Explained with ayahs 71–73
نوح ؑ کی قوم کا کردار
اے رسول ﷺ تو انہیں حضرت نوح ؑ کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کردیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیے اور میری پکڑ سے بےخوف نہ ہونا چاہئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ حضرت نوح ؑ نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
سورة یُوْنُس 69
یہاں تک تو ان لوگوں کو معقول دلائل اور دل کو لگنے والے نصائح کے ساتھ سمجھایا گیا تھا کہ ان کے عقائد اور خیالات اور طریقوں میں غلطی کیا ہے اور وہ کیوں غلط ہے، اور اس کے مقابلے میں صحیح راہ کیا ہے اور وہ کیوں صحیح ہے۔ اب ان کے اس طرز عمل کی طرف توجہ منعطف ہوتی ہے جو وہ اس سیدھی سیدھ اور صاف صاف تفہیم و تلقین کے جواب میں اختیار کر رہے تھے۔ دس گیارہ سال سے ان کی روش یہ تھی کہ وہ بجائے اس کے اس معقول تنقید اور صحیح رہنمائی پر غور کر کے اپنی گمراہیوں پر نظر ثانی کرتے، الٹے اس شخص کی جان کے دشمن ہوگئے تھے جو ان باتوں کو اپنی کسی ذانی غرض کے لیے نہیں بلکہ انہی کے بھلے کے لیے پیش کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان کو نوح ؑ کا قصہ پڑھ کر سنایئے (جو کہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم اگر تم کو میرا رہنا (یعنی وعظ گوئی کی حالت میں رہنا) اور احکام خداوندی کی نصیحت کرنا بھاری (اور ناگوار) معلوم ہوتا ہے تو (ہوا کرے میں کچھ پرواہ نہیں کرتا کیونکہ) میرا تو خدا ہی پر بھروسہ ہے سو تم (میرے ضرر پہنچانے کے متعلق) اپنی تدابیر (جو کچھ کرسکو) مع اپنے شرکاء (یعنی بتوں) کے پختہ کرلو (یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپنا ارمان نکال لو) پھر تمہاری وہ تدبیر تمہاری گھٹن (اور دل تنگی) کا باعث نہ ہونا چاہئے (یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبعیت گھٹا…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ ۙ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔ یعنی اگر تم غور و فکر کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچے کہ اس روش اعراض پر جمے رہنا ہے تو مجھے اب تمہاری کوئی پروا نہیں ہے۔ میں تمہیں جو تبلیغ و تذکیر کر رہا ہے تھا اس کا میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں لے رہا تھا کہ اس سے محروم ہوجانے کا غم ہو۔ میری محنت کا اجر تو اللہ کے ذمے ہے۔ وہ مجھے محروم نہیں فرمائے گا۔ مجھ پر یہ ذمہ داری بھی نہیں ڈالی گئی تھی کہ لازماً تم کو مومن و مسلم ہی بنالوں۔ مجھے حکم ملا تھا کہ میں اپنے رب کے فرماں برداروں میں بنوں۔ سو میں اسی کا…
Read the full tafseer →72۔ 1 کہ جس کی وجہ سے تم یہ تہمت لگا سکو کہ دعوائے نبوت سے اس کا مقصد تو مال و دولت کا اکٹھا کرنا ہے۔
72۔ 2 حضرت نوح ؑ کے اس قول سے بھی معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین اسلام ہی رہا گو شرائع مختلف اور مناہج متعدد رہے۔ جیسا کہ آیت لکل جعلنا منکم شرعۃ و منہاجا، سے واضح ہے۔ لیکن دین سب کا اسلام تھا۔ ملاحظہ ہو سورة النمل 91 (وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ ۭ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) سورة بقرہ 131، 132 (اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 131 وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ ۭيٰبَنِىَّ…
Read the full tafseer →30: مطلب یہ ہے کہ اگر مجھے اپنی تبلیغ پر کوئی اجرت وصول کرنی ہوتی تو تمہارے جھٹلانے سے میرا نقصان ہوسکتا تھا کہ میری اجرت ماری جاتی، لیکن مجھے تو کوئی اجرت وصول کرنی ہی نہیں ہے۔ اس لیے تمہارے جھٹلانے سے میرا کوئی ذاتی نقصان نہیں ہے۔
Read the full tafseer →فان تولیتم فما سالتکم من اجر پھر بھی تم اگر اعراض ہی کئے جاؤ تو (اتنا سمجھ لو کہ) میں تم سے کسی معاوضہ کا طالب نہیں۔
