Explained with ayahs 62–64
اولیاء اللہ کا تعارف
اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بےخوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آجائے۔ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلا بھی مروی ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
سورة یُوْنُس 64
یہاں اس بات کا ذکر کرنے سے مقصود نبی کو تسکین دینا اور نبی کے مخالفین کو متنبہ کرنا ہے۔ ایک طرف نبی سے ارشاد ہو رہا ہے کہ پیغام حق کی تبلیغ اور خلق اللہ کی اصلاح میں جس تن دہی و جاں فشانی اور جس صبر و تحمل سے تم کام کر رہے ہو وہ ہماری نظر میں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس پرخطر کام پر مامور کر کے ہم نے تم کو تمہارے حال پر چھوڑ دیا ہو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں اور جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے اس سے بھی ہم بیخبر نہیں ہیں۔ دوسری طرف نبی کے مخالفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ایک داعی حق اور خیر خواہ خلق کی اصلاحی کوششوں میں روڑے اٹکا کر تم کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ کوئی…
Read the full tafseer →آخر آیت میں جو یہ فرمایا گیا کہ اولیاء کے لئے دنیا میں بھی خوش خبری ہے اور آخرت میں بھی، آخرت کی خوشخبری تو یہ ہے کہ موت کے وقت جب اس کی روح کو اللہ کے پاس لے جایا جائے گا اس وقت اس کو خوشخبری جنت کی ملے گی پھر قیامت کے روز قبر سے اٹھنے کے وقت جنت کی خوشخبری دی جائے گی جیسا کہ طبرانی نے بروایت ابن عمر نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل لا الہ الا اللہ کو نہ موت کے وقت کوئی وحشت ہوگی نہ قبر میں اور نہ قبر سے اٹھنے کے وقت، گویا میری آنکھیں اس وقت کا حال دیکھ رہی ہیں جب یہ لوگ اپنی قبروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
61۔ 65:۔ وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ ۭ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرَ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۔ پیغمبر ﷺ اور صحابہ کو تسلی : یہ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے بطور التفات تسلی اور بشارت ہے کہ مخالفوں کی ان غوغا آرائیوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تم جہاں کہیں اور جس حال میں بھی ہو عبادت و طات اور تزکیر و دعوت کی جس مہم میں بھی مصروف ہو، پورے انہماک اور پوری یکسوئی و دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
64۔ 1 دنیا میں خوشخبری سے مراد، رؤیائے صادقہ ہیں یا وہ خوشخبری ہے جو موت کے فرشتے ایک مومن کو دیتے ہیں، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
28: اللہ کے دوست کی تشریح اگلی آیت میں کردی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات رکھتے ہوں۔ ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہیں نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا، اور نہ ماضی کی کسی بات کا کوئی غم ہوگا۔ کہنے کو یہ مختصر سی بات ہے، لیکن دیکھا جائے تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ دنیا میں اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا میں ہر انسان کو، خواہ وہ کتنا خوشحال ہو، ہر وقت مستقل کا کوئی نہ کوئی خوف اور ماضی کا کوئی نہ کوئی رنج پریشان کرتا ہی رہتا ہے۔ یہ نعمت صرف جنت ہی میں حاصل ہوگی کہ انسان ہر طرح کے خوف اور صدمے سے بالکل آزاد ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی میں انہی کیلئے بشارت ہے۔ یہ بشارت وہی ہے جو رسول اللہ (ﷺ) نے صحابہ کو عموماً اور بعض مخصوص صحابہ کو خصوصاً دی تھی۔
ترمذی نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت سعید بن زید کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ابوبکر جنت میں (یعنی جنتی ) ہے ‘ عمر جنتی ہے ‘ عثمان جنتی ہے ‘ علی جنتی ہے ‘ طلحہ جنتی ہے ‘ زبیر جنتی ہے ‘ عبدالرحمن بن عوف جنتی ہے ‘ سعد بن ابی وقاص جنتی ہے ‘ سعید بن زید جنتی ہے ‘ ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہے۔
ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میری امت میں سب سے پہلے اے…
Read the full tafseer →4 " اولیاء اللہ کے لیے دنیا میں کئی طرح کی بشارتیں ہیں مثلاً حق تعالیٰ نے انبیاء کی زبانی جو لاخَوْفُ ، عَلَیْہِمْ وغیرہ کی بشارت دی ہے، یا فرشتے موت کے قریب ان کو کہتے ہیں (وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :30) یا کثرت سے سچے اور مبارک خواب انھیں نظر آتے ہیں یا ان کی نسبت دوسرے بندگان خدا کو دکھائی دیتے ہیں جو حدیث صحیح کے موافق نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ یا ان کے معاملات میں خدا کی طرف سے خاص قسم کی تائید و امداد ہوتی ہے یا خواص میں اور کبھی خواص سے گزر کر عوام میں بھی ان کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اور لوگ ان کی مدح وثناء اور ذکر خیر کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت 64 لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ
ان بشارتوں کے بارے میں ہم سورة التوبہ کی آیت 52 میں پڑھ چکے ہیں : ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلآَّ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ یعنی ہمارے لیے تو دو اچھائیوں کے سوا کسی تیسری چیز کا تصور ہی نہیں ہے ‘ ہمارے لیے تو بشارت ہی بشارت ہے۔ اور اگر بالفرض دنیا میں کوئی تکلیف آ بھی جائے تو بھی کوئی غم نہیں ‘ کیونکہ ہمارے اوپر جو بھی تکلیف آتی ہے وہ ہمارے رب ہی کی طرف سے آتی ہے۔ جیسے سورة التوبہ آیت 51 میں فرمایا گیا : قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلاَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَاج ہُوَ مَوْلٰٹنَا چناچہ اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے ؟ وہ ہمارا دوست…
Read the full tafseer →79 اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت ایسی ہے کہ جو حتمی، یقینی اور ناقابل تغیر و تبدل ہے بالفاظ دیگر جو اللہ کے دوست ہوں یا جن کا دوست اللہ تعالیٰ ہو وہ کہیں بھی اور کسی حال میں بھی پریشان نہ ہوں گے اور ان کے لیے یہی بات سب سے بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →97۔ یعنی یہی مقبولیت یا دونوں جہانوں میں محفوظیت اور اس محفوظیت کا وعدہ۔ اے ما ذکران لھم البشری فی الدارین (روح) (آیت) ” البشری “۔ یہ خوشخبری اسی خوف وحزن سے محفوظ رہنے کی ہے۔ اور خوف وغم سے مراد دنیوی خوف وغم ہے جس سے مومنین کاملین اس لئے محفوظ ہوجاتے ہیں کہ وہ ہر ناگوار سے ناگوار واقعہ میں بھی حکمت الہی ہی کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ تم جس شان (حال) میں بھی ہوتے ہو اور اس شان (حال) کی وجہ سے قرآن سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، جو کچھ تلاوت کرتے ہو، یا من جانب اللہ جو قرآن تلاوت کرتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو یہ آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو خطاب ہے ہم (اس عمل سے) باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو، ذرہ برابر کوئی چیز (ایسی نہیں) نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (اور نہ اس مقدار سے) چھوٹی اور نہ بڑی کہ وہ کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں موجود نہ ہو، ذرّہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، یاد رکھو یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کیلئے آخرت میں نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم…
Read the full tafseer →لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی میں انہی کیلئے بشارت ہے۔ یہ بشارت وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو عموماً اور بعض مخصوص صحابہ کو خصوصاً دی تھی۔
