Explained with ayahs 48–52
بےمعنی سوال کرنے والوں کو جواب
ان کا بےفائدہ سوال دیکھو۔ وعدہ کا دن کب آئے گا ؟ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول ﷺ ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
سورة یُوْنُس 57
یعنی میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ فیصلہ میں چکاؤں گا اور نہ ماننے والوں کو میں عذاب دوں گا۔ اس لیے مجھ سے کیا پوچھتے ہو کہ فیصلہ چکائے جانے کی دھمکی کب پوری ہوگی۔ دھمکی تو اللہ نے دی ہے، وہی فیصلہ چکائے گا اور اسی کے اختیار میں ہے کہ فیصلہ کب کرے اور کس صورت میں اس کو تمہارے سامنے لائے۔
سورة یُوْنُس 58
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد باز نہیں ہے۔ اس کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اسی وقت جو ایمان لے آیا بس وہ تو رحمت کا مستحق قرار پایا اور جس کسی نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فورا عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
خلاصہ تفسیر
اور ان کو وہ دن یاد دلایئے جس میں اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ (وہ سمجھیں گے کہ) یا وہ (دنیا یا برزخ میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے (چونکہ وہ دن مدید بھی ہوگا اور شدید بھی ہوگا، اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا) اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی لیکن ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے، اس اور رنج و صدمہ ہوگا، کیونکہ شناسا لوگوں سے توقع نفع کی ہوا کرتی ہے) واقعی (اس وقت سخت) خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ (دنیا میں بھی) ہدایت پانے والے نہ تھے (اس لئے آج خسارہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48۔ 49: وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔ قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۭاِذَا جَاۗءَ اَجَلُھُمْ فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۔ جلد بازوں کو جواب : یعنی جب ان کو اس حقیقت نفس الامری سے آگاہ کیا جاتا ہے تو بجائے اس کے کہ متنبہ ہوں اور خطرے سے بچنے کی راہ اختیار کریں اس کا مذاق اڑاتے ہیں، پیغمبر اور اس کے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو آخر تمہاری یہ دھمکی واقعہ کی صورت میں کیوں نہیں ظاہر ہوتی ؟ تم کب سے یہی رٹ لگائے ہوئے ہو، آخر یہ چیز کب واقع…
Read the full tafseer →49۔ 1 یہ مشرکین کے عذاب الٰہی مانگنے پر کہا جا رہا ہے کہ میں تو اپنے نفس کے لئے بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ چہ جائیکہ کہ میں کسی دوسرے کو نقصان یا نفع پہنچا سکوں، ہاں سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی مشیت کے مطابق ہی کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ نے ہر امت کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے، اس وقت تک مہلت دیتا ہے۔ لیکن جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکتے ہیں نہ آگے سرک سکتے ہیں۔
تنبیہ : یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ جب افضل الخلائق سید الرسل حضرت محمد ﷺ تک کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں، تو آپ کے بعد انسانوں میں اور کون سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →قل لا املک لنفسی ضرًا ولا نفعًا الا ما شآء اللہ (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی جان کے نفع نقصان کا بھی مالک نہیں ‘ سوائے اتنی مقدار کے جتنی مقدار کا (مالک بنانا) اللہ نے چاہا۔ یعنی ضرر کو دفع کرنے اور نفع و حاصل کرنے کی مجھے قدرت نہیں۔ صرف اتنی قدرت ہے جتنی اللہ نے دینی چاہی۔ یا الاَّ مَا شَآء اللّٰہُ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہی ہوتا ہے۔ مجھے اپنے نفع و ضرر پر قدرت نہیں۔
