Yunus 10:55

Yunus · from ayah 55

10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ

سن رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Unquestionably, to Allah belongs whatever is in the heavens and the earth. Unquestionably, the promise of Allah is truth, but most of them do not know

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 6 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:55

سنو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے سُن رکھو! اللہ کا وعدہ سچّا ہے مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سن رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یاد رکھو کہ جتنی چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اللہ ہی کی ملک ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا وعده سچا ہے لیکن بہت سے آدمی علم ہی نہیں رکھتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ یا درکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سن لو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جان لو! جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے۔ خبردار ہو جاؤ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سن لو ! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ سن لو ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سن لو ! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سن لو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

سن رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ سن رکھو کہ اللہ کا وعدہ شدنی ہے، لیکن ان کے اکثر اس بات کو نہیں جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آگاہ رہو (اے لوگو !) کہ قطعی طور پر اللہ ہی کے لئے ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے، یاد رکھو کہ اللہ کا وعدہ قطعی طور پر سچا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

یاد رکھو کہ جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی ملک ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آگاہ ہوجاؤ ! جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں وہ اللہ ہی کی ملکیت ہے آگاہ ہوجاؤ ! یقیناً اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سن رکھو ! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور یہ بھی سن رکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed all that is in the heavens and the earth belongs to Allah. And most certainly Allah's promise will be fulfilled, though most men are not aware.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Look! To Allah belongs all that is in the heavens and the earth. Look! Allah‘s promise is certainly true, but most of them do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

Look! To Allah belongs all that is in the heavens and the earth. Look! Allah‘s promise is certainly true, but most of them do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

No doubt, surely, all that is in the heavens and the earth belongs to Allah. No doubt, surely, Allah's promise is true. But most of them know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! verily all that is in the heavens and the earth is Allah's. Lo! verily Allah's promise is true. But most of them know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Unquestionably, to Allah belongs whatever is in the heavens and the earth. Unquestionably, the promise of Allah is truth, but most of them do not know

— Saheeh International

All that is in the heavens and the earth certainly belongs to God and His promise is true, but many people do not know this.

— Muhammad Sarwar

Now surely Allah's is what is in the heavens and the earth; now surely Allah's promise is true, but most of them do not know.

— Muhammad Habib Shakir

Lo! verily Allah's is whatsoever is In the heavens and the earth, Lo! verily Allah's promise is true; but most of them know not.

— Abdul Majid Daryabadi

Is it not (the case) that to Allah belongeth whatever is in the heavens and on earth? Is it not (the case) that Allah's promise is assuredly true? Yet most of them understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 54–56

خالق کل عالم کل ہے مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 54–58

سورة یُوْنُس 59 جس چیز کو عمر بھر جھٹلاتے رہے، جسے جھوٹ سمجھ کر ساری زندگی غلط کاموں میں کھپا گئے اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کو طرح طرح کے الزام دیتے رہے، وہی چیز جب ان کی توقعات کے بالکل خلاف اچانک سامنے آکھڑی ہوگی تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائے گی، ان کا ضمیر انہیں خود بتادے گا کہ جب حقیقت یہ تھی تو جو کچھ وہ دنیا میں کر کے آئے ہیں اس کا انجام اب کیا ہونا ہے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔ زبانیں بند ہوں گی اور ندامت و حسرت سے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے ہوں گے۔ جس شخص نے قیاس و گمان کو سودے پر اپنی ساری پونجی لگا دی ہو اور کسی خیر خواہ کی بات مان کر نہ دی ہو، وہ دیوالہ نکلنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

(آیت) اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۭ اٰۗلْــٰٔنَیعنی کیا تم ایمان اس وقت لاؤ گے جب تم پر عذاب واقع ہوجائے گا خواہ موت کے وقت یا اس سے پہلے ہی، مگر اس وقت تمہارے ایمان کے جواب میں یہ کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ کیا اب ایمان لائے ہو، جب کہ ایمان کا وقت گزر چکا، جیسے غرق ہونے کے وقت فرعون نے جب کہا (آیت) اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، جواب میں کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ ، اور اس کا یہ ایمان قبول نہیں کیا گیا، کیونکہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہی رہتا ہے جب تک کہ وہ غرغرہ موت میں گرفتار نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 55–56

