Explained with ayahs 57–58
رسول ﷺ کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ
اپنے رسول ﷺ کریم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں۔ اور آیت میں ہے کہ کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
سورة یُوْنُس 59
جس چیز کو عمر بھر جھٹلاتے رہے، جسے جھوٹ سمجھ کر ساری زندگی غلط کاموں میں کھپا گئے اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کو طرح طرح کے الزام دیتے رہے، وہی چیز جب ان کی توقعات کے بالکل خلاف اچانک سامنے آکھڑی ہوگی تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائے گی، ان کا ضمیر انہیں خود بتادے گا کہ جب حقیقت یہ تھی تو جو کچھ وہ دنیا میں کر کے آئے ہیں اس کا انجام اب کیا ہونا ہے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔ زبانیں بند ہوں گی اور ندامت و حسرت سے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے ہوں گے۔ جس شخص نے قیاس و گمان کو سودے پر اپنی ساری پونجی لگا دی ہو اور کسی خیر خواہ کی بات مان کر نہ دی ہو، وہ دیوالہ نکلنے کے بعد…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی جو (برے کاموں سے روکنے کے لئے) نصیحت ہے اور (اگر اس پر عمل کرکے برے کاموں سے بچیں تو) دلوں میں جو (برے کاموں سے) روگ (ہوجاتے) ہیں ان کے لئے شفاء ہے اور (نیک کاموں کے کرنے کے لئے) رہنمائی کرنے والی ہے اور (اگر اس پر عمل کرکے نیک کاموں کو اختیار کریں تو) رحمت (اور ذریعہ ثواب) ہے (اور یہ سب برکات) ایمان والوں کے لئے (ہیں کیونکہ عمل وہی کرتے ہیں پس قرآن کے یہ برکات سنا کر) آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ (جب قرآن ایسی چیز ہے، تو لوگوں کو خدا کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے (اور اس کو دولت عظیمہ سمجھ کرلینا چاہئے) وہ اس (دنیا) سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
57۔ 58:۔ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ۔
يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ۔۔ الایۃ۔ قرآن کی چار صفتیں : اوپر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ یہ سلسلہ کلام آیت 37 میں کفار کے اس خیال کی تردید سے چلا تھا کہ یہ قرآن کوئی من گھڑت چیز ہے۔ اس کے بعد کلام کا رخ ان باتوں کو ثابت کرنے کی طرف مڑ گیا تھا جو مخالفین کے ذہنوں میں الجھن پیدا کیے ہوئ تھیں۔ اور جن کو نہ ماننے کی خواہش کے تحت وہ قرآن اور پیغمبر کی تکذیب…
Read the full tafseer →57۔ 1 یعنی جو قرآن کو دل کی توجہ سے پڑھے اور اس کے معنی و مطالب پر غور کرے، اس کے لئے قرآن نصیحت ہے قرآن کریم ترغیب و ترہیب دونوں طریقوں سے واعظ و نصیحت کرتا ہے اور ان کے نتائج سے آگاہ کرتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی صورت میں دو چار ہونا پڑے گا اور ان کاموں سے روکتا ہے جن سے انسان کی اخروی زندگی برباد ہوسکتی ہے۔
57۔ 2 یعنی دلوں میں توحید و رسالت اور عقائد حقہ کے بارے میں جو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ان کا ازالہ اور کفر و نفاق کی جو گندگی و پلیدی ہوتی ہے اسے صاف کرتا ہے۔
75۔ 3 یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے ویسے تو یہ قرآن سارے جہان والوں کے لئے ہدایت و رحمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم الشان نصیحت آگئی ہے ‘ یعنی رسول اللہ (ﷺ) کی زبانی قرآن مجید تم کو پہنچ گیا۔ قرآن پیام بیداری ہے اور ایک یادداشت ہے جو اچھی باتوں کی دعوت دے رہا ہے اور بری باتوں سے بازداشت کر رہا ہے کیونکہ یہ اوامرو نواہی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں اور اللہ حکیم ہے ‘ جس کام کو کرنے کا حکم دے رہا ہے وہ یقیناً اچھا ہے اور اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور جس کام سے روک رہا ہے وہ یقیناً برا ہے اور اس کا نتیجہ برا ہوگا۔ اچھا کام قابل رغبت اور برا کام قابل نفرت ہوتا ہے۔
