Explained with ayahs 46–47
اللہ تعالیٰ مقتدر اعلی ہے
فرمان ہے کہ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلالیں۔ بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے۔ اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا گذشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے۔ آپ نے فرمایا ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم
اپنے کسی ساتھی کو پہنچانتے ہو ایسے ہی میں نے انھیں پہچان لیا ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
سورة یُوْنُس 55
”امت“ کا لفظ یہاں محض قوم کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ ایک رسول کی آمد کے بعد اس کی دعوت جن جن لوگوں تک پہنچے وہ سب اس کی امت ہیں۔ نیز اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ رسول ان کے درمیان زندہ موجود ہو، بلکہ رسول کے بعد بھی جب تک اس کی تعلیم موجود رہے اور ہر شخص کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن ہو کہ وہ درحقیقت کس چیز کی تعلیم دیتا تھا، اس وقت تک دنیا کے سب لوگ اس کی امت ہی قرار پائیں گے اور ان پر وہ حکم ثابت ہوگا جو آگے بیان کیا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے محمد ﷺ کی تشریف آوری کے بعد تمام دنیا کے انسان آپ کی امت ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک قرآن اپنی خالص صورت میں شائع ہوتا رہے گا۔ اسی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
خلاصہ تفسیر
اور ان کو وہ دن یاد دلایئے جس میں اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ (وہ سمجھیں گے کہ) یا وہ (دنیا یا برزخ میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے (چونکہ وہ دن مدید بھی ہوگا اور شدید بھی ہوگا، اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا) اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی لیکن ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے، اس اور رنج و صدمہ ہوگا، کیونکہ شناسا لوگوں سے توقع نفع کی ہوا کرتی ہے) واقعی (اس وقت سخت) خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ (دنیا میں بھی) ہدایت پانے والے نہ تھے (اس لئے آج خسارہ میں…
Read the full tafseer →وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۔ رسول کی تکذیب کے باب میں سنت الٰہی : یہ قریش کو انذار ہے اس سنت الٰہی کی روشنی میں جس کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت تمام کرنے کے لیے ہر قوم میں اپنے رسول بھیجے، یہ رسول خدا کی عدالت بن کر آئے اور ان کے ذریعے سے اس قوم کے درمیان حق و باطل کا فیصلہ کردیا گیا، جو لوگ رسول پر ایمان لائے ان کو نجات و فلاح حاصل ہوئی اور جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے رہ گئے ان کی جڑ کاٹ دی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ اب یہی مرحلہ قریش کے لیے بھی درپیش ہے۔ ان کے لیے بھی خدا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
47 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہر امت میں ہم رسول بھیجتے رہے۔ اور جب رسول اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرچکتا تو پھر ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیتے۔ یعنی پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو بچا لیتے اور دوسروں کو ہلاک کردیتے۔ کیونکہ " وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا " اور ہماری عادت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب بھیج دیا جاتا یا بغیر حجت تمام کیے، ان کا مواخذہ کرلیا جاتا۔ (فتح القدیر) اور دوسرا مفہوم اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق قیامت سے ہے یعنی قیامت والے دن ہر امت جب اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگی، تو اس امت میں بھیجا گیا رسول بھی ساتھ ہوگا۔ سب کے اعمال نامے بھی ہوں گے اور فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →ولکل امۃ رسولٌ اور ہر امت کیلئے ایک رسول ہوا ہے۔ رسول سے مراد ہے قاصد ‘ حکم پہنچانے والا ‘ اسلام کی دعوت دینے والا۔
