Yunus 10:63

Yunus · from ayah 63

10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۟ؕالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَؕ

(یعنی) جو لوگ ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those who believed and were fearing Allah

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 7 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:63

ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) جو لوگ ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ وه لوگ ہیں جو ایمان ﻻئے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، اور تقوی اختیار کیے رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ) ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (ہمیشہ) تقوٰی شعار رہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ جو ایمان لائے اور وہ پرہیزگاری کو اپنائے رکھتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ وہ ہیں جو ایمان لائے اور پرہیزگاری اختیار کئے رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ لوگ جو صاحب ایمان ہوں اور تقویٰ کی روش اختیار کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

— محترمہ رفعت اعجاز

the ones who believe and are God-fearing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__those who have believed and have been fearful of Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

__those who have believed and have been fearful of Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who believed, and have Taqwa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who believe and keep their duty (to Allah).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those who believed and were fearing Allah

— Saheeh International

Those who have faith and fear God

— Muhammad Sarwar

Those who believe and guarded (against evil):

— Muhammad Habib Shakir

They who believed and have been fearing God;

— Abdul Majid Daryabadi

Those who believe and (constantly) guard against evil;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–64

اولیاء اللہ کا تعارف اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بےخوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آجائے۔ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلا بھی مروی ہے۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 61–66

سورة یُوْنُس 64 یہاں اس بات کا ذکر کرنے سے مقصود نبی کو تسکین دینا اور نبی کے مخالفین کو متنبہ کرنا ہے۔ ایک طرف نبی سے ارشاد ہو رہا ہے کہ پیغام حق کی تبلیغ اور خلق اللہ کی اصلاح میں جس تن دہی و جاں فشانی اور جس صبر و تحمل سے تم کام کر رہے ہو وہ ہماری نظر میں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس پرخطر کام پر مامور کر کے ہم نے تم کو تمہارے حال پر چھوڑ دیا ہو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں اور جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے اس سے بھی ہم بیخبر نہیں ہیں۔ دوسری طرف نبی کے مخالفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ایک داعی حق اور خیر خواہ خلق کی اصلاحی کوششوں میں روڑے اٹکا کر تم کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–63

خلاصہ تفسیر (یہ تو علم الہٰی کا بیان ہوا آگے مخلصین و مطیعین کی محفوظیت کا بیان ہے کہ) یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ (ناک واقعہ پڑنے والا) ہے اور نہ وہ (کسی مطلب کے فوت ہونے پر) مغموم ہوتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ ان کو خوف ناک اور غم ناک حوادث سے بچاتا ہے اور) وہ (اللہ کے دوست) وہ ہیں جو ایمان لائے اور (معاصی سے) پرہیز رکھتے ہیں (یعنی ایمان اور تقوی سے اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے اور خوف و حزن سے ان کے محفوظ رہنے کی وجہ یہ ہے کہ) ان کے لئے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی (من جانب اللہ خوف و حزن سے بچنے کی) خوش خبری ہے (اور) اللہ کی باتوں میں (یعنی وعدوں میں) کچھ فرق ہوا نہیں کرتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 61–65

61۔ 65:۔ وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ ۭ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرَ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۔ پیغمبر ﷺ اور صحابہ کو تسلی : یہ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے بطور التفات تسلی اور بشارت ہے کہ مخالفوں کی ان غوغا آرائیوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تم جہاں کہیں اور جس حال میں بھی ہو عبادت و طات اور تزکیر و دعوت کی جس مہم میں بھی مصروف ہو، پورے انہماک اور پوری یکسوئی و دل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 62–63

62۔ 1 نافرمانوں کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فرماں برداروں کا ذکر فرما رہا ہے اور وہ ہیں اولیاء اللہ۔ اولیاء ولی کی جمع ہے، جس کے معنی لغت میں قریب کے ہیں۔ اس اعتبار سے اولیاء اللہ کے معنی ہوں گے، وہ سچے اور مخلص مومن جنہوں نے اللہ کی اطاعت اور معاصی سے اجتناب کر کے اللہ کا قرب حاصل کرلیا۔ اسی لیے اگلی آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی تعریف ان الفاظ سے بیان فرمائی، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا۔ اور ایمان وتقوی ہی اللہ کے قرب کی بنیاد اور اہم ترین ذریعہ ہے، اس لغت سے ہر متقی مومن اللہ کا ولی ہے۔ لوگ ولایت کے لیے اظہار کرامت کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اور پھر وہ اپنے بنائے ہوئے ولیوں کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–67

