Yunus 10:58

Yunus · from ayah 58

10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا ؕ— هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۟قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَـفۡرَحُوۡا ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّمَّا يَجۡمَعُوۡنَ

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "In the bounty of Allah and in His mercy - in that let them rejoice; it is better than what they accumulate."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 6 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:58

اے نبیؐ، کہو کہ“یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے۔ وه اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وه جمع کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) کہو کہ : یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوا ہے، لہذا اسی پر تو انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس تمام دولت سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کر کر کے رکھتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے (یہ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی سے ہے، سو اسی کے ساتھ پھر لازم ہے کہ وہ خوش ہوں۔ یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ لوگوں سے کہئے کہ (یہ کتاب) اللہ کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل کی گئی ہے) لہذا انھیں اس پر خوش ہوجانا چاہئے۔ یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ یہ اللہ کے فضل و رحمت کا کرشمہ ہے تو چاہیے کہ اس پر شادماں ہوں، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ اللہ کے اس فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہونا چاہیے ان لوگوں کو، کہ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جس کو یہ جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے ہاں اس سے چاہیے کہ (لوگ) خوش ہوں وہ اس (دنیا) سے جس کو یہ جمع کررہے ہیں کہیں بہتر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ! ان سے) کہہ دیجیے کہ یہ (قرآن) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے (نازل ہوا) ہے تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں ! وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ یہ کتاب اللہ کے فضل اور اسکی مہربانی سے نازل ہوئی ہے تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them (O Prophet!): 'Let them rejoice in Allah's grace and mercy through which this (Book) has come to you. It is better than all the riches that they accumulate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :With the grace of Allah and with His mercy (this book has been revealed). So they should rejoice in it. It is much better than that (wealth) which they accumulate.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :With the grace of Allah and with His mercy (this book has been revealed). So they should rejoice in it. It is much better than that (wealth) which they accumulate.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "In the bounty of Allah, and in His mercy; therein let them rejoice." That is better than what (the wealth) they amass.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: In the bounty of Allah and in His mercy: therein let them rejoice. It is better than what they hoard.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "In the bounty of Allah and in His mercy - in that let them rejoice; it is better than what they accumulate."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "To be happy with the favors and mercy of God is better than whatever you accumulate".

— Muhammad Sarwar

Say: In the grace of Allah and in His mercy-- in that they should rejoice; it is better than that which they gather.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: in the grace of Allah and in His mercy--therein let them therefore rejoice: far better it is than that which they amass.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "In the bounty of Allah. And in His Mercy,- in that let them rejoice": that is better than the (wealth) they hoard.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–58

رسول ﷺ کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ اپنے رسول ﷺ کریم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں۔ اور آیت میں ہے کہ کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیے۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 54–58

سورة یُوْنُس 59 جس چیز کو عمر بھر جھٹلاتے رہے، جسے جھوٹ سمجھ کر ساری زندگی غلط کاموں میں کھپا گئے اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کو طرح طرح کے الزام دیتے رہے، وہی چیز جب ان کی توقعات کے بالکل خلاف اچانک سامنے آکھڑی ہوگی تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائے گی، ان کا ضمیر انہیں خود بتادے گا کہ جب حقیقت یہ تھی تو جو کچھ وہ دنیا میں کر کے آئے ہیں اس کا انجام اب کیا ہونا ہے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔ زبانیں بند ہوں گی اور ندامت و حسرت سے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے ہوں گے۔ جس شخص نے قیاس و گمان کو سودے پر اپنی ساری پونجی لگا دی ہو اور کسی خیر خواہ کی بات مان کر نہ دی ہو، وہ دیوالہ نکلنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں فرمایا (آیت) قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ ، یعنی لوگوں کو چاہئے کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت ہی کو اصلی خوشی کی چیز سمجھیں اور صرف اسی چیز پر خوش ہوں، دنیا کے چند روزہ مال و متاع اور راحت و عزت درحقیقت خوش ہونے کی چیز ہی نہیں، کیونکہ اول تو وہ کتنی ہی زیادہ کسی کو حاصل ہو، ادھوری ہی ہوتی ہے مکمل نہیں ہوتی، دوسرے ہر وقت اس کے زوال کا خطرہ لاحق ہے، اس لئے آخر آیت میں فرمایا (آیت) ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ ، یعنی اللہ کا فضل و رحمت ان تمام مال و دولت اور عزت و سلطنت سے بہتر ہے جن کو انسان اپنی زندگی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 57–58

