Explained with ayahs 65–67
عزت صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے
ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بےدلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنادی ہے۔ دن کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
سورة یُوْنُس 64
یہاں اس بات کا ذکر کرنے سے مقصود نبی کو تسکین دینا اور نبی کے مخالفین کو متنبہ کرنا ہے۔ ایک طرف نبی سے ارشاد ہو رہا ہے کہ پیغام حق کی تبلیغ اور خلق اللہ کی اصلاح میں جس تن دہی و جاں فشانی اور جس صبر و تحمل سے تم کام کر رہے ہو وہ ہماری نظر میں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس پرخطر کام پر مامور کر کے ہم نے تم کو تمہارے حال پر چھوڑ دیا ہو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں اور جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے اس سے بھی ہم بیخبر نہیں ہیں۔ دوسری طرف نبی کے مخالفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ایک داعی حق اور خیر خواہ خلق کی اصلاحی کوششوں میں روڑے اٹکا کر تم کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
خلاصہ تفسیر
اور آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں (یعنی ان کے کفریات سے مغموم ہوں کیونکہ علم و حفاظت مذکورہ کے علاوہ) تمام تر غلبہ (اور قدرت بھی) خدا ہی کے لئے (ثابت) ہے (وہ اپنی قدرت سے حسب وعدہ آپ کی حفاظت کرے گا) وہ (ان کی باتیں) سنتا ہے (اور ان کی حالت) جانتا ہے (وہ آپ کا بدلہ ان سے خود لے لے گا) یاد رکھو کہ جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں (یعنی فرشتے اور جن و انس) یہ سب اللہ ہی کے (مملوک) ہیں (اس کی حفاظت یا مکافات کو کوئی روک نہیں سکتا پس باہمہ وجوہ تسلی رکھنا چاہئے) اور (اگر کسی کو شبہ ہو کہ شاید شرکاء مزاحمت کرسکیں تو اس کی حقیقت سن لو کہ) جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
66۔ 70:۔ اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔ اوپر والی آیات جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا۔ بطور التفات تھی۔ اب توحید کے مضمون کو پھر لے لیا جو پیچھے سے چلا آرہا تھا۔ فرمایا کہ اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے، خواہ فرشتے یا جنات یا انسان، سب خدا ہی کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں، ان میں سے کسی کا یہ درجہ نہیں کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک وسہیم ہو تو جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ فی الحقیقت خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
66۔ 1 یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ محض ظن او تخمین اور رائے و قیاس کی کرشمہ سازی ہے۔ آج اگر انسان اپنے قوائے عقل و فہم کو صحیح طریقے سے استعمال میں لائے تو یقینا اس پر واضح ہوسکتا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے جس طرح وہ آسمان اور زمین کی تخلیق میں واحد ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو پھر عبادت میں دوسرے کیوں کر اس کے شریک ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
28: اللہ کے دوست کی تشریح اگلی آیت میں کردی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات رکھتے ہوں۔ ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہیں نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا، اور نہ ماضی کی کسی بات کا کوئی غم ہوگا۔ کہنے کو یہ مختصر سی بات ہے، لیکن دیکھا جائے تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ دنیا میں اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا میں ہر انسان کو، خواہ وہ کتنا خوشحال ہو، ہر وقت مستقل کا کوئی نہ کوئی خوف اور ماضی کا کوئی نہ کوئی رنج پریشان کرتا ہی رہتا ہے۔ یہ نعمت صرف جنت ہی میں حاصل ہوگی کہ انسان ہر طرح کے خوف اور صدمے سے بالکل آزاد ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →الا ان اللہ من فی السموت ومن فی الارض خوب سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو لوگ (ملائکہ ‘ جن ‘ انس) ہیں ‘ وہ اللہ کے (پیدا کئے ہوئے اور مملوک و مقبوض اور بندے) ہیں اور جب وہ ہستیاں جو تمام مخلوق میں اعلیٰ ہیں ‘ اللہ کی محکوم و پرستار ہیں ‘ ان میں کوئی بھی رب ہونے کے قابل نہیں۔ تو جو مخلوق نادان ‘ بےجان ‘ بےعقل ہے وہ اللہ کی شریک اور مثل کیسے ہو سکتی ہے ‘ اسلئے
وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں ‘ وہ ایسی مخلوق کا اتباع نہیں کرتے جو اللہ کی شریک ہو۔
ان یتبعون الا الظن صرف اپنے گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ اپنے خیال میں جن کو شریک عبادت قرار دے رکھا ہے ‘
بس…
Read the full tafseer →7 یعنی کل زمین و آسمان میں خدائے واحد کی سلطنت ہے، سب جن و انس اور فرشتے اسی کے مملوک و مخلوق ہیں۔ مشرکین کا غیر اللہ کو پکارنا اور انھیں خدائی کا حصہ دار بنانا، محض اٹکل کے تیر اور واہی تباہی خیالات ہیں۔ ان کے ہاتھ میں نہ کوئی حقیقت ہے نہ حجت وبرہان، خالی اوہام وظنون کی اندھیریوں میں پڑے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت 64 لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ
ان بشارتوں کے بارے میں ہم سورة التوبہ کی آیت 52 میں پڑھ چکے ہیں : ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلآَّ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ یعنی ہمارے لیے تو دو اچھائیوں کے سوا کسی تیسری چیز کا تصور ہی نہیں ہے ‘ ہمارے لیے تو بشارت ہی بشارت ہے۔ اور اگر بالفرض دنیا میں کوئی تکلیف آ بھی جائے تو بھی کوئی غم نہیں ‘ کیونکہ ہمارے اوپر جو بھی تکلیف آتی ہے وہ ہمارے رب ہی کی طرف سے آتی ہے۔ جیسے سورة التوبہ آیت 51 میں فرمایا گیا : قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلاَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَاج ہُوَ مَوْلٰٹنَا چناچہ اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے ؟ وہ ہمارا دوست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
80 اولیاء اللہ کے بعد اب ساتھ ہی اعداء اللہ کا ذکر فرمایا جو حق کا انکار کرتے تھے پیغمبر اسلام اور مسلمانوں پر پھبتیاں کستے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اور انھیں تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے اس آیت میں پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ غلبہ، قوت، اقتدار اور عزت تو سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تمہیں کبھی اس حال میں نہ رہنے دے گا بلکہ ایسے حالات پیدا کردے گا کہ منکرین حق ذلیل اور رسوا ہوں اور عزت اور غلبہ اہل حق کو نصیب ہوگا۔
Read the full tafseer →99۔ انسان، جنات، ملائکہ کوئی مخلوق کیسی ہی پر عظمت ہو بہرحال سب حق تعالیٰ ہی کے مملوک ہیں۔ اس کے وعدۂ حفاظت یا اس کے وعید مکافات کے درمیان کس کی مجال ہے جو حائل ہوسکے۔
100۔ حقایق کے حامل اور مالک تو صرف اہل ایمان ہیں، ایمانیوں کے علاوہ جو بھی ہیں، ان کے پاس بجز ادہام، ظنون، نظریات ومفروضات کے اور ہے کیا ؟ فقہاء نے لکھا ہے کہ اٹکل یا اندازہ کا درجہ شریعت میں تو بس اس قدر ہے کہ بندوں کے معاملات کے چکانے میں اس سے کام لے لیا گیا، باقی اثبات حق واسقاط حق میں ظن وتخمین کا کچھ دخل نہیں۔ (آیت) ” وما یتبع الذین “ الخ۔ یعنی ان کے پاس دلیل یا بنیاد ہے کیا ؟ قرآن مجید نے شرک پر یہ گرفت بار بار کی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ تم جس شان (حال) میں بھی ہوتے ہو اور اس شان (حال) کی وجہ سے قرآن سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، جو کچھ تلاوت کرتے ہو، یا من جانب اللہ جو قرآن تلاوت کرتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو یہ آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو خطاب ہے ہم (اس عمل سے) باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو، ذرہ برابر کوئی چیز (ایسی نہیں) نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (اور نہ اس مقدار سے) چھوٹی اور نہ بڑی کہ وہ کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں موجود نہ ہو، ذرّہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، یاد رکھو یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کیلئے آخرت میں نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم…
Read the full tafseer →الا ان اللہ من فی السموت ومن فی الارض خوب سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو لوگ (ملائکہ ‘ جن ‘ انس) ہیں ‘ وہ اللہ کے (پیدا کئے ہوئے اور مملوک و مقبوض اور بندے) ہیں اور جب وہ ہستیاں جو تمام مخلوق میں اعلیٰ ہیں ‘ اللہ کی محکوم و پرستار ہیں ‘ ان میں کوئی بھی رب ہونے کے قابل نہیں۔ تو جو مخلوق نادان ‘ بےجان ‘ بےعقل ہے وہ اللہ کی شریک اور مثل کیسے ہوسکتی ہے ‘ اسلئے
وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں ‘ وہ ایسی مخلوق کا اتباع نہیں کرتے جو اللہ کی شریک ہو۔
ان یتبعون الا الظن صرف اپنے گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ اپنے خیال میں جن کو شریک عبادت قرار دے رکھا ہے ‘
بس…
Read the full tafseer →(66) یاد رکھو کہ تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے جس طرح وہ چاہے اس کو ان پر تسلط کا حق حاصل ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے معبودان باطل بتوں وغیرہ کی پوجا کر رہے ہیں یہ محض بےبنیاد خیال کا بغیر یقین کے اتباع کر رہے ہیں اور یہ راہنما صرف عوام کو دھوکا دینے کے لیے فرضی باتیں اور جھوٹ بول رہے ہیں۔
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ : ”اَلا“ سے خبردار کیا کہ بات پر غور کرو۔ ”مَن“ کا لفظ عام طور پر ذوی العقول یعنی انسان، جن اور فرشتوں پر بولا جاتا ہے۔ اس جملے سے دو باتیں نہایت واضح ہیں، ایک تو یہ کہ جب آسمان و زمین کا ہر شخص انسان ہو یا جن یا فرشتہ، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تو یہ کفار و مشرکین بھی، جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں، اسی کی ملکیت ہوئے، وہی ان کے معاملات جس طرح چاہتا ہے چلاتا ہے، لہٰذا آپ کو ان کی ایذا رسانی اور طعن و تشنیع سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ آپ کو کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچا سکتے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی ہو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 66
قولہ تعالیٰ : (آیت) الا ان للہ من فی السموات ومن فی الارض یعنی (بےشک جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملک میں ہے) وہ ان کے بارے میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور جو وہ ارادہ فرماتا ہے اور ان میں وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ومایتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء اس میں ما نفی کے لیے ہے، یعنی وہ حقیقتا دوسرے شریکوں کی پیروی نہیں کرتے ہیں، بلکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ شفاعت کریں گے یا نفع دیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ما استفہامیہ ہے، یعنی کون سی شے ہے جس کی وہ پیروی کررہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے شریکوں کو پکار رہے ہیں (1) (معالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (کافروں نے) نفع حاصل نہیں کیا اس چیز کے ساتھ جو ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی اور وہ اپنے کفر پر قائم رہے تو یہ بات رسول اللہ ﷺ پر بہت گزری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے (یہ آیت) ” ولا یحزنک قولہم ان العزۃ للہ جمیعا ھو السمیع العلیم (65) نازل ہوئی جس میں آپ کو عتاب کیا گیا یعنی وہ (اللہ تعالیٰ ) سنتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور اس کو جانتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ چاہے تو وہ یقینا ان پر غالب آجائے۔
