Yunus 10:56

Yunus · from ayah 56

10:56

هُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَاِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ۟هُوَ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ

وہی جان بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He gives life and causes death, and to Him you will be returned

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 6 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:56

وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی جان بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی جان ڈالتا ہے وہی جان نکالتا ہے اور تم سب اسی کے پاس ﻻئے جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور اسی کے پاس تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جِلاتا اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھرو گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی جِلاتا اور مارتا ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اس کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہی زندگی بخشتا ہے، اور اسی کی (صفت و) شان ہے موت دینا، اور اسی کی طرف لوٹایا جائے گا تم سب کو،

— مولانا اسحاق مدنی

وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی زندگی بخشتا اور وہی موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who gives life and causes death, and to Him shall you all be returned.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He gives life and brings death, and to Him you shall be returned.

— Muhammad Taqi Usmani

He gives life and brings death, and to Him you shall be returned.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is He Who gives life, and causes death, and to Him you (all) shall return.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He quickeneth and giveth death, and unto Him ye will be returned.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He gives life and causes death, and to Him you will be returned

— Saheeh International

It is God who gives life and causes things to die. To Him you will all return.

— Muhammad Sarwar

He gives life and causes death, and to Him you shall be brought back.

— Muhammad Habib Shakir

He giveth life and causeth to die, and unto Him ye shall be returned.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who giveth life and who taketh it, and to Him shall ye all be brought back.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 54–56

خالق کل عالم کل ہے مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 54–58

سورة یُوْنُس 59 جس چیز کو عمر بھر جھٹلاتے رہے، جسے جھوٹ سمجھ کر ساری زندگی غلط کاموں میں کھپا گئے اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کو طرح طرح کے الزام دیتے رہے، وہی چیز جب ان کی توقعات کے بالکل خلاف اچانک سامنے آکھڑی ہوگی تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائے گی، ان کا ضمیر انہیں خود بتادے گا کہ جب حقیقت یہ تھی تو جو کچھ وہ دنیا میں کر کے آئے ہیں اس کا انجام اب کیا ہونا ہے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔ زبانیں بند ہوں گی اور ندامت و حسرت سے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے ہوں گے۔ جس شخص نے قیاس و گمان کو سودے پر اپنی ساری پونجی لگا دی ہو اور کسی خیر خواہ کی بات مان کر نہ دی ہو، وہ دیوالہ نکلنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

(آیت) اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۭ اٰۗلْــٰٔنَیعنی کیا تم ایمان اس وقت لاؤ گے جب تم پر عذاب واقع ہوجائے گا خواہ موت کے وقت یا اس سے پہلے ہی، مگر اس وقت تمہارے ایمان کے جواب میں یہ کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ کیا اب ایمان لائے ہو، جب کہ ایمان کا وقت گزر چکا، جیسے غرق ہونے کے وقت فرعون نے جب کہا (آیت) اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، جواب میں کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ ، اور اس کا یہ ایمان قبول نہیں کیا گیا، کیونکہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہی رہتا ہے جب تک کہ وہ غرغرہ موت میں گرفتار نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 55–56

55۔ 56۔ اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَلَآ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ ھُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔ یہ توحید کے مضمون سے اوپر کے مضمون کو مزید مؤکد کیا ہے اور " الا " کے لفظ سے پوری طرح متنبہ بھی فرما دیا ہے کہ کان کھول کر اچھی طرح سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ سب خدا ہی کا ہے، کسی کی بھی اس میں شرکت اور حصہ داری نہیں ہے۔ اس کا ہر وعدہ اور اس کی ہر وعید ایک امر واقعی اور شدنی ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اس کا معاملہ اس کے مزعومہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

56۔ 3 ان آیات میں آسمان اور زمین کے درمیان ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت نامہ، وعدہ الٰہی کے برحق، زندگی اور موت پر اس کا اختیار ہے، جو ذات اتنے اختیار کی مالک ہے، اس کی گرفت سے بچ کر کوئی کہاں جاسکتا ہے۔ اور اس نے حساب کتاب کے لئے ایک دن مقرر کیا ہوا ہے۔ اسے کون ٹال سکتا ہے ؟ یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہ ایک دن ضرور آئے گا اور ہر نیک و بد کو اس کے عملوں کے مطابق جزا اور سزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–58

