Explained with ayahs 54–56
خالق کل عالم کل ہے
مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
سورة یُوْنُس 59
جس چیز کو عمر بھر جھٹلاتے رہے، جسے جھوٹ سمجھ کر ساری زندگی غلط کاموں میں کھپا گئے اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کو طرح طرح کے الزام دیتے رہے، وہی چیز جب ان کی توقعات کے بالکل خلاف اچانک سامنے آکھڑی ہوگی تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائے گی، ان کا ضمیر انہیں خود بتادے گا کہ جب حقیقت یہ تھی تو جو کچھ وہ دنیا میں کر کے آئے ہیں اس کا انجام اب کیا ہونا ہے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔ زبانیں بند ہوں گی اور ندامت و حسرت سے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے ہوں گے۔ جس شخص نے قیاس و گمان کو سودے پر اپنی ساری پونجی لگا دی ہو اور کسی خیر خواہ کی بات مان کر نہ دی ہو، وہ دیوالہ نکلنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
(آیت) اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۭ اٰۗلْــٰٔنَیعنی کیا تم ایمان اس وقت لاؤ گے جب تم پر عذاب واقع ہوجائے گا خواہ موت کے وقت یا اس سے پہلے ہی، مگر اس وقت تمہارے ایمان کے جواب میں یہ کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ کیا اب ایمان لائے ہو، جب کہ ایمان کا وقت گزر چکا، جیسے غرق ہونے کے وقت فرعون نے جب کہا (آیت) اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، جواب میں کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ ، اور اس کا یہ ایمان قبول نہیں کیا گیا، کیونکہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہی رہتا ہے جب تک کہ وہ غرغرہ موت میں گرفتار نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
53۔ 54:۔ وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۔ وَلَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْاَرْضِ لَافْـــتَدَتْ بِهٖ ۭ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ۚ وَقُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۔
وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ۔ عذاب کا مذاق اڑانے والوں کو جواب : اوپر آیات 48 میں کفار کا سوال " متی ھذا لوعد " نقل ہوا ہے۔ یہ سوال بھی اسی نوعیت کا ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ اس میں انکار و استہزا کا پہلو ذرا مخفی ہے۔ اس میں وہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ سوال کرنے والوں کے مزاج مختلف قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
54۔ 1 یعنی اگر دنیا بھر کا خزانہ دے کر وہ عذاب سے چھوٹ جائے تو دینے کے لئے آمادہ ہوگا۔ لیکن وہاں کسی کے پاس ہوگا ہی کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →ولو ان لکل نفس ظلمت ما فی الارض لافتدت بہ اور (بالفرض) اگر ہر مشرک شخص کو (قیامت کے دن) وہ تمام (دفینے ‘ خزانے) مل جائیں جو زمین میں ہیں تو وہ عذاب سے رہا ہونے اور بچنے کیلئے سب کچھ دے دے گا۔ مَا فِی الْاَرْضِ سے مراد ہیں زمین کے خزانے اور تمام مرغوبات ارضی۔ افتداء اور فداء کا ایک ہی معنی ہے : عذاب سے بچنے کیلئے عوض دے دینا (ہر چیز کو قربان کردینا) ظلم سے مراد ہے شرک یا دوسرے شخص پر زیادتی۔
واسروا الندامۃ لما اوا العذاب اور جب عذاب کو دیکھیں گے تو (دلوں میں) پوشیدہ طور پر پشیمان ہوں گے۔
ابوعبیدہ نے کہا : اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ سے مراد یہ ہے کہ اس وقت ندامت کو ظاہر کریں گے کیونکہ قیامت کا دن…
Read the full tafseer →9 یعنی اگر روئے زمین کے خزانے فرض کروا سکے قبضہ میں ہوں تو کوشش کرے کہ یہ سب دے کر خدا کے عذاب سے اپنے آپ کو بچا لے۔
1 دل میں اپنی حرکتوں پر پشیمان ہوں گے اور چاہیں گے لوگوں پر پشیمانی کا اظہار نہ ہو مگر تابکے۔ کچھ دیر آثار ندامت ظاہر نہ ہونے دیں گے۔ آخر بےاختیار ظاہر ہو کر رہیں گے۔ اس وقت کہیں گے۔ ( يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ ) 39 ۔ الزمر :56) اور (يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا) 21 ۔ الانبیآء :97)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
آیت 53 وَیَسْتَنْبِءُوْنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ط ”اور اے نبی !
