Explained with ayahs 46–47
اللہ تعالیٰ مقتدر اعلی ہے
فرمان ہے کہ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلالیں۔ بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے۔ اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا گذشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے۔ آپ نے فرمایا ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم
اپنے کسی ساتھی کو پہنچانتے ہو ایسے ہی میں نے انھیں پہچان لیا ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
سورة یُوْنُس 53
یعنی جب ایک طرف آخرت کی بےپایاں زندگی ان کے سامنے ہوگی اور دوسری طرف یہ پلٹ کر اپنی دنیا کی زندگی پر نگاہ ڈالیں گے تو انہیں مستقبل کے مقابلہ میں اپنا یہ ماضی نہایت حقیر محسوس ہوگا۔ اس وقت ان کو اندازہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی سابقہ زندگی میں تھوڑی سی لذتوں اور منفعتوں کی خاطر اپنے اس ابدی مستقبل کو خراب کر کے کتنی بڑی حماقت کا ارتکاب کیا ہے۔
سورة یُوْنُس 54
یعنی اس بات کو کہ ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
خلاصہ تفسیر
اور ان کو وہ دن یاد دلایئے جس میں اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ (وہ سمجھیں گے کہ) یا وہ (دنیا یا برزخ میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے (چونکہ وہ دن مدید بھی ہوگا اور شدید بھی ہوگا، اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا) اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی لیکن ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے، اس اور رنج و صدمہ ہوگا، کیونکہ شناسا لوگوں سے توقع نفع کی ہوا کرتی ہے) واقعی (اس وقت سخت) خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ (دنیا میں بھی) ہدایت پانے والے نہ تھے (اس لئے آج خسارہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
45۔ 46۔ وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ ۭ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ۔ وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِيْدٌ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ۔
مکذبین کی جلد بازی کا جواب : یہ آخرت اور عذاب کے جھٹلانے والوں کی جلد بازی کا جواب ہے۔ فرمایا کہ آج تو ان کو آخرت بہت بعید معلوم ہوتی ہے لیکن جس دن وہ اکٹھا کیے جائیں گے اس دن ان کا احساس اس دنیا کی زندگی کے متعلق یہ ہوگا کہ گویا وہ اس میں ایک گھڑی سے زیادہ…
Read the full tafseer →46۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے ہم ان کفار کے بارے میں جو وعدہ کر رہے ہیں اگر انہوں نے کفر و شرک پر اصرار جاری رکھا تو ان پر بھی عذاب الٰہی آسکتا ہے، جس طرح پچھلی قوموں پر آیا، ان میں سے بعض اگر ہم آپ کی زندگی میں بھیج دیں تو یہ بھی ممکن ہے، جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی۔ لیکن اگر آپ اس سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لئے گئے، تب بھی کوئی بات نہیں، ان کافروں کو بالآخر ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ ان کے سارے اعمال و احوال کی ہمیں اطلاع ہے، وہاں یہ ہمارے عذاب سے کس طرح بچ سکیں گے، قیامت کے وقوع کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہاں اطاعت گزاروں کو ان کی اطاعت کا صلہ اور نافرمانوں کو ان کی نافرمانی کی سزا دی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →واما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فالینا مرجعھم اور جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے تھوڑا سا (عذاب) اگر آپ کو دکھلا دیں (تو آپ دیکھ ہی لیں گے) یا (اس کے نزول کے قبل) ہم آپ کو وفات دے دیں ‘ سو ہمارے پاس ہی تو ان کو لوٹ کر آنا ہے (عذاب سے تو چھوٹ ہی نہیں سکتے ‘ ہم آپ کو آخرت میں دکھا دیں گے) ۔
ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر (سب کو معلوم ہے کہ) اللہ ان کے سب افعال کی اطلاع رکھتا ہے۔ اطلاع سے مراد ہے نتیجۂ اطلاع (سبب بول کر مسبب مراد ہے) اسی لئے شہادت کو رجوع کا نتیجہ قرار دیا ہے (یعنی شہید کے لفظ سے مطلع ہونا مراد نہیں ہے ورنہ قیامت کے دن واپسی کے بعد اللہ کا ان کے افعال پر…
Read the full tafseer →1 یعنی ہم نے کفار کو عذاب دینے اور اسلام کو غالب و منصور کرنے کے جو وعدے کیے ہیں، خواہ ان میں سے بعض وعدے کسی حد تک آپ کی موجودگی میں پورے کر کے دکھلا دیے جائیں، جیسے " بدر " وغیرہ میں دکھلا دیا۔ یا آپ کی وفات ہوجائے۔ اس لیے آپ کے سامنے ان میں سے بعض کا ظہور نہ ہو۔ بہرصورت یہ یقینی ہے کہ وہ سب پورے ہو کر رہیں گے۔ اگر کسی مصلحت سے دنیا میں ان کفار کو سزا نہ دی گئی تو آخرت میں ملے گی۔ ہم سے بچ کر کہاں بھاگ سکتے ہیں۔ سب کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے اور ان کے تمام اعمال ہمارے سامنے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " غلبہ اسلام کچھ حضرت ﷺ کے روبرو ہوا، اور باقی آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفاء " کے ہاتھوں…
Read the full tafseer →فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیْدٌ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ
یعنی آخری محاسبہ تو ان کا قیامت کے دن ہونا ہی ہے ‘ مگر ہوسکتا ہے کہ یہاں دنیا میں بھی سزا کا کچھ حصہ ان کے لیے مختص کردیا جائے۔ جیسا کہ بعد میں مشرکین مکہ پر عذاب آیا۔ ان پر آنے والے اس عذاب کا انداز پہلی قوموں کے عذاب سے مختلف تھا۔ اس عذاب کی پہلی قسط جنگ بدر میں ان کے ّ ستر سرداروں کے قتل اور ذلت آمیز شکست کی صورت میں سامنے آئی ‘ جبکہ دوسری اور آخری قسط 9 ہجری میں واردہوئی جب انہیں الٹی میٹم دے دیا گیا : فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ۔ التوبۃ : 2 کہ اب تمہارے لیے صرف چند ماہ کی مہلت ہے ‘ اس میں ایمان لے آؤ…
Read the full tafseer →62 کافروں پر عذاب کی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی ؟:۔ کافروں اور مشرکوں کے لیے سب سے بڑا دکھ اور عذاب اسلام کا غلبہ اور ان کی ذلت آمیز شکست ہی ہوسکتا تھا تو اس عذاب کا بہت بڑا حصہ تو رسول اللہ کی زندگی میں ہی آپ نے خود اور سب مسلمانوں اور کافروں نے دیکھ لیا اسلام بدستور آگے بڑھتا رہا اور ترقی کی منازل بڑی تیزی سے طے کرتا گیا اور غزوہ بدر سے لے کر غزوہ تبوک تک کافروں کو میدان جنگ میں بھی اور معاشرتی طور پر بھی شکست اور ذلت ہی نصیب ہوتی رہی۔ رہی سہی کسر اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد نکال دی اور دور عثمانی تک ایک وقت ایسا آیا جب کہ قریب قریب ساری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجتا تھا اور کفر پوری طرح…
Read the full tafseer →74۔ (اور اس لئے اگر انہیں دنیا میں پوری سزا نہ بھی ملی، جب بھی اس آخری موقع پر تو ضرور ہی مل کررہے گی) (آیت) ” واما۔۔۔ نعدھم “۔ یعنی خواہ آپ ﷺ کی حیات ہی میں کچھ حصہ عذاب موعود کا ان منکرین ومکذبین پر آبھی جائے چناچہ معرکہ بدر، فتح مکہ وغیرہ متعدد واقعات آپ ﷺ کی زندگی ہی میں ایسے پیش آکر رہے جن میں مکذبین منکرین کو ہر طرح ذلت، رسوائی، شکست نقصان جانی ومالی ہی نصیب رہا۔ (آیت) ” او نتوفینک “۔ یعنی اس نزول عذاب کے قبل ہی آپ ﷺ کو اٹھالیں اور اپنے وعدۂ فتح اسلام، ہزیمت کفار کی تکمیل آپ ﷺ کے بعد کریں، چناچہ خلفائے راشدین کے عہد میں یہ تکمیل ہو کر رہی۔ اعلم ان ھذا یدل علی ان تعالیٰ یری رسولہ انواعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…
Read the full tafseer →واما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فالینا مرجعھم اور جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے تھوڑا سا (عذاب) اگر آپ کو دکھلا دیں (تو آپ دیکھ ہی لیں گے) یا (اس کے نزول کے قبل) ہم آپ کو وفات دے دیں ‘ سو ہمارے پاس ہی تو ان کو لوٹ کر آنا ہے (عذاب سے تو چھوٹ ہی نہیں سکتے ‘ ہم آپ کو آخرت میں دکھا دیں گے) ۔
ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر (سب کو معلوم ہے کہ) اللہ ان کے سب افعال کی اطلاع رکھتا ہے۔ اطلاع سے مراد ہے نتیجۂ اطلاع (سبب بول کر مسبب مراد ہے) اسی لئے شہادت کو رجوع کا نتیجہ قرار دیا ہے (یعنی شہید کے لفظ سے مطلع ہونا مراد نہیں ہے ورنہ قیامت کے دن واپسی کے بعد اللہ کا ان کے افعال پر…
Read the full tafseer →(46) اے محمد ﷺ جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں، یہ اس عذاب کے دکھلانے سے پہلے ہی ہم آپ کو وفات دے دیں تو ہر صورت میں ان کو بعد از موت ہمارے پاس تو آنا ہی ہے پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں اور برائیوں سب کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ۔۔ : یعنی اسلام کے غلبے اور مخالفین کی ذلت و خواری، یعنی قتل و قید اور شکست کے جو وعدے ہم ان کفار سے وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں، اگر ہم ان میں سے بعض آپ کی زندگی ہی میں پورے کرکے آپ کو دکھلا دیں، یا ان میں سے بعض کے پورا کرنے سے پہلے ہی آپ کو اٹھا لیں، دونوں حالتوں میں انھیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وہاں وہ ان کا انجام آپ کو دکھا دے گا۔ ”شَاہِدٌ“ کا معنی گواہ اور ”شَهِيْدٌ“ میں مبالغہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کچھ وعدے آپ کی زندگی میں پورے کر دکھائے، مثلاً اہل مکہ پر قحط، بھوک…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 46۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واما نرینک “۔ یہ شرط ہے۔ (آیت) ” بعض الذی نعدھم “۔ یعنی آپ کی حیات میں آپ کے دین کو غالب کرنے کا (جو وعدہ ہم نے کیا ہے) اور مفسرین نے کہا ہے : وہ بعض جس کا ان کے ساتھ وعدہ تھا وہ ان کے قتل اور قید کا تھا جو بدر میں قتل کردیئے گئے اور قیدی بنالیے گئے۔
(آیت) ” اونتوفینک “ اس کا عطف (آیت) ” نرینک “ پر ہے یعنی یا ہم آپ کو اس سے پہلے اٹھا لیں۔ (آیت) ” فالینا مرجعھم “۔ یہ اما کا جواب ہے اور مقصود یہ ہے اگر آپ ان سے جلدی انتقام نہیں لیا تو ہم نے ان سے تاخیر کے ساتھ انتقام لے لیا۔ (آیت) ” ثم اللہ شھید “۔ یعنی اللہ تعالیٰ شاہد (گواہ) ہے جو کسی شاہد کا محتاج نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔
Read the full tafseer →وَاِمَّا [ اور اگر ] نُرِيَنَّكَ [ ہم دکھا دیں آپ کو ] بَعْضَ الَّذِيْ [ اس کے بعض کو جو ] نَعِدُھُمْ [ ہم نے وعدہ کیا ان سے ] اَوْ [ یا ] نَتَوَفَّيَنَّكَ [ ہم وفات بھی دیں آپ کو ] فَاِلَيْنَا [ تو ہماری طرف ہی ] مَرْجِعُھُمْ [ لوٹنا ہے ان کو ] ثُمَّ [پھر ] اللّٰهُ [اللہ ] شَهِيْدٌ [گواہ ہے ] عَلٰي مَا [ اس پر جو ] يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے ہیں ]
(آیت ۔ 46) اما میں ان شرطیہ اور ما زائدہ ہے ۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ) (اور جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں اگر اس میں سے تھوڑا سا حصہ ہم آپ کو دکھلا دیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں سو ہمارے ہی پاس ان سب کو آنا ہے) رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جو عذاب میں مبتلا کئے جانے کی وعیدیں نازل ہوتی رہتی تھیں ان کے بارے میں فرمایا کہ جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا عذاب اگر ہم آپ کو دکھا دیں یعنی آپ کی حیات ہی میں اس کا نزول ہوجائے یا ہم آپ کو اس سے پہلے وفات دے دیں سو یہ دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کے سامنے ہی عذاب آجائے اور یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت
قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…
