Yunus 10:38

Yunus · from ayah 38

10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ؕ— قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَـرٰٮهُ‌ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do they say [about the Prophet], "He invented it?" Say, "Then bring forth a surah like it and call upon [for assistance] whomever you can besides Allah, if you should be truthful."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 4 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:38

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو،“اگر تم اپنے اس الزام میں سچّے ہو تو ایک سُورۃ اس جیسی تصنیف کر لاؤ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بُلا لو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تو پھر تم اس کے مثل ایک ہی سورت لاؤ اور جن جن غیراللہ کو بلا سکو، بلالو اگر تم سچے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ : پیغمبر نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ کہو کہ : پھر تو تم بھی اس جیسی ایک ہی سورت (گھڑ کر) لے آؤ، اور (اس کام میں مدد لینے کے لیے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو بلا لو، اگر سچے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے بنالیا ہے تم فرماؤ تو اس جیسی کوئی ایک سورة لے آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر جو مل سکیں سب کو بلا لاؤ اگر تم سچے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ کہتے ہیں کہ اسے رسول ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے، آپ فرما دیجئے: پھر تم اس کی مثل کوئی (ایک) سورت لے آؤ (اور اپنی مدد کے لئے) اللہ کے سوا جنہیں تم بلاسکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے ؟ کہہ دے تو تم اس جیسی ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے بلاسکو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی یہ قرآن بنا ڈالا ہے ؟ آپ ان سے کہئے اگر تم اس بات میں سچے ہو تو تم بھی ایسی ہی کوئی ایک سورت بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو تم (مدد کے لئے) بلا سکو بلا لو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو اس نے گھڑ لیا ہے ؟ ان سے کہو تو تم لاؤ اس کے مانند کوئی سورة اور بلا لو اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکو، اگر تم سچے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اسے خود ہی تصنیف کرلیا ہے (تو ان سے) کہو کہ اچھا تو پھر تم لوگ اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا کرلے آؤ، اور بلا لو (اس غرض کے لئے) جس کو بھی تم بلا سکتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو (اپنے اس الزام میں)

— مولانا اسحاق مدنی

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو گڑھ لیا ہے ؟ آپ کہیے کہ اچھا تم ایک ہی سورة مثل اس کے لے آؤ اور اللہ کے سوا تم جس کو بلا سکو بلالو اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو پیغمبر نے خود گھڑ لیا ہے ؟ آپ ﷺ (ان سے) کہیے کہ لے آؤ تم بھی ایک سورت اس جیسی اور (اس کے لیے) بلا لو جس کو بلا سکتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لائو اور اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do they say that the Messenger has himself composed the Qur'an? Say: 'In that case bring forth just one surah like it and call on all whom you can, except Allah, to help you if you are truthful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or, do they say that he has made it up? Say, :Then, bring a Surah like this, and call whomsoever you can beside Allah, if you are true.

— Muhammad Taqi Usmani

Or, do they say that he has made it up? Say, :Then, bring a Surah like this, and call whomsoever you can beside Allah, if you are true.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or do they say: "He has forged it" Say: "Bring then a Surah like unto it, and call upon whomsoever you can besides Allah, if you are truthful!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or say they: He hath invented it? Say: Then bring a surah like unto it, and call (for help) on all ye can besides Allah, if ye are truthful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do they say [about the Prophet], "He invented it?" Say, "Then bring forth a surah like it and call upon [for assistance] whomever you can besides Allah, if you should be truthful."

— Saheeh International

Do they say that Muhammad has invented it? (Muhammad), tell them, "If your claim is true, compose only one chapter like it and call on anyone besides God for help.

— Muhammad Sarwar

Or do they say: He has forged it? Say: Then bring a chapter like this and invite whom you can besides Allah, if you are truthful.

— Muhammad Habib Shakir

Say they: he hath fabricated it! Say thou: then bring ye a Surah like thereunto, and call whomsoever ye can beside Allah, if ye say sooth.