25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھو یحی ویمیت وہی (دنیا میں) جلاتا اور موت دیتا ہے۔ پس آخرت میں وہ زندہ کرسکتا ہے اور مار سکتا ہے۔ نہ اس کی قدرت میں زوال ہو سکتا ہے ‘ نہ موت وحیات کو قبول کرنے والا بدل سکتا ہے۔ والیہ ترجعون اور (مرنے کے بعد قبروں سے اٹھ کر) تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 56 ہُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ اگلی دو آیات عظمت قرآن کے ضمن میں ایک بیش بہا خزانہ اور افادیت کے اعتبار سے نہایت جامع آیات ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 54–56

69 فدیہ میں سارے جہان کی مال ودولت :۔ یعنی آخرت میں صرف وہ اعمال صالحہ کام آئیں گے جو کسی نے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہوئے اپنے لیے آگے بھیجے ہوں گے۔ اعمال کے سوا وہاں نہ مال و دولت کام آئے گا نہ قرابت اور نہ سفارش۔ آیت مذکورہ میں مال و دولت کا ذکر بفرض تسلیم ہے یعنی اگر کسی مجرم کے پاس آخرت کو دنیا بھر کے خزانے اور مال و دولت موجود ہوں تو وہ یہ سب کچھ دے دلا کر عذاب سے اپنی جان چھڑا لے مگر یہ بات وہاں ناممکن ہوگی چناچہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کم سے کم عذاب والے دوزخی سے فرمائیں گے اگر تیرے پاس دنیا ومافیہا کی دولت موجود ہو تو کیا اسے اپنے فدیہ میں دے دو گے ؟ وہ کہے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

87۔ (نہ کہ مسیح ابن اللہ کی طرف، اگنی دیوتا کی طرف یا کسی اور کی بھی طرف) کثرت سے جاہلی مذہبوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ موت کے بعد انسان کو مرجع کوئی اور ذات ہے، خالق کردگار کے علاوہ، یہاں اسی کی تردید ہورہی ہے۔ (آیت) ” ھو یحی ویمیت “۔ مشرکوں کی طرح یہاں یہ نہیں کہ خدا کی خدائی تین حصوں میں تقسیم ہو۔ ایک خدا پیدا کرنے والا ہو۔ ایک خدا قائم، سلامت رکھنے والا، اور ایک خدا موت وہلاکت لانے والا۔ یہاں پیدا کرنا، باقی رکھنا، فنا طاری کرنا سب ایک ہی خدائے واحد کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 54–60

آیت نمبر 54 تا 60 ترجمہ : اگر ہم اس شخص کے پاس کہ جس نے کفر کرکے ظلم کیا روئے زمین کی پوری دولت ہو تو وہ قیامت کے دن عذاب سے رہائی حاصل کرنے کیلئے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ترک ایمان پر ندامت کو چھپائیں گے، یعنی ان کے پیشوا عار دلانے کے خوف سے ندامت کو ان کمزور لوگوں سے چھپائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہوگا مگر ان کے یعنی مخلوق کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائیگا، سنو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے، سن رکھو کہ بعث اور جزاء کا اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں وہی زندگی عطاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھو یحی ویمیت وہی (دنیا میں) جلاتا اور موت دیتا ہے۔ پس آخرت میں وہ زندہ کرسکتا ہے اور مار سکتا ہے۔ نہ اس کی قدرت میں زوال ہوسکتا ہے ‘ نہ موت وحیات کو قبول کرنے والا بدل سکتا ہے۔ والیہ ترجعون اور (مرنے کے بعد قبروں سے اٹھ کر) تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(56) وہی اللہ دوبارہ زندہ کرنیکے لیے جان ڈالتا ہے اور وہی دنیا میں انسانوں کی جان نکالتا ہے اور مرنے کے بعد تم سب اسی کے پاس لائے جاؤگے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ھُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ۔۔ : یعنی زمین و آسمان کی ملکیت ہی نہیں، زندگی بخشنا اور موت دینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر اسی کے پاس جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–56

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ھُوَ [ وہ ] يُـحْيٖ [ زندگی دیتا ہے ] وَيُمِيْتُ [ اور موت دیتا ہے ] وَاِلَيْهِ [ اور اس کی طرف [تُرْجَعُوْنَ [ تم لوگ لوٹائے جاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(ھُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (وہ زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے) اس میں منکرین بعث کے استبعاد کی تردید ہے جو یوں کہتے تھے کہ موت کے بعد کیسے زندہ ہوں گے ؟ اللہ تعالیٰ زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے اور یہ تمہاری نظروں کے سامنے ہے ‘ اسی سے سمجھ لو کہ وہ موت کے بعد بھی زندہ فرما دے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–56

تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–56

73: یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے اور یہ نفی شرک فعلی کے لیے تمہید ہے جو اگلی دلیل میں مذکور ہے زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ہے، ہر چیز اس کے تصرف و ملک اور اس کی قدرت کے تحت ہے۔ “ ھُوَ یُحْیی وَ یُمِیْتُ الخ ” وہ ایسا قادر و متصرف ہے کہ موت وحیات بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب وہی مالک و مختار اور متصرف ہے تو پھر اس کی پیدا کی ہوئی اور اس کی مملوکہ اشیاء میں سے غیروں کے حصے کیوں مقرر کرتے ہو ؟ اور غیروں کے لیے تحریمات کیوں کرتے ہو ؟ لہذا تمہاری خود ساختہ تحلیل و تحریم بےجا ہے۔ “ اَلَا اِنَّ وَعْدَ اللّٰه حَقٌّ الخ ” جب وہی مالک و مختار ہے تو وہ اپنا وعدہ پورا کرنے پر بھی قادر ہے اس لیے جو وعدہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–56

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کی تردید فرمائی پھر رسالت کے منکرین اور قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا ، عذاب کو جلدی طلب کرنے والے کفار ومشرکین کے متعلق فرمایا کہ جب سزا آجائیگی تو اس وقت ان کا ایمان لانا قابل قبول نہ ہوگا اور وہ سزا سے بچ نہیں سکیں گے بعض مشرکین پوچھتے تھے کہ کیا قیامت واقعی برحق ہے اور سزا وجزا کا مرحلہ آنے والا ہے ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ تاکید کے ساتھ کہہ دیں ہاں قیامت برپا ہونے والی ہے اور تم اللہ کی کسی تدبیر کو عاجز نہیں کرسکتے۔ سورة سبا میں آتا ہے کہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” قل بلی وربی لتاتینکم “…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھُوَيُـحْيٖ وَيُمِيْتُ وَاِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ۝ 56 حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–60

ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔ تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 55–56

اَلَآ اِنَّ اللّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَ لَآ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّلٰکِنَّ اکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ ھُوَیُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (یونس : 55، 56) (سن لو بیشک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سنو ! یقیناً اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ) اس آیت کریمہ میں جس کلمہ جامعہ اور حقیقت ثابتہ کا اعلان فرمایا گیا ہے وہی دراصل اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اسی حقیقت سے منسلک ہوجانے میں انسان کی عافیت بھی ہے اور عظمت بھی۔ اور اسی سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–56

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ لوگوسنو ! دنیا میں بھی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے اس کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور قیامت کے دن بھی وہی مالک و مختار ہوگا۔ کان کھول کر سن لو ! قیامت کا برپا ہونا یقینی اور حق ہے۔ یہ اللہ کا سچا اور پکا وعدہ ہے جو ٹل نہیں سکتا۔ لیکن اکثر لوگ اس کا ادراک نہیں کرتے وہی موت وحیات کا مالک ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ قرآن مجید کے مرکزی مضامین تین ہیں۔ 1۔ ایمان باللہ۔ 2۔ ایمان با لرسا لۃ۔ 3۔ ایمان بالآخرۃ۔ ایمان کے تینوں عناصر اس طرح لازم ملزوم اور باہم مربوط ہیں کہ ان میں کسی ایک کا انکار کرنا گویا کہ تینوں کا انکار کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

56: ھُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ (وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے) زندگی بخشنے اور موت دینے پر اسے قدرت ہے اس کے علاوہ کسی کو بھی اس پر قدرت نہیں۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے) اسی کے حساب و جزاء کی طرف لوٹنا ہے پس اس کا خوف اور امید دونوں باندھنی چاہئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 54–56

(54) ” ولو ان لکل نفس ظلمت “ یعنی شرک کیا ۔ ” ما فی الارض لا فتدت بہ “ قیامت کے دن اور افتداء یہاں یہ ہے کہ اس چیز کو خرچ کریں جو عذاب سے نجات دے۔” واسروا الندامۃ “ ابو عبید (رح) فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ ندامت کو ظاہر کریں گے اس لیے کہ اس دن کوئی بناوٹ نہ ہو سکے گی اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ سردار کمزور لوگوں سے شرمندگی کو چھپائیں گے ، ان کی ملامت اور عار کے خوف سے ۔ ’ لمار او العذاب واقضی بینھم بالقسط وھم لا یظلمون “ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 55–56