Read the full tafseer →63: تخویف دنیوی ہے۔ منکرین اور معاندین کو ذلیل ورسوا کرنے کا ہم نے آپ سے جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی بعض صورتیں اگر ہم دنیا ہی میں ظاہر کردیں اور آپ کو دکھا دیں تو ہم اس پر بھی قادر ہیں اور اگر دنیا میں ان کی سزا اور رسوائی کی تمام صورتوں کے ظہور سے قبل ہی ہم آپ کو وفات دیدیں تو ان کی مزید ذلت ورسوائی آپ میدان حشر میں مشاہدہ فرمالیں گے۔ “ اي واما نرینک بعض الذي نعدھم فی الدنیا فذلک او نتوفینک قبل ان نریکه فنحن نریکه فی الاخرة ” (مدارک ج 2 ص 127) ۔ “ ثُمَّ اللّٰه الخ ” میں ثُمَّ تراخی کیلئے نہیں بلکہ محض تعقیب ذکری کیلئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں حاضر و ناظر ہے قیامت کی کیا خصوصیت ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
ربط آیات
توحید کے بیان کے بعد قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے نبوت و رسالت کے مکذبین کا رد کیا ، ان کے شکوک و شبہات کو دور کیا اور ساتھ قیامت کا ذکر بھی کیا ، فرمایا ، آج یہ لوگ بڑے اعتراض کرتے ہیں مگر جب قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے تو خیال کریں گے کہ دنیا میں گھڑی بھر ٹھہرے پھر آگے عذاب کا لا محدود سلسلہ نظر آئے گا تو اس کے مقابلے میں اس دنیا اور برزخ کی زندگی کو نہایت مختصر عرصہ سمجھیں گے۔ وہاں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ فرمایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کی تکذیب کی وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہو کر بڑے خسارے میں رہیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی قیامت اور عذاب…
Read the full tafseer →وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَــتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ اللہُ شَہِيْدٌ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ 46
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
ترکیب : کان مخففۃ من المثقلۃ واسمہا محذوف ای کانہم لم یلبثوا خبر ‘ ساعۃ ظرف لہ ‘ من النہار صفۃ لساعۃ واما فیہ ادغام نون ان الشرطیۃ فی ما الزائدۃ و جواب الشرط محذوف قداک۔
تفسیر : باوجود ایسے دلائلِ قاہرہ وبراہین باہرہ کے ان کے منکرین میں سے کچھ تو دل میں ایمان لاتے ہیں اور کچھ نہیں۔ یہ حالت بھی ان کی اللہ سے مخفی نہیں کہ دل میں قائل مگر عناد یا کسی غرض دنیا سے اظہار نہیں کرتے۔ پھر جب عناد اور ضد کی یہ نوبت ہے تو اے نبی ! ان سے کہہ دو اگر میں ناحق پر ہوں تو تمہیں میرے اعمال سے کیا ٗ پھر کس لئے ایذا دیتے ہو یعنی جاہلوں سے اعراض کرنا چاہیے اور اس بات کا اے نبی ! کچھ ملال نہ کیجئے گا کہ وہ کیوں…
Read the full tafseer →وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ ثُمَّ اللّٰہُ شَھِیْدٌ عَلٰی مَایَفْعَلُوْنَ ۔ (یونس : 46)
(یا ہم آپ ﷺ کو اس کا کچھ حصہ دکھا دیں گے جس کا ان سے وعدہ کررہے ہیں یا ہم آپ ﷺ کو اٹھا لیں گے۔ ہر حالت میں ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہوگا۔ پھر اللہ گواہ ہے اس پر جو وہ کرتے ہیں۔ )
عذاب سے متعلق مشرکین کی غلط فہمی
مشرکینِ مکہ کو قیامت کے آنے سے انکار تھا یا وہ اس کے بارے میں شبہ میں مبتلا تھے اور اگر انھیں اقرار تھا بھی تو ان کے بعض احساسات نے اس اقرار کو بےمعنی کر رکھا تھا۔ قرآن کریم میں گزشتہ آیت کریمہ میں اسی کی تردید فرمائی ہے۔ پیش نظر آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کا انجام۔
قرآن مجید کا انکار اور سرور دو عالم ﷺ سے تکرار کرنے کی بنیادی وجہ آخرت کا انکار تھا۔ جس آدمی کا یہ عقیدہ ہو کہ میں نے مرنے کے بعد اٹھ کر رب ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہے ایسا شخص زیادہ عرصہ تک قرآن مجید کے حقائق اور صاحب قرآن کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہ بےباکی اور غفلت اسی شخص میں پیدا ہوا کرتی ہے جو اپنے رب کی ملاقات کا عملاً یا اعتقاداً منکر ہو۔ اس بناء پر منکرین قرآن کو احساس دلایا جارہا ہے کہ اس دن کو یاد کرو۔ جب سب کو اکٹھا کیا جائے گا تم ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچانو گے۔ باوجود اس کے کہ تم ایک عرصہ تک دنیا میں رہے مگر قیامت کی ہولناکیوں کو…
