Yunus 10:50

Yunus · from ayah 50

10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ ۟قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَتٰٮكُمۡ عَذَابُهٗ بَيَاتًا اَوۡ نَهَارًا مَّاذَا يَسۡتَعۡجِلُ مِنۡهُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Have you considered: if His punishment should come to you by night or by day - for which [aspect] of it would the criminals be impatient?"

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 5 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:50

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کو یا دن کو آ جائے (تو تم کیا کر سکتے ہو؟) آخر یہ ایسی کونسی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ فرما دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو تو عذاب میں کون سی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان سے کہو کہ : ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات کے وقت آئے یا دن کے وقت تو اس میں کون سی ایسی (اشتیاق کے قابل) چیز ہے جس کے جلد آنے کا یہ مجرم لوگ مطالبہ کر رہے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اس کا عذاب تم پر رات کو آئے یا دن کو تو اس میں وہ کونسی چیز ہے کہ مجرموں کو جس کی جلدی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیجئے: (اے کافرو!) ذرا غور تو کرو اگر تم پر اس کا عذاب (ناگہاں) راتوں رات یا دن دہاڑے آپہنچے (تو تم کیا کرلوگے؟) وہ کیا چیز ہے کہ مجرم لوگ اس سے جلدی چاہتے ہیں؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اس کا عذاب رات کو، یا دن کو آجائے تو مجرم اس میں سے کون سی چیز جلدی طلب کریں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے پوچھئے : ذرا سوچو تو اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو یا دن کو آجائے تو پھر مجرم لوگ آخر کس چیز کی جلدی مچا رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہو کہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات میں آدھمکے یا دن میں تو کیا چیز ہے جس کے بل پر مجرمین جلدی مچائے ہوئے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ تم لوگ اتنا تو سوچو کہ اگر (اچانک) ٹوٹ پڑے تم پر اس کا عذاب رات یا دن کے کسی بھی حصے میں، تو (تم لوگ کیا کرو گے ؟) آخر اس میں وہ کون سی چیز ہے جس کی جلدی مچا رہے ہیں یہ مجرم ؟

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ یہ تو بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو تو ان میں کون چیز ایسی ہے جس کے لئے مجرمین جلدی مچا رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ! ان سے) کہیے کیا تم نے غور کیا کہ اگر تمہارے اوپر اللہ کا عذاب (ناگہاں) آدھمکے رات کو یا دن کے وقت تو وہ کیا شے ہے جس کے بل پر یہ مجرم جلدی مچا رہے ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر اچانک آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them: 'Did you consider (what you would do) were His chastisement to fall upon you suddenly by night or by day? So why are the culprits seeking to hasten its coming?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Just tell me, if His punishment befalls you at night or by day, what (desirable thing) will it have that the sinners are asking it so hurriedly?

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Just tell me, if His punishment befalls you at night or by day, what (desirable thing) will it have that the sinners are asking it so hurriedly?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Tell me, if His torment should come to you by night or by day, which portion thereof would the criminals hasten on"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Have ye thought: When His doom cometh unto you as a raid by night, or in the (busy) day; what is there of it that the guilty ones desire to hasten?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Have you considered: if His punishment should come to you by night or by day - for which [aspect] of it would the criminals be impatient?"

— Saheeh International

Ask them, "What benefit can criminals get from their demand that God must punish them immediately if His words are true?" Whether His punishment befalls them during the day or night (they will not be able to escape).

— Muhammad Sarwar

Say: Tell me if His punishment overtakes you by night or by day! what then is there of it that the guilty would hasten on?

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: bethink ye, if His torment come on you by night or by day which Portion thereof would the culprlts hasten on?