فاذا جآء رسولھم قضي بینھم بالقسط وھم لا یظلمون۔ سو جب ان کا رسول (ﷺ) ان کے پاس آچکا اور (اور احکام پہنچا چکا اور انہوں نے رسول (ﷺ) کی تکذیب کی تو) اس کے بعد انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ کیا گیا اور ان پر ظلم نہیں کیا گیا۔ یعنی جب رسول (ﷺ) نے معجزات پیش کر دئیے اور اس کے بعد بھی انہوں نے نہ مانا اور رسول (ﷺ) کو جھوٹا قرار دیا تو اللہ نے رسول (ﷺ) کا اور اس کی امت کا فیصلہ انصاف سے کردیا۔ تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کردیا اور مؤمنوں کو اور رسول (ﷺ) کو محفوظ رکھا اور ہمارا یہ فیصلہ مبنی…
Read the full tafseer →2 پہلے اس امت اور اس کے رسول اکرم ﷺ کا ذکر تھا۔ اب عام اقوام و امم کا ضابطہ بتلاتے ہیں کہ ہر جماعت اور فرقہ کے پاس خدا کے احکام پہنچانے والے بھیجے گئے ہیں جن کو " رسول " کہیے۔ تاکہ خدا کی حجت تمام ہو، اتمام حجت سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیا جاتا۔ لوگ عمل پہلے سے کرتے ہیں۔ مگر دنیا میں ان کو سزا رسول پہنچنے اور حجت تمام کرنے کے بعد دی جاتی ہے۔ خدا کے یہاں یہ ظلم اور اندھیر نہیں کہ بدون پیشتر سے آگاہ کرنے اور ملزم ثابت ہونے کے مجرموں کو فیصلہ سنا دیا جائے۔ قیامت میں بھی باقاعدہ پیشی ہوگی، فرد جرم لگائیں گے، گواہ پیش ہوں گے، ہر قوم کے ساتھ ان کے پیغمبر موجود ہوں گے۔ ان کے بیانات وغیرہ کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فَاِذَاجَآءَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُمْ بالْقِسْطِ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ
اس کی وضاحت کے لیے حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوموں کے معاملات کو ذہن میں رکھئے۔
Read the full tafseer →64 اور یہ ضابطہ صرف آپ کی امت سے ہی مختص نہیں بلکہ تمام امتوں کے متعلق اللہ کا یہی دستور رہا ہے کہ جب لوگ اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو خبردار کرنے کے لیے اپنا رسول بھیجتا ہے اس طرح لوگوں پر اتمام حجت کرتا ہے پھر کچھ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ اس کا انکار کرکے اس کے درپے آزار ہوجاتے ہیں اس طرح حق اور باطل کی سرد اور گرم جنگ شروع ہوجاتی ہے اور اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ وہ حق پرستوں کی تائید کرتا ہے اور باطل پرستوں کو ذلت اور عذاب سے دوچار کردیتا ہے اور اللہ کا یہ فیصلہ اس لیے انصاف پر مبنی ہوتا ہے کہ اللہ اتمام حجت سے پہلے کسی کو سزا نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →75۔ پوری طرح تبلیغ احکام اور اتمام حجت کے بعد سرکشوں اور باغیوں پر اجراء سزا میں کوئی سوال ہی ظلم اور زیادتی کا باقی نہیں رہ جاتا۔ (آیت) ” ولکل امۃ “۔ امت سے مراد امت مکلف ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ہر وہ امت جسے ارادۂ الہی نے مکلف بنانا چاہا، اسے پہلے تبلیغ ضرور کی گئی، وقد یقال ان المراد میں کل امۃ کل جماعۃ اراد اللہ تعالیٰ تکلیفھا (روح) اس تشریح کے بعد یہ سوال خود بخود ہوجاتا ہے کہ جو لوگ دور رفترۃ میں (یعنی نبی کے وجود سے پیشتر) گزرے ہیں، ان کا کیا حشر ہوگا ؟۔۔۔ جواب بالکل ظاہر ہے کہ جب ان پر تبلیغ ہی نہیں ہوئی تو وہ لوگ مکلف ہی نہیں ٹھیرے۔ ان سے سوال صرف ان کی استعداد وفہم وبصیرت کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…
Read the full tafseer →ولکل امۃ رسولٌ اور ہر امت کیلئے ایک رسول ہوا ہے۔ رسول سے مراد ہے قاصد ‘ حکم پہنچانے والا ‘ اسلام کی دعوت دینے والا۔