28: اللہ کے دوست کی تشریح اگلی آیت میں کردی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات رکھتے ہوں۔ ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہیں نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا، اور نہ ماضی کی کسی بات کا کوئی غم ہوگا۔ کہنے کو یہ مختصر سی بات ہے، لیکن دیکھا جائے تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ دنیا میں اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا میں ہر انسان کو، خواہ وہ کتنا خوشحال ہو، ہر وقت مستقل کا کوئی نہ کوئی خوف اور ماضی کا کوئی نہ کوئی رنج پریشان کرتا ہی رہتا ہے۔ یہ نعمت صرف جنت ہی میں حاصل ہوگی کہ انسان ہر طرح کے خوف اور صدمے سے بالکل آزاد ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الذین امنوا سے اشارہ فرمایا : اولیا اللہ وہ ہیں جو ایمان لے آئے ‘ یعنی حقیقت ایمان ان کے اندر پیدا ہوگئی۔ ایمان کا محل قلب ہے۔ کمال ایمان یہ ہے کہ اللہ کی یاد سے دل میں اطمینان پیدا ہوجائے ‘ اللہ کے ذکر سے لمحہ بھر غافل نہ ہو ‘ کسی دوسرے کی طرف توجہ ہی نہ ہو۔ دوسرے مرتبہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ وکانوا یتقون۔ اور (شرک و معاصی سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ یعنی اللہ کے اوامرو نواہی کی ظاہری اور باطنی ہر طرح پابندی کرتے ہیں۔ ابو داؤد نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ انبیاء ہیں نہ شہدا لیکن قیامت کے دن ان کے مرتبۂ قرب کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 " یہ اولیاء اللہ " کی تعریف فرمائی یعنی مومن متقی خدا کا ولی ہوتا ہے پہلے کئی مواقع میں معلوم ہوچکا ہے کہ ایمان وتقویٰ کے بہت سے مدارج ہیں۔ پس جس درجہ کا ایمان وتقویٰ کسی میں موجود ہوگا۔ اسی درجہ میں ولایت کا ایک حصہ اس کے لیے ثابت ہوگا۔ پھر جس طرح مثلاً دس بیس روپیہ بھی مال ہے اور پچاس، سو، ہزار دو ہزار، لاکھ دو لاکھ روپیہ بھی لیکن عرف عام میں دس بیس روپے کے مالک کو " مالدار " نہیں کہا جاتا۔ جب تک معتدبہ مقدار مال و دولت موجود نہ ہو۔ اسی طرح سمجھ لیجئے کہ ایمان وتقویٰ کسی مرتبہ میں ہو، وہ ولایت کا شعبہ ہے اور اس حیثیت سے سب مومنین فی الجملہ " ولی " کہلائے جاسکتے ہیں لیکن عرف میں " ولی "…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 63 اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ اور یہ تقویٰ کس طرح اہل ایمان کو درجہ بدرجہ بلند سے بلند کرتا چلا جاتا ہے اس کی تفصیل ہم سورة المائدۃ کی اس آیت کے ضمن میں پڑھ چکے ہیں : اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–63

77 اولیاء اللہ کی پہچان :۔ اولیاء اللہ کی تعریف اگلی آیت میں یہ بتلائی گئی ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں اور اللہ سے ڈرتے رہیں اور متقین کی صفات جو سورة بقرہ کی ابتداء میں بیان ہوئی ہیں وہ یہ ہیں وہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں جو رزق ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور اس کتاب یعنی قرآن اور سابقہ کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ گویا جن ایمان لانے والوں میں مذکورہ صفات پائی جائیں وہ سب اولیاء اللہ ہیں پھر چونکہ ایمان اور اتقاء کے بھی کئی درجے ہیں اس لحاظ سے اولیاء اللہ کے بھی کئی درجے ہوئے اور عرف عام میں اولیاء اللہ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