ترمذی نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت سعید بن زید کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر جنت میں (یعنی جنتی) ہے ‘ عمر جنتی ہے ‘ عثمان جنتی ہے ‘ علی جنتی ہے ‘ طلحہ جنتی ہے ‘ زبیر جنتی ہے ‘ عبدالرحمن بن عوف جنتی ہے ‘ سعد بن ابی وقاص جنتی ہے ‘ سعید بن زید جنتی ہے ‘ ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہے۔
ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں سب سے پہلے اے ابوبکر !…
Read the full tafseer →(64) اور وہ کون لوگ ہیں ! اب اللہ تعالیٰ ان کا بیان فرماتا ہے کہ جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور کفر وشرک اور فواحش سے بچتے ہیں، ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی کہ وہ رؤیائے صادقہ دیکھتے ہیں یا ان کو دکھلائے جاتے ہیں اور آخرت میں بھی کہ ان کو جنت ملے گی، خوشخبری ہے اور جنت کا جو وعدہ فرمایا ہے اس میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا اور یہ بشارت بہت بڑی کامیابی ہے جس کی بدولت جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں گی اور دوزخ اور اس کی سختیوں سے چھٹکارا ملے گا۔
Read the full tafseer →لَھُمُ الْبُشْرٰي فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : ”لھم“ پہلے آنے کی وجہ سے حصر کا معنی پیدا ہوگیا، یعنی دنیا کی زندگی میں خاص خوش خبری انھی کے لیے ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں : 1 پاکیزہ اور صاف ستھری زندگی، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً) [ النحل : 97 ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی۔“ 2 تقدیر پر ایمان کی وجہ سے کفار جیسی بےصبری اور خوف و غم سے محفوظ رہنا، جیسا کہ اوپر گزرا ہے اور فرمایا : (اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا 19ۙاِذَا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 64
قولہ تعالیٰ : (آیت) لھم البشری فی الحیوۃ الدنیاحضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے تیرے سوا کسی نے اس کے بارے میں مجھ سے نہیں پوچھا، یہ سچے خواب ہیں جنہیں ایک مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں “ (2) (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 138) ۔ اسے ترمذی۔ نے اپنی جامع میں ذکر کیا ہے۔ اور زہری، عطا اور قتادہ۔ نے کہا ہے : بشارت سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ ملائکہ دنیا میں موت کے وقت ایک مومن کو خوشخبری دیتے ہیں۔ اور محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے انہوں نے کہا ہے : جب بندہ مومن…
Read the full tafseer →1:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ واحمد والترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا والحکیم الترمذی نے نوادرالاصول میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے شعب الایمان میں عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابودرداء ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کسی نے مجھ سے اس بارے میں سوال نہیں کیا جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور آپ نے فرمایا کہ مجھ سے تیرے علاوہ کسی نے سوال نہیں کیا جب سے اس کو اتارا گیا پھر آپ نے فرمایا یہ اچھے خواب ہیں جس کو کوئی…
Read the full tafseer →لَھُمُ [ ان کے لیے ] الْبُشْرٰي [بشارت ہے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی میں ] وَفِي الْاٰخِرَةِ ۭ [ اور آخرت میں ] لَا تَبْدِيْلَ [ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہے ] لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۭ] اللہ کے فرمانوں میں ] ذٰلِكَ [یہ ] ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ ہی عظیم کامیابی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
اولیاء اللہ نہ خوف زدہ ہوں گے نہ غمگین