جیسے قرآن بار بار اپنے مخالفین سے متجسسانہ انداز میں سوال searching questions کرتا ہے ‘ اسی طرح مشرکین بھی حضور سے searching انداز میں سوال کرتے تھے۔ یہاں ان کا یہ سوال نقل کیا گیا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیا آپ کو خود بھی اس کا پورا پورا یقین ہے ؟
قُلْ اِیْ وَرَبِّیْٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّط وَمَآاَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ
ان الفاظ میں بہت زیادہ تاکید اور شدت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
69 فدیہ میں سارے جہان کی مال ودولت :۔ یعنی آخرت میں صرف وہ اعمال صالحہ کام آئیں گے جو کسی نے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہوئے اپنے لیے آگے بھیجے ہوں گے۔ اعمال کے سوا وہاں نہ مال و دولت کام آئے گا نہ قرابت اور نہ سفارش۔ آیت مذکورہ میں مال و دولت کا ذکر بفرض تسلیم ہے یعنی اگر کسی مجرم کے پاس آخرت کو دنیا بھر کے خزانے اور مال و دولت موجود ہوں تو وہ یہ سب کچھ دے دلا کر عذاب سے اپنی جان چھڑا لے مگر یہ بات وہاں ناممکن ہوگی چناچہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کم سے کم عذاب والے دوزخی سے فرمائیں گے اگر تیرے پاس دنیا ومافیہا کی دولت موجود ہو تو کیا اسے اپنے فدیہ میں دے دو گے ؟ وہ کہے گا…
Read the full tafseer →84۔ فیصلہ روز جزاء باوجود اپنی ساری ہولناکیوں کے بہرحال عادلانہ ہی ہوگا۔ یہ نہیں ہوگا کہ کسی کے حق میں سزا کی زیادتی ہوجائے جیسا کہ غضبناک دیوی، دیوتاؤں کے ہاں ہوتا رہتا ہے۔ (آیت) ” ولو ان۔۔۔ بہ “۔ یوم قیامت کے ہول وشدت کا بیان ہورہا ہے کہ بالفرض سارے روئے زمین کا خزانہ بھی مشرکوں کے پاس ہو۔ تو اپنی جان بچانے کو اس سب کے دے ڈالنے پر وہ آمادہ ہوجائیں گے۔ (آیت) ’ ’ کل نفس ظلمت “۔ یعنی ہر ہر مشرک۔ اے اشرکت وکفرت (قرطبی) (آیت) ” اسروالندامۃ “۔ یہ ندامت کا اخفاء مزید فضیحت ورسوائی کے خوف سے ہوگا۔ اور ندامۃ سے مراد ندامت کے آثار ظاہری ہیں، رونا دھونا، منہ پیٹنا وغیرہ۔ المراد اخفاء اثارھا کالبکاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیت نمبر 54 تا 60
ترجمہ : اگر ہم اس شخص کے پاس کہ جس نے کفر کرکے ظلم کیا روئے زمین کی پوری دولت ہو تو وہ قیامت کے دن عذاب سے رہائی حاصل کرنے کیلئے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ترک ایمان پر ندامت کو چھپائیں گے، یعنی ان کے پیشوا عار دلانے کے خوف سے ندامت کو ان کمزور لوگوں سے چھپائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہوگا مگر ان کے یعنی مخلوق کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائیگا، سنو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے، سن رکھو کہ بعث اور جزاء کا اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں وہی زندگی عطاء…
Read the full tafseer →ولو ان لکل نفس ظلمت ما فی الارض لافتدت بہ اور (بالفرض) اگر ہر مشرک شخص کو (قیامت کے دن) وہ تمام (دفینے ‘ خزانے) مل جائیں جو زمین میں ہیں تو وہ عذاب سے رہا ہونے اور بچنے کیلئے سب کچھ دے دے گا۔ مَا فِی الْاَرْضِ سے مراد ہیں زمین کے خزانے اور تمام مرغوبات ارضی۔ افتداء اور فداء کا ایک ہی معنی ہے : عذاب سے بچنے کیلئے عوض دے دینا (ہر چیز کو قربان کردینا) ظلم سے مراد ہے شرک یا دوسرے شخص پر زیادتی۔
واسروا الندامۃ لما اوا العذاب اور جب عذاب کو دیکھیں گے تو (دلوں میں) پوشیدہ طور پر پشیمان ہوں گے۔
ابوعبیدہ نے کہا : اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ سے مراد یہ ہے کہ اس وقت ندامت کو ظاہر کریں گے کیونکہ قیامت کا دن…
