Yunus 10:67

Yunus · from ayah 67

10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ۟هُوَ الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الَّيۡلَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَالنَّهَارَ مُبۡصِرًا‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يَّسۡمَعُوۡنَ

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہٴ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لیے ان میں نشانیاں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who made for you the night to rest therein and the day, giving sight. Indeed in that are signs for a people who listen.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 7 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:67

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (کھلے کانوں سے پیغمبر کی دعوت کو) سنتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہٴ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لیے ان میں نشانیاں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ایسا ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور پر بنایا کہ دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے، تحقیق اس میں دﻻئل ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور دن کو ایسا بنایا جو تمہیں دیکھنے کی صلاحیت دے، اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور سے سنتے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ اور دن بنایا تمہاری آنکھوں کھولتا بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (تاکہ تم اس میں کام کاج کر سکو)۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (غور سے) سنتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن۔ بیشک اسی میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنادیا (کہ اس میں کام کاج کرسکو) اس میں بھی ان لوگوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں جو (حق بات) سنتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو۔ اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں معاش کے لیے جد و جہد کرو بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو بات کو سنتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرو، اور دن بنایا روشنی بخشنے والا (تاکہ تم اس میں کام کرسکو) ، بیشک اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ وہی (اللہ) تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ تم اس میں چین پاؤ اور دن کو (بنایا) دکھلانے والا ان (سب) میں ان لوگوں کے لئے جو (غور و تدبر کے ساتھ) سنتے ہیں دلائل (موجود) ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو بنا دیا روشن یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا کہ اس میں چین حاصل کرو اور دن کو روشن بنادیا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں نشانیاں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is Allah alone Who has made the night that you may rest in it, and has made the day light-giving. Surely in that there are signs for those who give heed (to the call of the Messenger).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who made for you the night, so that you may have rest in it, and (made) the day to see. Indeed, there are signs therein for a people who listen.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who made for you the night, so that you may have rest in it, and (made) the day to see. Indeed, there are signs therein for a people who listen.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He it is Who has appointed for you the night that you may rest therein, and the day to make things visible (to you). Verily, in this are Ayat for a people who listen (those who think deeply).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who hath appointed for you the night that ye should rest therein and the day giving sight. Lo! herein verily are portents for a folk that heed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who made for you the night to rest therein and the day, giving sight. Indeed in that are signs for a people who listen.

— Saheeh International

It is God who has made the night for you to rest and has filled the day with light (as a means of visibility). In this there is evidence (of the existence of God) for the people who hear.

— Muhammad Sarwar

He it is Who made for you the night that you might rest in it, and the day giving light; most surely there are signs in it for a people who would hear.

— Muhammad Habib Shakir

He it is who hath appointed for you the night that ye may repose therein and the day enlightening. Verily in that are signs for a people who listen.

— Abdul Majid Daryabadi

He it is That hath made you the night that ye may rest therein, and the day to make things visible (to you). Verily in this are signs for those who listen (to His Message).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–67

عزت صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بےدلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنادی ہے۔ دن کو اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 65 یہ ایک تشریح طلب مضمون ہے جسے بہت مختصر لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔ فلسفیانہ تجسّس، جس کا مقصد یہ پتہ چلانا ہے کہ اس کائنات میں بظاہر جو کچھ ہم دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اس کے پیچھے کوئی حقیقت پوشیدہ ہے یا نہیں اور ہے تو وہ کیا ہے، دنیا میں ان سب لوگوں کے لیے جو وحی والہام سے براہ راست حقیقت کا علم نہیں پاتے، مذہب کے متعلق رائے قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ کوئی شخص بھی خواہ وہ دہریت اختیار کرے یا شرک یا خدا پرستی، بہرحال ایک نہ ایک طرح کا فلسفیانہ تجسّس کیے بغیر مذہب کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔ اور پیغمبروں نے جو مذہب پیش کیا ہے اس کی جانچ بھی اگر ہو سکتی ہے تو اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–70

