Explained with ayahs 71–73
نوح ؑ کی قوم کا کردار
اے رسول ﷺ تو انہیں حضرت نوح ؑ کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کردیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیے اور میری پکڑ سے بےخوف نہ ہونا چاہئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ حضرت نوح ؑ نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
سورة یُوْنُس 69
یہاں تک تو ان لوگوں کو معقول دلائل اور دل کو لگنے والے نصائح کے ساتھ سمجھایا گیا تھا کہ ان کے عقائد اور خیالات اور طریقوں میں غلطی کیا ہے اور وہ کیوں غلط ہے، اور اس کے مقابلے میں صحیح راہ کیا ہے اور وہ کیوں صحیح ہے۔ اب ان کے اس طرز عمل کی طرف توجہ منعطف ہوتی ہے جو وہ اس سیدھی سیدھ اور صاف صاف تفہیم و تلقین کے جواب میں اختیار کر رہے تھے۔ دس گیارہ سال سے ان کی روش یہ تھی کہ وہ بجائے اس کے اس معقول تنقید اور صحیح رہنمائی پر غور کر کے اپنی گمراہیوں پر نظر ثانی کرتے، الٹے اس شخص کی جان کے دشمن ہوگئے تھے جو ان باتوں کو اپنی کسی ذانی غرض کے لیے نہیں بلکہ انہی کے بھلے کے لیے پیش کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان کو نوح ؑ کا قصہ پڑھ کر سنایئے (جو کہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم اگر تم کو میرا رہنا (یعنی وعظ گوئی کی حالت میں رہنا) اور احکام خداوندی کی نصیحت کرنا بھاری (اور ناگوار) معلوم ہوتا ہے تو (ہوا کرے میں کچھ پرواہ نہیں کرتا کیونکہ) میرا تو خدا ہی پر بھروسہ ہے سو تم (میرے ضرر پہنچانے کے متعلق) اپنی تدابیر (جو کچھ کرسکو) مع اپنے شرکاء (یعنی بتوں) کے پختہ کرلو (یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپنا ارمان نکال لو) پھر تمہاری وہ تدبیر تمہاری گھٹن (اور دل تنگی) کا باعث نہ ہونا چاہئے (یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبعیت گھٹا…
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰۗىِٕفَ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پہلے مکذبین کے غرق کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ حضرت نوح اور ان کے باایمان ساتھیوں کی نجات کا ذکر فرمایا۔ اس لیے کہ سنت الٰہی یہی ہے کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر جب عذاب آیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اہل ایمان کی حفاظت کا اہتمام فرمایا ہے۔ وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰۗىِٕفَ ، یعنی مکذبین کو غرق کر کے ان کی جگہ زمین کی وراثت حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کو بخشی۔ ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ…
Read the full tafseer →73۔ 1 یعنی قوم نوح ؑ نے تمام تر وعظ و نصیحت کے باوجود جھٹلانے کا راستہ نہیں چھوڑا چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کو ایک کشتی میں بٹھا کر بچا لیا اور باقی سب کو حتٰی کہ حضرت نوح ؑ کے ایک بیٹے کو بھی غرق کردیا۔
73۔ 2 یعنی زمین میں ان سے بچنے والوں کو ان سے پہلے کے لوگوں کا جانشین بنایا۔ پھر انسانوں کی آئندہ نسل انہی لوگوں بالخصوص حضرت نوح ؑ کے تین بیٹوں سے چلی، اسی لئے حضرت نوح ؑ آدم ثانی کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
31: حضرت نوح ؑ کے واقعے کی مزید تفصیل اگلی سورت یعنی سورة ہود (25:11 تا 49) میں آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →فکذبوہ (حق واضح ہونے کے بعد بھی محض عناد اور ضد کی وجہ سے) قوم نوح تکذیب پر جمی رہی۔
فنجینہ ومن معہ فی الفلک پس ہم نے نوح کو اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں (غرق ہونے سے) بچا لیا۔ یہ سب اسّی آدمی تھے۔
وجعلھم خلف واغرقنا الذین کذبوا بایتنا اور ہم نے ان کو (مرنے والوں کا) جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا ‘ ان کو (طوفان میں) ڈبو دیا۔
فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین۔ سو آپ دیکھئے کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ یعنی جن لوگوں کو پیغمبروں نے اللہ کی نافرمانی کے عذاب سے ڈرایا تھا اور وہ ایمان نہیں لائے تھے ‘ وہ کس طرح تباہ ہوئے۔
اس جملہ میں رسول اللہ (ﷺ) کیلئے پیام…
Read the full tafseer →6 یعنی جس کے پاس چشم عبرت ہو وہ دیکھ لے کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ ان لوگوں کو سینکڑوں برس نوح (علیہ السلام) نے نصیحت کی، نفع و ضرر سے آگاہ کیا جب کوئی بات موثر نہ ہوئی بلکہ الٹا عناد و فرار بڑھتا گیا۔ اس وقت خدا نے سخت طوفان پانی کا بھیجا۔ سب مکذبین غرقاب کردیئے گئے۔ صرف نوح (علیہ السلام) اور چند نفوس جو ان کے ساتھ کشتی پر سوار تھے محفوظ رہے۔ ان ہی سے آگے نسل چلی۔ اور ڈوبنے والوں کی جگہ یہ ہی آباد ہوئے۔ نوح (علیہ السلام) کا کچھ قصہ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 73 فَکَذَّبُوْہُ فَنَجَّیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ وَجَعَلْنٰہُمْ خَلٰٓءِفَ
انہی لوگوں کو ہم نے زمین میں خلافت عطا کی۔
Read the full tafseer →86 اس موقعہ پر نوح (علیہ السلام) کے واقعات کو ذکر کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو تسلی دینا چاہتے ہیں کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلا رہی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ سابقہ پیغمبر بھی ایسے ہی حالات سے دو چار ہوئے تھے اور انہوں نے صبر اور برداشت کا کمال مظاہرہ کیا تھا لہذا آپ کو صبر اور برداشت سے کام لینا چاہیے اور دوسرا مقصد جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنا ہے کہ جن لوگوں نے ہمارے انبیاء کو جھٹلایا تھا ان کے انجام پر غور کرلو اور خوب سمجھ لو اگر تم اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی ایسا ہی انجام ہونے والا ہے۔
87 طوفان نوح کی کیفیت :۔ یعنی جھٹلانے والوں پر اللہ کا…
Read the full tafseer →109۔ (روئے زمین پر) (آیت) ” فنجینہ۔۔۔ الفلک “۔ یعنی نوح (علیہ السلام) اور ہمراہیان نوح (علیہ السلام) کو عذاب طوفان وسیلاب سے نجات مل گئی۔ اس طوفان عظیم کے آثار قدیم ماہرین سائنس کو آج بھی ارض نوح (علیہ السلام) میں مل رہے ہیں، یہ طوفان ملک عراق میں دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیانی علاقہ میں آیا تھا۔ اس علاقہ کا رقبہ، موجودہ ماہرین اثریات کے تخمینہ کے مطابق 400 میل طول میں اور 100 میل عرض میں تھا۔ (آیت) ” الفلک “۔ کشتی نوح (علیہ السلام) کا طول حسب تصریح توریت 300 ہاتھ کا عرض 50 ہاتھ کا اور بلندی 30 ہاتھ کی تھی، گویا یہ کشتی اتنی ہی بڑی تھی جیسے آج کل کے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان چلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیت نمبر 71 تا 82
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…
Read the full tafseer →فکذبوہ (حق واضح ہونے کے بعد بھی محض عناد اور ضد کی وجہ سے) قوم نوح تکذیب پر جمی رہی۔
فنجینہ ومن معہ فی الفلک پس ہم نے نوح کو اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں (غرق ہونے سے) بچا لیا۔ یہ سب اسّی آدمی تھے۔
وجعلھم خلف واغرقنا الذین کذبوا بایتنا اور ہم نے ان کو (مرنے والوں کا) جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا ‘ ان کو (طوفان میں) ڈبو دیا۔
فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین۔ سو آپ دیکھئے کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ یعنی جن لوگوں کو پیغمبروں نے اللہ کی نافرمانی کے عذاب سے ڈرایا تھا اور وہ ایمان نہیں لائے تھے ‘ وہ کس طرح تباہ ہوئے۔
اس جملہ میں رسول اللہ ﷺ کیلئے پیام تسکین…
