جب سب اپنی قبر سے اٹھیں گے
بیان ہو رہا ہے کہ وہ وقت بھی آرہا ہے جب قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کی قبروں سے اٹھا کر میدان قیامت میں جمع کرے گا۔ اس وقت انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ گویا گھڑی بھر دن ہم رہے تھے۔ صبح یا شام ہی تک ہمارا رہنا ہوا تھا۔ کہیں گے کہ دس روز دنیا میں گزارے ہوں گے۔ تو بڑے بڑے حافظے والے کہیں گے کہاں کے دس دن تم تو ایک ہی دن رہے۔ قیامت کے دن یہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ایک ساعت ہی رہے وغیرہ۔ ایسی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ دنیا کی زندگی آج بہت تھوڑی معلوم ہوگی۔ سوال ہوگا کہ کتنے سال دنیا میں گزارے، " جواب دیں گے کہ ایک دن بلکہ اسے بھی کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
سورة یُوْنُس 53
یعنی جب ایک طرف آخرت کی بےپایاں زندگی ان کے سامنے ہوگی اور دوسری طرف یہ پلٹ کر اپنی دنیا کی زندگی پر نگاہ ڈالیں گے تو انہیں مستقبل کے مقابلہ میں اپنا یہ ماضی نہایت حقیر محسوس ہوگا۔ اس وقت ان کو اندازہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی سابقہ زندگی میں تھوڑی سی لذتوں اور منفعتوں کی خاطر اپنے اس ابدی مستقبل کو خراب کر کے کتنی بڑی حماقت کا ارتکاب کیا ہے۔
سورة یُوْنُس 54
یعنی اس بات کو کہ ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
خلاصہ تفسیر
اور ان کو وہ دن یاد دلایئے جس میں اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ (وہ سمجھیں گے کہ) یا وہ (دنیا یا برزخ میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے (چونکہ وہ دن مدید بھی ہوگا اور شدید بھی ہوگا، اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا) اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی لیکن ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے، اس اور رنج و صدمہ ہوگا، کیونکہ شناسا لوگوں سے توقع نفع کی ہوا کرتی ہے) واقعی (اس وقت سخت) خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ (دنیا میں بھی) ہدایت پانے والے نہ تھے (اس لئے آج خسارہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
45۔ 46۔ وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ ۭ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ۔ وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِيْدٌ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ۔
مکذبین کی جلد بازی کا جواب : یہ آخرت اور عذاب کے جھٹلانے والوں کی جلد بازی کا جواب ہے۔ فرمایا کہ آج تو ان کو آخرت بہت بعید معلوم ہوتی ہے لیکن جس دن وہ اکٹھا کیے جائیں گے اس دن ان کا احساس اس دنیا کی زندگی کے متعلق یہ ہوگا کہ گویا وہ اس میں ایک گھڑی سے زیادہ…
Read the full tafseer →45۔ 1 یعنی محشر کی سختیاں دیکھ کر انہیں دنیا کی ساری لذتیں بھول جائیں گی اور دنیا کی زندگی انہیں ایسے معلوم ہوگی گویا وہ دنیا میں ایک آدھ گھڑی ہی رہے ہیں۔ لم یلبثوا الا عشیۃ او ضحھا۔
45۔ 2 محشر میں مختلف حالتیں ہونگی، جنہیں قرآن میں مختلف جگہوں پر بیان کیا گیا ہے۔ ایک وقت یہ بھی ہوگا، جب ایک دوسرے کو پہچانیں گے، بعض مواقع ایسے آئیں گے کہ آپس میں ایک دوسرے پر گمراہی کا الزام دھریں گے، اور بعض موقعوں پر ایسی دہشت طاری ہوگی کہ ' آپس میں ایک دوسرے کی رشتہ داریوں کا پتہ ہوگا اور نہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔
Read the full tafseer →24: یعنی دنیوی زندگی انہیں اتنی قریب معلوم ہوگی کہ انہیں ایک دوسرے کو پہچاننے میں وہ دشواری پیش نہیں آئے گی جو کسی کو عرصہ دراز کے بعد دیکھنے کی وجہ سے عموماً پیش آیا کرتی ہے۔