جزاء کو حذف کر کے جزاء کی علت کو اس کے قائم مقام ذکر کیا ہے۔ اصل مطلب (تشریحی) اس طرح ہے کہ اگر تم میرے وعظ و نصیحت سے اب بھی روگردانی کرو گے اور میری بات نہیں مانو گے تو ہلاک ہوجاؤ گے ‘ یا اللہ تم کو عذاب دے گا کیونکہ تمہاری روگردانی کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ قبول حق سے کوئی امر مانع نہیں۔ اس وعظ و تذکیر میں میرا کوئی مقصد نہیں۔ میں اس دعوت کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا کہ تم معاوضہ ادا کرنے سے قاصر ہو اور اسلئے روگردانی کر رہے ہو ‘ یا مجھے (دنیا طلبی کی تہمت سے) متہم کرسکو۔ یا یہ…
Read the full tafseer →5 یعنی تمہارے مقابلہ میں نہ جانی و بدنی تکالیف سے گھبراتا ہوں اور نہ مالی نقصان کی کوئی فکر ہے کیونکہ میں نے خدمت تبلیغ و دعوت کا کچھ معاوضہ تم سے کبھی طلب نہیں کیا جو یہ اندیشہ ہو کہ تمہاری ناخوشی سے میری تنخواہ بند ہوجائے گی یا کم ازکم تم کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ میری ساری جدوجہد مال کی حرص اور روپیہ کے لالچ سے تھی۔ میں جس کا کام کر رہا اور حکم بجا لا رہا ہوں اسی کے ذمہ میری اجرت ہے جب میں اس کا فرمانبردار ہوں اور خدمت مفوضہ بےخوف و خطر انجام دیتا ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے فضل و رحمت کے دروازے مجھ پر نہ کھولے رکھے۔
Read the full tafseer →فَمَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ ط
یعنی پھر اگر تم اس چیلنج کا سامنا نہ کرسکو اور میرے خلاف آخری اقدام کرنے کا حوصلہ بھی نہ کر پاؤ تو پھر ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو تو سہی کہ میں پچھلے ساڑے نو سو سال سے تمہیں راہ راست پر لانے کی جو جدوجہد کررہا ہوں اس کے عوض میں نے تم لوگوں سے کوئی معاوضہ ‘ کوئی اُجرت ‘ کوئی تعریف و توصیف ‘ کوئی شاباش ‘ الغرض کچھ بھی طلب نہیں کیا۔ تو کیا میرے اس طرز عمل سے تم لوگوں کو اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ حضرت نوح کا چیلنج قبول کرکے ان کے خلاف اقدام کرنے سے گریزاں تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر ہم نے انہیں قتل…
Read the full tafseer →85 اسلامی خدمات اور تبلیغ کی اجرت لینا جائز ہے :۔ یعنی اگر تم لوگوں کو میری نصیحت کی باتیں اچھی نہ لگیں تو بھی میں اس کام سے باز نہیں آنے کا بلکہ تمہیں سمجھاتا ہی رہوں گا کیونکہ مجھے اللہ کا یہی حکم ہے میں اس کی طرف سے مامور ہوں اور اسی کے ذمہ میرا اجر ہے میں نہ تمہارا تنخواہ دار ہوں اور نہ تم سے کچھ طمع رکھتا ہوں کہ اگر تمہیں یہ باتیں پسند نہ آئیں تو تم میری تنخواہ روک دو گے یا مجھے کچھ نہ دو گے۔ میں تم سے ایسی کوئی حرص نہیں رکھتا۔ میں تو صرف اللہ کے حکم کا پابند اور اسی کا فرمانبردار ہوں۔
سیدنا نوح کے علاوہ باقی انبیاء کا بھی یہی شیوہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء کو عموماً اس وقت مبعوث کیا…
Read the full tafseer →108۔ پیغمبر قانون الہی کی پابندیوں سے مافوق وم اورا نہیں ہوتا، بلکہ ساری امت کی طرح وہ خود بھی اس کا پوری طرح پابند ہوتا ہے اس میں رد ہے جاہلی قوموں کا جو اپنے دیوی دیوتاؤں کو ہر اخلاقی قانون سے ماورا سمجھتے ہیں۔ (آیت) ” فان۔۔۔۔ اجر “۔ سو تم مجھے تبلیغ سے روکنے کا حق ہی کیا رکھتے ہو ؟ کیا میں تم سے اس کی کچھ فیس مانگتا رہتا ہوں جس کے رک جانے کا مجھے اب اندیشہ ہو، خوف خلق کی نفی اوپر کی آیت میں ہوچکی تھی، طمع خلق کی نفی اب ہوگئی۔ پیغمبر خلق کے خوف اور طمع دونوں سے یکسر بےنیاز رہتا ہے۔ (آیت) ” فما سالتکم من اجر “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ جو امر دین میں واجب ہے، اس پر اجرت جائز نہیں اور ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیت نمبر 71 تا 82