— Abdul Majid Daryabadi

Or do they say, "He forged it"? say: "Bring then a Sura like unto it, and call (to your aid) anyone you can besides Allah, if it be ye speak the truth!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–40

اعجاز قرآن حکیم قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بےمثل قرآن بےمثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بےنظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بےمثل صفتیں بےمثل، جس کے اقوال بےمثل، جس کے افعال بےمثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہو سکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 46 عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیلنج محض قرآن کی فصاحت و بلاغت اور اس کی ادبی خوبیوں کے لحاظ سے تھا۔ اعجاز قرآن پر جس انداز سے بحثیں کی گئی ہیں اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہونی کچھ بعید بھی نہیں ہے۔ لیکن قرآن کا مقام اس سے بلند تر ہے کہ وہ اپنی یکتائی و بےنظیری کے دعوے کی بنیاد محض اپنے لفظی محاسن پر رکھے۔ بلاشبہ قرآن اپنی زبان کے لحاظ سے بھی لاجواب ہے، مگر وہ اصل چیز جس کی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسانی دماغ ایسی کتاب تصنیف نہیں کرسکتا، اس کے مضامین اور اس کی تعلیمات ہیں۔ اس میں اعجاز کے جو جو پہلو ہیں اور جن وجوہ سے ان کا من جانب اللہ ہونا یقینی اور انسان کی ایسی تصنیف پر قادر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–38

خلاصہ تفسیر اور یہ قرآن افتراء کیا ہوا نہیں ہے کہ غیر اللہ سے صادر ہوا ہو بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس کے قبل (نازل) ہوچکی ہیں اور احکام ضروریہ (الہٰیہ) کی تفصیل بیان کرنے والا ہے (اور) اس میں کوئی بات شک (و شبہ) کی نہیں (اور وہ) رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے کیا (باوجود اس کے افتراء نہ ہونے کے) یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) آپ نے اس کو افتراء کرلیا ہے، آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ (اچھا) تو پھر تم (بھی تو عربی ہو اور اعلی درجہ کے فصیح بلیغ بھی ہو) اس کی مثل ایک ہی سورت (بنا) لاؤ اور (اکیلے نہیں) جن جن غیر اللہ کو بلا سکو ان کو (مدد کے لئے) بلا لو اگر تم سچے ہو (کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 37–39

آگے کا مضمون۔ آیات 37 تا 70: یاد ہوگا، بات کفار کے اس مطالبہ سے چلی تھی کہ یا تو اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ایسی ترمیم کردو کہ ہمارے لیے وہ قابل قبول ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرنے کے بجائے قرآن کی ان باتوں کو مزید واضح اور مدلل کردیا جن سے وہ چڑتے تھے۔ اب آگے اسی مضمون کو ایک نئے پہلو سے لیا اور قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بھی ثابت کیا، آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی اور قرآن کے دعاوی کو مزید مبرہن کردیا۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَرٰي مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

38۔ 1 ان تمام حقائق اور دلائل کے بعد بھی، اگر تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ یہ قرآن محمد کا گھڑا ہوا ہے تو بھی تمہاری طرح ایک انسان ہے، تمہاری زبان بھی اسی طرح عربی ہے وہ تو ایک ہے، تم اگر اپنے دعوے میں سچے ہو تو تم دنیا بھر کے ادیبوں، فصحاوں کو اور اہل علم و اہل قلم کو جمع کرلو اور اس قرآن کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت کے مثل بنا کر پیش کردو۔ قرآن مجید کا یہ چیلنج آج تک باقی ہے، اس کا جواب نہیں ملا۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ قرآن۔ کسی انسانی کاوش کا نتیجہ نہیں، بلکہ فی الواقع کلام الٰہی ہے اور حضرت محمد ﷺ پر اترا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–38

