Yunus 10:69

Yunus · from ayah 69

10:69

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ ۟ؕقُلۡ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡـكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَؕ

کہہ دو جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed, those who invent falsehood about Allah will not succeed."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 7 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:69

اے محمدؐ، کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پا سکتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں، وه کامیاب نہ ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: بیشک جو لوگ اللہ پرجھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاسکتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے، کہہ دو ، جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کہ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراء باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاسکیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ یقیناً جو لوگ اللہ پر جھوٹ گھڑتے رہتے ہیں وہ فلاح نہیں پانے کے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی !) آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ کی طرف جھوٹ باتیں منسوب کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them (O Muhammad!): 'Indeed those who invent lies against Allah will never prosper.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say: Those who fabricate lies against Allah shall not prosper.

— Muhammad Taqi Usmani

Say: Those who fabricate lies against Allah shall not prosper.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Verily, those who invent a lie against Allah will never be successful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Verily those who invent a lie concerning Allah will not succeed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed, those who invent falsehood about Allah will not succeed."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "Those who invent falsehood against God will have no happiness".

— Muhammad Sarwar

Say: Those who forge a lie against Allah shall not be successful.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: verily those who fabricate a lie against Allah shall not fare well.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Those who invent a lie against Allah will never prosper."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:69

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–70

ساری مخلوق صرف اس کی ملکیت ہے جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہوجائے تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔ تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہوجائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو ؟ بھلا اس کی اولاد کیسے ہوگی ؟ اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہونے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 68–70

سورة یُوْنُس 66 اوپر کی آیات میں لوگوں کی اس جاہلیت پر ٹوکا گیا تھا کہ اپنے مذہب کی بنا علم کے بجائے قیاس و گمان پر رکھتے ہیں، اور پھر کسی علمی طریقہ سے یہ تحقیق کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے کہ ہم جس مذہب پر چلے جا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل بھی ہے یا نہیں۔ اب اسی سلسلہ میں عیسائیوں اور بعض دوسرے اہل مذاہب کی اس نادانی پر ٹوکا گیا ہے کہ انہوں نے محض گمان سے کسی کو خدا کا بیٹا ٹھیرا لیا۔ سورة یُوْنُس 67 سبحان اللہ کلمہ تعجب کے طور پر کبھی اظہار حیرت کے لیے بھی بولا جاتا ہے، اور کبھی اس کے واقعی معنی ہی مراد ہوتے ہیں، یعنی یہ کہ ”اللہ تعالیٰ ہر عیب سے منزہ ہے“۔ یہاں یہ کلمہ دونوں معنی دے رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–70

خلاصہ تفسیر وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور پر بنایا کہ (بوجہ روشن ہونے کے) دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے اس (بنانے) میں دلائل (توحید) میں ان لوگوں کے لئے جو (تدبر کے ساتھ ان مضامین کو) سنتے ہیں (مشرکین ان دلائل میں غور نہیں کرتے اور شرک کی باتیں کرتے ہیں چنانچہ) وہ کہتے ہیں (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے، سبحان اللہ (کیسی سخت بات کہی) وہ تو کسی کا محتاج نہیں (اور سب اس کے محتاج ہیں) اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (پس سب مملوک ہوئے اور وہ مالک ہوا پس ثابت ہوا کہ کمالات میں کوئی اس کا مشارک و مجانس نہیں، پس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 66–70

66۔ 70:۔ اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔ اوپر والی آیات جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا۔ بطور التفات تھی۔ اب توحید کے مضمون کو پھر لے لیا جو پیچھے سے چلا آرہا تھا۔ فرمایا کہ اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے، خواہ فرشتے یا جنات یا انسان، سب خدا ہی کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں، ان میں سے کسی کا یہ درجہ نہیں کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک وسہیم ہو تو جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ فی الحقیقت خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 69–70