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…
Read the full tafseer →فان تولیتم فما سالتکم من اجر پھر بھی تم اگر اعراض ہی کئے جاؤ تو (اتنا سمجھ لو کہ) میں تم سے کسی معاوضہ کا طالب نہیں۔
جزاء کو حذف کر کے جزاء کی علت کو اس کے قائم مقام ذکر کیا ہے۔ اصل مطلب (تشریحی) اس طرح ہے کہ اگر تم میرے وعظ و نصیحت سے اب بھی روگردانی کرو گے اور میری بات نہیں مانو گے تو ہلاک ہوجاؤ گے ‘ یا اللہ تم کو عذاب دے گا کیونکہ تمہاری روگردانی کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ قبول حق سے کوئی امر مانع نہیں۔ اس وعظ و تذکیر میں میرا کوئی مقصد نہیں۔ میں اس دعوت کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا کہ تم معاوضہ ادا کرنے سے قاصر ہو اور اسلئے روگردانی کر رہے ہو ‘ یا مجھے (دنیا طلبی کی تہمت سے) متہم کرسکو۔ یا یہ…
Read the full tafseer →(72) پھر بھی اگر تم اس بات پر جس کو میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں ایمان لانے سے اعراض کیے جاؤ تو میں نے تم سے اس تبلیغ ایمان پر کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا کیوں کہ میں تمہیں جو ایمان کی دعوت دے رہا ہوں، اس پر ثواب ومعاوضہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے اور چوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اطاعت کرنے والوں کے ساتھ ان کے دین پر قائم رہوں۔
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ۔۔ : یعنی اگر تم میری دعوت ٹھکرانے پر اصرار کرو تو میرا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی۔ تمہارے نہ ماننے یا بےرخی کرنے سے میرے ثواب اور مزدوری میں کمی نہیں ہوگی، وہ میرے اللہ کے ذمے ہے، جو مجھے کبھی تمہارا محتاج نہیں ہونے دے گا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (132) میری طرف سے تمہیں ایمان لانے کی دعوت بھی تمہارے ہی فائدے کے لیے ہے اور مجھے حکم ہے کہ مسلمین (حکم ماننے والوں) سے ہوجاؤں۔ معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین اسلام ہی تھا اور وہ سب مسلم تھے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 72
قولہ تعالیٰ : (آیت) فان تولیتم فماسالتکم من اجر یعنی پس اگر تم نے اس سے اعراض کرلیا ہے جو میں لے کے تمہارے پاس آیا ہوں تو یہ اس لیے نہیں کہ میں نے تم سے کوئی اجر طلب کیا ہے پس میر امعاوضہ اور بدلہ تم پر بھاری اور ثقیل ہوجائے گا۔
(آیت) ان اجری الا علی اللہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے سلسلہ میں میرا اجر تو فقط اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (آیت) وامرت ان اکون من المسلمین اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ماننے والوں میں سے ہوجائوں۔ اہل مدینہ ابو عمرو، ابن عامر اور حفص نے اجری میں یاکوفتحہ دیا ہے جہاں بھی واقع ہوا اور باقیوں نے اسے ساکن پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ارج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ سے مراد ہے کہ تم اپنے معاملہ کا فیصلہ کرو اور اپنے شریکوں کو بھی بلاؤ۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ یعنی چاہئے کہ تم اپنے کام کو اپنے ساتھ جمع کرلو۔
3:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ “ یعنی تم پر تمہارا فیصلہ بھاری نہ ہوجائے۔ پھر تم فیصلہ کرنے والے ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم اقضوا الی “ یعنی پھر تم جلدی سے حملہ آور…
Read the full tafseer →فَاِنْ [ پھر اگر ] تَوَلَّيْتُمْ [ تم لوگ منھ موڑتے ہو ] فَمَا سَاَلْتُكُمْ [ تو میں نہیں مانگتا تم سے ] مِّنْ اَجْرٍ ۭ [ کسی قسم کا کوئی اجر ] اِنْ اَجْرِيَ [ نہیں ہے میرا اجر ] اِلَّا [ مگر ] عَلَي اللّٰهِ ۙ [ اللہ پر ] وَاُمِرْتُ [ اور مجھے حکم دیا گیا ] اَنْ [کہ ] اَكُوْنَ [ میں ہوجاؤں ] مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
