سلسلہ رسالت کا تذکرہ
حضرت نوح ؑ کے بعد بھی رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہر رسول اپنی قوم کی طرف اللہ کا پیغام اور اپنی سچائی کی دلیلیں لے کر آتا رہا۔ لیکن عموما ان سب کے ساتھ بھی لوگوں کی وہی پرانی روش رہی۔ یعنی ان کی سچائی تسلیم کو نہ کیا جیسے (وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ01100) 6۔ الانعام :110) میں ہے۔ پس ان کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے جس طرح ان کے دلوں پر مہر لگ گئی۔ اسی طرح ان جیسے تمام لوگوں کے دل مہر زدہ ہوجاتے ہیں اور عذاب دیکھ لینے سے پہلے انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا یعی نبیوں اور…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 71
حد سے گزر جانے والے لوگ وہ ہیں جو ایک مرتب غلطی کر جانے کے بعد پھر اپنی بات کی پچ اور ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنی اسی غلطی پر اڑے رہتے ہیں۔ اور جس بات کو ماننے سے ایک دفعہ انکار کرچکے ہیں اسے پھر کسی فہمائش، کسی تلقین اور کسی معقول سے معقول دلیل سے بھی مان کر نہیں دیتے۔ ایسے لوگوں پر آخرکار ایسی پھٹکار پڑتی ہے کہ انہیں پھر کبھی راہ راست پر آنے کی توفیق نہیں ملتی۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
پھر نوح ؑ کے بعد ہم نے اور رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا، سو وہ ان کے پاس معجزات لے کر آئے (مگر) پھر (بھی ان کی ضد اور ہٹ کی یہ کیفیت تھی کہ) جس چیز کو انہوں نے اول (وہلہ) میں (ایک بار) جھوٹا کہہ دیا یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیتے (اور جیسے یہ لوگ دل کے سخت تھے) اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ۔
بعد کے رسولوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ : یہ ان رسولوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے جو حضرت نوح کے بعد آئے۔ یہاں ان کی تفصیل نہیں کی ہے بلکہ سرسری اشارہ کرکے بعد والی آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت لے لی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل بعد والی سورة۔ سورة ہود۔ میں آئی ہے جو اس سورة کے مثنی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ہود، صالح، لوط اور شعیب (علیہم السلام) کا ذکر بھی مفصل ہوا ہے اور قوم نوح اور قوم موسیٰ کے حالات کے بھی…
Read the full tafseer →74۔ 1 یعنی ایسے دلائل و معجزات لے کر آئے جو اس بات پر دلالت کرتے تھے کہ واقعی یہ اللہ کے سچے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت و رہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔
74۔ 2 لیکن یہ امتیں رسولوں کی دعوت پر ایمان نہیں لائے، محض اس لئے کہ جب اول اول یہ رسول ان کے پاس آئے تو فوراً بغیر غور و فکر کئے، ان کا انکار کردیا۔ اور یہ پہلی مرتبہ کا انکار ان کے لئے مستقل حجاب بن گیا۔ اور وہ یہی سوچتے رہے کہ ہم تو پہلے انکار کرچکے ہیں، اب اس کو کیا ماننا، لہذا ایمان سے محروم۔
74۔ 3 یعنی جس طرح ان گذشتہ قوموں پر انکے کفر و تکذیب کی وجہ سے مہریں لگتی رہیں ہیں اسی طرح آئندہ بھی جو قوم رسولوں کو جھٹلائے گی اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
31: حضرت نوح ؑ کے واقعے کی مزید تفصیل اگلی سورت یعنی سورة ہود (25:11 تا 49) میں آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →ثم بعثنا من بعدہ رسلا الی قومھم پھر نوح کے بعد ہم نے (مختلف بکثرت) پیغمبروں کو ان کی قوم کے پاس (ہدایت کیلئے ) بھیجا۔ یعنی ہر رسول کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔
