Yunus 10:70

Yunus · from ayah 70

10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ ۟۠مَتَاعٌ فِى الدُّنۡيَا ثُمَّ اِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ ثُمَّ نُذِيۡقُهُمُ الۡعَذَابَ الشَّدِيۡدَ بِمَا كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ

(ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو شدید عذاب (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[For them is brief] enjoyment in this world; then to Us is their return; then We will make them taste the severe punishment because they used to disbelieve

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 7 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:70

دنیا کی چند روزہ زندگی میں مزے کر لیں، پھر ہماری طرف اُن کو پلٹنا ہے پھر ہم اس کفر کے بدلے جس کا ارتکاب وہ کر رہے ہیں ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو شدید عذاب (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش ہے پھر ہمارے پاس ان کو آنا ہے پھر ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان کے لیے) بس دنیا میں تھوڑا سا مزہ ہے، پھر ہمارے پاس ہی انہیں لوٹ کر آنا ہے، پھر کفر کا جو رویہ انہوں نے اپنا رکھا تھا، اس کے بدلے ہم انہیں شدید عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

دنیا میں کچھ برت لینا (فائدہ اٹھانا) ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

دنیا میں (چند روزہ) لطف اندوزی ہے پھر انہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے پھر ہم انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اس کے بدلے میں جو وہ کفر کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے، پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے، پھر ہم انھیں بہت سخت عذاب چکھائیں گے، اس کی وجہ سے جو وہ کفر کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(ان کے لئے جو) فائدے ہیں دنیا میں ہی ہیں۔ پھر انھیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر ہم انھیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے کیونکہ وہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے لیے بس دنیا میں چند روزہ فائدہ اٹھا لینا ہے۔ پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہوگی، پھر ہم ان کے کفر کی پاداش میں ان کو سخت عذاب چکھائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

دنیا میں کچھ مزے کرلیں، پھر ان سب کو بہرحال ہمارے ہی پاس آنا ہے لوٹ کر اس وقت ہم انھیں چکھائیں گے مزہ سخت عذاب کا اس کفر کے بدلے میں جس کا ارتکاب یہ لوگ کرتے رہے تھے ف

— مولانا اسحاق مدنی

دنیا (ہی) میں (بس) تھوڑا سا عیش ہے پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے پھر ہم انہیں سزائے سخت کا مزہ چکھائیں گے اس کفر کے بدلہ میں جو یہ کرتے رہتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

دنیا میں (ان کے لیے) برتنے کی کچھ چیزیں ہیں پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے پھر ہم انہیں مزہ چکھائیں گے بہت سخت عذاب کا اس کفر کی وجہ سے جو وہ کرتے رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں ہیں، پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اس وقت ہم ان کو عذاب شدید کے مزے چکھائیں گے۔ کیونکہ وہ کفر کی باتیں کیا کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They may enjoy the life of this world, but in the end they must return to Us, and then We shall cause them to taste severe chastisement for their disbelieving.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It will be a little enjoyment in this world; thereafter to Us they are bound to return; then We shall make them taste the severe punishment, because they used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani

It will be a little enjoyment in this world; thereafter to Us they are bound to return; then We shall make them taste the severe punishment, because they used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(A brief) enjoyment in this world! and then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This world's portion (will be theirs), then unto Us is their return. Then We make them taste a dreadful doom because they used to disbelieve.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[For them is brief] enjoyment in this world; then to Us is their return; then We will make them taste the severe punishment because they used to disbelieve

— Saheeh International

They may consider it a means of enjoyment in this life but (on the Day of Judgment) they will all return to Us. Then they will suffer for their disbelief the most severe punishment.

— Muhammad Sarwar

(It is only) a provision in this world, then to Us shall be their return; then We shall make them taste severe punishment because they disbelieved.

— Muhammad Habib Shakir

A brief enjoyment in the world; then unto Us is their return; then We will make them taste a severe torment, in that they have been disbelieving.