55۔ 56۔ اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَلَآ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ ھُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔ یہ توحید کے مضمون سے اوپر کے مضمون کو مزید مؤکد کیا ہے اور " الا " کے لفظ سے پوری طرح متنبہ بھی فرما دیا ہے کہ کان کھول کر اچھی طرح سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ سب خدا ہی کا ہے، کسی کی بھی اس میں شرکت اور حصہ داری نہیں ہے۔ اس کا ہر وعدہ اور اس کی ہر وعید ایک امر واقعی اور شدنی ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اس کا معاملہ اس کے مزعومہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–55

54۔ 1 یعنی اگر دنیا بھر کا خزانہ دے کر وہ عذاب سے چھوٹ جائے تو دینے کے لئے آمادہ ہوگا۔ لیکن وہاں کسی کے پاس ہوگا ہی کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–58

25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الا ان اللہ ما فی السموت والارض خوب سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ‘ اللہ ہی کا ہے۔ اسلئے وہ ثواب و عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے (کائنات ارضی و سماوی میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں) ۔ الا ان وعد اللہ حق خوب سمجھ لو کہ (ثواب و عذاب کا) اللہ کی طرف سے کیا ہوا وعدہ برحق ہے۔ اس کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی ‘ عذاب وثواب ضرور ہوگا۔ ولکن اکثرھم لا یعلمون لیکن (دانش و فہم کی کوتاہی کی وجہ سے) اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے۔ صرف ظاہری دنیا کو جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی سارے جہان میں حکومت صرف اللہ کی ہے۔ انصاف ہو کر رہے گا۔ کوئی مجرم نہ کہیں بھاگ سکتا ہے، نہ رشوت دے کر چھوٹ سکتا ہے۔ 3 یعنی سوء استعداد، بدفہمی اور غفلت سے اکثر لوگ ان حقائق کو نہیں سمجھتے۔ اسی لیے جو زبان پر آئے بک دیتے ہیں اور جو جی میں آئے کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 53–55

آیت 53 وَیَسْتَنْبِءُوْنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ط ”اور اے نبی ! جیسے قرآن بار بار اپنے مخالفین سے متجسسانہ انداز میں سوال searching questions کرتا ہے ‘ اسی طرح مشرکین بھی حضور سے searching انداز میں سوال کرتے تھے۔ یہاں ان کا یہ سوال نقل کیا گیا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیا آپ کو خود بھی اس کا پورا پورا یقین ہے ؟ قُلْ اِیْ وَرَبِّیْٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّط وَمَآاَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ان الفاظ میں بہت زیادہ تاکید اور شدت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 54–56

69 فدیہ میں سارے جہان کی مال ودولت :۔ یعنی آخرت میں صرف وہ اعمال صالحہ کام آئیں گے جو کسی نے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہوئے اپنے لیے آگے بھیجے ہوں گے۔ اعمال کے سوا وہاں نہ مال و دولت کام آئے گا نہ قرابت اور نہ سفارش۔ آیت مذکورہ میں مال و دولت کا ذکر بفرض تسلیم ہے یعنی اگر کسی مجرم کے پاس آخرت کو دنیا بھر کے خزانے اور مال و دولت موجود ہوں تو وہ یہ سب کچھ دے دلا کر عذاب سے اپنی جان چھڑا لے مگر یہ بات وہاں ناممکن ہوگی چناچہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کم سے کم عذاب والے دوزخی سے فرمائیں گے اگر تیرے پاس دنیا ومافیہا کی دولت موجود ہو تو کیا اسے اپنے فدیہ میں دے دو گے ؟ وہ کہے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

85۔ (چنانچہ وہ اپنی جس مخلوق کے ساتھ جو تصرف اور جو سلوک چاہے کرے، اس کا ہر عمل عادلانہ ہی ہوگا، خواہ انسانی معیار سے غیر عادلانہ ہی نظر آئے) (آیت) ” الا۔ حرف تنبیہ ہے۔ فقرہ کے شروع میں لایا جاتا ہے اور اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ آگے کوئی بہت اہم حقیقت بیان کی جارہی ہے جسے خاص توجہ سے سننا چاہیے۔ کلمۃ تنبیہ للسامع ترادفی اول الکلام اے انتبھوا لما اقول لکم (قرطبی) 86۔ یعنی ایسے قطعی اور یقینی حقائق سے بھی غافل وبے خبر ہیں۔ (آیت) ” ان وعد اللہ حق “۔ سو قیامت اپنے وقت معین پر ضرور واقع ہو کر رہے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 54–60