Read the full tafseer →(54) اور اگر ہر ایک مشرک کے پاس اتنا مال ہو کہ اس سے ساری زمین بھر جائے تب بھی اس سارے مال کو دے کر عذاب الہی سے اپنی جان بچانے پر راضی ہوجائے، اور جب یہ رؤسا عذاب خداوندی دیکھیں گے تو غربا سے پشیمانی کو پوشیدہ رکھیں گے اور ان رؤسا اور غربا کے درمیان فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا نہ ان کی نیکیوں میں سے کسی قسم کی کچھ کمی کی جائے گا اور نہ ہی ان کے گناہوں میں کچھ زیادتی اور اضافہ ہوگا۔
Read the full tafseer →وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ : یعنی جس عذاب کا وہ ساری عمر مذاق اڑاتے رہے جب وہ ان کی توقع کے بالکل خلاف یکایک سامنے آجائے گا تو ان کی عجیب کیفیت ہوگی، ایک طرف وہ سخت شرمندہ ہوں گے اور ان کے ضمیر انھیں کوس رہے ہوں گے، لیکن دوسری طرف وہ اپنی شرمندگی کو اپنے ساتھیوں اور ماننے والوں سے چھپانا بھی چاہیں گے کہ کہیں وہ ملامت نہ کریں، اس لیے دل ہی دل میں شرمندہ ہوں گے اور بظاہر مطمئن بننے کی کوشش کریں گے۔ قاموس میں لکھا ہے کہ ”اَسَرَّہُ“ اضداد میں سے ہے، اس کا معنی چھپانا بھی ہے اور ظاہر کرنا بھی۔ دوسرا معنی یہ بنے گا کہ وہ عذاب دیکھیں گے تو ندامت کا اظہار کریں گے۔
وَھُمْ لَا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 54۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولو ان لکل ظلمت “ یعنی اگر ہر شخص کے لیے جس نے شرک کیا اور کفر کیا۔ (آیت) ” ما فی الارض “ یعنی وہ سب اس کی ملکیت ہو جو زمین میں ہے۔ (آیت) ” لافتدت بہ “ وہ ساری دولت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بدلے فدیہ دے دے تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ان الذین کفروا وما توا وھم کفار فلن یقبل من احدھم ملء الارض ذھبا ولو افتدی “۔ (آل عمران : 91) (جن لوگوں نے کفر کیا اور مرگئے کفر ہی کی حالت میں تو ہر گز قبول نہ کیا جائے گا ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا اگرچہ وہ (اپنی نجات کے لیے) عوضا نہ دے اتنا سونا) اور یہ بحث گزر چکی ہے۔
قولہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔
Read the full tafseer →وَلَوْ [ اور اگر ] اَنَّ [(ہوتا ) کہ ] لِكُلِّ نَفْسٍ [ ہراس جان کے لئے ] ظَلَمَتْ [ جس نے ظلم کیا ] مَا [ وہ (سب کچھ ) جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہے ] لَافْـــتَدَتْ [ تو وہ ضرور خود کو چھڑاتی ] بِهٖ ۭ [ اسے دے کر ] وَاَسَرُّوا [ اور وہ چھپائیں گے ] النَّدَامَةَ [ ندامت کو ] لَمَّا [ جب ] رَاَوُا [ وہ دیکھیں گے ] الْعَذَابَ ۚ [ اس عذاب کو ] وَقُضِيَ [ اور فیصلہ کیا جائے گا ] بَيْنَھُمْ [ انکے مابین ] بِالْقِسْطِ [ انصاف سے ] وَھُمْ [ اور ان پر ] لَا يُظْلَمُوْنَ [ ظلم نہیں کیا جائے گا ]
Read the full tafseer →ظالم لوگ جان چھڑانے کیلئے زمین بھر کر فدیہ دینے کو تیار ہوں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا
منکرین اور معاندین دنیا میں حق کو جھٹلاتے ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کر کے اور راہ کفر اختیار کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اس کی آخرت میں سزا ملے گی۔ اور جب وہاں عذاب سامنے آئے گا تو جان کا بدلہ دے کر عذاب سے بچنے کے لئے سب کچھ خرچ کردینے کو راضی ہوں گے۔ اگر بالفرض انہیں پوری زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب اور اس جیسا اور بھی ان کو مل جائے وہ اس سب کو اپنی جان کے بدلہ دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ وہاں کچھ بھی پاس نہ ہوگا اور اگر بالفرض کچھ پاس ہو اور جان کے بدلہ دینے لگیں تو قبول نہ ہوگا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت
قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…