— Abdul Majid Daryabadi

A little enjoyment in this world!- and then, to Us will be their return, then shall We make them taste the severest penalty for their blasphemies.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–70

ساری مخلوق صرف اس کی ملکیت ہے جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہوجائے تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔ تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہوجائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو ؟ بھلا اس کی اولاد کیسے ہوگی ؟ اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہونے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 68–70

سورة یُوْنُس 66 اوپر کی آیات میں لوگوں کی اس جاہلیت پر ٹوکا گیا تھا کہ اپنے مذہب کی بنا علم کے بجائے قیاس و گمان پر رکھتے ہیں، اور پھر کسی علمی طریقہ سے یہ تحقیق کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے کہ ہم جس مذہب پر چلے جا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل بھی ہے یا نہیں۔ اب اسی سلسلہ میں عیسائیوں اور بعض دوسرے اہل مذاہب کی اس نادانی پر ٹوکا گیا ہے کہ انہوں نے محض گمان سے کسی کو خدا کا بیٹا ٹھیرا لیا۔ سورة یُوْنُس 67 سبحان اللہ کلمہ تعجب کے طور پر کبھی اظہار حیرت کے لیے بھی بولا جاتا ہے، اور کبھی اس کے واقعی معنی ہی مراد ہوتے ہیں، یعنی یہ کہ ”اللہ تعالیٰ ہر عیب سے منزہ ہے“۔ یہاں یہ کلمہ دونوں معنی دے رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–70

خلاصہ تفسیر وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور پر بنایا کہ (بوجہ روشن ہونے کے) دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے اس (بنانے) میں دلائل (توحید) میں ان لوگوں کے لئے جو (تدبر کے ساتھ ان مضامین کو) سنتے ہیں (مشرکین ان دلائل میں غور نہیں کرتے اور شرک کی باتیں کرتے ہیں چنانچہ) وہ کہتے ہیں (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے، سبحان اللہ (کیسی سخت بات کہی) وہ تو کسی کا محتاج نہیں (اور سب اس کے محتاج ہیں) اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (پس سب مملوک ہوئے اور وہ مالک ہوا پس ثابت ہوا کہ کمالات میں کوئی اس کا مشارک و مجانس نہیں، پس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 66–70

66۔ 70:۔ اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔ اوپر والی آیات جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا۔ بطور التفات تھی۔ اب توحید کے مضمون کو پھر لے لیا جو پیچھے سے چلا آرہا تھا۔ فرمایا کہ اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے، خواہ فرشتے یا جنات یا انسان، سب خدا ہی کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں، ان میں سے کسی کا یہ درجہ نہیں کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک وسہیم ہو تو جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ فی الحقیقت خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 69–70

69۔ 1 افترا کے معنی جھوٹی بات کہنے کے ہیں۔ اس کے بعد مذید ' جھوٹ ' کا اضافہ تاکید کے لئے۔ 69۔ 2 اس سے واضح ہے کہ کامیابی سے مراد آخرت کی کامیابی یعنی اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچ جانا محض دنیا کی عارضی خوش حالی، کامیابی نہیں۔ جیسا کہ بہت سے لوگ کافروں کی عارضی خوشحالی سے مغالطے کا اور شکوک و شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے اگلی آیت میں فرمایا : " یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش کرلیں پھر ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہے " یعنی یہ دنیا کا عیش، آخرت کے مقابلے میں نہایت قلیل اور تھوڑا سا ہے جو شمار میں نہیں۔ اس کے بعد انھیں عذاب شدید سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس لیے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–71

29: یعنی اولاد کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ یا تو وہ زندگی کے کاموں میں باپ کی مدد کرے، یا کم از کم اسے نفسیاتی طور پر صاحب اولاد ہونے کی خواہش ہو، اللہ تعالیٰ ان دونوں باتوں سے بےنیاز ہے، اس لیے اسے کسی اولاد کی ضرورت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

