Yunus 10:48

Yunus · from ayah 48

10:48

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "When is [the fulfillment of] this promise, if you should be truthful?"

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 5 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:48

کہتے ہیں اگر تمہاری یہ دھمکی سچّی ہے تو آخر یہ کب پُوری ہو گی؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ (کافر) لوگ (مسلمانوں سے مذاق اڑانے کے لیے) کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو (اللہ کی طرف سے عذاب کا) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ (طعنہ زنی کے طور پر) کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (عذاب) کب (پورا) ہوگا (مسلمانو! بتاؤ) اگر تم سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز وہ یہ پوچھتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو جو دھمکی ہمیں دے رہے ہو وہ کب پوری ہوگی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ کہتے ہیں کہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی اگر تم سچے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (عذاب) (آخر) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ کہتے ہیں کہ کب یہ (عذاب کا) وعدہ پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کا یہ وعدہ ہے کب آئے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

They say:'If what you promise is true, when will this threat be fulfilled?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :When will this promise (of punishment to the disbelievers) be fulfilled if you are true?

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :When will this promise (of punishment to the disbelievers) be fulfilled if you are true?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they say: "When will be this promise (the torment or the Day of Resurrection), if you speak the truth"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: When will this promise be fulfilled, if ye are truthful?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "When is [the fulfillment of] this promise, if you should be truthful?"

— Saheeh International

They ask, "If you (believers) speak the truth, when will your promise (about the Day of Judgment) be fulfilled?"

— Muhammad Sarwar

And they say: When will this threat come about, if you are truthful?

— Muhammad Habib Shakir

And they say: when cometh this promise, if ye say sooth?

— Abdul Majid Daryabadi

They say: "When will this promise come to pass,- if ye speak the truth?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–52

بےمعنی سوال کرنے والوں کو جواب ان کا بےفائدہ سوال دیکھو۔ وعدہ کا دن کب آئے گا ؟ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول ﷺ ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–48

سورة یُوْنُس 55 ”امت“ کا لفظ یہاں محض قوم کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ ایک رسول کی آمد کے بعد اس کی دعوت جن جن لوگوں تک پہنچے وہ سب اس کی امت ہیں۔ نیز اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ رسول ان کے درمیان زندہ موجود ہو، بلکہ رسول کے بعد بھی جب تک اس کی تعلیم موجود رہے اور ہر شخص کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن ہو کہ وہ درحقیقت کس چیز کی تعلیم دیتا تھا، اس وقت تک دنیا کے سب لوگ اس کی امت ہی قرار پائیں گے اور ان پر وہ حکم ثابت ہوگا جو آگے بیان کیا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے محمد ﷺ کی تشریف آوری کے بعد تمام دنیا کے انسان آپ کی امت ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک قرآن اپنی خالص صورت میں شائع ہوتا رہے گا۔ اسی وجہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–50

خلاصہ تفسیر اور ان کو وہ دن یاد دلایئے جس میں اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ (وہ سمجھیں گے کہ) یا وہ (دنیا یا برزخ میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے (چونکہ وہ دن مدید بھی ہوگا اور شدید بھی ہوگا، اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا) اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی لیکن ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے، اس اور رنج و صدمہ ہوگا، کیونکہ شناسا لوگوں سے توقع نفع کی ہوا کرتی ہے) واقعی (اس وقت سخت) خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ (دنیا میں بھی) ہدایت پانے والے نہ تھے (اس لئے آج خسارہ میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–49

48۔ 49: وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔ قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۭاِذَا جَاۗءَ اَجَلُھُمْ فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۔ جلد بازوں کو جواب : یعنی جب ان کو اس حقیقت نفس الامری سے آگاہ کیا جاتا ہے تو بجائے اس کے کہ متنبہ ہوں اور خطرے سے بچنے کی راہ اختیار کریں اس کا مذاق اڑاتے ہیں، پیغمبر اور اس کے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو آخر تمہاری یہ دھمکی واقعہ کی صورت میں کیوں نہیں ظاہر ہوتی ؟ تم کب سے یہی رٹ لگائے ہوئے ہو، آخر یہ چیز کب واقع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 47–48

47 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہر امت میں ہم رسول بھیجتے رہے۔ اور جب رسول اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرچکتا تو پھر ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیتے۔ یعنی پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو بچا لیتے اور دوسروں کو ہلاک کردیتے۔ کیونکہ " وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا " اور ہماری عادت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب بھیج دیا جاتا یا بغیر حجت تمام کیے، ان کا مواخذہ کرلیا جاتا۔ (فتح القدیر) اور دوسرا مفہوم اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق قیامت سے ہے یعنی قیامت والے دن ہر امت جب اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگی، تو اس امت میں بھیجا گیا رسول بھی ساتھ ہوگا۔ سب کے اعمال نامے بھی ہوں گے اور فرشتے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–58