لکل امۃ اجل (ا اللہ کے علم میں) ہر امت کی ہلاکت کی ایک میعاد مقرر ہے۔
اذا جاء اجلھم فلا یستاخرون ساعۃً ولا یستقدمون۔ سو جب ان کا وہ معین وقت آ پہنچتا ہے تو (اس وقت) نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہیں نہ آگے…
Read the full tafseer →4 یعنی عذاب وغیرہ بھیجنا خدا کا کام ہے، میرے قبضہ اور اختیار میں نہیں۔ میں خود اپنے نفع نقصان کا صرف اسی قدر مالک ہوں جتنا اللہ چاہے۔ پھر دوسروں پر کوئی بھلائی برائی وارد کرنے کا مستقل اختیار مجھے کہاں سے ہوتا۔ ہر قوم کی ایک مدت اور میعاد خدا کے علم میں مقرر ہے۔ جب میعاد پوری ہو کر اس کا وقت پہنچ جائے گا، ایک سیکنڈ کا تخلف نہ ہو سکے گا۔ غرض عذاب کے لیے جلدی مچانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ خدا کے علم میں جو وقت طے شدہ ہے اس سے ایک منٹ آگے پیچھے نہیں سرک سکتے۔ زمخشری کے نزدیک ( لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :34) اس سے کنایہ ہے کہ عذاب کا اپنے وقت معین پر آنا اٹل…
Read the full tafseer →لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ط
جیسے ہر امت کے لیے ایک رسول علیہ السلام ہے ‘ اسی طرح ہر امت کے لیے اس کی اجل مہلت کی مدت بھی مقرر کردی گئی ہے۔ اللہ کی مشیت اور حکمت کے مطابق ان کے لیے مقرر کردہ وقت بہر حال پورا ہو کر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
65 عذاب کے وعدہ پر کافروں کا مذاق اور اس کا جواب :۔ کافروں کو دھمکی یہ دی گئی تھی کہ اگر وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کریں گے تو انھیں ذلت اور رسوائی نصیب ہوگی اور بالآخر اسلام کا بول بالا ہوگا لیکن کافروں کی سمجھ میں یہ بات آہی نہیں سکتی تھی کہ یہ مٹھی بھر ستم رسیدہ اور بےسروسامان مسلمان کسی وقت ان پر غالب آجائیں گے لہذا وہ از راہ تمسخر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ بھئی اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو ایسا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ ان کے اس تمسخر کا جواب اللہ نے دو طرح سے دیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر صرف اتنا ہی…
Read the full tafseer →77۔ (اور بس اتنے ہی نفع ونقصان پر قادر ہوتا ہوں، تم پر عذاب لے آنا میرے اختیار میں کہاں) یہ بےاختیاری عین شان عبدیت کے مطابق، جب افضل البشر بلکہ افضل الرسل کی تھی تو مشائخ واولیاء امت کو اپنے اعتقاد میں مرتبہ خدائی پر پہنچا دینے والے حضرات ذرا اپنیا انجام پر غور کرلیں۔
78۔ (بلکہ وقت معین آجانے پر فورا ہی عذاب واقع ہوجاتا ہے) (آیت) ” لکل امۃ اجل “۔ یعنی نافرمان و سرکش ہر امت کے مٹنے اور برباد ہونے کا ایک معین ومقرر وقت علم الہی میں ہے۔ (آیت) ” امۃ “۔ کے عام لفظ سے مراد وہی عذاب زدہ امتیں ہیں۔ اے من الامم الذین اصروا علی تکذیب رسلھم (روح) (آیت) ” ساعۃ “۔ ساعت سے یہاں مراد کوئی متعین وقت ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…
Read the full tafseer →قل لا املک لنفسی ضرًا ولا نفعًا الا ما شآء اللہ (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی جان کے نفع نقصان کا بھی مالک نہیں ‘ سوائے اتنی مقدار کے جتنی مقدار کا (مالک بنانا) اللہ نے چاہا۔ یعنی ضرر کو دفع کرنے اور نفع و حاصل کرنے کی مجھے قدرت نہیں۔ صرف اتنی قدرت ہے جتنی اللہ نے دینی چاہی۔ یا الاَّ مَا شَآء اللّٰہُ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہی ہوتا ہے۔ مجھے اپنے نفع و ضرر پر قدرت نہیں۔
لکل امۃ اجل (ا اللہ کے علم میں) ہر امت کی ہلاکت کی ایک میعاد مقرر ہے۔
اذا جاء اجلھم فلا یستاخرون ساعۃً ولا یستقدمون۔ سو جب ان کا وہ معین وقت آ پہنچتا ہے تو (اس وقت) نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہیں نہ آگے…