و شفاء لما فی الصدور اور دلوں کی بیماریوں کیلئے شفاء بخش دوا ہے۔…
Read the full tafseer →5 یہ سب صفات قرآن کریم کی ہیں۔ قرآن اول سے آخر تک نصیحت ہے جو لوگوں کو مہلک اور مضر باتوں سے روکتا ہے۔ دلوں کی بیماریوں کے لیے نسخہ شفا ہے۔ وصول الی اللہ اور رضائے خداوندی کا راستہ بتاتا ہے، اور اپنے ماننے والوں کو دنیا و آخرت میں رحمت الٰہیہ کا مستحق ٹھہراتا ہے۔ بعض محققین کے نزدیک اس آیت میں نفس انسانی کے مراتب کمال کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جو شخص قرآن کریم سے تمسک کرے ان تمام مراتب پر فائز ہوسکتا ہے۔ (1) اپنے ظاہر کو نالائق افعال سے پاک کرنا۔ لفظ " موعظت " میں اسکی طرف اشارہ ہے (2) باطن کو عقائد فاسدہ اور ملکات رویہ سے خالی کرنا جو " شِفَآءٌ لِّمَا فِیْ الصُّدُوْرِ " سے مفہوم ہوتا ہے۔ (3) نفس…
Read the full tafseer →وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ
اس آیت کے الفاظ کی ترتیب موعظہ ‘ شفا ‘ ہدایت اور رحمت بہت پر حکمت ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 74 میں انسان کے دل کی سختی کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ ۔ دراصل دل کی سختی ہی وہ بنیادی مرض ہے جس کے باعث اعلیٰ سے اعلیٰ کلام بھی کسی انسان پر بےاثر ہو کر رہ جاتا ہے : ع ”مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بےاثر“۔ چناچہ قبول ہدایت کے لیے سب سے پہلے دلوں کی سختی کو دور کرنا ضروری ہے۔ جیسے بارش سے فائدہ اٹھانے کے لیے زمین کو نرم کرنا پڑتا ہے ‘ سخت زمین بارش سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتی ‘ بارش کا پانی اوپر ہی اوپر سے بہہ جاتا ہے ‘ اس کے اندر جذب نہیں…
Read the full tafseer →71 قرآن کی چار صفات اور ان کی ترتیب۔ موعظت شفا ہدایت اور رحمت :۔ اس آیت میں قرآن کریم کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔ پہلی صفت موعظت ہے موعظت ایسی نصیحت کو کہتے ہیں جو انسان کی توجہ کو دنیا کے انہماک سے ہٹا کر اللہ کی یاد اور روز آخرت کی طرف مبذول کرے اور اس سے دلوں میں رقت اور دنیا سے بےرغبتی اور آخرت سے لگاؤ پیدا ہو۔ دوسری صفت یہ ہے کہ یہ قرآن دلوں کی بیماریوں مثلاً شرک اور کفر کا عقیدہ، حسد، بغض، خود غرضی، بخل، لالچ وغیرہ کے لیے شفا کا کام دیتا ہے جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل کرتا ہے یہ روگ از خود اس کے دل سے دور ہوجاتے ہیں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ قرآن انسان کی زندگی کے تمام شعبوں میں اس کی…
Read the full tafseer →88۔ یہاں قرآن مجید کے چار اوصاف بیان ہوئے۔ (آیت) ” موعظۃ۔ شفآء۔ ھدی۔ رحمۃ “۔ یہ سب تنوین کے ساتھ صیغہ نکرہ میں ہیں یہ تنکیر ان کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ والتنکیر ھنا للتفخیم (روح) ان چار اوصاف کی تشریح میں صاحب روح نے بعض محققین کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نفس انسانی کے لئے حصول کمال میں چار مرتبہ یا منزلیں ہیں اور ان میں سے ہر لفظ ایک ایک مرتبہ یا منزل کی جانب اشارہ کررہا ہے۔ (1) پہلا مرتبہ، تہذیب ظاہر کا، یعنی معاصی سے اور اعمال بد سے بچنے کا ہے۔ موعظۃ اسی مقصد کے لئے ہوتا ہے۔ (2) دوسرا مرتبہ تہذیب باطن کا، یعنی اخلاق ذمیمہ و عقائد فاسدہ سے بچنے کا ہے۔ اس کو (آیت) ” شفآء لما فی الصدور “ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیت نمبر 54 تا 60
