Yunus 10:65

Yunus · from ayah 65

10:65

وَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ ۘ— اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا ؕ— هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟وَلَا يَحۡزُنۡكَ قَوۡلُهُمۡ‌ۘ اِنَّ الۡعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا‌ ؕ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ

اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے وہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And let not their speech grieve you. Indeed, honor [due to power] belongs to Allah entirely. He is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 7 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:65

اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں، عزّت ساری کی ساری خدا کے اختیار میں ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے وہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں۔ تمام تر غلبہ اللہ ہی کے لیے ہے وه سنتا جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں، یقین رکھو کہ اقتدار تمام تر اللہ کا ہے، اور وہ ہر بات سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو بیشک عزت ساری اللہ کے لیے ہے وہی سنتا جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) ان کی (عناد و عداوت پر مبنی) گفتگو آپ کو غمگین نہ کرے۔ بیشک ساری عزت و غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے (جو جسے چاہتا ہے دیتا ہے)، وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تجھے ان کی بات غمگین نہ کرے، بیشک عزت سب اللہ کے لیے ہے، وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی) کافروں کی باتوں سے آپ غمزدہ نہ ہوں۔ عزت تو تمام تر اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم کو ان کی بات غم میں نہ ڈالے۔ عزت تمام اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ سمیع وعلیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور غم میں نہ ڈالنے پائیں آپ کو (اے پیغمبر) ان لوگوں کی (یہ کفریہ) باتیں، بیشک عزت (اور غلبہ) سب اللہ ہی کے لئے ہے، وہی ہے سنتا (ہر کسی کی) جانتا (سب کچھ)

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کو ان (کافروں) کی باتیں غم میں نہ ڈالیں غلبہ تمامتر اللہ ہی کے لئے ہے وہ خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی !) ان کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں عزت کل کی کل اللہ کے اختیار میں ہے وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور (اے پیغمبر ﷺ !) ان لوگوں کی باتیں آپ کو غمزدہ نہ کریں کیونکہ عزت سب اللہ ہی کی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet!) Let not the utterances of the opponents distress you. Indeed all honour is Allah's. He is All-Hearing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(O Prophet,) what they say should not make you grieve. Surely, all power belongs to Allah. He is All-Hearing, All Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

(O Prophet,) what they say should not make you grieve. Surely, all power belongs to Allah. He is All-Hearing, All Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do not grieve over their speech, for all power and honor belong to Allah. He is the All-Hearer, the All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And let not their speech grieve thee (O Muhammad). Lo! power belongeth wholly to Allah. He is the Hearer, the Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And let not their speech grieve you. Indeed, honor [due to power] belongs to Allah entirely. He is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

(Muhammad), let not their words disappoint you; all dignity belongs to God. He is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

And let not their speech grieve you; surely might is wholly Allah's; He is the Hearing, the Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

And let not their saying grieve thee. Verily honour is Allah's wholly. He is the Hearer, the Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

Let not their speech grieve thee: for all power and honour belong to Allah: It is He Who heareth and knoweth (all things).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–67

عزت صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بےدلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنادی ہے۔ دن کو اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 61–66

سورة یُوْنُس 64 یہاں اس بات کا ذکر کرنے سے مقصود نبی کو تسکین دینا اور نبی کے مخالفین کو متنبہ کرنا ہے۔ ایک طرف نبی سے ارشاد ہو رہا ہے کہ پیغام حق کی تبلیغ اور خلق اللہ کی اصلاح میں جس تن دہی و جاں فشانی اور جس صبر و تحمل سے تم کام کر رہے ہو وہ ہماری نظر میں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس پرخطر کام پر مامور کر کے ہم نے تم کو تمہارے حال پر چھوڑ دیا ہو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں اور جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے اس سے بھی ہم بیخبر نہیں ہیں۔ دوسری طرف نبی کے مخالفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ایک داعی حق اور خیر خواہ خلق کی اصلاحی کوششوں میں روڑے اٹکا کر تم کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–66

