Explained with ayahs 75–78
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود رائی اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ ؑ نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو ؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں ؟ ان پر اس نصیحت نے بھی الٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
سورة یُوْنُس 72
اس موقع پر ان حواشی کو پیش نظر رکھا جائے جو ہم نے سورة اعراف (رکوع 13 تا 21) میں قصہ موسیٰ ؑ و فرعون پر لکھے ہیں۔ جن امور کی تشریح وہاں کی جا چکی ہے ان کا اعادہ یہاں نہ کیا جائے گا۔
سورة یُوْنُس 73
یعنی انہوں نے اپنی دولت و حکومت اور شوکت و حشمت کے نشے میں مدہوش ہو کر اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے بالاتر سمجھ لیا اور اطاعت میں سر جھکا دینے کے بجائے اکڑ دکھائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
خلاصہ تفسیر
پھر ان (مذکور) پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے معجزات (عصا اور ید بیضاء) دے کر بھیجا سو انہوں نے (دعوے کے ساتھ ہی ان کی تصدیق کرنے سے) تکبر کیا (اور طلب حق کے لئے غور بھی تو نہ کیا) اور وہ لوگ جرائم کے خوگر تھے (اس لئے اطاعت نہ کی) پھر جب (بعد دعوی کے) ان کو ہمارے پاس سے (نبوت موسویہ پر) صحیح دلیل پہنچی (مراد اس سے معجزہ ہے) تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقینا یہ صریح جادو ہے، مو سیٰ ؑ نے فرمایا کیا یہ جا دو ہے، حالانکہ جادوگر (جب کہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار معجزہ میں) کامیاب نہیں ہوا کرتے (اور میں کامیاب ہوا کہ اول دعوی کیا…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَى وَهَارُونَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ۔ حضرت موسیٰ کا اتمام حجت : لفظ " ملاء " پر ہم دوسرے مقام میں بحث کرچکے ہیں، آیات، سے مراد وہ آیات الٰہی بھی ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کے درباریوں کو سنائیں اور وہ نشانیاں بھی ہیں جو انہوں نے ان کو دکھائیں۔ وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ۔ سے اسی فساد قلب و عقل کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے کہ چونکہ پہلے سے یہ اپنے دل اور عقل کی آنکھیں پھوڑ چکے تھے اس وجہ سے کسی چیز سے بھی انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے…
Read the full tafseer →75۔ 1 رسولوں کے عمومی ذکر کے بعد، حضرت موسیٰ و ہارون علیہا اسلام کا ذکر کیا جا رہا ہے، درآنحالیکہ رسول کے تحت میں وہ بھی آجاتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان کا شمار جلیل القدر رسولوں میں ہوتا ہے اس لئے خصوصی طور پر ان کا الگ ذکر فرما دیا۔
75۔ 2 حضرت موسیٰ ؑ کے معجزات، بالخصوص نو آیات بینات، جن کا ذکر اللہ نے سورت نبی اسرائیل آیت 11 میں کیا ہے۔ مشہور ہیں۔
75۔ 3 لیکن چونکہ وہ بڑے بڑے جرائم اور گناہوں کے عادی تھے۔ اس لئے انہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کے ساتھ بھی استکبار کا معاملہ کیا۔ کیونکہ ایک گناہ، دوسرے گناہ کا ذریعہ بنتا اور گناہوں پر اصرار بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جرّات پیدا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
31: حضرت نوح ؑ کے واقعے کی مزید تفصیل اگلی سورت یعنی سورة ہود (25:11 تا 49) میں آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ وھٰرون الی فرعون وملاۂ بایتنا پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ (بن عمران) اور (ان کے بھائی) ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ چونکہ اگلی آیت میں قوم فرعون کی سرکشی کا بیان کیا گیا ہے ‘ اسلئے اس جگہ فرعون کے ساتھ سرداران قوم کا لفظ بھی ذکر کردیا۔
فاستکبروا وکانوا قوما مجرمین۔ پس انہوں نے اپنے کو بڑا سمجھا اور وہ تھے مجرم لوگ۔
یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی بات ماننے کو حقیر سمجھا اور مغرور ہوگئے (اسلئے اتباع نہیں کیا) اور وہ جرم کے خوگر تھے ‘ عادی تھے ‘ اسلئے انہوں نے رسالت کے پیام کو حقیر سمجھا اور تردید رسالت کی جرأت کی۔