فاذا جآء رسولھم قضي بینھم بالقسط وھم لا یظلمون۔ سو جب ان کا رسول ﷺ ان کے پاس آچکا اور (اور احکام پہنچا چکا اور انہوں نے رسول ﷺ کی تکذیب کی تو) اس کے بعد انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ کیا گیا اور ان پر ظلم نہیں کیا گیا۔ یعنی جب رسول ﷺ نے معجزات پیش کر دئیے اور اس کے بعد بھی انہوں نے نہ مانا اور رسول ﷺ کو جھوٹا قرار دیا تو اللہ نے رسول ﷺ کا اور اس کی امت کا فیصلہ انصاف سے کردیا۔ تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کردیا اور مؤمنوں کو اور رسول ﷺ کو محفوظ رکھا اور ہمارا یہ فیصلہ مبنی بر انصاف تھا۔…
Read the full tafseer →(47) اور ہر ایک دین والوں (یعنی قوم) کے لیے ایک رسول ہوا ہے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی دعوت دیتا رہا سو جب ان کا وہ رسول ان کے پاس آچکتا ہے اور وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کے اور ان کے رسوول کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جاتا ہے یا کہ ایسی نافرمان قوم کو ہلاک اور ان کے رسول کو بچا لیا جاتا ہے اور ان کی نیکیوں میں سے ذرا بھی کمی نہیں کی جاتی اور نہ ان کی برائیوں میں کچھ اضافہ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ۔۔ : اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک وہ جو اس آیت کا مفہوم ہے : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : 15 ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ یعنی دنیا میں ہر قوم کی طرف کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجا جاتا ہے، پھر اس کی نافرمانی اور فرماں برداری کو مدنظر رکھ کر جزا و سزا کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ بےگناہ کو سزا نہیں ہوتی اور نہ حجت تمام کیے بغیر ان کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول پہنچ کر سزا ملتی ہے۔“ (موضح) پہلی امتوں میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 47۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولھم قضی بینھم بالقسط “۔ معنی یہ ہوگا : ہر امت کے لیے ایک رسول ہے وہ ان پر شاہد ہوگا، جب ان کا رسول قیامت کے دن آئے گا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس کی مثل یہ ہے (آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید “۔ (النساء : 41) (تو کیا حال ہوگا (ان نافرمانوں کا) جب ہم لے آئیں گے ہر امت سے ایک گواہ) اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کل (قیامت کے دن) کفار اپنے رسولوں کے آنے کا انکار کردیں گے، تو ایک رسول لایا جائے گا اور وہ کہے گا : تحقیق میں نے تم تک پیغام پہنچایا، تو اس وقت ان کے خلاف عذاب کا فیصلہ کردیا جائے گا، اس کی دلیل اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔
Read the full tafseer →وَلِكُلِّ اُمَّةٍ [ اور ہر ایک امت کے لیے ] رَّسُوْلٌ ۚ [ ایک رسول ہے ] فَاِذَا [ پس جب بھی ] جَاۗءَ [ آتا ہے ] رَسُوْلُھُمْ [ ان کا رسول ] قُضِيَ [ تو فیصلہ کردیا جاتا ہے ] بَيْنَھُمْ [ ان کے مابین ] بِالْقِسْطِ [ انصاف سے ] وَھُمْ [ اور ان پر ] لَا يُظْلَمُوْنَ [ ظلم نہیں کیا جاتا ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ فَاِذَا جَاءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بالْقِسْطِ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) کہ قیامت کے دن ہر امت کا رسول موجود ہوگا جو دنیا میں ان کی طرف مبعوث ہوا تھا امتیں موجود ہوں گی اور ان کے رسول بھی موجود ہوں گے جو اہل کفر کے کفر اور اہل ایمان کے ایمان پر گواہی دیں گے اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ اس آیت کا یہ مفہوم سورة نساء کی یہ آیت (فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ م بِشَھِیْدٍ ) اور سورة زمر کی آیت (وَجِایْءَ بالنَّبِیّٖنَ وَالشُّھَدَآءِ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بالْحَقِّ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) کے موافق ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت
قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…
Read the full tafseer →64: تخویف دنیوی ہے۔ تمام امم سابقہ کا بالاجمال ذکر کردیا ہے کہ ہم نے ہر قوم میں اپنا رسول بھیجا جس نے ان کو پیغام حق سنایا اور دعوت توحید دی لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو عین عدل و انصاف کے مطابق ان کو تہس نہس کردیا گیا ہے۔ اے مشرکین مکہ ! تم بھی سن لو نہ مانو گے تو اقوام سابقہ کا سا حشر ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
ربط آیات
توحید کے بیان کے بعد قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے نبوت و رسالت کے مکذبین کا رد کیا ، ان کے شکوک و شبہات کو دور کیا اور ساتھ قیامت کا ذکر بھی کیا ، فرمایا ، آج یہ لوگ بڑے اعتراض کرتے ہیں مگر جب قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے تو خیال کریں گے کہ دنیا میں گھڑی بھر ٹھہرے پھر آگے عذاب کا لا محدود سلسلہ نظر آئے گا تو اس کے مقابلے میں اس دنیا اور برزخ کی زندگی کو نہایت مختصر عرصہ سمجھیں گے۔ وہاں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ فرمایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کی تکذیب کی وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہو کر بڑے خسارے میں رہیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی قیامت اور عذاب…
Read the full tafseer →وَلِكُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ 0 ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 47
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] أي : كل نوع منها علی طریقة قد سخرها اللہ عليها بالطبع، فهي من بين ناسجة کالعنکبوت، وبانية کالسّرفة «4» ، ومدّخرة کالنمل ومعتمدة علی قوت وقته کالعصفور والحمام، إلى غير ذلک من الطبائع التي تخصص بها كل نوع . وقوله تعالی: كانَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
1 ؎ آیت کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ہر قوم کا ایک رسول ہے۔ پھر جب قیامت میں رسول آئے گا۔ اس کے روبرو ان کا فیصلہ انصاف سے کیا جاوے گا اور ظلم نہ ہوگا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ ج فَاِذَا جَآئَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔
(یونس : 47)
(ہر امت کے لیے ایک رسول ہے، پس جب آجاتا ہے ان کا رسول تو ان کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جاتا ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جاتے۔ )
اتمامِ حجت کے بعد فیصلہ کردیا جاتا ہے
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کا کام جس طرح اپنے ذمہ لے رکھا ہے اس کو بطوراصول کے ذکر فرمانے کے بعد اہل مکہ کو بات سمجھانے کی کوشش فرمائی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔ اس نے جہاں جہاں بھی کوئی مخلوق پیدا فرمائی ہے وہاں وہاں اس کی ضرورتوں کا انتظام بھی فرمایا ہے۔ غور کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کا انجام۔
قرآن مجید کا انکار اور سرور دو عالم ﷺ سے تکرار کرنے کی بنیادی وجہ آخرت کا انکار تھا۔ جس آدمی کا یہ عقیدہ ہو کہ میں نے مرنے کے بعد اٹھ کر رب ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہے ایسا شخص زیادہ عرصہ تک قرآن مجید کے حقائق اور صاحب قرآن کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہ بےباکی اور غفلت اسی شخص میں پیدا ہوا کرتی ہے جو اپنے رب کی ملاقات کا عملاً یا اعتقاداً منکر ہو۔ اس بناء پر منکرین قرآن کو احساس دلایا جارہا ہے کہ اس دن کو یاد کرو۔ جب سب کو اکٹھا کیا جائے گا تم ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچانو گے۔ باوجود اس کے کہ تم ایک عرصہ تک دنیا میں رہے مگر قیامت کی ہولناکیوں کو…