خلاصہ تفسیر وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور پر بنایا کہ (بوجہ روشن ہونے کے) دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے اس (بنانے) میں دلائل (توحید) میں ان لوگوں کے لئے جو (تدبر کے ساتھ ان مضامین کو) سنتے ہیں (مشرکین ان دلائل میں غور نہیں کرتے اور شرک کی باتیں کرتے ہیں چنانچہ) وہ کہتے ہیں (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے، سبحان اللہ (کیسی سخت بات کہی) وہ تو کسی کا محتاج نہیں (اور سب اس کے محتاج ہیں) اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (پس سب مملوک ہوئے اور وہ مالک ہوا پس ثابت ہوا کہ کمالات میں کوئی اس کا مشارک و مجانس نہیں، پس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 66–70

66۔ 70:۔ اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔ اوپر والی آیات جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا۔ بطور التفات تھی۔ اب توحید کے مضمون کو پھر لے لیا جو پیچھے سے چلا آرہا تھا۔ فرمایا کہ اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے، خواہ فرشتے یا جنات یا انسان، سب خدا ہی کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں، ان میں سے کسی کا یہ درجہ نہیں کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک وسہیم ہو تو جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ فی الحقیقت خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 66–67

66۔ 1 یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ محض ظن او تخمین اور رائے و قیاس کی کرشمہ سازی ہے۔ آج اگر انسان اپنے قوائے عقل و فہم کو صحیح طریقے سے استعمال میں لائے تو یقینا اس پر واضح ہوسکتا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے جس طرح وہ آسمان اور زمین کی تخلیق میں واحد ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو پھر عبادت میں دوسرے کیوں کر اس کے شریک ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–67

28: اللہ کے دوست کی تشریح اگلی آیت میں کردی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات رکھتے ہوں۔ ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہیں نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا، اور نہ ماضی کی کسی بات کا کوئی غم ہوگا۔ کہنے کو یہ مختصر سی بات ہے، لیکن دیکھا جائے تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ دنیا میں اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا میں ہر انسان کو، خواہ وہ کتنا خوشحال ہو، ہر وقت مستقل کا کوئی نہ کوئی خوف اور ماضی کا کوئی نہ کوئی رنج پریشان کرتا ہی رہتا ہے۔ یہ نعمت صرف جنت ہی میں حاصل ہوگی کہ انسان ہر طرح کے خوف اور صدمے سے بالکل آزاد ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارے سکون کیلئے رات بنائی۔ یعنی دن کی محنت سے جو تم تھک جاتے ہو ‘ رات میں اس تکان سے آرام حاصل کرلو۔ والنھار مبصرًا اور دن کو روشنی بخش بنایا ‘ جس کی روشنی میں دنیا کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون۔ اس میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو سنیں۔ یعنی اللہ نے جو اپنی حکمت کے زیر اثر اتنی بڑی بڑی چیزیں پیدا کیں ‘ ان کی تخلیق کے اندر ایسی نشانیاں موجود ہیں جو اللہ کی قدرت تامہ ‘ نعمت عظیمہ اور حکمت شاملہ کو ظاہر کر رہی ہیں اور اللہ کو مستحق معبودیت ثابت کر رہی ہیں ‘ مگر یہ تمام نشانیاں انہی لوگوں کیلئے مفید ہیں جو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 دن رات اور اندھیرے اجالے کا پیدا کرنے والا وہی ایک خدا ہے۔ اسی سے خیر و شر اور تمام متقابل اشیاء کی پیدائش کو سمجھ لو۔ اس میں " مجوس " کے شرک کا رد ہوگیا۔ اور ادھر بھی لطیف اشارہ کردیا کہ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد خدا روز روشن کو لاتا ہے اور دن کے اجالے میں وہ چیزیں نظر آتی ہیں جو شب کی ظلمت میں دکھائی نہ دیتی تھیں۔ ایسے ہی مشرکین کے اوہام وظنون کی اندھیریوں کا پردہ چاک کرنے کے لیے اس نے قرآن کریم کا آفتاب چمکایا جو لوگوں کو وصول الی اللہ کا ٹھیک راستہ دکھانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 67 ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا رات کو پرسکون بنایا تاکہ رات کے وقت آرام کرو ‘ اور دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں اپنی معاشی ذمہ داریاں نبھاؤ اور دوسرے کام کاج نپٹاؤ۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 یعنی اللہ کو تو مختار کل ماننے کے لیے بیشمار دلائل موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے رات اور دن کو پیدا فرمایا اب اس ایک نشانی میں غور کرنے سے مزید بیشمار ایسی نشانیاں مل جاتی ہیں جو اللہ کے مختار کل، قادر مطلق اور مقتدر ہستی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ تنہا اسے ہی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے نیز اسے پکارنے اور خالص اسی کی عبادت کرنے کے لیے تو ایسے ٹھوس حقائق موجود ہیں لیکن جو لوگ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو پکارتے یا ان کی پرستش کرتے ہیں ان کے پاس ایسی کون سی دلیل موجود ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ان کا بھی اس کائنات میں کچھ حصہ یا اختیار و تصرف ہے لہذا ایسے سب لوگوں نے محض ظن وتخمین سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

