Explained with ayahs 71–73
نوح ؑ کی قوم کا کردار
اے رسول ﷺ تو انہیں حضرت نوح ؑ کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کردیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیے اور میری پکڑ سے بےخوف نہ ہونا چاہئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ حضرت نوح ؑ نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
سورة یُوْنُس 69
یہاں تک تو ان لوگوں کو معقول دلائل اور دل کو لگنے والے نصائح کے ساتھ سمجھایا گیا تھا کہ ان کے عقائد اور خیالات اور طریقوں میں غلطی کیا ہے اور وہ کیوں غلط ہے، اور اس کے مقابلے میں صحیح راہ کیا ہے اور وہ کیوں صحیح ہے۔ اب ان کے اس طرز عمل کی طرف توجہ منعطف ہوتی ہے جو وہ اس سیدھی سیدھ اور صاف صاف تفہیم و تلقین کے جواب میں اختیار کر رہے تھے۔ دس گیارہ سال سے ان کی روش یہ تھی کہ وہ بجائے اس کے اس معقول تنقید اور صحیح رہنمائی پر غور کر کے اپنی گمراہیوں پر نظر ثانی کرتے، الٹے اس شخص کی جان کے دشمن ہوگئے تھے جو ان باتوں کو اپنی کسی ذانی غرض کے لیے نہیں بلکہ انہی کے بھلے کے لیے پیش کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان کو نوح ؑ کا قصہ پڑھ کر سنایئے (جو کہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم اگر تم کو میرا رہنا (یعنی وعظ گوئی کی حالت میں رہنا) اور احکام خداوندی کی نصیحت کرنا بھاری (اور ناگوار) معلوم ہوتا ہے تو (ہوا کرے میں کچھ پرواہ نہیں کرتا کیونکہ) میرا تو خدا ہی پر بھروسہ ہے سو تم (میرے ضرر پہنچانے کے متعلق) اپنی تدابیر (جو کچھ کرسکو) مع اپنے شرکاء (یعنی بتوں) کے پختہ کرلو (یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپنا ارمان نکال لو) پھر تمہاری وہ تدبیر تمہاری گھٹن (اور دل تنگی) کا باعث نہ ہونا چاہئے (یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبعیت گھٹا…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 71۔ 93:۔ آگے حضرت نوح اور حضرت موسیٰ کی سرگزشت کسی قدر تفصیل کے ساتھ اور درمیان کے رسولوں کی اجمالاً مذکور ہوئی ہے مقصود ان سرگزشتوں کے حوالہ سے انہی حقائق کو تاریخ کی روشنی میں واضح کرنا ہے جو اوپر عقل و فطرت کے دلائل سے مبرہن کیے گئے ہیں۔ ان میں پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کے لیے سرمایہ تسکین اور آپ کے معاندین و مخالفین کے لیے پورا پورا درس عبرت موجود ہے۔ فرق اگر ہے تو نام ومقام اور زمانے کا ہے۔ اصل داستان اس قدر باہمدگر مشابہ ہے کہ نام و مقام کے فرق کو نظر انداز کردیجیے تو سرے سے کوئی فرق ہی نہیں رہ جاتا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ ۘ اِذْ قَالَ…
Read the full tafseer →71۔ 1 یعنی جن کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے ان کی مدد بھی حاصل کرلو (اگر وہ گمان کے مطابق
تمہاری مدد کرسکتے ہیں)
71۔ 2 غُمَّۃً کے دوسرے معنی ہیں، گول مول بات اور پوشیدگی۔ یعنی میرے خلاف تمہاری تدبیر واضح اور غیر مشکوک ہونی چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
29: یعنی اولاد کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ یا تو وہ زندگی کے کاموں میں باپ کی مدد کرے، یا کم از کم اسے نفسیاتی طور پر صاحب اولاد ہونے کی خواہش ہو، اللہ تعالیٰ ان دونوں باتوں سے بےنیاز ہے، اس لیے اسے کسی اولاد کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →واتل علیھم نبا نوح اور (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ (مکہ والوں کو) نوح کی خبر پڑھ کر سنائیے۔ یعنی قوم کے ساتھ حضرت نوح کی سرگزشت ان کے سامنے پڑھئے۔
اذ قال لقومہ یاد کیجئے کہ جب نوح نے اپنی قوم سے کہا۔ برقول بغوی قوم نوح قابیل کی نسل سے تھی ‘ لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ حضرت نوح ‘ حضرت شیت کی نسل میں سے تھے ‘ قابیل کی نسل میں سے نہیں تھے اور چونکہ قوم کی نسبت حضرت نوح کی طرف کی گئی ہے ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم نوح حضرت شیت کی نسل میں سے تھی۔