57۔ 58:۔ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ۔ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ۔۔ الایۃ۔ قرآن کی چار صفتیں : اوپر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ یہ سلسلہ کلام آیت 37 میں کفار کے اس خیال کی تردید سے چلا تھا کہ یہ قرآن کوئی من گھڑت چیز ہے۔ اس کے بعد کلام کا رخ ان باتوں کو ثابت کرنے کی طرف مڑ گیا تھا جو مخالفین کے ذہنوں میں الجھن پیدا کیے ہوئ تھیں۔ اور جن کو نہ ماننے کی خواہش کے تحت وہ قرآن اور پیغمبر کی تکذیب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

58۔ 1 خوشی، اس کیفیت کا نام ہے جو کسی مطلوب چیز کے حصول پر انسان اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ اہل ایمان کو کہا جا رہا ہے کہ یہ قرآن اللہ کا خاص فضل اور اس کی رحمت ہے، اس پر اہل ایمان کو خوش ہونا چاہیے یعنی ان کے دلوں میں فرحت اور اطمینان کی کفییت ہونی چاہیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خوشی کے اظہار کے لیے جلسے جلوسوں کا چراغاں کا اور اس قسم کے غلط کام اور اسراف بےجا کا اہتمام کرو۔ جیسا کہ آج کل اہل بدعت اس آیت سے " جشن عید میلاد " اور اس کی غلط رسوم کا جواز ثابت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–58

25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل بفضل اللہ وبرحمتہ اے محمد (ﷺ) ! آپ (ا اللہ کے شکر ادا کرنے کے طور پر) کہیں کہ اللہ کے فضل و رحمت سے (یہ نصیحت ‘ شفاء ‘ ہدایت اور رحمت خدا ہم کو ملی ہے ‘ ہمارے استحقاق کو اس میں کوئی دخل نہیں) ۔ فبذلک فلیفرحوا پس (ا اللہ کے اس فضل و کرم اور حصول قرآن سے) ان کو خوش ہونا چاہئے۔ بِذٰلِکَ کی تقدیم اشارہ کر رہی ہے اس بات کی طرف کہ خوشی کی چیز قرآن اور اللہ کا فضل و کرم ہی ہے ‘ اس کے علاوہ دنیا کی کوئی راحت و نعمت موجب فرح نہیں ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ اللہ کے فضل و رحمت سے مراد قرآن کا نزول ہی ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے : اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت قرآن۔ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 " فرح " (خوش ہونا) محمود بھی ہے اور مذموم بھی۔ کسی نعمت پر اس حیثیت سے خوش ہونا کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ملی ہے، محمود ہے۔ جیسے یہاں فرمایا۔ (فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا) 10 ۔ یونس :58) اور حطام دنیا پر خوش ہونا اور اکڑنا خصوصاً یہ خیال کر کے ہم کو اپنی لیاقت سے حاصل ہوئی ہے، سخت مذموم ہے۔ قارون اپنے مال و دولت کی نسبت کہتا تھا " اِنَّمَا اُوْتِیْتُہ، عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ " اس کو فرمایا (لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ 76؀ وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا) 28 ۔ القصص :77-76) 7 یعنی اصل چیز خدا کا فضل و رحمت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58 قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ یہ قرآن اللہ کے فضل اور رحمت کا مظہر اور بنی نوع انسان پر اس کا بہت بڑا احسان ہے۔ یہ سب سے بڑی دولت ہے جو اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کو عطا کی ہے۔ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ط ”فرح“ کے معنی ہیں خوشی سے پھولے نہ سمانا ‘ یعنی خوشی کے جذبے میں حد سے بڑھ جانا ‘ اس لحاظ سے یہ جذبہ شریعت اسلامی میں قابل مذمت ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ لفظ قرآن میں زیادہ تر منفی مفہوم میں آیا ہے۔۔ جیسے سورة القصص میں قارون کے ذکر میں یہ الفاظ آئے ہیں : اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ لیکن یہاں پر تو اعلان عام ہو رہا ہے کہ اگر ”فرح“ کرنا ہی ہے تو دولت قرآن پر کرو ! اگر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

