Explained with ayahs 41–44
مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے
فرمان ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بےزاری کا اعلان کردے۔ اور کہہ دے کہ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ۔ جیسے کہ وہ سورة (آیت قل یا ایھالکافرون) میں بیان ہوا ہے۔ اور جیسے کہ حضرت خلیل اللہ اور آپ کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں۔ جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند وبالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 52
یعنی اللہ نے تو انہیں کان بھی دیے ہیں اور آنکھیں بھی اور دل بھی۔ اس نے اپنی طرف سے کوئی ایسی چیز ان کو دینے میں بخل نہیں کیا ہے جو حق و باطل کا فرق دیکھنے اور سمجھنے کے لیے ضروری تھی۔ مگر لوگوں نے خواہشات کی بندگی اور دنیا کے عشق میں مبتلا ہو کر آپ ہی اپنی آنکھیں پھوڑ لی ہیں، اپنے کان بہرے کرلیے ہیں اور اپنے دلوں کو اتنا مسخ کرلیا ہے کہ ان میں بھلے برے کی تمیز، صحیح و غلط کے فہم اور ضمیر کی زندگی کا کوئی اثر باقی نہ رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
خلاصہ تفسیر
اور اگر (ان دلائل کے بعد بھی) آپ کو جھٹلاتے رہیں تو (بس اخیر بات) یہ کہہ دیجئے کہ (اچھا صاحب) میرا کیا ہوا مجھ کو ملے گا اور تمہارا کیا ہوا تم کو ملے گا تم میرے عمل کے جواب دہ نہیں ہو، اور میں تمہارے عمل کا جوابدہ نہیں ہوں (جس طریقہ پر چاہو رہو آپ معلوم ہوجاوے گا) اور (آپ ان کے ایمان کی توقع چھوڑ دیجیئے کیونکہ) ان میں (گو) بعض ایسے (بھی) ہیں جو (ظاہر میں) آپ کی طرف کان لگا لگا کر بیٹھتے ہیں (لیکن دل میں ارادہ ایمان اور حق طلبی کا ہیں ہے پس اس اعتبار سے ان کا سننا نہ سننا برابر ہے پس ان کی حالت بہروں کی سی ہوئی تو) پھر کیا آپ بہروں کو سنا (کر ان سے ماننے کا انتظار کر) تے ہیں گو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
40۔۔ 44: وَمِنْھُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهٖ ۭ وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَ۔ وَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۚ اَنْتُمْ بَرِيْۗـــــُٔوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ ۭاَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوْا لَا يَعْقِلُوْنَ۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّنْظُرُ اِلَيْكَ ۭ اَفَاَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـــًٔـا وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ۔
وَمِنْھُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ…
Read the full tafseer →44۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں ساری صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آنکھیں بھی دی ہیں، جن سے وہ دیکھ سکتے ہیں، کان دیئے ہیں، جن سے سن سکتے ہیں، عقل و بصیرت دی ہے جن سے حق اور باطل اور جھوٹ اور سچ کے درمیان تمیز کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرکے وہ حق راستہ نہیں اپناتے، تو پھر یہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو ان پر ظلم نہیں کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
23: آنحضرت ﷺ کو اپنی امت پر جو غیر معمولی شفقت تھی اس کی وجہ سے آپ اکثر اس بات سے غمگین رہتے تھے کہ یہ کافر لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے، یہ آیت آپ کو تسلی دے رہی ہے کہ آپ اسی شخص کو راہ راستہ پر لاسکتے ہیں جو دل میں حق کی طلب رکھتا ہو۔ لیکن جن لوگوں میں اس طلب کا فقدان ہے، ان کی مثال تو بہروں اور اندھوں کی سی ہے کہ آپ کتنا ہی چاہیں، نہ انہیں کوئی بات سنا سکتے ہیں، نہ کوئی راستہ دکھا سکتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری آپ پر نہیں، خود انہی پر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں کہ دوزخ کا راستہ اپنا رکھا ہے۔