حضرت نوح (علیہ السلام) کا جرأت کے ساتھ اپنی قوم سے خطاب فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق ہوجانا
ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے تفصیل کے ساتھ آئندہ سورة ھود اور سورة نوح میں مذکور ہے۔ نیز سورة اعراف (رکوع 8) میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کو دوبارہ دیکھ لیں اور سورة ہود (رکوع 3) اور (رکوع 4) کی تفسیر کا مطالعہ کرلیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال قیام فرمایا ان کو طرح طرح سے سمجھایا توحید کی دعوت دی شرک کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی لیکن وہ لوگ برابر مخالفت کرتے رہے اور دشمنی پر اتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
قصۂ نوح (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالی۔ واتل علیھم نبا نوح۔۔۔ الی۔۔۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین
(ربط): یہاں تک اصول دین توحید اور رسالت اور قیامت کو دلائل وبراہین سے بیان کیا اور منکرین کے شبہات اور سوالات کے جوابات دئیے۔ اب آں حضرت ﷺ کی تسلی کے لیے اور متکبرین اور منکرین نبوت کی تہدید اور عبرت کے لیے انبیاء سابقین کے چند واقعات ذکر کرتے ہیں۔ تاکہ کفار عرب ان واقعات سے عبرت پکڑیں کہ انبیاء اللہ کے مقابلے میں قوت و شوکت کام نہیں دیتی اور باوجود قوت و شوکت کے مکذبین اور مفترین کو کامیابی حاصل نہیں ہوتی سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا جو سب کے جد امجد اور آدم ثانی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
93: اگر تم نہیں مانتے ہو تو میرا اس میں کیا نقصان ہے میں تبلیغ توحید پر تم سے کوئی اجرت تو نہیں مانگتا کہ تمہارے نہ ماننے سے مجھے مالی نقصان کا اندیشہ ہو میں تو محض اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے تمہیں تبلیغ کرتا ہوں۔ “ فَکَذَّبُوْہ ” لیکن وہ لوگ تکذیب پر اڑے رہے آخر ہم نے ان کو غرق کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو طوفان سے بچا لیا۔ اب دیکھ لو نہ ماننے والوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ربط آیات
گذشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت اور دعوت الی القرآن کا کافی تذکرہ ہوچکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل اور شرک کا رد فرمایا ہے۔ رسالت کے منکرین کی بھی تردید ہوچکی ہے۔ اب یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کا تھوڑا سا واقہ تمثیل کے طور پر بیان کیا ہے ، اس کے بعد نام لیے بغیر دوسرے رسولوں کا ذکر بھی کیا ہے اور آگے چل کر حضرت موسیٰ اور ہارون علیما السلام کا تفصیل کے ساتھ بیان آئیگا۔ ان دو انبیاء کے واقعات بیان کر کے مشرکین مکہ کو تنبیہ کی گئی ہے۔ حضرت نوح اور موسیٰ علیما السلام کی اقوام کے لوگ بھی غرور وتکبر میں مبتلا تھے اور اسی طرح حضور ﷺ کے مخاطبین مشرکین بھی بڑی اکڑ…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ 0 ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللہِ 0 ۙ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ 72
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
1 ؎ وعظ کرنے کے لئے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ میرا رہنا۔ 12 منہ