Read the full tafseer →72: تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن مشرکین عذاب الٰہی سے بچنے کی آرزو کریں گے یہاں تک کہ اس دن اگر دنیا کی ساری دولت اور زر و جواہر کے خزانے ان کے قبضہ میں ہوں تو عذاب سے بچنے کیلئے وہ سب کچھ فدیہ میں دینے کو تیار ہوں گے۔ “ وَ اَسَرُّوْا ” اور قیامت کے دن وہ عذاب کو دیکھ کر دنیا کی بد اعمالیوں پر پچھتائیں گے اور سخت پشیمان اور آزردہ ہوں گے اور اپنی پشیمانی کو چھپانے کی کوشش کریں گے مگر وہ چھپی نہ رہے گی۔ یا “ اَسَرُّوْا ” بمعنی “ اَظْھَرُوْا ” ہے کیونکہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے “ وفی القاموس ایضًا اسرہ کتمه واظھره ” (روح ج 11 ص 137) ۔ یعنی قیامت کے دن عذاب کو دیکھ کر وہ سخت پچھتائیں گے اور اپنی بد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کی تردید فرمائی پھر رسالت کے منکرین اور قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا ، عذاب کو جلدی طلب کرنے والے کفار ومشرکین کے متعلق فرمایا کہ جب سزا آجائیگی تو اس وقت ان کا ایمان لانا قابل قبول نہ ہوگا اور وہ سزا سے بچ نہیں سکیں گے بعض مشرکین پوچھتے تھے کہ کیا قیامت واقعی برحق ہے اور سزا وجزا کا مرحلہ آنے والا ہے ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ تاکید کے ساتھ کہہ دیں ہاں قیامت برپا ہونے والی ہے اور تم اللہ کی کسی تدبیر کو عاجز نہیں کرسکتے۔ سورة سبا میں آتا ہے کہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” قل بلی وربی لتاتینکم “…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْاَرْضِ لَافْـــتَدَتْ بِہٖ 0ۭ وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ 0ۚ وَقُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 54
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔
تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَافِی الْاَرْضِ لاَ فْتَدَتْ بِہٖ ط وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ج وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ (یونس : 54)
(اور اگر ہر شخص جس نے ظلم کا ارتکاب کیا اگر اس کو مل جائے وہ سب کچھ جو زمین میں ہے تو وہ اس کو فدیہ میں دے دے اور وہ ظالم ندامت کو چھپائیں گے جب عذاب کو دیکھیں گے۔ اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔ )
متکبرین کی اصل حیثیت
ہم نے گزشتہ آیت میں دیکھا کہ سوال کرنے والوں میں ایک رعونت ہے جو انھیں بدتمیزی پر اکساتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی کم مائیگی اور اسلام کی غربت کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ، مجرم دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔
سورۃ المنافقون آیت 10۔ 11 میں بیان ہوا ہے۔ کہ جو لوگ مال اور اولاد کو دین سے مقدم جانتے ہیں جب ان پر موت وارد ہوتی ہے تو وہ اس حسرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش ہمیں کچھ مہلت مل جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ اور نیکی کرکے صالحین میں شمار ہوجائیں۔ لیکن موت کا وقت آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں دی جاتی۔ یہی خواہش مجرم کی قیامت کے دن ہوگی وہ اپنی ندامت چھپاتے ہوئے اس بات کی خواہش کرے گا کہ کاش مجھ سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ یہ پہلی دفعہ عذاب کو دیکھتے وقت مجرم کی ابتدائی کیفیت ہوگی۔ جوں ہی وہ عذاب میں…
Read the full tafseer →54: وَلَوْاَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ (اور اگر ہر مشرک شخص کے پاس اتنا ہو کہ) اگر ظلم کا معنی کفر و شرک ہے تو یہ نفس کی صفت ہے یعنی اگر ہر ظالم نفس کو میسر آئے مَا فِی الْاَرْضِ (جو کچھ زمین میں ہے) دنیا میں آج جو اس کے خزائن و اموال موجود ہیں۔ لَافْتَدَتْ بِہٖ (تو وہ ضرور فدیہ میں دے ڈالے) وہ اپنے نفس کا اس کو فدیہ بنالے۔ محاورہ عرب ہے فداہ فافتدی اور کہا جاتا ہے افتداہ یعنی فداہ آتا ہے۔ وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ (اور وہ شرمندگی کو چھپائیں گے جب وہ عذاب کو دیکھیں گے) اور وہ شرمندگی کو ظاہر کریں گے، عرب کہتے ہیں اسرالشئی اذا اظہر الشیء۔ جب وہ چیز کو ظاہر کرے نمبر 2۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