خلاصہ تفسیر اور آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں (یعنی ان کے کفریات سے مغموم ہوں کیونکہ علم و حفاظت مذکورہ کے علاوہ) تمام تر غلبہ (اور قدرت بھی) خدا ہی کے لئے (ثابت) ہے (وہ اپنی قدرت سے حسب وعدہ آپ کی حفاظت کرے گا) وہ (ان کی باتیں) سنتا ہے (اور ان کی حالت) جانتا ہے (وہ آپ کا بدلہ ان سے خود لے لے گا) یاد رکھو کہ جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں (یعنی فرشتے اور جن و انس) یہ سب اللہ ہی کے (مملوک) ہیں (اس کی حفاظت یا مکافات کو کوئی روک نہیں سکتا پس باہمہ وجوہ تسلی رکھنا چاہئے) اور (اگر کسی کو شبہ ہو کہ شاید شرکاء مزاحمت کرسکیں تو اس کی حقیقت سن لو کہ) جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 61–65

61۔ 65:۔ وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ ۭ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرَ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۔ پیغمبر ﷺ اور صحابہ کو تسلی : یہ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے بطور التفات تسلی اور بشارت ہے کہ مخالفوں کی ان غوغا آرائیوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تم جہاں کہیں اور جس حال میں بھی ہو عبادت و طات اور تزکیر و دعوت کی جس مہم میں بھی مصروف ہو، پورے انہماک اور پوری یکسوئی و دل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 64–65

64۔ 1 دنیا میں خوشخبری سے مراد، رؤیائے صادقہ ہیں یا وہ خوشخبری ہے جو موت کے فرشتے ایک مومن کو دیتے ہیں، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–67

28: اللہ کے دوست کی تشریح اگلی آیت میں کردی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات رکھتے ہوں۔ ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہیں نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا، اور نہ ماضی کی کسی بات کا کوئی غم ہوگا۔ کہنے کو یہ مختصر سی بات ہے، لیکن دیکھا جائے تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ دنیا میں اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا میں ہر انسان کو، خواہ وہ کتنا خوشحال ہو، ہر وقت مستقل کا کوئی نہ کوئی خوف اور ماضی کا کوئی نہ کوئی رنج پریشان کرتا ہی رہتا ہے۔ یہ نعمت صرف جنت ہی میں حاصل ہوگی کہ انسان ہر طرح کے خوف اور صدمے سے بالکل آزاد ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولا یحزنک قولھم ان کا قول آپ کو رنجیدہ نہ کرے (آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں) قول سے مراد ہے کلمۂ شرک اور رسول اللہ (ﷺ) کی تکذیب اور دکھ پہنچانے کی دھمکیاں۔ ان العزۃ اللہ جمیعًا کیونکہ غلبہ تو سارا کا سارا اللہ ہی کو حاصل ہے (ساری طاقت اسی کو حاصل ہے) کسی کے قبضہ میں کوئی چیز نہیں۔ اللہ سب پر غالب ہے ‘ وہی آپ کی مدد کرے گا اور کامیاب فرمائے گا۔ ھو السمیع العلیم۔ وہی (ان کے اقوال کو) سننے والا (اور ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ یعنی ان کو خود سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 اوپر سے اعدائے مکذبین کا ذکر چلا آتا تھا۔ ان کے بالمقابل دوستوں کا تذکرہ فرمایا اور ان کو دارین میں محفوظ رہنے کی بشارت سنائی۔ اسی سلسلہ میں حضور ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ احمقوں اور شریروں کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں، غلبہ اور زور سب خدا کے لیے ہے وہ اپنے زور تائید سے حق کو غالب و منصور اور مخالفین کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑے گا وہ ان کی سب باتیں سنتا اور سب حالات جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 64–66