21: اس فقرے میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ قرآن کریم کا ماخذ کوئی انسانی دماغ نہیں، بلکہ وہ لوح محفوظ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے تشریعی اور تکوینی احکام ازل سے لکھے ہوئے ہیں۔ ان احکام میں سے جن کی انسانوں کو ضرورت ہے، یہ قرآن ان کی تفصیل بیان فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورۃ مثلہ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے ازخود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ پھر تم بھی اس کی طرح ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ یعنی اگر میں نے اس کو ازخود بنا لیا ہے تو تم بھی کوئی ایک سورت ہی ایسی بنا لاؤ جو بلاغت ‘ اسلوب عبات اور قوت معنی میں قرآن کی طرح ہو۔ آخر تم بھی میری طرح عرب اور قادر الکلام اور عبارت و اسلوب کے ماہر ہو۔ وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔ اور اللہ کے علاوہ (اپنے مددگاروں میں سے) جس کو تم (اپنی مدد کیلئے) بلا سکتے ہو بلا لو ‘ اگر تم سچے ہو کہ محمد (ﷺ) نے اس کو خود بنا لیا ہے۔ اس آیت میں قرآن کی عبارت اور معانی پر غور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اگر میں بنا لایا ہوں تو تم بھی میری طرح بشر ہو سب مل کر ایک سورت جیسی سورت بنا لاؤ۔ ساری مخلوق کو دعوت دو ، جن و انس کو جمع کرلو، تمام جہان کے فصیح وبلیغ، پڑھے لکھے اور اَن پڑھ اکٹھے ہو کر ایک چھوٹا سا کلام قرآن کی مانند پیش کردو تو سمجھ لیا جائے گا کہ قرآن بھی کسی بشر کا کلام ہے جس کا مثل دوسرے لوگ لاسکتے ہیں۔ مگر محال ہے کہ ابدالآباد تک کوئی مخلوق ایسا حوصلہ کرسکے۔ قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس میں تہذیب اخلاق، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست، معرفت و روحانیت، تزکیہ نفوس، تنویر قلوب، غرضیکہ وصول الی اللہ اور تنظیم و رفاہیۃ خلائق کے وہ تمام قوانین و طریق موجود ہیں، جن سے آفرینش عالم کی غرض…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38 اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰٹہُ یہ لوگ اس قرآن کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ محمد کی اپنی تصنیف ہے۔ انہوں نے خود یہ کلام موزوں کرلیا ہے۔ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ یہ چیلنج سورة البقرۃ میں بھی ہے جو کہ مدنی ہے ‘ جبکہ مکی سورتوں میں تو اسے متعدد بار دہرایا گیا ہے۔ سورة ہود میں اس جیسی دس سورتیں بنا کرلے آنے کا چیلنج دیا گیا ہے اور یہاں اس سورت میں یہ چیلنج گویا برسبیل تنزل آخری درجہ میں پیش کیا گیا ہے کہ چلو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھادو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

54 مشرکین مکہ کے اس اعتراض کے جواب میں قرآن نے متعدد مقامات پر چیلنج کیا ہے کہ اگر تمہارے خیال کے مطابق قرآن محمد ﷺ نے خود ہی بنا لیا ہے تو تم بھی ہمت آزمائی کر دیکھو اور اس سلسلے میں اپنے مددگاروں کو بھی اپنے ساتھ ملا لو لیکن اپنی بھرپور کوششوں کے باوجود جب وہ ایسا کلام پیش کرنے سے قاصر رہے تو انہیں دوزخ کی وعید سنا دی گئی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی اس اعجازی حیثیت سے تین باتیں از خود ثابت ہوجاتی ہیں (1) اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت، (2) قرآن کے منزل من اللہ ہونے کا ثبوت اور (3) آپ کی نبوت کا ثبوت۔ اب جو شخص پھر بھی ایمان نہ لائے اور اپنی ضد، ہٹ دھرمی یا تعصب میں پڑا رہے اس کی سزا جہنم کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

63۔ (اپنے اس دعوی میں کہ قرآن ایک انسانی تصنیف ہے) جواب کا حاصل یہ ہے کہ قرآن اگر ایک انسانی دماغ تیار کرسکتا ہے تو کئی بلکہ سب انسانی دماغ مل کر تو اس سے کہیں چھوٹی چیز یعنی اس کی ایک سورة تو بہرحال تیار ہی کرسکتے ہیں۔ پھر ہمت ہو تو یہی کردکھاؤ ! (آیت) ” افترہ “۔ افتری میں ضمیر فاعلی رسول اللہ ﷺ کی جانب ہے یعنی اس شخص محمد ﷺ نامی نے یہ کتاب اپنے ذہن سے گڑھ لی ہے۔ (آیت) ” سورة “۔ پر حاشیہ شروع تفسیر میں گزر چکے۔ (آیت) ” مثلہ “۔ مثلیت لفظی ومعنی ہر اعتبار سے مراد ہے۔ مثلہ فی البلاغۃ وحسن الارتباط وجزا لۃ ال معنی (روح) قرآن مجید کی معنوی حیثیت سے یہ مستقل تحدی تو سارے عالم کے لئے ہے۔ یعنی قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–40