یقوم ان کان کبر علیکم مقامی اے میری قوم ! اگر تم پر میرا قیام شاق ہوگیا ہو۔ یعنی مدت دراز تک تمہارے اندر میرا رہنا یا دعوت پر قائم رہنا اگر تمہارے لئے ناگوار…
Read the full tafseer →3 یعنی اہل مکہ کو نوح اور اس کی قوم کا حال سنا۔ تاکہ معلوم ہو کہ مکذبین و مفترین کو حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ان کی اچھل کود اور چمک دمک محض چند روزہ ہے جو انجام کار ہلاکت ابدی پر منتہی ہوتی ہے۔ اہل مکہ کو قوم نوح کا قصہ سن کر عبرت حاصل کرنا چاہیے کہ اگر وہ خاتم الانبیاء ﷺ کی تکذیب و عداوت اور اپنی شرکیات سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی ویسا ہی ہوسکتا ہے جو نوح کی تکذیب کرنے والوں کا ہوا۔ نیز اس واقعہ کے بیان کرنے میں پیغمبر ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان لوگوں کی دشمنی اور شرارت سے زیادہ دلگیر نہ ہوں۔ ہر نبی کو اس قسم کے حالات کا مقابلہ کرنا پڑا ہے پھر آخر میں حق ہی غالب ہو کر رہا اور حق…
Read the full tafseer →اب انباء الرسل کے سلسلے میں دو رکوع آ رہے ہیں ‘ جن کا آغاز سورت میں ذکر ہوا تھا کہ ان میں پہلے حضرت نوح کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ آدھے رکوع میں ہے اور بعد میں حضرت موسیٰ کا ذکر قدرے تفصیل سے ڈیڑھ رکوع میں آیا ہے۔ درمیان میں صرف حوالہ دیا گیا ہے کہ ہم نے مختلف قوموں کی طرف رسولوں کو بھیجا ‘ اس سلسلے میں کسی رسول علیہ السلام کا نام نہیں لیا گیا۔
اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ مَّقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ
میرا دعوت حق کے ساتھ کھڑا ہونا اور تبلیغ و تذکیر کا میرا یہ عمل اگر تم پر بہت شاق گزر رہا ہے کہ تم میرا مذاق اڑاتے ہو اور مجھ پر آوازے کستے ہو تو مجھے…
Read the full tafseer →84 اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی سیدنا نوح کا اپنی قوم کو چیلنج :۔ مشرکوں کے پاس اپنے مذہب کی صداقت میں سب سے مؤثر جواب یہ ہوتا ہے کہ اگر تم لوگوں نے ان کے معبودوں یا اولیاء اللہ کی شان میں کوئی گستاخی کی بات کی یا ان کی توہین کی تو وہ تم پر فلاں فلاں مصیبت ڈھا دیں گے اور تباہ و برباد کرکے رکھ دیں گے ایسے عقائد کے وہ خود بھی معتقد ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ سیدنا نوح سے لے کر آج تک بدستور چلا آرہا ہے آپ آج بھی اولیائے کرام کا کوئی تذکرہ اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو اس میں ایسی تہدید اور دھمکیاں مل جائیں گی کہ فلاں بزرگ کی فلاں شخص نے یوں توہین کی اس کا…
Read the full tafseer →106۔ (جس کا مذہب شرک وبت پرستی تھا) حضرت نوح (علیہ السلام) جن کا شمار قدیم ترین انبیاء میں ہے ان کی شخصیت ان کے زمانہ ان کے ملک وغیرہ پر حاشیے پیشتر گزر چکے۔
107۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جب مسلسل اور بہت طویل تبلیغ کے بعد اپنی قوم سے عاجز آگئے ہیں اور مایوس ہوچکے ہیں تو اب اس سے انقطاعی گفتگو اس رنگ میں فرما رہے ہیں۔ (آیت) ” مقامی “۔ بعض مفسرین نے لفظ مقام سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) تبلیغی وعظ اور خطبہ کھڑے ہو کردیا کرتے تھے، وعظ وخطبہ کے وقت کھڑے رہنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت منقول ہے۔ (آیت) ” فعلی اللہ توکلت “۔ تو اب میں تمہاری یا کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیت نمبر 71 تا 82
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو…
Read the full tafseer →واتل علیھم نبا نوح اور (اے محمد ﷺ ! ) آپ (مکہ والوں کو) نوح کی خبر پڑھ کر سنائیے۔ یعنی قوم کے ساتھ حضرت نوح کی سرگزشت ان کے سامنے پڑھئے۔