69۔ 1 افترا کے معنی جھوٹی بات کہنے کے ہیں۔ اس کے بعد مذید ' جھوٹ ' کا اضافہ تاکید کے لئے۔ 69۔ 2 اس سے واضح ہے کہ کامیابی سے مراد آخرت کی کامیابی یعنی اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچ جانا محض دنیا کی عارضی خوش حالی، کامیابی نہیں۔ جیسا کہ بہت سے لوگ کافروں کی عارضی خوشحالی سے مغالطے کا اور شکوک و شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے اگلی آیت میں فرمایا : " یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش کرلیں پھر ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہے " یعنی یہ دنیا کا عیش، آخرت کے مقابلے میں نہایت قلیل اور تھوڑا سا ہے جو شمار میں نہیں۔ اس کے بعد انھیں عذاب شدید سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس لیے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–71

29: یعنی اولاد کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ یا تو وہ زندگی کے کاموں میں باپ کی مدد کرے، یا کم از کم اسے نفسیاتی طور پر صاحب اولاد ہونے کی خواہش ہو، اللہ تعالیٰ ان دونوں باتوں سے بےنیاز ہے، اس لیے اسے کسی اولاد کی ضرورت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل ان الذین یفترون (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کرتے ہیں ‘ وہ یقیناً کامیاب نہیں ہوں گے۔ نہ دوزخ سے بچیں گے ‘ نہ جنت میں پہنچیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 69–70

2 یعنی خدا پر جھوٹ باندھنے والے خواہ دنیا میں کیسی ہی طاقت رکھتے ہوں اور اپنے سازو سامان پر مغرور ہوں لیکن انھیں حقیقی بھلائی اور کامیابی ہرگز نصیب نہیں ہوسکتی۔ تھوڑے دن دنیا کے مزے اڑالیں، انجام کار ان کا معاملہ خدا کی طرف رجوع ہوگا۔ جہاں سے اپنے جرائم کی پاداش میں نہایت سخت عذاب کا مزہ چکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 68–69

آیت 68 قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبْحَنٰہٗط ہُوَ الْغَنِیُّ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اسے اولاد کی حاجت ہو۔ یہاں ”غنی“ کا لفظ اس لحاظ سے بہت اہم ہے۔ اولاد کی تمنا آدمی اس لیے کرتا ہے کہ اس کا سہارا بنے اور مرنے کے بعد اس کے ذریعے دنیا میں اس کا نام باقی رہ جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسی حاجتوں سے پاک ہے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے ‘ وہ ہر حاجت سے غنی اور بےنیاز ہے ‘ اسے اولاد سمیت کسی چیز کی ضرورت اور حاجت نہیں ہے۔ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ تمہارے پاس کوئی علمی سند یا عقلی دلیل اس بات کے حق میں نہیں ہے جو تم اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 68–70

82 کیا اللہ کو بیٹے کی ضرورت ہے ؟ اولاد بنانے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ اولاد صلبی ہو اس سے لازم آتا ہے کہ اس کی بیوی بھی ہو اور وہ اس کا محتاج بھی ہو اور جو محتاج ہو وہ معبود حقیقی نہیں ہوسکتا۔ معبود حقیقی کی شان ہی یہ ہے کہ وہ کسی چیز کا بھی محتاج نہیں ہوتا اور ہر چیز سے بےنیاز ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو متبنّٰی بنالے اور دنیا میں متبنیٰ عموماً وہ لوگ بناتے ہیں جو بےاولاد ہوں اور متبنّٰی بنانے سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ متبنّٰی اس کا وارث بن سکے لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کی بھی احتیاج نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ گویا اس لحاظ سے بھی وہ بےنیاز ہے لہذا جو لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

104۔ فلاح۔ حقیقی فلاح کم ازکم جس معنی میں عربی میں مستعمل ہے تو وہی ہے جو مستقل دیرپا اور دائمی ہو اور یہ کسی منکر مکذب مشرک کے نصیب میں نہیں۔ عارضی چند روزہ دنیوی عیش وتنعم جس کا خاتمہ یقینی طور ذلت ومصیبت پر ہے اسے فلاح ہرگز نہیں کہہ سکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–70