Read the full tafseer →ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا الا ساعۃ من النھار اور جس روز ہم ان کو جمع کریں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ (دنیا میں یا قبروں میں) ان کا قیام گویا گھڑی بھر رہا تھا۔ منظر کی ہولناکی کی وجہ سے وہ دنیوی زندگی یا قیام قبر کی میعاد کو گھڑی بھر سمجھیں گے۔
یتعارفون بینھم باہم ایک دوسرے کو پہچان لیں گے ‘ جیسے دنیا میں ان کا باہمی تعارف تھا۔ گویا تھوڑی دیر کو جدا ہوئے تھے ‘ پھر جمع ہوگئے (اور کوئی کسی کو نہیں بھولا) بغوی نے لکھا ہے : یہ باہمی شناخت قبروں سے اٹھنے کے وقت تو ہوگی ‘ پھر قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے باہم تعارف جاتا رہے گا۔ بعض آثار میں آیا ہے کہ آدمی اپنے برابر والے کو پہچان تو لے گا مگر ہیبت اور…
Read the full tafseer →7 یعنی محشر کے ہولناک اہوال و حوادث کو دیکھ کر عمر بھر کا عیش و آرام اس قدر حقیر و قلیل نظر آئے گا گویا دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ ٹھہرے ہی نہ تھے اور افسوس کریں گے کہ ساری عمر کیسی فضول اور بیکار گزری، جیسے آدمی گھنٹہ دو گھنٹہ یوں ہی گپ شپ میں بیکار گزار دیتا ہے۔ نیز وہاں کی زہرہ گداز مصائب کو دیکھ کر خیال کریں گے کہ گویا دنیا میں کچھ مدت قیام ہی نہ ہوا جو یہ وقت آلیا۔ گھڑی دو گھڑی ٹھہرے اور یہاں آپھنسے۔ کاش وہاں کی مدت قیام کچھ طویل ہوتی تو یہ دن اس قدر جلد نہ دیکھنا پڑتا۔ بعض مفسرین نے کہا کہ برزخ (قبر) میں ٹھہرنے کی مدت کو ایک گھڑی کے برابر سمجھیں گے۔ واللہ اعلم۔
8 مگر کچھ مدد نہ کرسکیں…
Read the full tafseer →آیت 45 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْٓا الاَّ سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَہُمْ ط
انہیں دنیا اور عالم برزخ میں گزرا ہوا وقت ایسے محسوس ہوگا جیسے کہ وہ ایک دن کا کچھ حصہ تھا۔
قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآء اللّٰہِ وَمَا کَانُوْا مُہْتَدِیْنَ
آگے عذاب کی اس دھمکی کا ذکر آ رہا ہے جس کے بارے میں آیت 39 میں فرمایا گیا تھا : وَلَمَّا یَاْتِہِمْ تَاْوِیْلُہٗ ط کہ اس کی تاویل ابھی ان کے پاس نہیں آئی۔
Read the full tafseer →60 قیامت کے دن کی مدت پچاس ہزار سال ہے اس کے مقابلہ میں انہیں اپنی دنیا کی زندگی یوں محسوس ہوگی کہ بس چند گھنٹے ہی دنیا میں گزارے تھے اس دن وہ ایک دوسرے کو ایسے ہی پہچانتے ہوں گے جیسے دنیا میں پہچانتے تھے مگر کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا ہر ایک کو بس اپنی اپنی ہی پڑی ہوگی بلکہ ایک دوسرے سے اپنے کسی دکھ سکھ اور ہمدردی کی بات چیت کے بھی روادار نہ ہوں گے اور اگر اپنا کوئی رشتہ دار نظر آئے گا تو اس سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوششیں کریں گے بعض علماء نے (يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ 45) 10 ۔ یونس :45) کو دنیوی زندگی سے متعلق کرکے یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں بس چند…
Read the full tafseer →71۔ (اس دنیا میں) یعنی باوجود دنیا میں بڑی بڑی طویل عمریں پانے کے جب وہ حشر میں اٹھائے جائیں گے اور خواب برزخ وخواب ناسوت دونوں سے بیدار ہوں گے، تو اب انہیں اپنے اندازہ میں جو زمان حشر کے مطابق وماتحت ہوگا، ایسا معلوم ہوگا کہ جیسے وہ دنیا میں کچھ رہے ہی نہیں۔ بہت رہے تو بس ایک گھڑی بھر۔ راوا ان طول اعمارھم فی مقابلۃ الخلود کساعۃ (قرطبی عن ابن عباس ؓ یعنی تقلیل لبثھم وذلک لھول ما یعاینون من شدائدالقیامۃ (بحر) یوم حشر چونکہ مدید بھی ہوگا اور شدید بھی، اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا (تھانوی (رح) (آیت) ” ساعۃ “۔ بعض نے کہا کہ کوئی متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…
