Explained with ayahs 37–40
اعجاز قرآن حکیم
قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بےمثل قرآن بےمثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بےنظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بےمثل صفتیں بےمثل، جس کے اقوال بےمثل، جس کے افعال بےمثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہو سکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 45
جو کچھ پہلے آچکا تپا اس کی تصدیق ہے“ ، یعنی ابتدا سے جو اصولی تعلیمات انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت انسان کو بھیجی جاتی رہی ہیں یہ قرآن ان سے ہٹ کر کوئی نئی چیز نہیں پیش کر رہا ہے بلکہ انہی کی تصدیق و توثیق کر رہا ہے۔ اگر یہ کسی نئے مذہب کے بانی کی ذہنی اپج کا نتیجہ ہوتا تو اس میں ضرور یہ کوشش پائی جاتی کہ پرانی صداقتوں کے ساتھ کچھ اپنا نرالا رنگ بھی ملا کر اپنی شان امتیاز نمایاں کی جائے۔
”الکتاب کی تفصیل ہے“ ، یعنی ان اصولی تعلیمات کو جو تمام کتب آسمانی کا لبّ لباب (الکتاب) ہیں، اس میں پھیلا کر دلائل و شواہد کے ساتھ، تلقین و تفہیم کے ساتھ، تشریح و توضیح کے ساتھ، اور عملی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
خلاصہ تفسیر
اور یہ قرآن افتراء کیا ہوا نہیں ہے کہ غیر اللہ سے صادر ہوا ہو بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس کے قبل (نازل) ہوچکی ہیں اور احکام ضروریہ (الہٰیہ) کی تفصیل بیان کرنے والا ہے (اور) اس میں کوئی بات شک (و شبہ) کی نہیں (اور وہ) رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے کیا (باوجود اس کے افتراء نہ ہونے کے) یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) آپ نے اس کو افتراء کرلیا ہے، آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ (اچھا) تو پھر تم (بھی تو عربی ہو اور اعلی درجہ کے فصیح بلیغ بھی ہو) اس کی مثل ایک ہی سورت (بنا) لاؤ اور (اکیلے نہیں) جن جن غیر اللہ کو بلا سکو ان کو (مدد کے لئے) بلا لو اگر تم سچے ہو (کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آگے کا مضمون۔ آیات 37 تا 70: یاد ہوگا، بات کفار کے اس مطالبہ سے چلی تھی کہ یا تو اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ایسی ترمیم کردو کہ ہمارے لیے وہ قابل قبول ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرنے کے بجائے قرآن کی ان باتوں کو مزید واضح اور مدلل کردیا جن سے وہ چڑتے تھے۔ اب آگے اسی مضمون کو ایک نئے پہلو سے لیا اور قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بھی ثابت کیا، آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی اور قرآن کے دعاوی کو مزید مبرہن کردیا۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَرٰي مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ…
Read the full tafseer →37۔ 1 جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن گھڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ اسی ذات کا نازل کردہ ہے جس نے پچھلی کتابیں نازل فرمائیں تھیں۔
37۔ 2 یعنی حلال و حرام اور جائز ناجائز کی تفصیل بیان کرنے والا۔
37۔ 3 اس کی تعلیمات میں، اس کے بیان کردہ قصص و واقعات میں اور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں۔
37۔ 4 یہ سب باتیں واضح کرتی ہیں کہ یہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل ہوا ہے، جو ماضی اور مستقبل کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
21: اس فقرے میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ قرآن کریم کا ماخذ کوئی انسانی دماغ نہیں، بلکہ وہ لوح محفوظ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے تشریعی اور تکوینی احکام ازل سے لکھے ہوئے ہیں۔ ان احکام میں سے جن کی انسانوں کو ضرورت ہے، یہ قرآن ان کی تفصیل بیان فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →وما کان ھذا القرآن ان یفترٰی من دون اللہ اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئے بغیر ازخود اس کو بنا لیا جائے اور ان کی طرف اس کی نسبت کردی جائے۔
ولکن تصدیق الذی بین یدیہ بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔
الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے مراد یا رسول اللہ (ﷺ) کی ذات مبارک ہے ‘ یا گزشتہ کتب الٰہیہ (ترجمہ میں یہی بیان کیا ہے) یا قیامت ‘ یا بعثت نبوی جس کی خبر سابق کتابوں میں دے دی گئی تھی۔
و تفصیل الکتب لاریب فیہ من رب العٰلمین۔ اور احکام ضروریہ (الٰہیہ) کی تفصیل بیان کرنے والا ہے ‘
اس میں کوئی بات شک (و شبہ) کی نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے…
Read the full tafseer →6 پچھلی آیات میں فرمایا تھا کہ مشرکین محض ظن وتخمین کی پیروی کرتے ہیں۔ حالانکہ پیروی کے قابل اس کی بات ہے جو صحیح راستہ بتلائے۔ اسی مناسبت سے یہاں قرآن کریم کا ذکر شروع کیا کہ آج دنیا میں وہی ایک کتاب صحیح راستہ بتلانے والی اور ظنون و اوہام کے مقابلہ میں سچ حقائق پیش کرنے والی ہے۔ اس کے علوم و معارف، احکام و قوانین اور معجزانہ فصاحت و جزالت پر نظر کر کے کہنا پڑتا ہے کہ یہ قرآن وہ کتاب نہیں جو خداوند قدوس کے سوا کوئی دوسرا شخص بنا کر پیش کرسکے۔ پورا قرآن تو بجائے خود رہا اس کی ایک سورت کا مثل لانے سے بھی تمام جن و انس عاجز ہیں جیسا کہ آگے آتا ہے۔
7 قرآن کا کلام الٰہی ہونا اس سے ظاہر ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →آیت 37 وَمَا کَانَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰی مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ
یہ قرآن کسی انسان کے ہاتھوں تصنیف کی جانے والی کتاب نہیں ہے۔
Read the full tafseer →52 قرآن کے معجزہ ہونے کے مختلف پہلو :۔ قرآن صرف اس لحاظ سے ہی معجزہ نہیں کہ اس میں فصاحت و بلاغت بےمثل ہے روانی اور سلاست ہے زبان میں شیرینی ہے بلکہ اس لحاظ سے بھی بےمثل ہے کہ اس میں پوری انسانیت کی رہنمائی کے لئے جو جامع اور ہمہ گیر ہدایات دی گئی ہیں وہ اللہ کے سوا کوئی دے ہی نہیں سکتا اور اس لحاظ سے بھی بےمثل ہے کہ اس کی آیات میں جتنا بھی غور کیا جائے، نئے سے نئے مفہوم و معانی سامنے آتے چلے جاتے ہیں نیز اس لحاظ سے بھی کہ اس میں پیش کردہ دلائل انتہائی سادہ اور عام فہم ہیں جن سے سب لوگ فیض یاب ہوسکتے ہیں۔ اور یہ صفات صرف اللہ کے کلام میں ہی پائی جاسکتی ہیں جس طرح کوئی انسان اللہ کے بنائے ہوئے…
Read the full tafseer →61۔ کوئی غیر اللہ یعنی کوئی مخلوق، ایسے بےمثل وبیمثال کلام پر جو عبارت اور معنی دونوں کے اعتبار سے بےنظیر ہے، قادر ہی کب ہوسکتا ہے ؟ ایسی تصنیف کو کسی انسان کی جانب منسوب ہی کیسے کیا جاسکتا ہے ؟
62۔ یہاں قرآن مجید کے خصوصیات مختصرا گنا دیئے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ یہ سابق کتابوں اور کلاموں کی تصدیق کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس میں احکام مکتوبہ ومفروضہ کی تفصیل ہے۔ تیسری یہ کہ اس کے اندر کہیں شک وشبہ کا گزر نہیں۔ ہر چیز اس کی یقینی ہے اور چوتھی یہ کہ یہ کتاب سارے عالم کے پروردگار کی جانب سے ہے۔ (آیت) ” الکتب “۔ یہاں احکام مکتوبہ ومفروضہ کے معنی میں ہے۔ اراد بتفصیل الکتاب مابین فی القران من الاحکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : ان سے پوچھو آسمان سے بارش کے ذریعہ اور زمین سے نباتات کے ذریعہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ سَمْعٌ بمعنی اَسْمَاعٌ ہے یعنی کس نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو مخلوق کے معاملات کا نظم کرتا ہے ضرور وہ یہی کہیں گے وہ اللہ ہے تو ان سے کہو کہ پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے کہ ایمان لے آؤ، سو یہ جو ان تمام چیزوں کا کرنے والا ہے اللہ ہے جو تمہارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد بجز گمراہی کے اور باقی رہ ہی کیا گیا ؟ استفہام تقریری ہے یعنی اس کے بعد کچھ باقی…
Read the full tafseer →وما کان ھذا القرآن ان یفترٰی من دون اللہ اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئے بغیر ازخود اس کو بنا لیا جائے اور ان کی طرف اس کی نسبت کردی جائے۔
ولکن تصدیق الذی بین یدیہ بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔
الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے مراد یا رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک ہے ‘ یا گزشتہ کتب الٰہیہ (ترجمہ میں یہی بیان کیا ہے) یا قیامت ‘ یا بعثت نبوی جس کی خبر سابق کتابوں میں دے دی گئی تھی۔
