Explained with ayahs 37–40
اعجاز قرآن حکیم
قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بےمثل قرآن بےمثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بےنظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بےمثل صفتیں بےمثل، جس کے اقوال بےمثل، جس کے افعال بےمثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہو سکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 47
تکذیب یا تو اس بنیاد پر کی جاسکتی تھی کہ ان لوگوں کو اس کتاب کا ایک جعلی کتاب ہونا تحقیقی طور پر معلوم ہوتا۔ یا پھر اس بنا پر وہ معقول ہو سکتی تھی کہ جو حقیقتیں اس میں بیان کی گئی ہیں اور جو خبریں اس میں دی گئی ہیں وہ غلط ثابت ہوجاتیں۔ لیکن ان دونوں وجوہ تکذیب میں سے کوئی وجہ بھی یہاں موجود نہیں ہے۔ نہ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ کہ وہ از روئے علم جانتا ہے کہ یہ کتاب گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ نہ کسی نے پردہ غیب کے پیچھے جھانک کر یہ دیکھ لیا ہے کہ واقعی بہت سے خدا موجود ہیں اور یہ کتاب خواہ مخواہ ایک خدا کی خبر سنا رہی ہے، یا فی الواقع خدا اور فرشتوں اور وحی وغیرہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
معارف و مسائل
(آیت) وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ ، تاویل سے مراد اس جگہ مال اور انجام ہے، مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی غفلت اور بےفکری سے قرآن میں غور نہیں کیا اور اس کی تکذیب کے انجام بد کو نہیں پہچانا، اس لئے تکذیب میں لگے ہوئے ہیں مگر موت کے بعد ہی سب حقائق کھل جاویں گے اور اپنے کئے کا مآل بد ہمیشہ کے لئے گلے کا ہار ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آگے کا مضمون۔ آیات 37 تا 70: یاد ہوگا، بات کفار کے اس مطالبہ سے چلی تھی کہ یا تو اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ایسی ترمیم کردو کہ ہمارے لیے وہ قابل قبول ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرنے کے بجائے قرآن کی ان باتوں کو مزید واضح اور مدلل کردیا جن سے وہ چڑتے تھے۔ اب آگے اسی مضمون کو ایک نئے پہلو سے لیا اور قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بھی ثابت کیا، آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی اور قرآن کے دعاوی کو مزید مبرہن کردیا۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَرٰي مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ…
Read the full tafseer →39۔ 1 یعنی قرآن میں تدبر اور اس کے معنی پر غور کئے بغیر، اسکو جھٹلانے پر تل گئے۔
39۔ 2 یعنی قرآن نے جو پچھلے واقعات اور مستقبل کے امکانات بیان کئے ہیں، اس کی پوری سچائی اور حقیقت بھی ان پر واضح نہیں ہوئی، اس کے بغیر جھٹلانا شروع کردیا، یا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ انہوں نے قرآن پر کما حقہ تدبر کئے بغیر ہی اس کو جھٹلایا حالانکہ اگر وہ صحیح معنوں میں اس پر تدبر کرتے اور ان امور پر غور کرتے، جو اسکے کلام الٰہی ہونے پر دلالت کرتے ہیں تو یقیناً اس کے فہم اور معانی کے دروازے ان پر کھل جاتے۔ اس صورت میں تاویل کے معنی۔ قرآن کریم کے اسرار و معارف اور لطائف و معانی کے واضح ہوجانے کے ہونگے۔
39۔ 3 یہ ان کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
22: یعنی ان کے جھٹلانے کا انجام جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظاہر ہونے والا۔ ابھی تک ان کے سامنے نہیں آیا، لیکن پچھلی قوموں کے انجام سے ان کو عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
Read the full tafseer →بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولا بانھم تاویلہ بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کے علم کا احاطہ انہوں نے نہیں کیا اور ابھی اس کی حقیقت ان کے سامنے نہیں آئی۔