آیت نمبر 54 تا 60 ترجمہ : اگر ہم اس شخص کے پاس کہ جس نے کفر کرکے ظلم کیا روئے زمین کی پوری دولت ہو تو وہ قیامت کے دن عذاب سے رہائی حاصل کرنے کیلئے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ترک ایمان پر ندامت کو چھپائیں گے، یعنی ان کے پیشوا عار دلانے کے خوف سے ندامت کو ان کمزور لوگوں سے چھپائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہوگا مگر ان کے یعنی مخلوق کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائیگا، سنو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے، سن رکھو کہ بعث اور جزاء کا اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں وہی زندگی عطاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا ان اللہ ما فی السموت والارض خوب سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ‘ اللہ ہی کا ہے۔ اسلئے وہ ثواب و عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے (کائنات ارضی و سماوی میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں) ۔ الا ان وعد اللہ حق خوب سمجھ لو کہ (ثواب و عذاب کا) اللہ کی طرف سے کیا ہوا وعدہ برحق ہے۔ اس کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی ‘ عذاب وثواب ضرور ہوگا۔ ولکن اکثرھم لا یعلمون لیکن (دانش و فہم کی کوتاہی کی وجہ سے) اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے۔ صرف ظاہری دنیا کو جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(55) یاد رکھو کہ تمام مخلوقات اور عجائبات خداوندی سب اللہ ہی کی ملک ہیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ یاد رکھو کہ مرنے کے بعد پھر دو بارہ زندہ ہونا ہے۔ سچا ہے اور یقینی ہونے والا ہے لیکن بہت سے آدمی تصدیق ہی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : ”اَلَا“ حرف تنبیہ ہے، یعنی آگاہ ہوجاؤ ! خبردار ہوجاؤ ! سن لو ! پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ ہر شخص جس نے ظلم کیا ہے، اگر آسمان و زمین میں موجود سب کچھ اس کی ملکیت ہو تو اس دن جان چھڑانے کے لیے ضرور ہی بطور فدیہ دے دے گا۔ ”لَوْ“ (اگر) ناممکن چیز کے لیے ہوتا ہے، اس لیے یہاں فرمایا کہ کان کھول کر سن لو کہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، وہ ظالم فدیہ لائے گا کہاں سے۔ دوبارہ ”اَلا“ (سن لو) کہہ کر فرمایا کہ یقیناً قیامت قائم ہونے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ بالکل برحق ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ”اَکْثَرُھُم“ کے ساتھ اہل ایمان کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 55۔ الا سامع کے لیے یہ حرف تنبیہ ہے یہ کلام کے اول میں زائد کیا جاتا ہے یعنی تم ان کے بارے آگاہ ہوجاؤ جو میں تمہیں کہہ رہا ہوں۔ (آیت) ” ان للہ ما فی السموت والارض، الا ان وعد اللہ حق “۔ (بےشک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سن لو ! یقینا اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے) (آیت) ” لہ ملک السموت والارض “۔ (البقرہ : 107) (آسمانوں اور زمین میں اسی کی بادشاہی ہے) اور کوئی مانع جو اسے اپنے وعدہ کو نافذ کرنے سے روک سکے (1) (اعراب القرآن للخاص، جلد 2، صفحہ 259) (آیت) ” ولکن اکثرھم لا یعلمون “۔ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–56

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَآ [ سن لو ] اِنَّ [ یقینا ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کا ہے ] مَا [ وہ (سب کچھ ) جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَالْاَرْضِ ۭ [ اور زمین میں ہے ] اَلَآ [ خبردار رہو ] اِنَّ [ یقینا ] وَعْدَ اللّٰهِ [ اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [ حق ہے ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَھُمْ [ ان کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ جانتی نہیں ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اَلَا اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (خبردار اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے) سب کچھ اس کی ملکیت ہے ‘ یہ مجرمین بھی اس کی مخلوق اور مملوک ہیں۔ اسے ہر طرح تصرف کرنے کا حق ہے۔ مجرمین کو عذاب دینا اس کے لئے آسان ہے۔ اس کی قدرت اور تصرف سے کوئی باہر نہیں۔ (اَلَا اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ) (خبردار اللہ کا وعدہ سچا ہے) قیامت ضرور آنی ہے۔ انکار کرنے سے اور شک کرنے سے وہ رک نہ جائے گی۔ (وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے جو قیامت کے آنے میں شک کرتے ہیں