Read the full tafseer →اَلَآ [ سن لو ] اِنَّ [ یقینا ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کا ہے ] مَنْ [ وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَمَنْ [ اور وہ جو ] فِي الْاَرْضِ ۭ [ زمین میں ہے ] وَمَا [ اور کس کی ] يَتَّبِعُ [ پیروی کرتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَدْعُوْنَ [ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] شُرَكَاۗءَ ۭ [ شریکوں کو ] اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ [ وہ پیروی نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] الظَّنَّ [ گمان کی ] وَاِنْ ھُمْ [ اور وہ نہیں ہیں ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] يَخْرُصُوْنَ (سب اٹکل دوڑاتے )
(آیت ۔ 66) وما یتبع کا ماموصولہ ہے،۔ ان یتبعون اس کا صلہ ہے۔
Read the full tafseer →مشرکین صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں انہوں نے اللہ کیلئے اولاد تجویز کر کے اللہ پر بہتان باندھا ہے
ان آیات میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ ان کی باتیں سن کر غمگین اور دلگیر نہ ہوں ساری عزت اور ہر طرح کا غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ غالب ہے آپ کو غلبہ عطا فرمائے گا۔ جیسا کہ (لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ) (مجادلہ ع 3) میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔ وہ ان کے اقوال اور اعمال کی سزا دے گا وہ سب اللہ ہی کی ملکیت ہیں) اس کے قبضہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ (وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُرَکَآءَ ) (اور جو لوگ اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
تسلی نبی اکرم ﷺ از سخنہائے دلخراش دشمناں
قال اللہ تعالی۔ ولا یحزنک قولھم۔۔۔ الی۔۔۔ وان ھم الا یخرصون
(ربط): گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو تسلی دی اب اس آیت میں اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں۔ کفار آں حضرت ﷺ کو اپنی قوت اور شوکت سے ڈراتے تھے اور طرح طرح کی دلخراش باتیں کہتے تھے سو آپ کی تسلی کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ ان کی باتوں سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں عزت اور غلبہ تو اللہ ہی کے لیے ہے وہی آسمانوں اور زمینوں کا بادشاہ ہے اور یہ کافر صرف خیالی اور فرضی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ ان کی پرواہ نہ کریں۔
غرض یہ کہ ان آیات میں آپ کو دشمنوں کی ایذا رسانی پر تسلی دی گئی اور اشارۃ ً آپ کو…
Read the full tafseer →84: یہ توحید پر نویں عقلی دلیل ہے جس سے شرک فی التصرف کی نفی مقصود ہے دلیل ششم میں فرمایا تھا ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے لہذا تم اپنی طرف سے تحریم و تحلیل نہ کرو یہاں فرمایا زمین و آسمان کی تمام ذوی العقول مخلوق جن و بشر اور فرشتے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک و محکوم اور اس کے عاجز بندے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ہر بات کو سننے اور جاننے والا نہیں اس لیے ان میں سے کوئی بھی دعاء اور پکار کے لائق نہیں۔ جو لوگ اللہ کے نیک بندوں کو حاجات و مشکلات میں پکارتے ہیں ان کے بارے میں ان کا اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب ہیں اور ان کی تمام باتوں کو سنتے اور جانتے ہیں اس لیے پہلے اعلان کردیا گیا کہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