Read the full tafseer →(49) سو آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کے حاصل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا مگر جتنا اختیار نفع حاصل کرنے اور ضرر کے دور کرنے کا اللہ کو منظور ہے۔
ہر ایک دین والوں کے لیے ایک وقت مقررہ اور مہلت ہے سو جب ان کی ہلاکت کا وہ وقت آپہنچتا ہے تو اس وقت ایک گھڑی بھی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ : یعنی یہ تعیین میرے اختیار میں نہیں، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہے، جب وہ آجائے گا پھر ایک لمحے کا آگا پیچھا نہیں ہوگا۔
قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ۔۔ : یعنی تمہاری موت کا وقت یا عذاب آنے کا وقت سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے، جب چاہے گا تم پر عذاب بھیجے گا اور جب تک نہیں چاہے گا نہیں بھیجے گا۔ رہا تمہارا مجھ سے اصرار تو میں تمہیں کیا بتاؤں، میں تو خود اپنی ذات کے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے، میرے اختیار میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 49۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل لا املک لنفسی ضرا ولا نفعا “۔ جب انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا : اے محمد ﷺ آپ انہیں فرما دیجئے میں اپنے آپ کے لیے ضرر کا اور نہ نفع کا مالک نہیں ہوں، یعنی اس کی ملکیت نہ اپنے لیے ہے اور نہ اپنے سوا کسی اور کے لیے۔ (آیت) ” الا ما شآء اللہ “۔ مگر جتنا اللہ تعالیٰ چاہے کہ میں اس کا مالک ہوں اور اس پر قادر ہوں، تو میں کیسے قادر ہو سکتا ہوں کہ میں اس کا مالک بنوں جس کے جلدی آنے کا تم نے مطالبہ کیا پس تم جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔ (آیت) ” لکل امۃ اجل “۔ یعنی ہر قوم کی ہلاکت اور اس پر عذاب آنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] لَّآ اَمْلِكُ [ میں اختیار نہیں رکھتا ] لِنَفْسِيْ [ اپنی جان کے لیے ] ضَرًّا [ کسی تکلیف کا ] وَّلَا نَفْعًا [ اور نہ کسی نفع کا ] اِلَّا [ مگر ] مَا [وہ جو ] شَاۗءَ [ چاہے ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ ] لِكُلِّ اُمَّةٍ [ ہر ایک امت کے لیے ] اَجَلٌ ۭ [ خاتمے کا ایک وقت ہے ] اِذَا [جب بھی ] جَاۗءَ [ آئے گا ] اَجَلُھُمْ [ ان کا وقت ] فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ [ تو وہ لوگ نہ پیچھے ہوں گے ] سَاعَةً [ ایک گھڑی ] وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ [ اور نہ آگے ہوں گے ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (قُلْ لَّا اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّنَفْعًا اِلَّا مَا شَآء اللّٰہُ ) (آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے کسی نفع اور ضرر کا مالک نہیں ہوں مگر جو کچھ اللہ چاہے) جب اپنے بارے میں میرا یہ حال ہے تو تم پر عذاب لانا یہ میرے اختیار میں کیسے ہوسکتا ہے۔ مجھ سے تقاضا کرنا جاہلانہ بات ہے۔ (لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ اِذَا جَآءَ اَجَلُھُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ) (ہر امت کیلئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا مقررہ وقت آپہنچے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں) ۔
عذاب کا وقت آجانے پر عذاب واقع ہوجائے گا جن امتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت
قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…