اذ قال لقومہ یاد کیجئے کہ جب نوح نے اپنی قوم سے کہا۔ برقول بغوی قوم نوح قابیل کی نسل سے تھی ‘ لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ حضرت نوح ‘ حضرت شیت کی نسل میں سے تھے ‘ قابیل کی نسل میں سے نہیں تھے اور چونکہ قوم کی نسبت حضرت نوح کی طرف کی گئی ہے ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم نوح حضرت شیت کی نسل میں سے تھی۔
یقوم ان کان کبر علیکم مقامی اے میری قوم ! اگر تم پر میرا قیام شاق ہوگیا ہو۔ یعنی مدت دراز تک تمہارے اندر میرا رہنا یا دعوت پر قائم رہنا اگر تمہارے لئے ناگوار ہوگیا…
Read the full tafseer →(71) اور آپ ان کو بذریعہ قرآن کریم نوح ؑ کا واقعہ پڑھ کر سنائیے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اگر تمہیں میرا رہنا اور میرا زیادہ قیام اور عذاب الہی سے میرا تمہیں ڈرانا بھاری اور ناگوار معلوم ہوتا ہے تو میرا تو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسا ہے اور میں نے اپنے تمام کام اس کے سپرد کردیے ہیں، سو تم اپنی تدبیر اور اپنا معاملہ مع اپنے شرکاء کی مدد کے پختہ کرلو پھر تمہارا معاملہ تمہاری تنگی کا باعث نہ ہو اور تمہاری وہ تدبیر تمہارے نقصان کا باعث نہ ہو اور میرے ساتھ جو کچھ کرنا ہے وہ کر کزرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔
Read the full tafseer →وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ۔۔ : نبوت پر کفار کے شبہات اور ان کے مدلل جوابات بیان کرنے کے بعد یہاں کئی انبیاء کا ذکر فرمایا، خصوصاً تین انبیاء کے قصے کچھ تفصیل سے بیان فرمائے۔ اس میں کئی حکمتیں ہیں : 1 انداز بیان بدلنے اور نئی بات شروع کرنے سے سننے والوں میں اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی اور آدمی خوش دلی اور رغبت سے بات سنتا رہتا ہے۔ ایک ہی قسم کی بات خواہ کتنی علمی ہو، لمبی ہوجائے تو رغبت کم ہوجاتی ہے۔ 2 تاکہ رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے پیروکاروں کو ان واقعات کے سننے سے تسلی ہو اور وہ کفار کی ایذا رسانی سے ملول نہ ہوں، بلکہ ان انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو اپنے لیے اسوہ اور نمونہ بنائیں۔ 3 کفار کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 71
قولہ تعالیٰ : (آیت) واتل علیھم نبا نوح اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے حکم ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے سام نے پہلے لوگوں کے قصے اور واقعات بیان فرمائیں اور انہیں کفر اختیار کرنے پر دردناک عذاب سے ڈرائیں (اور خوفزدہ کریں) اتل میں وائو کو حذف کردیا گیا ہے کیونکہ یہ امر ہے، یعنی آپ ان پر حضرت نوح (علیہ السلام) کی خبر پڑھ کر بیان کریں۔ (آیت) اذقال لقومہ اس میں اذمحل نصب میں ہے۔ (آیت) لقوم ان کان کبر علیکم یعنی اگر تم بھاری اور ثقیل ہے۔ مقامی، المقام (میم کے فتحہ کے ساتھ ہو) تو معنی وہ جگہ ہے جس میں قیام ہوتا ہے۔ اور المقام (میم کے ضمہ کے ساتھ ہو) تو معنی الاقامۃ (قیام کرنا ہوتا ہے ) ۔ اور جہاں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ارج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ سے مراد ہے کہ تم اپنے معاملہ کا فیصلہ کرو اور اپنے شریکوں کو بھی بلاؤ۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ یعنی چاہئے کہ تم اپنے کام کو اپنے ساتھ جمع کرلو۔
3:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ “ یعنی تم پر تمہارا فیصلہ بھاری نہ ہوجائے۔ پھر تم فیصلہ کرنے والے ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم اقضوا الی “ یعنی پھر تم جلدی سے حملہ آور…