آیت 64 لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ان بشارتوں کے بارے میں ہم سورة التوبہ کی آیت 52 میں پڑھ چکے ہیں : ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلآَّ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ یعنی ہمارے لیے تو دو اچھائیوں کے سوا کسی تیسری چیز کا تصور ہی نہیں ہے ‘ ہمارے لیے تو بشارت ہی بشارت ہے۔ اور اگر بالفرض دنیا میں کوئی تکلیف آ بھی جائے تو بھی کوئی غم نہیں ‘ کیونکہ ہمارے اوپر جو بھی تکلیف آتی ہے وہ ہمارے رب ہی کی طرف سے آتی ہے۔ جیسے سورة التوبہ آیت 51 میں فرمایا گیا : قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلاَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَاج ہُوَ مَوْلٰٹنَا چناچہ اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے ؟ وہ ہمارا دوست…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 65–66

80 اولیاء اللہ کے بعد اب ساتھ ہی اعداء اللہ کا ذکر فرمایا جو حق کا انکار کرتے تھے پیغمبر اسلام اور مسلمانوں پر پھبتیاں کستے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اور انھیں تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے اس آیت میں پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ غلبہ، قوت، اقتدار اور عزت تو سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تمہیں کبھی اس حال میں نہ رہنے دے گا بلکہ ایسے حالات پیدا کردے گا کہ منکرین حق ذلیل اور رسوا ہوں اور عزت اور غلبہ اہل حق کو نصیب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

98۔ وہ منکرین کے طنز وتعریض اور آپ کی تبلیغ وموعظۃ سب سن رہا ہے ان کی شرارت وعناد اور آپ کا تحمل اور درد اصلاح سب اس پر روشن ہے۔ (آیت) ” ولا یحزنک قولھم “۔ کفریات سے آپ ﷺ کا مغموم ہونا بالکل ایک امر طبعی تھا۔ آپ ﷺ کی اسی سے تسلی کی جارہی ہے۔ (آیت) ” ان العزۃ للہ جمیعا “۔ اور وہی اپنی قدرت سے آپ کی اور اسلام کی نصرت وحمایت کرے گا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کسی دوسرے میں جو عزت بہ ظاہر نظر آتی ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے اور وہ غیر اس کی عزت کا ایک مظہر ہے جیسے ضیاء درحقیقت آفتاب کی صفت ہے اور زمین پر ایک گونہ تعلق یا سبب اس کا ظہور ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–70