101۔ (حق تعالیٰ کی توحید اور صفت اور قدرت کا) (آیت) ” ھو الذی۔۔۔ مبصرا “۔ دن اور رات نہ کوئی دیوی دیوتا ہیں، نہ نور وظلمت کوئی دو خدا یا دو خداؤں کے مظہر یا دو خداؤں کی مخلوق ہیں، وقت کے یہ دونوں حصہ خدائے واحد کی اسی طرح مخلوق ہیں جس طرح اور سب مخلوقات ہیں اور دونوں کی خلقت کی غرض انسان ہی کے کام آنا ہے۔ (آیت) ” الیل لتسکنوا فیہ “۔ رات تو اسی کے لئے ہے کہ انسان اس میں آرام واستراحت کرے اور دن بھر کی مشقت کے بعد کسل دور کرکے دوسرے دن کے لئے تازہ دم ہوجائے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ صوفیہ عارفین نے اس سے یہ اشارہ نکالا ہے کہ بجائے ساری رات جاگنے کے کچھ دیر سورة نا بہتر ہے کہ اس میں مصلحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–70

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ تم جس شان (حال) میں بھی ہوتے ہو اور اس شان (حال) کی وجہ سے قرآن سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، جو کچھ تلاوت کرتے ہو، یا من جانب اللہ جو قرآن تلاوت کرتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو یہ آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو خطاب ہے ہم (اس عمل سے) باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو، ذرہ برابر کوئی چیز (ایسی نہیں) نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (اور نہ اس مقدار سے) چھوٹی اور نہ بڑی کہ وہ کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں موجود نہ ہو، ذرّہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، یاد رکھو یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کیلئے آخرت میں نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارے سکون کیلئے رات بنائی۔ یعنی دن کی محنت سے جو تم تھک جاتے ہو ‘ رات میں اس تکان سے آرام حاصل کرلو۔ والنھار مبصرًا اور دن کو روشنی بخش بنایا ‘ جس کی روشنی میں دنیا کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون۔ اس میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو سنیں۔ یعنی اللہ نے جو اپنی حکمت کے زیر اثر اتنی بڑی بڑی چیزیں پیدا کیں ‘ ان کی تخلیق کے اندر ایسی نشانیاں موجود ہیں جو اللہ کی قدرت تامہ ‘ نعمت عظیمہ اور حکمت شاملہ کو ظاہر کر رہی ہیں اور اللہ کو مستحق معبودیت ثابت کر رہی ہیں ‘ مگر یہ تمام نشانیاں انہی لوگوں کیلئے مفید ہیں جو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(67) اور تمہارا اللہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پیدا کیا تاکہ تم اس میں آرام کرسکو اور دن کو بھی اسی طرح پیدا کیا کہ وہ آنے جانے کے لیے روشنی کا ذریعہ ہے اس بنانے میں ایسے لوگوں کے لیے عبرت کی چیزیں ہیں جو نصائح قرآنی کو سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ۔۔ : اپنی قدرت، احسان اور وحدانیت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (71 تا 73) ”مُبْصِراً“ کا لفظی معنی ہے دیکھنے والا، یہ باب لازم استعمال ہوتا ہے۔ یعنی دن روشن ہوتا ہے تو ہرچیز نظر آنے لگتی ہے، رات اندھیری ہوتی ہے تو سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعون : یعنی ان میں صرف یہی حکمت نہیں جو ذکر فرمائی ہے، بلکہ رات اور دن کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔ ”لایت“ بہت سی نشانیاں اور دلائل۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 67 قولہ تعالیٰ : (آیت) ھوالذی جعل لکم الیل لتسکنو فیہ یہ بیان فرمایا کہ واجب اس کی عبادت ہے جو رات اور دن کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے جو اس چیز پر قدرت نہیں رکھتا وہ عبادت کے لائق نہیں۔ (آیت) لتسکنو فیہ تاکہ تم اس میں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کے ساتھ آرام کرو تاکہ تم سے تھکاوٹ اور سستی زائل ہوجائے۔ اور سکون سے مراد اضطراب اور پریشانی سے پر سکون ہونا ہے، آرام پانا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) والنھار مبصرا اور دن کو روشن بنایاتا کہ تم اس کے ساتھ اپنی حوائج و ضروریات میں ہدایت اور رہنمائی پاسکو اور المبصروہ ہوتا ہے جو دیکھنے والا ہو، اور دن میں دیکھا جاتا ہے۔ اور فرمایا : مبصرا یہ مجازا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–70

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والنھار مبصرا “ سے مراد ہے منیرا یعنی روشن۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ان عندکم من سلطن بھذا “ یعنی تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ھُوَ (وہی " ہے " ) الَّذِيْ (جو) جَعَلَ (بنائے اس نے) لَكُمُ (تمہارے لیے) الَّيْلَ (رات کو ) لِتَسْكُنُوْا (تاکہ تم سب آرام کرو )] [فِيْهِ [ اس میں ] وَالنَّهَارَ [ اور دن کو ] مُبْصِرًا ۭ [ بینا کرنے والا ہوتے ہوئے ] اِنَّ [یقینا ] فِيْ ذٰلِكَ [ اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ لازما نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّسْمَعُوْنَ [ سن کر سمجھتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ ) (اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پیدا فرمایا تاکہ تم اس میں آرام کرو) (وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا) (اور دن کو ایسی چیز بنایا جس میں دیکھ بھال کرتے ہو) اس میں چیزیں صاف واضح نظر آتی ہیں۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔ (یعنی حق کو قبول کرنے کی نیت سے سنتے ہیں اور سنی کو ان سنی نہیں کردیتے) رات اور دن دونوں ایسی چیزیں ہیں جو نظروں کے سامنے ہیں۔ پوری دنیا ان دونوں وقتوں سے خالی نہیں ہوتی کہیں رات ہوتی ہے کہیں دن ہوتا ہے اور دنیا کے بسنے والوں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–70

تسلی نبی اکرم ﷺ از سخنہائے دلخراش دشمناں قال اللہ تعالی۔ ولا یحزنک قولھم۔۔۔ الی۔۔۔ وان ھم الا یخرصون (ربط): گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو تسلی دی اب اس آیت میں اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں۔ کفار آں حضرت ﷺ کو اپنی قوت اور شوکت سے ڈراتے تھے اور طرح طرح کی دلخراش باتیں کہتے تھے سو آپ کی تسلی کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ ان کی باتوں سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں عزت اور غلبہ تو اللہ ہی کے لیے ہے وہی آسمانوں اور زمینوں کا بادشاہ ہے اور یہ کافر صرف خیالی اور فرضی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ ان کی پرواہ نہ کریں۔ غرض یہ کہ ان آیات میں آپ کو دشمنوں کی ایذا رسانی پر تسلی دی گئی اور اشارۃ ً آپ کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