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Do ye see,- if His punishment should come to you by night or by day,- what portion of it would the sinners wish to hasten?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–52

بےمعنی سوال کرنے والوں کو جواب ان کا بےفائدہ سوال دیکھو۔ وعدہ کا دن کب آئے گا ؟ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول ﷺ ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–53

سورة یُوْنُس 57 یعنی میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ فیصلہ میں چکاؤں گا اور نہ ماننے والوں کو میں عذاب دوں گا۔ اس لیے مجھ سے کیا پوچھتے ہو کہ فیصلہ چکائے جانے کی دھمکی کب پوری ہوگی۔ دھمکی تو اللہ نے دی ہے، وہی فیصلہ چکائے گا اور اسی کے اختیار میں ہے کہ فیصلہ کب کرے اور کس صورت میں اس کو تمہارے سامنے لائے۔ سورة یُوْنُس 58 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد باز نہیں ہے۔ اس کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اسی وقت جو ایمان لے آیا بس وہ تو رحمت کا مستحق قرار پایا اور جس کسی نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فورا عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–50

خلاصہ تفسیر اور ان کو وہ دن یاد دلایئے جس میں اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ (وہ سمجھیں گے کہ) یا وہ (دنیا یا برزخ میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے (چونکہ وہ دن مدید بھی ہوگا اور شدید بھی ہوگا، اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا) اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی لیکن ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے، اس اور رنج و صدمہ ہوگا، کیونکہ شناسا لوگوں سے توقع نفع کی ہوا کرتی ہے) واقعی (اس وقت سخت) خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ (دنیا میں بھی) ہدایت پانے والے نہ تھے (اس لئے آج خسارہ میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 50–52

50۔ 52:۔ قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَيَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ۔ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۭ اٰۗلْــٰٔنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔ ثُمَّ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۔ جلد بازوں سے ایک سوال : ان کے سوال " متی ھذا الوعد " کا جواب تو اوپر کی آیات میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے دلوا دیا لیکن ساتھ ہی ان کے سوال کے مقابل میں ایک سوال ان سے بھی کردیا کہ ان سے پوچھو کہ اس طنطنہ سے جو خدا کے عذاب سے متعلق سوال کر رہے ہو تو آخر کس بل بوتے پر کر رہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 یعنی عذاب تو ایک نہایت ہی ناپسندیدہ چیز ہے جس سے دل نفرت کرتے ہیں اور طبیعتیں انکار کرتی ہیں، پھر یہ اس میں کیا خوبی دیکھتے ہیں اور اس کو جلدی طلب کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–58