یعنی ان کا کلام اور قرآن کی حقانیت سے انکار کسی غور و تحقیق پر مبنی نہیں ہے بلکہ قرآن کی حقیقت کو جانے بغیر اور بلا غور و فکر کے فقط سنتے ہی انہوں نے قرآن کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار کردیا۔ انہوں نے ابھی سوچا ہی نہیں کہ یہ کلام انسانی طاقت سے باہر ہے۔ قرآن نے جو غیب کی خبریں بتائی ہیں ‘ مبدء اور معاد سے آگاہی اور ثواب و عذاب کی اطلاع دی ہے ‘ ابھی تک اس کے ظہور کا موقع ہی نہیں آیا ہے۔ ان پر لازم تھا کہ کتب سابقہ کے عالموں سے پوچھتے کہ…
Read the full tafseer →1 یعنی قرآن کو " مفتریٰ " کہنا سمجھ کر نہیں، محض جہل و سفاہت اور قلت تدبر سے ہے۔ تعصب وعناد انہیں اجازت نہیں دیتا کہ ٹھنڈے دل سے قرآن کے حقائق اور وجوہ اعجاز میں غور کریں۔ بدفہمی یا قوائے فکریہ کے ٹھیک استعمال نہ کرنے کی وجہ سے جب قرآن پاک کے دلائل و عجائب کو پوری طرح نہیں سمجھ سکے، تو جھٹلانا شروع کردیا۔
2 بعض مفسرین نے " تاویل " کے معنی " تفسیر " کے لیے ہیں۔ یعنی مطالب قرآن ان کے دماغ میں نہیں اترے اور بعض نے قرآنی پیشین گوئیاں مراد لی ہیں۔ یعنی تکذیب کی ایک وجہ بعض سادہ لوحوں کے حق میں یہ بھی ہے کہ مستقبل کے متعلق قرآن نے جو خبریں دی ہیں۔ ان کے وقوع کا ابھی وقت نہیں آیا۔ لہذا وہ منتظر ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
آیت 39 بَلْ کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاْتِہِمْ تَاْوِیْلُہٗ
یعنی یہ لوگ قرآن کے علوم کا ادراک اور اس کے پیغام کا شعور حاصل نہیں کرسکے۔ اس کے علاوہ عذاب کے بارے میں ان کو دی گئی دھمکیوں کا مصداق خارجی بھی ابھی ان پر ظاہر نہیں ہوا ‘ اس لیے وہ اس سب کچھ کو محض ڈراوا اور جھوٹ سمجھ رہے ہیں۔ قرآن میں ان لوگوں کو بار بار دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اللہ کا انکار کرو گے تو اس کی پکڑ میں آجاؤ گے ‘ اس کی طرف سے بہت سخت عذاب تم پر آئے گا۔ یہ عذاب موعود چونکہ ابھی ظاہری طور پر ان پر نہیں آیا ‘ اسی لیے وہ قرآن کو بھی جھٹلا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →55 قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے داخلی اور خارجی ثبوت :۔ کسی چیز کو جھٹلانے کے لیے دو طرح کے ثبوت درکار ہوتے ہیں ایک خارجی شہادت یا شہادات اور دوسرے داخلی شہادت یا شہادات۔ خارجی شہادت کی نفی تو اس طرح ہوتی ہے کہ کسی معترض نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کوئی شخص آپ کو آکر قرآن سکھلا جاتا تھا یا آپ قرآن سیکھنے کے لیے کبھی کسی کے پاس گئے ہوں یا یہ کام خط و کتابت یا قاصدوں کے ذریعہ سر انجام پاتا ہو اور داخلی شہادات کی نفی اس طرح ہوجاتی ہے کہ قرآن نے جو بھی خبر دی یا پیشین گوئی کی وہ کبھی جھوٹی ثابت نہیں ہوئی بلکہ تاریخ اور وقوع کے اعتبار سے درست ہی ثابت ہوئی ان دو وجوہ کو علمی یا یقینی قرار دیا جاسکتا…
Read the full tafseer →64۔ یعنی بجائے اس کے کہ ٹھنڈے دل سے اس کی اعجازی خصوصیات پر غور کرتے اور پوری تحقیق سے کام لیتے، چٹ اس کی تکذیب پر مستعد ہوگئے۔ المراد انہم سارعوا الی تکذیبہ من غیران یتدبروا ما فیہ (روح) (آیت) ” ولما یاتھم تاویلہ “۔ تاویل کے معنی اصل حقیقت کی طرف رجوع کے بھی ہیں اور مآل علمی وفعلی کے بھی، الرجوع الی الاصل (راغب) رد الشیء الی الغایۃ المراد ۃ منہ علما کان اوفعلا (راغب)
65۔ یہاں مراد مآل فعلی یا انجام سے لی گئی ہے۔ اور وہ عذاب الہی ہی ہے۔ اے ولم یاتھم حقیقۃ عاقبۃ التکذیب من نزول العذاب بھم (قرطبی) جو زان یراد بالتاویل وقوع مدلولہ وھو عاقبتہ (روح) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی ایسے ہی بےسوچے سمجھے تکذیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : ان سے پوچھو آسمان سے بارش کے ذریعہ اور زمین سے نباتات کے ذریعہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ سَمْعٌ بمعنی اَسْمَاعٌ ہے یعنی کس نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو مخلوق کے معاملات کا نظم کرتا ہے ضرور وہ یہی کہیں گے وہ اللہ ہے تو ان سے کہو کہ پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے کہ ایمان لے آؤ، سو یہ جو ان تمام چیزوں کا کرنے والا ہے اللہ ہے جو تمہارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد بجز گمراہی کے اور باقی رہ ہی کیا گیا ؟ استفہام تقریری ہے یعنی اس کے بعد کچھ باقی…