Read the full tafseer →ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا الا ساعۃ من النھار اور جس روز ہم ان کو جمع کریں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ (دنیا میں یا قبروں میں) ان کا قیام گویا گھڑی بھر رہا تھا۔ منظر کی ہولناکی کی وجہ سے وہ دنیوی زندگی یا قیام قبر کی میعاد کو گھڑی بھر سمجھیں گے۔
یتعارفون بینھم باہم ایک دوسرے کو پہچان لیں گے ‘ جیسے دنیا میں ان کا باہمی تعارف تھا۔ گویا تھوڑی دیر کو جدا ہوئے تھے ‘ پھر جمع ہوگئے (اور کوئی کسی کو نہیں بھولا) بغوی نے لکھا ہے : یہ باہمی شناخت قبروں سے اٹھنے کے وقت تو ہوگی ‘ پھر قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے باہم تعارف جاتا رہے گا۔ بعض آثار میں آیا ہے کہ آدمی اپنے برابر والے کو پہچان تو لے گا مگر ہیبت اور…
Read the full tafseer →(45) اور جس دن اللہ تعالیٰ ان یہود و نصاری اور مشرکین کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ وہ قبروں میں سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے اور بعض مقامات میں آپس میں ایک دوسرے کو پہچان بھی رہے ہوں گے، گھاٹے میں وہ لوگ رہے جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا کہ دنیا و آخرت سب ان کے ہاتھ سے جاتی رہی اور یہ کفر وضلالت سے ہدایت پانے والے نہ تھے۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا۔۔ : سَاعَۃً ایک گھڑی، عرب نہایت کم مدت کے لیے یہ لفظ بولتے ہیں۔ قیامت بھی چونکہ ایک لمحے میں قائم ہوجائے گی، اس لیے اس پر بھی ”اَلسَّاعَۃُ“ کا لفظ بولا جاتا ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ ان حق سے اندھے اور بہرے لوگوں کو حساب کے لیے اکٹھا کرے گا تو انھیں دنیا میں گزری ہوئی راحت و لذت والی لمبی مدت اور طویل ماہ و سال ایک گھڑی محسوس ہوں گے اور انھیں وہ سب لذتیں بھول جائیں گی، جیسا کہ سورة احقاف (35) اور سورة روم (55) میں ہے کہ مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک ساعت (لمحے) کے سوا دنیا میں نہیں رہے۔
سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ : دن کی گھڑی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 45۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا “۔ یہ بمعنی کا نھم ہے پھر اسے مخفف کردیا گیا، یعنی گویا کہ وہ اپنی قبروں میں نہیں ٹھہرے، (آیت) ” الا ساعۃ من النھار “۔ یعنی دن کی ایک گھڑی کی مقدار، مراد یہ ہے کہ وہ قبروں میں اپنے طویل قیام کو اس خوف اور ڈر کی وجہ سے کم اور قلیل سمجھیں گے جو خوف دوبارہ اٹھائے جانے کے سبب وہ دیکھ رہے ہوں گے، اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے : (آیت) ” لبثنا یوم اوبعض یوم “۔ (الکہف : 19) (ہم ٹھہرے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ) اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک دنیا میں ان کے ٹھہرنے کی مدت اس ہول اور خوف سے کم ہے جو انہیں مستقبل میں ہوگا نہ کہ ان کے قبروں میں ٹھہرنے…
Read the full tafseer →عالم آخرت میں ایک دوسرے کو پہنچانیں گے۔