یہ تین آیات ہیں ان میں اولیاء اللہ کی فضیلت اور ولایت کی حقیقت بتائی اور یہ بتایا کہ اولیاء اللہ کے لئے دنیا میں اور آخرت میں بشارت ہے۔ اولیاء ولی کی جمع ہے ‘ ولی دوست اور قریب کو کہتے ہیں۔ اولیاء کون لوگ ہیں اس کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا یہ لوگ اولیاء اللہ ہیں۔ ایمان کے بغیر تو اللہ کا کوئی دوست ہو ہی نہیں سکتا۔ خواہ کیسی ہی ریاضت کرے اور عبادت کے نام سے کچھ بھی عمل کرے۔ کافر اور مشرک اللہ کا مقرب اور مقبول بندہ اور اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔ اہل ایمان کے درجات مختلف ہیں۔ ایمان کی صفات کے کم وبیش ہونے اور ایمانی تقاضوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
بیان حال و مآل اولیاء اللہ
قال اللہ تعالی۔ الا ان اولیاء اللہ۔۔ الی۔۔۔ ھو الفوز العظیم
(ربط): گزشتہ آیات میں اعداء اللہ یعنی فاسقین اور معاندین کا حال اور مآل بیان کیا اب اس آیت میں اولیاء اللہ یعنی خدا کے محبین وصادقین کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ اولیاء اللہ (یعنی خدا کے دوست) وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کے ساتھ موصوف ہوں جس درجہ کا ایمان اور تقوی ہوگا اسی درجہ کی ولایت ہوگی۔ اس اعتبار سے ہر مومن ولی ہے کتاب وسنت کے عرف میں ولی اس شخص کو کہتے ہیں جس میں ایک خاص اور ممتاز درجہ کا ایمان اور تقوی پایا جاتا ہو وہ یہ کہ اللہ کی عظمت اور اس کا جلال ہر وقت اس کی نظروں کے سامنے ہو اور اس کا…
Read the full tafseer →81: اولیاء اللہ کے لیے دنیا اور آخرت میں جنت کی خوشخبری ہے اور اللہ کی طرف سے پختہ وعدہ ہے دنیا میں خوشخبری سے مراد وہ بشارتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرمائی ہیں۔ مثلاً “ یُبَشَّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ ” (توبہ رکوع 3) اور “ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ الخ ” (بقرة رکوع 3) ۔ “ قال الحسنھی ما یبشرھم اللہ تعالیٰ فی کتابه من جنته و کریم ثوابه بقوله یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ الخ ” (قرطبی ج 8 ص 258) ۔ یا دنیا میں خوشخبری سے مراد رؤیائے صالحہ جیسا کہ حدیث مرفوع میں واقع ہے۔ “ ھی الرؤیا الصالحة یراھا المسلم او…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
ربط آیات
یہ بھی دراصل توحید کے اثبات اور مشرکین کے رد کا بیان ہے۔ اس سے پہلے اللہ نے قرآن کریم کے اوصاف بیان کیے قرآن پاک کے پروگرام کے علاوہ اپنے گمان محض اور ناقص عقل سے حلت و حرمت کے حکم لگانے کی مذمت بیان فرمائی۔ ایسے لوگوں کی سزا کے متعلق اللہ نے اشارۃ فرمایا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ قیامت والے دن ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ اب آج کے درس میں اللہ نے اپنے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی تعریف بیان کی ہے آپ کے پیروکاروں کا بھی ضمنا ذکر کیا گیا ہے۔
نظر خداوندی
ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” وما تکون فی شان “ اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں (آیت) ” وما تتلوا منہ من…
Read the full tafseer →لَھُمُ الْبُشْرٰي فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ 0 ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللہِ 0 ۭ ذٰلِكَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 64 ۭ
دنا
الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11]
دنا
( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