ترجمہ : اگر ہم اس شخص کے پاس کہ جس نے کفر کرکے ظلم کیا روئے زمین کی پوری دولت ہو تو وہ قیامت کے دن عذاب سے رہائی حاصل کرنے کیلئے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ترک ایمان پر ندامت کو چھپائیں گے، یعنی ان کے پیشوا عار دلانے کے خوف سے ندامت کو ان کمزور لوگوں سے چھپائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہوگا مگر ان کے یعنی مخلوق کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائیگا، سنو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے، سن رکھو کہ بعث اور جزاء کا اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں وہی زندگی عطاء…
Read the full tafseer →یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم الشان نصیحت آگئی ہے ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ کی زبانی قرآن مجید تم کو پہنچ گیا۔ قرآن پیام بیداری ہے اور ایک یادداشت ہے جو اچھی باتوں کی دعوت دے رہا ہے اور بری باتوں سے بازداشت کر رہا ہے کیونکہ یہ اوامرو نواہی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں اور اللہ حکیم ہے ‘ جس کام کو کرنے کا حکم دے رہا ہے وہ یقیناً اچھا ہے اور اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور جس کام سے روک رہا ہے وہ یقیناً برا ہے اور اس کا نتیجہ برا ہوگا۔ اچھا کام قابل رغبت اور برا کام قابل نفرت ہوتا ہے۔
وشفاء لما فی الصدور اور دلوں کی بیماریوں کیلئے شفاء بخش دوا ہے۔…
Read the full tafseer →(57) اے لوگوں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو ان برے کاموں سے روکنے کے لیے نصیحت ہے جن پر تم قائم ہو اور دلوں میں جو ان کاموں سے بیماری پیدا ہوگئی ہے، ان کے لیے شفا ہے اور گمراہیوں سے نیک کاموں کی طرف رہنمائی کرنے والی ہے اور عذاب کے لیے باعث رحمت ہے اور یہ سب برکات ایمان والوں کے لیے ہیں۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ۔۔ : یہاں سے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے قرآن مجید کی برکات اور خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔ چناچہ بنیادی خصوصیت اس کی یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے تمہارے پاس آئی ہے، اب دنیا کی کسی اور کتاب کو یہ درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ پھر اس کی چار صفات بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ یہ ”مَوْعِظَۃٌ“ ہے، تنوین تعظیم کی وجہ سے ”عظیم نصیحت“ ترجمہ کیا ہے۔ خلیل نے فرمایا کہ اس کا معنی نیکی کی نصیحت ہے جس سے دل نرم ہوجائے۔ (مفردات) راغب نے خود اس کا معنی کیا ہے کہ کسی کام سے منع کرنا، جس کے ساتھ ڈرانا بھی شامل ہو، گویا یہ کتاب موعظت نرمی و سختی ہر طرح سے سمجھا کر انسان کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 57۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الناس “۔ مراد قریش ہیں۔ (آیت) ” قدجآء تکم موعظۃ “۔ اس میں موعظۃ کا معنی نصیحت ہے، (آیت) ” من ربکم “۔ (تمہارے پروردگار کی طرف سے) یعنی قرآن کریم میں جس میں نصیحتیں اور حکمت آموز باتیں ہیں۔ (آیت) ” وشفآء لما فی الصدور “ اور (آگئی ہے) ان روگوں سے شفاجوشک، نفاق، اختلاف اور افتراق میں سے سینوں میں ہیں۔ (آیت) ” وھدی “ اور ان کے لیے رشد وہدایت جنہوں نے اس کی اتباع اور پیروں کی۔ (آیت) ” ورحمۃ “ اور رحمت ونعمت (آیت) ” للمؤمنین “۔ (اہل ایمان کے لیے) انہیں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ یہی ایمان کے ساتھ نفع حاصل کرتے ہیں، اور یہ تمام قرآن کی صفات ہیں اور…