(54) ” ولو ان لکل نفس ظلمت “ یعنی شرک کیا ۔ ” ما فی الارض لا فتدت بہ “ قیامت کے دن اور افتداء یہاں یہ ہے کہ اس چیز کو خرچ کریں جو عذاب سے نجات دے۔” واسروا الندامۃ “ ابو عبید (رح) فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ ندامت کو ظاہر کریں گے اس لیے کہ اس دن کوئی بناوٹ نہ ہو سکے گی اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ سردار کمزور لوگوں سے شرمندگی کو چھپائیں گے ، ان کی ملامت اور عار کے خوف سے ۔ ’ لمار او العذاب واقضی بینھم بالقسط وھم لا یظلمون “ ۔
Read the full tafseer →54۔ صیح بخاری و مسلم میں حضرت انس ؓ کی روایت سے اس آیت کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ قیامت کے دن ہلکے سے ہلکے عذاب والے دوزخی سے اللہ تعالیٰ فرما دے گا کہ اے شخص تیرے پاس دنیا بھر کا مال و متاع اور اولاد ہو تو اپنی نجات کے بدلے میں اس مال اور اولاد کے دینے پر راضی ہے وہ کہے گا کہ ہاں میں راضی ہوں اس پر اللہ تعالیٰ فرما دے گا کہ جب تو دنیا میں پیدا نہیں ہوا تھا اور آدم کی پشت میں تیرا نطفہ تھا اس وقت میں نے تجھ سے ایک چھوٹی سی بات کا یوم المیثاق میں عہد لیا تھا کہ تو دنیا میں جا کر نافرمانی نہ کیجیو مگر تو نے نہ مانا اب بدلہ اور تاوان دینے سے کیا ہوتا ہے۔ 1 ؎ حاصل معنے آیت اور حدیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
آیت : ( 54-56)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے : (ویستنبولک) ” اور آپ سے دریافت کرتے ہیں۔ “ یہ مکذبین تحقیق و تبسین اور طلب ہدایت کے لئے نہیں ‘ بلکہ عناد و نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں (احق ھو) ” کیا آیا یہ سچ ہے ؟ “ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انہیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا۔ پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ (قل) ” کہہ دیجئے ! “ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجئے ! (ای وربی انہ لحق) ” قسم ہے میرے رب کی ‘ یہ یقیناً حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →92 ۔ عذاب آخرت کی ہولناکی کا ایک مظہر و نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت اگر ان ظالموں میں سے کسی کو پوری روئے زمین کی دولت بھی مل جائے تو وہ یقینا اس سب کو اپنے بدلے میں دے دے تاکہ وہاں کے اس ہولناک عذاب سے بچ سکے مگر اس کا موقع کہاں ؟ کہ اس کا وقت تو بہرحال گزر چکا ہوگا جو کہ فرصت عمر کی شکل میں اس واہب مطلق کی طرف سے اس دنیا میں ایسے لوگوں کو ملا ہوا تھا اور اس کو انہوں نے بار بار اور طرح طرح کی تنبیہ و ترغیب کے باوجود ضائع کردیا۔ اور اب اس نے کبھی بھی اور کسی بھی طور پر واپس نہیں ملنا۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہاں سے اس بات کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حیات دنیا کی صورت میں فرصت و فراغت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی
تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیات 54 تا 60
اسرار و معارف
آج تو تم دنیا کی دولت پہ بہت خوش ہو بلکہ تمہیں ایمان اور اطاعت گراں گزرتے ہیں مگر جب یہ سب کچھ واقع ہوگا تو اگر ہر ایک ظالم کے پاس اتنی دولت بھی ہوجتنی سب روئے زمین پر ہے اور وہ یہ سب دے کر جان چھڑاناچا ہے تو ایسانہ ہوسکے گا بلکہ عذاب کی ذلت کے باعث مارے شرم کے منہ چھپا تے پھر تے ہوں گے نیزوہ بارگاہ تو ایسی عالی ہے کہ ان ظالموں سے بھی کوئی زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ عین انصاف کے ساتھ معاملہ ہوگا اور انھیں دہی سزاملے گی جس کے یہ مستحق ہوں گے۔
