Yunus 10:53

Yunus · from ayah 53

10:53

وَیَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ؔؕ— قُلْ اِیْ وَرَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ؔؕۚ— وَمَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۟۠وَيَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَكَ اَحَقٌّ هُوَ‌ ؕ قُلۡ اِىۡ وَرَبِّىۡۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ؔ‌ؕ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they ask information of you, [O Muhammad], "Is it true?" Say, "Yes, by my Lord. Indeed, it is truth; and you will not cause failure [to Allah]."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 5 of surah · Ruku 10 of juzع

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:53

پھر پُوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو“میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہُور میں آنے سے روک دو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا عذاب واقعی سچ ہے؟ آپ فرما دیجئے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی وه واقعی سچ ہے اور تم کسی طرح اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ (آخرت کا عذاب) واقعی سچ ہے ؟ کہو دو کہ : میرے پروردگار کی قسم یہ بالکل سچ ہے، اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم سے پوچھتے ہیں کیا وہ حق ہے، تم فرماؤ، ہاں! میرے رب کی قسم بیشک وہ ضرور حق ہے، اور تم کچھ تھکا نہ سکو گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا (دائمی عذاب کی) وہ بات (واقعی) سچ ہے؟ فرما دیجئے: ہاں میرے رب کی قسم یقیناً وہ بالکل حق ہے۔ اور تم (اپنے انکار سے اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے ؟ تو کہہ ہاں ! مجھے اپنے رب کی قسم ! یقینا یہ ضرور سچ ہے اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آیا یہ واقعی سچ ہے ؟ آپ ان سے کہئے : میرے پروردگار کی قسم ! یہ بالکل سچ ہے اور تم اسے روک نہیں سکتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ یہ بات واقعی ہے ؟ کہہ دو کہ ہاں میرے رب کی قسم یہ شدنی ہے اور تم قابو سے باہر نہیں نکل سکو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پوچھتے ہیں آپ سے کہ کیا واقعی یہ حق ہے ؟ تو کہو، ہاں قسم ہے میرے رب کی، یہ قطعی طور پر حق ہے، اور تم عاجز کردینے والے نہیں ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ (عذاب) برحق ہے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ ہاں میرے پروردگار کی قسم ہے کہ وہ برحق ہے اور تم کسی طرح (اللہ کو) ہر انہیں سکتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ واقعی حق ہے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ ہاں میرے رب کی قسم ! یقیناً وہ حق ہے اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے ؟ کہہ دو ہاں ! اللہ کی قسم سچ ہے تو تم بھاگ کر اللہ کو عاجز نہیں کرسکو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They ask you if what you say is true? Tell them: 'Yes, by my Lord, this is altogether true, and you have no power to prevent the chastisement from befalling.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They ask you to tell them whether it is true. Say, :Yes, by my Lord, it is true. And you cannot frustrate (Allah‘s plan).

— Muhammad Taqi Usmani

They ask you to tell them whether it is true. Say, :Yes, by my Lord, it is true. And you cannot frustrate (Allah‘s plan).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they ask you to inform them (saying): "Is it true" Say: "Yes! By my Lord! It is the very truth! And you cannot escape it!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they ask thee to inform them (saying): Is it true? Say: Yea, by my Lord, verily it is true, and ye cannot escape.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they ask information of you, [O Muhammad], "Is it true?" Say, "Yes, by my Lord. Indeed, it is truth; and you will not cause failure [to Allah]."

— Saheeh International

They ask you, "Is that (punishment) true?" Tell them, "It certainly is. I swear by my Lord. You can not escape from (God's retribution)".

— Muhammad Sarwar

And they ask you: Is that true? Say: Aye! by my Lord! it is most surely the truth, and you will not escape.

— Muhammad Habib Shakir

And they ask thee to tell them if it be-true. Say thou: yeal by my Lord, It, Is the veary truth, and ye shall not be able to escape.