Read the full tafseer →میں رسول ہوں عذاب کا اختیار نہیں رکھتا :
47: وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ (ہر امت کیلئے ایک رسول ہے) جس کو ان کی طرف اللہ تعالیٰ مبعوث فرماتے ہیں تاکہ وہ ان کو توحید کے بارے میں خبردار کرے اور دین حق کی طرف ان کو دعوت دے۔ فَاِذَا جَآ ئَ رَسُوْلُھُمْ (جب ان کا رسول آچکتا ہے) دلائل لیکر اور وہ اس کا انکار کردیتے ہیں اور اسکی اتباع نہیں کرتے۔ قُضِیَ بَیْنَھُمْ (ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا ہے) نبی اور اس کے جھٹلانیوالوں کے درمیان بِالْقِسْطِ (انصاف کے ساتھ) پس رسول کو نجات دی جاتی ہے اور مکذب کو عذاب دیا جاتا ہے۔
دوسری تفسیر۔ قیامت کے دن ہر امت کیلئے رسول ہوگا جس کی طرف اس امت کی نسبت کی جائے گی…
Read the full tafseer →(47)” ولکل امۃ “ جو پہلے گزر چکی ” رسول فاذا جاء رسولھم “ اور انہوں نے اس کی تکذیب کی تو ” قضی بینھم بالقسط “ یعنی دنیا میں عذاب دیئے گئے اور عذاب کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ یعنی رسول کے آنے سے پہلے نہ کوئی ثواب اور نہ کوئی عقاب مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب قیامت کے دن ان کے وہ رسول آئیں جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا ۔ ” وھم لایظلمون “ نہ بغیر گناہ کے عذاب دیئے جائیں گے اور نہ بغیر حجت کے مؤاخذہ کیے جائیں گے اور نہ نیکیوں میں کمی کی جائے گی اور ان کی برائیوں پر زیادتی کی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
46۔ 47۔ مشرک لوگ عذاب کا وعدہ سن کر اس وعدہ کے ظہور کی جلدی کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے طور پر فرمایا کہ اے رسول اللہ ہم تمہارے سامنے ان کافروں کو غارت کردیں اور ان کے کردار کی سزا اسی دنیا میں تمہاری حیات ہی میں ان کو دیں یا ان کو اسی حال پر چھوڑ کر تمہیں اپنے پاس بلا لیں بہرحال یہ لوگ ایک دن ہمارے روبرو حاضر ہونے والے اور اپنی بد اعمالی کی سزا بھگتنے والے ہیں کیوں کہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کو معلوم ہے۔ ذرہ ذرہ کا ایک دن مواخذہ ہوگا معتبر سند سے طبرانی میں ابو امامہ ؓ اور حذیفہ ابن اسید ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز حضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج رات کو میری کل امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
آیت : (47-49)
(ولکل امۃ) ” ہر امت کے لئے “ یعنی گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے لئے (رسول) ایک رسول مبعوث کیا گیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتا تھا۔ (فاذا جاء رسولھم) ” پس جب ان کا رسول آتا۔ “ یعنی ان کے پاس آیات الٰہی لے کر آتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کی تصدیق کرتے اور دوسرے اس کو جھٹلاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا ‘ اہل ایمان کو نجات دیتا اور جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیتا۔ (وھم لا یظلمون) ” اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا “ یعنی رسول بھیجنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے یا کسی جرم کے بغیر ان کو عذاب نہیں دیا گیا ‘ اس لئے آپ کو جھٹلانے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →86 ۔ پیغمبر کی تکذیب کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر امت کے لیے ایک پیغام رساں رہا ہے۔ سو جب ان لوگوں کے پاس ان کا رسول پہنچ گیا اور انہوں نے نہ مانا تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا گیا پورے عدل و انصاف کے ساتھ۔ اور ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔ پیغام حق پہنچانے کے لیے۔ پھر ماننے والوں کے لیے خلاص و نجات کا اور نہ ماننے والوں کے لیے ہلاکت و بربادی کا فیصلہ کردیا گیا۔ نیز ان کا رسول جب قیامت کے روز حاضر ہو کر تبلیغ حق کی گواہی دے گا تو ان کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ آخری اور عملی فیصلہ کردیا جائے گا جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ( وَجِايْۗءَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی
تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرار و معارف
ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں
دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ف 8 ۔ پیغمبر اور اس کے ساتھی بچ گئے اور جھٹلانے والے تباہ ہوگئے۔ (نیز دیکھئے سورة اسراء آیت 51) اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود اس قوم کا فیصلہ ہوگیا اور وہ اس طرح کہ اس کے دو گروہ ہوگئے۔ جو ایمان لائے بچ گئے اور جو ایمان نہ لائے تباہ ہوگئے۔
9 ۔ یعنی وہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے تباہ کردئیے جاتے ہیں۔ انہیں بےگناہ سزا نہیں دی جاتی اور نہ حجت تمام کئے بغیر ان کا مواخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول ﷺ پہنچ کر سزاملتی ہے۔ (موضح) ۔
Read the full tafseer →(10:47) قضی بینہم بالقسط۔ (تو پھر) ان کے درمیان فیصلہ عدل و انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے کیونکہ رسول کی بعثت اتمام حجت ہے پھر کوئی امت عذر پیش نہیں کرسکتی کہ ہمارے پاس کوئی راہ ہدایت دکھانے والا آیا ہی نہ تھا۔ یا بینھم سے مراد بین امۃ ورسول ہے کہ باوجود لوگوں کے ظلم و تشدد سے دعوت حق کو روکنے کے۔ حق فتح مند ہوگا اور باطل نامراد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
یحشر (وہ جمع کرے گا) لم یلبثوا (وہ نہ ٹھہریں گے) ساعۃ (ایک گھڑی، کچھ مدت) خسر (نقصان اٹھایا) نرین (ہم ضرور دکھائیں گے) نعد (ہم وعدہ کرتے ہیں) نتوفین (ہم وفات دیں گے، موت دیں گے) شھید (گواہ) قضی (فیصلہ کردیا گیا) القسط (انصاف، پورا پورا) لا املک (میں مالک نہیں ہوں) اجل (مدت ، موت) لایستاخرون (وہ دیر نہیں کرتے ہیں) لایستقدمون (وہ آگے نہیں بڑھتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
وہ دن جب کہ اللہ تعالیٰ اس نظام کائنات کو توڑ کر ایک ایسی نئی زمین تیار فرمائیں گے جس میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو ایک جگہ جمع فرمائیں گے۔ اسی کو میدان حشر کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ عذاب کا وعدہ سن کر اس وعدہ کے ظہور کی جلدی کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے طور پر فرمایا کہ " اے رسول ﷺ اللہ کے ! ہم تمہارے سامنے ان کافروں کو غارت کردیں گے اور ان کے کردار کی سزا دیں۔ دنیا میں تمہاری حیات ہی میں ان کو دیں یا ان کو اسی حال پر چھوڑ کر تمہیں اپنے پاس بلا لیں۔ ہر حال میں یہ لوگ ایک دن ہمارے رو برو حاضر ہونے والے اور اپنی بد اعمالی کی سزا بھگتنے والے ہیں۔ کیونکہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کو معلوم ہے۔ ذرہ ذرہ کا ایک دن مواخذہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
[25] مطلب یہ ہے کہ دعوت حق کی فتح مندیوں اور منکرین حق کی نامرادیوں کی جو خبر دی گئی ہے کچھ ضروری نہیں کہ وہ سب کچھ تمہاری زندگی ہی میں پیش آجائے۔ بعض باتیں تمہاری موجودگی میں ہو کر رہیں گی، بعض بعد کو واقع ہوں گی، پس منکروں کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اس معاملے کا سارا دار و مدار اس شخص کی زندگی پر ہے۔ یہ نہ رہے گا تو کچھ نہ ہوگا۔ یہ زندہ رہے یا نہ رہے احکام حق کو بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