72 قرآن مال دولت سے بہتر ہے :۔ لہذا آپ لوگوں کو بتلا دیجئے کہ یہ اللہ کا انتہائی فضل اور اس کی کمال مہربانی ہے جو اس نے تمہارے لیے اتنی خوبیوں والی کتاب نازل فرمائی ہے لہذا تمہیں ایسی کتاب کے نازل ہونے پر خوشیاں منانا چاہیے اور جس مال و دولت کے جمع کرنے کے لیے یہ لوگ سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سے اس کتاب کا علم حاصل کرلینا ہزار درجہ بہتر ہے کیونکہ مال و دولت تو ڈھلتی چھاؤں ہے اور ایک فنا ہونے والی چیز ہے جبکہ اللہ کی کتاب ایسی نعمتوں کا راستہ دکھلاتی ہے۔ جو لازوال ہیں اور انھیں کبھی فنا نہیں مثلاً اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ اور جنت کی ابدی نعمتیں وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

89۔ دنیا کا نفع اول تو قلیل اور پھر فانی، قرآن کا نفع ایک تو کثیر اور پھر باقی۔ (آیت) ” بفضل۔۔۔ فلیفرحوا “۔ ذلک سے اشارہ اسی فضل ورحمۃ ہی کی جانب ہے۔ اور مقصود اس ترکیب کلام میں تاکید وزور ہے۔ ورنہ یہی مفہوم سادہ صورت میں (آیت) ” فبذلک “۔ کے بغیر بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ فقرہ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز پر اگر خوش ہونا ہی ہے تو وہ یہی ہے نہ کہ کچھ اور۔ ترکیب کلام نے معنی حصر کے پیدا کردیئے۔ والاصل ان فرحوا بشیء فبذلک لیفرحوا لا بشیء اخر (روح) قولہ فبذالک فلیفرحوا بقید الحصر یعنی یجب ان لا یفرح الانسان الا بذلک (کبیر) (آیت) ” بفضل اللہ وبرحمتہ “۔ فضل اور رحمۃ دونوں سے اشارہ یہاں قرآن مجید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 54–60