وتفصیل الکتب لاریب فیہ من رب العٰلمین۔ اور احکام ضروریہ (الٰہیہ) کی تفصیل بیان کرنے والا ہے ‘
اس میں کوئی بات شک (و شبہ) کی نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے…
Read the full tafseer →(37) اور یہ قرآن کریم جس کی رسول اکرم ﷺ تمہارے سامنے تلاوت فرماتے ہیں افتراء کیا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ تو توریت، انجیل، زبور اور تمام آسمانی کتب کی توحید اور صفات رسول اکرم ﷺ میں تصدیق کرنے والا ہے اور نیز قرآن حکیم حلال و حرام اور اوامراونواہی کی تفصیل بیان کرنے والا ہے، اس میں کوئی بات بھی شک وشبہ کی نہیں ہے اور وہ تمام جہانوں کے آقا ومالک کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی توحید ثابت کرنے اور شرک کی تردید کرنے کے بعد قرآن مجید کی حقانیت کا بیان فرمایا کہ یہ ہرگز ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اپنے پاس سے بنا لائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک ایسے شخص پر نازل فرمایا جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا، تصنیف تو بہت دور کی بات ہے۔ تم بھی اہل زبان ہو، بڑے بڑے شاعر و ادیب اور فصاحت و بلاغت رکھنے والے مصنف ہو، اگر یقین نہ ہو کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور تمہیں اصرار ہو کہ یہ انسانی کلام ہے تو تم تمام جن و انس ایک دوسرے کی مدد کرکے اس جیسی کتاب تصنیف کرکے دکھا دو۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (88) پھر یہ نہ کرسکے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 37۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما کان ھذا القران ان یفتری من دون اللہ “۔ اس میں ان، یفتری کے ساتھ مل کر مصدر ہے اور اس کا معنی ہے : وما کان ھذا القرآن افتراء (یہ قرآن گھڑا ہوا نہیں ہے) جیسا کہ آپ کہتے ہیں : فلان یحب ان یرکب، ای یحب الرکوب (فلاں سوار ہونے کو پسند کرتا ہے) یہ کسائی نے کہا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اس قرآن کے لیے مناسب نہیں کہ اسے گھڑ لیا گیا ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” وما کان لنبی ان یغل “۔ (آل عمران : 161) (اور نہیں ہے کسی نبی کی یہ شان کہ خیانت کرے) (آیت) ” وما کان المؤمنون لینفروا کافۃ (التوبہ : 122) (اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” امن لا یھدی الا ان یھدی “ (یا وہ خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ اس کی رہنمائی کی جائے) سے مراد بت ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے سوا جس کو چاہے رہنمائی فرمائے۔
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ [ اور نہیں ہے ] هٰذَا الْقُرْاٰنُ [یہ قرآن ] اَنْ [ کہ ] يُّفْتَرٰي [ اس کو گھڑاجائے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ (کسی) سے ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن (یعنی بلکہ ) ] تَصْدِيْقَ الَّذِيْ [ اس کی تصدیق کرتا ہے جو ] بَيْنَ يَدَيْهِ [ اس سے پہلے ہے ] وَتَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ [ اور تمام فرائض کو کھول کر بیان کرتا ہے ] لَا رَيْبَ [ کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے ] فِيْهِ [ جس میں ] مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے (ہونے میں)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
قرآن حکیم کی حقانیت پر واضح دلیل ‘ اور اس جیسی ایک سورت بنانے کا چیلنج
توحید کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب کتاب اللہ کی حقانیت بیان فرمائی جس کے ذیل میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی مزید تصدیق ہوگئی۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے اول تو ان کی تردید فرمائی کہ یہ ایسی کتاب نہیں ہے کہ جو غیر اللہ کی طرف سے ہو یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے جو اس سے پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور جو احکام اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بھیجے ہیں اس میں ان کی بھی تفصیل ہے۔ پھر ان لوگوں کو چیلنج کیا اور فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ تم جو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