Read the full tafseer →وَاتْلُ عَلَيْهِمْ [اور آپ پڑھ کر سنائیں ان لوگوں کو ] نَبَاَ نُوْحٍ ۘ [ نوح کی خبر ] اِذْ [ جب ] قَالَ [ انھوں نے کہا ] لِقَوْمِهٖ [ اپنی قوم سے ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اِنْ [ اگر ] كَانَ [ ہے ] كَبُرَ [ بھاری ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] مَّقَامِيْ [ میرا کھڑا ہونا ] وَتَذْكِيْرِيْ [ اور میرا نصیحت کرنا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی آیات سے ] فَعَلَي اللّٰهِ [ تو اللہ پر ہی ] تَوَكَّلْتُ [ میں نے (تو ) بھروسہ کیا ] فَاَجْمِعُوْٓا [پھر تم لوگ جمع کرو ] اَمْرَكُمْ [ اپنے مشورہ کو ] وَشُرَكَاۗءَكُمْ [ اور اپنے شریکوں کو ] ثُمَّ [ پھر ] لَا يَكُنْ [ چاہیے کہ نہ ہو ] اَمْرُكُمْ [ تمہارا مشورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
حضرت نوح (علیہ السلام) کا جرأت کے ساتھ اپنی قوم سے خطاب فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق ہوجانا
ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے تفصیل کے ساتھ آئندہ سورة ھود اور سورة نوح میں مذکور ہے۔ نیز سورة اعراف (رکوع 8) میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کو دوبارہ دیکھ لیں اور سورة ہود (رکوع 3) اور (رکوع 4) کی تفسیر کا مطالعہ کرلیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال قیام فرمایا ان کو طرح طرح سے سمجھایا توحید کی دعوت دی شرک کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی لیکن وہ لوگ برابر مخالفت کرتے رہے اور دشمنی پر اتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
قصۂ نوح (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالی۔ واتل علیھم نبا نوح۔۔۔ الی۔۔۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین
(ربط): یہاں تک اصول دین توحید اور رسالت اور قیامت کو دلائل وبراہین سے بیان کیا اور منکرین کے شبہات اور سوالات کے جوابات دئیے۔ اب آں حضرت ﷺ کی تسلی کے لیے اور متکبرین اور منکرین نبوت کی تہدید اور عبرت کے لیے انبیاء سابقین کے چند واقعات ذکر کرتے ہیں۔ تاکہ کفار عرب ان واقعات سے عبرت پکڑیں کہ انبیاء اللہ کے مقابلے میں قوت و شوکت کام نہیں دیتی اور باوجود قوت و شوکت کے مکذبین اور مفترین کو کامیابی حاصل نہیں ہوتی سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا جو سب کے جد امجد اور آدم ثانی ہیں اور…
Read the full tafseer →91: یہ تخویف دنیوی کا پہلا تفصیلی نمونہ ہے۔ قوم نوح (علیہ السلام) کا حال دیکھ لو انہوں نے ہمارے پیغمبر کے حکم کی تعمیل نہ کی اور اس کی طرف سے دی گئی دعوت توحید کو قبول نہ کیا تو ہم نے ان کو نیست و نابود کردیا اگر تم نے بھی نہ مانا تو تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ “ امرہ علیه السلام ان یذکرھم اقاصیص المتقدمین و یخوفھم العذاب الالیم علی کفرھم ” (قرطبی) ۔
92:“ فَاجْمِعُوْا ” جملہ انشائیہ “ اِنْ ” شرطیہ کی جزا ہے اور “ شُرَکَاءَکُمْ ” کا ناصب محذوف ہے “ اي ادعوا شرکاء کم ” کیونکہ “ شرکاء کم ”، “ اَجْمِعُوْا ” کے تحت داخل نہیں ہوسکتا اس لیے لفظ اجماع بروزن افعال آراء جمع کرنے اور باہمی اتفاق رائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ربط آیات
گذشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت اور دعوت الی القرآن کا کافی تذکرہ ہوچکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل اور شرک کا رد فرمایا ہے۔ رسالت کے منکرین کی بھی تردید ہوچکی ہے۔ اب یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کا تھوڑا سا واقہ تمثیل کے طور پر بیان کیا ہے ، اس کے بعد نام لیے بغیر دوسرے رسولوں کا ذکر بھی کیا ہے اور آگے چل کر حضرت موسیٰ اور ہارون علیما السلام کا تفصیل کے ساتھ بیان آئیگا۔ ان دو انبیاء کے واقعات بیان کر کے مشرکین مکہ کو تنبیہ کی گئی ہے۔ حضرت نوح اور موسیٰ علیما السلام کی اقوام کے لوگ بھی غرور وتکبر میں مبتلا تھے اور اسی طرح حضور ﷺ کے مخاطبین مشرکین بھی بڑی اکڑ…