متاع فی الدنیا یہ دنیا میں (چند روزہ) تھوڑا سا عیش ہے۔ یعنی یہ دورغ بندی دنیا میں کچھ مزہ اڑانے کا سبب ہوجائے گی۔ اس طریقے سے وہ کفر کی حالت میں اپنی ریاست کو قائم رکھ سکیں گے۔ یا ان کی زندگی دنیوی متاع حقیر ہے۔ ثم الینا مرجعھم ثم نذیقھم العذاب الشدید بما کانوا یکفرون۔ پھر (موت کے بعد) ان کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی ‘ پھر ان کے کفر کی پاداش میں ہم ان کو عذاب شدید کا مزہ چکھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 69–70

2 یعنی خدا پر جھوٹ باندھنے والے خواہ دنیا میں کیسی ہی طاقت رکھتے ہوں اور اپنے سازو سامان پر مغرور ہوں لیکن انھیں حقیقی بھلائی اور کامیابی ہرگز نصیب نہیں ہوسکتی۔ تھوڑے دن دنیا کے مزے اڑالیں، انجام کار ان کا معاملہ خدا کی طرف رجوع ہوگا۔ جہاں سے اپنے جرائم کی پاداش میں نہایت سخت عذاب کا مزہ چکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ دنیا کی چند روزہ زندگی کا فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں کچھ ساز و سامان دے دیا گیا ہے ‘ پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 68–70

82 کیا اللہ کو بیٹے کی ضرورت ہے ؟ اولاد بنانے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ اولاد صلبی ہو اس سے لازم آتا ہے کہ اس کی بیوی بھی ہو اور وہ اس کا محتاج بھی ہو اور جو محتاج ہو وہ معبود حقیقی نہیں ہوسکتا۔ معبود حقیقی کی شان ہی یہ ہے کہ وہ کسی چیز کا بھی محتاج نہیں ہوتا اور ہر چیز سے بےنیاز ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو متبنّٰی بنالے اور دنیا میں متبنیٰ عموماً وہ لوگ بناتے ہیں جو بےاولاد ہوں اور متبنّٰی بنانے سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ متبنّٰی اس کا وارث بن سکے لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کی بھی احتیاج نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ گویا اس لحاظ سے بھی وہ بےنیاز ہے لہذا جو لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

105۔ (آیت) ” متاع فی الدنیا “۔ کہہ کر قرآن مجید نے منکر ومکذب قوموں کی بالکل تصویر کھینچ دی ہے، تفصیل کے لئے مطالعہ ہو روس اور امریہ اور برطانیہ اور اور بڑی بڑی ” مہذب “ ” ترقی یافتہ “ اقبال مند قوموں کا حال ان کے آپس کے رشک وحسد کا حال، ان کی حرام کاریوں کا حال، ان کی شراب نوشیوں کا حال، ان کی سود خواریوں کا حال، ان کے جرائم کا حال، ان کے ہاں کے امراض خبیثہ کا حال، ان کے ہاں کی اسٹرائیکوں اور ہڑتالوں کا حال، ان کے ہاں کی کثرت طلاق اور کثرت فواحش کا حال، ان کے ہاں کی معاشی ابتری اور بیروزگاری کا حال، اور پھر فیصلہ کیجیے کہ متاع دنیا کا زیادہ سے زیادہ ذخیرہ رکھنے کے بعد بھی ان منکرین حق کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–70

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ تم جس شان (حال) میں بھی ہوتے ہو اور اس شان (حال) کی وجہ سے قرآن سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، جو کچھ تلاوت کرتے ہو، یا من جانب اللہ جو قرآن تلاوت کرتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو یہ آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو خطاب ہے ہم (اس عمل سے) باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو، ذرہ برابر کوئی چیز (ایسی نہیں) نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (اور نہ اس مقدار سے) چھوٹی اور نہ بڑی کہ وہ کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں موجود نہ ہو، ذرّہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، یاد رکھو یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کیلئے آخرت میں نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