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس قول (آیت) ” یتعارفون بینہم “۔ کے بارے میں فرمایا کہ آدمی اپنے ساتھی کو پہچان لے گا اپنے پہلو میں لیکن وہ طاقت نہیں رکھے گا اس سے بات کرنے کی۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَحْشُرُھُمْ [ وہ اکٹھا کرے گا ان کو ] وہ اکٹھا کرے گا ان کو ] كَاَنْ [ گویا کہ ] لَّمْ يَلْبَثُوْٓا [ وہ لوگ ٹھہرے ہی نہیں ] اِلَّا [ مگر ] سَاعَةً [ ایک گھڑی ] مِّنَ النَّهَارِ [ دن میں سے ] يَتَعَارَفُوْنَ [ ایک دوسرے کو پہچانیں گے ] بَيْنَھُمْ ۭ [ اپنے مابین ] قَدْ خَسِرَ [ گھاٹے میں پڑچکے ہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ [ اللہ کی ملاقات ] کو [ وَمَا كَانُوْا [ اور وہ نہیں تھے ] مُهْتَدِيْنَ [ہدایت پانے والے ]
ترکیب : (آیت ۔ 45) کان لم میں کان دراصل کان ہے ، آگے لم سے ملانے کے لئے نون خفیفہ ہوا ہے ۔
نوٹ ۔ 2: زیرمطالعہ…
Read the full tafseer →اس کے بعد قیامت کے دن کا ایک منظر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّھَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَھُمْ ) (اور انہیں وہ دن یاد دلائیے جس میں اللہ ان کو جمع فرمائے گا گویا وہ دن کے ایک حصہ میں سے صرف ایک گھڑی ٹھہرے ہیں آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے) یعنی جب وہاں حاضر ہوں گے تو جو دنیا میں لمبی عمر گزری تھی اور برزخ میں جو عرصہ دراز تک رہے تھے اس سارے وقت کو یوں سمجھیں گے کہ گویا ہم صرف ذراسی ہی دیر دنیا میں اور برزخ میں رہے قیامت کے دن کی سختی کو دیکھ کر دنیا اور برزخ کی مدت دراز کو بھول کر یوں سمجھیں گے کہ گویا دن میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت
قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…
Read the full tafseer →62: یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ حق بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے انہیں آخرت کے عذاب سے خبر دار رہنا چاہئے۔ “ یَوْمٍ ” کا عامل “ یَتَعَارَفُوْنَ ” ہے۔ “ وَ قوله (یَتَعَارَفُوْنَ ) یجواز ان یکون متعلقا بیوم نحشرھم ” (کبیر ج 17 ص 103 طبع جدید) ۔ “ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْا ” سے پہلے “ يَقُوْلُوْنَ ” محذوف ہے یعنی جب ہم ان کو قبروں سے اٹھائیں گے تو وہ کہیں گے گویا کہ عالم برزخ میں ہم صرف ایک گھڑی ٹھہرے ہیں اور میدان حشر میں وہ ان لوگوں کو پہچانیں گے جنہیں دیا میں پہچانتے تھے۔ کفار و مشرکین جب آخرت کے شدید ترین اور دردناک عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو عالم برزخ کا عذاب اس کے مقابلے میں انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ربط آیات
ابتداء میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، پھر درمیان میں توحید کا مسئلہ بیان ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل دیے اور شرک کا رد فرمایا۔ اس کے بعد پھر قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، پھر درمیان میں توحید کا مسئلہ بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل دیے اور شرک کا رد فرمایا۔ اس کے بعد پھر قرآن کی حقانیت کا تذکرہ آیا ، اس کا منزل من اللہ ہونا اور غلطی سے مبرا ہونا بیان کیا گیا۔ پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت ہوئی۔ اب آج کے درس میں اور اگلی آیات میں مسئلہ رسالت اور قیامت کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مکی سورتوں میں بنیادی عقائد ، ایمانیات…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ 0 ۭ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللہِ وَمَا كَانُوْا مُہْتَدِيْنَ 45
حشر
الحَشْرُ : إخراج الجماعة عن مقرّهم وإزعاجهم عنه إلى الحرب ونحوها، وروي :
«النّساء لا يُحْشَرن» أي : لا يخرجن إلى الغزو، ويقال ذلک في الإنسان وفي غيره، يقال :