فجاء وھم بالبینت پس پیغمبر قوم والوں کے پاس کھلے ہوئے واضح دلائل (صداقت) لے کر پہنچے۔
فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا بہ من قبل اور بسبب اس کے جس چیز کی تکذیب انہوں نے پہلی بار کی تھی (اس پر اڑے رہے ‘ بعد کو بھی) ایمان نہیں لائے۔
کذلک نطبع علی قلوب المعتدین۔ اسی طرح ہم کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتے ہیں۔
یعنی جس طرح ہم نے قوم نوح اور نوح کے بعد آنے والے پیغمبروں کی امتوں کے دلوں پر مہر لگا دی تھی (بےمدد چھوڑ دیا تھا) اسی طرح آپ کی امت میں سے…
Read the full tafseer →1 یعنی نوح کے بعد ہود صالح لوط ابراہیم شعیب وغیرہ انبیاء کو اپنی اپنی قوم کی طرف کھلے ہوئے نشانات دے کر بھیجا، لیکن جس جہالت اور کفر کی حالت میں وہ لوگ اپنے اپنے پیغمبر کی بعثت سے پہلے تھے اور جن چیزوں کو پیشتر سے جھٹلاتے چلے آرہے تھے، یہ توفیق نہ ہوئی کہ انبیاء کے تشریف لانے اور سمجھانے کے بعد ان کو مان لیتے۔ بلکہ جن اصول صحیحہ کی تکذیب پہلے قوم نوح کرچکی تھی، ان سبھوں نے بھی ان کے ماننے سے انکار کردیا۔ اور جب پہلی مرتبہ منہ سے " نہ " نکل گئی، ممکن نہ تھا کہ پھر کبھی " ہاں " نکل سکے، اسی بےایمانی اور تکذیب حق پر آخر تک اڑے رہے۔
2 جو لوگ تکذیب و عداوت حق میں حد سے نکل جاتے ہیں ان کے دلوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 73 فَکَذَّبُوْہُ فَنَجَّیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ وَجَعَلْنٰہُمْ خَلٰٓءِفَ
انہی لوگوں کو ہم نے زمین میں خلافت عطا کی۔
Read the full tafseer →88 مہر لگانے کا مفہوم :۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود، صالح، ابراہیم، لوط اور شعیب کو ہم نے ان کی قوموں کی طرف واضح نشانات دے کر بھیجا تھا۔ ان سب رسولوں سے وہی معاملہ پیش آیا جو سیدنا نوح (علیہ السلام) کو پیش آیا۔ یعنی جب ان لوگوں نے پہلی بار انکار کردیا تو بس پھر اسی پر ڈٹ گئے اور رسولوں کے ہزار بارسمجھانے کے باوجود بھی ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیں جب لوگ اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل اس قابل ہی نہیں رہے کہ وہ آئندہ ہدایت قبول کرسکیں اور مہر لگنے کی نسبت اللہ کی طرف محض اس حیثیت سے ہوتی ہے کہ اسباب…
Read the full tafseer →112۔ اہل ضلال کی یہ ذہنیت آج تک چلی آرہی ہے۔ جہاں ایک بار بھی شروع میں بےسوچے سمجھے زبان سے ” نہیں “ نکل گئی۔ بس آخر تک وہی قائم رہے گی، چاہے ہزار شواہد و دلائل نظر سے گزر جائیں۔ (آیت) ” رسلا الی قومھم “۔ یہ سب قومی انبیاء تھے یعنی ان کے مخاطب انہی کے وطن یا قوم کے لوگ تھے۔ انسانیت اس وقت تک یوں ہی مستقل قوموں میں بٹی ہوئی تھی۔ اور رسائل ومواصلات کے موجودہ ذرائع اس وقت یکسرنا پید تھے۔ ایک عالمگیر پیام، ساری نوع انسانی کے نام کا وقت ابھی فطرت کی جنتری میں آیا نہ تھا۔ فیہ اشارۃ الی ان عموم الرسالۃ الی البشرلم یثبت لاحد من اولئک الرسل علیھم الصلوۃ والسلام ظاھر کلامھم الاجماع علی ان ذلک مخصوص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیت نمبر 71 تا 82
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…
Read the full tafseer →ثم بعثنا من بعدہ رسلا الی قومھم پھر نوح کے بعد ہم نے (مختلف بکثرت) پیغمبروں کو ان کی قوم کے پاس (ہدایت کیلئے) بھیجا۔ یعنی ہر رسول کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔
فجاء وھم بالبینت پس پیغمبر قوم والوں کے پاس کھلے ہوئے واضح دلائل (صداقت) لے کر پہنچے۔
فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا بہ من قبل اور بسبب اس کے جس چیز کی تکذیب انہوں نے پہلی بار کی تھی (اس پر اڑے رہے ‘ بعد کو بھی) ایمان نہیں لائے۔
کذلک نطبع علی قلوب المعتدین۔ اسی طرح ہم کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتے ہیں۔
یعنی جس طرح ہم نے قوم نوح اور نوح کے بعد آنے والے پیغمبروں کی امتوں کے دلوں پر مہر لگا دی تھی (بےمدد چھوڑ دیا تھا) اسی طرح آپ کی امت میں سے…
Read the full tafseer →(74) پھر حضرت نوح ؑ کی قوم کی ہلاکت کے بعد اور رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا، سو وہ ان کے پاس اوامر ونواہی اور معجزات لے کر آئے، پھر بھی جس چیز کے عہد ومیثاق سے پہلے انہوں نے تکذیب کردی تھی یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیں اسی طرح ہم ایسے لوگوں کے دلوں پر جو کہ حلال و حرام سے تجاوز کرتے ہیں مہریں لگادیتے ہیں۔
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ : یہاں نوح ؑ کے بعد جن پیغمبروں کے مبعوث ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے ان میں ہود، صالح، ابراہیم، لوط اور شعیب ؑ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جن کا تذکرہ اگلی سورت ہود میں آ رہا ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی مرقوم ہے اور ”الی قومھم“ کے الفاظ سے اشارہ فرما دیا ہے کہ نوح ؑ اور ان کے بعد جتنے پیغمبر ہوئے ہیں ان میں سے کسی کی رسالت بنی نوع انسان کے لیے عام نہیں تھی بلکہ خاص خاص اقوام کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ البتہ نوح ؑ کی بعثت میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ بھی خاص طور پر اپنی قوم ہی کی طرف مبعوث تھے۔ (ہمارے استاذ مولانا محمد عبدہ ؓ کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 74
قولہ تعالیٰ : (آیت) ثم بعثنا من بعدہ یعنی پھر ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد بھیجے۔ (آیت) رسلا الی قومہ رسول جیسے حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہ السلام) وغیرہ۔ (آیت) فجائوھم بالبینت پس وہ ان کے پاس معجزات لے کر آئے۔ (آیت) فماکانوالیؤمنوابماکذبو ابہ من قبل تقدیر کلام یہ ہے : تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اس سے پہلے جھٹلاچ کی تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) بماکذبو بہ من قبل یعنی جسے وہ پہلے یوم الذر (یوم میثاق) کو جھٹلاچکے تھے، کیونکہ ان میں وہ تھے جنہوں نے اپنے دل سے جھٹلایا تھا اگرچہ تمام نے بلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ارج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ سے مراد ہے کہ تم اپنے معاملہ کا فیصلہ کرو اور اپنے شریکوں کو بھی بلاؤ۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ یعنی چاہئے کہ تم اپنے کام کو اپنے ساتھ جمع کرلو۔
3:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ “ یعنی تم پر تمہارا فیصلہ بھاری نہ ہوجائے۔ پھر تم فیصلہ کرنے والے ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم اقضوا الی “ یعنی پھر تم جلدی سے حملہ آور…
Read the full tafseer →ثُمَّ [ پھر ] بَعَثْنَا [ ہم نے بھیجے ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [ ان کے بعد ] رُسُلًا [ کچھ رسول ] اِلٰى قَوْمِهِمْ [ ان لوگوں کی قوم کی طرف ] فَجَاۗءُوْھُمْ [ تو وہ آئے ان کے پاس ] بِالْبَيِّنٰتِ [ واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ] فَمَا كَانُوْا [ تو نہیں تھے وہ لوگ ] لِيُؤْمِنُوْا [ کہ ایمان لاتے ] بِمَا [ بسبب اس کے ] كَذَّبُوْا [ انھوں نے جھٹلایا ] بِهٖ [ جس کو ] مِنْ قَبْلُ ۭ [ پہلے سے ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] نَطْبَعُ [ ہم چھاپ لگاتے ہیں ] عَلٰي قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ [ حد سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