آیت نمبر 54 تا 60 ترجمہ : اگر ہم اس شخص کے پاس کہ جس نے کفر کرکے ظلم کیا روئے زمین کی پوری دولت ہو تو وہ قیامت کے دن عذاب سے رہائی حاصل کرنے کیلئے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ترک ایمان پر ندامت کو چھپائیں گے، یعنی ان کے پیشوا عار دلانے کے خوف سے ندامت کو ان کمزور لوگوں سے چھپائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہوگا مگر ان کے یعنی مخلوق کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائیگا، سنو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے، سن رکھو کہ بعث اور جزاء کا اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں وہی زندگی عطاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل بفضل اللہ وبرحمتہ اے محمد ﷺ ! آپ (ا اللہ کے شکر ادا کرنے کے طور پر) کہیں کہ اللہ کے فضل و رحمت سے (یہ نصیحت ‘ شفاء ‘ ہدایت اور رحمت خدا ہم کو ملی ہے ‘ ہمارے استحقاق کو اس میں کوئی دخل نہیں) ۔ فبذلک فلیفرحوا پس (ا اللہ کے اس فضل و کرم اور حصول قرآن سے) ان کو خوش ہونا چاہئے۔ بِذٰلِکَ کی تقدیم اشارہ کر رہی ہے اس بات کی طرف کہ خوشی کی چیز قرآن اور اللہ کا فضل و کرم ہی ہے ‘ اس کے علاوہ دنیا کی کوئی راحت و نعمت موجب فرح نہیں ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ اللہ کے فضل و رحمت سے مراد قرآن کا نزول ہی ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے : اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت قرآن۔ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(58) اے محمد ﷺ آپ اپنی جماعت صحابہ سے فرمادیجیے کہ لوگو اللہ کے انعام سے جو کہ قرآن حکیم عطا کرکے کیا ہے، اور اس کی رحمت پر جس کی بذریعہ اسلام تمہیں توفیق دی گئی ہے، خوش ہونا چاہئے، اور قرآن کریم اوردین اسلام اس دنیاوی اموال سے بہت بہتر ہے جس کو یہ یہود اور مشرک جمع کررہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ : اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے مراد قرآن مجید، دین حق، خاتم النبیین پیغمبر، جنت اور تمام اخروی نعمتیں ہیں۔ حرف باء ”بِفَضْلِ اللّٰهِ“ اور ”َبِرَحْمَتِهٖ“ دونوں پر آیا ہے، مطلب یہ کہ آخرت کی ہر ہر نعمت مستقل طور پر اپنی اپنی جگہ اس لائق ہے کہ اہل ایمان اس پر خوش ہوں۔ فَبِذٰلِكَ : اس فاء سے محذوف شرط کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی چیز حقیقی خوشی کے قابل ہے اور اگر تمہیں خوش ہونا ہے تو پھر یہ چیز ہے جس پر خوش ہونا چاہیے۔ ”فَبِذٰلِكَ“ پہلے لانے سے حصر بھی پیدا ہوگیا کہ صرف یہی اصل خوشی کی چیز ہے، باقی تمام چیزیں فانی ہیں اور سراسر دھوکا۔ فَلْيَفْرَحُوْا : مفردات…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 58۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ فضل اللہ سے مراد قرآن کریم اور رحمت سے مراد اسلام ہے، اور انہی دونوں سے یہ بھی روایت ہے کہ فضل اللہ سے مراد قرآن کریم ہے اور رحمت سے مراد یہ ہے کہ اس نے تمہیں اس کے اہل بنایا (1) (تفسیر طبری، سورة یونس، جلد 11، صفحہ 144) اور حضرت حسن (رح) ضحاک ؓ ، مجاہد ؓ اور قتادہ ؓ نے کہا ہے : فضل اللہ سے مراد ایمان ہے اور رحمتہ سے مراد قرآن ہے (2) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 164) یہ پہلے قول کے برعکس ہے، اس کے علاوہ بھی قول کیے گئے ہیں۔ (آیت) ” فبذلک فلیفرحوا “۔ یہ اشارہ فضل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابو عبید و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ واحمد وابن منذر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے المصاحف میں ابو الشیخ والحاکم نے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ وابوالنعیم نے الحلیہ میں والبیقہی نے شعب الایمان میں چند اسناد سے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تجھ پر قرآن کو پڑھوں میں نے عرض کیا کہ آپ کے لئے میرا نام لیا گیا فرمایا ہاں ابی سے کہا گیا تو اس بات سے خوش ہوا انہوں نے فرمایا مجھے کون سی چیز خوشی کو طلب کرنے سے روک سکتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرماتے ہیں ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا ھو خیرمما یجمعون (58) اس طرح…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ کہئے ] بِفَضْلِ اللّٰهِ [ اللہ کے فضل سے ] وَبِرَحْمَتِهٖ [ اور اس کی رحمت سے (یہ آئی ہیں ) ] فَبِذٰلِكَ [ پس اس سبب سے ] فَلْيَفْرَحُوْا ۭ [ پھر انہیں چاہیے کہ وہ خوش ہوں ] ھُوَ [یہ ] خَيْرٌ [بہت رہے ] مِّمَّا [ اس سے جو ] يَجْمَعُوْنَ [ یہ لوگ جمع کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ شانہ نے فضل فرمایا کہ قرآن مجید نازل فرمایا اور دین اسلام قبول کرنے کی توفیق دی جو رحمت عظیمہ ہے اور انعام برانعام ہے۔ اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہونے کا حکم فرمایا۔ کیونکہ یہ بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ ان پر جتنی بھی خوشی کی جائے اور مسرت کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ دنیا میں ہدایت پر ہونا اور آخرت میں نعمتوں سے مالا مال ہونا اس پر خوش ہونا اور چیز ہے اور دنیاوی نعمتوں پر اترانا دوسری چیز ہے پہلی چیز کا حکم دیا گیا ہے اور دوسری چیز سے منع فرمایا ہے۔ دنیاوی مال اور جاہ پر اترانا مست ہونا اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بھلا دیتا ہے اور اس میں دوسروں کی تحقیر بھی ہوتی ہے۔ اس لئے اس سے منع فرمایا جیسا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–58