ترکیب : اذ طرف والعامل فیہ بناء والجملۃ بدل من نباء نوح فعلی اللہ جواب۔ کان کبر فاجمعوا معطوف علیہ اتقولون اس کا مفعول سحر محذوف الکبریا اسم تکون لکما خبرہ ما جئتم بہ السحر ما استفہامیہ مبتداء وجئتم خبر والسحر بدل منہ اور ما کو خبریہ کہا جاوے تو یہ موصولہ جئتم صلہ یہ سب مبتداء السحر خبر جملہ محلا منصوب قال کا مفعول ہو کر ملائہم الضمیر عائد الی الذری ولم یونث لان الذریۃ قوم فھومذکر وقبل یرجع الی القوم ان یفتنہم بدل من فرعون تقدیرہ علی خوف من فتنۃ فرعون ان تبوآ تفسیر ہے اوحینا کی قبلۃ مفعول اجعلوا ای مصلی تصلون فیہ لتامنوا من الخوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَانُوْحٍ م اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنْ کَانَ کَبُرَعَلَیْکُمْ مَّقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَکُمْ وَشُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ لاَ یَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمّۃًَ ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَیَّ وَلاَ تُنْظِرُوْنَ ۔ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ ط اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ لا وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (یونس : 71، 72 )
(اور پڑھ کر سنائو انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اگر گراں ہوگیا ہے تم پر تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح کی قوم نے فوت شدہ بزرگوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اور انہیں اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ حضرت نوح نے انہیں بہت روکا مگر وہ باز نہ آئے۔ جس کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو سمجھایا مگر قوم سمجھنے کی بجائے گمراہی اور دشمنی میں آگے ہی بڑھتی گئی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے رہے کہ میں اس محنت شاقہ اور صبح، شام کی محنت پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میرا معاملہ اور اجروثواب اللہ کے ہاں ہے۔ لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی الٹا الزام پہ الزام دیتی اور ان سے عذاب کا مطالبہ کرتی رہے۔
اس صورت حال…
Read the full tafseer →72: فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ (پس اگر تم منہ موڑو) اگر تم میری نصیحت سے اعراض کرو۔ اور میری خیر خواہانہ باتوں سے رخ موڑو۔ فَمَاسَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ (پس میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا) نمبر 1۔ کہ جس سے لازماً منہ موڑا جائے۔ یا نمبر 2۔ میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا کہ تمہارے منہ موڑنے سے وہ رہ جائے گی اور میں اس سے محروم رہ جائونگا۔ اِنْ اَجرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ (میرا اجر اللہ تعالیٰ ہی کے ذمہ ہے) اور وہ میرا اجر وثواب آخرت ہے جو مجھے آخرت میں مل جائے گا۔ یعنی میں نے تمہیں یہ نصیحت فقط اللہ تعالیٰ کی خاطر کی کسی دنیاوی غرض کی بناء پر نہیں کی۔
نکتہ : اس میں دلالت ہے کہ تعلیم قرآن اور…
Read the full tafseer →72۔ ” فان تولیتم “ تم نے میرے قول اور نصیحت کو قبول کرنے سے اعراض کیا ۔ ” فما سالتکم “ اپنے لیے رسالت اور دعوت کی تبلیغ پر ۔ ” من اجر عوض ان اجری “ نہیں ہے میرا اجر اور ثواب ۔ ” الاعلی اللہ وامرت ان اکون من السملمین “ یعنی مؤمنین میں سے اور کہا گیا ہے کہ اللہ کے حکم پر سرجھکانے والوں میں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