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ تم جس شان (حال) میں بھی ہوتے ہو اور اس شان (حال) کی وجہ سے قرآن سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، جو کچھ تلاوت کرتے ہو، یا من جانب اللہ جو قرآن تلاوت کرتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو یہ آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو خطاب ہے ہم (اس عمل سے) باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو، ذرہ برابر کوئی چیز (ایسی نہیں) نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (اور نہ اس مقدار سے) چھوٹی اور نہ بڑی کہ وہ کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں موجود نہ ہو، ذرّہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، یاد رکھو یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کیلئے آخرت میں نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون۔ (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کرتے ہیں ‘ وہ یقیناً کامیاب نہیں ہوں گے۔ نہ دوزخ سے بچیں گے ‘ نہ جنت میں پہنچیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(69) اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر افتراء پر دازی کرتے ہیں وہ کبھی عذاب الہی سے نجات نہیں پائیں گے اور نہ وہ اس کے عذاب سے محفوظ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ۔۔ : افترا کا معنی ہی جھوٹ گھڑنا ہے۔ ”اَلْکَذِب“ کا لفظ تاکید کے لیے ہے، یعنی جو لوگ جھوٹ بکتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہیں وہ تو کسی طور بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–70

قولہ تعالیٰ : (آیت) قل ان الذین یفترون یعنی بیشک وہ جھوٹ گھڑتے ہیں۔ (آیت) علی اللہ الکذب لایفلحون یعنی نہ وہ کامیاب ہوسکتے ہیں اور نہ پر امن ہو سکتے ہیں، کلام مکمل ہوئی۔ (آیت) متاع فی الدنیا یعنی ذالک متاع اوھو متاع فی الدنیا (یہ دنیا میں ( چند روزہ) لطف اندوزی ہے) یہ کسائی نے کہا ہے اور اخفش نے کہا ہے : لھم متاع فی الدنیا (ان کے لیے لطف اندوزی ہے دنیا میں) ابو اسحاق نے کہا ہے : قرآن کے علاوہ (دوسری عبارت میں) نصب پڑھنا بھی جائز ہے معنی یہ ہوگا یتمتعون متاعا (وہ لطف اندوزہو رہے ہیں دنیا میں) (آیت) ثم الینا مرجعھم پھر ہماری طرف ان کا رجوع ہے۔ (آیت) ثم نذیقھم العذاب الشدید پھر ہم انہیں انتہائی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–70

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والنھار مبصرا “ سے مراد ہے منیرا یعنی روشن۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ان عندکم من سلطن بھذا “ یعنی تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَفْتَرُوْنَ [ گھڑتے ہیں ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] الْكَذِبَ [ جھوٹ ] لَا يُفْلِحُوْنَ [ وہ مراد نہیں پاتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ ) (آپ فرما دیجئے کہ بلاشبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–70

تسلی نبی اکرم ﷺ از سخنہائے دلخراش دشمناں قال اللہ تعالی۔ ولا یحزنک قولھم۔۔۔ الی۔۔۔ وان ھم الا یخرصون (ربط): گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو تسلی دی اب اس آیت میں اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں۔ کفار آں حضرت ﷺ کو اپنی قوت اور شوکت سے ڈراتے تھے اور طرح طرح کی دلخراش باتیں کہتے تھے سو آپ کی تسلی کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ ان کی باتوں سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں عزت اور غلبہ تو اللہ ہی کے لیے ہے وہی آسمانوں اور زمینوں کا بادشاہ ہے اور یہ کافر صرف خیالی اور فرضی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ ان کی پرواہ نہ کریں۔ غرض یہ کہ ان آیات میں آپ کو دشمنوں کی ایذا رسانی پر تسلی دی گئی اور اشارۃ ً آپ کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 69–70

90: زجر مع تخویف اخروی۔ ایسے لوگ جو اللہ کی طرف ایسی من گھڑت باتیں منسوب کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے نہ اللہ کے عذاب سے بچ سکیں گے۔ “ اي لا یفوزون ولا یامنون ” (قرطبی ج 8 ص 361) ۔ “ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا الخ ” یہ بھی تخویف اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–70