آیت نمبر 31 تا 40 ترجمہ : ان سے پوچھو آسمان سے بارش کے ذریعہ اور زمین سے نباتات کے ذریعہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ سَمْعٌ بمعنی اَسْمَاعٌ ہے یعنی کس نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو مخلوق کے معاملات کا نظم کرتا ہے ضرور وہ یہی کہیں گے وہ اللہ ہے تو ان سے کہو کہ پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے کہ ایمان لے آؤ، سو یہ جو ان تمام چیزوں کا کرنے والا ہے اللہ ہے جو تمہارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد بجز گمراہی کے اور باقی رہ ہی کیا گیا ؟ استفہام تقریری ہے یعنی اس کے بعد کچھ باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام یقولون افترا ہ قل فاتوا بسورۃ مثلہ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے ازخود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ پھر تم بھی اس کی طرح ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ یعنی اگر میں نے اس کو ازخود بنا لیا ہے تو تم بھی کوئی ایک سورت ہی ایسی بنا لاؤ جو بلاغت ‘ اسلوب عبات اور قوت معنی میں قرآن کی طرح ہو۔ آخر تم بھی میری طرح عرب اور قادر الکلام اور عبارت و اسلوب کے ماہر ہو۔ وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔ اور اللہ کے علاوہ (اپنے مددگاروں میں سے) جس کو تم (اپنی مدد کیلئے) بلا سکتے ہو بلا لو ‘ اگر تم سچے ہو کہ محمد ﷺ نے اس کو خود بنا لیا ہے۔ اس آیت میں قرآن کی عبارت اور معانی پر غور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(38) باوجود اس کے مکہ کے کافر یوں کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ رسول اکرم ﷺ نے قرآن حکیم کو اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے، آپ ان سے کہہ دیجیے تو پھر تم بھی قرآن کریم جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ اور اپنے معبود ان باطل میں سے جن جن کو اپنی مدد کے لیے بلانا چاہو، ان کو بلالو اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ (نعوذ باللہ) رسول اکرم ﷺ نے قرآن حکیم اپنی طرف سے از خود بنالیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 37–38

وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی توحید ثابت کرنے اور شرک کی تردید کرنے کے بعد قرآن مجید کی حقانیت کا بیان فرمایا کہ یہ ہرگز ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اپنے پاس سے بنا لائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک ایسے شخص پر نازل فرمایا جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا، تصنیف تو بہت دور کی بات ہے۔ تم بھی اہل زبان ہو، بڑے بڑے شاعر و ادیب اور فصاحت و بلاغت رکھنے والے مصنف ہو، اگر یقین نہ ہو کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور تمہیں اصرار ہو کہ یہ انسانی کلام ہے تو تم تمام جن و انس ایک دوسرے کی مدد کرکے اس جیسی کتاب تصنیف کرکے دکھا دو۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (88) پھر یہ نہ کرسکے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 38۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ام یقولون افترہ “۔ یہاں ام ہمزہ استفہام کے محل میں ہے، کیونکہ یہ اپنے ماقبل کے ساتھ متصل ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ ام منقطعہ ہے جو بل اور ہمزہ کے معنی کے ساتھ مقدر ہوتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” الم، تنزیل الکتب لا ریب فیہ من رب العلمین ام یقولون افترہ “۔ (السجدہ) ای بل ایقولون افتراہ (بلکہ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود اسے گھڑ لیا ہے) اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : ام بمعنی واؤ ہے، اور یہ جائز ہے : ویقولون افتراہ (اور وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود اسے گھڑ لیا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ میم صلہ ہے اور تقدیر کلام ہے : ایقولون افتراہ، ای…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–40

1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” امن لا یھدی الا ان یھدی “ (یا وہ خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ اس کی رہنمائی کی جائے) سے مراد بت ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے سوا جس کو چاہے رہنمائی فرمائے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ (کیا) يَقُوْلُوْنَ (وہ سب کہتے ہیں) افْتَرٰىهُ (" کہ " اس نے گھڑ لیا ہے اسے ) [قُلْ : آپ کہئے ] فَاْتُوْا [ تو تم لوگ لاؤ] بِسُوْرَةٍ [ ایک سورت ] مِّثْلِهٖ [ اس کے جیسی ] وَادْعُوْا [ اور بلالو ] مَنِ [ اس کو جس کی ] اسْتَــطَعْتُمْ [ تمہیں استطاعت ہے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–41