Read the full tafseer →وَاتْلُ عَلَيْہِمْ نَبَاَ نُوْحٍ 0 ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ يٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِيْ وَتَذْكِيْرِيْ بِاٰيٰتِ اللہِ فَعَلَي اللہِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّۃً ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُوْنِ 71
تلاوة
تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، لا يقال : تلوت رقعتک، وإنما يقال في القرآن في شيء إذا قرأته وجب عليك اتباعه . هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت[يونس/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
1 ؎ وعظ کرنے کے لئے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ میرا رہنا۔ 12 منہ
ترکیب : اذ طرف والعامل فیہ بناء والجملۃ بدل من نباء نوح فعلی اللہ جواب۔ کان کبر فاجمعوا معطوف علیہ اتقولون اس کا مفعول سحر محذوف الکبریا اسم تکون لکما خبرہ ما جئتم بہ السحر ما استفہامیہ مبتداء وجئتم خبر والسحر بدل منہ اور ما کو خبریہ کہا جاوے تو یہ موصولہ جئتم صلہ یہ سب مبتداء السحر خبر جملہ محلا منصوب قال کا مفعول ہو کر ملائہم الضمیر عائد الی الذری ولم یونث لان الذریۃ قوم فھومذکر وقبل یرجع الی القوم ان یفتنہم بدل من فرعون تقدیرہ علی خوف من فتنۃ فرعون ان تبوآ تفسیر ہے اوحینا کی قبلۃ مفعول اجعلوا ای مصلی تصلون فیہ لتامنوا من الخوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَانُوْحٍ م اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنْ کَانَ کَبُرَعَلَیْکُمْ مَّقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَکُمْ وَشُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ لاَ یَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمّۃًَ ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَیَّ وَلاَ تُنْظِرُوْنَ ۔ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ ط اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ لا وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (یونس : 71، 72 )
(اور پڑھ کر سنائو انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اگر گراں ہوگیا ہے تم پر تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح کی قوم نے فوت شدہ بزرگوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اور انہیں اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ حضرت نوح نے انہیں بہت روکا مگر وہ باز نہ آئے۔ جس کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو سمجھایا مگر قوم سمجھنے کی بجائے گمراہی اور دشمنی میں آگے ہی بڑھتی گئی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے رہے کہ میں اس محنت شاقہ اور صبح، شام کی محنت پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میرا معاملہ اور اجروثواب اللہ کے ہاں ہے۔ لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی الٹا الزام پہ الزام دیتی اور ان سے عذاب کا مطالبہ کرتی رہے۔
اس صورت حال…
Read the full tafseer →واقعہ نوح۔ :
71: وَاتْلُ عَلَیْھِمْ (انکو پڑھ کر سنائیں) نَبَاَنُوْحٍ (نوح (علیہ السلام) کا واقعہ) وہ واقعہ جو قوم کے ساتھ ان کو پیش آیا۔ اس پر وقف لازم ہے۔ اگر ایسا نہ کریں تو اذ، اُتْلُ کا ظرف بن جائے گا۔ حالانکہ تقدیرعبارت یہ ہے۔ اذکر اذ قال اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖ یٰـقَوْمِ اِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ جب انہوں نے اپنی قوم کو کہا اے میری قوم اگر تمہیں گراں گزرا ہے) بھاری و گراں معلوم ہوا جیسا کہ البقرہ۔ 45 وانھا لکبیرۃ الا علی الخاشعین۔ مَّقَامِیْ (میرا کھڑا ہونا) نمبر 1۔ میرا مرتبہ یعنی میری ذات جیسا کہ اس آیت 46 سورت الرحمان میں ولمن خاف مقام ربہ جنتان یعنی وہ اپنے رب کی ذات سے ڈرا۔ یا…