حضرت نوح (علیہ السلام) کا جرأت کے ساتھ اپنی قوم سے خطاب فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق ہوجانا
ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے تفصیل کے ساتھ آئندہ سورة ھود اور سورة نوح میں مذکور ہے۔ نیز سورة اعراف (رکوع 8) میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کو دوبارہ دیکھ لیں اور سورة ہود (رکوع 3) اور (رکوع 4) کی تفسیر کا مطالعہ کرلیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال قیام فرمایا ان کو طرح طرح سے سمجھایا توحید کی دعوت دی شرک کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی لیکن وہ لوگ برابر مخالفت کرتے رہے اور دشمنی پر اتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–82
قال اللہ تعالی۔ ثم بعثنا من بعدہ رسلا۔۔۔ الی۔۔۔ علی قلوب المعتدین
(ربط): اوپر کی آیات میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اجمالاً ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا قصہ ذکر ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلا کے بعد ہود اور صالح اور ابراہیم اور لوط اور شعیب (علیہم السلام) مبعوث ہوئے پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن جن لوگوں نے انبیاء…
Read the full tafseer →94: یہ تخویف دنیوی کا اجمالی نمونہ ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور بہت سے رسول بھیجے جو توحید کے واضح دلائل لے کر اپنی قوموں کے پاس آئے مگر انہوں نے ضد وعناد سے کام لیا اور انکار و جحود پر اڑ گئے۔ “ کَذَّبُوْا بِهٖ ” میں ضمیر مجرور کا مرجع “ مَا ” ہے اور “ مَا ” سے شریعت کے وہ تمام عقائد و اعمال اور اصول و فروع مراد ہیں جو ہر پیغمبر لے کر اپنی امت کے پاس آیا “ و ما موصولة والمراد بھا جمیع الشرائع التی جاء بھا کل رسول اصولھا و فروعھا ” (روح ج 11 ص 162) ۔ یعنی ان کے پاس اللہ کے پیغمبر آئے اور انہوں نے پہلی بار پیغام توحید اور دیگر شرائع کا انکار کردیا تو پھر انکار پر ہی ڈٹے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ربط آیات
گذشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت اور دعوت الی القرآن کا کافی تذکرہ ہوچکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل اور شرک کا رد فرمایا ہے۔ رسالت کے منکرین کی بھی تردید ہوچکی ہے۔ اب یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کا تھوڑا سا واقہ تمثیل کے طور پر بیان کیا ہے ، اس کے بعد نام لیے بغیر دوسرے رسولوں کا ذکر بھی کیا ہے اور آگے چل کر حضرت موسیٰ اور ہارون علیما السلام کا تفصیل کے ساتھ بیان آئیگا۔ ان دو انبیاء کے واقعات بیان کر کے مشرکین مکہ کو تنبیہ کی گئی ہے۔ حضرت نوح اور موسیٰ علیما السلام کی اقوام کے لوگ بھی غرور وتکبر میں مبتلا تھے اور اسی طرح حضور ﷺ کے مخاطبین مشرکین بھی بڑی اکڑ…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِہٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِہِمْ فَجَاۗءُوْھُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ 0 ۭ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ 74
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة،
فالبعث ضربان :
- بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة .
- وإلهي، وذلک ضربان :
- أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس وذلک يختص به…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
1 ؎ وعظ کرنے کے لئے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ میرا رہنا۔ 12 منہ
ترکیب : اذ طرف والعامل فیہ بناء والجملۃ بدل من نباء نوح فعلی اللہ جواب۔ کان کبر فاجمعوا معطوف علیہ اتقولون اس کا مفعول سحر محذوف الکبریا اسم تکون لکما خبرہ ما جئتم بہ السحر ما استفہامیہ مبتداء وجئتم خبر والسحر بدل منہ اور ما کو خبریہ کہا جاوے تو یہ موصولہ جئتم صلہ یہ سب مبتداء السحر خبر جملہ محلا منصوب قال کا مفعول ہو کر ملائہم الضمیر عائد الی الذری ولم یونث لان الذریۃ قوم فھومذکر وقبل یرجع الی القوم ان یفتنہم بدل من فرعون تقدیرہ علی خوف من فتنۃ فرعون ان تبوآ تفسیر ہے اوحینا کی قبلۃ مفعول اجعلوا ای مصلی تصلون فیہ لتامنوا من الخوف…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ م بَعْدِہٖ رُسُلاً اِلٰی قَوْمِھِمْ فَجَآئُ وْھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ ط کَذٰلِکَ نَطْبَعُ عَلٰی قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ ۔ (یونس : 74)
(پھر بھیجے ہم نے اس کے بعد کئی رسول، ان کی اپنی قوموں کی طرف، تو وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ لیکن وہ اس چیز پر ایمان لانے والے نہ بنے، جس کو پہلے جھٹلاچکے تھے۔ اسی طرح ہم مہر کردیتے ہیں حق سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر۔ )
بعد کے رسولوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ
طوفانِ نوح کے بعد جب حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کی اولاد کو ازسرنو زمین پر بسایا گیا۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر، ان کی عدیم المثال اور پر خلوص جدوجہد کا خاکہ پیش فرما کر ان کی قوم کا انجام بیان کرنے کے بعد سلسلہ نبوت کے تسلسل کا اشارہ فرمایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جن انبیاء کا ذکر کیا ہے وہ نہ صرف اپنی اپنی قوم کے رہبر و رہنما تھے بلکہ یہ عالی مرتبت شخصیات اپنے سے پہلے انبیاء کی اقوام کے بھی رہنما تھے۔ اس لیے قرآن مجید میں رسول محترم کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اے رسول ! ہم آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات تو بیان کردیئے گئے ہیں اور کچھ کے نہیں کیے کسی رسول کے پاس یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے…
Read the full tafseer →74: ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْم بَعْدِہٖ (پھر ہم نے ان کے بعد بھیجا) یعنی نوح (علیہ السلام) کے بعد رُسُلًا اِلٰی قَوْمِھِمْ (انبیاء (علیہم السلام) کو ان کی قوموں کی طرف) یعنی ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب علیہم الصّلوٰت والسلامفَجَآ ئُ وْھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (وہ ان کے پاس دلائل لائے) ایسی واضح دلیلیں جو ان کے دعوی کو ثابت کر رہی تھیں۔ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا (مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے اس پر) پس انہوں نے کفر پر اصرار کیا ان انبیاء (علیہم السلام) کی تشریف آوری کے باوجود بِمَا کَذَّبُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ (جس کو انہوں نے پہلے جھٹلایا) ان کی آمد سے قبل مقصد یہ ہے کہ رسول کی آمد سے قبل اہل…
Read the full tafseer →تفسیر : 74” ثم بعثنا من بعدہ رسلا “ یعنی نوح (علیہ السلام) کے بعد رسولوں کو ” الی قومھم فجائو ھم بالبینات “ واضح دلائل کے ساتھ ” فما کانوا لیومنوا بما کذبوا بہ من قبل ‘ ‘ جس کو نوح (علیہ السلام) کی قوم اس سے پہلے جھٹلا چکی تھی ۔ ” کذلک نطبع “ مہر کردیئے ہیں ۔ ” ھم علی قلوب المعتدین “
Read the full tafseer →74۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کے دس قرن کے بعد ہوئے ہیں اس دس قرن تک سب کے سب مسلمان تھے پھر آہستہ آہستہ بت پرستی پھیلنے لگی تو اللہ پاک نے نوح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر لوگوں کی ہدایت کو بھیجا پھر ان کے بعد لگاتار انبیاء اور رسول آتے گئے پھر حضرت رسول مقبول ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی اس لئے اللہ پاک نے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ کو بیان کر کے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے اور رسولوں کو بھیجا اور وہ طرح طرح کے معجزے خدا کی طرف لے لے کر آتے گئے مگر قوم کے لوگ بدستور اپنے خیال پر جمے رہے اور رسولوں کو جھٹلاتے…