72۔ 73۔ اس سے اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ﷺ کو حکم تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ان کفار عرب کو سنادو کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میرا یہاں ٹھہرنا اور بت پرستی کی مذمت کا کرنا اگر تمہیں گراں گزرتا ہے تو تم اور تمہارے جھوٹے معبود سب اکٹھے ہو کر جو کچھ میرے ساتھ کرنا چاہو اس کے کر بیٹھنے میں تامل نہ کرو اس آیت میں فرمایا کہ نوح نے اپنی قوم سے یہ بھی کہا کہ تم لوگ اگر کسی خرچ کے بار سے ڈر کر میری نصیحت سے منہ موڑتے ہو تو میں اس کی مزدوری تم سے کچھ نہیں چاہتا اس کا اجر تو خدا ہی دے گا اور مجھ تو یہی حکم ہے کہ میں مسلمان رہوں اور تم کو بھی اسی طرح کی نصیحت کرتا رہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت : (71-73)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے فرماتا ہے : (واتل علیھم) ” اور ان کو سنائیے “ یعنی اپنی قوم کے سامنے تلاوت کر دیجئے (نبا نوح) ” نوح کا حال “ یعنی جب نوح علیہ الصلوۃ السلام کی دعوت کا حال ‘ جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی وہ ایک طویل مدت تک ان کو دعوت دیتے رہے۔ پس وہ اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس برس تک رہے مگر ان کی دعوت نے ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کیا اور وہ آپ کی دعوت سے اکتا گئے اور سخت تنگ آگئے۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کی دعوت دینے میں کسی سستی کا مظاہرہ کیا نہ کوتاہی کا ‘ چناچہ آپ ان سے کہتے رہے : (یقوم ان کان کبر علیکم مقامی وتذکیری) ” اے میری قوم ! اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
127 ۔ بندے کا کام اپنے رب کے آگے سر تسلیم خم کردینا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر تم لوگ پھرے ہی رہے راہ حق و صواب سے اور تم نے میری بات نہ مانی تو اس میں میرا کیا نقصان ؟ میں نے تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں مانگا۔ میرا اجر تو بس اللہ ہی کے ذمے ہے۔ اور مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں سے رہوں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بندے کا کام ہر حال میں اپنے رب کا فرمانبردار رہنا ہے اور بس۔ کہ یہ اس کے رب کا اس پر حق ہے۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ مجھے تو بہرحال یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں۔ اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
سیدنا نوح (علیہ السلام) کا پیغام، قوم کی ضد اور اس کا انجام
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے کفار و مشرکین اور ہر زمانے کے منکرین الٰہی کے لیے بڑی زبردست مثال دی گئی ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے پیغام، وعظ اور نصیحت سے سبق نہیں سیکھتے اور اللہ پر ایمان نہیں لاتے، برائیوں کو چھوڑ کر نیکیوں کو اختیار نہیں کرتے وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ بالآخر ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و خوار ہی کیے جائیں گے۔ جیسا کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) اور پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کو گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیات 71 تا 82
اسرار و معارف
کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یعنی میری دعوت بالکل بےلاگ ہے وہی اس کا مجھے ثواب دے گا۔ تمہارے ماننے یا اعراض کرنے سے میرے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ میری طرف سے تمہیں ایمان لانے کی دعوت بھی تمہارے ہی فائدے کے لئے ہے۔ (کبیر۔ شوکانی)
Read the full tafseer →(10:72) فان۔ بایں ہمہ اگر۔ اگر پھر بھی۔ تولیتم۔ تم پھرتے ہو۔ تم منہ موڑتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تولی سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 73
اتل (تلاوت کر، پڑھ کر سنا نبا (خبر، واقعہ، قصہ) کبر (بڑا ہے، بھاری ہے) مقامی (میرا ٹھہرنا) تذکیری (میرا یاد دلانا) توکلت (میں نے بھروسہ کرل یا، تو کل کرلیا) اجمعوآ (تم سب جمع ہو جائو، تم پکاکر لو) غمۃ (کچھ شبہ، کچھ شک) اقضوا (کر گذرو، فیصلہ کرلو) لاتنظرون (تم مجھے مہت نہ دو ) ماسالت (میں نے نہیں مانگا) اجر (اجرت، مختانہ) امرت (مجھے حکم دیا گیا ہے)