Read the full tafseer →تفسیر : 71۔ ” واتل علیھم نبا نوح “ یعنی اے محمد آپ اہل مکہ پر نوح (علیہ السلام) کی خبر پڑھیں ” اذقال لقومہ “ اور وہ قابیل کی اولاد تھے۔ ’ ’ یقوم ان کان کبر علیکم مقامی “ میری عمر کا لمبا ہونا اور تم میں ٹھہرنا ” وتذکیری “ اور میرا تمہیں نصیحت کرنا ” بآیات اللہ “ اس کے دلائل اور واضح نشانیوں کے ساتھ جس کی وجہ سے تم نے میرے قتل کا ارادہ کیا ” فعلی اللہ توکلت فاجمعوا امرکم “ یعنی اپنی تدبیر کو پختہ کرو اور اس پر پختہ ارادہ کرلو ۔ ” وشرکاء کم “ یعنی اپنے معبودوں کو بھی بلائو کہ وہ تمہاری مدد کریں تا کہ وہ بھی تمہارے ساتھ جمع ہوجائیں۔
اور زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی تم اپنے امر کو اپنے شرکاء…
Read the full tafseer →71۔ شروع سورة سے کئی رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کا ذکر فرما کر یہاں ختم سورت پر پہلے انبیاء اور ان کی امتوں کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ قریش کو اس ذکر سے ایک طرح کی تنیہ ہوجاوے کہ اگر یہ بھی باجود نصیحت اور سمجھانے کے اپنی نافرماین سے باز نہ آویں گے تو زمین پر سب سے پہلے غارت ہونے والی قوم امت نوح اور سب سے آخر غارت ہونے والی فرعون کی قوم کا لانے میں دیر کرتے ہیں تو اس کا کچھ غم و اندیشہ نہ کرنا چاہیے پہلے انبیاء کو بھی بڑی بڑی مدت دراز تک اپنی اپنی امتوں کو سمجھانا پڑا ہے دوسرے تسکین یہ کہ اگر قریش لوگ زیادہ سرکشی کریں گے تو آخر نبی کا پلہ بھاری رہے گا اور سرکش لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت : (71-73)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے فرماتا ہے : (واتل علیھم) ” اور ان کو سنائیے “ یعنی اپنی قوم کے سامنے تلاوت کر دیجئے (نبا نوح) ” نوح کا حال “ یعنی جب نوح علیہ الصلوۃ السلام کی دعوت کا حال ‘ جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی وہ ایک طویل مدت تک ان کو دعوت دیتے رہے۔ پس وہ اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس برس تک رہے مگر ان کی دعوت نے ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کیا اور وہ آپ کی دعوت سے اکتا گئے اور سخت تنگ آگئے۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کی دعوت دینے میں کسی سستی کا مظاہرہ کیا نہ کوتاہی کا ‘ چناچہ آپ ان سے کہتے رہے : (یقوم ان کان کبر علیکم مقامی وتذکیری) ” اے میری قوم ! اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
127 ۔ بندے کا کام اپنے رب کے آگے سر تسلیم خم کردینا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر تم لوگ پھرے ہی رہے راہ حق و صواب سے اور تم نے میری بات نہ مانی تو اس میں میرا کیا نقصان ؟ میں نے تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں مانگا۔ میرا اجر تو بس اللہ ہی کے ذمے ہے۔ اور مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں سے رہوں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بندے کا کام ہر حال میں اپنے رب کا فرمانبردار رہنا ہے اور بس۔ کہ یہ اس کے رب کا اس پر حق ہے۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ مجھے تو بہرحال یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں۔ اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
سیدنا نوح (علیہ السلام) کا پیغام، قوم کی ضد اور اس کا انجام