Read the full tafseer →3 یعنی جرائم پیشہ لوگ تھے۔ نافرمانی کی خو قبول حق کی اجازت کہاں دیتی۔ تکبر مانع ہوا کہ خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر اس کے سفراء کے سامنے گردن جھکائیں۔ (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا) 27 ۔ النمل :14) یہ ہی تکبر تھا۔ جس نے فرعون سے یہ الفاظ کہلوائے۔ ( اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَّلَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِـنِيْنَ ) 26 ۔ الشعراء :18)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
عام طور پر قرآن حکیم میں انباء الرسل کے ضمن میں چھ رسولوں کا تذکرہ بار بار آیا ہے ‘ لیکن یہاں اختصار کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کا صرف تین آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اس ایک آیت 74 میں باقی تمام رسولوں کا نام لیے بغیر صرف حوالہ دے دیا گیا ہے اور اس کے بعد حضرت موسیٰ کا ذکر قدرے تفصیل سے ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
89 سیدنا موسیٰ کے فرعون سے مطالبات اور اس کا جواب :۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا قصہ پہلے سورة اعراف (آیت نمبر 103 تا 171) میں پوری تفصیل سے گذر چکا ہے لہذا ان حواشی کو بھی مدنظر رکھا جائے جو پہلے پیش کیے جاچکے ہیں جب یہ دونوں پیغمبر، فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں پہنچے تو انھیں دو باتوں کی دعوت دی۔ ایک یہ کہ صرف ایک ہی سچے معبود پر ایمان لاؤ اور اسی کی عبادت کرو اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ ظاہر ہے کہ فرعون جیسے جابر اور خود خدائی کا دعویٰ کرنے والے حکمران کو یہ دعوت کسی طرح بھی راس نہ آسکتی تھی لہذا اس نے فوراً یہ…
Read the full tafseer →114۔ یعنی شرک و مخلوق پرستی اور حق دشمنی ونفس پرستی میں مبتلا۔ (آیت) ” بایتنا “۔ ” نشانیوں کا لفظ دلائل ومعجزات دونوں کے لئے عام ہے۔ (آیت) ” الی فرعون وملاۂ “۔ بائبل میں اس کی تصریح کہیں پر نہیں کہ ان دونوں پیغمبران برحق نے اپنے پیام توحید کی تبلیغ میں مصریوں کو بھی مخاطب کیا تھا حالانکہ یہ کیونکر ممکن تھا کہ جو اللہ کی توحید کا منادی ہو وہ اصلاح عقائد کی کوشش سب سے پہلے ہی مرتبہ پر نہ کرے۔ اور کفر، شرک اور ضلالتوں کو اسی حال پر چھوڑے رکھے۔ یہیں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کا جو حصہ نسبۃ محفوظ ہے اس میں بھی کیسے کیسے تغیرات وتصرفات ہوچکے ہیں۔ اور قرآن کس طرح ضروری ضروری موقعوں پر اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیت نمبر 71 تا 82
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…
Read the full tafseer →ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ وھٰرون الی فرعون وملاۂ بایتنا پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ (بن عمران) اور (ان کے بھائی) ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ چونکہ اگلی آیت میں قوم فرعون کی سرکشی کا بیان کیا گیا ہے ‘ اسلئے اس جگہ فرعون کے ساتھ سرداران قوم کا لفظ بھی ذکر کردیا۔
فاستکبروا وکانوا قوما مجرمین۔ پس انہوں نے اپنے کو بڑا سمجھا اور وہ تھے مجرم لوگ۔
یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی بات ماننے کو حقیر سمجھا اور مغرور ہوگئے (اسلئے اتباع نہیں کیا) اور وہ جرم کے خوگر تھے ‘ عادی تھے ‘ اسلئے انہوں نے رسالت کے پیام کو حقیر سمجھا اور تردید رسالت کی جرأت کی۔
Read the full tafseer →(75) پھر ہم نے ان رسولوں کے بعد حضرت موسیٰ ؑ و حضرت ہارون ؑ کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی کتاب یا یہ کہ اپنے نو معجزات ید عصا، طوفان، جراد، قمل، ضفادع، دم، سنین، نقص من الثمرات یا یہ کہ مالوں کو برباد کرنے کی دعا کا حق دے کر بھیجا، سو انھوں نے کتاب خداوندی رسول اور معجزات پر ایمان لانے سے انکار کیا۔
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَھٰرُوْنَ۔۔ : یہ دوسرا قصہ موسیٰ و ہارون ؑ کی قوم کا ہے جو غرق ہونے میں نوح ؑ کی قوم کی مثال ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ قریش آپ کو جادوگر کہہ رہے ہیں (یہ کوئی نئی بات نہیں، جو شخص یا قوم بھی دلیل سے لاجواب ہوجائے وہ اسے جادو کہہ کر جان چھڑاتے ہیں) مگر ان میں سے بعض تو ان جادوگروں کی طرح ایمان لے آئیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہے وہ فرعون اور اس کی قوم کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ ”آیَاتٌ“ سے مراد وہ نو (9) معجزے ہیں جو سورة بنی اسرائیل (101) میں ذکر ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 75