متاع فی الدنیا یہ دنیا میں (چند روزہ) تھوڑا سا عیش ہے۔ یعنی یہ دروغ بندی دنیا میں کچھ مزہ اڑانے کا سبب ہوجائے گی۔ اس طریقے سے وہ کفر کی حالت میں اپنی ریاست کو قائم رکھ سکیں گے۔ یا ان کی زندگی دنیوی متاع حقیر ہے۔ ثم الینا مرجعھم ثم نذیقھم العذاب الشدید بما کانوا یکفرون۔ پھر (موت کے بعد) ان کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی ‘ پھر ان کے کفر کی پاداش میں ہم ان کو عذاب شدید کا مزہ چکھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(70) یہ دنیا میں چند روزہ زندگی گزار رہے ہیں، پھر مرنے کے بعد ان کو ہمارے ہی پاس آنا ہے، پھر ہم ان کو ان کے قرآن اور رسول اکرم ﷺ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے بدلے سخت سزا کا مزہ چکھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ۔۔ : بس زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اللہ پر بہتان باندھ کر دنیا کا تھوڑا سا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ تنوین تقلیل کے لیے ہے، کیونکہ ساری دنیا بھی حاصل کرلیں تو وہ ختم ہونے والی ہے، لہٰذا نہایت کم اور بےوقعت ہے، پھر انھیں واپس تو ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ ”اِلَیْنَا“ پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں اور نہیں جاسکتے، پھر ہم انھیں ان کی کفریات کی بہت سخت سزا چکھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–70

قولہ تعالیٰ : (آیت) قل ان الذین یفترون یعنی بیشک وہ جھوٹ گھڑتے ہیں۔ (آیت) علی اللہ الکذب لایفلحون یعنی نہ وہ کامیاب ہوسکتے ہیں اور نہ پر امن ہو سکتے ہیں، کلام مکمل ہوئی۔ (آیت) متاع فی الدنیا یعنی ذالک متاع اوھو متاع فی الدنیا (یہ دنیا میں ( چند روزہ) لطف اندوزی ہے) یہ کسائی نے کہا ہے اور اخفش نے کہا ہے : لھم متاع فی الدنیا (ان کے لیے لطف اندوزی ہے دنیا میں) ابو اسحاق نے کہا ہے : قرآن کے علاوہ (دوسری عبارت میں) نصب پڑھنا بھی جائز ہے معنی یہ ہوگا یتمتعون متاعا (وہ لطف اندوزہو رہے ہیں دنیا میں) (آیت) ثم الینا مرجعھم پھر ہماری طرف ان کا رجوع ہے۔ (آیت) ثم نذیقھم العذاب الشدید پھر ہم انہیں انتہائی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–70

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والنھار مبصرا “ سے مراد ہے منیرا یعنی روشن۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ان عندکم من سلطن بھذا “ یعنی تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَتَاعٌ [ برتنے کا سامان ہے ] فِي الدُّنْيَا [ دنیا میں ] ثُمَّ [ پھر ] اِلَيْنَا [ ہماری طرف ہی ] مَرْجِعُھُمْ [ ان کا لوٹنا ہے ] ثُمَّ [ پھر ] نُذِيْقُھُمُ [ ہم چکھائیں گے ان کو ] الْعَذَابَ الشَّدِيْدَ [ سخت عذاب ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ [ یہ لوگ کفر کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیْقُھُمُ الْعَذَاب الشَّدِیْدَ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ) (دنیا میں تھوڑا سا نفع ہے پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب چکھا دیں گے) اس میں اس شبہ کا جواب ہے کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ مشرک اور کاذب اور مفتری آرام و راحت میں ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے حکومتیں بھی ہیں اس طرح تو وہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ جو اب میں ارشاد فرمایا کہ یہ تھوڑی سی دنیاوی زندگی ہے اس میں تھوڑا سا عیش کرلیں گے پھر ہمارے پاس آئیں گے وہاں کفر کا سخت عذاب چکھیں گے۔ اس عذاب کے سامنے یہ ذرا سا چند روزہ دنیا کا عیش کچھ بھی حقیقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–70