25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل ارء یتم ان اتکم عذابہ بیاتًا او نھارًا ما ذا یستعجل منہ المجرمون۔ آپ پوچھئے : یہ تو بتاؤ ‘ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات میں آپڑے (جبکہ تم نیند میں مشغول ہو) یا دن کو (جب تم کاروبار میں مصروف ہوتے ہو) تو عذاب میں کونسی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں۔ مَا ذَا میں استفہام تعجبی ہے ‘ یعنی تعجب ہے کہ عذاب جیسی ناگوار چیز کو جلد طلب کر رہے ہیں۔ ناگوار چیز کی عاجلانہ طلب تو نامناسب ہے۔ اِنْ اَتٰکُمْ کی جزاء محذوف ہے ‘ یعنی اگر رات کو یا دن کو عذاب آجائے گا تو اس وقت تم کو عجلت طلبی پر ندامت ہوگی اور اپنی غلطی جان لوگے۔ بغوی نے لکھا ہے : کفار عذاب جلد آجانے کے طلبگار تھے۔ ایک شخص نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی رات کو سوتے ہوئے یا دن میں جب تم دنیا کے دھندوں میں مشغول ہو، اگر اچانک خدا کا عذاب آجائے تو مجرم جلدی کر کے کیا بچاؤ کرسکیں گے ؟ جب بچاؤ نہیں کرسکتے پھر وقت پوچھنے سے کیا فائدہ ؟ مترجم (رح) نے (نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ ) 10 ۔ یونس :50) کا یہ ترجمہ حضرت شاہ صاحب کے مذاق کے موافق کیا ہے عموماً مفسرین نے یہ مطلب لیا ہے کہ عذاب الٰہی کے آنے میں کون سی ایسی خوشی اور مزے کی بات ہے، جس کی وجہ سے مجرمین جلدی طلب کر رہے ہیں۔ یا یہ کہ تعجب کا مقام ہے کہ مجرمین کیسی سخت خوفناک چیز کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ حالانکہ ایک مجرم کے لائق تو یہ تھا کہ وہ آنے والی سزا کے تصور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوْ نَہَارًا مَّاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُوْنَ یعنی یہ جو تم سینہ تان کر کہتے ہو کہ لے آؤ عذاب ! اور پھر کہتے ہو کہ آ کیوں نہیں جاتا ہم پر عذاب ! اور پھر استہزائیہ انداز میں استفسار کرتے ہو کہ یہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہونے جا رہا ہے ؟ تو کبھی تم لوگوں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے کہ اگر وہ عذاب کسی وقت اچانک تم پر آہی گیا ‘ رات کی کسی گھڑی میں یا دن کے کسی لمحے میں ‘ تو اس سے حفاظت کے لیے تم نے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ آخر تم لوگ کس بل بوتے پر عذاب کو للکار رہے ہو ؟ کس چیز کے بھروسے پر تم اس طرح جسارتیں کر رہے ہو ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 یعنی عذاب کے آنے میں ایسی کون سی مزے اور خوشی کی بات ہے جس کی وجہ سے مجرم اسے جلد طلب کر رہے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ تعجب کا مقام ہے کہ مجرم کیسی خوفناک چیز کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ایک مجرم کے لائق تو یہ تھا کہ وہ ملنے والی سزا کے تصور سے کانپ اٹھتا اور ڈر کے مارے ہلاک ہوجاتا۔ اور ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو اس وقت یہ لوگ جلد جلد اپنا کیا بچاؤ کرسکیں گے ؟ یہ عذاب طلب کرنے والوں کے لیے تیسرا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

79۔ یعنی عذاب الہی تو بڑی سخت اور پناہ مانگنے کی چیز ہے یہ اس کے لئے جلدی مچانے کے کیا معنی ؟ عارفین نے یہیں سے یہ اشارہ نکالا ہے کہ معصیت سے توبہ و استغفار میں اور عمل خیر کے اختیار میں توقف بلاضرورت ایک دم کا بھی نہ کیا جائے اس لئے کہ وقوع عذاب کے لئے کوئی علامت اور مہلت شرط نہیں، معصیت کے صدور کے ساتھ ہی جس قدر جلد ممکن ہو تو بہ تدارک پر متوجہ ہوجائے۔ (آیت) ” منہ “۔ ضمیر عذاب کی طرف ہے والضمیر فی منہ قیل یعود علی العذاب (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–53