Read the full tafseer →بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولا بانھم تاویلہ بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کے علم کا احاطہ انہوں نے نہیں کیا اور ابھی اس کی حقیقت ان کے سامنے نہیں آئی۔
یعنی ان کا کلام اور قرآن کی حقانیت سے انکار کسی غور و تحقیق پر مبنی نہیں ہے بلکہ قرآن کی حقیقت کو جانے بغیر اور بلا غور و فکر کے فقط سنتے ہی انہوں نے قرآن کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار کردیا۔ انہوں نے ابھی سوچا ہی نہیں کہ یہ کلام انسانی طاقت سے باہر ہے۔ قرآن نے جو غیب کی خبریں بتائی ہیں ‘ مبدء اور معاد سے آگاہی اور ثواب و عذاب کی اطلاع دی ہے ‘ ابھی تک اس کے ظہور کا موقع ہی نہیں آیا ہے۔ ان پر لازم تھا کہ کتب سابقہ کے عالموں سے پوچھتے کہ…
Read the full tafseer →(39) بلکہ یہ کافر ایک ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے اور ابھی تک انکو اس قرآن حکیم کی تکذیب کا جس سے انکو قرآن حکیم میں ڈرایا گیا ہے، آخری نتیجہ نہیں پہنچا جو کافر ان سے پہلے ہوئے انہوں نے بھی اسی طرح آسمانی کتب اور رسولوں کو جھٹلایا تھا، جیسا کہ آپ کی قوم، آپ اور قرآن کریم کو جھٹلا رہے ہیں سو دیکھ لیجیے کہ ان مشرکین کا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، کیسا برا انجام ہو ایا یہ کہ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے تاکہ کفار کی ایذا رسانی پر آپ صبر کریں اور اس کی وجہ سے غمگین اور پریشان نہ ہوں۔
Read the full tafseer →بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِهٖ : یعنی یہ لوگ جو قرآن کو جھٹلا رہے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لا رہے، ان کے جھٹلانے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انھوں نے نہ اسے پوری طرح جانا اور نہ اس کے مطالب و مضامین سمجھنے کی کوشش کی، ان کی بنیاد جہالت، ہٹ دھرمی اور باپ دادا کی اندھی تقلید پر ہے، انھوں نے محض یہ دیکھ کر کہ قرآن ان کے موروثی عقائد و خیالات کی تردید کرتا ہے، جھٹ سے اس کا انکار کردیا، ورنہ قرآن کا ایسے حقائق کے بیان پر مشتمل ہونا جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں اور جن کی تہ تک یہ نہیں پہنچ سکتے کسی طرح بھی جھٹلانے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ قصور ان کے فہم کا ہے قرآن کا نہیں۔ (روح المعانی، کبیر)…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 39۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” بل کذبوا بمالم یحیطو بعلمہ “۔ یعنی انہوں نے قرآن کو جھٹلایا اور وہ اس کے معانی اور اس کی تفسیر سے جاہل اور ناواقف تھے اور ان پر لازم ہے کہ وہ اسے سوال کے ذریعے جانیں، پس یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ واجب ہے کہ تاویل میں غور وفکر کی جائے، اور قولہ تعالیٰ : ولما یاتھم تاویلہ “۔ یعنی ان پر عذاب نازل ہو کر جھٹلانے کے انجام کی حقیقت ظاہر نہیں ہوئی یا انہوں نے اسے جھٹلایا جو موت کے بعد اٹھائے جانے، جنت اور دوزخ کے ذکر میں سے قرآن کریم میں موجود ہے اور جوان کے لیے کتاب میں وعید کی گئی اس کی حقیقت ان کے پاس نہیں آئی، یہ حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے، اور حسین بن فضل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” امن لا یھدی الا ان یھدی “ (یا وہ خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ اس کی رہنمائی کی جائے) سے مراد بت ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے سوا جس کو چاہے رہنمائی فرمائے۔