قرآن حکیم کی حقانیت پر واضح دلیل ‘ اور اس جیسی ایک سورت بنانے کا چیلنج توحید کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب کتاب اللہ کی حقانیت بیان فرمائی جس کے ذیل میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی مزید تصدیق ہوگئی۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے اول تو ان کی تردید فرمائی کہ یہ ایسی کتاب نہیں ہے کہ جو غیر اللہ کی طرف سے ہو یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے جو اس سے پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور جو احکام اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بھیجے ہیں اس میں ان کی بھی تفصیل ہے۔ پھر ان لوگوں کو چیلنج کیا اور فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ تم جو یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–40

بیان اعجاز قرآن برائے اثبات نبوت قال اللہ تعالی۔ وما کان ھذا القرآن ان یفتری من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک اعلم بالمفسدین۔ (ربط): ان آیات میں قرآن کریم کے اعجاز کا بیان ہے۔ اور مشرکین کے ایک شبہ اور تعجب کو رفع کرنا ہے۔ جو ان کو قرآن کے کلام خداوندی اور اس کے من جانب اللہ ہونے پر تھا۔ مشرکین قرآن کو اللہ کا کلام نہیں سمجھتے تھے بلکہ آنحضرت ﷺ کا کلام سمجھتے تھے۔ ان کا اعتقاد یہ تھا کہ یہ قرآن آپ ﷺ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے وہ یہ کہتے تھے کہ ائت بقرآن غیر ھذا او بدلہ۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں یہ بتایا کہ یہ قرآن غیر خدا کی بنائی ہوئی کتاب نہیں یہ تو اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے یہ خدا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

53: یہ شکویٰ ہے مشرکین نے کہا تھا کہ یہ قرآن محمد خود بناتا اور خدا کے ذمہ لگا دیتا ہے۔ “ یَقُوْل ھؤلاء المشرکون افتري محمد ھذا القران واختلقہ من قبل نفسه ” (خازن ج 3 ص 190) ۔ 54: یہ جواب شکویٰ ہے۔ اگر یہ قرآن محمد ﷺ کا کلام ہے تو تم بھی اہل لسان ہو اپنے سب ہم مسلک فصحاء و بلغا کو اکٹھا کرلو اور اپنے مزعومہ معبودوں سے بھی امداد حاصل کرلو اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ صرف ایک ہی سورت بنا کرلے آؤ۔ اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر میں یہی تقریر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تم ایسی فصاحت وبلاغت پر مشتمل کلام بنا کرلے آؤ۔ اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر میں یہی تقریر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تم ایسی فصاحت و بلاغت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–40

ربط آیات گذشتہ دروس میں شرک اور مشرکین کی تردید ہوچکی ہے اور آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہے اور اس کے ساتھ رسالت کا ذکر ہے۔ دعوت الی القرآن اس سورة کا خاص موضوع ہے۔ اس کے علاوہ توحیدع کا اثبات اور شرک کا ابطال بھی خاص طور پر بیان ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ قیامت کا وقوع اور اس کے متعلقات زیر بحت آئے ہیں۔ اس سورة کی ابتدائی آیت میں قرآن کریم کی صداقت کے متعلق بیان ہوچکا ہے (آیت) ” تلک اٰیٰت الکتب الحکیم “ یہ بری حکمت والی کتاب ہے اور پھر آگے چل کر آتا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قال الذین لا یرجون لقائنا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ “ جب ان کو ہماری واضح آئیتیں پڑھ کر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ يَــقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ۝ 0 ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَــطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 38 أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ یعنی قرآن مجید میں دو طرح سے اعجاز ہے۔ اول بلاغت و فصاحت سے سو اس پر بھی غور نہیں کیا کہ ہماری قدرت سے باہر ہے۔ دوم اس میں آنے والی باتیں مذکور ہیں۔ جیسا کہ مرنے کے بعد کا حال اور آنے والے مصائب یا فتوحات۔ سو ان کو بھی بےدھڑک جھٹلا دیا اور ہنوز ان کے پورا ہونے کا وقت بھی انہیں نہیں ملا کہ وقت پر پورا نہ ہونے سے تکذیب کا مضائقہ نہ ہوتا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہ ط قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (یونس : 38) (کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو اس نے گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہئے تم اس کی مانند کوئی سورت لائو اور بلالو اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکو، اگر تم سچے ہو۔ ) قرآن کریم کا چیلنج گزشتہ آیت کریمہ میں جیسا کہ ہم نے عرض کیا پروردگار نے قرآن کریم کی تین صفات بیان فرمائی ہیں۔ 1 وہ پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس کا مصداق بن کر آئی ہے۔ یعنی پہلی آسمانی کتابوں نے آنحضرت ﷺ کی جتنی علامتیں بیان فرمائی ہیں اور قرآن کریم کی جتنی صفات بیان کی ہیں ان سے اہل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 37–38