Read the full tafseer →(73) سو وہ لوگ حضرت نوح ؑ کی دعوت ایمانی کو جھٹلاتے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں مومن لوگ تھے، غرق ہونے سے نجات دی اور ان کو زمین پر دوبارہ آباد کیا اور ان کو زمین میں حکمران بنایا اور جنہوں نے ہماری کتاب اور ہمارے رسول یعنی حضرت نوح ؑ کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کردیا، سودیکھنا چاہیے کیسا برا انجام ہوا، ان لوگوں کا جن کو ان کے رسولوں نے اللہ کے عذاب سے ڈریا تھا مگر اس کے باوجود بھی وہ ایمان نہ لائے۔
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ : اس کی تفصیل سورة ہود (36 تا 49) میں دیکھیں۔
وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰۗىِٕفَ : یعنی ان کے بعد دنیا میں وہی بسنے والے رہ گئے۔ دیکھیے سورة صافات (77) اس لیے نوح ؑ کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔
فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ : یہاں ”فَانْظُرْ“ کا معنی ہے غور و فکر کر اور عبرت حاصل کر کہ وہ کیسے تباہ و برباد کردیے گئے۔ اس میں آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام ؓ اور اہل ایمان کو تسلی ہے اور ان لوگوں کے لیے مقام عبرت ہے جو آج بھی آپ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 73
قولہ تعالیٰ : (آیت) فکذبوہ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا۔ (آیت) فنجینہ ومن معہ پس ہم نے آپ کو اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ (آیت) فی الفلک یعنی جو کشتی میں آپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے۔ اس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ (آیت) وجعلنکم خلئف اور ہم نے انہیں زمین کی باسی اور غرق ہونے والوں کا جانشین بنادیا۔ (آیت) فانظر کیف کان عاقبۃ المذرین یعنی ذرا دیکھو ان کے معاملے کا انجام کیسا ہوا جنہیں رسولوں نے ڈرایا اور وہ ایمان لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ارج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ سے مراد ہے کہ تم اپنے معاملہ کا فیصلہ کرو اور اپنے شریکوں کو بھی بلاؤ۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ یعنی چاہئے کہ تم اپنے کام کو اپنے ساتھ جمع کرلو۔
3:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ “ یعنی تم پر تمہارا فیصلہ بھاری نہ ہوجائے۔ پھر تم فیصلہ کرنے والے ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم اقضوا الی “ یعنی پھر تم جلدی سے حملہ آور…
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْهُ [ تو انھوں نے جھٹلایا ان کو ] فَنَجَّيْنٰهُ [ پس ہم نے نجات دی ان کو ] وَمَنْ [ اور ان لوگوں کو جو ] مَّعَهٗ [ ان کے ساتھ تھے ] فِي الْفُلْكِ [ کشتی میں ] وَجَعَلْنٰھُمْ [ اور ہم نے بنایا ان لوگوں کو ] خَلٰۗىِٕفَ [ جانشین ] وَاَغْرَقْنَا [ اور ہم نے غرق کیا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا ۚ [ ہماری نشانیوں کو ] فَانْظُرْ [ تو آپ دیکھیں ] كَيْفَ [ کیسا ] كَانَ [تھا ] عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ [ خبردار کئے جانے والوں کا انجام ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
حضرت نوح (علیہ السلام) کا جرأت کے ساتھ اپنی قوم سے خطاب فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق ہوجانا
ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے تفصیل کے ساتھ آئندہ سورة ھود اور سورة نوح میں مذکور ہے۔ نیز سورة اعراف (رکوع 8) میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کو دوبارہ دیکھ لیں اور سورة ہود (رکوع 3) اور (رکوع 4) کی تفسیر کا مطالعہ کرلیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال قیام فرمایا ان کو طرح طرح سے سمجھایا توحید کی دعوت دی شرک کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی لیکن وہ لوگ برابر مخالفت کرتے رہے اور دشمنی پر اتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