55۔ 56۔ اوپر کی آیت میں تاوان کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا یاد رکھو کہ آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں مغرب سے مشرق تک جنوب سے شمال تک دریا پہاڑ خزانے کان کل چھوٹی بڑی چیزیں ہیں اس دن وہ سب اللہ کے قبضہ میں ہوں گی اس دن تمہارا عارضی قبضہ باقی نہ رہے گا جو تم تاوان دے کر اپنا پیچھا چھڑاؤ گے اور عذاب سے بچو گے خوب یاد رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے ابھی تو تمہاری سمجھ میں نہیں آتا لیکن جب وعدہ کا وقت مقررہ آوے گا تو سمجھ لو گے کیوں کہ خدا کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ تم کو مردے سے زندہ کر دے پیدا بھی وہی کرتا ہے مردہ بھی وہی کرتا ہے مردے سے دوبارہ زندہ وہی کر دے گا۔ صحیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 53–56

آیت : ( 54-56) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے : (ویستنبولک) ” اور آپ سے دریافت کرتے ہیں۔ “ یہ مکذبین تحقیق و تبسین اور طلب ہدایت کے لئے نہیں ‘ بلکہ عناد و نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں (احق ھو) ” کیا آیا یہ سچ ہے ؟ “ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انہیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا۔ پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ (قل) ” کہہ دیجئے ! “ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجئے ! (ای وربی انہ لحق) ” قسم ہے میرے رب کی ‘ یہ یقیناً حق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 ۔ سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اسی کے حضور لوٹایا جائے گا تم سب کو اے لوگو ! تاکہ اس کے یہاں پہنچ کر تم اپنی زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پاسکو۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوسکیں۔ سو تم چاہو یا نہ چاہو، مانو یا نہ مانو، ایسے بہرحال ہو کر رہے گا۔ (تُرْجَعُوْنَ ) کے اس لفظ سے کئی اہم حقیقتیں واضح ہوجاتی ہیں۔ مثلا یہ کہ تم لوگ آئے اسی کے یہاں سے۔ اس لئے تم نے لوٹ کر جانا بھی اسی کے حضور ہے۔ کیونکہ رجوع کے معنی لوٹنے کے آتے ہیں۔ اور لوٹنا وہیں ہونا ہے۔ جہاں سے کوئی آیا ہو۔ دوسری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 55–66

اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 54–60

آیات 54 تا 60 اسرار و معارف آج تو تم دنیا کی دولت پہ بہت خوش ہو بلکہ تمہیں ایمان اور اطاعت گراں گزرتے ہیں مگر جب یہ سب کچھ واقع ہوگا تو اگر ہر ایک ظالم کے پاس اتنی دولت بھی ہوجتنی سب روئے زمین پر ہے اور وہ یہ سب دے کر جان چھڑاناچا ہے تو ایسانہ ہوسکے گا بلکہ عذاب کی ذلت کے باعث مارے شرم کے منہ چھپا تے پھر تے ہوں گے نیزوہ بارگاہ تو ایسی عالی ہے کہ ان ظالموں سے بھی کوئی زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ عین انصاف کے ساتھ معاملہ ہوگا اور انھیں دہی سزاملے گی جس کے یہ مستحق ہوں گے۔ اور یہ خوب اچھی طرح سے جان لو کہ زمینوں اور آسمانوں میں سب کچھ حقیقتا اللہ کریم کا ہے انسان کو عارضی طور پر اگر کچھ عطا ہوتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 55–56

ف 5 ۔ اور جہالت سے اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں اور شرک و کفر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 54–56

لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 56 نفس (جان، ذات) ، افتدت (بدلہ دیا یعنی بدلہ میں دے دے گا) اسروا (انہوں نے چھپایا، وہ چھپائیں گے) الندامۃ (شرمندگی ، ندامت) راو (انہوں نے دیکھا، وہ دیکھیں گے) یحییٰ (وہ زندہ کرتا ہے) یمیت (وہ موت دیتا ہے، مارتا ہے) تشریح آیت نمبر 54 تا 56 یہ ساری کائنات اور اس کا ذرہ ذرہ اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کا مالک ہے وہی نگہبان ہے اس نے اس دنیا کو ایک خاص وقت تک استعمال کرنے کی انسان کو اجازت دی ہے کہ وہ دنیا اور اس کے وسائل کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں استعمال کرے۔ لیکن اگر اس نے یہ سمجھ لیا کہ جو کچھ میرے پاس ہے میں اس کا مالک ہوں جس طرح چاہوں میں اس میں تصرف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 55–56