ربط آیات
یہ بھی دراصل توحید کے اثبات اور مشرکین کے رد کا بیان ہے۔ اس سے پہلے اللہ نے قرآن کریم کے اوصاف بیان کیے قرآن پاک کے پروگرام کے علاوہ اپنے گمان محض اور ناقص عقل سے حلت و حرمت کے حکم لگانے کی مذمت بیان فرمائی۔ ایسے لوگوں کی سزا کے متعلق اللہ نے اشارۃ فرمایا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ قیامت والے دن ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ اب آج کے درس میں اللہ نے اپنے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی تعریف بیان کی ہے آپ کے پیروکاروں کا بھی ضمنا ذکر کیا گیا ہے۔
نظر خداوندی
ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” وما تکون فی شان “ اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں (آیت) ” وما تتلوا منہ من…
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّ لِلہِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ 0 ۭ وَمَا يَتَّبِـــعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ شُرَكَاۗءَ 0 ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ 66
سما
سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ،
( س م و ) سماء
ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے وہی رات دن کو گردش دے رہا ہے پھر اور کون ہے کہ جس کے اختیار میں عزت و ذولت ہو اور اس کے ضمن میں یہ بھی جتلاتا ہے کہ ہم ہی آسمانوں اور زمین کی چیزوں کے مالک اور غنی یعنی بےپروا ہیں کسی کے کسی بات میں محتاج نہیں اور خالق لیل و نہار بھی ہم ہی ہیں تو پھر جو تم اس کے سوا اور معبودوں کو پوجتے ہو۔ علاوہ بدعقل ہونے کے ذلیل بھی ہو جو مالک کو چھوڑ کر غلام کے آگے ہاتھ جوڑتے ہو اور ان معبودوں کو بجز غلام اور مخلوق اور بندہ ہونے کے اس کے ساتھ فرزندی یا برادری یا شرکت کی کوئی بھی نسبت نہیں۔ کس لئے کہ کم سے کم رات دن کا تمہارے فوائد کے لئے بنانا بھی کسی کے ہاتھ میں…
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّ لِلّٰہِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ ط وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُرَکَآئَ ط اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔ (یونس : 66)
(آگاہ رہو ! کہ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے ماسوا کو پکارتے ہیں یہ شریکوں کی پیروی نہیں کررہے بلکہ وہ نرے وہم و گمان کے پیرو ہیں۔ اور اٹکل کے تیرت کے چلاتے ہیں۔ )
انسان فریبِ نظر کا شکار ہے
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف التفات فرماتے ہوئے تسلی دی گئی ہے اور آپ ﷺ کے مخالفین کو تنبیہ کی گئی ہے اور مخالفین جس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی معظم ﷺ کے مخالفوں کو خبر دار کرتے ہوئے ان کے عقیدہ کی قلعی کھولی جارہی ہے۔
نبی معظم ﷺ کے دشمنوں اور دین کے منکروں کو خبر دار کیا جارہا ہے کہ ہوش کے ناخن لو اور یہ غلط فہمی دماغ سے نکال دو کہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت اور دسترس سے باہر ہو۔ ایسا ہرگز نہیں۔ کیونکہ زمین و آسمانوں میں کوئی چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ملک نہ ہو اور اس کے اختیار سے باہر ہو۔ کان کھول کر سن لو کہ یہ سب کچھ اسی کا ہے اگر تمہیں قابو نہیں کیا جارہا تو اس میں اس کا یہ اصول کار فرما ہے کہ وہ ہر شخص کو ایک حد تک مہلت دیتا ہے۔ رہی یہ بات کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارتے اور انہیں اللہ…
Read the full tafseer →66: اَلَآ اِنَّ لِلّٰہِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ (خبردار بیشک اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جو آسمان اور جو زمین میں ہے) منؔ سے مراد عقلاء اور وہ فرشتے اور جن و انس ہیں۔