قولہ تعالیٰ : (آیت) ثم بعثنا من بعدھم پھر ہم نے ان رسولوں اور امتوں کے بعد بھیجا۔ (آیت) موسیٰ وھرون الی فرعون وملاءہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کے اشراف کی طرف۔ (آیت) بایتنایہاں مراد آیات تسع (نومعجزات) ہیں، ان کا ذکر پہلے گزرچکا ہے۔ (آیت) فاستکبرواتو انہوں نے حق (قبول کرنے سے) غرور وتکبر کیا۔ (آیت) وکانوا قومامجرمین اور وہ مشرک لوگ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ :
1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتلفتنا “ یعنی تاکہ تو ہم کو پھیر دے دور ہٹا دے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” لتلفتنا “ تاکہ تو ہم کو اپنے معبودوں سے روک دے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتکون لکما الکبریآء فی الارض “ یعنی عظمت ملک اور بادشاہ ہی (تمہارے لئے ہی ہوجائے ) ۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ…
Read the full tafseer →ثُمَّ [ پھر ] بَعَثْنَا [ ہم نے بھیجا ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ [ ان کے بعد ] مُّوْسٰى [ موسیٰ کو ] وَھٰرُوْنَ [اور ہارون کو ] اِلٰى فِرْعَوْنَ [ فرعون کی طرف ] وَمَلَا۟ىِٕهٖ [اور اس کے سرداروں (کی طرف ) ] بِاٰيٰتِنَا [ اپنی نشانیوں کے ساتھ ] فَاسْتَكْبَرُوْا [ تو وہ بڑے بننے لگے ] وَكَانُوْا [ اور وہ تھے ] قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ [ یقینا کھلا جادو ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–86
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا
ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–82
قال اللہ تعالی۔ ثم بعثنا من بعدہ رسلا۔۔۔ الی۔۔۔ علی قلوب المعتدین
(ربط): اوپر کی آیات میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اجمالاً ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا قصہ ذکر ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلا کے بعد ہود اور صالح اور ابراہیم اور لوط اور شعیب (علیہم السلام) مبعوث ہوئے پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن جن لوگوں نے انبیاء…
Read the full tafseer →95: یہ تخویف دنیوی کا دوسرا تفصیلی نمونہ ہے، حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس آیت بینات اور دلائل و معجزات دے کر بھیجا گیا مگر فرعون اور اس کی قوم جو حکومت و دولت کے نشہ میں بد مست تھے پیغام حق اور دعوت توحید کو ٹھکرا دیا اور اللہ کے پیغمبر کے ساتھ مجادلہ و مکابرہ پر اتر آئے آخر جب اللہ نے ان کے مطالبہ کے مطابق ان پر اپنی حجت قائم کردی تو بھی وہ ایمان نہ لائے اور تکذیب و انکار پر مصر رہے جس کا انجام انہوں نے اپنی عبرتناک تباہی کی صورت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو سمجھانے کے لیے اور بعد میں آنے والے مشرکوں اور نافرمانوں کی عبرت کے لیے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال بیان فرمائی ، درمیان میں اجمالی طور پر دیگر انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ دیکھ لو ڈرائے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ ان تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی معرفت برے انجام سے ڈرایا تھا مگر وہ لوگ غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے اور انبیاء (علیہ السلام) کو برداشت نہ کیا مگر اللہ کے نبیوں نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تبلیغی مشن کو جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے منکرین کو…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِہِمْ مُّوْسٰى وَھٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕہٖ بِاٰيٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 75
موسی
مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته .
هرن
هَارُونُ اسم أعجميّ ، ولم يرد في شيء من کلام العرب .
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة .
فرعون
یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
1 ؎ وعظ کرنے کے لئے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ میرا رہنا۔ 12 منہ
ترکیب : اذ طرف والعامل فیہ بناء والجملۃ بدل من نباء نوح فعلی اللہ جواب۔ کان کبر فاجمعوا معطوف علیہ اتقولون اس کا مفعول سحر محذوف الکبریا اسم تکون لکما خبرہ ما جئتم بہ السحر ما استفہامیہ مبتداء وجئتم خبر والسحر بدل منہ اور ما کو خبریہ کہا جاوے تو یہ موصولہ جئتم صلہ یہ سب مبتداء السحر خبر جملہ محلا منصوب قال کا مفعول ہو کر ملائہم الضمیر عائد الی الذری ولم یونث لان الذریۃ قوم فھومذکر وقبل یرجع الی القوم ان یفتنہم بدل من فرعون تقدیرہ علی خوف من فتنۃ فرعون ان تبوآ تفسیر ہے اوحینا کی قبلۃ مفعول اجعلوا ای مصلی تصلون فیہ لتامنوا من الخوف…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ م بَعْدِھِمْ مُّوْسٰی وَھٰرُوْنَ اِلٰی فِرْعُوْنَ وَمَلَاْ ئِہٖ بِاٰ ٰیتِنَا فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ۔ (یونس : 75)
(پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انھوں نے گھمنڈ کیا اور وہ تھے ہی مجرم لوگ۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات سے استشہاد
پیشِ نظر آیت کریمہ میں انبیاء اور رسل کی طویل تاریخ سے حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کی دعوت کی تائید و وضاحت اور آپ ﷺ کی تسلی اور اطمینان کے لیے سب سے زیادہ حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عظیم المرتبت اور اولوالعزم انبیاء کی ایک جماعت کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا آغاز ہوتا ہے۔
ارشاد ہوا کہ ہم نے بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بعد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بڑے بڑے معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا مگر انہوں نے ان کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا یہ لوگ بڑے مجرم اور سرکش تھے۔ قرآن مجید میں جابجا حضرت موسیٰ اور فرعون کی کشمکش کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اے اہل حجاز ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جیسا فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی ہم…
Read the full tafseer →واقعہ موسیٰ ( علیہ السلام) و فرعون :
75: ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْم بَعْدِ ھِمْ (پھر ہم نے ان کے بعد بھیجا) ان رسولوں کے بعد مُّوْسٰی وَ ہٰرُوْنَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلا ئِہٖ بِاٰیٰتِنَا (موسیٰ و ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی آیات دیکر) آیات سے وہ نو آیات مراد ہیں۔ فَاسْتَکْبَرُوْا (پس انہوں نے تکبر کیا) ان آیات کو تسلیم کرنے سے اور سب سے بڑا تکبر یہ ہے کہ بندے اپنے رب کے قاصد کو ماننے میں سستی کریں جبکہ رسالت کو واضح بھی کردیا گیا اور اس کو قبول کرنے سے بڑائی اختیار کریں۔ وَکَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ (اور وہ مجرم لوگ تھے) بڑے جرائم پیشہ کفار تھے اسی لئے انہوں نے اس کو قبول کرنے…
Read the full tafseer →75۔ ” ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ و ہارون الی فرعون وملائہ “ یعنی اس کی قوم کے معززین کی طرف ” بآیاتنا فاستکبروا وکانوا قوما ً مجرمین “۔
Read the full tafseer →75۔ پھر ان رسولوں کے پیچھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) تک آئے تھے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنا کر بھیجا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بہت سی جگہ قرآن پاک میں ذکر کیا گیا ہے یہ بڑا عجیب قصہ ہے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی گود میں پرورش کیا اور جب جوان ہوگئے تو ایک فرعونی شخص کا خون ان کے ہاتھ سے ہوجانے سے وہ وہاں سے باہر نکلے پھر خدا نے ان سے باتیں کیں اور رسول بناکر فرعون اور اس کے گروہ کی طرف بھیجا اور اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سوائے ہارون (علیہ السلام) کے جن کو خدا نے موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–93
آیت : ( 75-93)
(ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →130 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی بعثت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھیجا فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ یہاں پر بعثت پیغمبر کے سلسلہ میں فرعون اور اس کے سرداروں کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنی قوم قبط کے بڑے اور ان کے اشراف اور کرتا دھرتا تھے اور انہی کے نقش قدم پر وہ لوگ چلتے تھے۔ ان کی اصلاح ان کے سب پیروکاروں کی اصلاح تھی۔ اور ان کی خرابی ان سب کی خرابی۔ اس لئے ذکر میں ان کی تخصیص فرمائی گئی ہے۔ ورنہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کی بعثت و تشریف آوری تو اس پوری قوم کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–92
سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان
تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیات 71 تا 82
اسرار و معارف
کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ف 5 ۔ یہ قوم موسیٰ و ہارون کا دوسرا قصہ ہے جو غرق ہونے میں قوم نوح کی مثال ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے قریش آپ ﷺ کو بھی جادوگر بتلا رہے ہیں مگر ان میں سے بعض تو ان جادوگروں کی طرح ایمان لے آئیں گے اور جو فرعون کی طرح اپنے کفر پر اڑے رہے وہ تباہ و برباد ہوں گے (سید احمد حسن) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(10:75) ملاء ہ۔ مضارف مضاف الیہ اس کے سرداروں کی جماعت۔ الملا۔ اسم جمع۔ سرداروں کی اور بڑے لوگوں کو جماعت۔ ملأ سے مشتق ہے۔ ملا یملو (نصر) ملا و ملاء ۃ۔ بھرنا۔ المد۔ وہ مقدار جس سے برتن بھر جائے۔ قرآن میں ہے فلن یقبل من احدہم ملأ الارض ذھبا (3:91) سو ان میں سے کسی کا زمین بھر سونا بھی قبول نہ کیا جائیگا۔ الملأ۔ وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حس و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82
استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا)
تشریح : آیت نمبر 75 تا 82
مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…
Read the full tafseer →پھر ان رسولوں کے پیچھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) تک آئے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنا کر بھیجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس اگرچہ نو معجزے ایسے تھے جن سے صاف ظاہر ہوتا تھ کہ بغیر مدد خدا کے ایسی نشانی کوئی لا نہیں سکتا، مگر فرعون اور اس کے ہمراہیوں نے نہیں چھوڑی۔ یہ قصہ سورة طٰہ (پارہ 16) اور سورة قصص (20) میں تفصیل سے آوے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
[29] نشانی کا لفظ دلائل اور معجزات دونوں کے لئے عام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
(ف 2) یعنی بالاخر حق کی فتح ہوئی ، حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو نجات ملی وہ کشتی میں بیٹھ کر محفوظ رہے اور کنارے جا لگے اور جو مجرم تھے جن میں رشد وہدایت کی کوئی استعداد باقی نہیں رہی تھی ، بلکہ وہ تمام نسل انسانی کیلئے گمراہی کا موجب ہو سکتے تھے ، باقی سب غرق کردیئے گئے تاکہ آیندہ نسلیں ان کے شر سے محفوظ رہ سکیں اور گمراہ نہ ہوں ۔
عذاب سے مقصد خدا کے جاہ و جلال کا اظہار نہیں ہوتا ، بلکہ انسانوں کی نافرمانیاں جب حد سے تجاوز کر جاتی ہیں ، اور ان کا وجود دوسرے انسانوں کے لئے مضر ہوجاتا ہے ، اس وقت ان کا مٹا دینا ہی دوسرے انسانوں پر بہت بڑا کرم ہے ۔
جب ہاتھ یا پاؤں بقیہ جسم کے…
Read the full tafseer →75 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو اپنے معجزات اور دلائل دیکر فرعون اور اس کے روساء کی طرف بھیجا پس فرعون اور اس کے روساء نے تصدیق کرنے سے تکبر کیا اور وہ لوگ ارتکاب جرائم کے خوگر ہوچکے تھے اور عادی بن گئے تھے یعنی نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سے پیغمبرآتے رہے اور ان پیغمبروں کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھیجا گیا لیکن فرعونیوں نے بجائے قبول کرنے کے تکبر کا اظہار کیا اور دونوں بھائیوں کو اپنی رعایا سمجھ کر ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور ان کے معجزات کو جادو بتایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
ف 6۔ مراد اس سے معجزہ ہے۔
Read the full tafseer →کتنے ہی رسولوں کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھیجا
107 ؎ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق قوم بنی اسرائیل سے تھا اور آپ (علیہ السلام) کی پرورش معجزانہ طور پر اللہ رب العزت ولا اکرام نے فرعون وقت کے گھر رکھ کر کرائی اور بعض حالات کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر چھوڑنا پڑا اور ابھی اس وقت نبوت کا اعلان آپ (علیہ السلام) سے نہیں کروایا گیا تھا۔ مصر سے نکل کر آپ (علیہ السلام) مدین پہنچے اور وہاں آٹھ دس سال رہنے کے بعد واپس مصر کی طرف آرہے تھے کہ راستہ میں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →72. For a full appreciation of the story of Moses and Pharaoh, see the explanatory notes in Towards Understanding the Qur'an, vol. III, al-A'raf7, n. 83 ff. The points elucidated in these notes will not be repeated here.
73. Intoxicated by their riches, political power and glory they considered themselves to be well above the level of ordinary human beings. Thus, instead of humbly submitting themselves to God, they waxed proud.
Read the full tafseer →