اولیاء اللہ کے لئے لاخوف علیہم ولاھم یحزنون فرماتا ہے کہ بعد مردن نہ ان کو کسی مصیبت آیندہ کا خوف ہوگا نہ کسی گذشتہ بات پر حزن (غم) ہوگا اور نیز استغراق اور قرب الٰہی کی وجہ سے ان کے دل ایسے ہوجاتے ہیں کہ جس میں خوف و حزن کے لئے جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔ کیسی ہی مصائب پیش آئیں اور کتنی ہی سختیاں آجائیں مگر وہ محو تماشای جمالِ با کمال ہیں۔ اس لذت کے آگے وہ خبر بھی نہیں ہوتے۔ قرون ثلاثہ کے بعد حضرت محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندی وغیرہم بہت سے اس امت مرحومہ میں گذرے ہیں کہ جو انبیائِ بنی اسرائیل کے خرق عادات و کرامات میں ہم پلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ ج صلے الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۔ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوِۃ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ط لاَ تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (یونس : 62، 63، 64)
(یاد رکھو بیشک جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ان پر کوئی ڈر ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔ اللہ کی باتیں تبدیل نہیں ہوتیں یہی وہ بڑی کامیابی ہے۔ )
محولہ بالا لوگ ہی اولیاء اللہ ہیں
گزشتہ آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو تسلّی دینے اور آپ کے کام کو خراج تحسین سے نوازنے کے بعد توحید سے محبت کرنے والوں، نبی ﷺ کے جانثاروں اور حق پر قربان ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست قرار دیتے ہوئے انہیں تسلی دینے کے ساتھ تابناک مستقبل کی خوشخبری دی ہے۔
ولی کی جمع اولیاء ہے جس کا معنیٰ ہے دوست۔ اولیاء اللہ یعنی اللہ کے دوست جن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ ایمانداروں کا دوست ہے۔ ان کو کفر و شرک اور بدعت و رسومات سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کفار کے دوست شیطان ہیں وہ انھیں کو نور سے نکال کر کفرو شرک اور بدعت و رسومات کے اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنم کی آگ میں جھونکے…
Read the full tafseer →64: لَھُمُ الْبُشْرٰ ی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (انہی کیلئے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں) نمبر 1۔ ان چیزوں کی جنکی خوشخبری اللہ تعالیٰ نے مومن متقی لوگوں کو قرآن مجید میں کئی مقامات پر دی ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ وہ نیک خواب ہیں جو مسلمان دیکھتا ہے یا اسکو دکھائے جاتے ہیں۔ (الترمذی) نبوت ختم ہوگئی اور اچھے خواب اس میں سے باقی رہ گئے۔ [ ابن ماجہ ] نیک خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ [ ا لترمذی ]
نکتہ : اس آخری روایت میں نکتہ یہ ہے کہ مدت وحی 23 سال اور پہلے چھ ماہ میں نیند و خواب میں آپ کو انذار کے متعلق ہدایات دی جاتی تھیں۔ اور چھے مہینے تیئس سال کا چھیالیسواں حصہ بنتا ہے (…
Read the full tafseer →مبشرات کیا چیزیں ہیں
تفسیر (64)” لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرۃ “ اس بشریٰ میں اختلاف ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں پوچھا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ اچھے خواب ہیں جن کو مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے دیکھے جاتے ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ نبوت میں سے مبشرات کے سوا کچھ نہیں باقی رہا تو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نیک خواب ۔ بعض نے کہا ہے کہ دنیا میں بشریٰ اچھی…
Read the full tafseer →64۔ مسند امام احمد بن حنبل میں عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ﷺ سے پوچھا کہ اس آیت میں نیک مسلمانوں کو دنیا میں خوشخبری کا جو ذکر ہے اس سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں اور یہ ایک مسئلہ ہے کہ امت میں سے کسی شخص نے تم سے پہلے مجھ سے نہیں پوچھا 1 ؎ اس بات کے قرار دینے میں کہ خواب کیا چیز ہے لوگوں نے بڑا اختلاف ڈال رکھا ہے۔ طبیب لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جس خلط کا غلبہ آدمی کی طبیعت پر ہونا ہے اسی طرح کی چیزیں اس کو سوتے میں نظر آتی ہیں۔ مثلاً بلغمی مزاج کا آدمی کے ذہن میں نقش پذیر ہوجاتی ہیں لیکن یہ دونوں فرقوں کی باتیں محض خیالی باتیں ہیں کیوں کہ اگر خواب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