25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ویقولون متٰی ھذا الوعد اور (کفار مکہ) کہتے ہیں کہ یہ (عذاب کا) وعدہ کب (پورا ) ہوگا جس سے تم ہم کو ڈرا رہے ہو۔ ان کنتم صدقین۔ اگر تم لوگ (محمد (ﷺ) اور آپ کے ساتھی) سچے ہو تو عذاب موعود کو لے آؤ۔ کفار مکہ نے یہ بات بطور استہزاء کہی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی عذاب آنے کی جو دھمکیاں دیتے ہو، محض جھوٹ اور بےاصل ہیں۔ اگر واقعی تم سچے ہو تو لے کیوں نہیں آتے۔ آخر یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 47–48

فَاِذَاجَآءَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُمْ بالْقِسْطِ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ اس کی وضاحت کے لیے حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوموں کے معاملات کو ذہن میں رکھئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 48–49

65 عذاب کے وعدہ پر کافروں کا مذاق اور اس کا جواب :۔ کافروں کو دھمکی یہ دی گئی تھی کہ اگر وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کریں گے تو انھیں ذلت اور رسوائی نصیب ہوگی اور بالآخر اسلام کا بول بالا ہوگا لیکن کافروں کی سمجھ میں یہ بات آہی نہیں سکتی تھی کہ یہ مٹھی بھر ستم رسیدہ اور بےسروسامان مسلمان کسی وقت ان پر غالب آجائیں گے لہذا وہ از راہ تمسخر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ بھئی اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو ایسا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ ان کے اس تمسخر کا جواب اللہ نے دو طرح سے دیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر صرف اتنا ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

76۔ سوال بہ طور استفسار حال اور بہ غرض اظہار حقیقت نہیں بلکہ تعریض وتکذیب کی غرض سے ہے۔ (آیت) ” کنتم صدقین “۔ سوال کے مخاطب تنہا رسول اللہ ﷺ نہیں، بلکہ جماعت مومنین بھی ہے۔ چناچہ صیغہ جمع اسی لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–53

آیت نمبر 41 تا 53 ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویقولون متٰی ھذا الوعد اور (کفار مکہ) کہتے ہیں کہ یہ (عذاب کا) وعدہ کب (پورا) ہوگا جس سے تم ہم کو ڈرا رہے ہو۔ ان کنتم صدقین۔ اگر تم لوگ (محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی) سچے ہو تو عذاب موعود کو لے آؤ۔ کفار مکہ نے یہ بات بطور استہزاء کہی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(48) اور ہر ایک قوم اپنے اپنے رسولوں سے یوں کہتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ عذاب کب پورا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ۔۔ : جب مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان کا محاسبہ کرنے کے خلاف کفار کے پاس کوئی دلیل نہ رہ جاتی تو ان کا آخری تیر یہ تھا کہ لاؤ وہ قیامت، وہ عذاب لاتے کیوں نہیں، یہ وعدہ جو تم کرتے ہو کب پورا ہوگا ؟ اس کا جواب تو واضح ہے کہ جب معلوم ہو کہ امتحان ہونا یقینی ہے، پھر آدمی محض اس لیے تیاری نہ کرے یا اس کا انکار کرے کہ اس کی تاریخ بتاؤ، ڈیٹ شیٹ کیا ہے، تو ایسے آدمی کی بےعقلی میں کیا شبہ ہے۔ مگر ان کے اصرار پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو یہ جواب دینے کے لیے کہا جو اگلی آیت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 48۔ مراد کفار مکہ ہیں کیونکہ وہ اپنے انکار کی زیادتی اور اپنے لیے عذاب کے جلدی آنے کی طلب میں یہ کہتے تھے : عذاب کب آئے گا یا وہ قیامت کب آئے گی جس کے بارے محمد ﷺ ہم سے وعدہ کرتے ہیں ؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ عام ہے ہر اس امت کو جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–56

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَتٰى [ کب ] هٰذَا الْوَعْدُ [ یہ وعدہ ہے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُاِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) جب بار بار عذاب کی وعید سنتے تھے تو منکرین کہتے تھے کہ عذاب وعید کہاں تک سنیں ‘ کب ہوگا یہ عذاب ؟ ایک مرتبہ آ ہی جائے تو ہم بھی دیکھ لیں کیسا عذاب ہوتا ہے ‘ عذاب آنے میں جو دیر محسوس کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ڈھیل تھی اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے مزید تکذیب میں آگے بڑھ جاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو تو اسے پورا کر کے دکھاؤ اور عذاب بھی لے آؤ۔ ان کا یہ قول استفہام انکاری کے طور پر تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–56

تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

65: یہ شکویٰ ہے۔ مشرکین مکہ فرط انکار اور ضد وعناد کی وجہ سے آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ جس عذاب یا قیامت سے تو ہمیں ڈراتا ہے وہ کہاں ہے اور کب آئے گا اسے جلدی لاؤ۔ “ یرید کفار مکة لفرط انکارھم واستعجالھم العذاب اي متی العقاب او متی الساعة التی یعدنا محمد ” (قرطبی ج 8 ص 349) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–53

ربط آیات توحید کے بیان کے بعد قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے نبوت و رسالت کے مکذبین کا رد کیا ، ان کے شکوک و شبہات کو دور کیا اور ساتھ قیامت کا ذکر بھی کیا ، فرمایا ، آج یہ لوگ بڑے اعتراض کرتے ہیں مگر جب قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے تو خیال کریں گے کہ دنیا میں گھڑی بھر ٹھہرے پھر آگے عذاب کا لا محدود سلسلہ نظر آئے گا تو اس کے مقابلے میں اس دنیا اور برزخ کی زندگی کو نہایت مختصر عرصہ سمجھیں گے۔ وہاں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ فرمایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کی تکذیب کی وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہو کر بڑے خسارے میں رہیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی قیامت اور عذاب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 48 متی مَتَى: سؤال عن الوقت . قال تعالی: مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] ، ( م ت ی ) متی ۔ یہ اسم استفہام ہے اور کسی کام کا وقت دریافت کرنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] یہ وعدہ کب ( پورا ہوگا ) صدق والصِّدْقُ : مطابقة القول الضّمير والمخبر عنه معا، ومتی انخرم شرط من ذلک لم يكن صِدْقاً تامّا، بل إمّا أن لا يوصف بالصّدق، وإمّا أن يوصف تارة بالصّدق، وتارة بالکذب علی نظرین مختلفین، کقول کافر إذا قال من غير اعتقاد : محمّد رسول الله، فإنّ هذا يصحّ أن يقال : صِدْقٌ ، لکون المخبر عنه كذلك، ويصحّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–49

1 ؎ آیت کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ہر قوم کا ایک رسول ہے۔ پھر جب قیامت میں رسول آئے گا۔ اس کے روبرو ان کا فیصلہ انصاف سے کیا جاوے گا اور ظلم نہ ہوگا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (یونس : 48) (وہ کہتے ہیں کب پورا ہوگا یہ عذاب کا وعدہ، اگر تم سچے ہو۔ ) ہدایت سے انکار انسان کو فہم و شعور سے عاری کردیتا ہے اس آیت کریمہ سے دو باتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ پہلی یہ بات کہ انسان بھی عجیب واقع ہوا ہے۔ جب یہ بگاڑ کا راستہ اختیار کرلیتا ہے تو اپنے حالات، اپنے احباب اور اپنے گردوپیش کی دنیا میں اس طرح سمٹ کر رہ جاتا ہے کہ نہ اس پر نصیحت اثر کرتی ہے اور نہ کوئی دلیل اس کے دماغ میں اترتی ہے۔ اللہ کے رسول کی شخصیت سے بڑھ کر کوئی دلآویز شخصیت نہیں ہوتی۔ اس کی گفتگو سے زیادہ کوئی آواز موثر نہیں ہوتی، کسی کی زبان سے اس کی زبان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–48

فہم القرآن ربط کلام : ظالموں کا انجام۔ قرآن مجید کا انکار اور سرور دو عالم ﷺ سے تکرار کرنے کی بنیادی وجہ آخرت کا انکار تھا۔ جس آدمی کا یہ عقیدہ ہو کہ میں نے مرنے کے بعد اٹھ کر رب ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہے ایسا شخص زیادہ عرصہ تک قرآن مجید کے حقائق اور صاحب قرآن کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہ بےباکی اور غفلت اسی شخص میں پیدا ہوا کرتی ہے جو اپنے رب کی ملاقات کا عملاً یا اعتقاداً منکر ہو۔ اس بناء پر منکرین قرآن کو احساس دلایا جارہا ہے کہ اس دن کو یاد کرو۔ جب سب کو اکٹھا کیا جائے گا تم ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچانو گے۔ باوجود اس کے کہ تم ایک عرصہ تک دنیا میں رہے مگر قیامت کی ہولناکیوں کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48: تو فرمایا اگر ہم آپ کو بعض حصہ اس عذاب کا دکھادیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں جب کفار نے عذاب مانگنے میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ وَ یَقُوْ لُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ (وہ کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ) یعنی وعدئہ عذاب اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ عذاب اترنے والا ہے۔ یہ منہم کا خطاب نبی اکرم ﷺ اور مؤمنین تمام سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(48)” ویقولون “ یعنی شرک کرنے والے ” متیٰ ھذا الوعد “ جس عذاب کا اے محمد ﷺ آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ قیامت کا قائم ہونا مراد ہے۔ ” ان کنتم صادقین “ اے محمد ﷺ آپ اور آپ (علیہ السلام) کی اتباع کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–49