Read the full tafseer →1:۔ الطبرانی وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابو الاحواص (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی عبد اللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہا کہ میرے بھائی کو پیٹ میں درد کی شکایت ہے اور اس کے لئے شراب کو تجویز کیا گیا ہے ابن مسعود نے کہا سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے ناپاک چیز میں شفا نہیں بنائی بلاشبہ شفا دو چیزوں میں ہے قرآن مجید اور شہدان دونوں میں شفا ہے ان بیماریوں کے لئے جو سینوں میں ہیں اور یہ دونوں لوگوں کے لئے شفا کا باعث ہیں۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن کو شفا بتایا ان بیماریوں کے لئے جو سینوں میں ہیں اور تمہارے امراض کے لئے اس کو شفا نہیں بنایا۔
3:۔ ابن…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ [ اے لوگوں ] قَدْ جَاۗءَتْكُمْ [ آچکی ہے تمہارے پاس ] مَّوْعِظَةٌ [ ایک نصیحت ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] وَشِفَاۗءٌ [ اور ایک شفا ] لِّمَا [ اس کے لیے جو ] فِي الصُّدُوْرِ ڏ [ سینوں میں ہے ] وَهُدًى [ اور ہدایت ] وَّرَحْمَةٌ [ اور رحمت ] لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کے لیے ]
Read the full tafseer →قرآن موعظت ہے ‘ سینوں کیلئے شفا ہے ‘ اور ہدایت ورحمت ہے
منکرین سے خطاب کرنے کے بعد مومنین کو خطاب فرمایا لیکن اسے یایھا الناس سے شروع فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنی کتاب بھیجی ہے اور ہدایت نازل فرمائی ہے وہ تمام انسانوں کیلئے ہے سب انسان اسے قبول کریں۔ جن لوگوں نے اسے قبول کرلیا ان کے لئے خوشخبری ہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل وانعام اور رحمت واکرام پر خوش ہونا چاہئے کہ ہمیں اللہ نے وہ کچھ عطا فرمایا جس کے مقابلہ میں ساری دنیا ہیچ ہے ‘ دنیا میں لوگ جو کچھ جمع کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ قرآن مجید کو موعظت (نصیحت) اور سینوں کے لئے شفا اور مومنین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ذکر محاسن قرآن برائے ترغیب ایمان
قال اللہ تعالی۔ یا ایہا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم۔۔۔ الی۔۔۔ ھو خیر ممایجمعون
(ربط): اوپر کی آیتوں میں قرآن کے اعجاز کا بیان تھا اب ان آیات میں قرآن کی شان اور صفت اور فضیلت کو بیان کرتے ہیں کہ اے لوگو ! ہم نے تمہارے لیے ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے لیے موعظیت اور حکمت بھی ہے اور سر تا سر پند ونصیحت بھی ہے جو تم کو بری باتوں سے روکتی ہے اور شکوک و شبہات کی بیماری سے دل کو شفا بخشنے والی بھی ہے اور حق کا راستہ بتاتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے اور خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہے اور باعتبار نتیجہ اور ثمرہ اہل ایمان کے لیے رحمت ہے جس کے اتباع کی برکت سے ظاہر و باطن…
Read the full tafseer →74: یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب آچکی ہے جو سراپا ہدایت و رحمت ہے، نصیحت و حکمت سے لبریز اور تمام روحانی بیماریوں کے لیے پیغام شفا ہے وہ توحید، دیگر عقائد حقہ اور احکام شرعیہ بیان کرتی اور شرک و بدعت اور اعمال جاہلیہ سے روکتی ہے، اس لیے اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کی ہدایات پر عمل کرو۔ تاکہ شرک و بدعت اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ربط آیات