تسلی نبی اکرم ﷺ از سخنہائے دلخراش دشمناں قال اللہ تعالی۔ ولا یحزنک قولھم۔۔۔ الی۔۔۔ وان ھم الا یخرصون (ربط): گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو تسلی دی اب اس آیت میں اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں۔ کفار آں حضرت ﷺ کو اپنی قوت اور شوکت سے ڈراتے تھے اور طرح طرح کی دلخراش باتیں کہتے تھے سو آپ کی تسلی کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ ان کی باتوں سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں عزت اور غلبہ تو اللہ ہی کے لیے ہے وہی آسمانوں اور زمینوں کا بادشاہ ہے اور یہ کافر صرف خیالی اور فرضی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ ان کی پرواہ نہ کریں۔ غرض یہ کہ ان آیات میں آپ کو دشمنوں کی ایذا رسانی پر تسلی دی گئی اور اشارۃ ً آپ کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 69–70

90: زجر مع تخویف اخروی۔ ایسے لوگ جو اللہ کی طرف ایسی من گھڑت باتیں منسوب کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے نہ اللہ کے عذاب سے بچ سکیں گے۔ “ اي لا یفوزون ولا یامنون ” (قرطبی ج 8 ص 361) ۔ “ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا الخ ” یہ بھی تخویف اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–70

ربط آیات پہلے قرآن کریم کا ذکر تھا۔ پھر حضور ﷺ کے متعلق فرمایا کہ آپ جس حالت میں بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور جو بھی کام کرتے ہیں ، ہم ہر حالت میں حاضر ہوتے ہیں اور ہر کام کو دیکھتے ہیں۔ فرمایا خدا تعالیٰ سے ایک ذرہ بھر چیز بھی غائب نہیں ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں میں ہو یا زمین کی گہرائیوں میں ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ پھر فرمایا یاد رکھو ! اللہ کے دوستوں کو نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ، ولی اللہ وہ ہوتے ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کے وعدے برحق ہیں۔ ان میں کوئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِيْقُھُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۝ 70 ۧ متع ( سامان) وكلّ ما ينتفع به علی وجه ما فهو مَتَاعٌ ومُتْعَةٌ ، وعلی هذا قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] أي : طعامهم، فسمّاه مَتَاعاً ، وقیل : وعاء هم، وکلاهما متاع، وهما متلازمان، فإنّ الطّعام کان في الوعاء . ( م ت ع ) المتوع ہر وہ چیز جس سے کسی قسم کا نفع حاصل کیا جائے اسے متاع ومتعۃ کہا جاتا ہے اس معنی کے لحاظ آیت کریمہ : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ میں غلہ کو متاع کہا ہے اور بعض نے غلہ کے تھیلے بابور یاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–70

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے وہی رات دن کو گردش دے رہا ہے پھر اور کون ہے کہ جس کے اختیار میں عزت و ذولت ہو اور اس کے ضمن میں یہ بھی جتلاتا ہے کہ ہم ہی آسمانوں اور زمین کی چیزوں کے مالک اور غنی یعنی بےپروا ہیں کسی کے کسی بات میں محتاج نہیں اور خالق لیل و نہار بھی ہم ہی ہیں تو پھر جو تم اس کے سوا اور معبودوں کو پوجتے ہو۔ علاوہ بدعقل ہونے کے ذلیل بھی ہو جو مالک کو چھوڑ کر غلام کے آگے ہاتھ جوڑتے ہو اور ان معبودوں کو بجز غلام اور مخلوق اور بندہ ہونے کے اس کے ساتھ فرزندی یا برادری یا شرکت کی کوئی بھی نسبت نہیں۔ کس لئے کہ کم سے کم رات دن کا تمہارے فوائد کے لئے بنانا بھی کسی کے ہاتھ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 69–70