آیت : (62-64)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ان کے اعمال و اوصاف اور ان کا ثواب کا ذکر کرتا ہے ‘ چناچہ فرماتا ہے : (الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم) ” خبردار ! اللہ کے جو دوست ہیں ‘ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا “ یعنی قیامت کے روز میدان محشر میں جو خوفناک اور ہول ناک حالات ہوں گے ‘ وہاں انہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ (ولا ھم یحزنون) ” اور نہ و غمگین ہوں گے “ ان اعمال پر جو انہوں نے پہلے کئے ہوں گے ‘ کیونکہ انہوں نے اعمال صالحہ کے سوا کچھ نہیں کیا ہوگا۔ چونکہ انہیں کسی قسم کا خوف ہوگا نہ وہ غمزدہ ہوں گے ‘ اس لئے وہاں ان کے لئے امن وسعادت اور خیر کثیر ہوگا جسے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
112 ۔ عزت اور غلبہ اللہ ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا عزت و غلبہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ پس عزت اسی کی ہے جس کو وہ عزت دے اور اس نے آپ ﷺ کو اے پیغمبر ! ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ جو اس کی ساری مخلوق میں کسی کو بھی نصیب نہیں ہوسکیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی پوری مخلوق میں عزت و غلبہ دراصل آپ ہی کے لیے ہے اور آپ کے بعد آپ کے ان پیروکاروں کے لیے جو آپ پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہوں اور آپ کی اتباع اور پیروی کرتے ہوں۔ (وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین) اور جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا (كَتَبَ اللّٰهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–66
اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں
تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیات 61 تا 70
اسرار و معارف
اور آپ جس میں ہوں جس جگہ جو عمل کریں ۔ آپ قرآن میں سے تلاوت کریں یا کسی بھی دوسرے عمل میں مصروف ہوں اور صرف آپ ہی کیا سارے لوگ بھی جو کچھ کرتے ہیں ۔ سب ہمارے روبرو ہے ۔ آپ کی محنت ومشقت اور عبادت و مجاہدہ بھی اور کفار کی عداوت ودشمنی بھی بلکہ ہر نیک و بد پہ ہم ذاتی طور پر شاہد ہیں ۔ نہ صرف انسان اعمال وکرداربل کہ زمین وآسمان کا کوئی ذرہ یا اس سے بھی کوئی چھوٹی بڑی شے آپ کے رب کریم سے کسی لمحے پوشیدہ نہیں اللہ کا علم تو بہت عظیم اور اس کی شان کے مطابق ہے ۔ یہ سب کچھ تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی ذرہ یا اس کی حرکت اس باہر نہیں لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ اولیاء اللہ کے لئے آخرت میں بشارت یعنی جنت ہے اور دنیا میں ان کے لئے کئی طرح کی بشارتیں ہیں۔ ایک بشارت تو قرآن کی متعدد آیات میں یہ دی گئی ہے کہ ان پر کوئی خوف و غم نہ ہوگا اور انہیں سچے خواب دکھائے جاتے۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔ الرویا الادقہ بشری المومن۔ کہ سچا خواب مومن کے لئے بشارت ہے۔ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ لوگوں میں قبولیت حاصل ہوتی ہے اور لوگ مدح و ستائش سے ان کا ذکر کرتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ مدح مومن کے لئے دنیا میں بشارت ہے۔ (روح طعانی۔ شوکانی) ۔
9 ۔ لہٰذا اس کے وہ وعدے بھی پورے ہوں گے جو اس نے اہل ایمان سے کر رکھ ہیں۔
Read the full tafseer →(10:64) البشری۔ خوشخبری۔
لا تبدیل لکلمت اللہ۔ جملہ معترضہ ہے۔ اللہ کے وعدوں میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ کلمت۔ اقوال ۔ وعدے۔
ذلک سے مراد۔ دنیوی و اخروی زندگی کے متعلق بشارت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