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ تم جس شان (حال) میں بھی ہوتے ہو اور اس شان (حال) کی وجہ سے قرآن سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، جو کچھ تلاوت کرتے ہو، یا من جانب اللہ جو قرآن تلاوت کرتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو یہ آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو خطاب ہے ہم (اس عمل سے) باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو، ذرہ برابر کوئی چیز (ایسی نہیں) نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (اور نہ اس مقدار سے) چھوٹی اور نہ بڑی کہ وہ کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں موجود نہ ہو، ذرّہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، یاد رکھو یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کیلئے آخرت میں نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا یحزنک قولھم ان کا قول آپ کو رنجیدہ نہ کرے (آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں) قول سے مراد ہے کلمۂ شرک اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور دکھ پہنچانے کی دھمکیاں۔ ان العزۃ اللہ جمیعًا کیونکہ غلبہ تو سارا کا سارا اللہ ہی کو حاصل ہے (ساری طاقت اسی کو حاصل ہے) کسی کے قبضہ میں کوئی چیز نہیں۔ اللہ سب پر غالب ہے ‘ وہی آپ کی مدد کرے گا اور کامیاب فرمائے گا۔ ھو السمیع العلیم۔ وہی (ان کے اقوال کو) سننے والا (اور ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ یعنی ان کو خود سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(65) اے محمد ﷺ خاص طور پر آپ کو ان لوگوں کا جھٹلانا غم میں نہ ڈالے، ان کو ہلاک کرنے کی تمام تر قدرت اور غلبہ اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے، وہ ان کی باتیں سنتا اور ان کی حالت اور ان کے انجام کو جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا يَحْزُنْكَ قَوْلُھُمْ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی دنیا اور آخرت کی سعادت بیان کرنے کے بعد اپنے رسول ﷺ کو تسلی دی کہ دشمنوں کی باتوں، مثلاً جادوگر، دیوانہ اور کذاب وغیرہ کہنے سے آپ کو جو تکلیف پہنچی ہے اس سے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ غم اگرچہ ایک طبعی چیز ہے مگر آپ نہ بددل ہوں نہ مایوس، کیونکہ عزت یعنی غلبہ، اقتدار اور فتح تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی جسے چاہے غالب اور جسے چاہے مغلوب کرتا ہے، لہٰذا آپ کو ان کافروں کی دھمکیوں، ان کے کفر و شرک اور طعن و تشنیع سے رنجیدہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں، آخر کار غلبہ اور اقتدار آپ کو اور آپ کے پیش کردہ دین ہی کو حاصل ہوگا۔ نیز…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 65 قولہ تعالیٰ : (آیت) ولایحزنک قولھم کلام مکمل ہوگئی، یعنی ان کا افتراباندھنا اور ان کا آپ کو جھٹلانا آپ کو غمزدہ نہ کرے، پھر کلام کا آغاز کیا اور فرمایا : (آیت) ان العزۃ للہ یعنی بیشک قوت کاملہ، غلبہ شاملہ اور قدرت تامہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کے لیے ہے پس وہی آپ کا ناصر، مددگار اور محافظ ہے۔ جمیعا یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول اس کے معارض نہیں ہے۔ (آیت) وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین (المنافقون : 8) (حالانکہ (ساری) عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے) کیونکہ تمام عزتیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہیں اور وہ تمام کی تمام اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–66

1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (کافروں نے) نفع حاصل نہیں کیا اس چیز کے ساتھ جو ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی اور وہ اپنے کفر پر قائم رہے تو یہ بات رسول اللہ ﷺ پر بہت گزری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے (یہ آیت) ” ولا یحزنک قولہم ان العزۃ للہ جمیعا ھو السمیع العلیم (65) نازل ہوئی جس میں آپ کو عتاب کیا گیا یعنی وہ (اللہ تعالیٰ ) سنتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور اس کو جانتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ چاہے تو وہ یقینا ان پر غالب آجائے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَا يَحْزُنْكَ [ اور چاہیے کہ افسردہ مت کرے آپ کو ] قَوْلُھُمْ ۘ [ ان لوگوں کی بات ] اِنَّ [یقینا ] الْعِزَّةَ [کل عزت ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کی (دی ہوئی ) ہے ] جَمِيْعًا ۭ [ سب کی سب ] ھُوَ السَّمِيْعُ [وہ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 62–65

اولیاء اللہ نہ خوف زدہ ہوں گے نہ غمگین یہ تین آیات ہیں ان میں اولیاء اللہ کی فضیلت اور ولایت کی حقیقت بتائی اور یہ بتایا کہ اولیاء اللہ کے لئے دنیا میں اور آخرت میں بشارت ہے۔ اولیاء ولی کی جمع ہے ‘ ولی دوست اور قریب کو کہتے ہیں۔ اولیاء کون لوگ ہیں اس کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا یہ لوگ اولیاء اللہ ہیں۔ ایمان کے بغیر تو اللہ کا کوئی دوست ہو ہی نہیں سکتا۔ خواہ کیسی ہی ریاضت کرے اور عبادت کے نام سے کچھ بھی عمل کرے۔ کافر اور مشرک اللہ کا مقرب اور مقبول بندہ اور اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔ اہل ایمان کے درجات مختلف ہیں۔ ایمان کی صفات کے کم وبیش ہونے اور ایمانی تقاضوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–70