Read the full tafseer →ان اللہ لا یظلم الناس شیءًا ولکن الناس انفسھم یظلمون۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ اپنی فطری صلاحیتوں کی خرابی اور اختیار و پسندیدگی کی غلطی کی وجہ سے اللہ اور اللہ کے رسول (ﷺ) کے بتائے ہوئے راستے کو صحیح نہیں مانتے۔
رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جو ہدایات (اور دینی تعلیم) اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ‘ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی زمین پر خوب بارش ہو تو زمین کو جو ٹکڑا اچھا ہوتا ہے ‘ وہ پانی لے لیتا ہے پھر اس میں سبزہ ‘ گھاس ‘ چارہ بکثرت ہوجاتا ہے اور زمین کا کچھ ٹکڑا پتھریلا سخت ہوتا ہے ‘ وہ پانی کو اپنے اندر روک لیتا ہے (اس پانی سے اس…
Read the full tafseer →6 یعنی جن کے دل میں اثر نہیں ہوتا، یہ ان ہی کی تقصیر ہے۔ خود اپنی بےاعتدالیوں اور غلط کاریوں سے انہوں نے قوائے ادراکیہ کو تباہ کرلیا ہے۔ ورنہ اصل فطرت سے ہر آدمی کو خدا نے سمجھنے اور قبول کرنے کی استعداد بخشی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
اَفَاَنْتَ تَہْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوْا لاَ یُبْصِرُوْنَ
چنانچہ جب ان لوگوں کی نیت ہی ہدایت حاصل کرنے کی نہیں ہے ‘ جب ان کے دل ہی اندھے ہوچکے ہیں تو آپ ﷺ کی مجلس میں آنا اور آپ کی صحبت میں بیٹھنا ‘ ان کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →59 یعنی اللہ نے انہیں سننے کو کان، دیکھنے کو آنکھیں اور فہم و بصیرت کے لیے دل و دماغ سب کچھ عطا کیا تھا تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کرسکیں پھر اگر وہ ان سے کام نہ لے کر عذاب کے مستحق بنتے ہیں تو یہ ان کا اپنا ہی قصور ہے اللہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →70۔ (کہ اپنی فطری صلاحیتوں کو ضائع کردیتے ہیں اور ان سے کام نہیں لیتے) (آیت) ” ان۔۔۔۔ شیئا “۔ یعنی یہ کہ اللہ پہلے تو خود ہی انہیں صلاحیت ہدایت سے محروم رکھے اور پھر ان سے مؤاخذہ کرنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…
Read the full tafseer →ان اللہ لا یظلم الناس شیءًا ولکن الناس انفسھم یظلمون۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ اپنی فطری صلاحیتوں کی خرابی اور اختیار و پسندیدگی کی غلطی کی وجہ سے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے کو صحیح نہیں مانتے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو ہدایات (اور دینی تعلیم) اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ‘ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی زمین پر خوب بارش ہو تو زمین کو جو ٹکڑا اچھا ہوتا ہے ‘ وہ پانی لے لیتا ہے پھر اس میں سبزہ ‘ گھاس ‘ چارہ بکثرت ہوجاتا ہے اور زمین کا کچھ ٹکڑا پتھریلا سخت ہوتا ہے ‘ وہ پانی کو اپنے اندر روک لیتا ہے (اس پانی سے اس زمین کے…
Read the full tafseer →(44) اللہ تعالیٰ لوگوں کو نیکیوں میں سے کچھ کمی نہیں فرماتے اور نہ ان کے گناہوں میں زیادتی فرماتے ہیں لیکن لوگ کفر وشرک اور گناہوں کی وجہ سے خود ہی اپنے آپ کو تباہ وبرباد کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـــًٔـا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح پورے حواس دیے ہیں، پھر یہ ضد اور ہٹ دھرمی سے ایمان نہ لائیں تو ان کا اپنا قصور ہے، اللہ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ مزید دیکھیے سورة عنکبوت (40)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 44۔
جب شقی (اور بدبخت) لوگوں کا ذکر کیا تو ساتھ ہی یہ ذکر بھی کیا کہ اس نے ان کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا اور یہ کہ ان پر شقاوت کا چھا جانا اور دل کی سماعت اور بصارت کا سلب ہوجانا اس کی طرف سے ظلم اور زیادتی نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنی ملکیت میں جیسے چاہے تصرف کرسکتا ہے اور وہ اپنے جمیع افعال میں عادل ہے۔ (آیت) ” ولکن الناس انفسھم یظلمون “۔ لیکن لوگ اپنے نفسوں پر کفر، معصیت اور اپنے خالق کے حکم کی مخالفت کرکے ظلم کرتے ہیں (1) (تفسیر الطبری، زیر آیت ہذہ)