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح مشرکوں کے پاس باطل عقیدہ کی ٹھوس دلیل نہیں صرف سنی سنائی باتوں اور وہم و گمان پر بنیاد ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کا انکار اور نبی اکرم ﷺ پر الزام کہ قرآن مجید اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں۔ اس کی بنیاد بھی وہم و گمان اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں۔ کفار مکہ اور منکرین اسلام کی ابتدا سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح قرآن کو من گھڑت اور جھوٹا ثابت کیا جائے۔ تاکہ اسلام کی بنیاد منہدم ہو کر رہ جائے، کبھی کہتے کہ یہ نبی کسی عجمی سے سیکھ کر ہمیں بتلاتا ہے۔ کبھی یہ الزام دیتے کہ اپنی طرف سے بنا لیتا ہے۔ اس طرح ان کی سرتوڑ کوشش تھی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کو چیلنج : 38: اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ (کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو گھڑلیا ہے) ام یہاں بل کے معنی میں ہے کیا وہ کہتے ہیں اس کو گھڑلیا ہے ؟ قُلْ (کہہ دیں) اگر بات اسی طرح ہے جس طرح تم کہتے ہو فَاْتُوْا ( تو تم لائو) تو تم بھی گھڑ لائو بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ (ایک سورت اس جیسی) یعنی جو بلاغت میں اس کے مشابہ ہو اور حسن نظم میں اس جیسی ہو تم بھی میری طرح عربیت جانتے ہو۔ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور ان کو بلالو جن کو اللہ تعالیٰ کے سواء بلانے کی تم میں طاقت ہے) یعنی عبارت اس طرح ادعوا من دون اللّٰہ۔ من استطعتم۔ بلائو اللہ تعالیٰ کے سواء جن کو بلانے کی مخلوق سے تم طاقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(38)” ام یقولون “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں ” ام “ وائو کے معنی میں ہے یعنی اور وہ کہتے ہیں ۔ افتراہ محمد ﷺ نے اپنی طرف سے قرآن گھڑ لیا ہے۔ ” قل فاتوا بسورۃ من مثلہ “ قرآن کے مشابہ ” وادعوا من استطعتم “ ان میں سے جن کی تم عبادت کرتے ہو ” من دون اللہ “ تا کہ وہ تمہاری اس پر مدد کریں ۔ ” ان کنتم صادقین “ کہ محمد ﷺ نے اس کو گھڑ لیا ہے ۔ پھر فرمایا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–39

37۔ 39۔ اوپر کی آیتوں میں ثبوت توحید کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ثبوت رسالت کے لئے قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی دلیلیں بیان کی گئی ہیں اور فرمایا کہ یہ قرآن بشر کا بنایا ہوا نہیں ہے تم سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ نے اپنے جی سے بنایا ہوگا لیکن تم یہ نہیں دیکھتے کہ پہلے انبیا اور رسولوں کے قصے اور وہی باتیں جو پہلی قوموں کو بتلائی گئیں تھیں اس میں بھی ہیں حضرت ﷺ نہ کسی عالم کی صحبت میں بیٹھے اور نہ کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھا نہ کسی نے ان کو پہلی امتوں کے قصے بتائے پھر کیوں کر وہ گزری ہوئی باتیں اور ایسی صاف ستھری زبان میں بیان کرتے یہ قرآن تو توریت و انجیل کل آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور جو جو باتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 37–41

آیت : (37-41) (وما کان ھذا الرآن ان یفتری من دون اللہ) ” اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ یلا جائے اللہ کے ورے ورے ہی “ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا : (لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید) (حتم السجدۃ : 43/41) ” باطل کا دخل اس میں آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے ‘ یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔ “ یہ ایسی کتاب ہے (لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یا توا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا) (بنی اسرائیل : 88/17) ” اگر تمام انسان اور جن اس بات…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