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–56

تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–56

73: یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے اور یہ نفی شرک فعلی کے لیے تمہید ہے جو اگلی دلیل میں مذکور ہے زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ہے، ہر چیز اس کے تصرف و ملک اور اس کی قدرت کے تحت ہے۔ “ ھُوَ یُحْیی وَ یُمِیْتُ الخ ” وہ ایسا قادر و متصرف ہے کہ موت وحیات بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب وہی مالک و مختار اور متصرف ہے تو پھر اس کی پیدا کی ہوئی اور اس کی مملوکہ اشیاء میں سے غیروں کے حصے کیوں مقرر کرتے ہو ؟ اور غیروں کے لیے تحریمات کیوں کرتے ہو ؟ لہذا تمہاری خود ساختہ تحلیل و تحریم بےجا ہے۔ “ اَلَا اِنَّ وَعْدَ اللّٰه حَقٌّ الخ ” جب وہی مالک و مختار ہے تو وہ اپنا وعدہ پورا کرنے پر بھی قادر ہے اس لیے جو وعدہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–56

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کی تردید فرمائی پھر رسالت کے منکرین اور قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا ، عذاب کو جلدی طلب کرنے والے کفار ومشرکین کے متعلق فرمایا کہ جب سزا آجائیگی تو اس وقت ان کا ایمان لانا قابل قبول نہ ہوگا اور وہ سزا سے بچ نہیں سکیں گے بعض مشرکین پوچھتے تھے کہ کیا قیامت واقعی برحق ہے اور سزا وجزا کا مرحلہ آنے والا ہے ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ تاکید کے ساتھ کہہ دیں ہاں قیامت برپا ہونے والی ہے اور تم اللہ کی کسی تدبیر کو عاجز نہیں کرسکتے۔ سورة سبا میں آتا ہے کہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” قل بلی وربی لتاتینکم “…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَآ اِنَّ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ اَلَآ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 55 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–60

ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔ تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 55–56

اَلَآ اِنَّ اللّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَ لَآ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّلٰکِنَّ اکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ ھُوَیُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (یونس : 55، 56) (سن لو بیشک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سنو ! یقیناً اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ) اس آیت کریمہ میں جس کلمہ جامعہ اور حقیقت ثابتہ کا اعلان فرمایا گیا ہے وہی دراصل اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اسی حقیقت سے منسلک ہوجانے میں انسان کی عافیت بھی ہے اور عظمت بھی۔ اور اسی سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–56

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ لوگوسنو ! دنیا میں بھی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے اس کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور قیامت کے دن بھی وہی مالک و مختار ہوگا۔ کان کھول کر سن لو ! قیامت کا برپا ہونا یقینی اور حق ہے۔ یہ اللہ کا سچا اور پکا وعدہ ہے جو ٹل نہیں سکتا۔ لیکن اکثر لوگ اس کا ادراک نہیں کرتے وہی موت وحیات کا مالک ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ قرآن مجید کے مرکزی مضامین تین ہیں۔ 1۔ ایمان باللہ۔ 2۔ ایمان با لرسا لۃ۔ 3۔ ایمان بالآخرۃ۔ ایمان کے تینوں عناصر اس طرح لازم ملزوم اور باہم مربوط ہیں کہ ان میں کسی ایک کا انکار کرنا گویا کہ تینوں کا انکار کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

55: پھر اس خبردار کرنے کے بعداگلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت تامہ کا ذکر کیا۔ اَلَااِنَّ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (خبردار بیشک اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں اور زمین میں ہے) پس وہ کیوں کر فدیہ قبول کریگا جبکہ وہ سزا دینے میں برحق ہے اور اس نے جو عذاب وثواب کا وعدہ فرمایا وہ برحق ہے اس فرمان کی وجہ سے اَلَآ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ (خبردار بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ) ثواب و عذاب کا حَقٌّ (برحق ہے) ثابت ہونے والا ہے۔ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ (لیکن انکی اکثریت نہیں جانتی )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 54–56