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُوْنَ ۔ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیْقُھُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ۔ (یونس : 69، 70) (اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے بس دنیا میں چند روز فائدہ اٹھا لینا ہے۔ پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر ہم انھیں عذاب شدید چکھائیں گے کیونکہ یہ کفر کیا کرتے تھے۔ ) مشرکین کو وارننگ ان آیات میں مشرکین کو وارننگ دی جارہی ہے کہ تم اللہ پر افترا کرکے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کررہے ہو جس سے بڑا جرم کوئی نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 68–70

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر اس کے ہاں سفارشی بنا لیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی حیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی نانی کے نذر ماننے سے لے کر ان کی والدہ حضرت مریم کی پیدائش حضرت مریم کا نذر کرنا، حضرت مریم کا جوان ہونا، بغیر خاوند کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت قوم کا حضرت مریم پر تہمت لگانا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گود میں اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں خدا نہیں ہوں، حضرت عیسیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

70: مَتَاعٌ فِی الدُّّنْیَا (دنیا میں فائدہ اٹھانا ہے) یعنی ان کا یہ افتراء دنیا کا معمولی سانفع ہے کہ اس سے وہ کفر میں اپنی سربراہی جمائے ہوئے ہیں اور اسکی پشت پناہی کرکےحضور ﷺ کو تکلیف پہنچا رہے ہیں۔ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیْقُھُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ (پھر انہوں نے ہمارے ہاں لوٹ کر آنا ہے پھر ہم ان کو سخت عذاب چکھائیں گے) ہمیشہ رہنے والابِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ (اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے) ان کے کفر کے سبب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70۔” متاع “ تھوڑا اس سے نفع اٹھا لیں اپنی عمروں کو ختم ہونے تک اور ( متاع) مرفوع ہے ضمیر کی وجہ سے یعنی ھو متاع ” فی الدنیا ثم الینا مرجعھم ثم نذیقھم العذاب الشدید بما کانوا یکفرون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–70

68۔ 70۔ ان آیتوں میں ان مشرکوں اور الہ کتاب کے عقیدہ کو اللہ پاک نے غلط ٹھہرایا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا کا بیٹا یا بیٹی ہے جیسے مثلاً مشرکین عرب کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی لڑکیاں ہیں اسی طرح نصاریٰ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں اور یہود بھی حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اسی لئے فرمایا کہ خدا کی ذات باپ یا بیٹے ہونے کی تہمت سے بری ہے وہ بےنیاز اور بےپروا ہے دنیا میں اولاد کی خواہش اس غرض سے ہوتی ہے کہ بیٹا باپ کے بعد اس کی جگہ جانشین ہو اور سلسلہ نسل کا قائم رہے اور اللہ پاک ازل سے ابد تک قائم ہے پھر اس کو اولاد کی کیا پروا ہے دوسری دلیل یہ بیان فرمائی کہ زمین و آسمان میں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 68–70

آیت : ( 68-70) اللہ رب العالمین کے بارے میں مشرکین کیبہتان طرازی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قالوا اتخذ اللہ ولدا) ” انہوں نے کہا ‘ ٹھہرالی ہے اللہ نے اولاد “ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : (سبحنۃ) ” وہ پاک ہے “ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی طرف جو نقائص منسوب کرتے ہیں وہ ان سے بلندو برتر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں متعدد دلائل ذکر کئے ہیں : (1) (ھوالغنی) ” وہ بےنیاز ہے۔ “ یعنی عناد (بےنیازی) اسی میں منحصر ہے اور عناد کی تمام اقسام کا وہی مالک ہے۔ وہ غنی ہے جو ہر پہلو ‘ ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے نائے کامل کا مالک ہے۔ جب وہ ہر لحاظ سے غنی ہے تب وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