حَشَرَتِ السنة مال بني فلان، أي : أزالته عنهم، ولا يقال الحشر إلا في الجماعة، قال اللہ تعالی: وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] وَحَشَرْناهُمْ فَلَمْ نُغادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً [ الكهف/ 47] ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
ترکیب : کان مخففۃ من المثقلۃ واسمہا محذوف ای کانہم لم یلبثوا خبر ‘ ساعۃ ظرف لہ ‘ من النہار صفۃ لساعۃ واما فیہ ادغام نون ان الشرطیۃ فی ما الزائدۃ و جواب الشرط محذوف قداک۔
تفسیر : باوجود ایسے دلائلِ قاہرہ وبراہین باہرہ کے ان کے منکرین میں سے کچھ تو دل میں ایمان لاتے ہیں اور کچھ نہیں۔ یہ حالت بھی ان کی اللہ سے مخفی نہیں کہ دل میں قائل مگر عناد یا کسی غرض دنیا سے اظہار نہیں کرتے۔ پھر جب عناد اور ضد کی یہ نوبت ہے تو اے نبی ! ان سے کہہ دو اگر میں ناحق پر ہوں تو تمہیں میرے اعمال سے کیا ٗ پھر کس لئے ایذا دیتے ہو یعنی جاہلوں سے اعراض کرنا چاہیے اور اس بات کا اے نبی ! کچھ ملال نہ کیجئے گا کہ وہ کیوں…
Read the full tafseer →وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْٓا اِلاَّ سَاعَۃً مِّنَ النَّھَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَہُمْ ط فَدْخَسِرَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآئِ اللّٰہِ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ ۔ (یونس : 45)
(اور جس روز اللہ انھیں جمع کرے گا (اس دن وہ محسوس کریں گے) کہ گویا وہ دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر دن کی ایک گھڑی۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (تب حقیقت کھلے گی) کہ نامراد ہوئے وہ لوگ جنھوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور وہ ہدایت حاصل کرنے والے نہ بنے۔ )
مشرکین مکہ کی ایک اور فکری گمراہی
مشرکینِ مکہ کے افکارِ فاسدہ پر تنقید ہورہی ہے۔ ان کی ایک اور فکری گمراہی اور کج روی کا ذکر فرمایا جارہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کا انجام۔
قرآن مجید کا انکار اور سرور دو عالم ﷺ سے تکرار کرنے کی بنیادی وجہ آخرت کا انکار تھا۔ جس آدمی کا یہ عقیدہ ہو کہ میں نے مرنے کے بعد اٹھ کر رب ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہے ایسا شخص زیادہ عرصہ تک قرآن مجید کے حقائق اور صاحب قرآن کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہ بےباکی اور غفلت اسی شخص میں پیدا ہوا کرتی ہے جو اپنے رب کی ملاقات کا عملاً یا اعتقاداً منکر ہو۔ اس بناء پر منکرین قرآن کو احساس دلایا جارہا ہے کہ اس دن کو یاد کرو۔ جب سب کو اکٹھا کیا جائے گا تم ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچانو گے۔ باوجود اس کے کہ تم ایک عرصہ تک دنیا میں رہے مگر قیامت کی ہولناکیوں کو…
Read the full tafseer →حشر میں کفار کا حال :
45: وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ (اور اس دن کو یاد رکھو جب وہ ان کو جمع کرے گا )
قراءت : حفص نے یا ؔ سے پڑھا۔ جبکہ ابن عامر و ابن کثیر نے نون سے پڑھا ہے۔ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّھَارِ (گویا وہ نہیں ٹھہرے مگر ایک گھڑی دن کی) دنیا میں قرار کی مدت کو انہوں نے بہت چھوٹا قرار دیا یا قبور میں ٹھہرنے کی مدت کو اہوال آخرت کی وجہ سے قلیل قرار دیں گے۔ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَھُمْ (آپس میں پہچانیں گے) ایک دوسرے کو جانتے ہونگے گویا کہ وہ بہت تھوڑا وقت آپس میں جدا رہے اور یہ قبور سے نکلنے کے وقت ہوگا۔ پھر قیامت کے اہوال کی شدت سے تعارف منقطع ہوجائے گا۔
نحو : کان لم…