Read the full tafseer →آپ کی زندگی میں ان پر عذاب لازم نہیں :
46: وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ (اور جس کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں) یعنی عذاب اَوْنَتَوَ فَّیَنَّکَ (یا آپ کو وفات دے دیں) ان کے عذاب دینے سے پہلے فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ (پس انہوں نے ہمارے پاس لوٹنا ہے) یہ نتوفینک کا جواب ہے اور نرینک کا جواب محذوف ہے یعنی واما نرینک بعض الذی نعدھم فی الدنیا فذاک اونتو فینک قبل ان نری کہ فنحن نری کہ فی الآخرۃ اور اگر دکھا دیں بعض حصہ اس عذاب کا جس کا ہم ان سے دنیا میں وعدہ کرتے تو یہ مطلوب ہے یا اگر ہم آپ کو وفات دے دیں آپ کو انکا عذاب دکھانے سے پہلے تو…
Read the full tafseer →تفسیر :(46)” واما نرینک بعض الذین نعدھم “ اے محمد ﷺ آپ کی زندگی میں تھوڑا سا عذاب آپ کو دکھا دیں ” او نتوفینک “ ان کو عذاب دینے سے پہلے آپ کو وفات دے دیں ” فالینا مرجعھم “ آخرت میں ” ثم اللہ شھید علی ما یفعلون “ پھر ان کو اس کا بدلہ دے گا ۔ آیت میں ” ثم “ وائو کے معنی میں ہے اصل عبارت تھی ۔ ” واللہ شھید “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بعض سے میرا خیال ہے کہ بدر کے دن ان کا قتل مراد ہے اور ان کے مرنے کے بعد عذاب کی تمام اقسام ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
46۔ 47۔ مشرک لوگ عذاب کا وعدہ سن کر اس وعدہ کے ظہور کی جلدی کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے طور پر فرمایا کہ اے رسول اللہ ہم تمہارے سامنے ان کافروں کو غارت کردیں اور ان کے کردار کی سزا اسی دنیا میں تمہاری حیات ہی میں ان کو دیں یا ان کو اسی حال پر چھوڑ کر تمہیں اپنے پاس بلا لیں بہرحال یہ لوگ ایک دن ہمارے روبرو حاضر ہونے والے اور اپنی بد اعمالی کی سزا بھگتنے والے ہیں کیوں کہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کو معلوم ہے۔ ذرہ ذرہ کا ایک دن مواخذہ ہوگا معتبر سند سے طبرانی میں ابو امامہ ؓ اور حذیفہ ابن اسید ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز حضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج رات کو میری کل امت…
Read the full tafseer →آیت : (46)
اے رسول ! ان جھٹلانے والوں کے بارے میں غمزدہ نہ ہوں اور نہ ان کے بارے میں عجلت سے کام لیں ‘ کیونکہ وہ عذاب ان پر ضرور نازل ہوگا جس کا ہم ان کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں ‘ تو یہ عذاب دنیا میں نازل ہوگا اور آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور آپ کا دل ٹھنڈا ہوگا یا ان کے منے کے بعد انہیں آخرت میں اس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا ‘ انہیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ فرماے گا اس نے ان کے اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے جبکہ انہوں نے فراموش کردیا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں کفار کے لئے سخت وعید ہے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی ہے جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →85 ۔ یوم حساب کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر ان سب نے لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے اور بہرحال آنا ہے۔ پھر یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ اللہ گواہ ہے ان تمام کاموں کا جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ سو وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنے کئے کرائے کا بدلہ بہرحال پانا ہے۔ اس سے بچ نکلنے کی کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ تو پھر عمر رواں کی اس فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے، عذاب آخرت سے بچنے کی فکر اور کوشش کرنے کی بجائے الٹا عذاب کی جلدی مچانا، جیسا کہ یہ بےایمان لوگ کرتے ہیں، کس قدر حماقت اور کتنے بڑے خسارے کا سودا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ سو آخرت اور اللہ کے حضور اپنی پیشی کو بھلا کر اور وہاں کے تقاضوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی
تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرار و معارف
ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں
دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ آپ ﷺ کے دین کا غلبہ اور مخالفین کی ذلت و خواری یعنی قتل و قید۔ الغرض یہ وعدے قرآن کے بیان کے مطابق بعض تو آپ ﷺ کی زندگی میں ظاہر ہوگئے اور کچھ آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفائے ؓ کے زمانہ میں۔ بہرحال آپ ﷺ سچے ہیں۔ موضح میں ہے۔ غلبہ اسلام کو کچھ حضرات کے رو بروہوا اور باقی آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفاء ؓ کے عہد میں ہوا۔ شاید ” اونتوفینک “ میں اس دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔ (کذافی الکبیر) ۔
7 ۔ یعنی وہاں ہم آپ ﷺ کو ان کا عذاب دکھا دیں گے۔ اس میں تنبیہ ہے کہ حق پرستوں کی عاقبت محمود اور مخالفین کی عاقبت نہایت مذموم ہوگی۔ (کبیر) ۔
Read the full tafseer →(10:46) اما۔ اگر ۔ یا ۔ خواہ۔
نرینک۔ نرین۔ مضارع ۔ جمع متکلم بانون ثقیلہ ۔ ک ضمیر مفعول ۔ واحد مذکر حاضر۔ (اگر ۔ یا۔ خواہ) ہم تجھے دکھادیں۔
نعدہم۔ مضارع جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم وعدہ عذاب کرتے ہیں ۔ وعد۔ مصدر (باب ضرب)
نتوفینک۔ مضارع جمع متکلم یا نون تاکید ثقیلہ توفی مصدر۔ (باب تفعل) ہم تیری زندگی پوری کردیں۔ ہم تیری روح قبض کرلیں۔ ہم تجھے وفات دیدیں۔
ثم۔ واؤ کے معنی میں یہاں استعمال ہوا ہے بعض نے اسے فتح سے پڑھا ہے۔ ثم بمعنی وہاں۔ ثم پھر۔
شھید۔ بمعنی شاھد گواہ۔ علم رکھنے والا۔ یا اس سے مراد مقتضائے شہادت ہے۔ یعنی عقاب۔ یعنی ثم اللہ یعاقب علی ما یفعلون۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
یحشر (وہ جمع کرے گا) لم یلبثوا (وہ نہ ٹھہریں گے) ساعۃ (ایک گھڑی، کچھ مدت) خسر (نقصان اٹھایا) نرین (ہم ضرور دکھائیں گے) نعد (ہم وعدہ کرتے ہیں) نتوفین (ہم وفات دیں گے، موت دیں گے) شھید (گواہ) قضی (فیصلہ کردیا گیا) القسط (انصاف، پورا پورا) لا املک (میں مالک نہیں ہوں) اجل (مدت ، موت) لایستاخرون (وہ دیر نہیں کرتے ہیں) لایستقدمون (وہ آگے نہیں بڑھتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
وہ دن جب کہ اللہ تعالیٰ اس نظام کائنات کو توڑ کر ایک ایسی نئی زمین تیار فرمائیں گے جس میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو ایک جگہ جمع فرمائیں گے۔ اسی کو میدان حشر کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ عذاب کا وعدہ سن کر اس وعدہ کے ظہور کی جلدی کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے طور پر فرمایا کہ " اے رسول ﷺ اللہ کے ! ہم تمہارے سامنے ان کافروں کو غارت کردیں گے اور ان کے کردار کی سزا دیں۔ دنیا میں تمہاری حیات ہی میں ان کو دیں یا ان کو اسی حال پر چھوڑ کر تمہیں اپنے پاس بلا لیں۔ ہر حال میں یہ لوگ ایک دن ہمارے رو برو حاضر ہونے والے اور اپنی بد اعمالی کی سزا بھگتنے والے ہیں۔ کیونکہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کو معلوم ہے۔ ذرہ ذرہ کا ایک دن مواخذہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
[25] مطلب یہ ہے کہ دعوت حق کی فتح مندیوں اور منکرین حق کی نامرادیوں کی جو خبر دی گئی ہے کچھ ضروری نہیں کہ وہ سب کچھ تمہاری زندگی ہی میں پیش آجائے۔ بعض باتیں تمہاری موجودگی میں ہو کر رہیں گی، بعض بعد کو واقع ہوں گی، پس منکروں کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اس معاملے کا سارا دار و مدار اس شخص کی زندگی پر ہے۔ یہ نہ رہے گا تو کچھ نہ ہوگا۔ یہ زندہ رہے یا نہ رہے احکام حق کو بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