Read the full tafseer →بَلْ [ بلکہ ] كَذَّبُوْا [ انھوں نے جھٹلایا ] بِمَا [ اس کو جس کا ] لَمْ يُحِيْطُوْا [ انھوں نے احاطہ نہیں کیا ] بِعِلْمِهٖ [ اس کے علم سے ] وَلَمَّا [ اور ابھی تک نہیں ] يَاْتِهِمْ [ پہنچا ان کے پاس ] تَاْوِيْلُهٗ ۭ [ اس کا انجام کار ] كَذٰلِكَ [ اسی طرح ] كَذَّبَ [ جھٹلایا ] الَّذِيْنَ [ انھوں نے جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے تھے ] فَانْظُرْ [ تو آپ دیکھیں ] كَيْفَ كَانَ [ کیا تھا ] عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کا انجام ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
قرآن حکیم کی حقانیت پر واضح دلیل ‘ اور اس جیسی ایک سورت بنانے کا چیلنج
توحید کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب کتاب اللہ کی حقانیت بیان فرمائی جس کے ذیل میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی مزید تصدیق ہوگئی۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے اول تو ان کی تردید فرمائی کہ یہ ایسی کتاب نہیں ہے کہ جو غیر اللہ کی طرف سے ہو یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے جو اس سے پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور جو احکام اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بھیجے ہیں اس میں ان کی بھی تفصیل ہے۔ پھر ان لوگوں کو چیلنج کیا اور فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ تم جو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
بیان اعجاز قرآن برائے اثبات نبوت
قال اللہ تعالی۔ وما کان ھذا القرآن ان یفتری من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک اعلم بالمفسدین۔
(ربط): ان آیات میں قرآن کریم کے اعجاز کا بیان ہے۔ اور مشرکین کے ایک شبہ اور تعجب کو رفع کرنا ہے۔ جو ان کو قرآن کے کلام خداوندی اور اس کے من جانب اللہ ہونے پر تھا۔ مشرکین قرآن کو اللہ کا کلام نہیں سمجھتے تھے بلکہ آنحضرت ﷺ کا کلام سمجھتے تھے۔ ان کا اعتقاد یہ تھا کہ یہ قرآن آپ ﷺ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے وہ یہ کہتے تھے کہ ائت بقرآن غیر ھذا او بدلہ۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں یہ بتایا کہ یہ قرآن غیر خدا کی بنائی ہوئی کتاب نہیں یہ تو اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے یہ خدا…
Read the full tafseer →55: انہوں نے قرآن کے مضامین میں غور و فکر نہیں کیا نہ ان کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے اس لیے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان کی تکذیب کسی معقول سبب پر مبنی ہو اور انہوں نے قرآنی مضامین میں کوئی شبہ پایا ہو بلکہ وہ محض ضد وعناد کی بنا پر تکذیب کر رہے ہیں۔ یعنی “ کلامھم و انکارھم للقراٰن لیس مبتنیا علی التحقیق والتفکر ” (مظہری ج 5 ص 28) ۔
56: یہ جملہ حالیہ ہے یعنی ابھی تک ان کو وعید کا مصداق (عذاب) نہیں آیا۔ حاصل یہ کہ قرآن کے مقابلہ میں سورت بنا کر لانا تو درکنار ان میں اتنا عقل و فہم کہاں وہ تو ایک ایسی بات کی تکذیب کر رہے ہیں جس کے بطلان کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ابھی ان کو اس تکذیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ربط آیات