Read the full tafseer →(45)” ویوم یحشرھم “ حفص (رح) نے یاء کے ساتھ اور دیگر حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” کان لم یلبشوا الاساعۃ من النھار “ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ گویا وہ دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر ایک گھڑی دن کی اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ گویا وہ اپنی قبروں میں نہیں ٹھہرے مگر دن کی ایک گھڑی ” یتعارفون بینھم “ ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے ۔ جب وہ قبروں سے اٹھائے جائیں گے جیسے دنیا میں پہچانتے تھے ۔ پھر جب قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے تو پہچان ختم ہوجائے گی اور بعض آثار میں ہے کہ انسان قیامت کے دن اپنے پہلو والوں کو پہچانتا ہوگا لیکن ہیبت اور خوف سے بات نہ ک سکے گا ۔ ” قد خسر الذین کذبوا بلقاء اللہ وما کانوا مھتدین…
Read the full tafseer →45۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ نافرمان لوگ اب تو دنیا میں اپنا قیام دنیاوی ہمیشہ کا خیال کر کے غفلت میں عمر گزار رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ دنیا کے رہنے میں انہوں نے بہت کچھ پھل پایا لیکن قیامت کے دن یہ لوگ جب اپنی کمائی اور اپنا دنیا کا رہنا آخرت کے نفع سے بالکل خالی پاویں گے اور فرمانبرداروں کو دیکھیں گے کہ ان کے دنیا کے نیک کاموں نے ان کو بہت کچھ نفع دیا اور انہوں نے اپنی نافرمانی کی سزا میں بہت کچھ نقصان اٹھایا تو یہ لوگ اپنے دنیا کے رہنے کو بالکل حقیر اور گھڑی دو گھڑی کا ٹکاؤ خیال کریں گے۔ معتبر سند سے طبرانی کبیر میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا سورج کی گرمی…
Read the full tafseer →آیت : (45)
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ دنیا نہایت سرعت سے ختم ہوجانے والی ہے اور اللہ تعالیٰ جس روز تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا ‘ جس میں کوئی شک نہیں ‘ تو ان کو یوں لگے گا گویا کہ وہ دن کی ایک گھڑی ٹھہرے ہیں اور ان پر کسی نعمت یا تکلیف کے دن نہیں گزرے۔ وہ ایک دوسرے سے اس طرح متعارف ہوں گے جس طرح وہ دنیا میں متعارف تھے۔ اس روز متقی لوگ فائدے میں رہیں گے اور وہ لوگ نقصان اٹھائی گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو جھٹلایا ‘ وہ راہ راست پر گامزن ہوئے نہ دین قویم پر چلے ‘ کیونکہ وہ نعمتوں سے محروم ہوں گے اور جہنم کے مستحق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →82 ۔ منکرین حق کی جلد بازی کا جواب اور ان کو تنبیہ : سو اس ارشاد سے منکرین قیامت کی جلد بازی کا جواب بھی دیا گیا اور ان کو تنبیہ بھی فرما دی گئی کہ قیامت کے روز اپنی دنیاوی زندگی ان کو ایک گھڑی کے برابر معلوم ہوگی ہول محشر کی وجہ سے اور کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں۔ سو دنیا کی جس زندگی کو آج یہ لوگ بڑی چیز اور لمبی فرصت سمجھتے ہیں وہاں پر یہ ان کو ایک گھڑی کے برابر معلوم ہوگی۔ تب ان کے افسوس کی کوئی انتہاء نہ ہوگی لیکن بےوقت کے اس افسوس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت میں اضافہ کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ قرآن حکیم کا کس قدر بڑا احسان ہے خلق خداوندی پر کہ غیب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی
تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرار و معارف
ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں
دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یعنی قبر میں رہنا اس دن ایک گھڑی بھر معلوم ہوگا۔ (موضح) ۔ یا دنیا میں جیسے ایک گھڑی رہے ہیں اور تعارف کی یہ کیفیت قبروں سے نکلتے وقت یا شروع شروع میں ہوگی۔ پھر جب حشر کی شدت شروع ہوجائے گی تو سب ایک دوسرے کو بھول جائیں گے جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ (کبیر) ۔
5 ۔ دنیا میں حیوانوں کی سے بےاصولی زندگی بسر کی اور آخرت میں بھی جہنم کا ایندھن بنے۔
Read the full tafseer →(10:45) یوم۔ ای اذکر یا محمد ﷺ یاد کرو اس دن کو۔ یحشرھم۔ جب وہ ان کو اکٹھا کرے گا۔
کان۔ گویا کہ ۔ کان اصل میں کان ہی تھا۔ اسی کی طرح اس کا معنوی فائدہ بھی ہے لیکن تخفیف نون کے بعد عمل اور لفظی تصرف ساقط ہوجاتا ہے۔ اب نہ اسم کو نصب دے سکتا ہے اور نہ خبر کو رفع جو کان کا خصوصی عمل ہے۔
لم یلبثوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب۔ وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے۔ لبث (باب سمع) ۔
یتعارفون بینہم۔ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی) لیکن ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے۔ اس سے اور رنج و صدمہ بڑھے گا۔ کیونکہ شناسا لوگوں سے توقع نفع کی ہوا کرتی ہے۔ اور جس دن ایسا ہوگا کہ اللہ ان سب کو اپنے حضور جمع کریگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
یحشر (وہ جمع کرے گا) لم یلبثوا (وہ نہ ٹھہریں گے) ساعۃ (ایک گھڑی، کچھ مدت) خسر (نقصان اٹھایا) نرین (ہم ضرور دکھائیں گے) نعد (ہم وعدہ کرتے ہیں) نتوفین (ہم وفات دیں گے، موت دیں گے) شھید (گواہ) قضی (فیصلہ کردیا گیا) القسط (انصاف، پورا پورا) لا املک (میں مالک نہیں ہوں) اجل (مدت ، موت) لایستاخرون (وہ دیر نہیں کرتے ہیں) لایستقدمون (وہ آگے نہیں بڑھتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
وہ دن جب کہ اللہ تعالیٰ اس نظام کائنات کو توڑ کر ایک ایسی نئی زمین تیار فرمائیں گے جس میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو ایک جگہ جمع فرمائیں گے۔ اسی کو میدان حشر کہا…
Read the full tafseer →حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ نافرمان لوگ اب تو دنیا میں اپنا قیام دنیاوی ہمیشہ کا خیال کر کے غفلت میں عمر گزار رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ دنیا کے خالی رہنے میں انہوں نے بہت کچھ پھل پایا، لیکن قیامت کے دن یہ لوگ جب اپنی کمائی اور اپنا دنیا کا رہنا آخرت کے نفع سے بلکل خالی پاویں گے اور فرمانبرداروں کو دیکھیں گے کہ ان کے دنیا کے کاموں نے ان کو بہت کچھ نفع دیا اور انہوں نے اپنی نافرمانی کی سزا میں بہت کچھ نقصان اٹھایا تو یہ لوگ اپنے دنیا کے رہنے کو بلکل حقیر اور گھڑی دو گھڑی کا لگاؤ خیال کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
[23] یعنی بغیر کسی علمی تحقیق و جستجو کے محض وہم و گمان کی بنیاد پر انہوں نے قرآن کی تکذیب کی۔ قرآن کریم کا ایسے علوم پر مشتمل ہونا جن کا مدعیان علم احاطہ نہ کرسکیں کتاب کی عظمت و جلالت کو ظاہر کرتا ہے، تو ایسے اعلیٰ علوم والی کتاب کو نہ ماننا کمال جہل ہے۔
[24] یعنی قرآن میں جو خبریں دی گئی ہیں جیسے قیامت، جزا سزا وغیرہ جو ابھی پیش نہیں آئیں۔
Read the full tafseer →(ف 1) تعارف سے مقصود ہے کہ یہ لوگ جب آپس میں ملیں گے تو ایک دوسرے کو ملامت کریں گے ، یہ ذلت و تحقیر کا تعارف ہوگا ، مرید شیخ سے کہے گا کہ آپ نے ہمیں کیوں گمراہ کیا ، اور شیخ اپنے مرشدوں برے دوستوں اور رہنماؤں کا دامن پکڑے گا ۔