72 ۔ قرآن حکیم کا اپنے منکروں کو کھلا چیلنج : کہ تم لوگ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ اگر تم سچے ہو اپنے دعوے میں۔ سو یہ اس کی شان اعجاز اور اس کی حقانیت کا ایک واضح اور کھلا ثبوت ہے۔ پس اگر تم لوگو بایں ہمہ فصاحت و بلاغت اور باوجود اسباب و وسائل ایسا نہیں کرسکے، اور قیامت تک نہیں کرسکو گے، تو پھر اس سے بڑھ کر واضح اور کھلا ثبوت اور قطعی دلیل اس بات کی اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہ کلام حکیم قرآن مجید انسانی کلام نہیں بلکہ خالق انس و جن کا کلام ہے جو اس نے اپنی رحمت بےنہایت اور عنایت بےغایت سے اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے نازل فرمایا ہے۔ تاکہ وہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–40

اعجاز قرآن کے مختلف پہلو اور کفار کا انکار تشریح : ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور مضامین کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ کتاب کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں یہ کتاب آخری اس لیے ہے کہ اس میں گذشتہ بھیجی گئی تمام کتابوں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جب ان کے بارے میں نہ تو کوئی تاریخی کتاب موجود تھی اور نہ ہی وہ قومیں موجود تھیں اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کو گزرے ہوئے حالات کا علم تھا بلکہ آپ ﷺ تو ان پڑھ تھے۔ تو پھر ان گذری ہوئی قوموں، آسمانی کتابوں کا ذکر قرآن پاک میں اس قدر تفصیل سے کیسے بیان کیا گیا ہے ؟ قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کی یہ بھی ایک دلیل ہے، پھر اس کا انداز بیان، مضامین، قوانین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40 اسرار و معارف اگر انھیں اب بھی اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو تو آپ ان سے پوچھتے کہ ذرایہ بتاؤ ! آسمانوں سے پانی برسا کر کھیتیاں اور پھل کون اگاتا ہے اور ارض وسما کی نعمتوں کو کون پیدا کرتا ہے اور تمہاری خدمت پہ لگا دیتا ہے ۔ یہ ہوا ، یہ فضا ، یہ طرح طرح کے پھل چشمے جانور دورھ گھی اور گوشت یہ تمہاری زندگی کے سامان کون پیدا کرتا ہے ؟ ارے یہ تو خارجی چیزیں ہیں خود تمہارے وجود کے اندر جو نعمتیں رکھی ہیں مثلا حواس ہی کو لے لوتویہ آنکھ کان وغیرہ تمہارے وجود کا حصہ ہونے کے باوجود کس کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جب چاہتا ہے میں روشن کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے یہ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ یعنی اگر اس کے باوجود تمہارا یہ خیال ہے کہ … اور پیغمبر نے جھوٹ بول کر کہہ دیا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:38) ام ۔ کیا۔ استفہام انکاری ہے۔ قل فاتوا۔ ای قل ان کان الامر کما تقولون فاتوا ۔۔ الخ یعنی اے محمد ﷺ ان سے کہو کہ اگر حقیقت الامر وہی ہے جو تو لے آؤ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 37–40

لغات القرآن (آیت نمبر 37 تا 40) یفتریٰ (گھڑا گیا، بنایا گیا) تصدیق (سچ بتانے والا) بین یدہ (اپنے ہاتھوں کے سامنے) تفصیل (تفصیل، وضاحت) قاتوا (پھر تم آئو (لے آئو) ادعوا (تم بلائو، تم پکارو) استطعتم (تمہاری طاقت ہو، ہمت ہو) لم یحیطوا (احاطہ نہیں کرتے، گھیر نہیں سکے) تاویل (انجام ، نتیجہ) عافیۃ (انجام) اعلم (زیادہ جاننے والا ) تشریح : آیت نمبر 37 تا 40 کفار اور مشرکین مکہ قرآن جیسی عظیم کتاب اور بلند تر مضامین کے سامنے جب بےبس ہوگئے اور انہوں نے دیکھ لیا کہ مکہ مکرمہ کے لوگ قرآن کریم کی عظمت کے سامنے گھٹنے ٹیک رہے ہیں اس وقت انہوں نے لوگوں کو متنفر کرنے کے لئے قرآن سے متعلق طرح طرح کی افواہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–40