— Abdul Majid Daryabadi

They seek to be informed by thee: "Is that true?" Say: "Aye! by my Lord! it is the very truth! and ye cannot frustrate it!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مٹی ہونے کے بعد جینا کیسا ہے ؟ پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہوجانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے ؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہوجاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ یوں ہوجا اسی وقت ہوجاتا ہے اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔ سورة سبا میں ہے (قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم ڎڎ) 34۔ سبأ :3) سورة تغابن میں ہے (قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم) 64۔ التغابن :7) ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–53

سورة یُوْنُس 57 یعنی میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ فیصلہ میں چکاؤں گا اور نہ ماننے والوں کو میں عذاب دوں گا۔ اس لیے مجھ سے کیا پوچھتے ہو کہ فیصلہ چکائے جانے کی دھمکی کب پوری ہوگی۔ دھمکی تو اللہ نے دی ہے، وہی فیصلہ چکائے گا اور اسی کے اختیار میں ہے کہ فیصلہ کب کرے اور کس صورت میں اس کو تمہارے سامنے لائے۔ سورة یُوْنُس 58 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد باز نہیں ہے۔ اس کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اسی وقت جو ایمان لے آیا بس وہ تو رحمت کا مستحق قرار پایا اور جس کسی نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فورا عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

(آیت) اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۭ اٰۗلْــٰٔنَیعنی کیا تم ایمان اس وقت لاؤ گے جب تم پر عذاب واقع ہوجائے گا خواہ موت کے وقت یا اس سے پہلے ہی، مگر اس وقت تمہارے ایمان کے جواب میں یہ کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ کیا اب ایمان لائے ہو، جب کہ ایمان کا وقت گزر چکا، جیسے غرق ہونے کے وقت فرعون نے جب کہا (آیت) اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، جواب میں کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ ، اور اس کا یہ ایمان قبول نہیں کیا گیا، کیونکہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہی رہتا ہے جب تک کہ وہ غرغرہ موت میں گرفتار نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 53–54

53۔ 54:۔ وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۔ وَلَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْاَرْضِ لَافْـــتَدَتْ بِهٖ ۭ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ۚ وَقُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۔ وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ۔ عذاب کا مذاق اڑانے والوں کو جواب : اوپر آیات 48 میں کفار کا سوال " متی ھذا لوعد " نقل ہوا ہے۔ یہ سوال بھی اسی نوعیت کا ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ اس میں انکار و استہزا کا پہلو ذرا مخفی ہے۔ اس میں وہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ سوال کرنے والوں کے مزاج مختلف قسم کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 یعنی وہ پوچھتے ہیں کہ یہ قیامت اور انسانوں کے مٹی ہوجانے کے بعد ان کا دوبارہ جی اٹھا ایک برحق ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے پیغمبر ! ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارا مٹی ہو کر مٹی میں مل جانا، اللہ تعالیٰ کو دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز نہیں کرسکتا۔ اس لئے یقینا یہ ہو کر رہے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت کی نظیر قرآن میں مذید صرف دو آیتیں ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ وہ قسم کھا کر قیامت کے وقوع کا اعلان کریں۔ ایک سورة سبا، آیت 13 اور دوسرا سورة تغابن آیت۔ 7۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–58

25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ویستنبؤک احق ھو وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ (یعنی توحید ‘ نبوت ‘ قرآن ‘ قیامت اور عذاب وثواب) حق ہے (یا بےحقیقت ‘ محض مذاق) ۔ قل اي وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین۔ آپ کہہ دیجئے : جی ہاں ‘ اپنے رب کی قسم ! بلاشک و شبہ وہ حق ہے اور تم ہرا نہیں سکتے (یعنی اس کے آنے کو اور اس کی صداقت کو روک نہیں سکتے) مطلب یہ کہ تم اس سے چھوٹ نہیں سکتے۔ عَجَزَ عَنِ الشَّیْءِ وہ شخص فلاں چیز سے عاجز ہوگیا ‘ یعنی وہ چیز اس سے فوت ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی غفلت کے نشہ میں چور ہو کر تعجب سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے کہ ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور دائمی عذاب کا مزہ چکھیں گے ؟ کیا واقعی ریزہ ریزہ ہو کر اور خاک میں مل کر پھر ازسر نو ہم کو موجود کیا جائے گا ؟ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ تعجب کی کیا بات ہے، یہ چیز تو یقینا ہونے والی ہے۔ تمہارا مٹی میں مل جانا اور پارہ پارہ ہوجانا خدا کو اس سے عاجز نہیں کرسکتا کہ پہلے کی طرح تمہیں دوبارہ پیدا کر دے اور شرارتوں کا مزہ چکھائے۔ ممکن نہیں کہ اس کے قبضہ سے نکل بھاگو اور فرار ہو کر (معاذ اللہ) اسے عاجز کرسکو۔ (تنبیہ) اس آیت کے مشابہ دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔ ایک سورة " سبا " میں (وَقَالَ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 53–55