48۔ 49۔ مشرک لوگ حضرت رسول خدا ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ جو بار بار قیامت کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس روز تمہیں تمہارے بد اعمالی کی سزا ملے گی یہ عذاب ہوگا وہ عذاب ہوگا تو بتلائے وہ دن کب ہے اور کب ہوگا جلدی سے وہ ایک دن آن کر ہمیں کچھ نقصان کیوں نہیں پہنچ جاتا اس واسطے اللہ نے اس کا جواب اپنے رسول کو بتلایا کہ ان سے کہہ دو کہ میں آپ اپنی جان کا مالک نہیں ہوں نہ کوئی نفع اپنے کو پہنچا سکتا ہوں اور نہ نقصان پھر میں دوسروں کو کیا نفع نقصان پہنچا سکتا ہوں اور اللہ کے علم غیب میں جو میرا نفع یا نقصان ہے جب اس کا حال مجھ کو معلوم نہیں تو قیامت کے آنے کا خاص وقت میں تم لوگوں کو کیوں کر بتلا سکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–49

آیت : (47-49) (ولکل امۃ) ” ہر امت کے لئے “ یعنی گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے لئے (رسول) ایک رسول مبعوث کیا گیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتا تھا۔ (فاذا جاء رسولھم) ” پس جب ان کا رسول آتا۔ “ یعنی ان کے پاس آیات الٰہی لے کر آتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کی تصدیق کرتے اور دوسرے اس کو جھٹلاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا ‘ اہل ایمان کو نجات دیتا اور جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیتا۔ (وھم لا یظلمون) ” اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا “ یعنی رسول بھیجنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے یا کسی جرم کے بغیر ان کو عذاب نہیں دیا گیا ‘ اس لئے آپ کو جھٹلانے والے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

87 ۔ نفع و نقصان اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ نفع و نقصان کا مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ چناچہ پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے کہو کہ میں تو اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ نقصان کا بلکہ ہر قسم کے نفع و نقصان کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سو یہ ہے پیغمبر کا صاف وصریح اعلان کہ میں خود اپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ نقصان کا۔ نفع و نقصان سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور مشیت اور اختیار بہرحال اسی وحدہ لاشریک کا ہے جو اس کائنات کا خالق ومالک ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–54

قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–53

آیات 41 تا 53 اسرار و معارف ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 47–48

ف 8 ۔ پیغمبر اور اس کے ساتھی بچ گئے اور جھٹلانے والے تباہ ہوگئے۔ (نیز دیکھئے سورة اسراء آیت 51) اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود اس قوم کا فیصلہ ہوگیا اور وہ اس طرح کہ اس کے دو گروہ ہوگئے۔ جو ایمان لائے بچ گئے اور جو ایمان نہ لائے تباہ ہوگئے۔ 9 ۔ یعنی وہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے تباہ کردئیے جاتے ہیں۔ انہیں بےگناہ سزا نہیں دی جاتی اور نہ حجت تمام کئے بغیر ان کا مواخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول ﷺ پہنچ کر سزاملتی ہے۔ (موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:48) الوعد۔ دھمکی ۔ عذاب کا وعدہ۔ اکثر جگہ روز قیامت مراد ہے۔ اسم ومصدر مرفوع معرف باللام ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–49