96۔ (کفر ومعصیت سے) ابھی ابھی ذکر اولیاء اللہ کا آچکا ہے۔ اب ان کی پہچان بھی بتادی۔ وہ کیا ہے وہ صرف ایمان اور تقوی۔ آیت کو مکرر پڑھ کر غور کرلیا جائے، ولایت کی علامتیں کیا ارشاد ہورہی ہیں، نہ عوام کو خوش کرنے والی کرامتیں، نہ عامۃ الناس کو حیرت میں ڈال دینے والے خوارق بلکہ صرف ایمان اور تقوی ! اللہ کا ولی کون ہوتا ہے اور اللہ کس کا ولی ہوتا ہے۔ اس پر امام رازی (رح) نے تفسیر کبیر میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے، وہ قابل ملاحظہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–70

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ تم جس شان (حال) میں بھی ہوتے ہو اور اس شان (حال) کی وجہ سے قرآن سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، جو کچھ تلاوت کرتے ہو، یا من جانب اللہ جو قرآن تلاوت کرتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو یہ آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو خطاب ہے ہم (اس عمل سے) باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو، ذرہ برابر کوئی چیز (ایسی نہیں) نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (اور نہ اس مقدار سے) چھوٹی اور نہ بڑی کہ وہ کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں موجود نہ ہو، ذرّہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، یاد رکھو یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کیلئے آخرت میں نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین امنوا سے اشارہ فرمایا : اولیا اللہ وہ ہیں جو ایمان لے آئے ‘ یعنی حقیقت ایمان ان کے اندر پیدا ہوگئی۔ ایمان کا محل قلب ہے۔ کمال ایمان یہ ہے کہ اللہ کی یاد سے دل میں اطمینان پیدا ہوجائے ‘ اللہ کے ذکر سے لمحہ بھر غافل نہ ہو ‘ کسی دوسرے کی طرف توجہ ہی نہ ہو۔ 1 ؂ دوسرے مرتبہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ وکانوا یتقون۔ اور (شرک و معاصی سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ 2 ؂ یعنی اللہ کے اوامرو نواہی کی ظاہری اور باطنی ہر طرح پابندی کرتے ہیں۔ ابو داؤد نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ انبیاء ہیں نہ شہدا لیکن قیامت کے دن ان کے مرتبۂ قرب کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 62–63

(62۔ 63) یہ بات یاد رکھو کہ مومنین کی جماعت کو نہ کسی عذاب کے آنے کا خطرہ ہے اور نہ وہ کسی مطلوب کے فوت ہونے پر غمگین ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ : کچھ لوگوں نے اولیاء اللہ کچھ انوکھی قسم کے مافوق الفطرت آدمیوں کو سمجھ رکھا ہے، جن سے عجیب و غریب کرامتیں اور شعبدے ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق پھر یہ بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے کہ دیکھا جائے ان کا عقیدہ کیا ہے ؟ وہ موحد ہیں یا مشرک، وہ نماز بھی پڑھتے ہیں یا نہیں، پاک دامن اور حلال و حرام کا خیال رکھنے والے بھی ہیں یا نہیں۔ حالانکہ اس قسم کی چیزیں اور شعبدے تو شیطانوں اور ان کے چیلوں مثلاً ہندو جوگیوں سے بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ مسمریزم اور ہپناٹزم کے ماہرین بھی لوگوں کو بیوقوف بناتے رہتے ہیں، خواہ وہ غیر مسلم ہی ہوں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 63 یہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی صفت ہے پس الذین، ان کے اسم سے بدل ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور وہ اولیاء ہے اور اگر چاہیں تو اس سے پہلے اعنی مقدر مان لیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر : (آیت) لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الآخرہ ہے پس اس طرح یہ (ترکیبی اعتبار سے) ماقبل سے کٹ جائے گا، یعنی وہ جو شرک اور گناہوں سے بچتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–63