87: توحید پر دسویں عقلی دلیل۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے کہ اس نے رات کو تمہارے آرام کے لیے اور دن کو تمہارے کاروبار کے لیے بنایا تو کیا پھر اس کے سوا کوئی اور کارساز یا متصرف ومختار ہوسکتا ہے ؟ معطوف علیہ میں “ جَعَلَ ” کا مفعول ثانی محذوف ہے اصل میں تھا “ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلَ مظلماً لِّتَسْکُنُوْا فِیْهِ ” یعنی اس نے رات کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرو۔ اور معطوف میں مفعول ثانی کا متعلق محذوف ہے۔ “ اي والنھار مبصرا لتبصروا فیه ” اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم دیکھ سکو اور معاش وغیرہ کا انتظام کرسکو۔ (مدارک و روح) معطوف علیہ میں متعلق کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–70

ربط آیات پہلے قرآن کریم کا ذکر تھا۔ پھر حضور ﷺ کے متعلق فرمایا کہ آپ جس حالت میں بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور جو بھی کام کرتے ہیں ، ہم ہر حالت میں حاضر ہوتے ہیں اور ہر کام کو دیکھتے ہیں۔ فرمایا خدا تعالیٰ سے ایک ذرہ بھر چیز بھی غائب نہیں ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں میں ہو یا زمین کی گہرائیوں میں ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ پھر فرمایا یاد رکھو ! اللہ کے دوستوں کو نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ، ولی اللہ وہ ہوتے ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کے وعدے برحق ہیں۔ ان میں کوئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا۝ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ۝ 67 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–70

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے وہی رات دن کو گردش دے رہا ہے پھر اور کون ہے کہ جس کے اختیار میں عزت و ذولت ہو اور اس کے ضمن میں یہ بھی جتلاتا ہے کہ ہم ہی آسمانوں اور زمین کی چیزوں کے مالک اور غنی یعنی بےپروا ہیں کسی کے کسی بات میں محتاج نہیں اور خالق لیل و نہار بھی ہم ہی ہیں تو پھر جو تم اس کے سوا اور معبودوں کو پوجتے ہو۔ علاوہ بدعقل ہونے کے ذلیل بھی ہو جو مالک کو چھوڑ کر غلام کے آگے ہاتھ جوڑتے ہو اور ان معبودوں کو بجز غلام اور مخلوق اور بندہ ہونے کے اس کے ساتھ فرزندی یا برادری یا شرکت کی کوئی بھی نسبت نہیں۔ کس لئے کہ کم سے کم رات دن کا تمہارے فوائد کے لئے بنانا بھی کسی کے ہاتھ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ۔ (یونس : 67) (وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا (تاکہ تم اس میں معاش کے لیے جدوجہد کرو) بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو بات کو سنتے ہیں۔ ) قرانِ کریم کا طریق استدلال اس آیت کریمہ میں ظن و گمان پر استدلال کی بنیاد رکھنے کی بجائے ایسے حقائق سے استدلال کیا جارہا ہے جو ہمارے گردو پیش میں پھیلے ہوئے ہیں جنھیں ہم آفاق کے نام سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ زمین و آسمان دو ایسی حقیقتیں ہیں جن سے کوئی شخص بھی غافل نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