(54) ” ولو ان لکل نفس ظلمت “ یعنی شرک کیا ۔ ” ما فی الارض لا فتدت بہ “ قیامت کے دن اور افتداء یہاں یہ ہے کہ اس چیز کو خرچ کریں جو عذاب سے نجات دے۔” واسروا الندامۃ “ ابو عبید (رح) فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ ندامت کو ظاہر کریں گے اس لیے کہ اس دن کوئی بناوٹ نہ ہو سکے گی اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ سردار کمزور لوگوں سے شرمندگی کو چھپائیں گے ، ان کی ملامت اور عار کے خوف سے ۔ ’ لمار او العذاب واقضی بینھم بالقسط وھم لا یظلمون “ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 55–56

55۔ 56۔ اوپر کی آیت میں تاوان کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا یاد رکھو کہ آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں مغرب سے مشرق تک جنوب سے شمال تک دریا پہاڑ خزانے کان کل چھوٹی بڑی چیزیں ہیں اس دن وہ سب اللہ کے قبضہ میں ہوں گی اس دن تمہارا عارضی قبضہ باقی نہ رہے گا جو تم تاوان دے کر اپنا پیچھا چھڑاؤ گے اور عذاب سے بچو گے خوب یاد رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے ابھی تو تمہاری سمجھ میں نہیں آتا لیکن جب وعدہ کا وقت مقررہ آوے گا تو سمجھ لو گے کیوں کہ خدا کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ تم کو مردے سے زندہ کر دے پیدا بھی وہی کرتا ہے مردہ بھی وہی کرتا ہے مردے سے دوبارہ زندہ وہی کر دے گا۔ صحیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 53–56

آیت : ( 54-56) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے : (ویستنبولک) ” اور آپ سے دریافت کرتے ہیں۔ “ یہ مکذبین تحقیق و تبسین اور طلب ہدایت کے لئے نہیں ‘ بلکہ عناد و نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں (احق ھو) ” کیا آیا یہ سچ ہے ؟ “ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انہیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا۔ پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ (قل) ” کہہ دیجئے ! “ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجئے ! (ای وربی انہ لحق) ” قسم ہے میرے رب کی ‘ یہ یقیناً حق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

94 ۔ کائنات میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لیے ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ خلق و پیدائش کے اعتبار سے بھی اور ملکیت و مالکیت کے اعتبار سے بھی اور تصرف و حکومت کے لحاظ سے بھی کہ اس سارے کون و مکان اور کارخانہ ہست و بود کا خالق ومالک بھی تنہا وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے۔ پس نہ اس کی خلق و ایجاد میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ اس کے حکم و تصرف میں۔ اس لئے وہ جو چاہے کرے۔ کسی کو جو سزا و جزاء چاہے دے نہ اس کے لیے کوئی بات مشکل ہے اور نہ کوئی رکاوٹ (وَاَنَّهٗ عَلٰي…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 55–66

اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 54–60

آیات 54 تا 60 اسرار و معارف آج تو تم دنیا کی دولت پہ بہت خوش ہو بلکہ تمہیں ایمان اور اطاعت گراں گزرتے ہیں مگر جب یہ سب کچھ واقع ہوگا تو اگر ہر ایک ظالم کے پاس اتنی دولت بھی ہوجتنی سب روئے زمین پر ہے اور وہ یہ سب دے کر جان چھڑاناچا ہے تو ایسانہ ہوسکے گا بلکہ عذاب کی ذلت کے باعث مارے شرم کے منہ چھپا تے پھر تے ہوں گے نیزوہ بارگاہ تو ایسی عالی ہے کہ ان ظالموں سے بھی کوئی زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ عین انصاف کے ساتھ معاملہ ہوگا اور انھیں دہی سزاملے گی جس کے یہ مستحق ہوں گے۔ اور یہ خوب اچھی طرح سے جان لو کہ زمینوں اور آسمانوں میں سب کچھ حقیقتا اللہ کریم کا ہے انسان کو عارضی طور پر اگر کچھ عطا ہوتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 55–56

ف 5 ۔ اور جہالت سے اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں اور شرک و کفر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 54–56

لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 56 نفس (جان، ذات) ، افتدت (بدلہ دیا یعنی بدلہ میں دے دے گا) اسروا (انہوں نے چھپایا، وہ چھپائیں گے) الندامۃ (شرمندگی ، ندامت) راو (انہوں نے دیکھا، وہ دیکھیں گے) یحییٰ (وہ زندہ کرتا ہے) یمیت (وہ موت دیتا ہے، مارتا ہے) تشریح آیت نمبر 54 تا 56 یہ ساری کائنات اور اس کا ذرہ ذرہ اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کا مالک ہے وہی نگہبان ہے اس نے اس دنیا کو ایک خاص وقت تک استعمال کرنے کی انسان کو اجازت دی ہے کہ وہ دنیا اور اس کے وسائل کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں استعمال کرے۔ لیکن اگر اس نے یہ سمجھ لیا کہ جو کچھ میرے پاس ہے میں اس کا مالک ہوں جس طرح چاہوں میں اس میں تصرف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 55–56