نکتہ : عقلاء کو خاص اس لئے کیا کہ جب یہ اسکی ملک ہیں اور اس کے مملوک ہیں اور ان میں سے کوئی ربوبیت کے لائق نہیں اور نہ ہی اس کا شریک بن سکتا ہے۔ تو اس کے بعد جو غیر عقلاء ہیں وہ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک اور ساجھی نہ ہوں۔
کفار گمان کے پیروکار ہیں :
وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُرَکَآئَ ( نہیں پیروی کرتے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سواء اوروں کو پکارتے ہیں شرکاء…
Read the full tafseer →تفسیر :۔ 65۔” الا ان اللہ من فی السموات ومن فی الارض وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء “ یہ یا تو استفہام ہے معنی یہ ہوگا کہ کون سی چیز ہے جس کی اتباع وہ لوگ کرتے ہیں جو اللہ کے لیے شریک پکارتے ہیں ؟ اور بعض نے کہا ہے کہ وہ حقیقت کی اتباع نہیں کرتے اس لیے کہ وہ بتوں کی اس گمان پر عبادت کرتے ہیں کہ وہ شرکاء ہیں اور ہماری سفارش کریں گے حالانکہ معاملہ ان کے گمان کے مطابق نہیں ہے۔ ” ان یتبعون الا الظن “ ان کا گمان ہے کہ وہ ان کو اللہ کے قریب کردیں گے ۔” وان ھم الا یخرصون “ جھوٹ بولتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
65۔ 67۔ مشرکین مکہ حضرت رسول مقبول ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح سے آپ کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر طعن کرتے تھے اس سے حضرت کو ایک قسم کا ملام ہوا کرتا تھا اس واسطے اللہ پاک نے یہ آیت اتاری اور آپ کو تسکین دی کہ ان مشرکوں کی باتوں کا آپ خیال نہ فرمائیں۔ کیوں کہ ہر طرح کی عزت خدا ہی کو حاصل ہے اور وہ ہر شخص کے قول و فعل کو سنتا اور دیکھتا ہے یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔
پھر تسلی کے بعد اس بات کی بشارت دی کہ خدا تمہاری مدد کرے گا کیونکہ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں بےجان یا جاندار ہیں ان سب کا مالک اکیلا خدا ہی ہے اس میں کسی کی شراکت ذرہ برابر بھی نہیں ہے یہ مشرکین اپنے جن معبودوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
آیت : (66-67)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اسی کی ملکیت ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنے احکام کے ذریعے اس میں تصرف کرتا ہے۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی مملوک ‘ اس کے سامنے مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ تمام مخلوق عبادت کا کچھ بھی استحقاق نہیں رکھتی اور کسی بھی لحاظ سے مخلوق اللہ تعالیٰ کی شریک نہیں بن سکتی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء ان یثبعون الا اظن) ” اور یہ جو پیچھے پڑے ہوئے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے ‘ سو یہ کچھ نہیں ‘ مگر پیری کرنے والے ہیں اپنے گمان کی “ یعنی وہ ظن اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →114 ۔ کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور الا کے حرف تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آگاہ رہو کہ اللہ ہی کے ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ یعنی ملائکہ، انبیاء و رسل اور اولیاء و صلحاء وغیرہ سب کے سب۔ کہ یہ سب اس کی مخلوق و مملوک ہیں نہ کہ اس کے شریک و حصہ دار۔ اور جب یہ عظیم الشان ہستیاں بھی اس کی شریک نہیں ہوسکتیں تو اور کسی شجر و حجر اور جماد لایعقل کے اس کے شریک اور معبود ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی بھی ہستی کی عبادت کرنا اور اس کے لئے پوجا پاٹ کے مراسم بجا لانا عقل و نقل کے تقاضوں کے خلاف اور بشریت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–66
اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں
تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیات 61 تا 70
اسرار و معارف