تسلی نبی اکرم ﷺ از سخنہائے دلخراش دشمناں قال اللہ تعالی۔ ولا یحزنک قولھم۔۔۔ الی۔۔۔ وان ھم الا یخرصون (ربط): گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو تسلی دی اب اس آیت میں اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں۔ کفار آں حضرت ﷺ کو اپنی قوت اور شوکت سے ڈراتے تھے اور طرح طرح کی دلخراش باتیں کہتے تھے سو آپ کی تسلی کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ ان کی باتوں سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں عزت اور غلبہ تو اللہ ہی کے لیے ہے وہی آسمانوں اور زمینوں کا بادشاہ ہے اور یہ کافر صرف خیالی اور فرضی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ ان کی پرواہ نہ کریں۔ غرض یہ کہ ان آیات میں آپ کو دشمنوں کی ایذا رسانی پر تسلی دی گئی اور اشارۃ ً آپ کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

83: یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے، “ اِنَّ الْعِزَّةَ الخ ” یہ ماقبل کے لیے علت ہے یعنی اے میرے پیغمبر آپ مشرکین کی ایذا رسانی اور ان کے توہین آمیز سلوک سے دل برداشتہ اور غمگین نہ ہوں اس سے وہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے کیونکہ عزت و ذلت تو اللہ کے اختیار میں اور اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا وآخرت میں عزت و آبرو دینے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ “ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ” وہی ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے اور کوئی نہیں۔ اس سے مقصود شرک فی العلم کی نفی ہے گویا یہ دلیل نہم کا مقدمہ ہے جس سے نفی شرک فی التصرف مقصود ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–66

ربط آیات یہ بھی دراصل توحید کے اثبات اور مشرکین کے رد کا بیان ہے۔ اس سے پہلے اللہ نے قرآن کریم کے اوصاف بیان کیے قرآن پاک کے پروگرام کے علاوہ اپنے گمان محض اور ناقص عقل سے حلت و حرمت کے حکم لگانے کی مذمت بیان فرمائی۔ ایسے لوگوں کی سزا کے متعلق اللہ نے اشارۃ فرمایا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ قیامت والے دن ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ اب آج کے درس میں اللہ نے اپنے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی تعریف بیان کی ہے آپ کے پیروکاروں کا بھی ضمنا ذکر کیا گیا ہے۔ نظر خداوندی ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” وما تکون فی شان “ اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں (آیت) ” وما تتلوا منہ من…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُھُمْ۝ 0 ۘ اِنَّ الْعِزَّۃَ لِلہِ جَمِيْعًا۝ 0 ۭ ھُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ 65 عز العِزَّةُ : حالةٌ مانعة للإنسان من أن يغلب . من قولهم : أرضٌ عَزَازٌ. أي : صُلْبةٌ. قال تعالی: أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] ( ع ز ز ) العزۃ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کو مغلوب ہونے سے محفوظ رکھے یہ ارض عزاز سے ماخوذ ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ عزت تو سب خدا ہی کی ہے ۔ جمع الجَمْع :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–65

اولیاء اللہ کے لئے لاخوف علیہم ولاھم یحزنون فرماتا ہے کہ بعد مردن نہ ان کو کسی مصیبت آیندہ کا خوف ہوگا نہ کسی گذشتہ بات پر حزن (غم) ہوگا اور نیز استغراق اور قرب الٰہی کی وجہ سے ان کے دل ایسے ہوجاتے ہیں کہ جس میں خوف و حزن کے لئے جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔ کیسی ہی مصائب پیش آئیں اور کتنی ہی سختیاں آجائیں مگر وہ محو تماشای جمالِ با کمال ہیں۔ اس لذت کے آگے وہ خبر بھی نہیں ہوتے۔ قرون ثلاثہ کے بعد حضرت محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندی وغیرہم بہت سے اس امت مرحومہ میں گذرے ہیں کہ جو انبیائِ بنی اسرائیل کے خرق عادات و کرامات میں ہم پلہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 62–65

اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ ج صلے الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۔ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوِۃ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ط لاَ تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (یونس : 62، 63، 64) (یاد رکھو بیشک جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ان پر کوئی ڈر ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔ اللہ کی باتیں تبدیل نہیں ہوتیں یہی وہ بڑی کامیابی ہے۔ ) محولہ بالا لوگ ہی اولیاء اللہ ہیں گزشتہ آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دیتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اولیاء اللہ کو آخرت کے خوف و خطر، غم اور پریشانی سے محفوظ رہنے کی خوشخبری دینے کے بعد بالخصوص رسول کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کو دشمنوں اور ان کی ہرزہ سرائی سے غم زدہ اور دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ آپ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اور اس کے محبوب ہیں۔ رسول کریم ﷺ لوگوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے دن رات جدوجہد کررہے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ آپ کا اخلاص اور کردار دیکھ کر منکرین حق اسلام کی سچائی اور نبی کی نبوت پر ایمان لاتے۔ لیکن انہوں نے صحیح اور فطری راستے کو چھوڑ کر نہ صرف کفرو شرک اور نبی کی بغاوت کا راستہ اختیار کیا بلکہ انہوں نے آپ کو پریشان اور ناکام کرنے کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تسلی رسول ﷺ : 65: وَلَا یَحْزُنْکَ قَوْلُھُمْ (آپ کو ان کی بات غم میں نہ ڈالے) یعنی تکذیب اور تہدید اور آپ کو ہلاک کرنے کی تدابیر اختیار کرنا اور آپ کی نبوت والے معاملے کو فیل کرنے کی کوششیں۔ اِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا (بیشک عزتیں تمام کی تمام اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں) یہ جملہ مستانفہ ہے جو تعلیل بیان کرنے کیلئے لایا گیا ہے گویا اسطرح کہا گیا ہے میں کیوں غم زدہ نہ ہوں ؟ تو جواب دیا اسلئے کہ عزت یعنی غلبہ اور اقتدار حقیقی تمام مملوکہ چیزوں میں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ کسی کو اس میں سے ذرہ بھر حاصل و میسر نہیں۔ نہ ان کفار مکہ کو اور نہ کسی دوسرے کو پس وہ اللہ تعالیٰ آپ کو غالب اور ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(65)” ولا یحزنک قولھم “ یعنی مشرکین کا قول نافع (رح) نے ” ولا یحزنک “ یاء کے پیش اور زاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” یحزنک “ یاء کے زبر اور زاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں ۔ کہا جاتا ہے ” حزنہ الشیء و احزنہ “ یہاں کلام مکمل ہوگئی ہے پھر نئی کلام شروع کرتے ہوئے فرمایا ہے ۔ ” ان العزۃ للہ “ یعنی غلبہ اور قدرت اللہ کی ہے ۔ ” جمیعاً “ وہی آپ (علیہ السلام) کا اور آپ (علیہ السلام) کے دین کا مدد گار ہے اور ان سے انتقام لے گا ۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ ” ان العزۃ للہ جمعیا ً “ یعنی اللہ جس کو چاہے عزت دے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ” واللہ العزۃ ولرسولہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–67

65۔ 67۔ مشرکین مکہ حضرت رسول مقبول ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح سے آپ کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر طعن کرتے تھے اس سے حضرت کو ایک قسم کا ملام ہوا کرتا تھا اس واسطے اللہ پاک نے یہ آیت اتاری اور آپ کو تسکین دی کہ ان مشرکوں کی باتوں کا آپ خیال نہ فرمائیں۔ کیوں کہ ہر طرح کی عزت خدا ہی کو حاصل ہے اور وہ ہر شخص کے قول و فعل کو سنتا اور دیکھتا ہے یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ پھر تسلی کے بعد اس بات کی بشارت دی کہ خدا تمہاری مدد کرے گا کیونکہ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں بےجان یا جاندار ہیں ان سب کا مالک اکیلا خدا ہی ہے اس میں کسی کی شراکت ذرہ برابر بھی نہیں ہے یہ مشرکین اپنے جن معبودوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت : (65) یعنی جھٹلانے والوں کی باتوں میں سے کوئی بات ‘ جن کے ذریعے سے وہ آپ پر اور آپ کے دین پر نکتہ چینی کرتے ہیں ‘ آپ کو غم زدہ نہ کرے ‘ کیونکہ انکی یہ باتیں انکو عزت فراہم کرسکتی ہیں نہ آپ کو کوئی نقصان دے سکتی ہے۔ (ان العزۃ للہ جمیعا) ” بیشک عزت سب کی سب اللہ ہی کے لئے ہے “ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عزت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے عزت سے محروم کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (من کان یرید العزۃ فللہ العزۃ جمیعا) (فاطر : 10/35) ” جو کوئی عزت کا طلب گار ہے تو عزت تمام تر اللہ کے لئے ہے۔ “ جسے عزت چاہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذیرعے سے اسے طلب کرے اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 64–65