ربط آیات پہلے قرآن کریم کا ذکر تھا۔ پھر حضور ﷺ کے متعلق فرمایا کہ آپ جس حالت میں بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور جو بھی کام کرتے ہیں ، ہم ہر حالت میں حاضر ہوتے ہیں اور ہر کام کو دیکھتے ہیں۔ فرمایا خدا تعالیٰ سے ایک ذرہ بھر چیز بھی غائب نہیں ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں میں ہو یا زمین کی گہرائیوں میں ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ پھر فرمایا یاد رکھو ! اللہ کے دوستوں کو نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ، ولی اللہ وہ ہوتے ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کے وعدے برحق ہیں۔ ان میں کوئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ۝ 69 ۭ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، (ری ) الفری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–70

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے وہی رات دن کو گردش دے رہا ہے پھر اور کون ہے کہ جس کے اختیار میں عزت و ذولت ہو اور اس کے ضمن میں یہ بھی جتلاتا ہے کہ ہم ہی آسمانوں اور زمین کی چیزوں کے مالک اور غنی یعنی بےپروا ہیں کسی کے کسی بات میں محتاج نہیں اور خالق لیل و نہار بھی ہم ہی ہیں تو پھر جو تم اس کے سوا اور معبودوں کو پوجتے ہو۔ علاوہ بدعقل ہونے کے ذلیل بھی ہو جو مالک کو چھوڑ کر غلام کے آگے ہاتھ جوڑتے ہو اور ان معبودوں کو بجز غلام اور مخلوق اور بندہ ہونے کے اس کے ساتھ فرزندی یا برادری یا شرکت کی کوئی بھی نسبت نہیں۔ کس لئے کہ کم سے کم رات دن کا تمہارے فوائد کے لئے بنانا بھی کسی کے ہاتھ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 69–70

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُوْنَ ۔ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیْقُھُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ۔ (یونس : 69، 70) (اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے بس دنیا میں چند روز فائدہ اٹھا لینا ہے۔ پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر ہم انھیں عذاب شدید چکھائیں گے کیونکہ یہ کفر کیا کرتے تھے۔ ) مشرکین کو وارننگ ان آیات میں مشرکین کو وارننگ دی جارہی ہے کہ تم اللہ پر افترا کرکے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کررہے ہو جس سے بڑا جرم کوئی نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 68–70

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر اس کے ہاں سفارشی بنا لیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی حیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی نانی کے نذر ماننے سے لے کر ان کی والدہ حضرت مریم کی پیدائش حضرت مریم کا نذر کرنا، حضرت مریم کا جوان ہونا، بغیر خاوند کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت قوم کا حضرت مریم پر تہمت لگانا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گود میں اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں خدا نہیں ہوں، حضرت عیسیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

69: قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ (کہہ دیں بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں) اسکی طرف بیٹے کی نسبت کر کے لَایُفْلِحُوْنَ (وہ کامیاب نہ ہونگے) وہ آگ سے کبھی نجات نہ پائیں گے اور نہ جنت کی کامیابی سے ہمکنار ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

69۔ ” قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون “ نجات نہ پائیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ دنیا میں باقی نہ رہیں گے اور لیکن

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–70

68۔ 70۔ ان آیتوں میں ان مشرکوں اور الہ کتاب کے عقیدہ کو اللہ پاک نے غلط ٹھہرایا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا کا بیٹا یا بیٹی ہے جیسے مثلاً مشرکین عرب کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی لڑکیاں ہیں اسی طرح نصاریٰ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں اور یہود بھی حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اسی لئے فرمایا کہ خدا کی ذات باپ یا بیٹے ہونے کی تہمت سے بری ہے وہ بےنیاز اور بےپروا ہے دنیا میں اولاد کی خواہش اس غرض سے ہوتی ہے کہ بیٹا باپ کے بعد اس کی جگہ جانشین ہو اور سلسلہ نسل کا قائم رہے اور اللہ پاک ازل سے ابد تک قائم ہے پھر اس کو اولاد کی کیا پروا ہے دوسری دلیل یہ بیان فرمائی کہ زمین و آسمان میں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 68–70