حمزہ اور کسائی نے (آیت) ” مخفف اور (آیت) ” الناس “ کو مرفوع پڑھا ہے، نحاس نے کہا ہے : نحویوں کی جماعت جس میں فراء بھی ہیں ان کا خیال ہے…
Read the full tafseer →1:۔ ابو الشیخ (رح) نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ان اللہ لا یظم الناس شیئا ولکن الناس انفسہم یظلمون (44) “ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے بندے میں نے اپنی ذات پر ظلم کو حرام کردیا ہے اور میں نے اس کو تمہارے درمیان بھی حرام کردیا ہے پس تم آپس میں (ایک دوسرے پر) ظلم نہ کرو۔
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] لَا يَظْلِمُ [ ظلم نہیں کرتا ] النَّاسَ [ لوگوں پر ] شَيْـــًٔـا [ کچھ بھی ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن ] النَّاسَ [ لوگ ] اَنْفُسَھُمْ [ اپنے آپ پر ] يَظْلِمُوْنَ [ ظلم کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْءًا وَّلٰکِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ لوگوں پر ذرا سا بھی ظلم نہیں فرماتا لیکن لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں) اسی ظلم میں سے یہ ہے کہ فکر ونظر سے کام نہیں لیتے اور اپنے حواس کو استعمال نہیں کرتے اور اگر حق سمجھ میں آجائے تو عناداً اس کی طرف سے منہ موڑ لیتے ہیں یہ سب ان کی جانوں پر ظلم ہے اور وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
تسلیۂ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم و حکم اعراض از معاندین ومجادلین
قال اللہ تعالی۔ وان کذبوک فقل لی عملی ولکم عملکم۔۔۔ الی۔۔۔ انفسہم یظلمون
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی تکذیب کا ذکر تھا جس کا مناظرانہ جواب دیا جاتا ہے کما قال اللہ تعالیٰ واعرض عن الجھلین۔ اور آنحضر ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کیونکہ جب طبیب مشفق کسی بیمار کو دیکھتا ہے کہ وہ قابل علاج نہیں رہا تو اس سے نامید ہوجاتا ہے اور اس ناامیدی اور اعراض سے اس طبیب مشفق کو راحت ملتی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اگر حجت قائم ہوجانے کے بعد بھی یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں یعنی اپنی تکذیب پر اڑے رہے اور آپ ان کے قبول سے ناامید ہوجائیں تو آخری بات آپ ﷺ ان سے…
Read the full tafseer →61: جملہ ماقبل کی علت ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و بصیرت اور ہدایت سے محروم کر کے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کیونکہ جب دلائل وبراہین سے حق ان پر واضح ہوگیا تو انہوں نے اسے تسلیم نہ کیا، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی عقل وخرد سے کام نہ لیا اور جان بوجھ کر، عمداً قصداً ، محض ضد وعناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا اس لیے یہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے کہ انہیں قبول ہدایت کی توفیق سے محروم کردیا گیا۔ “ اي لعدم استعمال مشاعرھم فیما خلقت له واعراضھم عن قبول الحق و تکذیبھم للرسل و ترک النظر فی الادلة ” (روح ج 11 ص 126) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ربط آیات
ابتداء میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، پھر درمیان میں توحید کا مسئلہ بیان ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل دیے اور شرک کا رد فرمایا۔ اس کے بعد پھر قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، پھر درمیان میں توحید کا مسئلہ بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل دیے اور شرک کا رد فرمایا۔ اس کے بعد پھر قرآن کی حقانیت کا تذکرہ آیا ، اس کا منزل من اللہ ہونا اور غلطی سے مبرا ہونا بیان کیا گیا۔ پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت ہوئی۔ اب آج کے درس میں اور اگلی آیات میں مسئلہ رسالت اور قیامت کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مکی سورتوں میں بنیادی عقائد ، ایمانیات…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـــًٔـا وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ 44