گذشتہ دروس میں شرک اور مشرکین کی تردید ہوچکی ہے اور آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہے اور اس کے ساتھ رسالت کا ذکر ہے۔ دعوت الی القرآن اس سورة کا خاص موضوع ہے۔ اس کے علاوہ توحیدع کا اثبات اور شرک کا ابطال بھی خاص طور پر بیان ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ قیامت کا وقوع اور اس کے متعلقات زیر بحت آئے ہیں۔ اس سورة کی ابتدائی آیت میں قرآن کریم کی صداقت کے متعلق بیان ہوچکا ہے (آیت) ” تلک اٰیٰت الکتب الحکیم “ یہ بری حکمت والی کتاب ہے اور پھر آگے چل کر آتا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قال الذین لا یرجون لقائنا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ “ جب ان کو ہماری واضح آئیتیں پڑھ کر…
Read the full tafseer →بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا يَاْتِہِمْ تَاْوِيْلُہٗ 0 ۭ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِــمِيْنَ 39
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
حيط
الحائط : الجدار الذي يَحُوط بالمکان، والإحاطة تقال علی وجهين :
أحدهما…
Read the full tafseer →1 ؎ والا فتراؤ افتعال من قریت الادیم اذا قدرتہ للقطع استعمل فی الکذب کما استعمل قولہم اختلق فلان ھذا الحدیث فی الکذب۔ 12 منہ
Read the full tafseer →بَلْ کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاْتِھِمْ تَاوِیْلُہٗ ط کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (یونس : 39)
(بلکہ یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں اس چیز کو جو ان کے علم کے احاطے میں نہیں آئی اور ابھی تک اس کی حقیقت ان کے سامنے ظاہر نہیں ہوئی۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے۔ پس دیکھئے کیسا ہوا انجام ظالموں کا۔ )
انکار کا اصل سبب
اس آیت کریمہ میں ان کے انکار کا سبب بیان فرمایا گیا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے جو بات مترشح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جب ان سے یہ فرماتے ہیں کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بنی ہو کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مخالفین نبوت کی قرآن مجید کے بارے میں جہالت۔
قرآن مجید کے بارے میں یہ کہنا کہ نبی کا بنایا ہوا ہے۔ حقیقتاً قرآن کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ جھٹلانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جہالت اور کم فہمی کی وجہ سے قرآن مجید کی سچائی اور عظمت کا ادراک نہیں کرسکے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے جس ہولناک عذاب سے انہیں ڈرایا ہے اس میں یہ لوگ ابھی تک مبتلا نہیں ہوئے۔ حالانکہ تاریخ کا مطالعہ کرتے اور اپنے سے پہلی اقوام کا انجام دیکھتے تو انہیں قرآن کی سچائی اور اس کی عظمت کا علم ہوجاتا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔ اگر ہم نے اس کا انکار کیا تو ہمارے ساتھ بھی وہ…
Read the full tafseer →جھٹلانا عناد کی بنیاد پر ہے :
39: بَلْ کَذَّ بُوْا بِمَالَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاْتِھِمْ تَاْ وِیْلُہٗ (بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کے علم کا احاطہ انہوں نے نہیں کیا اور ابھی ان کو اسکی حقیقت معلوم نہیں ہوئی) بلکہ انہوں نے قرآن کی تکذیب میں جلدی کی ہے کہ جونہی اسکی آواز کا نوں تک پہنچی بلا سوچے سمجھے اس کو جھٹلا دیا۔ قرآن مجید کی حقیقت کو نہ پہچا نا اور نہ اسمیں تدبر کیا کہ اس کے معنی اور نتائج سمجھتے اور اسکابڑا سبب یہ ہے کہ جو چیز ان کے دین کے مخالف ہے اس سے دور بھاگ رہے ہیں ان کو اپنے آبائی دین کا ترک کرنا گراں گزرا ہے۔
لمایأ تہم تاویلہ میں توقع کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →(39)” بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمۃ “ یعنی قرآن کو جھٹلایا حالانکہ اس کے علم کا انہوں نے احاطہ نہ کیا تھا ۔ ” ولما یاتھم تاویلہ “ یعنی اس کا انجام جو اللہ نے قرآن میں وعدہ کیا ۔ مراد یہ ہے کہ ان کو معلوم نہ تھا کہ ان کے معاملہ کا انجام کیا لوٹے گا ۔ ” کذلک کذب الذین من قبلھم “ یعنی جس طرح ان کفار نے قرآن کو جھٹلایا ، اسی طرح ان سے پہلی امتوں کے کفار نے بھی جھٹلایا ۔ ” فانظر کیف کان عاقبۃ الظالمین “ مشرکین کا انجام ہلاکت کے ساتھ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