آیت : ( 68-70) اللہ رب العالمین کے بارے میں مشرکین کیبہتان طرازی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قالوا اتخذ اللہ ولدا) ” انہوں نے کہا ‘ ٹھہرالی ہے اللہ نے اولاد “ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : (سبحنۃ) ” وہ پاک ہے “ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی طرف جو نقائص منسوب کرتے ہیں وہ ان سے بلندو برتر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں متعدد دلائل ذکر کئے ہیں : (1) (ھوالغنی) ” وہ بےنیاز ہے۔ “ یعنی عناد (بےنیازی) اسی میں منحصر ہے اور عناد کی تمام اقسام کا وہی مالک ہے۔ وہ غنی ہے جو ہر پہلو ‘ ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے نائے کامل کا مالک ہے۔ جب وہ ہر لحاظ سے غنی ہے تب وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

122 ۔ افتراء علی اللہ کی سنگینی اور اس کی مختلف صورتیں : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراء باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاسکیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنے کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلایہ کہ اس وحدہ لاشریک کی کوئی اولاد ہے یا اس نے اپنے کچھ شریک ٹھہرا رکھے ہیں یا اپنی خدائی میں کچھ ہستیوں کو مافوق الاسباب طور پر تصرف اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے اختیارات سونپ رکھے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کہ یہ سب کچھ افتراء علی اللہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (المراغی، المحاسن، الصفوۃ وغیرہ) اور افتراء علی اللہ بڑا ظلم اور ہولناک و سنگین جرم ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–70

منکرین الٰہی اور ان کا انجام تشریح : ایسے ہی منکرین کے لیے ان آیات میں بتایا گیا ہے جو رب کے انکاری ہیں یا اپنی کم علمی کی وجہ سے اللہ کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ کا کوئی بیٹا بھی ہے، حالانکہ یہ انسانی صفت ہے کہ وہ اپنے نام کو قائم رکھنے کے لیے یا بڑھاپے کے سہارے کے لیے اولاد کا یا بیٹے کا محتاج ہوتا ہے جبکہ اللہ کو تو ان تمام ضرورتوں کی بالکل پرواہ نہیں کیونکہ وہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ اس قدر طاقت ور اعلیٰ وارفع قادر مطلق ہے کہ اس نے کسی کی مدد کے بغیر اس قدر وسیع و عریض کائنات بنائی اور اتنی بہترین، مستحکم اور پائیدار بنائی کہ آج تک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

آیات 61 تا 70 اسرار و معارف اور آپ جس میں ہوں جس جگہ جو عمل کریں ۔ آپ قرآن میں سے تلاوت کریں یا کسی بھی دوسرے عمل میں مصروف ہوں اور صرف آپ ہی کیا سارے لوگ بھی جو کچھ کرتے ہیں ۔ سب ہمارے روبرو ہے ۔ آپ کی محنت ومشقت اور عبادت و مجاہدہ بھی اور کفار کی عداوت ودشمنی بھی بلکہ ہر نیک و بد پہ ہم ذاتی طور پر شاہد ہیں ۔ نہ صرف انسان اعمال وکرداربل کہ زمین وآسمان کا کوئی ذرہ یا اس سے بھی کوئی چھوٹی بڑی شے آپ کے رب کریم سے کسی لمحے پوشیدہ نہیں اللہ کا علم تو بہت عظیم اور اس کی شان کے مطابق ہے ۔ یہ سب کچھ تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی ذرہ یا اس کی حرکت اس باہر نہیں لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ۔ یعنی جھوٹ بکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کرنے والے تو کسی طور بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 68–69

(10:68) ان نافیہ ہے من زائدہ ہے تاکید نفی کے لئے آیا ہے۔ سلطان۔ حجت۔ دلیل۔ برہان۔ سند۔ زور۔ قوت۔ حکومت۔ یہاں بمعنی دلیل اور سند کے مستعمل ہے۔ بھذا۔ یعنی اس بیہودہ اور باطل قول کی اتخذ اللہ ولدا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 66–70

لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 70 یتبع (وہ اتباع کرتا ہے، وہ پیچھے چلتا ہے) یخرصون (وہ گمان کرتے ہیں، وہ اٹلک کے تیر چلاتے ہیں) لتسکنوا (تاکہ تم سکون حاصل کرو) مبصر (دیکھنے بھالنے کے لئے الغنی (بےنیاز جو کسی چیز کا محتاج نہ ہو) سلطن (دلیل) لایفلحون (وہ کامیاب نہیں ہوں گے) متاع (زندگی گذارنے کا سامان، مزے) نذیق (ہم چکھائیں گے) تشریح : آیت نمبر 66 تا 70 آسمانوں سے لے کر زمین تک اس پوری کائنات کی ایک ایک چیز زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ایک اللہ کی ذات ہے جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے وہی ہم سب کا مالک ہے اور جس نظام زندگی میں ہم لگے بندھے ہیں وہ اسی کے حکم سے ہے۔ لیکن پتھروں کے یہ بےجان بت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–70

اس آیت میں اللہ نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ان سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کو فلاحیت نہیں ہوگی، اور اگر وہ یہ سمجھیں کہ اب تو دنیا میں آرام سے گزرتی ہے تو یہ دنیا کی زندگی اور مال ومتاع بہت ہی حقیر شے ہے جس کی کچھ ہستی نہیں ۔ آخر ایک دن ان سب کو اللہ کے پاس آنا ہے اس وقت سخت سے سخت عذاب کا مزہ ان کو چھکنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–70

(ف 2) آیت کا مقصد یہ ہے کہ بت پرست اور تثلیت کے پجاری حقیقی کامیابی کو حاصل نہیں کرسکتے روحانی ارتقاء جو صرف موحدین کا حصہ ہے ، اس سے یہ لوگ یکسر محروم رہتے ہیں ۔ حل لغات : یخرصون : مادہ خرص عین اندازہ ، وتخمین ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

69 آپ ان سے کہہ دیجکئے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں اور بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے اور کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–71

ف 1۔ یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپناارمان پورا کرلو۔ 2۔ یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبیعت گھٹا کرتی ہے سو خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں جو کچھ تدبیر کرو دل کھول کر علانیہ کرو اور نہ میرے چلے جانے نکل جانے کا اندیشہ کرو کیونکہ اتنے آدمیوں کے پہرے میں سے ایک آدمی کا نکل جانا بھی مستبعد ہے پھر اخفاء کی کیا ضرورت ہے۔ 3۔ حاصل یہ کہ میں تمہاری ان باتوں سے نہ ڈرتا ہوں اور نہ تبلیغ سے رک سکتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ پر جھوٹ باندھنے والے تو کبھی فلاح حاصل نہیں کر سکتے 100 ؎ اب اعلان کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ فرما دیں کہ جو لوگ اللہ پر بیٹا بنا لینے اور شریک مقرر کرنے کیلئے افتراء باندھتے ہیں وہ کبھی بھی دوزخ سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔ ” فلاح “ کا لفظ کم از کم جن معنی میں عربی زبان میں مستعمل ہے تو وہ وہی ہے جو مستقل دیرپا اور دائمی ہو اور ظاہر ہے کہ وہ کسی منکر مکذب اور مشرک کو نصیب نہیں ہو سکتی اور عارضی زندگی میں چند روز دنیوی عیش و تنعم جس کا خاتمہ یقینی طور پر ذلت و مصیبت پر ہے اسے فلاح ہرگز نہیں کہا جاسکتا ۔ لیکن یہی وہ غلطی ہے جو اکثر لوگوں کو لگتی رہی ہے اور آج بھی لوگوں کو الگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–86

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–70

66. In the preceding verses, the polytheists were reproached for basing their religious doctrines on guesswork and conjecture, and then failing to examine, on scientific grounds, whether those doctrines were backed up by any supporting proof or not. In this verse, the Christians and followers of some other religions are being taken to task for another error - for their designating someone, again by resort to sheer conjecture, as God's son. 67. This Arabic expression is used both in its literal sense and also by way of exclamation. As an exclamatory expression it emphasizes one's utter…

Read the full tafseer →