ثبوت رسالت کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ثبوت توحید کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ثبوت رسالت کے لئے قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی دلیلیں بیان کی گئی ہیں، اور فرمایا ہے کہ یہ قرآن بشر کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ نے اپنے جی سے بنایا ہوگا۔ لیکن تم یہ نہیں دیکھتے کہ اس میں پہلے انبیاء اور رسولوں کے قصے اور وہی باتیں جو پہلی قوموں کو بتلائی گئی تھیں اس میں بھی ہیں ۔ آنحضرت ﷺ کسی عالم کی صحبت میں بیٹھے اور نہ کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھا نہ کسی نے ان کو پہلی امتوں کے قصے بتلائے۔ پھر کو نکر وہ گزری ہوئی ایسی صاف ستھری زبان میں بیان کرتے ۔ یہ قرآن تو توریت وانجیل کل آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–38

کتاب الہی : (ف 1) قرآن حکیم کا تعارف ہے کہ یہ کتاب دماغی افتراع نہیں ، عقل و دانش انسان کی رہن منت نہیں ، اس کا تعلق الہام ووحی سے ہے ، یہ صحیفہ آسمانی خدا کی جانب سے ، ہے نبوت یہ ہے کہ اس کا تعلق تمام سابقہ کتب سے ہے ، یہ تمام صداقتوں اور سچائیوں کی تصدیق کرتی ہے ، ہر صداقت کا خیر مقدم کرتی ہے ، اور اس میں اور دنیا کی تمام کتابوں میں ایک ربط موجود ہے پھر یہ بھی کہ ضروریات انسانی کی اس میں تفصیل ہے ، تمام معاشی واخلاقی الجھنوں کو سنبھلا گیا ہے زندگی کا لائحہ عمل اور پروگرام اس میں موجود ہے ، قلب وروح کے تمام تقاضوں کی اس میں تکمیل ہے اور غیر مشکوک کلام ہے ، اسے تسلیم کرلینے میں کوئی منطقی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

38 کیا باجود اس کے بھی یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر نے اس قرآن کو بنا لیا اور گھڑ لیا آپ کہہ دیجئے اگر یہ بات ہے کہ میں نے اس کو بنا لیا ہے تو تم بھی اس قرآن کریم کی مثل ایک چھوٹی سی سورت ہی بنا لائو آخر تم بھی عربی زبان کے ماہر اور بڑے فصیح وبلیغ ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو اس کو بلا بھی لو اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–38

ف 1۔ یعنی اگر نعوذ باللہ میں نے تصنیف کرلیا ہے تو تم بھی تصنیف کرلاو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتاب اللہ کو افتراء کہنے والوں سے خطاب کہ اگر سچے ہو تو تم بھی کچھ پیش کرو ۔ 60 قرآن کریم نے کس طرح عقلی دعوت ان کو دے دی اور کس طرح ان پر واضح کردیا کہ حق کبھی چھپ کر بات نہیں کرتا فرمایا اور دو ٹوک فرمایا کہ اچھا قرآن کریم اگر ایک انسانی دماغ تیار کرسکتا ہے تو کئی اور انسانی دماغ مل کر تو اس سے کہیں چھوٹی یعنی اس کی صرف ایک ہی سورت بہرحال تیار کر ہی سکتے ہیں پھر ہمت کرو اور بسم اللہ پڑھو اور یہی کر دکھائو تاکہ ثابت ہوجائے کہ یہ جو کچھ کہا گیا ہے محض ایک ذہن کی اختراع ہے اور ناحق اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کردی گئی ہے تم بھی بڑے زبان آور ہو اور تمہارے اندر بڑے بڑے قادرالکلام شعراء اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–44

In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَ‌بُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

46.It is generally believed that the challenge embodied in this verse has a reference merely to the eloquence, rhetoric and other literary qualities of the Qur'an. Were one to read the writings of Muslim scholars in connection with the explanation of this verse, it is not surprising that people should entertain such a misunderstanding. However, the Qur'an is far above claiming its uniqueness and inimitability merely on the grounds of its literary merits. Although there can be no doubt about the literary excellence of the Qur'an, the main ground on which it is claimed that no human being could…

Read the full tafseer →