قصۂ نوح (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالی۔ واتل علیھم نبا نوح۔۔۔ الی۔۔۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین
(ربط): یہاں تک اصول دین توحید اور رسالت اور قیامت کو دلائل وبراہین سے بیان کیا اور منکرین کے شبہات اور سوالات کے جوابات دئیے۔ اب آں حضرت ﷺ کی تسلی کے لیے اور متکبرین اور منکرین نبوت کی تہدید اور عبرت کے لیے انبیاء سابقین کے چند واقعات ذکر کرتے ہیں۔ تاکہ کفار عرب ان واقعات سے عبرت پکڑیں کہ انبیاء اللہ کے مقابلے میں قوت و شوکت کام نہیں دیتی اور باوجود قوت و شوکت کے مکذبین اور مفترین کو کامیابی حاصل نہیں ہوتی سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا جو سب کے جد امجد اور آدم ثانی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
93: اگر تم نہیں مانتے ہو تو میرا اس میں کیا نقصان ہے میں تبلیغ توحید پر تم سے کوئی اجرت تو نہیں مانگتا کہ تمہارے نہ ماننے سے مجھے مالی نقصان کا اندیشہ ہو میں تو محض اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے تمہیں تبلیغ کرتا ہوں۔ “ فَکَذَّبُوْہ ” لیکن وہ لوگ تکذیب پر اڑے رہے آخر ہم نے ان کو غرق کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو طوفان سے بچا لیا۔ اب دیکھ لو نہ ماننے والوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ربط آیات
گذشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت اور دعوت الی القرآن کا کافی تذکرہ ہوچکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل اور شرک کا رد فرمایا ہے۔ رسالت کے منکرین کی بھی تردید ہوچکی ہے۔ اب یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کا تھوڑا سا واقہ تمثیل کے طور پر بیان کیا ہے ، اس کے بعد نام لیے بغیر دوسرے رسولوں کا ذکر بھی کیا ہے اور آگے چل کر حضرت موسیٰ اور ہارون علیما السلام کا تفصیل کے ساتھ بیان آئیگا۔ ان دو انبیاء کے واقعات بیان کر کے مشرکین مکہ کو تنبیہ کی گئی ہے۔ حضرت نوح اور موسیٰ علیما السلام کی اقوام کے لوگ بھی غرور وتکبر میں مبتلا تھے اور اسی طرح حضور ﷺ کے مخاطبین مشرکین بھی بڑی اکڑ…
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْہُ فَنَجَّيْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰۗىِٕفَ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا 0 ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِيْنَ 73
نجو
أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53]
( ن ج و )
اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
1 ؎ وعظ کرنے کے لئے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ میرا رہنا۔ 12 منہ
ترکیب : اذ طرف والعامل فیہ بناء والجملۃ بدل من نباء نوح فعلی اللہ جواب۔ کان کبر فاجمعوا معطوف علیہ اتقولون اس کا مفعول سحر محذوف الکبریا اسم تکون لکما خبرہ ما جئتم بہ السحر ما استفہامیہ مبتداء وجئتم خبر والسحر بدل منہ اور ما کو خبریہ کہا جاوے تو یہ موصولہ جئتم صلہ یہ سب مبتداء السحر خبر جملہ محلا منصوب قال کا مفعول ہو کر ملائہم الضمیر عائد الی الذری ولم یونث لان الذریۃ قوم فھومذکر وقبل یرجع الی القوم ان یفتنہم بدل من فرعون تقدیرہ علی خوف من فتنۃ فرعون ان تبوآ تفسیر ہے اوحینا کی قبلۃ مفعول اجعلوا ای مصلی تصلون فیہ لتامنوا من الخوف…
Read the full tafseer →فَکَذَّبُوْہُ فَنَجَّیْنٰـہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْفُلْکِ وَجَعَلْنٰـھُمْ خَلٰٓئِفَ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰٰ ٰیتِنَا ج فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ۔ (یونس : 73)