Read the full tafseer →66: یہ جواب شکویٰ برسبیل ترقی ہے یعنی تم مجھ سے عذاب یا قیامت لانے کا مطالبہ کرتے ہو تو یہ بہت بڑی بات ہے میں تو اپنے نفع اور نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔ ہر چیز کا مالک و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے عذاب لانا میرے بس کی بات نہیں “ لما استعجلوا النبی صلی اللہ علیه وسلم بالعذاب قال اللہ له قل لھم یا محمد لا املک لنفسي ضرًا و لا نفعًا اي لیس ذٰلک لی ولا لغیري ” (قرطبی) “ اي لا اقدر علی شیئ منهما بوجه من الوجوه ” (روح ج 11 ص 130) اور “ اِلَّا مَا شَاءَ ” استثناء منقطع ہے یعنی میں تو اپنے نفع اور نقصان کا بھی مختار نہیں البتہ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے۔ “ اي ولکن ما شاء اللہ من ذلک کائن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
ربط آیات
توحید کے بیان کے بعد قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے نبوت و رسالت کے مکذبین کا رد کیا ، ان کے شکوک و شبہات کو دور کیا اور ساتھ قیامت کا ذکر بھی کیا ، فرمایا ، آج یہ لوگ بڑے اعتراض کرتے ہیں مگر جب قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے تو خیال کریں گے کہ دنیا میں گھڑی بھر ٹھہرے پھر آگے عذاب کا لا محدود سلسلہ نظر آئے گا تو اس کے مقابلے میں اس دنیا اور برزخ کی زندگی کو نہایت مختصر عرصہ سمجھیں گے۔ وہاں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ فرمایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کی تکذیب کی وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہو کر بڑے خسارے میں رہیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی قیامت اور عذاب…
Read the full tafseer →قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللہُ 0 ۭ لِكُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ 0 ۭ اِذَا جَاۗءَ اَجَلُھُمْ فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ 49
ملك
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور، وذلک يختصّ بسیاسة الناطقین، ولهذا يقال : مَلِكُ الناسِ ، ولا يقال : مَلِك الأشياءِ ، وقوله : مَلِكِ يومِ الدّين [ الفاتحة/ 3] فتقدیره : الملک في يوم الدین، وذلک لقوله : لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْواحِدِ الْقَهَّارِ [ غافر/ 16]
( م ل ک ) الملک
( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
1 ؎ آیت کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ہر قوم کا ایک رسول ہے۔ پھر جب قیامت میں رسول آئے گا۔ اس کے روبرو ان کا فیصلہ انصاف سے کیا جاوے گا اور ظلم نہ ہوگا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قُلْ لاَّ ٓاَمْلِکُ لِنَفْسِیْ ضَرّٰاوَّلاَ نَفْعًا اِلاَّ مَاشَآئَ اللّٰہُ ط لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ط اِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَلاَ یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلاَ یَسْتَقْدِمُوْنَ ۔ (یونس : 49)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے میں مالک نہیں ہوں اپنے آپ کے لیے، نقصان کا نہ نفع کا۔ مگر جو اللہ چاہے۔ ہر امت کے لیے میعاد مقرر ہے۔ جب ان کی مقرر میعاد آجائے گی تو نہ وہ ایک لمحہ پیچھے رہ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ )
قریش کے مطالبہ عذاب کا جواب
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے قریش کے مطالبہ عذاب کا نبی کریم ﷺ کو جواب دینے کا حکم فرمایا۔ اور آپ ﷺ نے جس طرح اللہ کی ہدایت کے مطابق جواب ارشاد فرمایا، اس سے اگر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کرنے پر کفار کو اس کا جواب۔
کفار اور مشرکین کا ابتدا ہی سے انبیائے کرام کے ساتھ یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ ان سے ایسے مطالبات کرتے ہیں جن کا تعلق انبیاء کی نبوت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن منکرین نبوت انبیاء سے اس لیے اپنے مطالبات منوانے پر زور دیتے تھے تاکہ عوام الناس کو ذہنی طور پر الجھا کر یہ مغالطہ دیا جائے کہ اگر یہ شخص واقعی اللہ کا رسول ہوتا تو ہمارا مطالبہ پورا کردیتا۔ اگر یہ ہمارا مطالبہ پورا کر دے تو ہم اپنی قوم کے ساتھ مل کر اس کے دست وبازو بن جائیں گے۔ لیکن یہ شخص ہمارا مطالبہ پورا کر نہیں سکتا…