ذکر محاسن قرآن برائے ترغیب ایمان قال اللہ تعالی۔ یا ایہا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم۔۔۔ الی۔۔۔ ھو خیر ممایجمعون (ربط): اوپر کی آیتوں میں قرآن کے اعجاز کا بیان تھا اب ان آیات میں قرآن کی شان اور صفت اور فضیلت کو بیان کرتے ہیں کہ اے لوگو ! ہم نے تمہارے لیے ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے لیے موعظیت اور حکمت بھی ہے اور سر تا سر پند ونصیحت بھی ہے جو تم کو بری باتوں سے روکتی ہے اور شکوک و شبہات کی بیماری سے دل کو شفا بخشنے والی بھی ہے اور حق کا راستہ بتاتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے اور خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہے اور باعتبار نتیجہ اور ثمرہ اہل ایمان کے لیے رحمت ہے جس کے اتباع کی برکت سے ظاہر و باطن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

75:“ فضل ” سے مراد قرآن اور رحمت سے توفیق ایمان واسلام مراد ہے یا دونوں سے مراد قرآن ہی ہے اس آیت میں نہایت تاکید اور اہتمام سے قرآن کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت ہے خوش ہونے کا حکم دیا گیا ہے اس آیت کی فصاحت و بلاغت کا کمال یہ ہے کہ لفظی تکرار کے بغیر اس میں معنوی تکرار اور تاکید موجود ہے۔ چناچہ یہاں تین بار اس کی تاکید ہے۔ (1) “ بِفَضْلِ اللّٰه ” کا متعلق محذوف ہے اصل میں تھا “ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِه فَلْیَفْرَحُوْا ”۔ (2) “ فَبِذٰلِکَ ” فاء اس پر دلالت کر رہی ہے کہ بِذٰلکَ کا متعلق محذوف ہے جو بقرینہ ما بعد “ لِیَفْرَحُوْا ” ہے۔ (3) “ فَلْیَفْرَحُوْا ” جملہ ہے جس کا متعلق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–58

ربط آیات اس سے پہلے توحید و رسالت کا ذکر اور قرآن پاک کی حقانیت وصداقت کا بیان ہوچکا ہے۔ دراصل اس سورة کا مرکزی مضمون دعوت الی القرآن ہے۔ اس بات کا ذکر سورة کی ابتدائی آیت میں ہوا۔ پھر دوسری بار قرآن حکیم کا تذکرہ مشرکین کے اس مطالبے کے جواب میں ہوا جس میں وہ قرآن کو تبدیل کردینے کی فرمائش کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان سے یہ دلوایا کہ قرآن پاک کو تبدیل کرنے یا اس میں کسی قسم کی ترمیم کرنے کا اختیار میرے پاس نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے جو اپنے حکمت اور مصلحت کے مطابق جب چاہے کسی حکم کو تبدیل کر دے یا منسوخ کردے۔ اب آج کے درس میں قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا۝ 0 ۭ ھُوَخَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ۝ 58 فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–60

ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔ تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ط ھُوَخَیْرٌمِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ (یونس : 58) (کہہ دیجیے یہ کتاب نازل ہوئی ہے محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے، پس چاہیے کہ اس پر خوشی منائیں۔ یہ بہتر ہے ان تمام چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ ) قرآن کریم عظیم نعمت اس سے پہلے قرآن کریم کی چار صفات بیان کی گئی ہیں جن کی کسی حد تک تفصیل آپ پڑھ چکے ہیں۔ اسی سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ کتاب یقیناً نصیحت ہے دلوں کے امراض کے لیے شفاء ہے، ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ لیکن ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لائے۔ اور اس میں مندرج ہدایات کو نہ صرف آویزہ گوش…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں قرآن مجید کو موعظت اور شفاء قرار دیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس پر مومنوں کو خوش اور مطمئن ہونا چاہیے۔ قرآن مجید دنیا میں واحد کتاب ہے جسے جتنی بار تلاوت کیا جائے اتنی ہی اس کی تاثیر بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے نزول مسعود سے لے کر ہر دور میں ہزاروں اور لاکھوں لوگ صرف اس کی تلاوت سے متاثر ہو کر اس پر ایمان لے آئے اور ان کی زندگی کی کایا پلٹ گئی۔ قرآن مجید کے سب سے بڑے دشمن اہل مکہ تھے ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیے کہ جو لوگ آخر دم تک حلقہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے وہ بھی قرآن مجید کی تاثیر کا برملا اقرار کرتے تھے۔ اسی بنا پر نبی اکرم ﷺ کو جادوگر کہتے تھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