اس سے پہلے توحید و رسالت کا ذکر اور قرآن پاک کی حقانیت وصداقت کا بیان ہوچکا ہے۔ دراصل اس سورة کا مرکزی مضمون دعوت الی القرآن ہے۔ اس بات کا ذکر سورة کی ابتدائی آیت میں ہوا۔ پھر دوسری بار قرآن حکیم کا تذکرہ مشرکین کے اس مطالبے کے جواب میں ہوا جس میں وہ قرآن کو تبدیل کردینے کی فرمائش کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان سے یہ دلوایا کہ قرآن پاک کو تبدیل کرنے یا اس میں کسی قسم کی ترمیم کرنے کا اختیار میرے پاس نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے جو اپنے حکمت اور مصلحت کے مطابق جب چاہے کسی حکم کو تبدیل کر دے یا منسوخ کردے۔ اب آج کے درس میں قرآن کریم…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ 0ۥۙ وَہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ 57
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔
تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ قَدْجَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ 5 لا وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (یونس : 57)
(اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی نصیحت اور سینے کے امراض کی شفاء اور اہل ایمان کے لیے ہدایت و رحمت۔ )
قرآن کی چار صفات
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے یہ پڑھا ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے۔ اس لیے اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ قیامت برپا کرے اور انسانوں اور جنات سے ان کی زندگی کا حساب لے۔ اس سے خودبخود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کا حساب اسی صورت میں لیا جاسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو بتادیا جائے کہ وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی صورت میں لوگوں کے پاس نصیحت پہنچ چکی ہے۔ جسے روحانی بیماریوں کے لیے شفاء اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔
قرآن مجید کے بیشمار اوصاف اور خصائص ہیں مگر یہاں چار اوصاف بیان فرمائے گئے ہیں۔
مَوْعِظَۃٌ:
موعظت اس بات اور نصیحت کو کہتے ہیں جسے سن کر انسان حقیقت کی طرف متوجہ ہو اور اس پر غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں دل پر اثر انداز ہونے والی بات کو موعظۃ کہا جاتا ہے۔ جو اللہ کے کلام سے بڑھ کر کسی کی بات میں نہیں ہوسکتی۔ چناچہ قرآن کے الفاظ کی تلاوت کی جائے یا اسے سمجھ کر پڑھا جائے۔
1۔ قرآن مجید کی تلاوت دل کے لیے رحمت، سکون اور اطمینان…
Read the full tafseer →قرآن عظمت و شفاء و رحمت ہے :
57: یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآ ئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ (اے لوگو ! تمہارے پاس ایک نصیحت تمہارے رب کی طرف سے آچکی) یعنی تمہارے پاس ایسی کتاب آچکی جو نصائح کے فوائد سے مالا مال ہے۔ اس میں توحید پر متنبہ کیا گیا۔
الموعظۃ اس چیز کو کہتے ہیں جس میں ہر مرغوب کی دعوت اور ہر مرھوب سے ڈرا وا موجود ہو۔ اسلئے کہ امر ماموربہ کے حسن کا تقاضا کرتا ہے پس وہ مرغوب ہونا چاہیئے اور جس کا حکم نہ ہو وہ ممنوع ہونا چاہیے اور نہی ماموربہ کے قبح کو چاہتی ہے۔ اور نہی میں بھی اسی طرح حکم ہے۔ وَشِفَآ ئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ (اور شفاء ہے اس چیز کیلئے جو سینوں میں ہے) یعنی…