Read the full tafseer →45 اور اے پیغمبر ﷺ ! ان کو وہ دن یا د دلائیے جس دن اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ دنیا میں برزخ میں گویا پورے دن میں سے ایک گھڑی بھر ٹھہرے ہوں گے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہنچانتے بھی ہوں گے بلاشبہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی پیشی میں حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ اس دن بڑے خسارے اور نقصان میں رہیں گے اور وہ دنیا میں بھی راہ یافتہ نہ تھے قیامت کا دن چونکہ بہت بڑا اور سخت ہولناک ہوگا اس لئے دنیا میں رہنے یا قبر میں رہنے کی مدت کو کم سمھیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قبر میں رہنا اس دن ایک گھڑی بھر معلوم ہوگا۔
Read the full tafseer →ف 4۔ اوپر آیت کذالک کذب الخ۔ میں کفر و تکذیب پر عذاب کی وعید فرمائی ہے اور آگے اس عذاب کے دنیا میں واقع نہ ہو سے جو وہ کفار جو شبہات کرتے تھے ان کا جواب بضمن تحقیق معاد کے بتلاتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ احیانا دنیا میں گو واقع ہوجائے لیکن اصلی وقت اس کا یوم حشر ہے اسی لیے دنیا میں اس کے صرف بعض شعبے واقع ہوتے ہیں لقولہ تعالیٰ بعض الذ۔ اور کامل طور پر اسی وقت ہوگا۔ لقولہ تعالیٰ ولوان لکل نفس۔ پس دنیا میں واقع نہ ہونا نہ مضر ہے اور نہ میرے اختیار میں ہے۔ لقولہ تعالیٰ قل لا املک۔ اور نہ تمہارے لیے مصلحت ہے کیونکہ فوری وقوع میں مہلت ایمان کی بھی فوت ہوجائے گی لقولہ تعالیٰ ماذا یستعجل۔
5۔ چونکہ وہ…
Read the full tafseer →جمع ہونے کے دن وہ دنیا کی زنگدی کو خود ہی ” پل بھر “ زندگی قرار دیں گے
۔ 68 آخرت کی زندگی تو وہ زندگی ہے جس کے بعد موت نہیں ہے۔ وہ زندگی جب ان کے سامنے ہوگی تو ان کو دنیا کی زندگی آخری کتنی نظر آئے گی ؟ باوجود اس کے کہ انہوں نے دنیا میں بڑی بڑی طویل عمریں پائیں جب وہ حشر میں اٹھائے جائیں گے اور خواب برزخ اور خوب ناسوت دونوں سے بیدار ہوں گے تو اب انہیں اپنے انداز میں جو زبان حشر کے مطابق و ماتحت ہوگا ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ دنیا میں کچھ رہے ہی نہیں ، بت رہے تو بس ایک گھڑی بھر اور ان کا یہ بیان عین فطرت انسانی کے مطابق بیان ہوا اس لئے کہ یوم حشر مدید بھی ہوگا اور شدید بھی اس لئے دنیا اور برزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
Commentary
In verse 45, it was said: يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ (they will recognize each other), that is, when the dead will be raised from their graves, they will recognize each other as if not much time had passed when they met last.
Imam al-Baghawi said: This recognition will be possible during the
early stage. Later, when the horrendous happenings of the Qiyamah, the Day of Doom, will unfold, this ability to recognize each other will stand disabled. According to some other narrations, the ability to recognize each other will, though, still remain, but such will be the awe of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
53. A time will come when such people will, on the one hand, come face to face with the infinite life of the Hereafter, and on the other, they will took back at their past worldly life and realize how puny it was as compared to the life ahead. It is then that they will comprehend what folly they have committed by ruining their eternal future for the sake of ephemeral pleasures and benefits in this worldly life.
54. This refers to the unbelievers' rejection that a time will come when everyone will have to stand before God for His judgement.
Read the full tafseer →