دون اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہے۔ خواہ فرشتے، بت، مورتیاں اور مدفون بزرگ ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ مشرکین مکہ میں کچھ لوگ ملائکہ کو، عیسائی حضرت عیسیٰ اور مریم (علیہ السلام) کو، یہودی حضرت عزیر کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے اور آج بھی ان کا یہی عقیدہ اور عمل ہے۔ حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے لیے رات کو سکون اور نیند کا باعث بنایا اور دن کو روشن فرمایا تاکہ لوگ اپنی معاشی اور دیگر ضروریات کو پورا کرسکیں ان لوگوں کے لیے اس بات میں بڑے دلائل ہیں اگر وہ صحیح معنوں میں سننے کا حق ادا کریں۔ سننے کا حق یہ ہے کہ آدمی دل کی گہرائی اور کانوں کو کھول کر حق سنے اور اس پر غور کرے۔ (ق :…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوت باری تعالیٰ : 67: ھُوَ الَّذِیْْ جَعَلَ لَکُمُ الَّـیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ (وہ ذات جس نے تمہارے لئے رات کو بنایا تاکہ تم اس میں سکون لے سکو) اس نے تمہارے لئے رات کو اندھیر بنایا تاکہ اس میں دن کے ادھر ادھرآنے جانے اور کام کاج کی تھکاوٹ سے آرام پاسکو۔ وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا (دن کو روشن بنایا) تاکہ اس میں رزق کے حصول کے مقامات کو دیکھ سکو۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ (بیشک اس میں سننے والے لوگوں کیلئے البتہ نشانیاں ہیں) سننے سے مراد ایسا سننا جو قبولیت و عبرت کا باعث ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

67۔” ھو الذی جعل لکم اللیل لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا “ روشن کہ اس میں دیکھا جائے ان کے قول ” لیل نائم “ اور ” عیشۃ راضیۃ “ کی طرح ہے ۔ قطرب کہتے ہیں عرب کہتے ہیں ” ظلم اللیل واضاء والنھار والبصریعی “ رات تاریکی والی اور دین روشنی اور بصارت والا ہوگا ۔ ” ان فی ذلک لآیات لقوم یسمعون “ عبرت کا سننا کہ یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن پر صرف عالم قدرت والا ہی قادر ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–67

65۔ 67۔ مشرکین مکہ حضرت رسول مقبول ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح سے آپ کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر طعن کرتے تھے اس سے حضرت کو ایک قسم کا ملام ہوا کرتا تھا اس واسطے اللہ پاک نے یہ آیت اتاری اور آپ کو تسکین دی کہ ان مشرکوں کی باتوں کا آپ خیال نہ فرمائیں۔ کیوں کہ ہر طرح کی عزت خدا ہی کو حاصل ہے اور وہ ہر شخص کے قول و فعل کو سنتا اور دیکھتا ہے یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ پھر تسلی کے بعد اس بات کی بشارت دی کہ خدا تمہاری مدد کرے گا کیونکہ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں بےجان یا جاندار ہیں ان سب کا مالک اکیلا خدا ہی ہے اس میں کسی کی شراکت ذرہ برابر بھی نہیں ہے یہ مشرکین اپنے جن معبودوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–67

آیت : (66-67) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اسی کی ملکیت ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنے احکام کے ذریعے اس میں تصرف کرتا ہے۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی مملوک ‘ اس کے سامنے مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ تمام مخلوق عبادت کا کچھ بھی استحقاق نہیں رکھتی اور کسی بھی لحاظ سے مخلوق اللہ تعالیٰ کی شریک نہیں بن سکتی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء ان یثبعون الا اظن) ” اور یہ جو پیچھے پڑے ہوئے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے ‘ سو یہ کچھ نہیں ‘ مگر پیری کرنے والے ہیں اپنے گمان کی “ یعنی وہ ظن اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–87