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49 یحشر (وہ جمع کرے گا) لم یلبثوا (وہ نہ ٹھہریں گے) ساعۃ (ایک گھڑی، کچھ مدت) خسر (نقصان اٹھایا) نرین (ہم ضرور دکھائیں گے) نعد (ہم وعدہ کرتے ہیں) نتوفین (ہم وفات دیں گے، موت دیں گے) شھید (گواہ) قضی (فیصلہ کردیا گیا) القسط (انصاف، پورا پورا) لا املک (میں مالک نہیں ہوں) اجل (مدت ، موت) لایستاخرون (وہ دیر نہیں کرتے ہیں) لایستقدمون (وہ آگے نہیں بڑھتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 49 وہ دن جب کہ اللہ تعالیٰ اس نظام کائنات کو توڑ کر ایک ایسی نئی زمین تیار فرمائیں گے جس میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو ایک جگہ جمع فرمائیں گے۔ اسی کو میدان حشر کہا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–49

مشرکین کا مسخرا پن کہ قیامت کب آئے گی اور عذاب کب آئے گا شان نزول : جب اوپر کی آیت میں عذاب کی وعید دی گئ تو کافروں نے براہ سر کشی یہ کہا کہ اے محمد ﷺ ! جس عذاب کا آپ وعدہ دیتے ہیں وہ کب آئے گا ۔ اس میں کیا تاخیر ہے، اس عذاب کو جلد لایئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! تم ان سے کہہ دو کہ دشمنوں پر عذاب نازل کرنا اور دوستوں کی مدد کرنا اور انہیں غلبہ دینا یہ سب مشیت الہی پر ہے۔ اور مشیت الٰہی میں اس کے ہلاک و عذاب کا ایک وقت معین ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ جب آجاتا ہے تو گھڑی بھر بھی دیر نہیں لگتی ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–48

(ف 1) یعنی منکرین ومعاندین کے لئے دو قسم کی سزائیں ہیں ایک وہ جو دنیا میں واقع ہوں گی اور دوسری کا تعلق آخرت سے ہے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ مخالفین رسول دونوں قسم کی سزاؤں کے مستحق ہیں ، دنیا میں ان کی ذلت وتحقیر آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ، کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے ۔ ’ اما “ میں ، ان حرف شرط ہے ما تزئین کلام کے لئے اضافہ ہے ، اور جواب شرط محذوف ہے ۔ فتراہ : یعنی ہم تمہیں اگر یہ عذاب جو ان کے لئے مقدر ہے یہاں دکھائیں گے ، تو آپ یہاں دیکھ لیں گے ، ورنہ آخرت میں تو ان کی ذلت آشکارا ہو کر ہی رہے گی ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

48 اور دین حق کے منکر یوں کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدئہ عذاب کب پورا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

ف 2۔ پس جب اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں تو دوسرے کے نفع و نقصان کا تو کیونکہ مالک ہوں گا پس عذاب واقع کرنا میرے اختیار میں نہیں۔ 3۔ اسی طرح تمہارے عذاب کا بھی وقت معین ہے اس وقت اس کا وقوع ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہتے ہیں کہ تم سچے ہو تو وہ عذاب آ کیوں نہیں جاتا ؟ ۔ 72 بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر بیشمار دلیلیں ان کے سامنے پیش کی گئیں لیکن ان کی بگڑی ہوئی طبیعتیں اور مسخ شدہ ذہنیتیں ان سے متاثر نہ ہوئیں اور انہوں نے ایک ہی رٹ لگائی تھی کہ جس عذاب کی آپ ہمیں دھمکیاں دیا کرتے ہیں وہ آ کیوں نہیں جاتا گویا انہوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک عذاب الٰہی کی بجلی ان کے خرمن زندگی کو جلا کر راکھ نہ کر دے وہ دعوت حق کو قبول نہیں کریں گے۔ کتنے نادان ہیں اور ان کی بدبختی کا کون اندازہ لگا سکتا ہے اور کون سمجھائے کہ جب تمہاری زندگی ہی باقی نہ رہی تو پھر مانے گا آخر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–50

Commentary In verse 45, it was said: يَتَعَارَ‌فُونَ بَيْنَهُمْ (they will recognize each other), that is, when the dead will be raised from their graves, they will recognize each other as if not much time had passed when they met last. Imam al-Baghawi said: This recognition will be possible during the early stage. Later, when the horrendous happenings of the Qiyamah, the Day of Doom, will unfold, this ability to recognize each other will stand disabled. According to some other narrations, the ability to recognize each other will, though, still remain, but such will be the awe of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–48

55. The Qur'anic expression ummah is not to be taken in the narrow sense in which the word 'nation' is used. The word ummah embraces all those who receive the message of a Messenger of God after his advent. Furthermore, this word embraces even those among whom no Messenger is physically alive, provided that they have received his message. All those who, after the advent of a Messenger, happen to live in an age when the teachings of that Messenger are extant or at least it is possible for people to know about what he had taught, constitute the ummah of that Messenger, Besides, all such people…

Read the full tafseer →