Explained with ayahs 48–52
بےمعنی سوال کرنے والوں کو جواب
ان کا بےفائدہ سوال دیکھو۔ وعدہ کا دن کب آئے گا ؟ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول ﷺ ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
سورة یُوْنُس 57
یعنی میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ فیصلہ میں چکاؤں گا اور نہ ماننے والوں کو میں عذاب دوں گا۔ اس لیے مجھ سے کیا پوچھتے ہو کہ فیصلہ چکائے جانے کی دھمکی کب پوری ہوگی۔ دھمکی تو اللہ نے دی ہے، وہی فیصلہ چکائے گا اور اسی کے اختیار میں ہے کہ فیصلہ کب کرے اور کس صورت میں اس کو تمہارے سامنے لائے۔
سورة یُوْنُس 58
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد باز نہیں ہے۔ اس کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اسی وقت جو ایمان لے آیا بس وہ تو رحمت کا مستحق قرار پایا اور جس کسی نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فورا عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
(آیت) اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۭ اٰۗلْــٰٔنَیعنی کیا تم ایمان اس وقت لاؤ گے جب تم پر عذاب واقع ہوجائے گا خواہ موت کے وقت یا اس سے پہلے ہی، مگر اس وقت تمہارے ایمان کے جواب میں یہ کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ کیا اب ایمان لائے ہو، جب کہ ایمان کا وقت گزر چکا، جیسے غرق ہونے کے وقت فرعون نے جب کہا (آیت) اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، جواب میں کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ ، اور اس کا یہ ایمان قبول نہیں کیا گیا، کیونکہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہی رہتا ہے جب تک کہ وہ غرغرہ موت میں گرفتار نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
50۔ 52:۔ قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَيَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ۔ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۭ اٰۗلْــٰٔنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔ ثُمَّ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۔
جلد بازوں سے ایک سوال : ان کے سوال " متی ھذا الوعد " کا جواب تو اوپر کی آیات میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے دلوا دیا لیکن ساتھ ہی ان کے سوال کے مقابل میں ایک سوال ان سے بھی کردیا کہ ان سے پوچھو کہ اس طنطنہ سے جو خدا کے عذاب سے متعلق سوال کر رہے ہو تو آخر کس بل بوتے پر کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51۔ 1 لیکن عذاب آنے کے بعد ماننے کا کیا فائدہ ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
25: یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں ان کو دنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے۔ لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →اثم اذا ما وقع امنتم بہ کیا پھر جب وہ مطلوبہ عذاب آجائے گا تو (پشیمان ہو گے اور) عذاب پر یا عذاب کی خبردینے والے پر ایمان لاؤ گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم پر عذاب آجائے گا تو کیا اس وقت بھی عذاب کی جلدی مچاؤ گے ‘ پھر اس وقت عذاب کو یا عذاب کی خبر دینے والے کو مانو گے جبکہ ایمان سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
آلن (آخرت کا عذاب دینے کے بعد یا موت کے گھنگھرو بولنے کے وقت جب تم ایمان لاؤ گے تو اس وقت تم سے کہا جائے گا) کیا اب (تم ایمان لائے ‘ ایسے وقت میں تو ایمان بےسود ہے) ۔
وقد کنتم بہ تستعجلون۔ حالانکہ (تکذیب و استہزاء کے طور پر) تم عذاب کے جلد آجانے کے خواستگار تھے۔
Read the full tafseer →6 یعنی عذاب کے لیے جلدی کرنا اس بناء پر ہے کہ انھیں اس کے آنے کا یقین نہیں۔ اس وقت یقین ہوتا تو فائدہ ہوسکتا تھا کہ بچنے کی کوشش کرتے۔ عذاب آچکنے کے بعد یقین آیا تو کیا فائدہ ہوگا۔ اس وقت خدا کی طرف سے کہہ دیا جائے گا کہ اچھا اب قائل ہوتے ہو، اور پہلے سے جھٹلاتے رہے۔ کیونکہ تقاضا کرنا بھی جھٹلانے اور مذاق اڑانے کی نیت سے تھا۔ اس وقت اقرار کرنے سے کچھ نفع نہیں۔ (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84 فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا ۭ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ ۚ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