(پس انھوں نے اسے جھٹلادیاتو ہم نے اس کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دے دی۔ اور انھیں کو زمین میں جانشین بنایا اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ پس دیکھئے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جن کو متنبہ کیا گیا تھا۔ )
قریش کو انذار
اس آیت کریمہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام بھی ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کا سبب بھی۔ انجام ذکر کرنے سے پہلے سبب کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح کی قوم نے فوت شدہ بزرگوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اور انہیں اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ حضرت نوح نے انہیں بہت روکا مگر وہ باز نہ آئے۔ جس کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو سمجھایا مگر قوم سمجھنے کی بجائے گمراہی اور دشمنی میں آگے ہی بڑھتی گئی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے رہے کہ میں اس محنت شاقہ اور صبح، شام کی محنت پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میرا معاملہ اور اجروثواب اللہ کے ہاں ہے۔ لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی الٹا الزام پہ الزام دیتی اور ان سے عذاب کا مطالبہ کرتی رہے۔
اس صورت حال…
Read the full tafseer →نتیجہ تکذیب :
73: فَکَذَّبُوْہُ (پس انہوں نے جھٹلادیا) انہوں نے ان کی تکذیب پر مداومت اختیار کی فَنَجَّیْنٰہُ (پس ہم نے اس کو بچالیا) ڈوبنے سے وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْفُلْکِ وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰٓئِفَ ( اور ان کو جو کشتی میں ان کے ساتھ تھے، نائب بنایا) غرق سے ہلاک ہونے والوں کے یہ نائب بنے۔ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ (اور ڈبو دیا ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا پس غور کرو کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جن کو ڈرایا گیا) اسمیں کفار پر گزرنے والے معاملے کو بڑا بنا کر پیش کیا گیا ہے اور کفار مکہ جو رسول اللہ ﷺ کے مخاطب تھے…
Read the full tafseer →73۔ ” فکذبوہ “ یعنی نوح (علیہ السلام) کو ” فنجیناہ ومن معہ فی الفلک وجعلنا ھم خلائف “ یعنی جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ہم نے ان کو ہلاک ہونے والوں کا خلیفہ بنادیا ۔ ” واغرقنا الذین کذبوا بآیاتنا فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین “ یعنی ان لوگوں کا آخری امر جن کو رسولوں نے ڈرایا پر وہ ایمان نہیں لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
72۔ 73۔ اس سے اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ﷺ کو حکم تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ان کفار عرب کو سنادو کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میرا یہاں ٹھہرنا اور بت پرستی کی مذمت کا کرنا اگر تمہیں گراں گزرتا ہے تو تم اور تمہارے جھوٹے معبود سب اکٹھے ہو کر جو کچھ میرے ساتھ کرنا چاہو اس کے کر بیٹھنے میں تامل نہ کرو اس آیت میں فرمایا کہ نوح نے اپنی قوم سے یہ بھی کہا کہ تم لوگ اگر کسی خرچ کے بار سے ڈر کر میری نصیحت سے منہ موڑتے ہو تو میں اس کی مزدوری تم سے کچھ نہیں چاہتا اس کا اجر تو خدا ہی دے گا اور مجھ تو یہی حکم ہے کہ میں مسلمان رہوں اور تم کو بھی اسی طرح کی نصیحت کرتا رہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت : (71-73)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے فرماتا ہے : (واتل علیھم) ” اور ان کو سنائیے “ یعنی اپنی قوم کے سامنے تلاوت کر دیجئے (نبا نوح) ” نوح کا حال “ یعنی جب نوح علیہ الصلوۃ السلام کی دعوت کا حال ‘ جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی وہ ایک طویل مدت تک ان کو دعوت دیتے رہے۔ پس وہ اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس برس تک رہے مگر ان کی دعوت نے ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کیا اور وہ آپ کی دعوت سے اکتا گئے اور سخت تنگ آگئے۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کی دعوت دینے میں کسی سستی کا مظاہرہ کیا نہ کوتاہی کا ‘ چناچہ آپ ان سے کہتے رہے : (یقوم ان کان کبر علیکم مقامی وتذکیری) ” اے میری قوم ! اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →128 ۔ تکذیب و انکار حق کا نتیجہ و انجام بہت برا۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار یعنی عذاب آنے پر ہم نے بچا لیا نوح کو بھی اور ان سب کو بھی جو آپ کے ساتھ تھے اس کشتی میں اور ان سب کو ہم نے غرق کردیا جو جھٹلاتے رہے تھے ہماری آیتوں کو۔ پس تم دیکھ لو کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جن کو خبردار کردیا گیا تھا۔ یعنی تکذیب حق کے نتیجہ و انجام سے کہ آخرکار وہ دائمی ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں گر کر رہے۔ والعیاذ باللہ۔ پس اس میں جہاں ایک طرف حضرت امام الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ کے لیے تسکین و تسلی کا عظیم سامان ہے وہاں آپ کے مخالفین و معاندین کے لیے بڑی تنبیہ اور سخت تہدید بھی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
سیدنا نوح (علیہ السلام) کا پیغام، قوم کی ضد اور اس کا انجام
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے کفار و مشرکین اور ہر زمانے کے منکرین الٰہی کے لیے بڑی زبردست مثال دی گئی ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے پیغام، وعظ اور نصیحت سے سبق نہیں سیکھتے اور اللہ پر ایمان نہیں لاتے، برائیوں کو چھوڑ کر نیکیوں کو اختیار نہیں کرتے وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ بالآخر ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و خوار ہی کیے جائیں گے۔ جیسا کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) اور پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کو گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیات 71 تا 82
اسرار و معارف
کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی ان کے بعد وہی دنیا میں بسنے والے رہ گئے۔ (شوکانی) ۔
3 ۔ کیسے تباہ و برباد کردیے گئے۔ اس میں آپ ﷺ کو اور صحابہ ؓ کرام کو تسلی ہے اور ان لوگوں کے لئے مقام عبرت ہے جو آج بھی آنحضرت ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(10:73) خلف۔ خلیفہ کی جمع ۔ جانشین۔ قائمقام ۔ نائب (یعنی ہم نے ان لوگوں کو جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی میں بچالئے گئے ہلاک ہونے والوں کے بعد زمین پر خلیفہ بنادیا) ۔
المنذرین۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ وہ لوگ جن کو نافرمانی اور سرکشی کی سزا سے ڈرایا گیا۔ ڈرائے جانے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 73
اتل (تلاوت کر، پڑھ کر سنا نبا (خبر، واقعہ، قصہ) کبر (بڑا ہے، بھاری ہے) مقامی (میرا ٹھہرنا) تذکیری (میرا یاد دلانا) توکلت (میں نے بھروسہ کرل یا، تو کل کرلیا) اجمعوآ (تم سب جمع ہو جائو، تم پکاکر لو) غمۃ (کچھ شبہ، کچھ شک) اقضوا (کر گذرو، فیصلہ کرلو) لاتنظرون (تم مجھے مہت نہ دو ) ماسالت (میں نے نہیں مانگا) اجر (اجرت، مختانہ) امرت (مجھے حکم دیا گیا ہے)
تشریح : آیت نمبر 71 تا 73
اس سورة کے آغاز ہی سے توحید و رسالت، قیامت و آخرت اور جزا و سزا کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ معقول اور بہتر دلائل اور نصیحتوں کے انداز میں یہ بتایا گیا کہ اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