اولیاء پر خوف طاری نہ ہوگا : 1:۔ احمد نے الزہد میں وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ! کون اللہ کے دوست ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے عیسیٰ نے فرمایا وہ لوگ جو دنیا کے باطن دیکھتے ہیں جبکہ لوگ اس کے ظاہر کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ لوگ جو دنیا کے انجام کی طرف دیکھتے ہیں جب کہ لوگ اس کی ابتداء کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ لوگ دنیا کی چیزوں کو مار دیتے ہیں اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ وہ ان کو مار دیں گے اور ان (کاموں) کو چھوڑ دیتے ہیں یہ جانتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ عنقریب ان کو چھوڑ دیں گے ان کے نزدیک دنیا کی کثرت کی طلب قلت کی طلب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ [ اور تقوی اختیار کرتے رہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 62–65

اولیاء اللہ نہ خوف زدہ ہوں گے نہ غمگین یہ تین آیات ہیں ان میں اولیاء اللہ کی فضیلت اور ولایت کی حقیقت بتائی اور یہ بتایا کہ اولیاء اللہ کے لئے دنیا میں اور آخرت میں بشارت ہے۔ اولیاء ولی کی جمع ہے ‘ ولی دوست اور قریب کو کہتے ہیں۔ اولیاء کون لوگ ہیں اس کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا یہ لوگ اولیاء اللہ ہیں۔ ایمان کے بغیر تو اللہ کا کوئی دوست ہو ہی نہیں سکتا۔ خواہ کیسی ہی ریاضت کرے اور عبادت کے نام سے کچھ بھی عمل کرے۔ کافر اور مشرک اللہ کا مقرب اور مقبول بندہ اور اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔ اہل ایمان کے درجات مختلف ہیں۔ ایمان کی صفات کے کم وبیش ہونے اور ایمانی تقاضوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–64

بیان حال و مآل اولیاء اللہ قال اللہ تعالی۔ الا ان اولیاء اللہ۔۔ الی۔۔۔ ھو الفوز العظیم (ربط): گزشتہ آیات میں اعداء اللہ یعنی فاسقین اور معاندین کا حال اور مآل بیان کیا اب اس آیت میں اولیاء اللہ یعنی خدا کے محبین وصادقین کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ اولیاء اللہ (یعنی خدا کے دوست) وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کے ساتھ موصوف ہوں جس درجہ کا ایمان اور تقوی ہوگا اسی درجہ کی ولایت ہوگی۔ اس اعتبار سے ہر مومن ولی ہے کتاب وسنت کے عرف میں ولی اس شخص کو کہتے ہیں جس میں ایک خاص اور ممتاز درجہ کا ایمان اور تقوی پایا جاتا ہو وہ یہ کہ اللہ کی عظمت اور اس کا جلال ہر وقت اس کی نظروں کے سامنے ہو اور اس کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

80: یہ اولیاء اللہ کی نشانیاں ہیں جن سے انہیں بآسانی پہچانا جاسکتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کی دو صفتیں بیان فرمائی ہیں جو تمام صفات ولایت کی جامع ہیں۔ (1) “ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ” اس سے اعتقاد صحیح کی طرف اشارہ ہے یعنی ان کے تمام عقائد کتاب و سنت کے مطابق ہوں اور ان میں شریعت سے سرِ مو انحرف نہ ہو۔ (2) ۔ “ وَ کَانُوْا یَّتَّقُوْنَ ” اور وہ متقی ہوں یعنی ان کے تمام اعمال و اخلاق شریعت اسلامیہ کے عین مطابق ہوں۔ کتب عقائد میں اس کی تفصیل موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ “ ولی اللہ من یکون اٰتیا بالاعتقاد الصحیح المبنی علی الدلیل ویکون اتیا بالاعمال الصالحة علی وفق ما وردت به الشریعة ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–66

ربط آیات یہ بھی دراصل توحید کے اثبات اور مشرکین کے رد کا بیان ہے۔ اس سے پہلے اللہ نے قرآن کریم کے اوصاف بیان کیے قرآن پاک کے پروگرام کے علاوہ اپنے گمان محض اور ناقص عقل سے حلت و حرمت کے حکم لگانے کی مذمت بیان فرمائی۔ ایسے لوگوں کی سزا کے متعلق اللہ نے اشارۃ فرمایا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ قیامت والے دن ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ اب آج کے درس میں اللہ نے اپنے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی تعریف بیان کی ہے آپ کے پیروکاروں کا بھی ضمنا ذکر کیا گیا ہے۔ نظر خداوندی ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” وما تکون فی شان “ اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں (آیت) ” وما تتلوا منہ من…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۝ 63 ۭ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–65