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

117 ۔ نظام کائنات میں قدرت کی عظیم الشان نشانیاں : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ دن اور رات کی نشانیوں پر مشتمل اس نظام کائنات میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں جیسا کہ سننے کا حق ہے۔ اور پھر ایسے لوگ غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ جب رات و دن کی اس حکمتوں بھری تخلیق میں اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک و حصہ دار نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ نیز یہ کہ حکمتوں بھری اور طرح طرح کی نعمتوں سے مملو و معمور یہ کائنات، جس قادر مطلق نے بنائی کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس نے اس کو یونہی بےمقصد اور بےکار پیدا کردیا ہو ؟ نیز جس نے انسان کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اللہ کی نشانیاں تشریح : اس آیت میں بہت سی نشانیوں میں سے ایک نشانی لیل ونہار یعنی دن اور رات کی نشانی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ کس چیز کی نشانی ؟ اللہ کے وحدہٗ لا شریک، علیم وخبیر، حکیم و عظیم اور قادر مطلق ہونے کی دلیل، شہادت اور محکم ثبوت ملتا ہے۔ دن اور رات کے جہاں اور بہت سے فائدے ہوتے ہیں ان میں سے ایک بہت بڑا فائدہ اس دن رات کے ادل بدل کا یہ بتایا جا رہا ہے کہ دن کو روشن کردیا گیا کہ آسانی اور سہولت سے کاروبار حیات انجام دیے جاسکیں اور رات کو روشنی بجھا دی کہ انسان مکمل طور پر آرام کر کے جسم کی مطلوبہ خوراک نیند، کو اچھی طرح پورا کرسکے۔ کیونکہ نیند بھی انسانی جسم کے لیے اتنی ہی ضروری ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

آیات 61 تا 70 اسرار و معارف اور آپ جس میں ہوں جس جگہ جو عمل کریں ۔ آپ قرآن میں سے تلاوت کریں یا کسی بھی دوسرے عمل میں مصروف ہوں اور صرف آپ ہی کیا سارے لوگ بھی جو کچھ کرتے ہیں ۔ سب ہمارے روبرو ہے ۔ آپ کی محنت ومشقت اور عبادت و مجاہدہ بھی اور کفار کی عداوت ودشمنی بھی بلکہ ہر نیک و بد پہ ہم ذاتی طور پر شاہد ہیں ۔ نہ صرف انسان اعمال وکرداربل کہ زمین وآسمان کا کوئی ذرہ یا اس سے بھی کوئی چھوٹی بڑی شے آپ کے رب کریم سے کسی لمحے پوشیدہ نہیں اللہ کا علم تو بہت عظیم اور اس کی شان کے مطابق ہے ۔ یہ سب کچھ تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی ذرہ یا اس کی حرکت اس باہر نہیں لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یعنی ان میں صرف یہی حکمت نہیں ہے جو ذکر کی ہے بلکہ رات اور دن کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بہت سے دلائل ہیں۔ (روح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:67) ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا۔ تسکنوا۔ سکن یسکن (نصر) سکون سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم سکون پذیر ہو۔ تم چین حاصل کرو۔ اصل میں تسکنون تھا۔ لام کے آنے سے نون اعرابی گرگیا۔ مبصرا۔ اسم فاعل واحد مذکر حالت نصب۔ ابصار مصدر (باب افعال) ابصار کے معنی دیکھنا۔ جاننا۔ سمجھنا کے بھی آتے ہیں اور دکھانے اور سمجھانے کے بھی۔ اسی بناء پر مبصر کے معنی دیکھنے والا اور دکھانے والا دونوں ہوسکتے ہیں۔ جو خود روشن ہو وہ بھی مبصر ہے اور جو دوسروں کو واضح اور روشن کر دے وہ بھی مبصر ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو۔ اور (جس نے تمہارے لئے) روشن دن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 66–70

لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 70 یتبع (وہ اتباع کرتا ہے، وہ پیچھے چلتا ہے) یخرصون (وہ گمان کرتے ہیں، وہ اٹلک کے تیر چلاتے ہیں) لتسکنوا (تاکہ تم سکون حاصل کرو) مبصر (دیکھنے بھالنے کے لئے الغنی (بےنیاز جو کسی چیز کا محتاج نہ ہو) سلطن (دلیل) لایفلحون (وہ کامیاب نہیں ہوں گے) متاع (زندگی گذارنے کا سامان، مزے) نذیق (ہم چکھائیں گے) تشریح : آیت نمبر 66 تا 70 آسمانوں سے لے کر زمین تک اس پوری کائنات کی ایک ایک چیز زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ایک اللہ کی ذات ہے جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے وہی ہم سب کا مالک ہے اور جس نظام زندگی میں ہم لگے بندھے ہیں وہ اسی کے حکم سے ہے۔ لیکن پتھروں کے یہ بےجان بت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–67

اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی باتوں پر تسکین دی شان نزول : مشرکین مکہ حضرت رسول مقبول ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح سے آپ کے رسول اور قرآن کے کلام الہی ہونے پر طعن کرتے تھے۔ اس سے آنحضرت ﷺ کو ایک قسم کا ملال ہوا کرتا تھا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور آپ کو تسکین دی، کہ ان مشرکوں کی باتوں کا آپ خیال نہ فرمائیں۔ کیونکہ ہر طرح کی عزت خدا ہی کو حاصل ہے اور وہ ہر شخص کے قول وفعل کو سنتا اور دیکھتا ہے۔ یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ پھر تسلی کے بعد اس بات کی بشارت دی کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ کیونکہ زمین وآسمان میں جتنی چیزیں بےجان یا جاندار ہیں، ان سب کا مالک اکیلا خدا ہی ہے۔ اس میں کسی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–67

(ف 1) شرک کے متعلق قرآن حکیم میں بار بار ارشاد فرمایا گیا ہے کہ سراسر بےثبوت اور بےدلیل بات ہے اس کی تائید میں کوئی حجت پیش نہیں کی جاسکی کیونکہ خدا کے تصور میں توحید داخل ہے ، کسی ذات کو خدا کہہ دینا دوسرے لفظوں میں یہ اعتراف کرلینا ہے ، کہ ہم کسی ذات کے ساتھ عقیدت رکھتے ہیں جس کا کوئی شریک سہیم نہیں اللہ کی بےنیازی ، اس کی تقدیس اور اس کا ہمہ گیر قبضہ وملک بتا رہا ہے کہ کہ اسے زندگی میں ساجھی کی ضرورت نہیں ، یہ بےعلمی کی بات اور جھوٹ ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

67 وہ اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام و چین حاصل کرو اور تمہارے لئے دن کو روشن اور دیکھنے بھالنے کا ذریعہ بنایا بیشک اس رات دن کے بنانے میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل توحید ہیں جو ان مضامین کو سننے کی صلاحیت رکھتے اور پورے تدبیر کے ساتھ سنتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–71

ف 1۔ یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپناارمان پورا کرلو۔ 2۔ یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبیعت گھٹا کرتی ہے سو خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں جو کچھ تدبیر کرو دل کھول کر علانیہ کرو اور نہ میرے چلے جانے نکل جانے کا اندیشہ کرو کیونکہ اتنے آدمیوں کے پہرے میں سے ایک آدمی کا نکل جانا بھی مستبعد ہے پھر اخفاء کی کیا ضرورت ہے۔ 3۔ حاصل یہ کہ میں تمہاری ان باتوں سے نہ ڈرتا ہوں اور نہ تبلیغ سے رک سکتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دن رات کا بنانے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ان میں بڑی نشانیاں ہیں 96 ؎ فرمایا وہ اللہ کی گرامی ذات ہے جس نے رات بنائی تاکہ تم دن بھر کی تکان سے آرام و سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے کاروبار انجام دے سکو ۔ تاریکی شب اور دن کی روشنی میں کھلے کانوں پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت سننے والوں کیلئے اللہ کی وحدانیت کی بیشمار نشانیاں ہیں اور ان میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے علیم و حکیم اور سمیع وبصیر ہونے کی ناقابل تردید دلیلیں پیش کی جارہی ہیں اور ایک دوسری جگہ اس سے اس طرح استدلال کیا گیا ہے۔ ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–86

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

65. What is being said here in a summary fashion requires some elaboration. The statement refers to philosophical inquiry which aims atdiscovering the reality underlying the physical phenomena of the universe. All those who do not look up to revelation in order to know what such reality is, have to fall back, willy-nilly, on philosophical inquiry. Whether a person ends up with atheism, polytheism or monotheism, he perforce has recourse to philosophical inquiry of some sort in order to arrive at some conclusion about reality. Likewise, the worth of the religious doctrines propounded by the…

Read the full tafseer →