آیت 53 وَیَسْتَنْبِءُوْنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ط ”اور اے نبی ! جیسے قرآن بار بار اپنے مخالفین سے متجسسانہ انداز میں سوال searching questions کرتا ہے ‘ اسی طرح مشرکین بھی حضور سے searching انداز میں سوال کرتے تھے۔ یہاں ان کا یہ سوال نقل کیا گیا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیا آپ کو خود بھی اس کا پورا پورا یقین ہے ؟ قُلْ اِیْ وَرَبِّیْٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّط وَمَآاَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ان الفاظ میں بہت زیادہ تاکید اور شدت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 اس سے مراد ہر وہ چیز لی جاسکتی ہے جس کا مشرکین مکہ انکار کر رہے تھے۔ مثلاً قرآن، عذاب الٰہی کا ان پر واقع ہونا، موت کے بعد دوبارہ زندگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دیا جانا وغیرہ۔ ان کے سوال کا انداز ہی اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ وہ یہ باتیں ماننے کو قطعاً تیار نہ تھے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ آپ پورے وثوق کے ساتھ اپنے پروردگار کی قسم کھا کر اور اسے شاہد بنا کر کہہ دو کہ یہ امور ایسے حقائق ہیں جو ہو کر رہنے والے ہیں اور تم نہ انھیں روک سکتے ہو اور نہ ہی اللہ کے قبضہ ئقدرت سے تم فرار کی راہ اختیار کرسکتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

83۔ (کہ وہ تم کو عذاب کی گرفت میں لینا چاہے اور تم بچ جاؤ) (آیت) ” یستنبؤنک “۔ سوال اور اظہار حیرت واستعجاب سے مقصود دریافت حال نہیں، بلکہ تکذیب وتعریض تھی۔ (آیت) ” انہ “۔ ضمیر عذاب کی طرف ہے۔ الضمیر عائد علی العذاب (بحر) اے العذاب الموعود (روح) (آیت) ” ای “۔ موقع اثبات میں تاکید وتحقیق کے مفہوم میں آتا ہے جیسے اردو میں زور دینے کے موقو پر ہاں، ہاں (ہاں مکرر) آتا ہے۔ کلمۃ تحقیق وایجاب وتاکید بمعنی نعم (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–53

آیت نمبر 41 تا 53 ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویستنبؤک احق ھو وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ (یعنی توحید ‘ نبوت ‘ قرآن ‘ قیامت اور عذاب وثواب) حق ہے (یا بےحقیقت ‘ محض مذاق) ۔ قل اي وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین۔ آپ کہہ دیجئے : جی ہاں ‘ اپنے رب کی قسم ! بلاشک و شبہ وہ حق ہے اور تم ہرا نہیں سکتے (یعنی اس کے آنے کو اور اس کی صداقت کو روک نہیں سکتے) مطلب یہ کہ تم اس سے چھوٹ نہیں سکتے۔ عَجَزَ عَنِ الشَّیْءِ وہ شخص فلاں چیز سے عاجز ہوگیا ‘ یعنی وہ چیز اس سے فوت ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) (تعجب سے) آپ سے پوچھتے ہیں کہ اے محمد ﷺ کیا یہ عذاب اور قرآن کریم واقعی امر ہے۔ آپ فرمادیجیے کہ قسم ہے میرے رب کی وہ عذاب واقعی امر ہے جو ہونے والا ہے اور تم کسی طریقہ سے عذاب الہی سے بچ نہیں سکتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ۔۔ : ”نَبَأٌ“ بہت بڑی اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ (راغب) ”یَسْتَنْبِءُوْنَ“ ”نَبَأَ“ کے باب استفعال سے طلب کے لیے ہے۔ جب کفار کو ان کے سوال ”مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ“ کا مذکورہ جواب دیا گیا تو انھوں نے اسی سلسلہ میں آپ ﷺ سے دوبارہ سوال کیا ”اَحَقٌّ ھُوَ“ کیا یہ سچ ہی ہے، یا محض ہمیں ڈرایا جا رہا ہے ؟ چونکہ کفار اپنے قیامت کے انکار اور قرآن کے اس کے قیام پر واضح دلائل کی وجہ سے سخت قلق اور پریشانی کا شکار تھے کہ اسے مانیں یا نہ مانیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یقین دلانے کے لیے تاکید کے کئی الفاظ جمع کرکے فرمایا ”قُلْ“ آپ ان سے کہہ دیجیے : (اِيْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 53۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویستنبؤنک “۔ اے محمد ﷺ وہ آپ سے عذاب آنے اور قیامت قائم ہونے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں : (آیت) ” احق “ یہ مبتدا ہے۔ ھو یہ سد مسد الخبر ہے۔ اور سیبویہ کا قول ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ھو مبتدا ہو اور احق خبر ہو، یہ قسم ہے : (آیت) ” انہ لحق “۔ یہ جواب قسم ہے، یعنی بیشک یہ ہونے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں (آیت) ” وما انتم بمعجزین “۔ یعنی تم اس کے عذاب اور اس کے بدلے سے بچ نہیں سکتے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–56