آیت نمبر 41 تا 53 ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ارء یتم ان اتکم عذابہ بیاتًا او نھارًا ما ذا یستعجل منہ المجرمون۔ آپ پوچھئے : یہ تو بتاؤ ‘ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات میں آپڑے (جبکہ تم نیند میں مشغول ہو) یا دن کو (جب تم کاروبار میں مصروف ہوتے ہو) تو عذاب میں کونسی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں۔ مَا ذَا میں استفہام تعجبی ہے ‘ یعنی تعجب ہے کہ عذاب جیسی ناگوار چیز کو جلد طلب کر رہے ہیں۔ ناگوار چیز کی عاجلانہ طلب تو نامناسب ہے۔ اِنْ اَتٰکُمْ کی جزاء محذوف ہے ‘ یعنی اگر رات کو یا دن کو عذاب آجائے گا تو اس وقت تم کو عجلت طلبی پر ندامت ہوگی اور اپنی غلطی جان لو گے۔ بغوی نے لکھا ہے : کفار عذاب جلد آجانے کے طلبگار تھے۔ ایک شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(50) اے محمد ﷺ ان کفار مکہ سے آپ فرما دیجیے یہ تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو واقع ہوجائے تو پھر تم کیا کرو گے اور پھر عذاب الہی میں کون چیز ایسی ہے، جسے یہ مشرک لوگ جلدی مانگ رہے ہیں، اس پر اگر وہ کہیں کہ ہم ایمان لے آئیں گے تو آپ ان سے فرما دیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ۔۔ :”اَرَئَیْتُم“ کا لفظی معنی تو یہی ہے کہ ”کیا تم نے دیکھا“ مگر اہل عرب اس سے مراد ”اَخْبِرُوْنِیْ“ لیتے ہیں، یعنی اگر تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ ”بَیَاتاً“ یعنی رات کو، گھر کو ”بَیْتٌ“ اسی لیے کہتے ہیں کہ آدمی وہاں رات گزارتا ہے۔ یہ ان کے سوال ”مَتٰی ھٰذَ الْوَعْدُ“ کا دوسرا جواب ہے، یعنی اگر بالفرض عذاب رات سوتے ہوئے یا دن کی مصروفیت میں یک لخت آگیا تو وہ کون سی میٹھی اور خوش گوار چیز ہے کہ مجرم جلد از جلد اس کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ تو نہایت تلخ اور ناقابل برداشت چیز ہے، اس کے آنے کے بعد ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہو سکے گا اور آخرت میں دائمی عذاب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 50۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ارء یتم ان اتکم عذابہ بیاتا اونھارا “۔ یہ دو ظرفیں ہیں۔ اور یہ ان کے اس قول کا جواب ہے : (آیت) ” متی ھذا الوعد “۔ (یونس : 48) اور یہ ان کے عذاب کے جلدی آنے کے مطالبہ میں ان کی آراء کی بےوقوفی اور احمقانہ پن ہے، یعنی اگر تم پر عذاب آجائے تو اس میں تمہارا نفع کیا ہے اور اس وقت ایمان تمہیں کوئی نفع نہیں دے سکے گا۔ (آیت) ” ماذا یستعجل منہ المجرمون “۔ یہ استفہام بمعنی تہویل وتعظیم ہے، یعنی کتنی بڑی اور عظیم ہے وہ شے جس کے جلدی آنے کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں، جیسے اس کے لیے کہا جاتا ہے جو ایسے امر کا مطالبہ کرتا ہو جس کا انجام مضر ہو : تو اپنے خلاف کون سی چیز چن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–56

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] رَءَيْتُمْ [ تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ [ (کہ ) اگر ] اَتٰىكُمْ [ آئے تمہارے پاس ] عَذَابُهٗ [ اس کا عذاب ] بَيَاتًا [ رات بسر کرتے ہوئے ] اَوْ [ یا ] نَهَارًا [ دن کے وقت ] مَّاذَا [ وہ چیز ] يَسْتَعْجِلُ [ جلدی چاہتے ہیں ] مِنْهُ [ جس میں ] الْمُجْرِمُوْنَ [ مجرم لوگ ] (آیت ۔ 50) بیاتا کو ظرف بھی مانا جاسکتا ہے لیکن بہتر ہے کہ اس کو حال مانا جائے ، جبکہ نھارا ظرف ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُہٗ ) (الآیۃ) آپ ان سے فرما دیجئے یعنی سوال کیجئے کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو آجائے تو عذاب میں ایسی کون سی چیز ہے جس کی وجہ سے مجرمین عذاب کے جلدی لانے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب تو رات یا دن میں کسی وقت بھی نازل ہوسکتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ عذاب سخت چیز ہے اس کے آنے کی جلدی کیوں مچاتے ہیں ‘ عذاب میں ایسی کون سی چیز مرغوب ہے جسے جلد بلانا چاہتے ہیں۔ جب حقیقۃً عذاب مطلوب نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ عذاب لانے کی جلدی مچانے سے وعدہ عذاب کی تکذیب مقصود ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–56

تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

68: زجر مع تخویف دنیوی “ بَیَاتًا اَوْ نَھَارًا ” منصوب علی الظرفیة ہیں “ مَا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ ”“ مَا ذَا ” بمعنی “ اَيُّ شَیءٍ ” ہے مشرکین بہت عجلت کرتے اور عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اگر راتوں رات یا دن میں جبکہ وہ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں اچانک ہی اللہ کا عذاب آجائے تو یہ مجرم اور بدکردار لوگ جلدی کر کے اس سے بچاؤ کے لیے کیا حیلہ یا تدبیر عمل میں لائیں گے ؟ استفہام انکاری ہے یعنی اس سے بچنے کا کوئی حیلہ نہیں کرسکیں گے تو پھر اس کا وقت پوچھنے سے کیا فائدہ یا مطلب یہ ہے کہ عذاب کونسی خوشی کی چیز ہے جس کے جلدی آنے کا مجرمین مطالبہ کرتے ہیں اس صورت میں استفہام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–53

ربط آیات توحید کے بیان کے بعد قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے نبوت و رسالت کے مکذبین کا رد کیا ، ان کے شکوک و شبہات کو دور کیا اور ساتھ قیامت کا ذکر بھی کیا ، فرمایا ، آج یہ لوگ بڑے اعتراض کرتے ہیں مگر جب قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے تو خیال کریں گے کہ دنیا میں گھڑی بھر ٹھہرے پھر آگے عذاب کا لا محدود سلسلہ نظر آئے گا تو اس کے مقابلے میں اس دنیا اور برزخ کی زندگی کو نہایت مختصر عرصہ سمجھیں گے۔ وہاں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ فرمایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کی تکذیب کی وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہو کر بڑے خسارے میں رہیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی قیامت اور عذاب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُہٗ بَيَاتًا اَوْ نَہَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُوْنَ۝ 50 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–60

ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔ تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اَرَئَ ْیتُمْ اِنْ اَتٰـکُمْ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوْنَھَا رًامَّا ذَایَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (یونس : 50) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ذرا غور تو کرو کہ اگر آجائے تمہارے پاس اس کا عذاب راتوں رات یا دن دیہاڑے (تو تم کیا کرلو گے) وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے مجرم جلدی مچا رہے ہیں۔ ) جلد بازوں سے ایک سوال اس آیت کا اندازِ بیان نہایت سادہ ہونے کے باوجود نہایت طرحدار بھی ہے۔ انسانی نفسیات میں ڈوب کر پوچھا جارہا ہے کہ تمہاری زندگی شب و روز کی آمد و رفت کا نام ہی تو ہے۔ اسی آمد و رفت میں تمہاری زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ نہ تمہیں دن پر قدرت ہے نہ رات پر۔ البتہ لیل و نہار کی تمام گردشیں اور اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–53