اولیاء اللہ کے لئے لاخوف علیہم ولاھم یحزنون فرماتا ہے کہ بعد مردن نہ ان کو کسی مصیبت آیندہ کا خوف ہوگا نہ کسی گذشتہ بات پر حزن (غم) ہوگا اور نیز استغراق اور قرب الٰہی کی وجہ سے ان کے دل ایسے ہوجاتے ہیں کہ جس میں خوف و حزن کے لئے جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔ کیسی ہی مصائب پیش آئیں اور کتنی ہی سختیاں آجائیں مگر وہ محو تماشای جمالِ با کمال ہیں۔ اس لذت کے آگے وہ خبر بھی نہیں ہوتے۔ قرون ثلاثہ کے بعد حضرت محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندی وغیرہم بہت سے اس امت مرحومہ میں گذرے ہیں کہ جو انبیائِ بنی اسرائیل کے خرق عادات و کرامات میں ہم پلہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 62–65

اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ ج صلے الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۔ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوِۃ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ط لاَ تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (یونس : 62، 63، 64) (یاد رکھو بیشک جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ان پر کوئی ڈر ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔ اللہ کی باتیں تبدیل نہیں ہوتیں یہی وہ بڑی کامیابی ہے۔ ) محولہ بالا لوگ ہی اولیاء اللہ ہیں گزشتہ آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دیتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 62–64

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو تسلّی دینے اور آپ کے کام کو خراج تحسین سے نوازنے کے بعد توحید سے محبت کرنے والوں، نبی ﷺ کے جانثاروں اور حق پر قربان ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست قرار دیتے ہوئے انہیں تسلی دینے کے ساتھ تابناک مستقبل کی خوشخبری دی ہے۔ ولی کی جمع اولیاء ہے جس کا معنیٰ ہے دوست۔ اولیاء اللہ یعنی اللہ کے دوست جن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ ایمانداروں کا دوست ہے۔ ان کو کفر و شرک اور بدعت و رسومات سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کفار کے دوست شیطان ہیں وہ انھیں کو نور سے نکال کر کفرو شرک اور بدعت و رسومات کے اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنم کی آگ میں جھونکے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

63: الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (وہ لوگ جو ایمان لائے) یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے وہ اَعِنِّیْہے۔ نمبر 2۔ اولیاء کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے گویا اِنَّ کا اسم ہے۔ نمبر 3۔ ہُمْ مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے عبارت اس طرح ہوگی۔ ہم الذین ٰامنوا، وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ (وہ تھے بچنے والے) شرک و معاصی سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

اولیاء اللہ کی علامات کیا ہیں (63)” الذین امنوا وکانوا یتقون “ بعض حضرات نے کہا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں ۔ ابومالک اشعری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تھا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء ان پر انبیاء اور شہداء ان کے قرب اور اللہ کے پاس مرتبہ کی وجہ سے قیامت کے دن رشک کریں گے۔ ابو مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جماعت کے ایک کونہ میں ایک دیہاتی شخص بیٹھا تھا وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور ہاتھ رکھ کر کہا اے اللہ کے رسول ! ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ ابو مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–63

62۔ 63۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کا حال بیان فرمایا ہے کہ اور لوگوں کو دنیا کے چھوٹ جانے کا اور دنیا میں بےفائدہ عمر بسر کرنے کا آخرت میں غم اور رنج ہوگا اللہ کے ولی لوگ جو کامل ایمان داری اور تقوی میں اپنی دنیا اس طرح بسر کرتے ہیں کہ ان کا حال دیکھنے سے دیکھنے والوں کو خدا یاد آتا ہے ان کو آخرت میں کچھ غم اور رنج نہیں ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مسند بزار و تفسیر ابن جریر میں ابو مالک اشعری ؓ سے مسند امام احمد بن حنبل میں اور سنن ابوداؤد میں حضرت عمر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اولیاء اللہ وہ لوگ ہیں جن کے دیکھنے سے خدایاد آتا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 62–64