اور یہ خوب اچھی طرح سے جان لو کہ زمینوں اور آسمانوں میں سب کچھ حقیقتا اللہ کریم کا ہے انسان کو عارضی طور پر اگر کچھ عطا ہوتا…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی جس عذاب کا وہ ساری عمر مذاق اڑاتے ہے۔ جب وہ ان کی توقع کے بالکل خلاف یکایک سامنے آجائے گا تو ان کی عجیب کیفیت ہوگی۔ ایک طرف وہ سخت شرمندہ ہوں گے اور ان کے ضمیر انہیں کوس رہے ہوں گے لیکن دوسری طرف وہ اپنی شرمندگی کو اپنے ساتھیوں اور ماننے والوں سے چھپانا بھی چاہیں گے کہ کہیں وہ ملامت نہ کریں۔ اس لے دل ہی دل میں شرمندہ ہوں گے اور بظاہر مطمئن بننے کی کوشش کریں گے۔ بعض نے ” اسروا “ کے معنی اظہار بھی کئے ہیں۔ (از کبیر۔ شوکانی) ۔
4 ۔ اس لئے کہ یہ عذاب ان کے کرتوتوں کا ثمرہ ہوگا۔
Read the full tafseer →(10:54) ولو ان لکل نفس ظلمت۔ سے قبل عبارت محذوف ہے۔ سلسلہ کلام اس طرح ہے اور (آنے والا عذاب اس درجہ ہولناک ہے اور اس کا وقوع اس قدر یقینی ہے کہ) اگر ہر اس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے روئے زمین کی دولت بھی ہو تو ضرور ا آ سے اس عذاب سے بچنے کے لیئے فدیہ میں دیدے۔
اسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب اسرار مصدر۔ افعال سے۔ یہ اضداد میں سے ہے۔ اسر کے معنی چھپایا اس نے ۔ پوشیدہ رکھا اس نے ۔ یا اس نے ظاہر کیا۔
ابو عبید کہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ندامت اور پشیمانی کا اظہار کیا۔ (ایسے ہولناک عذاب کو دیکھ کر ندامت کو چھپانا ناممکن ہے۔ اس وقت صبر اور تصنع سے کام لینا ناممکن ہے) ۔ اور جنہوں نے اس کو چھپانے اور پوشیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 56
نفس (جان، ذات) ، افتدت (بدلہ دیا یعنی بدلہ میں دے دے گا) اسروا (انہوں نے چھپایا، وہ چھپائیں گے) الندامۃ (شرمندگی ، ندامت) راو (انہوں نے دیکھا، وہ دیکھیں گے) یحییٰ (وہ زندہ کرتا ہے) یمیت (وہ موت دیتا ہے، مارتا ہے)
تشریح آیت نمبر 54 تا 56
یہ ساری کائنات اور اس کا ذرہ ذرہ اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کا مالک ہے وہی نگہبان ہے اس نے اس دنیا کو ایک خاص وقت تک استعمال کرنے کی انسان کو اجازت دی ہے کہ وہ دنیا اور اس کے وسائل کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں استعمال کرے۔ لیکن اگر اس نے یہ سمجھ لیا کہ جو کچھ میرے پاس ہے میں اس کا مالک ہوں جس طرح چاہوں میں اس میں تصرف…
Read the full tafseer →عذاب دوزخ کا ذکر
صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ اس آیت کی تفسیر خود آنحضرت صلی نے ہوں فرمائی ہے کہ قیامت کے دن ہلکے عذاب والے دوزخی سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے شخص ! تیرے پاس دنیا بھر کا مال ومتاع اور اولاد ہو تو اپنی نجات کے بدلے میں اس مال واولاد کے دینے پر راضی ہے۔ وہ کہے گا کہ ہاں میں راضی ہوں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماوے گا کہ جب تو دنیا میں پیدا نہیں ہوا تھا اور آدم کی پشت میں تیرا نطفہ تھا، اس وقت میں نے تجھ سے ایک چھوٹی سی بات کا یوم المیثاق لیا تھا کہ تو دنیا میں جا کر نافرمانی نہ کیجیئو مگر تو نے نہ مانا اب بدلہ اور تاوان دینے سے کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
(ف 1) بعض انبیاء کی بعثت کے بعد یہ یقین ہے کہ جو لوگ معاند ہوں انہیں تباہ کردیا جائے آفتاب ہدایت کے طلوع کے بعد کفر کی تاریکیوں کا چھٹ جانا ضروری ہے اور بدیہی ہے ۔
مکے والے بار بار پوچھتے تھے کہ کیا واقعی عذاب آجائے گا ، اور کیا واقعی ان کا انجام اچھا نہیں ، قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے ، کہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عذاب آئے گا اور ضرور آئے گا ۔