اوپر کی آیت میں تاوان کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا یاد رکھو کہ آسمان اور زمین میں اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ، مغرب سے مشرق تک جنوب سے شمال تک، دریا پہاڑ خزانے کان، کل چھوٹی بڑی چیزیں ہیں، اس دن وہ سب اللہ کے قبضہ میں ہوں گی۔ اس دن تمہارا عارضی قبضہ باقی نہ رہے گا جو تم تاوان دے کر اپنا پیچھا چھڑاؤ گے اور عذاب سے بچو گے۔ خوب یاد رکھو کہ خدا وعدہ سچا ہے ابھی تو تمہاری سمجھ میں نہیں آتا لیکن جب وعدہ مقررہ آوے گا تو سمجھ لو گے کیونکہ خدا کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ تم مردے سے زندہ ہے کہ تم کو مردے سے زندہ کر دے۔ پیدا بھی وہی کرتا ہے مردہ بھی وہی کرتا ہے، مردہ بھی وہی کرتا ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–56

(ف 1) بعض انبیاء کی بعثت کے بعد یہ یقین ہے کہ جو لوگ معاند ہوں انہیں تباہ کردیا جائے آفتاب ہدایت کے طلوع کے بعد کفر کی تاریکیوں کا چھٹ جانا ضروری ہے اور بدیہی ہے ۔ مکے والے بار بار پوچھتے تھے کہ کیا واقعی عذاب آجائے گا ، اور کیا واقعی ان کا انجام اچھا نہیں ، قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے ، کہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عذاب آئے گا اور ضرور آئے گا ۔ چنانچہ ان اصرار کرنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ، کہ میدان بدر میں کفر کی طاقت وقوت ہمیشہ کے لئے کم ہوگئی ہے ، عذاب طلب کرنے والے عذاب میں مبتلا ہوگئے اور اللہ کی غیرت نے ان کا خاتمہ کردیا ، قرآن کے الفاظ میں اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں اور حیرت و حسرت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

55 یاد رکھو کہ جتنی چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں اور سن رکھو کہ ہر چیز کا وہی مالک اور اسی کا وعدہ برحق ہے اسی میں وعدئہ عذاب بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے اور وعدہ الٰہی کبھی خطا نہیں ہوتا 81 ؎ یہ بات خاص توجہ کے ساتھ تم کو سن لینی چاہئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کی ملکیت ہے اور وہی اس میں تصرف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ثواب و عذاب بالکل سچا ہے مگر اکثر انسان اس حقیقت سے یکسر غافل ہیں اس لئے وہ سمجھتے اور جانتے نہیں۔ لیکن جب حقیقت حال کھلے گی تو ان کو سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب آسمانوں اور زمین کی ہرچیز اس کی ہے تو اس نے انعامات و احسانات کے جو وعدے اپنے نیک اور فرمانبردار بندوں سے کئے ہیں وہ ان کو پورا کرے گا اور بدکاروں اور نابکاروں کو عذاب کی جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 51–56

It was said in verse أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنتُم بِهِ ۚ آلْآنَ. It means: ` Would you believe when Divine punishment actually descends down upon you - whether at the time of death, or even before it? But, at that time, the response to your believing will be: آلْآنَ ('al'an: now?) meaning: Is it now that you have come to believe while the time of believing has already passed? This is similar to what the Pharaoh said while drowning: آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَ‌ائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿90﴾ ("I believe that there is no god except the One in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–59

59. Throughout their lives the unbelievers denied that they would be resurrected and called to account by God. Considering the Next Life a mere illusion, they wasted their lives on vain pursuits and levelled all kinds of allegations against the Prophets who had forewarned them that the Next Life would inevitably come to pass. All this notwithstanding, a moment will come when they will find themselves face to face with the Next Life. When such a moment comes they will be totally unnerved. In view of their evil deeds, their conscience will intimate to them the end they are going to meet.…

Read the full tafseer →