اوپر کی آیت میں تاوان کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا یاد رکھو کہ آسمان اور زمین میں اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ، مغرب سے مشرق تک جنوب سے شمال تک، دریا پہاڑ خزانے کان، کل چھوٹی بڑی چیزیں ہیں، اس دن وہ سب اللہ کے قبضہ میں ہوں گی۔ اس دن تمہارا عارضی قبضہ باقی نہ رہے گا جو تم تاوان دے کر اپنا پیچھا چھڑاؤ گے اور عذاب سے بچو گے۔ خوب یاد رکھو کہ خدا وعدہ سچا ہے ابھی تو تمہاری سمجھ میں نہیں آتا لیکن جب وعدہ مقررہ آوے گا تو سمجھ لو گے کیونکہ خدا کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ تم مردے سے زندہ ہے کہ تم کو مردے سے زندہ کر دے۔ پیدا بھی وہی کرتا ہے مردہ بھی وہی کرتا ہے، مردہ بھی وہی کرتا ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–56

(ف 1) بعض انبیاء کی بعثت کے بعد یہ یقین ہے کہ جو لوگ معاند ہوں انہیں تباہ کردیا جائے آفتاب ہدایت کے طلوع کے بعد کفر کی تاریکیوں کا چھٹ جانا ضروری ہے اور بدیہی ہے ۔ مکے والے بار بار پوچھتے تھے کہ کیا واقعی عذاب آجائے گا ، اور کیا واقعی ان کا انجام اچھا نہیں ، قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے ، کہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عذاب آئے گا اور ضرور آئے گا ۔ چنانچہ ان اصرار کرنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ، کہ میدان بدر میں کفر کی طاقت وقوت ہمیشہ کے لئے کم ہوگئی ہے ، عذاب طلب کرنے والے عذاب میں مبتلا ہوگئے اور اللہ کی غیرت نے ان کا خاتمہ کردیا ، قرآن کے الفاظ میں اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں اور حیرت و حسرت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

56 وہی زندگی بخشتا ہے وہی موت دیتا اور جان نکالتا ہے اور تم سب اسی کی طرف واپس کئے جائوگے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

83 ؎ موت و زندگی اس کے اختیار میں ہے اور اس کی طرف سب کو لوٹنا ہے 82 ؎ ہرچیز کی موت وحیات اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مرنے کے بعد سب کو آخر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے نہ کہ مسیح ابن مریم کی طرف جس کو اہل کتاب کے ایک گروہ نصاریٰ نے الوہیت کے مقام پر لے جا کر اٹھا دیا ہے اور نہ ہی کسی اگنی دیوتا کی طرف جیسا کہ ہندوستانیوں کا خیال ہے اور نہ ہی کسی پیرو مرشد کی طرف جیسا کہ اکثر مسلمانوں نے سمجھ رکھا ہے اور جاہل مذہبوں کی اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ موت کے بعد انسان کا مرجع کوئی اور ذات ہے اور اس جگہ اس کی تردید بھی کی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ موت و زندگی کا تعلق اس خالق حقیقی سے ہے نہ کوئی شخص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 51–56

It was said in verse أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنتُم بِهِ ۚ آلْآنَ. It means: ` Would you believe when Divine punishment actually descends down upon you - whether at the time of death, or even before it? But, at that time, the response to your believing will be: آلْآنَ ('al'an: now?) meaning: Is it now that you have come to believe while the time of believing has already passed? This is similar to what the Pharaoh said while drowning: آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَ‌ائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿90﴾ ("I believe that there is no god except the One in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–59

59. Throughout their lives the unbelievers denied that they would be resurrected and called to account by God. Considering the Next Life a mere illusion, they wasted their lives on vain pursuits and levelled all kinds of allegations against the Prophets who had forewarned them that the Next Life would inevitably come to pass. All this notwithstanding, a moment will come when they will find themselves face to face with the Next Life. When such a moment comes they will be totally unnerved. In view of their evil deeds, their conscience will intimate to them the end they are going to meet.…

Read the full tafseer →