آیت : (62-64) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ان کے اعمال و اوصاف اور ان کا ثواب کا ذکر کرتا ہے ‘ چناچہ فرماتا ہے : (الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم) ” خبردار ! اللہ کے جو دوست ہیں ‘ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا “ یعنی قیامت کے روز میدان محشر میں جو خوفناک اور ہول ناک حالات ہوں گے ‘ وہاں انہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ (ولا ھم یحزنون) ” اور نہ و غمگین ہوں گے “ ان اعمال پر جو انہوں نے پہلے کئے ہوں گے ‘ کیونکہ انہوں نے اعمال صالحہ کے سوا کچھ نہیں کیا ہوگا۔ چونکہ انہیں کسی قسم کا خوف ہوگا نہ وہ غمزدہ ہوں گے ‘ اس لئے وہاں ان کے لئے امن وسعادت اور خیر کثیر ہوگا جسے اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

108 ۔ اللہ کے ولی کون ہوتے ہیں ؟: سو اولیاء اللہ کی تعریف میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو ایمان رکھتے ہیں اور تقوٰی و پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ اولیاء اللہ کی ایجاز و اختصار کے ساتھ کس قدر جامع و مانع تعریف فرمادی گئی اور صاف وصریح طور پر بتا اور بیان فرما دیا گیا کہ یہ وہ حضرات ہوتے ہیں جو ایمان و یقین اور تقوی و پرہیزگاری کی دولت سے سرشار ومالا مال ہوتے ہیں۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں۔ پس اولیاء اللہ نہ تو کسی خاص قوم، قبیلہ، طائفہ گروہ اور نسل و خاندان کا نام ہوتا ہے اور نہ کسی خاص بناوٹ اور ظاہر داری کا۔ جیسا کہ ہمارے عرف اور معاشرے میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 55–66

اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

آیات 61 تا 70 اسرار و معارف اور آپ جس میں ہوں جس جگہ جو عمل کریں ۔ آپ قرآن میں سے تلاوت کریں یا کسی بھی دوسرے عمل میں مصروف ہوں اور صرف آپ ہی کیا سارے لوگ بھی جو کچھ کرتے ہیں ۔ سب ہمارے روبرو ہے ۔ آپ کی محنت ومشقت اور عبادت و مجاہدہ بھی اور کفار کی عداوت ودشمنی بھی بلکہ ہر نیک و بد پہ ہم ذاتی طور پر شاہد ہیں ۔ نہ صرف انسان اعمال وکرداربل کہ زمین وآسمان کا کوئی ذرہ یا اس سے بھی کوئی چھوٹی بڑی شے آپ کے رب کریم سے کسی لمحے پوشیدہ نہیں اللہ کا علم تو بہت عظیم اور اس کی شان کے مطابق ہے ۔ یہ سب کچھ تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی ذرہ یا اس کی حرکت اس باہر نہیں لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 ۔ یعنی انہوں نے قرآن و سنت کے مطابق اپنے اعتقاد کو درست کیا۔ 7 ۔ یعنی تنیک اعمال کرتے اور گناہوں سے بچتے رہے۔ اُو پر کی آیت میں اولیا اللہ (اللہ کے دوستوں) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انہیں نہ کوئی ڈر ہوگا اور نہ غم۔ اس آیت میں اولیاء اللہ کی خود تشریح فرمادی اور وہ یہ کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا عقیدہ قرآن و سنت کی مطابق درست ہے اور جن میں تقویٰ پایا جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر انسان جو اپنے اندر عقیدہ و عمل کی صحت پیدا کرلے گا وہ اللہ کا ولی ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عقیدہ و عمل میں اخلاص کے اعتبار سے لوگوں کے مراتب ہوں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے ارشاد نبوی منقول ہے کہ ” اولئا اللہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–65