آیت 51 اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِہٖط ا آ لْءٰنَ وَقَدْکُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ
عذاب جب واقعتا ظاہر ہوجائے گا تو اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
67 یعنی ان کا عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ اس لیے ہے کہ انھیں ہرگز اس کا یقین نہیں ہے اور ان کا یہ تقاضا محض جھٹلانے اور مذاق اڑانے کی نیت سے تھا اور انھیں یقین اسی وقت آئے گا جب فی الواقع ان پر عذاب آپڑے گا لیکن اس وقت یقین آنا یا اللہ کی آیات پر ایمان لانا بےسود ہوگا۔
Read the full tafseer →80۔ (اور اس وقت کی تصدیق اضطراری کچھ نفع نہ دے سکے گی، اس وقت تو اپنے کو تصدیق پر مضطر ومجبور پاؤ گے (آیت) ” ثم “۔ کی ایک قراۃ (آیت) ” ثم “۔ (بالفتح) بھی آئی ہے۔ بہ معنی ھنالک۔
81۔ یعنی اب اتنا کیوں گھبرائے ہوئے ہو، اور بدحواس ہورہے ہو، تم تو خود اسی عذاب کی طنزا فرمائشیں کیا کرتے تھے !۔ شریعت کا یہ مسلم مسئلہ ہے کہ جب ملائکہ عذاب نظرآنے لگیں اور عالم برزخ کا انکشاف شروع ہوجائے، تو بہ و ایمان مقبول نہیں۔ بہ تستعجلون علی سبیل السخریۃ والا ستھزآء (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…
Read the full tafseer →اثم اذا ما وقع امنتم بہ کیا پھر جب وہ مطلوبہ عذاب آجائے گا تو (پشیمان ہو گے اور) عذاب پر یا عذاب کی خبردینے والے پر ایمان لاؤ گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم پر عذاب آجائے گا تو کیا اس وقت بھی عذاب کی جلدی مچاؤ گے ‘ پھر اس وقت عذاب کو یا عذاب کی خبر دینے والے کو مانو گے جبکہ ایمان سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
آلن (آخرت کا عذاب دینے کے بعد یا موت کے گھنگھرو بولنے کے وقت جب تم ایمان لاؤ گے تو اس وقت تم سے کہا جائے گا) کیا اب (تم ایمان لائے ‘ ایسے وقت میں تو ایمان بےسود ہے) ۔
وقد کنتم بہ تستعجلون۔ حالانکہ (تکذیب و استہزاء کے طور پر) تم عذاب کے جلد آجانے کے خواستگار تھے۔
Read the full tafseer →(51) کہ اب تو جھٹلا رہے ہو اور جس وقت تم پر وہ عذاب آئے گا، تب تصدیق کرو گے، اس پر بھی وہ ہاں کہیں تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ نزول عذاب کے وقت تم سے کہا جائے گا ہاں اب عذاب کے خوف سے ایمان لاتے ہو حالانکہ پہلے سے تم بطور مذاق اور تکذیب کے اس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ۔۔ : یعنی کیا جوں ہی وہ عذاب آگیا تو فوراً ایمان لے آؤ گے ؟ ہاں، بیشک اس وقت ایمان لے آؤ گے مگر عذاب آنے پر ایمان کب قبول ہوگا۔ دیکھیے سورة مومن (84، 85) ، یونس (90، 91) اور نساء (18) اس لیے تمہارا پہلے ایمان لانے کے بجائے پہلے عذاب کی جلدی مچانا بےکار ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 51۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اثم اذا ما وقع امنتم بہ “۔ آلئن “ اس کلام میں حذف ہے، تقدیر کلام ہے : اتامنون ان ینزل بکم العذاب ثم یقال لکم اذاحل : الان امنتم بہ ؟ (کیا تم ایمان لاؤگے کہ تم پر عذاب نازل کیا جائے پھر تم تم کو کہا جائے گا جب وہ آجائے : اب تم اس کے ساتھ ایمان لاؤ گے ؟ کہا گیا ہے : یہ ان کے ساتھ بطور استہزا ملائکہ کا قول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے قول میں سے ہے اور ہمزہ استفہام ثم پر داخل ہوا ہے یہ تقریر وتوبیخ کے لیے ہے اور تاکہ یہ اس پر دلالت کہ دوسرے جملے کا معنی پہلے بعد ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہاں ثم بمعنی ثم (ثا کے فتحہ کے ساتھ) ہے پس یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔
Read the full tafseer →اَ [ کیا ] ثُمَّ [پھر ] اِذَا [جب ] مَا [وہ جو ] وَقَعَ [ واقع ہوگا ] اٰمَنْتُمْ [ تم لوگ ایمان لاؤگے ] بِهٖ ۭ [ اس پر ] اٰۗلْــٰٔنَ [ کیا اب ] وَ [ حالانکہ ] قَدْ كُنْتُمْ [ تم لوگ ] بِهٖ [ اس کی ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ اور وہ لوگ خبر مانگتے ہیں آپ سے (یعنی پوچھتے ہیں) ]
Read the full tafseer →(اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِہٖ ) کیا جب عذاب واقع ہوجائے گا اس وقت ایمان لاؤ گے ؟ (اس وقت ایمان لانا بےفائدہ ہوگا اور اس وقت تصدیق نافع نہ ہوگی) (اآلْءٰنَ وَقَدْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ) جب عذاب آجائے گا تو سوال ہوگا کیا اب تصدیق کرتے ہو حالانکہ تم (بقصد تکذیب) اس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔ اس وقت کا ایمان لانا اور تصدیق کرنا فائدہ مند نہ ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت
قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
69: یہاں تقدیم وتاخیر ہے اصل میں یوں تھا۔ “ ءَ اِذَا مَا وَقَعَ ثُمَّ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ” اور “ ثُمَّ ” استبعاد کے لیے ہے یعنی تم عذاب کو اس طرح جلدی مانگتے ہو گویا کہ جب عذاب آجائے گا تو پھر تم ایمان لے آؤ گے یہ بات تو پہلے سے بھی زیادہ تعجب انگیز اور بعید از عقل ہے۔ “ ءَاِذَا مَا وَقَعَ العذاب و حل بکم حقیقة اٰمنتم به وجیء بثم دلالة علی زیادة الاستبعاد ” (روح ج 11 ص 124) ۔
70: اس سے پہلے “ یقال ” مقدر ہے اور اس کے بعد “ اٰمنتم ” یعنی جب عذاب آگیا اور منکرین عذاب دیکھ کر ایمان لے آئے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب عذاب دیکھ کر ایمان لاتے ہو اور ایسے ایمان سے نفع کی امید رکھتے ہو حالانکہ تم اس عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
ربط آیات
توحید کے بیان کے بعد قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے نبوت و رسالت کے مکذبین کا رد کیا ، ان کے شکوک و شبہات کو دور کیا اور ساتھ قیامت کا ذکر بھی کیا ، فرمایا ، آج یہ لوگ بڑے اعتراض کرتے ہیں مگر جب قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے تو خیال کریں گے کہ دنیا میں گھڑی بھر ٹھہرے پھر آگے عذاب کا لا محدود سلسلہ نظر آئے گا تو اس کے مقابلے میں اس دنیا اور برزخ کی زندگی کو نہایت مختصر عرصہ سمجھیں گے۔ وہاں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ فرمایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کی تکذیب کی وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہو کر بڑے خسارے میں رہیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی قیامت اور عذاب…
Read the full tafseer →اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِہٖ 0 ۭ اٰۗلْــٰٔنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ 51
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔
تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ…
Read the full tafseer →اَثُمَّ اِذَا مَاوَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِہٖ ط آٰ لْئٰنَ وَقَدْکُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ (یونس : 51)
(کیا جب عذاب نازل ہوجائے گا، تب اس پر ایمان لائو گے (فرشتے انھیں کہیں گے) اب تم تو اس عذاب کے لیے بڑی جلدی مچایا کرتے تھے۔ )
اس آیت میں ان کی بےعقلی اور بدنصیبی پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ تم نے اگر یہ سمجھ رکھا ہے کہ جیسے ہی عذاب کا وقوع شروع ہو تو اس وقت ہم ایمان لے آئیں گے۔ تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان کا وقت تو اس وقت تک ہے جب تک موت کی علامتیں ظاہر نہیں ہوتیں اور موت کے فرشتے نظر نہیں آتے اور آنے والی دنیا کے آثار دکھائی نہیں دیتے، لیکن جب موت کا آنا یقینی طور پر معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اے پیغمبر ﷺ ! ان سے استفسار فرمائیں کہ اگر ان پر اللہ کا عذاب دن کے وقت آئے یا رات کی کسی گھڑی میں آئے تو اسے کون ٹال سکتا ہے ؟ ان سے یہ بھی سوال کیجیے کہ مجرمو ! تم کس بات کی جلدی مچاتے ہو۔ مجرمانہ ذہن کی یہ علامت ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اچھی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ اکثر دفعہ اچھائی کی بجائے بری بات اور اس کے انجام کے لیے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جب اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو پھر بڑے بڑے مجرم ایمان لانے کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر اس وقت اللہ تعالیٰ کے ملائکہ جواب دیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →عذاب کے وقت حال :
51: اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ (کیا پھر جب وہ واقع ہوجائیگا) یعنی عذاب اٰمَنْتُمْ بِہٖ ( کیا تم اس وقت ایمان لائو گے) یہ جواب شرط ہے اور ماذایستعجل منہ المجرمون جملہ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہوگا اگر تمہارے پاس اسکا عذاب آجائے تو تم اسپر ایمان لائو گے اس عذاب کے واقع ہونے کے بعد جبکہ ایسے وقت کا ایمان مفید نہ ہوگا۔
نحو : حرف استفہام کو ثم پر لانا اسی طرح ہے جیسا کہ اس کو واو اور فا ؔ پر داخل کیا جائے۔ جیسا (اعراف : 97) میں افامن اہل القری، 98 میں اوامن اہل القری۔ آلْئٰنَ (کیا اب ایمان لاتے ہو) اس کو قول کا مقولہ مان کر گویا ان کو کہا جائے گا جبکہ وہ عذاب آجانے کے بعد ایمان لائیں گے…
Read the full tafseer →تفسیر (51)” اثم اذا ما وفع “ بعض نے کہا اس کا معنی ہے کیا وہاں اور اس وقت اور یہ حرف عطف نہیں ہے۔ عذاب اترے ” امنتم بہ “ یعنی اللہ پر نا امیدی کے وقت میں اور بعض نے کہا ” امنتم بہ “ یعنی تم عذاب کی تصدیق کرو گے ، اس کے اترنے کے وقت ” الان “ یہاں عبارت محذوف ہے یعنی تم کو کہا جائے گا ۔ اب جب عذاب واقع ہوگیا تم ایمان لاتے ہو ” وقد کنتم بہ تستعجلون “ تکذیب اور مذاق اڑا کر ۔ ورش نے نافع سے ” الان “ پڑھا ہے۔ اس ہمزہ کو حذف کر کے جو لام ساکن کے بعد ہے اور اس کی حرکت لام پر ڈالنے کے ساتھ اور پہلے ہمزہ کو مدد دی جاتی ہے ، عالان کے وزن پر اور اسی طرح آخری حرف ہے اور زمعہ بن صالح نے ” الان “ کو علان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
50۔ 52۔ جس طرح یہ مشرک قیامت کے دن کے عذاب کی جلدی مسخرا پن کے طور پر کرتے تھے اسی طرح دنیا کے عذاب کی بھی جلدی کرتے تھے اور حضرت رسول خدا ﷺ سے کہتے تھے کہ تم عذاب عذاب کہا کرتے ہو تو لو اپنے خدا سے کہہ کر ہم پر عذاب بھیج دو اس لئے فرمایا اے رسول اللہ ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیا جاوے کہ تم اب تو عذاب کی جلدی کر رہے ہو اور جب عذاب راتوں رات جس وقت تم غافل پڑے سوتے ہو یا دن کو جب تم اپنے کام دھندے میں لگے ہو گے اچانک آجاوے گا تو پھر کس بات کی جلدی کرو گے۔ عذاب تو ایک ایسی بری چیز ہے جس کے نام سے لوگ ڈرتے ہیں تو کیا عذاب آجانے سے تم ایمان لاؤ گے تو بتلاؤ ایسے وقت میں کہ تم عذاب میں گرفتار ہو گے اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
آیت : (50-52)
(قل ارئیتم ان اتکم عذابہ بیاتا) ” کہہ دیجئے ! بتلاؤ ‘ اگر تمہارے پاس اس کا عذاب آجائے راتوں رات۔ “ یعنی رات کے وقت سوتے میں۔ (اونھارا) ” یا دن کو “ یعنی تمہاری غفلت کے وقت (ماذا یستعجل منہ المجرمون) ” و وہ کیا چیز ہے جس کے لئے مجرمین جلدی کا مطالبہ کر رہے ہیں ؟ “ یعنی وہ کون سی بشارت ہے ‘ جس کے لئے یہ جلدی مچا رہے ہیں اور کون سا عذاب ہے ‘ جس کی طرف یہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں ؟
(اثم اذا ما وقع امنتم بہ) ” کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہوچکے گا ‘ تب اس پر تم ایمان لاؤ گے ؟ “ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس ھال میں جب کہ وہ سمجھ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