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اے پیغمبر ﷺ ! ان سے استفسار فرمائیں کہ اگر ان پر اللہ کا عذاب دن کے وقت آئے یا رات کی کسی گھڑی میں آئے تو اسے کون ٹال سکتا ہے ؟ ان سے یہ بھی سوال کیجیے کہ مجرمو ! تم کس بات کی جلدی مچاتے ہو۔ مجرمانہ ذہن کی یہ علامت ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اچھی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ اکثر دفعہ اچھائی کی بجائے بری بات اور اس کے انجام کے لیے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جب اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو پھر بڑے بڑے مجرم ایمان لانے کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر اس وقت اللہ تعالیٰ کے ملائکہ جواب دیتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عذاب تو ذرا سا بھی برا ہے : 50: قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَتٰـکُمْ عَذَابُہٗ (آپ فرما دیجئے کہ یہ تو بتلائو کہ اگر تم پر خدا کا عذاب آپڑے) جس کو تم جلد مانگتے ہو۔ بَیَاتًا (رات کو) یہ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے یعنی سونے کے وقت میں اور وہ رات ہے۔ اس حال میں کہ تم غافل بےپرواہ سوئے ہوتے ہو۔ اَوْنَھَارًا (یا دن کو) اس حال میں کہ طلب معاش میں تم مشغول ہو۔ اور کام کر رہے ہو۔ مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُوْنَ (کیا جلدی کریں گے اس سے مجرم) اس عذاب سے مطلب یہ ہے کہ عذاب تمام کا تمام برا ہے اور نفرت و بھاگنے کے قابل ہے۔ پس تم اس میں سے کونسی چیز جلد مانگتے ہو۔ اس میں تو کوئی چیز بھی جلد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(50)” قل ارایتم ان اتا کم عذابہ بیاتا “ رات کو ” اونھارا ماذا یستعجیل منہ المجرمون “ یعنی مشرک لوگ اللہ تعالیٰ سے کیا چیز جلدی طلب کر رہے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مجرم لوگ عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں حالانکہ وہ اس میں واقع ہوچکے ہیں اور حقیقی معنی یہ ہے کہ وہ عذاب کو جلدی طلب کر رہے تھے اور وہ کہتے تھے ” الھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء او ائتنا بعذاب الیم ‘ ‘ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں ” ما یستعجل “ یعنی مجرمین نہیں جانتے کہ وہ کیا جلدی طلب کر رہے ہیں جیسے آدمی اپنے غیر کو کہتا ہے جس نے برا کام کیا ہو کہ تو نے خود پر کیا بنایت کی ہے ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–52

50۔ 52۔ جس طرح یہ مشرک قیامت کے دن کے عذاب کی جلدی مسخرا پن کے طور پر کرتے تھے اسی طرح دنیا کے عذاب کی بھی جلدی کرتے تھے اور حضرت رسول خدا ﷺ سے کہتے تھے کہ تم عذاب عذاب کہا کرتے ہو تو لو اپنے خدا سے کہہ کر ہم پر عذاب بھیج دو اس لئے فرمایا اے رسول اللہ ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیا جاوے کہ تم اب تو عذاب کی جلدی کر رہے ہو اور جب عذاب راتوں رات جس وقت تم غافل پڑے سوتے ہو یا دن کو جب تم اپنے کام دھندے میں لگے ہو گے اچانک آجاوے گا تو پھر کس بات کی جلدی کرو گے۔ عذاب تو ایک ایسی بری چیز ہے جس کے نام سے لوگ ڈرتے ہیں تو کیا عذاب آجانے سے تم ایمان لاؤ گے تو بتلاؤ ایسے وقت میں کہ تم عذاب میں گرفتار ہو گے اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–52

آیت : (50-52) (قل ارئیتم ان اتکم عذابہ بیاتا) ” کہہ دیجئے ! بتلاؤ ‘ اگر تمہارے پاس اس کا عذاب آجائے راتوں رات۔ “ یعنی رات کے وقت سوتے میں۔ (اونھارا) ” یا دن کو “ یعنی تمہاری غفلت کے وقت (ماذا یستعجل منہ المجرمون) ” و وہ کیا چیز ہے جس کے لئے مجرمین جلدی کا مطالبہ کر رہے ہیں ؟ “ یعنی وہ کون سی بشارت ہے ‘ جس کے لئے یہ جلدی مچا رہے ہیں اور کون سا عذاب ہے ‘ جس کی طرف یہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں ؟ (اثم اذا ما وقع امنتم بہ) ” کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہوچکے گا ‘ تب اس پر تم ایمان لاؤ گے ؟ “ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس ھال میں جب کہ وہ سمجھ رہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