37۔ 39۔ اوپر کی آیتوں میں ثبوت توحید کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ثبوت رسالت کے لئے قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی دلیلیں بیان کی گئی ہیں اور فرمایا کہ یہ قرآن بشر کا بنایا ہوا نہیں ہے تم سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ نے اپنے جی سے بنایا ہوگا لیکن تم یہ نہیں دیکھتے کہ پہلے انبیا اور رسولوں کے قصے اور وہی باتیں جو پہلی قوموں کو بتلائی گئیں تھیں اس میں بھی ہیں حضرت ﷺ نہ کسی عالم کی صحبت میں بیٹھے اور نہ کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھا نہ کسی نے ان کو پہلی امتوں کے قصے بتائے پھر کیوں کر وہ گزری ہوئی باتیں اور ایسی صاف ستھری زبان میں بیان کرتے یہ قرآن تو توریت و انجیل کل آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور جو جو باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
آیت : (37-41)
(وما کان ھذا الرآن ان یفتری من دون اللہ) ” اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ یلا جائے اللہ کے ورے ورے ہی “ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا : (لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید) (حتم السجدۃ : 43/41) ” باطل کا دخل اس میں آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے ‘ یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔ “ یہ ایسی کتاب ہے (لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یا توا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا) (بنی اسرائیل : 88/17) ” اگر تمام انسان اور جن اس بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →73 ۔ جہالت باعث عداوت و محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جھٹلایا اس چیز کو جس کے علم کا یہ احاطہ نہیں کرسکتے۔ سو جہالت اور لاعلمی عداوت و محرومی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور انسان کی فطرت یہ ہے کہ جس چیز کی حقیقت نہ جانے وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ " الناس اعدآء لما جہلوا " پس ان لوگوں کی تکذیب کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ ان کی اپنی جہالت و لاعلمی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ (محاسن التاویل وغیرہ) پس جہالت محرومی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب ہے۔ اور علم کی روشنی سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ۔ اور علم سے مراد ظاہر ہے حق و حقیقت کا وہی علم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
اعجاز قرآن کے مختلف پہلو اور کفار کا انکار
تشریح : ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور مضامین کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ کتاب کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں یہ کتاب آخری اس لیے ہے کہ اس میں گذشتہ بھیجی گئی تمام کتابوں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جب ان کے بارے میں نہ تو کوئی تاریخی کتاب موجود تھی اور نہ ہی وہ قومیں موجود تھیں اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کو گزرے ہوئے حالات کا علم تھا بلکہ آپ ﷺ تو ان پڑھ تھے۔ تو پھر ان گذری ہوئی قوموں، آسمانی کتابوں کا ذکر قرآن پاک میں اس قدر تفصیل سے کیسے بیان کیا گیا ہے ؟ قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کی یہ بھی ایک دلیل ہے، پھر اس کا انداز بیان، مضامین، قوانین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40
اسرار و معارف