89 ۔ دین حق سے منہ موڑنا سراسر ظلم۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت اس طرح کہا جائے گا ان لوگوں سے جنہوں نے ظلم کیا ہوگا حق کا انکار اور کفر و شرک کا ارتکاب کرکے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس وقت ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب چکھو اور چکھتے رہو تم لوگ مزہ ہمیشہ کے اس عذاب کا جس نے کبھی ختم نہیں ہونا اور ان لوگوں سے مزید کہا جائے گا کہ تم کو بدلہ نہیں دیا جا رہا مگر تمہارے اپنے ہی ان اعمال کا جو تم لوگ زندگی بھر کرتے رہے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دین حق سے منہ موڑنا ظلم ہے اپنے خالق ومالک جل وعلا کے حق میں اپنے رسول رؤف و کریم کے حق میں اور خود اپنی جانوں کے حق میں۔ اور اس ظلم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
قیامت ضرور آئے گی اور سزا بھی ملے گی
تشریح : یہ تمام آیات کفار مکہ اور عام کفار کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ یہ لوگ قیامت کے دن پر اور سزا ور جزا پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر نبی اکرم ﷺ سے یہی پوچھتے رہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو عذاب کب آئے گا، یعنی ہنسی مذاق کرتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ان کو عذاب کے بارے میں پھر اچھی طرح بتا دو ۔ بڑا سخت دن ہوگا۔ حشر کے میدان میں تم اس طرح اکٹھے ہو گے کہ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکو گے مگر وہ دن اتنا ہولناک اور سخت دن ہوگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے آخر اس دن کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ یہ اللہ کا کام ہے اور وہی تم سے پورا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرار و معارف
ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں
دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 1 ۔ یعنی عذاب آنے پر ایمان کب قبول ہوگا اس واسطے بھی تو عبث ہے۔ (موضح) ۔
Read the full tafseer →(10:51) اثم اذا ما۔ الف استفہام کے لئے۔ ثم پھر اذا ما۔ یعنی کب۔ تب۔
بہ۔ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ بھی ہوسکتا ہے اور عذاب بھی۔ پھر کیا تم اس (عذاب) کے واقع ہونے پر ہی ایمان لاؤ گے۔ پھر کیا جب آہی جائے گا تو تم ایمان لاؤ گے۔ (اصل میں منکرین اسلام کا عذاب پر ایمان ہی نہ تھا تب ہی تو وہ کہتے تھے : ویقولون متیٰ ھذا الوعد ان کنتم صدقین (آیۃ 48) اور اسی لئے وہ اس کی جلدی مچا رہے ہیں)
الئن۔ ہر وہ لمحہ جو ماضی اور مستقبل کے مابین فرض کیا جاوے اسے الئن کہتے ہیں جیسے الئن افعل کذا میں اب کرتا ہوں الئن کا لفظ ہمیشہ الف لام تعریف کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ان اصل میں ادان تھا۔ ہمزہ کو حذف کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53
ارء یتم (کیا تم دیکھتے ہو، کیا تمہیں خبر ہے، بھلا بتائو تو) بیات (رات کو، رات گزارنا) یستفعجل (وہ جلدی مچاتا ہے) آلئن (اب، اسی وقت) ذوقوا (چکھو) الخلد (ہمیشہ) تجزون (تم بدلہ دیئے جائو گے) یستنبونک (وہ آپ سے خبر پوچھتے ہیں، معلوم کرنا چاہتے ہیں ) ای و ربی (ہاں ہاں میرے رب کی قسم)
تشریح :- آیت نمبر 50 تا 53
اللہ تعالیٰ کا دستور اور قانون یہ ہے کہ وہ انسانوں کی توبہ کو اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک موت کے فرشتے سامنے نہ آجائیں یعنی اس پر جاں کنی شروع نہ ہوجائے۔ لیکن جب موت کے فرشتے سامنے آجاتے ہیں تو پھر کسی طرح اس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
مطلب یہ ہے کہ جس طرح عذاب کی جلدی مسخرہ پن کے طور پر کرتے تھے، اسی طرح دنیا کے عذاب کی بھی جلدی کرتے تھے اور حضرت رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ تم عذاب عذاب کہا کرتے ہو تو اپنے خدا سے کہہ کر ہم پر عذاب بھیجوا دو ۔ اس لئے فرمایا :" اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اب تو عذاب کی جلدی کر رہے ہو اور جب عذاب راتوں رات جس وقت تم غافل پڑے سوتے وہ، یا دن کو جب تم اپنے کام دھندے میں لگے ہوتے ہو، اچانک آجاوے گا تو پھر کس بات کی جلدی کرو گے۔ عذاب ایسی بری چیز ہے جس کے نام سے لوگ ڈرتے ہیں تو کیا عذاب آجانے سے تم ایمان لاؤ گے، وہ بیکار ہوگا "۔ پھر فرمایا کہ قیامت کے دن جب یہ مجرم دوزخ میں ڈالے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