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ (اور وہ سب دریافت کرتے ہیں آپ سے )] [اَ : کیا ] حَقٌّ [ حق ہے ] ھُوَ ڼ [ یہ (قرآن ) ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِيْ [ ہاں ] وَرَبِّيْٓ [ میرے رب کی قسم ہے ] اِنَّهٗ [ بیشک یہ ] لَحَقٌّ ې [ یقینا حق ہے ] وَمَآ اَنْتُمْ [ اور تم لوگ نہیں ہو ] بِمُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے (اس کو ) ] (آیت ۔ 53) احق ھو میں حق خبر مقدم اور ھو مبتدا مؤخر ہے ۔ ای عربی میں نعم کے معنی میں آتا ہے ۔ وربی کا واو قسمیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَیَسْتَنْبِءُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ ) اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا عذاب واقعی چیز ہے ؟ (قُلْ اِیْ وَرَبِّیْ اِنَّہٗ لَحَقٌّ) آپ فرما دیجئے کہ ہاں میں اپنے رب کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ بلاشبہ حق ہے واقعی ہوجانے والی چیز ہے۔ (وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ) (اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو) یعنی جب عذاب آجائے گا تو تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے ‘ یہ نہ سمجھو کہ جب عذاب آئے گا تو ہم بھاگ نکلیں گے اور کہیں پناہ لے لیں گے۔ سارا ملک اللہ ہی کا ہے کہیں بھی فرار ہو کر نہیں جاسکتے۔ سورة عنکبوت میں فرمایا (وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَمَا لَکُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–56

تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

71: یہ شکویٰ ہے۔ منکرین آپ سے پوچھتے ہیں کہ واقعی عذاب یا قیامت کا آنا حق ہے۔ “ قُلْ اِيْ وَ رَبِّيْ الخ ” یہ جواب شکویٰ ہے میرے پیغمبر آپ ان کے جواب میں فرم ادیں کیوں نہیں مجھے اپنے رب کی قسم وہ حق ہے اور اس کا وقوع ناگزیر ہے اور تم اس کے لانے والے کو عاجز نہیں پاؤ گے اور نہ خود کو اس سے بچا سکو گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–53

ربط آیات توحید کے بیان کے بعد قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے نبوت و رسالت کے مکذبین کا رد کیا ، ان کے شکوک و شبہات کو دور کیا اور ساتھ قیامت کا ذکر بھی کیا ، فرمایا ، آج یہ لوگ بڑے اعتراض کرتے ہیں مگر جب قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے تو خیال کریں گے کہ دنیا میں گھڑی بھر ٹھہرے پھر آگے عذاب کا لا محدود سلسلہ نظر آئے گا تو اس کے مقابلے میں اس دنیا اور برزخ کی زندگی کو نہایت مختصر عرصہ سمجھیں گے۔ وہاں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ فرمایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کی تکذیب کی وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہو کر بڑے خسارے میں رہیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی قیامت اور عذاب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ۝ 0 ۭ ؔ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّ۝ 0 ۚ ۭؔ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۝ 53 ۧ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–60

ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔ تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَسْتَنْبِئُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ ط قُلْ اِیْ وَرَبِّیْ ٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّ ج ط وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔ (یونس : 53) (اور وہ آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا یہ بات واقعی سچ ہے۔ کہہ دیجیے ہاں، میرے رب کی قسم۔ بیشک وہ حق ( اور ہو کے رہنے والی) ہے۔ اور تم اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ ) عذاب کا مذاق اڑانے والوں کو جواب قرآن کریم نے مشرکینِ مکہ کی جانب سے عذاب اور قیامت کے آنے کے حوالے سے متعدد مواقع پر سوالات ذکر فرمائے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ جس قدر انھیں عذاب سے بچانے کے لیے عذاب سے ڈراتے تھے اور انھیں اس انذار کے ذریعے ایمان لانے کی ترغیب دیتے تھے۔ مشرکینِ مکہ میں سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–53

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اے پیغمبر ﷺ ! ان سے استفسار فرمائیں کہ اگر ان پر اللہ کا عذاب دن کے وقت آئے یا رات کی کسی گھڑی میں آئے تو اسے کون ٹال سکتا ہے ؟ ان سے یہ بھی سوال کیجیے کہ مجرمو ! تم کس بات کی جلدی مچاتے ہو۔ مجرمانہ ذہن کی یہ علامت ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اچھی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ اکثر دفعہ اچھائی کی بجائے بری بات اور اس کے انجام کے لیے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جب اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو پھر بڑے بڑے مجرم ایمان لانے کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر اس وقت اللہ تعالیٰ کے ملائکہ جواب دیتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اب تو استہزاء کرتے ہیں مگر وہاں ڈر سے منہ چھپائیں گے : 53: وَیَسْتَنْچبِئُوْنَکَ (اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں) آپ سے خبرپوچھتے ہوئے کہتے ہیں۔ اَحَقٌّ ھُوَ (کیا وہ برحق ہے) یہ استفہام ان کاری ہے بطور استہزاء کے وہ کہتے تھے ہوضمیر کا مرجع موعودہ عذاب ہے۔ قُلْ (کہہ دیں) اے محمد ﷺ اِیْ وَرَبِّیْ (ہاں اور مجھے اپنے رب کی قسم ہے) اِنَّہٗ لَحَقٌّ (بلاشبہ وہ حق ہے) بیشک عذاب ہر صورت ہونے والا ہے۔ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ (اور تم عاجز کرنیوالے نہیں ہو) عذاب سے نکلنے والے نہیں ہو وہ ہر صورت میں تمہیں آلے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(53)” ویستنبئونک “ یعنی وہ خبر طلب کرتے ہیں آپ (علیہ السلام) سے اے محمد ﷺ ۔ ” احق ھو “ یعنی جو عذاب اور قیامت قائم ہونے کی آپ دھمکی دیتے ہیں ” قل ای و ربی “ یعنی ہاں میرے رب کی قسم !” انہ لحق وما انت بمعجزین “ عذاب سے بچنے والے کہا جاتا ہے عجز عن شی وہ شخص فلاں چیز سے عاجز ہوگیا ۔ یعنی وہ چیز اس سے فوت ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

53۔ مشرک لوگ یہ بھی پوچھتے تھے کہ کیا سچ مچ قیامت ہوگی اور اس کے انکار کرنے والوں کو عذاب ہوگا حالانکہ وہ لوگ یہ سوال پہلے بھی کرچکے تھے اور اس کا جواب بھی ان کو دے دیا گیا تھا پھر بار بار پوچھنا اور بھی نادانی کی نشانی ہے نہ اپنی بات سمجھتے ہیں کہ ہم کہہ کیا رہے ہیں نہ دوسرے کی بات سمجھتے ہیں کہ وہ کیا جواب دے رہا ہے اس لئے فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو قسم خدا کی قیامت ضرور ہونے والی ہے تم یہ نہ خیال کرو کہ ہم مٹی کے ڈھیر ہو کر پھر قبر سے کیوں کر نکل آئیں گے وہ دوبارہ پیدا کرسکتا ہے جس طرح اس نے پہلے پیدا کیا ہے اس کا ایک فقط کن کا حکم کافی ہے پھر اگر تم بھاگنا بھی چاہو گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 53–56

