جیسے جابر و ظالم حکمران کو للکارے ؟ ایسا کوئی جادو اور اس طرح کا کوئی جادوگر کہیں تم دکھا سکتے ہو ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ صاف وصریح حق سے منہ موڑ کر ایسی بہکی بھٹکی باتیں کرتے ہو جو کہ عقل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–92
سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان
تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیات 71 تا 82
اسرار و معارف
کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ف 5 ۔ یہ قوم موسیٰ و ہارون کا دوسرا قصہ ہے جو غرق ہونے میں قوم نوح کی مثال ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے قریش آپ ﷺ کو بھی جادوگر بتلا رہے ہیں مگر ان میں سے بعض تو ان جادوگروں کی طرح ایمان لے آئیں گے اور جو فرعون کی طرح اپنے کفر پر اڑے رہے وہ تباہ و برباد ہوں گے (سید احمد حسن) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(10:75) ملاء ہ۔ مضارف مضاف الیہ اس کے سرداروں کی جماعت۔ الملا۔ اسم جمع۔ سرداروں کی اور بڑے لوگوں کو جماعت۔ ملأ سے مشتق ہے۔ ملا یملو (نصر) ملا و ملاء ۃ۔ بھرنا۔ المد۔ وہ مقدار جس سے برتن بھر جائے۔ قرآن میں ہے فلن یقبل من احدہم ملأ الارض ذھبا (3:91) سو ان میں سے کسی کا زمین بھر سونا بھی قبول نہ کیا جائیگا۔ الملأ۔ وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حس و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82
استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا)
تشریح : آیت نمبر 75 تا 82
مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آنحضرت ﷺ کی تسکین کا ذکر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا، فرعون جس ذلت اور خواری سے ہوا اس کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طہ اور سورة شعراء اور سورة قصص میں پھر آئے گا۔ اس قصہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ اگرچہ قریش معجزہ اور قرآن کو جادو اور اے نبی تم کو جادوگر بتلا رہے ہیں ۔ بالاآخر فرعون کے جادوگروں کی طرح اکثر ان میں سے قائل ہو کر اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
[29] نشانی کا لفظ دلائل اور معجزات دونوں کے لئے عام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
(ف 2) یعنی بالاخر حق کی فتح ہوئی ، حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو نجات ملی وہ کشتی میں بیٹھ کر محفوظ رہے اور کنارے جا لگے اور جو مجرم تھے جن میں رشد وہدایت کی کوئی استعداد باقی نہیں رہی تھی ، بلکہ وہ تمام نسل انسانی کیلئے گمراہی کا موجب ہو سکتے تھے ، باقی سب غرق کردیئے گئے تاکہ آیندہ نسلیں ان کے شر سے محفوظ رہ سکیں اور گمراہ نہ ہوں ۔
عذاب سے مقصد خدا کے جاہ و جلال کا اظہار نہیں ہوتا ، بلکہ انسانوں کی نافرمانیاں جب حد سے تجاوز کر جاتی ہیں ، اور ان کا وجود دوسرے انسانوں کے لئے مضر ہوجاتا ہے ، اس وقت ان کا مٹا دینا ہی دوسرے انسانوں پر بہت بڑا کرم ہے ۔
جب ہاتھ یا پاؤں بقیہ جسم کے…
Read the full tafseer →76 پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے صحیح دلیل اور سچی پہونچی تو وہ کہنے لگے یہ تو یقینا صریح اور کھلا ہوا جادو ہے یعنی عصا اور ید بیضا کا معجزہ دیکھ کر جادو بتانے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
ف 6۔ مراد اس سے معجزہ ہے۔
Read the full tafseer →لیکن ہر قوم نے جب ہماری سچائی نمودار ہوء تو اس کو جادو کہہ کر ٹھکرا دیا
108 ؎ بلا شبہ دلائل وبراہین کی روشنی نے حق کی حقانیت تو ان پر واضح کردی تھی لیکن از راہ نخوت وہ اسے قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے وہ عادی مجرم تھے اور جرم و گناہ کی محبت میں وہ مگن تھے۔ سچائی اور نیکی سے انہیں خدا واسطے کا بیر تھا۔ وہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزانہ کلام کو بھی ساحرانہ شعبدہ بازی ہی سمجھتے رہے اور اس فن میں انہیں پہلے ہی کمال تھا اس لئے وہ کسی ساحر کی غلامی پر کسی طرح رضا مند ہونے کیلئے تیار نہ ہوئے۔ ” فلما جاء ھم الحق “ میں ” الحق “ ح ق ق ہے اور عربی زبان میں ’ ’ حقق “ کا لغوی خاصہ ثبوت اور قیام ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →74. The response of the Pharaonites to the Prophet Moses (peace be on him) was exactly the same as the response of (he Makkan unbelievers to the Prophet (peace be on him). This response bar, been mentioned earlier (see verse 2 above) in these words: 'This man is indeed an evident sorcerer.'
The context makes it clear that the Prophets Moses and Aaron (peace be on them) were entrusted with the same mission which had formerly been entrusted to Prophet Noah (peace be on him), then to the Prophets who followed him and finally to the Prophet Muhammad (peace be on him) who was the last in the chain…
Read the full tafseer →