Read the full tafseer →49: قُلْ ( کہہ دیں اے محمد ﷺ ) لَّااَمْلِکُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا (میں مالک نہیں ہوں اپنے نفس کیلئے ذرہ بھر نقصان) جیسے مرض یا فقر وَّ لَا نَفْعًا (اور نہ نفع کا) یعنی صحت یا مالداری اِلَّا مَاشَآ ئَ اللّٰہُ (مگر جو چاہے اللہ تعالیٰ ) یہ مستثنیٰ منقطع ہے یعنی مگر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ ہو۔ پس کس طرح میں تمہارے لئے نقصان اور عذاب کھینچ کر لاسکتا ہوں۔ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ اِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ فَـلَا یَسْتَاْ خِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَایَسْتَقْدِمُوْنَ (ہر امت کا ایک وقت مقر رہے جب انکاوقت مقررہ آجاتا ہے تو ایک گھڑی کیلئے وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں) ہر امت کیلئے…
Read the full tafseer →(49)” قل لا املک لنفسی ضرا ولا نفعا “ یعنی نہ نقصان کو دور کرنے کا اور نہ نفع حاصل کرنے کا ” الا ما شاء اللہ “ کہ میں اس کا مالک ہو جائوں ” لکل امۃ اجل “ مدت متعین کی گئی ہے۔ ” اذا جاء اجلھم “ ان کی عمروں کے فناء ہونے کا وقت ” فلا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “ نہ تو ایک گھڑی موخر ہوسکتی ہے اور نہ پہلے آسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48۔ 49۔ مشرک لوگ حضرت رسول خدا ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ جو بار بار قیامت کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس روز تمہیں تمہارے بد اعمالی کی سزا ملے گی یہ عذاب ہوگا وہ عذاب ہوگا تو بتلائے وہ دن کب ہے اور کب ہوگا جلدی سے وہ ایک دن آن کر ہمیں کچھ نقصان کیوں نہیں پہنچ جاتا اس واسطے اللہ نے اس کا جواب اپنے رسول کو بتلایا کہ ان سے کہہ دو کہ میں آپ اپنی جان کا مالک نہیں ہوں نہ کوئی نفع اپنے کو پہنچا سکتا ہوں اور نہ نقصان پھر میں دوسروں کو کیا نفع نقصان پہنچا سکتا ہوں اور اللہ کے علم غیب میں جو میرا نفع یا نقصان ہے جب اس کا حال مجھ کو معلوم نہیں تو قیامت کے آنے کا خاص وقت میں تم لوگوں کو کیوں کر بتلا سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
آیت : (47-49)
(ولکل امۃ) ” ہر امت کے لئے “ یعنی گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے لئے (رسول) ایک رسول مبعوث کیا گیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتا تھا۔ (فاذا جاء رسولھم) ” پس جب ان کا رسول آتا۔ “ یعنی ان کے پاس آیات الٰہی لے کر آتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کی تصدیق کرتے اور دوسرے اس کو جھٹلاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا ‘ اہل ایمان کو نجات دیتا اور جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیتا۔ (وھم لا یظلمون) ” اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا “ یعنی رسول بھیجنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے یا کسی جرم کے بغیر ان کو عذاب نہیں دیا گیا ‘ اس لئے آپ کو جھٹلانے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