تشریح : آیت نمبر 71 تا 73
اس سورة کے آغاز ہی سے توحید و رسالت، قیامت و آخرت اور جزا و سزا کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ معقول اور بہتر دلائل اور نصیحتوں کے انداز میں یہ بتایا گیا کہ اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
اس سے اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ان کفار عرب کو سنا دو ۔ اس آیت میں فرمایا کہ نوح علیہ اسلام نے اپنی قوم سے یہ بھی کہا کہ تم لوگ اگر کس خرچے کے بارے میں ڈر کر میری نصیحت سے منہ موڑتے ہو تو میں اس کی مزدوری تم سے نہیں چاہتا اس کا اجر تو خدا ہی دے گا۔ اور مجھے تو یہی حکم ہے کہ میں مسلمان رہوں اور تم کو بھی اسی طرح نصیحت کرتا رہوں۔ مگر اس قوم کو ایمان نہ لانا تھا نہ لائی حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلائے گئی، پھر وہ طوفان آیا کہ پہاڑوں سے بھی کہیں اونچا پانی ہوگیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) مع اسی آدمی جس میں چالیس مرد اور چالیس عورتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
[28] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →(ف 1) انبیاء (علیہم السلام) بےخوف اس لئے ہوتے ہیں کہ ان کی روزی لوگوں سے وابستہ نہیں ہوتی ، وہ تبلیغ کے گرانقدر فرائض بھی ادا کرتے ہیں ، اور اپنا آذوقہ حیات بھی بہم پہنچاتے ہیں ۔
جو لوگ قوم کے صدقات پر پلتے ہیں ، ان سے حق گوئی کی توقع نہیں کی جاسکتی ، انبیاء (علیہم السلام) کا اسوہ یہ ہے کہ اس قسم کی پیشہ ورانہ مشیخت کا خاتمہ کردیا جائے ۔
Read the full tafseer →72 پھر اس پر بھی اگر تم روگرانی اور اعراض ہی کرتے رہوتو تم جانتے ہو کہ میں نے تم سے کوئی مزدوری اور معاوضہ تو طلب نہیں کیا میرا معاوضہ تو بس اللہ کے ذمہ ہے اور مجھ کو تو یہ حکم کیا گیا ہے کہ میں اطاعت کرنے والوں اور فرماں برداروں میں رہوں نہ مجھ کو خوف ہے نہ تم سے کوئی طمع اور لالچ ہے مجھ کو تبلیغ کا حکم ہے میں اس کی تعمیل کر رہا ہوں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ غرض نہ تم سے ڈرتا ہوں نہ کچھ خواہش رکھتا ہوں۔
Read the full tafseer →تم میری دعوت سے کیوں روگرداں ہو میں تم تو سے کسی مزدوری کا خواہاں نہیں
103 ؎ فرمایا اے میری قوم کے لوگو ! ذرا اپنے اعراض کی وجہ تو بتا دو کہ آخر تم کو کونسی چیز مانع ہے۔ کیا میں نے اس دعوت پر تم سے کوئی اجرت طلب کی جس کے بوجھ کے نیچے تم دبتے چلے جا رہے ہو ؟ میری مزدوری تو میرے رب کے ذمہ ہے۔ میں نے تو تم سے کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ کچھ فکر کرو گے تو بات معلوم ہوجائے گی ، کوئی پیغمبر بھی قانون الٰہی کی پابندیوں سے مافوق اور ماوراء نہیں ہوتا بلکہ ساری امت کی طرح وہ خود بھی اس کا پوری طرح پابند ہوتا ہے ۔ اس میں ان جاہلی قوموں کے اس نظریہ کی تردید خود بخود ہوگئی جو اپنی دیوی ، دیاتائوں ، پیروں ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
69. In the preceding verses a combination of convincing arguments and persuasive instruction was employed to drive home to the people that their intellectual outlook and way of life were faulty. As opposed to that, the right way for mankind was highlighted and it was shown why that way was right. Thereafter, attention was paid to candidly exposing the attitude which the unbelievers had adopted during the past eleven years: instead of mending their ways in the light of the reasonable criticism to which they had been subjected and in response to the right guidance offered to them, they became…
Read the full tafseer →