58: قُلْ (کہہ دیں) اے محمد ﷺ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا (اللہ تعالیٰ کے فضل اور اسکی رحمت کے ساتھ پس اس کے ساتھ ان کو خوش ہونا چاہیے) اصل کلام اس طرح ہے بفضل اللّٰہ و برحمتہ فلیفرحوا بذٰلک اگر اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ چاہیے کہ وہ خوش ہوں اس پر، تکریر کا مقصدتاکید اور پختگی ہے اور اس بات کو خاص کر ثابت کرنا ہے کہ فضل و رحمت ہی فرح کے لائق ہیں ان کے علاوہ فوائدد نیا لائق فرح نہیں۔ ایک فعل کو دلالت کی وجہ سے حذف کردیا۔ اور فا ؔ کو اس لئے داخل کیا کیونکہ شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے گویا اس طرح فرمایا۔ اگر وہ کسی چیز پر خوش ہوں تو ان کو اپنی فرح ان دو چیزوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(58)” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا فضل ایمان ہے اور اس کی رحمت قرآن ہے اور ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کا فضل قرآن ہے اور اس کی رحمت یہ ہے کہ ہمیں اس کا اہل بنایا ۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کا فضل اسلام ہے اور اس کی رحمت اسلام کو دلوں میں مزین کردینا ۔ خالد بن معدان (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کا فضل اسلام ہے اور اس کی رحمت سنتیں ہیں اور بعض نے کہا کہ اللہ کا فضل ایمان اور اس کی رحمت جنت ہے۔ ” فبذلک فلیفرحوا “ یعنی مؤمن خوش ہوں کہ اللہ نے ان کو اس کا اہل بنادیا ۔” ھو خیر مما یجمعون “ یعنی کافر جو مال جمع کر رہے ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

58۔ اس آیت میں رسالت کا ثبوت دیا گیا ہے جس طرح اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا کی توحید کی دلیلیں بیان کی گئی تھیں اس لئے فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ قرآن نازل ہوا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں اور جو شخص اس اللہ کے کلام کی تلاوت کرتا ہے اور اس کے معنے میں غور کرتا ہے وہ سچے عقیدوں کی جھوٹے عقیدوں سے تمیز کرلیتا ہے اس کے دل میں جو کچھ شک و شبہ کی بیماری ہوتی ہے وہ دفع ہوجاتی ہے۔ معتبر سند سے تفسیر ابن مردویہ میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ﷺ سے شکایت کی کہ میرے دل میں طرح طرح کے وہم خیال آتے رہتے ہیں آپ نے فرمایا قرآن پڑھا کرو دل کی بیماریوں کے لئے قرآن شفا ہے۔ 1 ؎…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–58

آیت : (57-58) اللہ تبارک و تعالیٰ کتاب کرم کے اوصاف حسنہ ‘ جو بندوں کے لئے ضروری ہیں ‘ بیان کر کے اس کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (یایھا الناس قد جائتکم موعظۃ من ربکم) ” اے لوگو ! تمہارے پاس تمہار تب کی طرف سے نصیحت آگئی “ یعنی وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے اور وہ تمہیں ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے موجب اور اس کے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں۔ وہ ان اعمال کے اثرات اور مفاسد بیان کرکے تمہیں ان سے بچاتا ہے۔ (و شفاء لما فی صدور) ” اور شفا دلوں کے روگ کی “ اور وہ یہی قرآن ہے جو امراض قلب ‘ مثلاً امراض شہوات ‘ جو شریعت کی اطاعت سے روکتے ہیں اور امراض شبہات ‘ جو علم یقینی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