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65 ماتکون (تو نہیں ہوتا) شان (حال ، کیفیت) شھود (موجود ، گواہ ) تفیضون (تم کرتے ہو، تم مشغول ہوتے ہو) مایغرب (غائب نہیں رہتا ہے، دور نہیں ہوتا ہے) مثقال ذرۃ (ذرہ برابر، تھوڑا سا بھی) اصغر (چھوٹا، یہ لفظ اکبر کے مقابلہ میں ہے) کتاب مبین (کھلی کتاب (لوح محفوظ ؛ ) اولیاء (ولی) دوست ، حمایت کرنے والا لایحزنون (وہ رنجیدہ نہ ہوں گے) البشریٰ (خوش خبری) کلمت اللہ (اللہ کی باتیں، اللہ کے احکامات ، الفوزا العظیم (بڑی کامیابی ) العزۃ (عزت و عظمت ، غلبہ) تشریح : آیت نمبر 61 تا 65 گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو بیدار کرنے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 62–63

اولیاء اللہ اور ان کی صفات کا بیان اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کا حال بیان فرمایا ہے کہ اور لوگوں کو دنیا کے چھوٹ جانے کا اور دنیا میں بےفائدہ عمر بسر کرنے کا آخرت میں غم اور رنج ہوگا۔ اللہ کے ولی لوگ جو کامل ایمانداری اور تقویٰ میں دنیا اس طرح بسر کرتے ہیں کہ ان کا حال دیکھنے سے دیکھنے والوں کو خدا یاد آتا ہے۔ ان کو آخرت میں کچھ غم اور رنج نہیں ہے ولی اللہ وہ ہے جو فرائض سے قرب الہی حاصل کرے، اور اطاعت الہی کو میں مشغول رہے۔ اور اس کا دل نور جلال الہی کی معرفت میں مستغرق ہو۔ جب دیکھے دلائل قدرت الہی کو دیکھے اور جب سنے اللہ کی آیتیں سنے اور جب بولے تو اپنے رب کی ثنا ہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–63

(ف 1) کتاب مبین سے مراد علم الہی ہے جسے شرع کی اصطلاح میں لوح محفوظ کہتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

63 یہ خدا کے دوست وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور گناہوں سے پرہیز کرتے رہے یعنی اہل ایمان بھی اور اہل تقویٰ بھی ایسے ہی لوگ خدا کے دوست کہلاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے دوست کی نشانیاں جو قرآن کریم نے ذکر کیں تاکہ وہ پہچانا جا سکے 29 ؎ گزشتہ آیت میں ” اولیاء اللہ “ کا ذکر تھا اور اس آیت میں ان کی پہچان بھی بتا دی ۔ وہ پہچان کیا ہے ؟ فرمایا ایمان اور تقویٰ ۔ فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو صدق دل سے ایمان لاتے ہیں اور جنہوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے مکمل طور پر غلط راستوں کو چھوڑ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں دیکھ کر اللہ یاد آتا ہے ۔ غور کرو کہ ولایت کی علامتیں کیا ارشاد ہو رہی ہیں ۔ نہ عوام کو خوش کرنے والی کرامتیں ، نہ عامۃ الناس کو حیرت میں ڈال دینے والے خوارق ، بلکہ ذکر کیا گیا ہے ایمان اور تقویٰ کا ۔ اللہ کا ولی کون ہوتا ہے ؟ اور اللہ کس کا ولی ہوتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–63

Commentary In the verses cited above, particular merits, definition and identity of the Auliya' of Allah have been mentioned. Also given there is good news for them in the present world as well as in the Hereafter. The text says that they will have no apprehensions of facing some unpleasant or unforeseen happening, nor will they grieve over the non-fulfillment of some objective. These Auliya' of Allah (men of Allah) will be people who believed and remained pious, righteous and God fearing. They are most welcome in this world and in the next world both. We have to consider three things at…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–66

64. The purpose of the statement is to console the Prophet (peace be on him) and to warn his enemies. On the one hand, the Prophet (peace be on him) is being reassured that the resoluteness, diligence and perseverance which characterize his efforts in preaching the truth and attempting to reform people is well known to God. It can hardly be conceived that after entrusting to the Prophet (peace be on him) a perilous task that God would leave him alone, unassisted. God knows full well all what the Prophet (peace be on him) does, and is also well aware of how others behave towards him. At the…

Read the full tafseer →