123 ۔ افتراء پر دازوں کو رجوع الی اللہ کی تذکیر و یاد دہانی : سو افتراء پردازوں کو رجوع الی اللہ کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ دنیاوی زندگی میں کچھ مزے کرلیں آخرکار ان کو لوٹ کر بہرحال ہمارے پاس آنا ہے۔ اور وہاں انہوں نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ تب ان کو سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا۔ سو ایسوں کو اگر چند روزہ دنیاوی زندگی میں چھوٹ مل گئی اور انہوں نے عیش کرلیا تو بھی کیا کہ ان کا انجام تو یہ ہونے والا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ پر افتراء کا جرم بہت سخت اور نہایت سنگین جرم ہے۔ اور اس کا نتیجہ و انجام بڑا ہولناک ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–70

منکرین الٰہی اور ان کا انجام تشریح : ایسے ہی منکرین کے لیے ان آیات میں بتایا گیا ہے جو رب کے انکاری ہیں یا اپنی کم علمی کی وجہ سے اللہ کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ کا کوئی بیٹا بھی ہے، حالانکہ یہ انسانی صفت ہے کہ وہ اپنے نام کو قائم رکھنے کے لیے یا بڑھاپے کے سہارے کے لیے اولاد کا یا بیٹے کا محتاج ہوتا ہے جبکہ اللہ کو تو ان تمام ضرورتوں کی بالکل پرواہ نہیں کیونکہ وہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ اس قدر طاقت ور اعلیٰ وارفع قادر مطلق ہے کہ اس نے کسی کی مدد کے بغیر اس قدر وسیع و عریض کائنات بنائی اور اتنی بہترین، مستحکم اور پائیدار بنائی کہ آج تک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

آیات 61 تا 70 اسرار و معارف اور آپ جس میں ہوں جس جگہ جو عمل کریں ۔ آپ قرآن میں سے تلاوت کریں یا کسی بھی دوسرے عمل میں مصروف ہوں اور صرف آپ ہی کیا سارے لوگ بھی جو کچھ کرتے ہیں ۔ سب ہمارے روبرو ہے ۔ آپ کی محنت ومشقت اور عبادت و مجاہدہ بھی اور کفار کی عداوت ودشمنی بھی بلکہ ہر نیک و بد پہ ہم ذاتی طور پر شاہد ہیں ۔ نہ صرف انسان اعمال وکرداربل کہ زمین وآسمان کا کوئی ذرہ یا اس سے بھی کوئی چھوٹی بڑی شے آپ کے رب کریم سے کسی لمحے پوشیدہ نہیں اللہ کا علم تو بہت عظیم اور اس کی شان کے مطابق ہے ۔ یہ سب کچھ تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی ذرہ یا اس کی حرکت اس باہر نہیں لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 ۔ بس زیادہ سے زیادہ یہ کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ کر کچھ دنیا کمالیں پھر موت کے عبد ان کفریات کی خوف سزا ملے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:70) متاع فی الدنیا۔ فی الدنیا متعلق بہ متاع ہے۔ اور یہ مبتداء بھی ہوسکتا ہے اور خبر بھی۔ اگر اسے مبتداء لیا جائے تو خبر محذوف مانی جائے گی اور اس کی تقدیر ہوگی۔ لہم متاع فی الدنیا۔ ان کے لئے دنیا میں (چند روز) سازوسامان ہے۔ (اس کے مزے اڑالیں) اور اگر متاع کو خبر لیا جائے تو مبتدا کو محذوف مانا جائے گا اور اس کی تقدیر ہوگی۔ افتراء ہم اوحیاتھم متاع فی الدنیا۔ ان کی بہتان بازی اور ان کی (یہ چند روزہ) زندگی دنیا کا (ہی) سازوسامان ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 66–70

لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 70 یتبع (وہ اتباع کرتا ہے، وہ پیچھے چلتا ہے) یخرصون (وہ گمان کرتے ہیں، وہ اٹلک کے تیر چلاتے ہیں) لتسکنوا (تاکہ تم سکون حاصل کرو) مبصر (دیکھنے بھالنے کے لئے الغنی (بےنیاز جو کسی چیز کا محتاج نہ ہو) سلطن (دلیل) لایفلحون (وہ کامیاب نہیں ہوں گے) متاع (زندگی گذارنے کا سامان، مزے) نذیق (ہم چکھائیں گے) تشریح : آیت نمبر 66 تا 70 آسمانوں سے لے کر زمین تک اس پوری کائنات کی ایک ایک چیز زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ایک اللہ کی ذات ہے جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے وہی ہم سب کا مالک ہے اور جس نظام زندگی میں ہم لگے بندھے ہیں وہ اسی کے حکم سے ہے۔ لیکن پتھروں کے یہ بےجان بت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–70