Read the full tafseer →آیت : (74)
(ثم بعثنا من بعدہ) ” پھر بھیجے ہم نے اس کے بعد “ یعنی نوح (علیہ السلام) کے بعد (رسلا الی قومھم) ” کئی پیغمبران کی قوموں کی طرف “ یعنی جھٹلانے والوں کی طرف ‘ جو ان کی ہدایت کی طرف بلاتے تھے اور انہیں ہلاکت کے اسباب سے ڈراتے تھے۔ (فجاء وھم بالبینت) ” پس وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے “ یعنی ہر نبی نے اپنی دعوت کی تائید میں ایسے دلائل پیش کئے ‘ جو انکی دعوت کی صحت پر دلالت کرتے تھے۔
(فماکانو لیومنوا بما کذبو بہ من قبل) ” پس ان سے یہ نہ ہوا کہ وہ اس بات پر ایمان لے آئیں جسے وہ اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس وقت سزا دی جبان کے پاس رسول آیا اور انہوں نے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →129 ۔ حد سے بڑھنا موجب ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر۔ سو حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر قدرت کی طرف سے مہر جباریت لگا دی جاتی ہے۔ اور ہم مہر لگا دیتے ہیں۔ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا نظام و قانون اور ہماری سنت اور دستور یہی ہے کہ ہم ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں جو حدود بندگی سے تجاوز کرتے اور حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو ان لوگوں کی یہ محرومی خود ان کے اپنے ہی کئے کرائے کا طبعی نتیجہ ہوتی ہے ورنہ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہوتا۔ سو ایسے لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
سیدنا نوح (علیہ السلام) کا پیغام، قوم کی ضد اور اس کا انجام
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے کفار و مشرکین اور ہر زمانے کے منکرین الٰہی کے لیے بڑی زبردست مثال دی گئی ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے پیغام، وعظ اور نصیحت سے سبق نہیں سیکھتے اور اللہ پر ایمان نہیں لاتے، برائیوں کو چھوڑ کر نیکیوں کو اختیار نہیں کرتے وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ بالآخر ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و خوار ہی کیے جائیں گے۔ جیسا کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) اور پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کو گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیات 71 تا 82
اسرار و معارف
کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یہاں نوح (علیہ السلام) کے بعد جن پیغمبروں کے مبعوث ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ان ہود ( علیہ السلام) ، صالح ( علیہ السلام) ، ابراہیم، ( علیہ السلام) لوط ( علیہ السلام) اور شعیب (علیہم السلام) خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن کا تذکرہ قرآن کے دوسرے مقامات پر مرقوم ہے۔ اور الیٰ تومھم کے الفاظ سے اشارہ فرما دیا ہے کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ان کے بعد جنتے پیغمبر ہوئے ہیں ان میں سے کسی کی رسالت بنی نوع انسان کے لئے عام نہیں تھی بلکہ خاص خاص اقوام کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ البتہ حضرت نوح کی بعثت میں اختلاف ہے اور صحیح یہی ہے کہ وہ بھی خاص طور پر اپنی قوم کی طرف ہی مبعوث تھے اور طوفان سے روئے…
Read the full tafseer →(10:74) فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا بہ من قبل۔ پس نہ ہوئے وہ کہ ایمان لاویں اس بات پر جس کو وہ جھٹلا چکے تھے (یعنی ان قوموں نے بھی اپنے پیشروں کی طرح بینات (روشن دلائل ) کا انکار ہی کیا) ۔
المعتدین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر منصوب اتعداء (افتعال) سے۔ حق سے ہٹنے والے حد سے تجاوز کرنے والے۔ المعتد۔ اسے کہتے ہیں جو اپنے نفس کی خواہش کی تعمیل میں حق و انصاف کی حدود سے تجاوز کر جائے۔
الاعتداء معناہ تجاوز حدود الحق والعدل اتباعا لہوی النفس وشھوا تھا (المنار) ۔
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 74
بعثنا (ہم نے بھیجا) رسل (رسول) رسول پیغمبر جآء وا (وہ آئے) نطبع (ہم مہر لگا دیتے ہیں) المعتدین (حد سے بڑھنے والے)
تشریح : آیت نمبر 74
ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضرت نوح کے بعد مختلف قوموں کی طرف مختلف نبی اور رسو ل بھیجے گئے جنہوں نے کفر و شرک کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نصیحت و موعظت فرمائی لیکن انہوں نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا جو ان سے پہلی قوموں کا مزاج بن چکا تھا۔ اللہ کے دین اور انبیاء کا مذاق اڑانا۔ طرح طرح کی اذیتیں پہنچانا۔ حق کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا اور ضد اور ہٹ دھرمی کے طریقے اختیار کرنا وغیرہ وغیرہ۔
حضرت نوح کے بعد حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور…
Read the full tafseer →حضرت آدم (علیہ السلام) سے دس قرن (صدیوں) تک سب کے سب مسلمان تھے۔ پھر آہستہ آہستہ بت پرستی پھیلنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر لوگوں کی ہدایت کو بھیجا۔ پھر ان کے بعد لگاتار انبیاء اور رسول آتے گئے۔ پھر حضرت رسول مقبول ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ نوح (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے اور رسولوں کو بھیجا اور وہ طرح طرح کے معجزے خدا کی طرف سے لے کر آتے گئے۔ مگر قوم کے لوگ بدستور اپنے خیال پر جمے رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق ان کے دلوں پر مہر لگا دی کہ یہ جانے اور ان کا کام۔ آخر علم الہی کے موافق طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانا ان کی سزا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
[28] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
(ف 2) یعنی بالاخر حق کی فتح ہوئی ، حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو نجات ملی وہ کشتی میں بیٹھ کر محفوظ رہے اور کنارے جا لگے اور جو مجرم تھے جن میں رشد وہدایت کی کوئی استعداد باقی نہیں رہی تھی ، بلکہ وہ تمام نسل انسانی کیلئے گمراہی کا موجب ہو سکتے تھے ، باقی سب غرق کردیئے گئے تاکہ آیندہ نسلیں ان کے شر سے محفوظ رہ سکیں اور گمراہ نہ ہوں ۔
عذاب سے مقصد خدا کے جاہ و جلال کا اظہار نہیں ہوتا ، بلکہ انسانوں کی نافرمانیاں جب حد سے تجاوز کر جاتی ہیں ، اور ان کا وجود دوسرے انسانوں کے لئے مضر ہوجاتا ہے ، اس وقت ان کا مٹا دینا ہی دوسرے انسانوں پر بہت بڑا کرم ہے ۔
جب ہاتھ یا پاؤں بقیہ جسم کے…
Read the full tafseer →74 پھر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور رسولوں کو ان کی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا سو وہ رسول ان کے پاس معجزات اور واضح دلائل لے کر آئے مگر باوجود اس کے ان کی کیفیت یہ تھی کہ انہوں نے اس چیز کو جس کی وہ شروع میں تکذیب کرچکے تھے اور پہلے ہی جس کو جھوٹا بتا چکے تھے آخر تک مان کر ہی نہ دیا اور آخر وقت تک اس چیز کو مانا ہی نہیں جس طرح یہ لوگ سنگدل تھے اسی طر ح ہم ان لوگوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جانے والے ہیں یعنی بڑے ضدی اور مٹی تھے چونکہ پہلی مرتبہ پیغمبروں کی تعلیم کو جھوٹا کہہ چکے تھے اس لئے آخر وقت تک اسی پر اڑے رہے اور اپنی جگہ سے سرکے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
ف 6۔ مراد اس سے معجزہ ہے۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) کے بعد دوسرے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوتوں کا مختصر ذکر
105 ؎ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد فرمایا ان کے بعد سب سے رسول مختلف قوموں میں مبعوث ہوئے اور ایسا ہی معاملہ پیش آیا کہ ان سب نے اپنی اپنی قوم کو پیغام حق سنایا اور اپنے پیغام کی صداقت کو دلائل و معجزات سے ثابت کیا لیکن قوم نے ایک مرتبہ جس بات کو ماننے سے انکار کیا پھر اس کے ماننے سے انکار ہی کرتی رہی ۔ کوئی قوی سے قوی دلیل بھی انہیں اپنی روش بدلنے سے آمادہ نہ کرسکی ۔ ان کی اس پیہم سر کشی کے باعث حق پیری کی جو صلاحیت ان میں رکھی گئی تھی وہ ضائع ہوگئی اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ۔ دوسرے لوگوں کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →71. 'Those who transgress' mentioned in the present verse are those who, once they commit a wrong, cling to it out of adamance and obstinacy. These are the ones who, out of sheer arrogance and egotism, would like to stick to the stand they once took even if it was erroneous. Such people remain unmoved
Read the full tafseer →