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
ترکیب : کان مخففۃ من المثقلۃ واسمہا محذوف ای کانہم لم یلبثوا خبر ‘ ساعۃ ظرف لہ ‘ من النہار صفۃ لساعۃ واما فیہ ادغام نون ان الشرطیۃ فی ما الزائدۃ و جواب الشرط محذوف قداک۔
تفسیر : باوجود ایسے دلائلِ قاہرہ وبراہین باہرہ کے ان کے منکرین میں سے کچھ تو دل میں ایمان لاتے ہیں اور کچھ نہیں۔ یہ حالت بھی ان کی اللہ سے مخفی نہیں کہ دل میں قائل مگر عناد یا کسی غرض دنیا سے اظہار نہیں کرتے۔ پھر جب عناد اور ضد کی یہ نوبت ہے تو اے نبی ! ان سے کہہ دو اگر میں ناحق پر ہوں تو تمہیں میرے اعمال سے کیا ٗ پھر کس لئے ایذا دیتے ہو یعنی جاہلوں سے اعراض کرنا چاہیے اور اس بات کا اے نبی ! کچھ ملال نہ کیجئے گا کہ وہ کیوں…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَظْلِمُ النَّاسَ شْیْائً وَّلٰـکِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (یونس : 44)
(یقیناً اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، لیکن لوگ ہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کا قانونِ ہدایت
اللہ کا قانون یہ ہے (جس کا پہلے بھی تذکرہ ہوچکا ہے) کہ وہ نہ زبردستی کسی کو راہ راست پر چلاتا ہے اور نہ زبردستی کسی کو گمراہ کرتا ہے۔ اس نے انسان کو معمولاتِ زندگی کی ادائیگی کے لیے حواس عطا فرمائے اور صحیح اور غلط اور اچھائی اور برائی میں امتیاز کے لیے عقل کا جوہر عطا فرمایا۔ اور اچھائی اور برائی کے معاملے میں جن چیزوں کا تعلق عقل سے ماورا حقائق کے ساتھ تھا ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کا انکار کرنے والے حقیقت میں بہرے اور اندھے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑنا ہی بہتر ہے۔
منکرین قرآن کو باربار چیلنج دیا گیا کہ اگر تم یہ الزام لگانے میں سچے ہو کہ رسول ﷺ نے قرآن مجید اپنی طرف سے بنالیا ہے تو پھر تم اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔ لیکن اس چیلنج کا جواب دینے کی بجائے وہ یہی ہرزہ سرائی کرتے رہے۔ جس پر مزید بحث کرنے اور چیلنج دینے کی بجائے نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم ہوا کہ آپ ان سے یہ کہہ کر بےمقصد بحث سے دامن بچائیں کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ قیامت کے روز ہر کوئی اپنے عمل اور کردار کا انجام دیکھ لے گا۔ لہٰذا تمہیں ہمارے عمل کے بارے میں…
Read the full tafseer →44: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّلٰکِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا۔ لیکن لوگ خود ہی اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں)
قراءت : حمزہ و علی نے ولکن الناسُپڑھا ہے۔ یعنی استدلال کے آلات کو سلب کر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے استدلال کو ترک کر کے اپنے اوپر خود ظلم کیا۔ خود زندہ ہو کر جمادات کو معبودبنالیا۔
Read the full tafseer →(44)” ان اللہ لا یظلم الناس شیئاً “ اس لیے کہ وہ اپنے تمام افعال میں عادل ہے۔” ولکن الناس انفسھم یظلمون “ کفر اور معصیت کے ساتھ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” ولکن الناس “ نون کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” لکن “ اور ” الناس “ کو پیش دیا ہے اور باقی حضران نے ” ولکن الناس “ نون کے شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” لکن “ اور ’ ’ الناس “ زبر کے ساتھ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