100 ۔ نعمت ہدایت متاع دنیا سے کہیں بڑھ کر نعمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اللہ کے اس فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہونا چاہئے ان لوگوں کو کہ یہ کہیں بہتر ہے اس سے جس کو یہ جمع کرنے اور جوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یعنی متاع دنیا کا حطام فانی و زائل کہ وہ بہرحال عارضی اور فانی و چند روزہ ہے۔ جبکہ حق و ہدایت کا یہ نور اور ایمان و یقین کی یہ دولت اس دنیائے فانی کے بعد آنے والے آخرت کے اس عالم جاودانی میں بھی کام آنے والی چیز ہے۔ تو اس کی عظمت کے کیا کہنے۔ فالحمد للہ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ (قل بفضل اللہ) الخ کی ترکیب و تقدیر میں کئی اقوال و احتمال ہیں جن میں سب سے بہتر اور دل لگتا قول و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 55–66

اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 54–60

آیات 54 تا 60 اسرار و معارف آج تو تم دنیا کی دولت پہ بہت خوش ہو بلکہ تمہیں ایمان اور اطاعت گراں گزرتے ہیں مگر جب یہ سب کچھ واقع ہوگا تو اگر ہر ایک ظالم کے پاس اتنی دولت بھی ہوجتنی سب روئے زمین پر ہے اور وہ یہ سب دے کر جان چھڑاناچا ہے تو ایسانہ ہوسکے گا بلکہ عذاب کی ذلت کے باعث مارے شرم کے منہ چھپا تے پھر تے ہوں گے نیزوہ بارگاہ تو ایسی عالی ہے کہ ان ظالموں سے بھی کوئی زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ عین انصاف کے ساتھ معاملہ ہوگا اور انھیں دہی سزاملے گی جس کے یہ مستحق ہوں گے۔ اور یہ خوب اچھی طرح سے جان لو کہ زمینوں اور آسمانوں میں سب کچھ حقیقتا اللہ کریم کا ہے انسان کو عارضی طور پر اگر کچھ عطا ہوتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ۔ دنیا کا مال و اسباب فانی اور آنے جانے والی چیز ہے پھر اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے مقابلہ میں اس کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے کہ اس پر خوش ہوا جائے۔ اوپر فرمایا تھا کہ تمام دنیا کا مال و متاع بدلہ میں دینے پر نجات نہیں مل سکے گی لہٰذا اللہ کے فضل و رحمت کا ذخیرہ جمع کرو جو آخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکے۔ (سید احمد حسن) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:58) قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا۔ ای قل بفضل اللہ وبرحمتہ ان جاءت ھذہ الموعظۃ من ربکم فبذلک فلیفرحوا۔ یعنی (اے محمد ﷺ ) آپ فرما دیجئے کہ یہ قرآن محض اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے پس چاہیے اس پر خوشیاں منائیں۔ ذلک کا مشار الیہ الموعظۃ بھی ہوسکتا ہے (الخازن) یا اس کا اشارہ فضل اور رحمت کی طرف ہے۔ امام قرطبی کے قول کے مطابق اہل عرب ذلک (واحد) کو واحد، تثنیہ اور جمع سب کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ (العرب تاتی بذلک الواحد والاثنین والجمع) بحوالہ ضیاء القرآن ۔ دوسری صورت میں فبذلک فلیفرحوا کا ترجمہ ہوگا :۔ پس چاہیے کہ اس فضل و رحمت ربانی پر خوشیاں منائیں۔ ھو۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–58

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 58 موعظۃ (نصیحت) شفآء (شفا، بہتری) الصدور (صدر) سینے ، دل) فلیفرحوا (پس انہیں خوش ہونا چاہئے) خیر (زیادہ بہتر) یجمعون (وہ جمع کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 57 تا 58 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر کے تمام انسانوں کو خطاب رکتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے پروردگار نے تمہیں ایک ایسی کتاب ہدایت عطا فرما دی ہے جو قیامت تک تمام انسانوں کی رہبری اور رہنمائی کرتی رہے گی۔ اب اس کتاب کے بعد کسی اور کتاب ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے اس کتاب ہدایت پر عمل کر کے ساری دنیا میں وہ انقلاب برپا کردیا جس سے بیمار دلوں کو شفا مل گئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