88 ۔ عذاب الہی کے لیے جلدی مچانا نری حماقت۔ والعیاذ باللہ : سو منکرین و معاندین کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ بھلا تم لوگ اتنا تو سوچو کہ اگر وہ عذاب تم لوگوں پر رات یا دن کے کسی بھی حصے میں ٹوٹ پڑے تو پھر تم کیا کرو گے اور آخر کون سی چیز ہے وہ جس کے لیے تم لوگ اس طرح جلدی مچا رہے ہو ؟ پس یہ نری حماقت اور عین جہالت ہے کہ انسان عذاب سے پناہ مانگنے اور اس سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے الٹا اس کے جلد لائے جانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ سو جب وہ آگیا تو پھر تمہارے لیے سنبھلنے اور بچنے کا کوئی موقع کہاں رہے گا ؟ وہ تو اچانک اور کسی بھی وقت آسکتا ہے جیسا کہ مختلف زلزلوں سیلابوں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–54

قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–53

آیات 41 تا 53 اسرار و معارف ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 ۔ یہ ان کے سوال متی ھذا الوعدہ کا دوسرا جواب ہے یعنی اگر بالفرض عذاب آگیا تو اس کے وقو ع کے بعد ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہوسکے گا اور آخرت میں دائمی عذاب سامنے ہے پس جب حالت یہ ہے تو اس کے آنے کی کیوں جلدی مچا رہے ہیں (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:50) ارأیتم۔ اس میں بلفظ استفہام تنبیہ کے معنی میں ہے۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ کیا تم نے دیکھا۔ کیا تم نے سوچا۔ کیا تم نے غور کیا۔ بمعنی اخبرونی ہے (بھلا) مجھے بتاؤ تو سہی ۔ بیاتا۔ رات میں آپڑنا۔ رات میں سوتے دشمن پر حملہ کرنا۔ شبخون مارنا۔ رات کو آنا۔ جیسے فجاء ھا بأسنا بیاتا او ہم قائلون (7:4) پس آیا ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت (جب کہ وہ سوتے تھے) یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (دن کا آرام ) کرتے تھے۔ بیت۔ انسان کا رات کا ٹھکانہ۔ بعد میں مطلق مسکن کے لئے اور مکان کے لئے اسے بیت (گھر) کہا جانے لگا۔ ماذا۔ کیا چیز ہے۔ کیا ہے یہ۔ اس میں ما استفہام کے لئے اور ذا موصولہ ہے گویا یہ ما اور ذا سے مرکب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53 ارء یتم (کیا تم دیکھتے ہو، کیا تمہیں خبر ہے، بھلا بتائو تو) بیات (رات کو، رات گزارنا) یستفعجل (وہ جلدی مچاتا ہے) آلئن (اب، اسی وقت) ذوقوا (چکھو) الخلد (ہمیشہ) تجزون (تم بدلہ دیئے جائو گے) یستنبونک (وہ آپ سے خبر پوچھتے ہیں، معلوم کرنا چاہتے ہیں ) ای و ربی (ہاں ہاں میرے رب کی قسم) تشریح :- آیت نمبر 50 تا 53 اللہ تعالیٰ کا دستور اور قانون یہ ہے کہ وہ انسانوں کی توبہ کو اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک موت کے فرشتے سامنے نہ آجائیں یعنی اس پر جاں کنی شروع نہ ہوجائے۔ لیکن جب موت کے فرشتے سامنے آجاتے ہیں تو پھر کسی طرح اس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 50–52

مطلب یہ ہے کہ جس طرح عذاب کی جلدی مسخرہ پن کے طور پر کرتے تھے، اسی طرح دنیا کے عذاب کی بھی جلدی کرتے تھے اور حضرت رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ تم عذاب عذاب کہا کرتے ہو تو اپنے خدا سے کہہ کر ہم پر عذاب بھیجوا دو ۔ اس لئے فرمایا :" اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اب تو عذاب کی جلدی کر رہے ہو اور جب عذاب راتوں رات جس وقت تم غافل پڑے سوتے وہ، یا دن کو جب تم اپنے کام دھندے میں لگے ہوتے ہو، اچانک آجاوے گا تو پھر کس بات کی جلدی کرو گے۔ عذاب ایسی بری چیز ہے جس کے نام سے لوگ ڈرتے ہیں تو کیا عذاب آجانے سے تم ایمان لاؤ گے، وہ بیکار ہوگا "۔ پھر فرمایا کہ قیامت کے دن جب یہ مجرم دوزخ میں ڈالے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–51