اور آپ جس میں ہوں جس جگہ جو عمل کریں ۔ آپ قرآن میں سے تلاوت کریں یا کسی بھی دوسرے عمل میں مصروف ہوں اور صرف آپ ہی کیا سارے لوگ بھی جو کچھ کرتے ہیں ۔ سب ہمارے روبرو ہے ۔ آپ کی محنت ومشقت اور عبادت و مجاہدہ بھی اور کفار کی عداوت ودشمنی بھی بلکہ ہر نیک و بد پہ ہم ذاتی طور پر شاہد ہیں ۔ نہ صرف انسان اعمال وکرداربل کہ زمین وآسمان کا کوئی ذرہ یا اس سے بھی کوئی چھوٹی بڑی شے آپ کے رب کریم سے کسی لمحے پوشیدہ نہیں اللہ کا علم تو بہت عظیم اور اس کی شان کے مطابق ہے ۔ یہ سب کچھ تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی ذرہ یا اس کی حرکت اس باہر نہیں لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور…
Read the full tafseer →ف 12 ۔ تو یہ کفار و مشرکین بھی جو آپ ﷺ کی مخالفت کر رہے ہیں اسی کی ملکیت ہوئے وہی ان کے معاملے میں جس طرح چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ کو ان کی ایذارسانی اور طعن وتشنیع سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپ ﷺ کی کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچا سکتے جس کی اللہ نے اجازت نہ دی ہو۔ اس آیت میں ان لوگوں کی بھی سخت تردید ہے جو مالک کو چھوڑ کر اس کی مملوکات۔ ملائکہ، انسان، جمادات و نباتات، بتوں، قبروں، اور بزرگوں۔ کی پرستش کرتے ہیں۔ اسی لئے کے بعد شرک کی تردید فرمائی ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) ۔
1 ۔ یعنی حقیقت میں تو کوئی بھی اللہ کا شریک نہیں ہے انہوں نے اپنے خیال و وہم میں ان کو شریک سمجھ کر ان…
Read the full tafseer →(10:66) وما یتبع الذین من دون اللہ شرکائ۔ میں ما۔ (1) نافیہ ہے شرکاء مفعول ہے یدعون کا۔ اور یتبع کا مفعول محذوف ہے۔ اس طرح اس کا ترجمہ ہوگا :۔ وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے شریک کے طور پر پکارتے ہیں دراصل کسی حقیقت کا اتباع نہیں کررہے۔ (2) دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ما استفہامیہ ہے۔ اور ترجمہ یوں ہوگا :۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اللہ کا شریک سمجھ کر پکار رہے ہیں (آخر) وہ کس چیز کا اتباع کر رہے ہیں۔
ان یتبعون۔ میں ان نافیہ ہے اسی طرح ان ہم میں بھی ان نافیہ ہے۔
یخرصون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ خرص یخرص (باب نصر) وہ اٹکل دوڑا رہے ہیں۔ وہ قیاسی باتیں کہہ رہے ہیں۔ اصل میں ہر وہ بات جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 70
یتبع (وہ اتباع کرتا ہے، وہ پیچھے چلتا ہے) یخرصون (وہ گمان کرتے ہیں، وہ اٹلک کے تیر چلاتے ہیں) لتسکنوا (تاکہ تم سکون حاصل کرو) مبصر (دیکھنے بھالنے کے لئے الغنی (بےنیاز جو کسی چیز کا محتاج نہ ہو) سلطن (دلیل) لایفلحون (وہ کامیاب نہیں ہوں گے) متاع (زندگی گذارنے کا سامان، مزے) نذیق (ہم چکھائیں گے)
تشریح : آیت نمبر 66 تا 70
آسمانوں سے لے کر زمین تک اس پوری کائنات کی ایک ایک چیز زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ایک اللہ کی ذات ہے جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے وہی ہم سب کا مالک ہے اور جس نظام زندگی میں ہم لگے بندھے ہیں وہ اسی کے حکم سے ہے۔ لیکن پتھروں کے یہ بےجان بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی باتوں پر تسکین دی
شان نزول : مشرکین مکہ حضرت رسول مقبول ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح سے آپ کے رسول اور قرآن کے کلام الہی ہونے پر طعن کرتے تھے۔ اس سے آنحضرت ﷺ کو ایک قسم کا ملال ہوا کرتا تھا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور آپ کو تسکین دی، کہ ان مشرکوں کی باتوں کا آپ خیال نہ فرمائیں۔ کیونکہ ہر طرح کی عزت خدا ہی کو حاصل ہے اور وہ ہر شخص کے قول وفعل کو سنتا اور دیکھتا ہے۔ یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ پھر تسلی کے بعد اس بات کی بشارت دی کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ کیونکہ زمین وآسمان میں جتنی چیزیں بےجان یا جاندار ہیں، ان سب کا مالک اکیلا خدا ہی ہے۔ اس میں کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