عذاب کا وقت :
(ف 2) مکہ والے بربنائے استہزاء عذاب کے طالب تھے ، کہتے تھے کہ جب آپ شب وروز ہمیں عذاب سے ڈراتے ہیں ، تو پھر وہ آکیوں نہیں جاتا ، اور کیوں ہمیں انکار ومعصیت کے لئے زندہ رہنے دیا جاتا ہے ، گویا ان کے خیال میں اللہ جو انہیں ڈھیل دے رہا ہے ، اور مواخذہ میں تعجیل نہیں کرتا ، تو یہ ان کے لئے ہمت افزائی ہے ، قرآن نے جواب دیا ہے کہ کسی قوم کے متعلق آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، پیغمبر نفع وضرر کا مالک نہیں ، اللہ جب تک چاہے مجرموں کو ڈھیل دے ، اور جب ان کے جرائم حد سے تجاوز کر جاتے ہیں ، تب ان کی تباہی کا وقت آجاتا ہے ، اور پھر نہ تاخیر ہوتی ہے اور نہ خرابی میں کسر رکھی جاتی ہے ۔
Read the full tafseer →51 تو کیا پھر اس وقت جس وقت وہ عذاب نازل ہوگا اور تم پر آپڑے گا تو کیا اس وقت اس پر ایمان لائو گے اس وقت کہاجائے گا اب اس کی تصدیق کرتے ہو اور اس عذاب پر ایمان لاتے ہو حالانکہ تم ہی اس عذاب کی جلدی کیا کرتے تھے یعنی جو وقت عذاب کی تصدیق کا ہے اور اس وقت تصدیق نافع بھی ہے تو ایمان نہیں لاتے جس وقت عذاب آجائے گا اس وقت ایمان لانا مفید اور نافع نہ ہوگا تو تم ایمان لائو گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عذاب آئے پر ایمان لانا کب قبول ہوگا اس واسطے پوچھو تو بھی عبث
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ف 5۔ پس دوبارہ پیدا کرنا اس کو کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →عذاب واقع ہونے کے بعد یقین کرو گے تو ایسے یقین کا فائدہ ؟
76 ؎ عذاب واقع ہونے کے بعد اگر تم تصدیق کرو گے تو وہ تصدیق اضطراری ہوگی اور اضطراری تصدیق سے کچھ نفع حاصل نہیں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ماننا اور تسلیم کرنا بھی کبھی ماننا اور تسلیم کرنا ہوتا ہے جو مجبوری کے تحت مانا جائے لہٰذا اس وقت اگر تم ایمان لے بھی آئو تو وہ ایمان تمہارا کبھی مقبول نہیں ہوگا اور ان سے کہا جائے گا کہ اس وقت تم اتنا کیوں گھبرائے ہوئے ہو تم تو خود اس عذاب کی طنزاً فرمائش کیا کرتے تھے ، شریعت کا یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ جب ملائکہ موت نظر آنے لگیں اور عالم برزخ کا انکشاف شروع ہوجائے اس وقت کا ایمان مقبول نہیں ہوتا۔ اس چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
It was said in verse أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنتُم بِهِ ۚ آلْآنَ. It means: ` Would you believe when Divine punishment actually descends down upon you - whether at the time of death, or even before it? But, at that time, the response to your believing will be: آلْآنَ ('al'an: now?) meaning: Is it now that you have come to believe while the time of believing has already passed? This is similar to what the Pharaoh said while drowning: آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿90﴾ ("I believe that there is no god except the One in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
57. In response to the unbelievers' query, the Prophet (peace be on him) makes it clear that he had never claimed that he himself would come forth with the judgement mentioned above, or that it lay in his power to afflict people with punishment. There was no point, therefore, in asking him when the final judgement against them would come to pass. The warning of punishment had been given by God rather than by the Messenger. Hence it lay only in God's power to decide when His judgement should come to pass, and in which form God would execute His warning to punish unbelievers.
58. God does not…
Read the full tafseer →