(ف 1) یعنی منکرین ومعاندین کے لئے دو قسم کی سزائیں ہیں ایک وہ جو دنیا میں واقع ہوں گی اور دوسری کا تعلق آخرت سے ہے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ مخالفین رسول دونوں قسم کی سزاؤں کے مستحق ہیں ، دنیا میں ان کی ذلت وتحقیر آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ، کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے ۔
’ اما “ میں ، ان حرف شرط ہے ما تزئین کلام کے لئے اضافہ ہے ، اور جواب شرط محذوف ہے ۔
فتراہ : یعنی ہم تمہیں اگر یہ عذاب جو ان کے لئے مقدر ہے یہاں دکھائیں گے ، تو آپ یہاں دیکھ لیں گے ، ورنہ آخرت میں تو ان کی ذلت آشکارا ہو کر ہی رہے گی ،
Read the full tafseer →46 اور جو وعدہ عذاب ہم ان سے کر رہے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع آپ کو دکھا دیں اور آپ اپنی زندگی میں ابن کو مبتلائے عذاب دیکھ لیں یا اس عذاب کے وقوع سے قبل آپ کی عمر پوری کردیں بہر حال ان کو ہماری طرف واپس آنا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان سب اعمال کی اطلاع ہے جو وہ کر رہے ہیں یعنی ہم نے ان سے جو وعدے عذاب کے یا غلبہ اسلام کے کئے ہیں یہ ضروری نہیں کہ وہ سب آپ ﷺ کی زندگی ہی میں پورے ہوجائیں ہوسکتا ہے کہ بعض ان میں سے آپ کی زندگی میں پورے ہوجائیں کچھ آپ کی وفات کے بعد پورے ہوں اور قیامت میں تو ہمارے روبرو پیش ہونا ہی ہے وہاں تو وعدئہ عذاب پورا ہونا ہی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی غلبہ…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی اگر آپ کی حیات میں ان پر اس کا نزول ہوجائے۔
7۔ غرض یہ کہ دنیا میں خواہ سزا ہو یا نہ ہو مگر اصلی موقع پر ضرور ہوگی۔
Read the full tafseer →۔ 70 اس دنیا کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ انسان کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ یہ زندگی انسان کو ایک دوسری زندگی کی طرف منتقل کرتی ہے فرق ہے تو صرف یہ کہ اس زندگی سے ہم متعارف نہیں تھا اور اس ندگی کا تعارف بھی ہم کو یہاں آنے سے پہلے نہیں تھا بلالک اسی طرح اس زندگی کی طرف منتقل ہونے سے قبل ہمیں اس کا تعارف حاصل نہیں اور یہی بات قرآن کریم نے ہم کو بتائی اور سمجھائی ہے فرمایا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم آپ کے ذریعہ سے جو جو وعدہ ان کو دے رہے ہیں وہ یقینا پورا ہوگا اس لئے کہ ہمارے وعدہ کا پورا ہونا لازم ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ آپ کی زندگی میں پورا کردیں گے یا آپ کی زندگی کے بعد یعنی آپ کی اس دنیوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
Commentary
In verse 45, it was said: يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ (they will recognize each other), that is, when the dead will be raised from their graves, they will recognize each other as if not much time had passed when they met last.
Imam al-Baghawi said: This recognition will be possible during the
early stage. Later, when the horrendous happenings of the Qiyamah, the Day of Doom, will unfold, this ability to recognize each other will stand disabled. According to some other narrations, the ability to recognize each other will, though, still remain, but such will be the awe of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
53. A time will come when such people will, on the one hand, come face to face with the infinite life of the Hereafter, and on the other, they will took back at their past worldly life and realize how puny it was as compared to the life ahead. It is then that they will comprehend what folly they have committed by ruining their eternal future for the sake of ephemeral pleasures and benefits in this worldly life.
54. This refers to the unbelievers' rejection that a time will come when everyone will have to stand before God for His judgement.
Read the full tafseer →