عذاب کا وقت : (ف 2) مکہ والے بربنائے استہزاء عذاب کے طالب تھے ، کہتے تھے کہ جب آپ شب وروز ہمیں عذاب سے ڈراتے ہیں ، تو پھر وہ آکیوں نہیں جاتا ، اور کیوں ہمیں انکار ومعصیت کے لئے زندہ رہنے دیا جاتا ہے ، گویا ان کے خیال میں اللہ جو انہیں ڈھیل دے رہا ہے ، اور مواخذہ میں تعجیل نہیں کرتا ، تو یہ ان کے لئے ہمت افزائی ہے ، قرآن نے جواب دیا ہے کہ کسی قوم کے متعلق آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، پیغمبر نفع وضرر کا مالک نہیں ، اللہ جب تک چاہے مجرموں کو ڈھیل دے ، اور جب ان کے جرائم حد سے تجاوز کر جاتے ہیں ، تب ان کی تباہی کا وقت آجاتا ہے ، اور پھر نہ تاخیر ہوتی ہے اور نہ خرابی میں کسر رکھی جاتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

50 آپ ان سے کہیے بھلا یہ تو بتلائو کہ اگر خدا کا عذاب تم پر رات میں یا دن میں کسی وقت آواقع ہو تو وہ عذاب آخر کیا چیز ہے جس کی یہ گنہگار جلدی مچا رہے ہیں یعنی عذاب تو آخر عذاب ہے وہ کوئی جلدی طلب کرنے کی چیز تو نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بچائو نہ کرسکو گے پھر پوچھنے کا کیا فائدہ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یعنی عذاب تو سخت ہولناک اور پناہ مانگنے کی چیز ہے نہ جلدی مانگنے کی چیز۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اچھا اگر اس کا حکم عذاب آ ہی جائے تو آخر تم اس وقت کیا کرو گے ؟ 75 ؎ غور کرو کہ عذاب الٰہی تو بڑی سخت اور پناہ مانگنے کی چیز ہے۔ یہ لوگ اس کے لئے جلدی مچا رہے ہیں ؟ یہ اور اس جیسی دوسری آیات میں فکر انسانی کی جس گمراہی کو ” استعجال بال عذاب “ سے تعبیر کیا گیا ہے وہ صرف انہی منکرین حق کی گمراہی نہ تھی جو ظہور اسلام کے وقت اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے تھے بلکہ ہر زمانہ میں انسان کی ایک عالم گیر کج اندیشی رہی ہے۔ وہ بسا اوقات فطرت کی اس مہلت بخشی سے فائدہ اٹھانے کی جگہ شر و فساد میں اور زیادہ نڈر اور جری ہوجاتا ہے اور کہتا ہے اگر فی الحقیقت حق و باطل کیلئے ان کے نتائج و عواقب ہیں تو وہ نتائج…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–50

Commentary In verse 45, it was said: يَتَعَارَ‌فُونَ بَيْنَهُمْ (they will recognize each other), that is, when the dead will be raised from their graves, they will recognize each other as if not much time had passed when they met last. Imam al-Baghawi said: This recognition will be possible during the early stage. Later, when the horrendous happenings of the Qiyamah, the Day of Doom, will unfold, this ability to recognize each other will stand disabled. According to some other narrations, the ability to recognize each other will, though, still remain, but such will be the awe of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–53

57. In response to the unbelievers' query, the Prophet (peace be on him) makes it clear that he had never claimed that he himself would come forth with the judgement mentioned above, or that it lay in his power to afflict people with punishment. There was no point, therefore, in asking him when the final judgement against them would come to pass. The warning of punishment had been given by God rather than by the Messenger. Hence it lay only in God's power to decide when His judgement should come to pass, and in which form God would execute His warning to punish unbelievers. 58. God does not…

Read the full tafseer →