87 ۔ نفع و نقصان اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ نفع و نقصان کا مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ چناچہ پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے کہو کہ میں تو اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ نقصان کا بلکہ ہر قسم کے نفع و نقصان کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سو یہ ہے پیغمبر کا صاف وصریح اعلان کہ میں خود اپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ نقصان کا۔ نفع و نقصان سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور مشیت اور اختیار بہرحال اسی وحدہ لاشریک کا ہے جو اس کائنات کا خالق ومالک ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی
تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرار و معارف
ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں
دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ تو دوسروں کو نفع یا نقصان پہنچانا یا ان پر اپنی مرضی سے عذاب نازل کرنا میرے اختیار میں کیونکر ہوسکتا ہے۔ (وکائی) یہ منکرین نبوت کے پانچویں شبہ کا جواب ہے کہ آنحضرت ﷺ جب ان کو عذاب کی دھمکی دیتے تو وہ متی ھذا الوعد کہہ کر اعتراض کرتے۔ اگلی آیت میں اسی کا جواب ہے۔ (کبیر) ۔
11 ۔ یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی پر موقوف ہے۔ وہی جب چاہے گا تم پر عذاب بھیجے گا اور جب تک نہیں چاہے گا نہیں بھیجے گا۔ قاضی شوکانی فرماتے ہیں : اس آیت میں جن لوگوں کو سخت تننبیہ ہے جو مصیبتوں اور مشکل کی گھڑیوں میں۔ جنہیں اللہ کے سوا کوئی ٹال نہیں سکتا۔ نبی ﷺ کو پکارتے اور آپ ﷺ سے مدد طلب کرتے ہیں یا نبی ﷺ سے…
Read the full tafseer →(10:49) اجل ۔ مدت مقررہ۔ وقت معین۔
لا یستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ دیر نہیں کرسکتے۔ وہ تاخیر نہیں کرسکتے۔ استساخر یستاخر استئخار (استفعال) اخر مادہ۔ لا یستقدمون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استقدام (استفعال) مصدر وہ اول نہیں ہوسکتے۔ وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ تقدم (تاخیر کی ضد ) نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
یحشر (وہ جمع کرے گا) لم یلبثوا (وہ نہ ٹھہریں گے) ساعۃ (ایک گھڑی، کچھ مدت) خسر (نقصان اٹھایا) نرین (ہم ضرور دکھائیں گے) نعد (ہم وعدہ کرتے ہیں) نتوفین (ہم وفات دیں گے، موت دیں گے) شھید (گواہ) قضی (فیصلہ کردیا گیا) القسط (انصاف، پورا پورا) لا املک (میں مالک نہیں ہوں) اجل (مدت ، موت) لایستاخرون (وہ دیر نہیں کرتے ہیں) لایستقدمون (وہ آگے نہیں بڑھتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
وہ دن جب کہ اللہ تعالیٰ اس نظام کائنات کو توڑ کر ایک ایسی نئی زمین تیار فرمائیں گے جس میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو ایک جگہ جمع فرمائیں گے۔ اسی کو میدان حشر کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
مشرکین کا مسخرا پن کہ قیامت کب آئے گی اور عذاب کب آئے گا
شان نزول : جب اوپر کی آیت میں عذاب کی وعید دی گئ تو کافروں نے براہ سر کشی یہ کہا کہ اے محمد ﷺ ! جس عذاب کا آپ وعدہ دیتے ہیں وہ کب آئے گا ۔ اس میں کیا تاخیر ہے، اس عذاب کو جلد لایئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! تم ان سے کہہ دو کہ دشمنوں پر عذاب نازل کرنا اور دوستوں کی مدد کرنا اور انہیں غلبہ دینا یہ سب مشیت الہی پر ہے۔ اور مشیت الٰہی میں اس کے ہلاک و عذاب کا ایک وقت معین ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ جب آجاتا ہے تو گھڑی بھر بھی دیر نہیں لگتی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
عذاب کا وقت :
(ف 2) مکہ والے بربنائے استہزاء عذاب کے طالب تھے ، کہتے تھے کہ جب آپ شب وروز ہمیں عذاب سے ڈراتے ہیں ، تو پھر وہ آکیوں نہیں جاتا ، اور کیوں ہمیں انکار ومعصیت کے لئے زندہ رہنے دیا جاتا ہے ، گویا ان کے خیال میں اللہ جو انہیں ڈھیل دے رہا ہے ، اور مواخذہ میں تعجیل نہیں کرتا ، تو یہ ان کے لئے ہمت افزائی ہے ، قرآن نے جواب دیا ہے کہ کسی قوم کے متعلق آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، پیغمبر نفع وضرر کا مالک نہیں ، اللہ جب تک چاہے مجرموں کو ڈھیل دے ، اور جب ان کے جرائم حد سے تجاوز کر جاتے ہیں ، تب ان کی تباہی کا وقت آجاتا ہے ، اور پھر نہ تاخیر ہوتی ہے اور نہ خرابی میں کسر رکھی جاتی ہے ۔