اس سے اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ان کفار عرب کو سنا دو ۔ اس آیت میں فرمایا کہ نوح علیہ اسلام نے اپنی قوم سے یہ بھی کہا کہ تم لوگ اگر کس خرچے کے بارے میں ڈر کر میری نصیحت سے منہ موڑتے ہو تو میں اس کی مزدوری تم سے نہیں چاہتا اس کا اجر تو خدا ہی دے گا۔ اور مجھے تو یہی حکم ہے کہ میں مسلمان رہوں اور تم کو بھی اسی طرح نصیحت کرتا رہوں۔ مگر اس قوم کو ایمان نہ لانا تھا نہ لائی حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلائے گئی، پھر وہ طوفان آیا کہ پہاڑوں سے بھی کہیں اونچا پانی ہوگیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) مع اسی آدمی جس میں چالیس مرد اور چالیس عورتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
[28] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
(ف 2) یعنی بالاخر حق کی فتح ہوئی ، حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو نجات ملی وہ کشتی میں بیٹھ کر محفوظ رہے اور کنارے جا لگے اور جو مجرم تھے جن میں رشد وہدایت کی کوئی استعداد باقی نہیں رہی تھی ، بلکہ وہ تمام نسل انسانی کیلئے گمراہی کا موجب ہو سکتے تھے ، باقی سب غرق کردیئے گئے تاکہ آیندہ نسلیں ان کے شر سے محفوظ رہ سکیں اور گمراہ نہ ہوں ۔
عذاب سے مقصد خدا کے جاہ و جلال کا اظہار نہیں ہوتا ، بلکہ انسانوں کی نافرمانیاں جب حد سے تجاوز کر جاتی ہیں ، اور ان کا وجود دوسرے انسانوں کے لئے مضر ہوجاتا ہے ، اس وقت ان کا مٹا دینا ہی دوسرے انسانوں پر بہت بڑا کرم ہے ۔
جب ہاتھ یا پاؤں بقیہ جسم کے…
Read the full tafseer →73 اس معقول نصیحت کے باوجود ان کی قوم ان کو جھٹلاتی اور ان کی برابر تکذیب کرتی رہی اس پر طوفان کا عذاب آیا اور ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور جو اس کے ہمراہ کشی میں تھے ان کو طوفان سے نجات دی اور ان طوفان سے نجات پانے والوں کو جانشین کیا اور ان کو آباد کیا اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے ان سب کو غرق کردیا لہٰذا اے مخاطب چشم عبرت سے دیکھ جن کو ڈرایا جا چکا تھا ان کا انجام کیسا ہوا یعنی کیسا برا انجام ہوا۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی بنجیری میں ہلاک نہیں کیے گئے پہلے کہہ دیا سمجھا دیا نہ مانا سزا پائی۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) کی اتنی زوردار دعوت کو بھی جھٹلا دیا گیا ، ہم نے بھی اس کی مدد کر کے دکھا دیا
104 ؎ اس آیت میں نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا انجام ذکر کردیا گیا کہ جب قوم نوح نے نوح (علیہ السلام) کو مکمل طور پر جھٹلا دیا تو ہم نوح (علیہ السلام) اور اس پر ایمان لانے والوں کو جو ایک کشتی میں سوار کرا دیئے گئے تھے سب کو اپنے عذاب طوفان سے بچالیا اور پھر انہیں اس زمین پر آباد کیا جن سے ان کی قوم سے مزید قومیں پیدا ہوئیں اور جن لوگوں نے ہمارے نبی نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا ان سب کو طوفان میں غرق کر کے رکھ دیا اسے دیدہ بینا رکھنے والے عبرت کی نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں اور اس سے سبق حاصل کرسکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
69. In the preceding verses a combination of convincing arguments and persuasive instruction was employed to drive home to the people that their intellectual outlook and way of life were faulty. As opposed to that, the right way for mankind was highlighted and it was shown why that way was right. Thereafter, attention was paid to candidly exposing the attitude which the unbelievers had adopted during the past eleven years: instead of mending their ways in the light of the reasonable criticism to which they had been subjected and in response to the right guidance offered to them, they became…
Read the full tafseer →