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے کفار و مشرکین اور ہر زمانے کے منکرین الٰہی کے لیے بڑی زبردست مثال دی گئی ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے پیغام، وعظ اور نصیحت سے سبق نہیں سیکھتے اور اللہ پر ایمان نہیں لاتے، برائیوں کو چھوڑ کر نیکیوں کو اختیار نہیں کرتے وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ بالآخر ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و خوار ہی کیے جائیں گے۔ جیسا کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) اور پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کو گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
آیات 71 تا 82
اسرار و معارف
کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ نبوت پر کفار کے شبہات اور مدلل جوابات بیان کرنے کے بعد یہاں تین انبیاء کے قصے بیان فرمائے۔ تاکہ آپو کو تسلی ہو اور کفار کی ایذارسانی سے آپ ﷺ طول نہ ہوں اور ان انبیا کو اسوہ بنائیں۔ نیز کفار کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ دنیا میں سب سے پہلے اور پھر سب سے آخر غرق ہونے والی قوموں کے انجام پر غور کریں اور اس قسم کی گستاخیوں سے باز آجائیں۔ پھر ان تاریخی قصوں کو کسی قسم کی کمی بیشی کے بغیر ایک امی نبی کا بیان کرنا بجائے خود ان کے صدق نبوت پر دلیل بھی ہے۔ (کبیر) ۔
11 ۔ یعنی ان بتوں کے ساتھ مل کر جنہیں تم جہالت اور بےشرمی سے خدا کا شریک قرار دیتے ہو۔
12 ۔ یعنی میرے مار ڈالنے کی جو اسکیم تم تیار کرو اس…
Read the full tafseer →(10:71) اتل۔ امر۔ واحد مذکر حاضر۔ تو پڑھ۔ تو تلاوت کو۔ قلاوۃ سے۔ نبا۔ خبر۔ اطلاع۔
کبر علی۔ گراں گزرنا۔ کبر علیہ الامر۔ یہ کام اس کے لئے دشوار ہے۔ اس کے لئے بھاری ہے۔ کبر۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب کرم) ناگوار ہونا۔
تذکیری۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرا نصیحت کرنا۔ میرا سمجھانا۔ تذکیر (تفعیل) مصدر ہے ذکر مادہ۔
غمۃ۔ تاریک۔ مشتبہ۔ مبہم۔ دشوار۔ پوشیدہ۔ الغم کے بنیادی معنی ہیں کسی چیز کو چھپا لینا۔ اسی طرح بادل کو الغمام کہتے ہیں کہ وہ سور کی روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے۔ ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ۔ پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے۔ یعنی اس کا کوئی پہلو تم پر پوشیدہ نہ رہ جائے جو بعد میں تمہارے لئے قلق و اضطراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 73
اتل (تلاوت کر، پڑھ کر سنا نبا (خبر، واقعہ، قصہ) کبر (بڑا ہے، بھاری ہے) مقامی (میرا ٹھہرنا) تذکیری (میرا یاد دلانا) توکلت (میں نے بھروسہ کرل یا، تو کل کرلیا) اجمعوآ (تم سب جمع ہو جائو، تم پکاکر لو) غمۃ (کچھ شبہ، کچھ شک) اقضوا (کر گذرو، فیصلہ کرلو) لاتنظرون (تم مجھے مہت نہ دو ) ماسالت (میں نے نہیں مانگا) اجر (اجرت، مختانہ) امرت (مجھے حکم دیا گیا ہے)
تشریح : آیت نمبر 71 تا 73
اس سورة کے آغاز ہی سے توحید و رسالت، قیامت و آخرت اور جزا و سزا کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ معقول اور بہتر دلائل اور نصیحتوں کے انداز میں یہ بتایا گیا کہ اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں…
Read the full tafseer →حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ، بت پرستی کب سے ہوئی
شروع سورة میں کئی رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کا ذکر فرما کر یہاں ختم سورة پر پہلے انبیاء اور ان کی امتوں کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ قریش کو اس ذکر سے ایک طرح کی تببیہ ہوجاوے، کہ اگر یہ بھی باوجود نصیحت اور سمجھانے کے اپنی نافرمانی سے باز نہ آویں گے تو زمین پر سب سے پہلے غارت ہونے والی قوم امت نوح اور سب سے آخر میں غارت ہونے والی فرعون کی قوم کا جو انجام ہوا وہی انجام ان کا ہوگا۔ اور آنحضرت ﷺ کو اس ذکر سے دو طرح کی تسکین فرمائی : ایک یہ کہ باوجود سمجھانے کے قریش لوگ اگر ایمان لانے میں دیر کرتے ہیں تو اس کا کچھ غم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