112 ۔ عزت اور غلبہ اللہ ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا عزت و غلبہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ پس عزت اسی کی ہے جس کو وہ عزت دے اور اس نے آپ ﷺ کو اے پیغمبر ! ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ جو اس کی ساری مخلوق میں کسی کو بھی نصیب نہیں ہوسکیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی پوری مخلوق میں عزت و غلبہ دراصل آپ ہی کے لیے ہے اور آپ کے بعد آپ کے ان پیروکاروں کے لیے جو آپ پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہوں اور آپ کی اتباع اور پیروی کرتے ہوں۔ (وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین) اور جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا (كَتَبَ اللّٰهُ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 55–66

اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

آیات 61 تا 70 اسرار و معارف اور آپ جس میں ہوں جس جگہ جو عمل کریں ۔ آپ قرآن میں سے تلاوت کریں یا کسی بھی دوسرے عمل میں مصروف ہوں اور صرف آپ ہی کیا سارے لوگ بھی جو کچھ کرتے ہیں ۔ سب ہمارے روبرو ہے ۔ آپ کی محنت ومشقت اور عبادت و مجاہدہ بھی اور کفار کی عداوت ودشمنی بھی بلکہ ہر نیک و بد پہ ہم ذاتی طور پر شاہد ہیں ۔ نہ صرف انسان اعمال وکرداربل کہ زمین وآسمان کا کوئی ذرہ یا اس سے بھی کوئی چھوٹی بڑی شے آپ کے رب کریم سے کسی لمحے پوشیدہ نہیں اللہ کا علم تو بہت عظیم اور اس کی شان کے مطابق ہے ۔ یہ سب کچھ تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی ذرہ یا اس کی حرکت اس باہر نہیں لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 ۔ عزت یعنی غلبہ، اقتدار اور فتحمندی۔ مطلب یہ ہے کہ جب غلبہ و اقتدار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جسے چاہے غالب اور جسے چاہے مغلوب کرتا ہے۔ تو ان کافروں کی دھمکیوں، ان کے کفر و شرک اور طعن وتشنیع سے آپ ﷺ کو رنجیدہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آخر کار غلبہ اور اقتدار آپ ﷺ کو اور آپو کے پیش کردہ دین کو ہی حاصل ہوگا۔ نیز دیکھئے سورة مجادلہ آیات 12 سورة منافقون آیت 8 ۔ (کبیر، شوکانی) ۔ 11 ۔ وہ عنقریب آپ ﷺ کے مخالفین سے مجھ لے گا۔ (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:65) العزۃ۔ عزت۔ سرفرازی۔ غلبہ۔ قدرت ۔ بزرگی۔ اقبال۔ عزیعز کا مصدر ہے بطور اسم بھی مستعمل ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–65