اگر انھیں اب بھی اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو تو آپ ان سے پوچھتے کہ ذرایہ بتاؤ ! آسمانوں سے پانی برسا کر کھیتیاں اور پھل کون اگاتا ہے اور ارض وسما کی نعمتوں کو کون پیدا کرتا ہے اور تمہاری خدمت پہ لگا دیتا ہے ۔ یہ ہوا ، یہ فضا ، یہ طرح طرح کے پھل چشمے جانور دورھ گھی اور گوشت یہ تمہاری زندگی کے سامان کون پیدا کرتا ہے ؟ ارے یہ تو خارجی چیزیں ہیں خود تمہارے وجود کے اندر جو نعمتیں رکھی ہیں مثلا حواس ہی کو لے لوتویہ آنکھ کان وغیرہ تمہارے وجود کا حصہ ہونے کے باوجود کس کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جب چاہتا ہے میں روشن کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے یہ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ محمد ﷺ نہ تو پڑھے لکھ ہیں اور نہ انہوں نے کسی عالم کی صحبت پائی ہے۔ ان کے مقابلے میں تم میں بڑے بڑے شاعر اور نامور ادیب موجود ہیں۔ جنہیں اپنی زبانی دانی اور فصاحت و بلاغت پر غرہ ہے۔ ان سب کو ہلا کر ایک ہی ایسی صورت بنا کر پیش کردو جس میں قرآن کی سی فصاحت و بلاغت اور دوسری کو خوبیاں پائی جاتی ہوں۔ اگر تم ایسا کرسکو تو تمہارا یہ گمان صحیح ہوسکتا ہے کہ یہ قرآن بھی محمد ﷺ نے از خود یا دوسرے کی مدد سے تصنیف کرلیا ہے۔ لیکن اگر تم ایسا نہ کرسکو اور یقینا تم ایسا نہ کرسکے گے تو معلوم ہوا کہ تمہارا یہ گمان سراسر بےبنیاد اور فسدو عناد اور تعصب پر مبنی ہے۔ نیز دیکھئے بقرہ آیت 32) ۔
7 ۔ یعنی یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(10:39) بل۔ بلکہ (ملاحظہ ہو 2:135) آیۃ ہذا میں اس کا استعمال ماقبل کے ابطال کے لئے ہے کہ ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ کلام من گھڑت اور خود ساختہ ہے (ام یقولون افترہ) اور مابعد کے اثبات کے لئے کہ (حقیقت یہ ہے) وہ اس کلام کو پوری طرح سمجھ نہیں پائے اور نہ ہی اس کلام کا انجام (جس کی وہ خبر دیتا ہے) ابھی تک ان کے سامنے آیا ہے۔
کذبوا بما لم یحیطوا بعلم۔ کذبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے جھٹلایا (باب تفعیل) ب تعدیہ کے لئے ہے اس صورت میں مطلب ہوگا۔ کذبوا ب انہوں نے جھٹلایا اور اس سے اگلا جملہ مالم یحیطوا بعلم مفعول ہوگا۔ انہوں نے جھٹلایا (اس کلام کو) جس کے علم کو وہ احاطہ ادراک میں نہ لاسکے (ہ ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
لغات القرآن (آیت نمبر 37 تا 40)
یفتریٰ (گھڑا گیا، بنایا گیا) تصدیق (سچ بتانے والا) بین یدہ (اپنے ہاتھوں کے سامنے) تفصیل (تفصیل، وضاحت) قاتوا (پھر تم آئو (لے آئو) ادعوا (تم بلائو، تم پکارو) استطعتم (تمہاری طاقت ہو، ہمت ہو) لم یحیطوا (احاطہ نہیں کرتے، گھیر نہیں سکے) تاویل (انجام ، نتیجہ) عافیۃ (انجام) اعلم (زیادہ جاننے والا )
تشریح : آیت نمبر 37 تا 40
کفار اور مشرکین مکہ قرآن جیسی عظیم کتاب اور بلند تر مضامین کے سامنے جب بےبس ہوگئے اور انہوں نے دیکھ لیا کہ مکہ مکرمہ کے لوگ قرآن کریم کی عظمت کے سامنے گھٹنے ٹیک رہے ہیں اس وقت انہوں نے لوگوں کو متنفر کرنے کے لئے قرآن سے متعلق طرح طرح کی افواہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ثبوت رسالت کا ذکر
اوپر کی آیتوں میں ثبوت توحید کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ثبوت رسالت کے لئے قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی دلیلیں بیان کی گئی ہیں، اور فرمایا ہے کہ یہ قرآن بشر کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ نے اپنے جی سے بنایا ہوگا۔ لیکن تم یہ نہیں دیکھتے کہ اس میں پہلے انبیاء اور رسولوں کے قصے اور وہی باتیں جو پہلی قوموں کو بتلائی گئی تھیں اس میں بھی ہیں ۔ آنحضرت ﷺ کسی عالم کی صحبت میں بیٹھے اور نہ کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھا نہ کسی نے ان کو پہلی امتوں کے قصے بتلائے۔ پھر کو نکر وہ گزری ہوئی ایسی صاف ستھری زبان میں بیان کرتے ۔ یہ قرآن تو توریت وانجیل کل آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