آیت : ( 54-56) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے : (ویستنبولک) ” اور آپ سے دریافت کرتے ہیں۔ “ یہ مکذبین تحقیق و تبسین اور طلب ہدایت کے لئے نہیں ‘ بلکہ عناد و نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں (احق ھو) ” کیا آیا یہ سچ ہے ؟ “ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انہیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا۔ پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ (قل) ” کہہ دیجئے ! “ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجئے ! (ای وربی انہ لحق) ” قسم ہے میرے رب کی ‘ یہ یقیناً حق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

90 ۔ پیغمبر کی قوت ایمان و یقین کا ایک نمونہ و مظہر : یعنی ان سے کہو کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی یہ قطعی طور پر حق ہے۔ تاکید در تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ ہاں یہ قطعی طور پر حق اور صدق ہے اور یہی شان امتیاز ہوتی ہے قوت ایمان و یقین کی ورنہ محض فلسفہ و منطق کے دلائل سے ایسی قوت یقین کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنور الایمان والیقین بمحض منہ وکرمہ وھو ارحم الراحمین۔ فزدنا اللہم ایمانا بک ویقینا وحبا فیما عندک۔ و وفقنا لما تحب وترضی من قول و عمل۔ بہرکیف اس سے پیغمبر کی قوت ایمان و یقین کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ سو سوال کرنے والوں کے جواب میں صرف سادہ جواب پر ہی اکتفا نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–54

قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–53

آیات 41 تا 53 اسرار و معارف ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ جب کفار کو ان کے سوال ” متی ھذا الوعد “ کا مذکورہ جواب دیا گیا تو انہوں نے اسی سلسلہ میں آنحضرت ﷺ سے دوبارہ سوال کیا ” احق ھو “ کہ کیا یہ عذاب برحق ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا : قل ای وربی مطلب یہ ہے کہ عذاب برحق ہے اور تم ہمارے عذاب سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے اور نہ اس کو کسی طور روک سکتے ہو۔ (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:53) یستنبؤنک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استنباء (استفعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ آپ سے خبر پوچھتے ہیں۔ نبأ سے۔ احق ھو۔ میں ھو ضمیر کا مرجع عذاب موعود ہے۔ ای۔ ہاں۔ البتہ۔ حرف جواب ہے بمعنی نعم اور ہمیشہ قسم سے پہلے آتا ہے اور کلام مقدم کی تحقیق اور توثیق کیلئے وضع کیا گیا ہے۔ وربی ای واللہ۔ خدا کی قسم ۔ بخدا۔ معجزین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ عاجز بنا دینے والے۔ ہرا دینے والے۔ (منکرین حشر کا خیال تھا کہ قیامت نہیں آئے گی۔ نہ حشر نہ نشر نہ عذاب نہ ثواب۔ لیکن ہوگا یہ سب کچھ۔ ان چیزوں کے لانے سے وہ اللہ کو روک نہیں سکتے۔ اس کو عاجز نہیں بنا سکتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53 ارء یتم (کیا تم دیکھتے ہو، کیا تمہیں خبر ہے، بھلا بتائو تو) بیات (رات کو، رات گزارنا) یستفعجل (وہ جلدی مچاتا ہے) آلئن (اب، اسی وقت) ذوقوا (چکھو) الخلد (ہمیشہ) تجزون (تم بدلہ دیئے جائو گے) یستنبونک (وہ آپ سے خبر پوچھتے ہیں، معلوم کرنا چاہتے ہیں ) ای و ربی (ہاں ہاں میرے رب کی قسم) تشریح :- آیت نمبر 50 تا 53 اللہ تعالیٰ کا دستور اور قانون یہ ہے کہ وہ انسانوں کی توبہ کو اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک موت کے فرشتے سامنے نہ آجائیں یعنی اس پر جاں کنی شروع نہ ہوجائے۔ لیکن جب موت کے فرشتے سامنے آجاتے ہیں تو پھر کسی طرح اس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قیامت کی تصدیق مشر ک لوگ یہ بھی پوچھتے تھے کہ کیا سچ مچ قیامت ہوگی اور اس کے انکار کرنے والوں کو عذاب ہوگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو قسم خدا کی ! قیامت ضرور ہونے والی ہے۔ تم یہ نہ خیال کرو کہ ہم مٹی کے ڈھیر ہو کر پھر قبر سے کیوں کر نکل آئیں گے وہ دوبارہ پیدا کرسکتا ہے جس طرح اس نے پہلے پیدا کیا ہے۔ اس کا ایک فقط کن کا حکم کافی ہے، پھر اگر تم بھاگنا بھی چاہو تو رستہ نہ ملے گا۔ نہ کوئی حیلہ حوالہ پیش ہو سکے گا بلکہ عذاب ہو کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–56