ماتکون (تو نہیں ہوتا) شان (حال ، کیفیت) شھود (موجود ، گواہ ) تفیضون (تم کرتے ہو، تم مشغول ہوتے ہو) مایغرب (غائب نہیں رہتا ہے، دور نہیں ہوتا ہے) مثقال ذرۃ (ذرہ برابر، تھوڑا سا بھی) اصغر (چھوٹا، یہ لفظ اکبر کے مقابلہ میں ہے) کتاب مبین (کھلی کتاب (لوح محفوظ ؛ ) اولیاء (ولی) دوست ، حمایت کرنے والا لایحزنون (وہ رنجیدہ نہ ہوں گے) البشریٰ (خوش خبری) کلمت اللہ (اللہ کی باتیں، اللہ کے احکامات ، الفوزا العظیم (بڑی کامیابی ) العزۃ (عزت و عظمت ، غلبہ)
تشریح : آیت نمبر 61 تا 65
گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو بیدار کرنے اور…
Read the full tafseer →خواب کی قسموں، ان کے احکام اور آداب کا ذکر
اس آیت میں نیک مسلمانوں کو دنیا میں خوشخبری کا ذکر ہے۔ اس سے اچھے خواب مراد ہیں۔ صحیح بخاری اور ابن ماجہ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خواب کی تین قسمیں ہیں : (1) ایک تو وہ کہ آئندہ کوئی بات خواب دیکھنے والے کے حق میں ہونے والی ہے، پھر جس طرح جاگنے میں الہام ہوتا ہے سی طرح سوتے میں الہام ہوتا ہے، اسی طرح سوتے میں اللہ تعالیٰ اس بات کو اس شخص کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اس قسم کو آنحضرت ﷺ نے نبوت کا جز فرمایا ہے۔ (2) دوسری قسم وہ ہے کہ جس کام میں سونے سے پہلے آدمی لگا ہوا تھا وہی خیال کے طور پر سوتے میں آدمی کو نظر آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
[28] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →اللہ کے دوست :
(ف 2) اللہ کے دوستوں کی علامت دیوانگی وجنون نہیں ، خرقہ پوشی وفقر و افلاس نہیں ، بلکہ بےخوفی اور کامیابی ہے ۔ اللہ کے حبیب وہ ہیں جن کے دلوں میں ماسوا اللہ کا خوف نہ ہو ، جو کسی باطل قوت سے نہ ڈریں اور نہ وہیں جن کے لئے دنیا کی تمام نعمتیں میسر ہوں ،
جو دین ودنیا میں رحمت ایزدی کے آئینہ دار ہوں ،
مسلمان کو سوچنا چاہئے کہ کیا آج کل اسے خدا کی دوستی کا فخر حاصل ہے ۔
Read the full tafseer →64 ان ہی لوگوں کے لئے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی بشارت و خوشخبری ہے اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں اور نہ اس کے وعدوں میں کوئی فرق ہوا کرتا ہے یہ بشارت ہی تو بہت بڑی کامیابی ہے بشارت یعنی ان کو کوئی اندیشہ و خوف اور نہ کسی چیز کے فوت ہونے کا غم اللہ کی باتیں یعنی اس کے وعدوں میں کوئی تبدیلی یا فرق نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ف 5۔ وہ اپنی قدرت سے حسب وعدہ آپ کی حفاظت کرے گا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا فرمان اٹل ہے اور وہ کبھی بھی بدلا نہیں کرتا
93 ؎ پیچھے اولیاء اللہ کو ایک طرف تو یہ خوش خبری دی تھی کہ ان کیلئے خوف و حزن باقی نہ رہے گا اور دوسری طرف اس آیت میں یہ بھی بتادیا کہ صرف یہی نہیں بلکہ ان کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بشارتیں ہی بشارتیں ہیں اور یہی وہ بلند ترین مقام ہے جس کو قرآن کریم نے ” فوز عظیم “ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ البشری بشارۃ اس خبر کو کہا جاتا ہے جو خوش کرنے والی ہو چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے ولما جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری (العنکبوت 29 : 31) یبشری ھذا غلام ( یوسف 21 : 19) اور بشیر اس کو کہتے ہیں جو اس طرح کی خبر پہنچاتا ہے فلما ان جاء البشیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
64. The purpose of the statement is to console the Prophet (peace be on him) and to warn his enemies. On the one hand, the Prophet (peace be on him) is being reassured that the resoluteness, diligence and perseverance which characterize his efforts in preaching the truth and attempting to reform people is well known to God. It can hardly be conceived that after entrusting to the Prophet (peace be on him) a perilous task that God would leave him alone, unassisted. God knows full well all what the Prophet (peace be on him) does, and is also well aware of how others behave towards him. At the…
Read the full tafseer →