Read the full tafseer →49 آپ فرما دیجئے ! کہ میں تو اپنے لئے بھی کسی نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے ہاں ! ہر قوم اور امت کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وہ وقت مقرر آجاتا ہے تو اس وقت سے نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ اس وقت سے آگے بڑھ سکتے ہیں یعنی مجھ سے کیا پوچھتے ہو کہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہوگا مجھے تو اپنے ہی امور میں اختیار حاصل نہیں مگر جو اللہ چاہے تو تمہارے عذاب کے وقت کا مجھے اختیار کب ہے جو میں بتائوں البتہ اتنا جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہر امت کا ایک وقت متعین ہے جب وہ وقت آجائے گا تو کسی کو اس سے آگے یا پیچھے ہٹنے کی مجال نہ ہوگی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ف 2۔ پس جب اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں تو دوسرے کے نفع و نقصان کا تو کیونکہ مالک ہوں گا پس عذاب واقع کرنا میرے اختیار میں نہیں۔
3۔ اسی طرح تمہارے عذاب کا بھی وقت معین ہے اس وقت اس کا وقوع ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آپ اعلان کردیں کہ میرے اختیار میں کیا ہے ، وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے
۔ 73 مخالفین و معاندین بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ وعدہ جس کا بار بار ہم کو آپ وعدہ دے رہے ہیں اس کو لے کیوں نہیں آتے ؟ ان کے اس مطالبہ کا جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلامچ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم پر عذاب لے آنا میرے اختیار میں کہاں ہے اور میں تم کو جو عذاب الٰہی کی خبر سنا رہا ہوں تو وہ میں نے اپنی طرف سے کب سنائی ہے۔ میں نے تم کو پیغام الٰہی سنایا ہے۔ مجھ سے مطالبہ کیوں کرتے ہو میں تو اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں سوائے اس کے کہ جتنا نفع و نقصان اللہ مجھے پہنچانا چاہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
Commentary
In verse 45, it was said: يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ (they will recognize each other), that is, when the dead will be raised from their graves, they will recognize each other as if not much time had passed when they met last.
Imam al-Baghawi said: This recognition will be possible during the
early stage. Later, when the horrendous happenings of the Qiyamah, the Day of Doom, will unfold, this ability to recognize each other will stand disabled. According to some other narrations, the ability to recognize each other will, though, still remain, but such will be the awe of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
57. In response to the unbelievers' query, the Prophet (peace be on him) makes it clear that he had never claimed that he himself would come forth with the judgement mentioned above, or that it lay in his power to afflict people with punishment. There was no point, therefore, in asking him when the final judgement against them would come to pass. The warning of punishment had been given by God rather than by the Messenger. Hence it lay only in God's power to decide when His judgement should come to pass, and in which form God would execute His warning to punish unbelievers.
58. God does not…
Read the full tafseer →