چنانچہ ان اصرار کرنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ، کہ میدان بدر میں کفر کی طاقت وقوت ہمیشہ کے لئے کم ہوگئی ہے ، عذاب طلب کرنے والے عذاب میں مبتلا ہوگئے اور اللہ کی غیرت نے ان کا خاتمہ کردیا ، قرآن کے الفاظ میں اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں اور حیرت و حسرت…
Read the full tafseer →54 اور اگر ہر شخص کے پاس جو ظلم اور کفر و شرک کا مرتکب ہوا تھا روئے زمین کا تمام مال بھی ہوا ور ہر ظلم کرنے والے انسان کے قبضہ میں اتنا مال ہو کہ اس سے تمام زمین بھر جائے تو بھی وہ ضرور اس مال کو اپنے فدیہ میں دے ڈالے اور اپنی جان بچائے اور جب یہ لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو دل ہی دل میں اپنی ندامت و پشیمانی کو چھپائیں گے اور ان کا فیصلہ حق و انصاف کے ساتھ کردیاجائے گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہوگا۔
یعنی جس عذاب کی جلدی کر رہے ہیں اس کی شدت کا یہ حال ہے کہ جب اس عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اس وقت اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کسی کافر کے پاس روئے زمین کی دولت بھی ہو تب بھی وہ اس کو فدیہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ف 5۔ پس دوبارہ پیدا کرنا اس کو کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →ظالم ! آج ہرچیز کو فدیہ میں دینے کو تیار ہیں کہ کوئی صورت ان کے بچائو کی نکل آئے
79 ؎ اگر آج یعنی میدان حشر میں ہر اس شخص کے پاس جس نے کفر و شرک سے اپنے اوپر آپ ظلم کیا روئے زمین کی دولت بھی ہو تو عذاب دوزخ سے بچنے کیلئے سے بھی تاوان کے طور پر دینے کیلئے آمادہ ہوجائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین آج تو مال و دولت پر پروانہ وار نثار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اپنی عزت ، اپنی سلامتی اور اپنے عیش و آرام کو اس سے وابستہ سمجھ رہے ہیں لیکن کل جب یہ بارگاہ رب ذوالجلال میں حاضر کئے جائیں گے اور ان کے گناہوں کا بوجھ ان کی گردن پر لاد دیا جائے گا تو دوزخ کے شعلے ان کی طرف لپک رہے ہوں گے اس وقت ان کی دلی خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
It was said in verse أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنتُم بِهِ ۚ آلْآنَ. It means: ` Would you believe when Divine punishment actually descends down upon you - whether at the time of death, or even before it? But, at that time, the response to your believing will be: آلْآنَ ('al'an: now?) meaning: Is it now that you have come to believe while the time of believing has already passed? This is similar to what the Pharaoh said while drowning: آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿90﴾ ("I believe that there is no god except the One in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
59. Throughout their lives the unbelievers denied that they would be resurrected and called to account by God. Considering the Next Life a mere illusion, they wasted their lives on vain pursuits and levelled all kinds of allegations against the Prophets who had forewarned them that the Next Life would inevitably come to pass. All this notwithstanding, a moment will come when they will find themselves face to face with the Next Life. When such a moment comes they will be totally unnerved. In view of their evil deeds, their conscience will intimate to them the end they are going to meet.…
Read the full tafseer →