[23] یعنی بغیر کسی علمی تحقیق و جستجو کے محض وہم و گمان کی بنیاد پر انہوں نے قرآن کی تکذیب کی۔ قرآن کریم کا ایسے علوم پر مشتمل ہونا جن کا مدعیان علم احاطہ نہ کرسکیں کتاب کی عظمت و جلالت کو ظاہر کرتا ہے، تو ایسے اعلیٰ علوم والی کتاب کو نہ ماننا کمال جہل ہے۔
[24] یعنی قرآن میں جو خبریں دی گئی ہیں جیسے قیامت، جزا سزا وغیرہ جو ابھی پیش نہیں آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(ف 1) یہ قرآن حکیم کا وہ مطالبہ ہے کہ جس نے چودہ سو سال سے دنیا ، کفر وعناد میں تہلکہ بپا کر رکھا ہے ، قرآن حکیم کہتا ہے تمہیں اگر میرے منزل من اللہ ہونے میں شبہ ہے تو تم پوری قوت و استعداد کے ساتھ مقابلہ پر آجاؤ فصاحت وبلاغت کے سازوسامان کے ساتھ مسلح وآراستہ ہو کر آؤ تم میں یہ ہرگز جرات پیدا نہیں ہو سکے گی کہ تم ایک سورت بھی قرآن کے مقابلہ تصنیف کرسکو ، یہ چیلنج ان لوگوں کو دیا گیا جن کا بچہ بچہ شاعر تھا ، فصاحت وبلاغت جن کی بےدم کنیز تھی جن کی گھٹی میں حذاق سخن پڑا تھا مگر کسی کی ہمت نے قرآن کے اعلان مقابلہ کو قبول نہیں کیا ، یہ چیلنج آج بھی موجود ہے ، دنیا ترقی کی بہت سی منزلیں طے کرچکی…
Read the full tafseer →39 بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس چیز کو جھٹلانے لگے جس کے سمجھنے پر قابو نہ پاسکے اور جس کی حقیقت کا پوری طرح احاطہ بھی نہ کرسکے اور ابھی تکذیب کا مال و انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا اسی طرح جو منکر ان سے پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح تکذیب کا طریقہ اختیار کیا تھا جس طرح یہ کر رہے ہیں لہٰذا اے پیغمبر ﷺ ! آپ دیکھ لیجئے اُن ظالموں کا انجام کیسا ہوا یعنی مطالب قرآنی اور مفاہیم قرآنی پر غور نہیں کرتے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور جب قرآن کریم کے مطالب و مفاہیم پر قابو نہیں پاسکتے تو جھٹلانا شروع کردیتے ہیں یہ لوگ ان مواعید کا انتظار کر رہے ہیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں۔
وہ انجام بھی…
Read the full tafseer →ف 2۔ لم یحیطوا کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس امر میں کلام کرے پہلے اس کی تحقیق تو کرلے بعد تحقیق جو کلام کرنا ہوکرے۔
Read the full tafseer →انہوں نے کس سچ کو جھٹلانے کی ہمت کرلی کیا وہ ایسا کرسکیں گے ؟
۔ 61 مثل ہے کہ سورج پر تھوکنے والا دراصل اپنے ہی منہ پر تھوکتا ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس کا تھوک سورج تک کیسے پہنچے گا ؟ انہوں نے یہ تکذیب کس نسبت سے شروع کردی غور کرو کہت کذیب یا تو اس بنیاد پر کی جاسکتی تھی کہ ان لوگوں کو اس کتاب کا ایک جعلی کتاب ہونا تحقیقی طور پر معلوم ہوتا ہے یا پھر وہ اس بناء پر معقول ہو سکتی تھی کہ جو حقیقتیں اس میں بیان کی گئی ہیں اور جو خبریں اس میں دی گئی ہیں وہ غلط ثابت ہوجائیں لیکن ان دونوں وجود تکذیب میں سے کوئی وجہ بھی یہاں موجود نہیں۔ نہ کوئی شخص آجتک یہ کہہ سکا کہ وہ ازروئے علم جانتا یہ کہ یہ کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted…
Read the full tafseer →47. There can only be two justifiable grounds for those who wish to reject the Qur'an as a false scripture: either they should have definite knowledge to the effect that it is a fabrication or they should be able to demonstrate that the statements made by, or the information contained in it, are false. But as things stand, neither of these two reasons is available. For none can contend, on the basis of definite knowledge, that the Book had been authored by someone who, in his turn, falsely attributed it to God. Nor has anyone been able to penetrate the realms of the suprasensory world and…
Read the full tafseer →