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65 ماتکون (تو نہیں ہوتا) شان (حال ، کیفیت) شھود (موجود ، گواہ ) تفیضون (تم کرتے ہو، تم مشغول ہوتے ہو) مایغرب (غائب نہیں رہتا ہے، دور نہیں ہوتا ہے) مثقال ذرۃ (ذرہ برابر، تھوڑا سا بھی) اصغر (چھوٹا، یہ لفظ اکبر کے مقابلہ میں ہے) کتاب مبین (کھلی کتاب (لوح محفوظ ؛ ) اولیاء (ولی) دوست ، حمایت کرنے والا لایحزنون (وہ رنجیدہ نہ ہوں گے) البشریٰ (خوش خبری) کلمت اللہ (اللہ کی باتیں، اللہ کے احکامات ، الفوزا العظیم (بڑی کامیابی ) العزۃ (عزت و عظمت ، غلبہ) تشریح : آیت نمبر 61 تا 65 گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو بیدار کرنے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–67

اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی باتوں پر تسکین دی شان نزول : مشرکین مکہ حضرت رسول مقبول ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح سے آپ کے رسول اور قرآن کے کلام الہی ہونے پر طعن کرتے تھے۔ اس سے آنحضرت ﷺ کو ایک قسم کا ملال ہوا کرتا تھا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور آپ کو تسکین دی، کہ ان مشرکوں کی باتوں کا آپ خیال نہ فرمائیں۔ کیونکہ ہر طرح کی عزت خدا ہی کو حاصل ہے اور وہ ہر شخص کے قول وفعل کو سنتا اور دیکھتا ہے۔ یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ پھر تسلی کے بعد اس بات کی بشارت دی کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ کیونکہ زمین وآسمان میں جتنی چیزیں بےجان یا جاندار ہیں، ان سب کا مالک اکیلا خدا ہی ہے۔ اس میں کسی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 3) صحیح عزت واقتدار مال و دولت سے حاصل نہیں ہوتی ، بلکہ یہ خدا کی دین ہے سچے مخدوم ومحترم وہ ہیں ، جو اللہ کے دین کے خادم ہوں ۔ حل لغات : لکلمت اللہ : قوانین الہی سے تعبیر ہے ۔ العزۃ : غلبہ ، قوت ، اقتدار ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

65 اور اے پیغمبر ﷺ ! ان منکرین دین حق کی باتیں آپ کو آزردہ خاطر نہ کریں اور آپ کو غم میں نہ ڈالیں کیونکہ ہر قسم کا غلبہ اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے یعنی اس کو علم بھی ہے سنتا بھی ہے اور قدرت بھی ہے اس لئے آپ کو ایسے زبردست حامی کی موجودگی میں فکر نہیں ہونا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان منکرین کی باتوں سے آزردہ خاطر نہ ہوں 94 ؎ اللہ رب العزت والا کرام منکرین کے طنز و تعریض اور آپ ﷺ کی تبلیغ و موعظت سب کچھ سن رہا ہے اور ان کی شرارت وعناد اور آپ ﷺ کا تحمل اور درد اصلاح سب اس پر روشن ہے ’ ’ منکروں کی باتوں سے آپ ﷺ آزردہ خاطر نہ ہوں “ فرمایا اس لئے کہ کفریات سے آپ ﷺ کا مغموم ہونا بالکل ایک امر طبعی تھا۔ آپ ﷺ کی اس سے تسلی کی جا رہی ہے اور ” ساری عزتیں اللہ ہی کیلئے ہیں “ اور وہی اپنی قدرت سے آپ ﷺ کی اور اسلام کی نصرت و حمایت کرے گا اس آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اے میرے رسول ﷺ ! اہل مکہ کا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، تیری نبوت و رسالت کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–86

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–66

64. The purpose of the statement is to console the Prophet (peace be on him) and to warn his enemies. On the one hand, the Prophet (peace be on him) is being reassured that the resoluteness, diligence and perseverance which characterize his efforts in preaching the truth and attempting to reform people is well known to God. It can hardly be conceived that after entrusting to the Prophet (peace be on him) a perilous task that God would leave him alone, unassisted. God knows full well all what the Prophet (peace be on him) does, and is also well aware of how others behave towards him. At the…

Read the full tafseer →