[28] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →نباء نوح :
(ف 1) نوح (علیہ السلام) کا قصہ عزم و استقلال کا نمونہ ہے ، یہ تقریبا ایک ہزار سال تک پہیم ومسلسل قوم میں تبلیغ کی ، اور دن رات وعظ ونصیحت ، مگر اس کا نتیجہ بجز عصیاں ونافرمانی کچھ نہ نکلا ، چاہئے تو یہ تھا کہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے مواعظ سے دلوں میں تبدیل پیدا کرتے ، برائیوں سے نفرت کرتے ، اور پاکباز و خدا پرست ہلنے کی سعی کرتے ، لیکن ہوا یہ کہ دل بغض وعناد کی غلاظتوں سے آلودہ ہوگئے نافرمانی و انکار کی لعنتوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیا ،
حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ہزار سالہ تبلیغی کوششوں کا صلہ دشمنی اور عداوت کی صورت میں ملا ، آپ نے کمال بےخوفی سے اعلان…
Read the full tafseer →71 اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان کو نوح (علیہ السلام) کا واقعہ پڑھ کر سنائیے جو اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ اس نے پانی قوم سے کہا اے میری قوم اگر میرا یہاں رہنا اور احکام الٰہی سنا کر میرا نصیحت کرنا تم پر شاق اور گراں گزرتا ہے تو ہوا کرلے میں نے تو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ اور توکل کر رکھا ہے سو اب تم مجھے نقصان پہنچانے کی اپنی کوئی تدبیر اپنے شرکاء سے مل کر پختہ طورپر طے کرلو پھر وہ تمہاری مقررہ تدبیر اور تجویز تم پر مخفی اور مشتبہ نہ رہے پھر جو کچھ میرے ساتھ کرنا ہے وہ کر گزرو اور مجھ کو ذرا بھی مہلت نہ دو یعنی میرا قیام اور میری تبلیغ تم کو گراں ہے تو ہو مجھے تو اپنا کام کرنا ہے اور کوئی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–71
ف 1۔ یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپناارمان پورا کرلو۔
2۔ یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبیعت گھٹا کرتی ہے سو خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں جو کچھ تدبیر کرو دل کھول کر علانیہ کرو اور نہ میرے چلے جانے نکل جانے کا اندیشہ کرو کیونکہ اتنے آدمیوں کے پہرے میں سے ایک آدمی کا نکل جانا بھی مستبعد ہے پھر اخفاء کی کیا ضرورت ہے۔
3۔ حاصل یہ کہ میں تمہاری ان باتوں سے نہ ڈرتا ہوں اور نہ تبلیغ سے رک سکتا ہوں۔
Read the full tafseer →آخرت کی کامیابی ہی کو کامیابی قرار دینے والا انسان کیا عزم و جزم رکھتا ہے
102 ؎ زیر نظر آیت انبیائے کرام (علیہ السلام) کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل واضح کرتی ہے یعنی وہ کامل یقین جو وہ اپنے مرسل من اللہ اور صادق ہونے کا ان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تم پر میری دعوت و تذکیر گراں گزرتی ہے اور مجھے اپنے بیان میں جھوٹا سمجھتے ہو تو جو کچھ بی تم میرے خلاف کرسکتے ہو زیادہ سے زیادہ کوشش اور زیادہ سے زیادہ اہتمام کے ساتھ کر گزرو ، تم سب جمع ہو جائو اور باہم وگر مشورے کرو ، وہ سب کی سب تدبریں جو میرے مٹانے کیلئے سوچی جاسکتی ہیں سوچ لو ۔ معاملہ کا کوئی پہلو ایسا نہ رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
69. In the preceding verses a combination of convincing arguments and persuasive instruction was employed to drive home to the people that their intellectual outlook and way of life were faulty. As opposed to that, the right way for mankind was highlighted and it was shown why that way was right. Thereafter, attention was paid to candidly exposing the attitude which the unbelievers had adopted during the past eleven years: instead of mending their ways in the light of the reasonable criticism to which they had been subjected and in response to the right guidance offered to them, they became…
Read the full tafseer →