(ف 1) بعض انبیاء کی بعثت کے بعد یہ یقین ہے کہ جو لوگ معاند ہوں انہیں تباہ کردیا جائے آفتاب ہدایت کے طلوع کے بعد کفر کی تاریکیوں کا چھٹ جانا ضروری ہے اور بدیہی ہے ۔ مکے والے بار بار پوچھتے تھے کہ کیا واقعی عذاب آجائے گا ، اور کیا واقعی ان کا انجام اچھا نہیں ، قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے ، کہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عذاب آئے گا اور ضرور آئے گا ۔ چنانچہ ان اصرار کرنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ، کہ میدان بدر میں کفر کی طاقت وقوت ہمیشہ کے لئے کم ہوگئی ہے ، عذاب طلب کرنے والے عذاب میں مبتلا ہوگئے اور اللہ کی غیرت نے ان کا خاتمہ کردیا ، قرآن کے الفاظ میں اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں اور حیرت و حسرت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

53 اور بڑے تعجب کے ساتھ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا تو جو کچھ کہتا ہے وہ واقعی حق اور سچ کو تھکانے اور عاجز کرنے والے نہیں ہو یعنی عذاب یا قرآن کریم یا اسلام غرض جو باتیں آپ کہتے اور بتاتے ہیں وہ سب امور واقعیہ ہیں یا کسی اور مصلحت سے آپ کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بھاگ کر عاجز نہ کرسکو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیوں نہیں اللہ کی باتوں میں کبھی شک ہوتا ہے 78 ؎ اے پغیمبر اسلام ! ﷺ یہ لوگ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ کیا قرآن کریم ، تمہارا دعوئے نبوت ، بعثت بعد الموت اور عذاب قبر واقعی سچ ہیں۔ آپ ﷺ انہیں کہہ دیں کہ میرے پروردگار کی قسم وہ بالکل سچ ہے تم اتنا بھی بل بوتا نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کو قیامت کے روز سے عاجز کرسکو۔ ظاہر ہے کہ ان کے اس سوال اور اظہار حیرت واستعجاب سے مقصود دریافت حال نہیں بلکہ تکذیب و تعریض ہے۔ اس طرح عذاب کے بارے میں جو وہ بار بار پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی وہ آئے گا یا یہ محض خالی دھمکیاں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں اللہ کی قسم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 51–56

It was said in verse أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنتُم بِهِ ۚ آلْآنَ. It means: ` Would you believe when Divine punishment actually descends down upon you - whether at the time of death, or even before it? But, at that time, the response to your believing will be: آلْآنَ ('al'an: now?) meaning: Is it now that you have come to believe while the time of believing has already passed? This is similar to what the Pharaoh said while drowning: آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَ‌ائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿90﴾ ("I believe that there is no god except the One in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–53

57. In response to the unbelievers' query, the Prophet (peace be on him) makes it clear that he had never claimed that he himself would come forth with the judgement mentioned above, or that it lay in his power to afflict people with punishment. There was no point, therefore, in asking him when the final judgement against them would come to pass. The warning of punishment had been given by God rather than by the Messenger. Hence it lay only in God's power to decide when His judgement should come to pass, and in which form God would execute His warning to punish unbelievers. 58. God does not…

Read the full tafseer →