42۔ 41۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ایک اور حال بیان فرمایا کہ جب قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو یہ لوگ سنتے ہیں مگر اس سننے سے ان کا یہ مقصود نہیں ہوتا کہ اس پر ایمان بھی لاویں فقط سننا ہی سننا ہے اسی طرح اے رسول اللہ ﷺ کے ان لوگوں میں سے بعضے تمہاری طرف دیکھتے ہیں کہ ظاہر ظاہر معجزے اللہ تعالیٰ نے تم کو دئیے ہیں مگر یہ دیکھنا ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اس دیکھنے سے وہ ایمان لانے کا ارادہ نہیں کرتے ہیں اگر آپ چاہیں کہ یہ سب راہ راست پر آجائیں تو یہ غیر ممکن ہے کیونکہ جس طرح بہروں اور اندھوں کو نہ تم کچھ سنا سکتے نہ دکھا سکتے ہو اسی طرح ان کے دلوں کو قابو کر کے ان کو ہدایت بھی نہیں کرسکتے کیوں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت : (42-44)
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے رسول ﷺ کی اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کیت کذیب کی ‘ چناچہ فرمایا : (ومنھم من یستمعون) ” اور انمیں سے بعض کان لگاتے ہیں آپ کی طرف “ یعنی وحی کی قراءت کے وقت نبی کریم ﷺ کو غور سے سنتے ہیں ‘ رشد و ہدایت کے حصول کی خاطر نہیں ‘ بلکہ تکذٰب اور کمزوریاں تلاش کرنے کے لئے سنتے ہیں اور اس طرح کا سننا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور سننے والے کو کوئی بھلائی عطا نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پس توفیق کا دروازہ بند ہوگیا اور وہ سننے کے فائدے سے محروم ہوگئے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (افانت شمع الصم ولو کانو الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →81 ۔ حق سے منہ موڑنا خود اپنی جان پر ظلم کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر ایسے لوگ خود اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے ہیں۔ کیونکہ حق اور حقیقت کے انکار کا یہ جرم ایسا سنگین اور ہولناک جرم ہے کہ انسان کو دارین کی سعادتوں سے محروم کردیتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح حق کا انکار کرکے انسان خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے مگر اس کو اس کا علم و احساس بھی نہیں ہوتا جو کہ خسارہ در خسارہ اور محرومی در محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح ایسے لوگ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ اور ظلم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ہر کوئی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے
تشریح : ان آیات میں رب اعلیٰ اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے تسلی دیتے ہیں کہ آپ تو بیشک بہت محنت کر رہے ہیں تو ان کی ہٹ دھرمی اور نافرمانی سے آپ بالکل پریشان نہ ہوں آپ ان کو بتا دیں کہ وہ جو کریں گے اس کا اجر پالیں گے کیونکہ اللہ سے کوئی بات اور کسی کا بھی کوئی عمل چھپا ہوا نہیں وہ بڑے انصاف سے سب کو اجر میں سزا اور جزا ضرور دے گا اور وہ ظلم نہیں کرتا جس کو سزا ملے گی اس کو صرف اپنے کیے گئے اعمال کی ہی سزا ملے گی۔
حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” لوگ قیامت کے دن صرف اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔ “ (الترغیب للمنذری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرار و معارف
ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں
دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح پورے حواس دئیے ہیں۔ پھر یہ ضد اور ہٹ دھرمی سے ایمان نہ لائیں تو ان کا اپنا قصور ہے، اللہ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(10:43) عمی۔ اندھے۔ آنکھوں سے اندھے یا دل کے اندھے۔ دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اعمی کی جمع۔ عمیاء واحد مؤنث۔ ہر دو کی جمع عمی ہے۔ عمی یعمی (سمع) عمی۔ اندھا ہونا۔ دل کا اندھا ہونا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44
بریتون (وہ بری ہیں، ذمہ دار ہیں) یستمعون (وہ غور سے سنتے ہیں) تسمع (تو سنوائے گا) الصم (بہرے) العمی (ادھے) لایبصرون (وہ نہیں دیکھتے ہیں) لایظلم (وہ ظلم و زیادتی نہیں کرتا)
تشریح :- آیت نمبر 41 تا 44