Read the full tafseer →تفسیر 57” یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ “ نصیحت ” من ربکم و شفاء لما فی الصدور “ یعنی دلوں میں جو جہالت کی بیماری ہے اس کی دواء اور بعض نے کہا ہے کہ ” لما فی الصدور “ کا مطلب یہ ہے کہ دلوں کے اندھے پن کے لیے شفاء ہے۔ ” وھدی “ گمراہی سے ” ورحمۃ للمومنین “ رحمت محتاج کو نعمت دینے کو کہتے ہیں کیونکہ اگر ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کو کوئی چیز ہدیہ کرے تو یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس پر رحم کیا ہے اگرچہ وہ ہدیہ نعمت کا ہو کیونکہ وہ نعمت کسی محتاج کو نہیں دی۔
Read the full tafseer →57۔ جس طرح آدمی کے بدن کے لئے بخار کھانسی وغیرہ طرح طرح کے مرض ہیں اسی طرح عقیدہ کے بگڑنے سے آدمی کے دل میں کفر و نفاق حسد ریا کاری یہ طرح طرح کے مرض پیدا ہوجاتے ہیں اور جس طرح طب کی کتابوں میں جسمانی مرض کے ہر طرح کے علاج لکھے ہیں قرآن شریف اور حدیث میں اس طرح ان دلی مرضوں کے ہر طرح کے علاج ہیں اس واسطے قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ کے دنیا میں آنے کو دل کی تندرستی کا سبب فرمایا اور اوپر کی آیت میں فرمایا تھا کہ تمام دنیا کے مال و متاع کے بدلا دینے پر بھی قیامت کے دن نجات میسر نہ آوے گی۔ اس لئے اس آیت میں فرمایا کہ تمام دنیا کی جمع پونجی سے اللہ تعالیٰ کی یہ رسول اور کتاب آسمانی کے بھیجنے کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
آیت : (57-58)
اللہ تبارک و تعالیٰ کتاب کرم کے اوصاف حسنہ ‘ جو بندوں کے لئے ضروری ہیں ‘ بیان کر کے اس کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (یایھا الناس قد جائتکم موعظۃ من ربکم) ” اے لوگو ! تمہارے پاس تمہار تب کی طرف سے نصیحت آگئی “ یعنی وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے اور وہ تمہیں ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے موجب اور اس کے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں۔ وہ ان اعمال کے اثرات اور مفاسد بیان کرکے تمہیں ان سے بچاتا ہے۔
(و شفاء لما فی صدور) ” اور شفا دلوں کے روگ کی “ اور وہ یہی قرآن ہے جو امراض قلب ‘ مثلاً امراض شہوات ‘ جو شریعت کی اطاعت سے روکتے ہیں اور امراض شبہات ‘ جو علم یقینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →97 ۔ قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال نصیحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک آچکی تم لوگوں کے پاس ایک عظیم الشان نصیحت تمہارے رب کی جانب سے۔ ایسی عظیم الشان جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے والی ہے۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بھا وبالایمان بھا۔ اللہ اس کی قدر پہچاننے اور اس کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے۔ بہرکیف اس میں سب لوگوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہارے پاس ایک ایسی عظیم الشان نصیحت آگئی جو تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ اور جب وہ تمہارے رب کی طرف سے ہے تو اس میں تمہارے لیے خیر ہی خیر اور برکت ہی برکت ہے اور اس میں کسی غلطی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–66
اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں
تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیات 54 تا 60
اسرار و معارف