[28] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(ف 1) شرک کے متعلق قرآن حکیم میں بار بار ارشاد فرمایا گیا ہے کہ سراسر بےثبوت اور بےدلیل بات ہے اس کی تائید میں کوئی حجت پیش نہیں کی جاسکی کیونکہ خدا کے تصور میں توحید داخل ہے ، کسی ذات کو خدا کہہ دینا دوسرے لفظوں میں یہ اعتراف کرلینا ہے ، کہ ہم کسی ذات کے ساتھ عقیدت رکھتے ہیں جس کا کوئی شریک سہیم نہیں اللہ کی بےنیازی ، اس کی تقدیس اور اس کا ہمہ گیر قبضہ وملک بتا رہا ہے کہ کہ اسے زندگی میں ساجھی کی ضرورت نہیں ، یہ بےعلمی کی بات اور جھوٹ ہے ۔
Read the full tafseer →66 یاد رکھو جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے وہ سب اللہ کی مملوک ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے خود ساختہ اور خانہ ساز شراء کی بندگی کر رہے ہیں آخر یہ کس کی اتباع اور پیروی کر رہے ہیں کچھ نہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں یہ لوگ محض چند بےبنیاد خیالات کی پیروی اور اتباع کر رہے ہیں اور یہ محض قیاسی اور اٹکل کی باتیں کیا کرتے ہیں یعنی جنات انسان اور فرشتے سب اس کی مملوک ہیں ہوسکتا ہے کہ من بمعنی ما ہو اور تمام مخلوق مراد ہو اور جب سب چیز اللہ کی مملوک ہے پھر مالک کی موجودگی میں مملوک کی بندگی پر کیا دلیل ہوسکتی ہے محض بےاصل اور بےسند باتوں کے اور قیاسی باتوں کی پیروی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–71
ف 1۔ یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپناارمان پورا کرلو۔
2۔ یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبیعت گھٹا کرتی ہے سو خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں جو کچھ تدبیر کرو دل کھول کر علانیہ کرو اور نہ میرے چلے جانے نکل جانے کا اندیشہ کرو کیونکہ اتنے آدمیوں کے پہرے میں سے ایک آدمی کا نکل جانا بھی مستبعد ہے پھر اخفاء کی کیا ضرورت ہے۔
3۔ حاصل یہ کہ میں تمہاری ان باتوں سے نہ ڈرتا ہوں اور نہ تبلیغ سے رک سکتا ہوں۔
Read the full tafseer →غیر اللہ کی پرستش کرنے والے دراصل اپنے وہم و گمان کی پرستش کرتے ہیں
95 ؎ فرمایا آسمان میں بسنے والے فرشتے ہوں یا زمین میں بسنے والے جن و انس سب کے سب اللہ کی مخلوق ہیں تو غور کرو کہ وہ مخلوق ہو کر خالق کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اور پھر جب یہ ذوی العقول اللہ نہیں بن سکتی تو تمہارے خود ساختہ بت جو اللہ ہی کی مخلوق میں سے بعض انسانوں کو تم نے گھڑ لئے ہیں وہ کیسے اللہ بن سکتے ہیں ؟ پھر جو لوگ اللہ کے سوا اپنے مصنوعی شرکیوں کو پکارتے ہیں وہ نرے وہم و گمان اور محض قیاس کی اتباع کرتے ہیں کوئی واضح دلیل ان کے پاس نہیں ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جب زمین آسمان کی ہرچیز اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے اور اس کے قبضہ قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
64. The purpose of the statement is to console the Prophet (peace be on him) and to warn his enemies. On the one hand, the Prophet (peace be on him) is being reassured that the resoluteness, diligence and perseverance which characterize his efforts in preaching the truth and attempting to reform people is well known to God. It can hardly be conceived that after entrusting to the Prophet (peace be on him) a perilous task that God would leave him alone, unassisted. God knows full well all what the Prophet (peace be on him) does, and is also well aware of how others behave towards him. At the…
Read the full tafseer →