اس آیت میں اللہ نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ان سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کو فلاحیت نہیں ہوگی، اور اگر وہ یہ سمجھیں کہ اب تو دنیا میں آرام سے گزرتی ہے تو یہ دنیا کی زندگی اور مال ومتاع بہت ہی حقیر شے ہے جس کی کچھ ہستی نہیں ۔ آخر ایک دن ان سب کو اللہ کے پاس آنا ہے اس وقت سخت سے سخت عذاب کا مزہ ان کو چھکنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–70

(ف 2) آیت کا مقصد یہ ہے کہ بت پرست اور تثلیت کے پجاری حقیقی کامیابی کو حاصل نہیں کرسکتے روحانی ارتقاء جو صرف موحدین کا حصہ ہے ، اس سے یہ لوگ یکسر محروم رہتے ہیں ۔ حل لغات : یخرصون : مادہ خرص عین اندازہ ، وتخمین ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

70 دنیا میں ان کے لئے تھوڑا سا چند روزہ عیش ہے پھر ان کو ہمارے ہی پاس آنا اور ہماری ہی طرف لوٹنا ہے پھر ہم اس کفر کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے یعنی دنیا میں چند روزہ فائدہ اور عیش اٹھالیں پھر مرنے کے بعد ان کا مرجع ہماری طرف ہے اور پھر ہم ان کو سخت سزا دیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–71

ف 1۔ یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپناارمان پورا کرلو۔ 2۔ یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبیعت گھٹا کرتی ہے سو خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں جو کچھ تدبیر کرو دل کھول کر علانیہ کرو اور نہ میرے چلے جانے نکل جانے کا اندیشہ کرو کیونکہ اتنے آدمیوں کے پہرے میں سے ایک آدمی کا نکل جانا بھی مستبعد ہے پھر اخفاء کی کیا ضرورت ہے۔ 3۔ حاصل یہ کہ میں تمہاری ان باتوں سے نہ ڈرتا ہوں اور نہ تبلیغ سے رک سکتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کو مزے اڑا لینے دو انجام کار ان سب کو لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے 101 ؎ اس دنیائے بےثبات کی چند روز زندگی کے مزے اڑا لیں اور عیش و عشرت کرلیں ۔ آخر قیامت کے دن ہمارے حضور جوابدہی کیلئے ان کو حاضر ہونا ہے اس دن ہم انہیں ان کے کفر کے بدلے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے ۔ غور کرو کہ ” متاع فی الدنیا “ کہہ کر قرآن کریم نے منکر و مکذب قوموں کی بالکل صحیح تصویر کھینچ دی ہے۔ آج پوری دنیا کے حالات و واقعات سب آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں ان کا مطالعہ کرو اور امریکہ ، برطانیہ ، روس ، فرانس ، جرمنی اور اسی طرح کی دوسری بڑی بڑی ” مہذب “ ” ترقی یافتہ “ ” اقبال مند ‘ ‘ کا حال دیکھو ان کے آپس کے رشک و حسد کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–86

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–70

66. In the preceding verses, the polytheists were reproached for basing their religious doctrines on guesswork and conjecture, and then failing to examine, on scientific grounds, whether those doctrines were backed up by any supporting proof or not. In this verse, the Christians and followers of some other religions are being taken to task for another error - for their designating someone, again by resort to sheer conjecture, as God's son. 67. This Arabic expression is used both in its literal sense and also by way of exclamation. As an exclamatory expression it emphasizes one's utter…

Read the full tafseer →