کفار و مشرکین ہر طرح کے حقائق اور سچائیوں کو جاننے کے باوجود جس طرح اپنے کفر و شرک پر ہٹ دھرمی، ضد اور تعصب پر جمے ہوئے تھے اور حق کی کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ بشریٰ تقاضا تھا کہ نبی مکرم ﷺ اس سے بد دل اور تنگ ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صاف صا کہہ دیجیے کہ میں جو کچھ کر ہا ہوں اس کا میں ذمہ دار ہوں لیکن عمل کی جس…
Read the full tafseer →یہاں فرمایا کہ اللہ کو ظلم نہیں پسند، اپنی ذات پر بھی ظلم کو حرام کیا ہے اور اپنے بندوں پر بھی ظلم کو حرام کردیا ہے کہ آپس میں کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
[23] یعنی بغیر کسی علمی تحقیق و جستجو کے محض وہم و گمان کی بنیاد پر انہوں نے قرآن کی تکذیب کی۔ قرآن کریم کا ایسے علوم پر مشتمل ہونا جن کا مدعیان علم احاطہ نہ کرسکیں کتاب کی عظمت و جلالت کو ظاہر کرتا ہے، تو ایسے اعلیٰ علوم والی کتاب کو نہ ماننا کمال جہل ہے۔
[24] یعنی قرآن میں جو خبریں دی گئی ہیں جیسے قیامت، جزا سزا وغیرہ جو ابھی پیش نہیں آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
کفر سے بیزاری :
(ف 2) اس نوع کی آیات سے غرض کفر سے اظہار بیزاری ہے یہ سنانا مقصود ہے کہ اسلام کو کفر کے ساتھ کوئی تعلق خاطر نہیں اور اسلام کے نزدیک کفر کے اعمال و عقائد ہمیشہ نفرت انگیز ہیں ، بعض لوگوں نے جو اس قسم کی آیات کو رواداری اور مسالمت سے تعبیر کیا ہے ، اور کہا ہے کہ یہ آیات جہاد کے بعد منسوخ ہوچکی ہیں غلط ہے ۔
(آیت) ” انا بری مما تعملون “۔ کے الفاظ صاف صاف کہہ رہے کہ تم سے کامل بیزاری اور نفرت ہے ۔
(ف 1) تعارف سے مقصود ہے کہ یہ لوگ جب آپس میں ملیں گے تو ایک دوسرے کو ملامت کریں گے یہ ذلت وتحقیر کا تعارف ہوگا ، مرید شیخ سے کہے گا کہ آپ نے ہمیں کیوں گمراہ کیا اور شیخ اپنے مرشدوں برے…
Read the full tafseer →44 یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرا بھی ظلم اور زیادتی نہیں کرتا لیکن خود ہی لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کسی میں قابلیت اور صلاحیت ہدایت قبول کرنے کی نہ رکھے پھر مواخذہ کرے یہ بات نہیں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بعضوں کے دل میں اثر نہیں دیتا سو ان کی تقصیر سے کہ دل صاف کرکے نہیں سنتے 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
ف 3۔ یعنی خود ہی قابلیت موہوبہ کو ضائع کردیتے ہیں اور اس سے کام نہی لیتے۔
Read the full tafseer →ان ظالموں نے اس طرح کا ظلم کر کے کسی کا کوئی نقصان نہیں کیا خود اپنا ہی کیا
۔ 67 کتنے نادان ہیں کہ خود اپنی جانوں پر ظلم کئے جا رہے ہیں اور خوش ہیں کہ ہم نے کار ہائے نمایاں کئے۔ اچھا اگر اس طرح کوئی ساری عمر ضلالت میں سرگرداں رہتا ہے تو اس محرومی کا اثر کس پر ہوگا ؟ خود اس پر ورنہ اللہ نے تو سارے سامان اس کو مہیا کردیئے تھے۔ انہیں کان بھی دیئے اور آنکھیں بھی دیں اور دل بھی اس نے اپنی طرف سے کسی چیز میں کوئی بخل نہیں کیا بلکہ نہایت وسعت سے کام لیتے ہوئے ساری چیزیں بڑی بہتات سے ان کو دیں مگر انہوں نے اپنی خواہشات کی کی بندگی کی اور دنیا کے عشق میں مبتلا ہو کر آپ ہی اپنی آنکھیں پھوڑ لیں اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted…
Read the full tafseer →52. God has generously endowed people with all that is needed to help them distinguish between truth and falsehood - ears, eyes, and hearts. But some people have become virtual slaves to their lusts and are utterly spellbound by the allurements of a worldly life. By so doing, they have caused their eyes to go blind, their ears to become deaf, and have perverted their hearts to such a degree that they have become bereft of the capacity to distinguish between what is good and what is evil, what is right and what is wrong, and have debilitated their conscience to such a degree that it has ceased…
Read the full tafseer →