آج تو تم دنیا کی دولت پہ بہت خوش ہو بلکہ تمہیں ایمان اور اطاعت گراں گزرتے ہیں مگر جب یہ سب کچھ واقع ہوگا تو اگر ہر ایک ظالم کے پاس اتنی دولت بھی ہوجتنی سب روئے زمین پر ہے اور وہ یہ سب دے کر جان چھڑاناچا ہے تو ایسانہ ہوسکے گا بلکہ عذاب کی ذلت کے باعث مارے شرم کے منہ چھپا تے پھر تے ہوں گے نیزوہ بارگاہ تو ایسی عالی ہے کہ ان ظالموں سے بھی کوئی زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ عین انصاف کے ساتھ معاملہ ہوگا اور انھیں دہی سزاملے گی جس کے یہ مستحق ہوں گے۔
اور یہ خوب اچھی طرح سے جان لو کہ زمینوں اور آسمانوں میں سب کچھ حقیقتا اللہ کریم کا ہے انسان کو عارضی طور پر اگر کچھ عطا ہوتا…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ اوپری آیتوں میں قرآن کے معجز ہونے سے آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ثابت کیا۔ اب قرآن کے کتاب ہدایت و رحمت ہونے سے آنحضرت و کی صداقت پر استدلال کی طرف اشارہ ہے۔ امام رازہ فرماتے ہیں : پہلی دلیل کی حثیت برحان انی کی ہے اور اس کی حیثیت برھان لمتی کی ہے۔ یہاں قرآن کی چار صفات بیان فرمائی ہیں جن سے انسان کے مراتب کمال کے درجات اربعہ کی طرف اشارہ ہے۔ (کبیر) قرآن کتاب موعظتہ ہے جو ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے انسان کی اصلاح کرتی ہے اور دل میں جو کفر و نفاق، حسد و ریا اور اخلاقی ذمیمہ کی بیماریاں ہیں ان سے شفا بخشتی ہے۔ اس لئے یہ شفاروحانی ہے۔ (خازن) ۔
7 ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ہاں فضل سے…
Read the full tafseer →(10:57) موعظۃ۔ اسم مصدر۔ نصیحت۔ یعنی قرآن ایسی جامع کتاب ہے جس میں ہر قسم کی نصیحت موعظت۔ اوامر۔ نواہی۔ توحید وغیرہ مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 58
موعظۃ (نصیحت) شفآء (شفا، بہتری) الصدور (صدر) سینے ، دل) فلیفرحوا (پس انہیں خوش ہونا چاہئے) خیر (زیادہ بہتر) یجمعون (وہ جمع کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 57 تا 58
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر کے تمام انسانوں کو خطاب رکتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے پروردگار نے تمہیں ایک ایسی کتاب ہدایت عطا فرما دی ہے جو قیامت تک تمام انسانوں کی رہبری اور رہنمائی کرتی رہے گی۔ اب اس کتاب کے بعد کسی اور کتاب ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے اس کتاب ہدایت پر عمل کر کے ساری دنیا میں وہ انقلاب برپا کردیا جس سے بیمار دلوں کو شفا مل گئی…
Read the full tafseer →عقیدے کے بگڑنے سے آدمی کے دل میں کفر ونفاق پیدا ہوتا ہے
جس طرح آدمی کے بدن کے لئے بخار، کھانسی وغیرہ طرح طرح کے مرض ہیں، اسی طرح عقیدے کے بگڑنے سے آدمی کے دل میں کفر ونفاق حسد ریاکاری یہ طرح طرح کے مرض پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور جس طرح طب کی کتابوں میں جسمانی مرض کے ہر طرح کے علاج لکھے ہیں، قرآن شریف اور حدیث میں اس طرح ان دلی مریضوں کے طرح طرح کے علاج ہیں۔ اسی واسطے قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ کے دنیا میں آنے کو دل کی تندرستی کا سبب فرمایا اور اوپر کی آیت میں فرمایا تھا کہ تمام دنیا کے مال ومتاع کے بدلہ دینے پر بھی قیامت کے کدن کی نجات میسر نہ آوے گی۔ اس آیت میں فرمایا کہ تمام دنیا کی جمع پونجی سے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
قرآن بہترین راہ نما ہے ! :
(ف 1) ایک گمراہ شخص جب ہدایت قبول کرتا ہے ، اور گمان ویقین کی نعتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے تو ضرور ہے کہ چار منزلوں سے ہو کر گزرے ۔