رسالت کا ذکر اور قرآن شریف پڑھنے کے فوائد اس آیت میں رسالت کا ثبوت دیا گیا ہے جس طرح اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا کی توحید کی دلیلیں بیان کی گئی تھیں اس لئے فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ قرآن نازل ہوا وہ اللہ کے رسول ہیں اور جو شخص اس اللہ کے کلام کی تلاوت کرتا ہے اور اس کے معنی میں غور کرتا ہے وہ سچے عقیدوں سے تمیز کرلیتا ہے اس کے دل میں جو شک وشبہ کی بیماری ہوتی ہے وہ دفع ہوجاتی ہے دلوں کی شفا قرآن کریم حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے شکایت کی کہ میرے دل میں طرح طرح کے وہم و خیال آتے رہتے ہیں آپ نے فرمایا قرآن پڑھا کرو دل کی بیماریوں کے لئے قرآن پڑھنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 57–58

قرآن بہترین راہ نما ہے ! : (ف 1) ایک گمراہ شخص جب ہدایت قبول کرتا ہے ، اور گمان ویقین کی نعتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے تو ضرور ہے کہ چار منزلوں سے ہو کر گزرے ۔ اولا : گناہوں سے آگاہ ہو ۔ ثانیا : شکوک و شبہات سے نجات حاصل کرے ۔ ثالثا : صراط مستقیم کو دیکھ لے ، رابعا : شاہد مقصود سے ہم کنار ہوجائے ، قرآن حکیم کے متعلق اس آیت میں بالکل اسی ترتیب سے فوز و فلاح کا ذکر ہے ۔ یہ موعظت ہے اس کی برکت سے دلوں میں گناہوں کی برائیوں کا احساس پیدا ہوجاتا ہے ۔ یہ شفاء ہے جس کی وجہ سے دل کی تمام بیماریاں دور ہوجاتی ہیں ، شکوک و شبہات کے بادل چھٹ جاتے ہیں ، ھدی : یعنی صراط مستقیم کی جانب راہ نمائی رحمت ہے ، جسے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

58 اے پیغمبر ﷺ ! آپ فرما دیجئے کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس فضل اور اس کی اس مہربانی پر خوش ہوناچاہئے یہ قرآن کریم دنیا کی ان چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے جس کو یہ جمع کیا کرتے ہیں یعنی دنیا بھی فانی اور اس کا نفع بھی فانی اور قرآن کریم کی برکات اور اس کے منافع ہمیشہ باقی پھر ایسے انعام پر خوشی کا اظہار کرنا ہی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 57–58

ف 6۔ کیونکہ دنیا کا نفع قلیل اور فانی اور قرآن کا نفع کثیر اور باقی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے حصول میں ساری خوشیاں پنہاں ہیں 84 ؎ دنیا کا نفع ہر حال میں قلیل ہے خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو اور پھر یہ کہ وہ فانی بھی ہے اور آخرت کا نفع دنیا کے مقابلہ میں کثیر بھی ہے اور پھر باقی رہنے والا بھی۔ ابو سعید خدری ؓ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مراد ” قرآن “ اور اس کی رحمت سے مراد ” دین اسلام “ ہے اور ایک روایت میں ہے کہ فضل سے مراد ” قرآن کریم “ اور رحمت سے مراد ہم کو ” صاحب قرآن “ بنانا ہے۔ (قرطبی) مختصر یہ کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی وہ چیزیں ہیں کہ جس کو حاصل ہوجائیں اس کا حق ہے کہ وہ جتنی چاہے خوشیاں … لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

4. MERCY as in وَرَ‌حْمَةٌ (and mercy for the believers). In the second verse (58), it was said: قُلْ بِفَضْلِ اللَّـهِ وَبِرَ‌حْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَ‌حُوا هُوَ خَيْرٌ‌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ﴿58﴾ (Say, "With the grace of Allah and with His mercy" - in these they should rejoice. It is far better than what they accumulate). The sense of the verse is that people should take only the grace and mercy of Allah Ta` ala as the real thing to be delighted about and be pleased with it. As for the short-lived worldly wealth, possession, comfort and recognition, these are things not worth being…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–59

59. Throughout their lives the unbelievers denied that they would be resurrected and called to account by God. Considering the Next Life a mere illusion, they wasted their lives on vain pursuits and levelled all kinds of allegations against the Prophets who had forewarned them that the Next Life would inevitably come to pass. All this notwithstanding, a moment will come when they will find themselves face to face with the Next Life. When such a moment comes they will be totally unnerved. In view of their evil deeds, their conscience will intimate to them the end they are going to meet.…

Read the full tafseer →