(ف 1) یعنی منکرین ومعاندین کے لئے دو قسم کی سزائیں ہیں ایک وہ جو دنیا میں واقع ہوں گی اور دوسری کا تعلق آخرت سے ہے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ مخالفین رسول دونوں قسم کی سزاؤں کے مستحق ہیں ، دنیا میں ان کی ذلت وتحقیر آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ، کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے ۔
’ اما “ میں ، ان حرف شرط ہے ما تزئین کلام کے لئے اضافہ ہے ، اور جواب شرط محذوف ہے ۔
فتراہ : یعنی ہم تمہیں اگر یہ عذاب جو ان کے لئے مقدر ہے یہاں دکھائیں گے ، تو آپ یہاں دیکھ لیں گے ، ورنہ آخرت میں تو ان کی ذلت آشکارا ہو کر ہی رہے گی ،
Read the full tafseer →47 اور ہر قوم کے لئے اور ہر امت کے لئے ایک حکم پہنچانے والا ہوتا ہے پھر جب ان کا رسول ان کی طرف آجاتا ہے اور وہ احکام پہنچا دیتا ہے تو ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کردیاجاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا یعنی جب احکام کی اطلاع رسول کی معرفت دے دی جاتی ہے پھر جو نہیں مانتا وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول کے پہنچنے سے سزا ملتی ہے 12
Read the full tafseer →ف 1۔ وہ فیصلہ یہی ہے کہ نہ ماننے والوں کو عذاب ابدی میں مبتلا کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →ہر امت کے لئے رسول اور رسول کے بعد انصاف کے ساتھ فیصلہ لازم ہے
۔ 71 صفحہ ہستی پر جہاں جہاں انسان آباد ہے اور آباد تھا رہے گا وہاں وحی الٰہی کا نو پہنچنا لازم اور ضروری تھا ، اور ہوگا۔ جب تک وحی کا سلسلہ جاری وساری تھا ہر رسول کی آمد کے ساتھ اس کی امت لازم تھی اور وہ ایک ہی امت کہلائی خواہ اس نبی کا دورہ مختصر دور تھا یا کوئی لمبا دور جو ہزاروں سالوں پر محیط ہو۔ مختصر ایک رسول کا دور بحساب علاقہ اور حدودجتنا بھی تھا اس حدود کے اندر رہنے والے انسان ایک امت کے انسان تھے اس رسول کی دعوت جن جن لوگوں تک پہیچف وہ سب مل کر اس کی امت کہلائے خواہ ان کے درمیان رسول زندہ موجود تھا یا اللہ تعالیٰ کے نظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
Commentary
In verse 45, it was said: يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ (they will recognize each other), that is, when the dead will be raised from their graves, they will recognize each other as if not much time had passed when they met last.
Imam al-Baghawi said: This recognition will be possible during the
early stage. Later, when the horrendous happenings of the Qiyamah, the Day of Doom, will unfold, this ability to recognize each other will stand disabled. According to some other narrations, the ability to recognize each other will, though, still remain, but such will be the awe of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
55. The Qur'anic expression ummah is not to be taken in the narrow sense in which the word 'nation' is used. The word ummah embraces all those who receive the message of a Messenger of God after his advent. Furthermore, this word embraces even those among whom no Messenger is physically alive, provided that they have received his message. All those who, after the advent of a Messenger, happen to live in an age when the teachings of that Messenger are extant or at least it is possible for people to know about what he had taught, constitute the ummah of that Messenger, Besides, all such people…
Read the full tafseer →