اولا : گناہوں سے آگاہ ہو ۔
ثانیا : شکوک و شبہات سے نجات حاصل کرے ۔
ثالثا : صراط مستقیم کو دیکھ لے ،
رابعا : شاہد مقصود سے ہم کنار ہوجائے ،
قرآن حکیم کے متعلق اس آیت میں بالکل اسی ترتیب سے فوز و فلاح کا ذکر ہے ۔
یہ موعظت ہے اس کی برکت سے دلوں میں گناہوں کی برائیوں کا احساس پیدا ہوجاتا ہے ۔
یہ شفاء ہے جس کی وجہ سے دل کی تمام بیماریاں دور ہوجاتی ہیں ، شکوک و شبہات کے بادل چھٹ جاتے ہیں ،
ھدی : یعنی صراط مستقیم کی جانب راہ نمائی رحمت ہے ، جسے…
Read the full tafseer →57 اے انسانو ! تمہارے رب کی جانب سے تمہارے پاس ایک ایسی چیز آئی ہے جو برے کاموں سے بچنے کے لئے نصیحت ہے اور قلبی بیماریوں کے لئے شفا ہے اور ایمان والوں کے لئے رہنمائی اور رحمت ہے یعنی نصیحت ہے کہ برے اعمال سے بچیں اور برے کاموں کی وجہ سے جو قلب میں بیماریاں پیدا ہوجاتی ہے اس کیلئے شفا اور نیک کاموں کی خواہش رکھنے والے اہل ایمان کے واسطے رہنمائی کرنے والی ہے اور جو لوگ نیک اعمال کرتے ہیں ان کے لئے موجب رحمت اور ذریعہ ثواب ہے مراد اس چیز سے قرآن کریم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ف 6۔ کیونکہ دنیا کا نفع قلیل اور فانی اور قرآن کا نفع کثیر اور باقی۔
Read the full tafseer →اے لوگو ! تمہارے پاس دل میں اتر جانے والے دلائل ، دلوں کی شفاء ، ہدایت اور رحمت آ گئی
83 ؎ زیر نظر آیت میں قرآن کریم کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ 1۔ موعظت ہے یعنی دل میں اتر جانے والی دلیلوں اور روح کو متاثر کرنے والے طریقوں سے ان تمام باتوں کی ترغیب دیتا ہے جو خیر و حق کی باتیں ہیں اور ان تمام باتوں سے روکتا ہے جو شر اور بطلان کی باتیں ہیں کیونکہ عربی میں وعظ کا مفہوم صرف نصیحت ہی نہیں ہے بلکہ ایسی نصیحت ہے جو موثر دلائل اور دل نشین اسلوبوں کے ساتھ کی جائے۔ 2۔ دل کی تمام بیماریوں کیلئے نسخہ شفاء ہے جو فرد اور جو گروہ بھی اس نسخہ پر عمل کرے گا اس کا قلب ہر طرح کے مفاسد و رذائل سے پاک ہوجائے…
Read the full tafseer →Commentary
Previous verses described how astray the disbelievers and polytheists had gone and what punishments had become due against them in the Hereafter.
Shown to them in the first two verses was the way out of their living in error and also the source through which they would find deliverance from the punishment of the Hereafter. And that source is Qur'an, the Book of Allah, and His Messenger, Muhammad al-Mustafa ﷺ .
Both are great blessings for humanity, far superior to the entire blessings of the heavens and the earth. Following the injunctions of the Qur'an and the way of the Holy…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
59. Throughout their lives the unbelievers denied that they would be resurrected and called to account by God. Considering the Next Life a mere illusion, they wasted their lives on vain pursuits and levelled all kinds of allegations against the Prophets who had forewarned them that the Next Life would inevitably come to pass. All this notwithstanding, a moment will come when they will find themselves face to face with the Next Life. When such a moment comes they will be totally unnerved. In view of their evil deeds, their conscience will intimate to them the end they are going to meet.…
Read the full tafseer →