بیان اعجاز قرآن برائے اثبات نبوت
قال اللہ تعالی۔ وما کان ھذا القرآن ان یفتری من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک اعلم بالمفسدین۔
(ربط): ان آیات میں قرآن کریم کے اعجاز کا بیان ہے۔ اور مشرکین کے ایک شبہ اور تعجب کو رفع کرنا ہے۔ جو ان کو قرآن کے کلام خداوندی اور اس کے من جانب اللہ ہونے پر تھا۔ مشرکین قرآن کو اللہ کا کلام نہیں سمجھتے تھے بلکہ آنحضرت ﷺ کا کلام سمجھتے تھے۔ ان کا اعتقاد یہ تھا کہ یہ قرآن آپ ﷺ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے وہ یہ کہتے تھے کہ ائت بقرآن غیر ھذا او بدلہ۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں یہ بتایا کہ یہ قرآن غیر خدا کی بنائی ہوئی کتاب نہیں یہ تو اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے یہ خدا…
Read the full tafseer →52: یہ شکوے کے لیے تمہید ہے۔ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے کسی غیر کا افتراء نہیں۔ “ تَصْدِیْقَ الَّذِيْ بَیْنَ یَدَیْهِ ” یہ قرآن کے افتراء نہ ہونے کی پہلی وجہ ہے یعنی یہ قرآن تو کتب سابقہ کے مضامین کی تصڈیق کرتا ہے۔ “ وَ تَفْصِیْلَ الْکِتٰبِ ” یہ دوسری وجہ ہے۔ یہ قرآن شرائع اسلام اور فرائض و احکام کی تفصیل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمائے ہیں۔ “ تبیین ما کتب فرض من الاحکام والشرائع من قوله کتاب اللہ علیکم ” (مدارک ج 2 ص 125) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ربط آیات
گذشتہ دروس میں شرک اور مشرکین کی تردید ہوچکی ہے اور آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہے اور اس کے ساتھ رسالت کا ذکر ہے۔ دعوت الی القرآن اس سورة کا خاص موضوع ہے۔ اس کے علاوہ توحیدع کا اثبات اور شرک کا ابطال بھی خاص طور پر بیان ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ قیامت کا وقوع اور اس کے متعلقات زیر بحت آئے ہیں۔ اس سورة کی ابتدائی آیت میں قرآن کریم کی صداقت کے متعلق بیان ہوچکا ہے (آیت) ” تلک اٰیٰت الکتب الحکیم “ یہ بری حکمت والی کتاب ہے اور پھر آگے چل کر آتا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قال الذین لا یرجون لقائنا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ “ جب ان کو ہماری واضح آئیتیں پڑھ کر…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَرٰي مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْہِ وَتَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ 37 ۣ
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ترکیب : من الخ مبتداء من شرکاء کم خبر جملہ استفہامیہ افمن یہدی مبتدائء احق خبر ھذا القرآن اسم کان ان یفترٰی خبر افترًا من دون اللّٰہ تفصیل مفعول لا نزل محذوف کا۔
تفسیر : قل ھل من شرکائکم یہ دوسری دلیل ابطال شرک پر ہے اس کی تشریح اور آیات میں ہے کہ وہ انسان کو نطفہ سے علقہ پھر مضغہ سے انسان کیونکر بناتا ہے اور آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر کی چیزوں کو کس طرح سے بنایا اور پھر کیونکر دوبارہ پیدا کرے گا۔ اس لئے یہاں اجمال اور استفہام پر اکتفا کیا گیا اور جو بات مخالف کے نزدیک ظاہر ہو اور اس میں غور کرنے سے یقین کرسکتا ہو تو فصحاؤ بلغا اس کو بطور استفہام کے ذکر کرتے ہیں جس سے مخاطب کے دل پر بڑا…
Read the full tafseer →وَمَا کَانَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰی مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰـکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَتَفْصِیْلَ الْکِتٰبُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ قف۔ (یونس : 37)
(اور یہ قرآن ایسی چیز نہیں جسے گھڑ لیا گیا ہو اللہ سے پرے پرے بلکہ یہ تو تصدیق ہے اس کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہے اور الکتاب کی تفصیل ہے۔ اس کے رب العالمین کی طرف سے ہونے میں کوئی شک نہیں۔ )
قرآن کریم سابق پیشگوئیوں کی تصدیق ہے
مشرکینِ مکہ کے مزعوماتِ فاسدہ اور اعتقاداتِ باطلہ کا رد کرتے ہوئے پروردگار نے گزشتہ آیات میں ان کی بےعقلی اور جہالت کو بھی نمایاں کیا ہے اور ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن کا اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مشرکوں کے پاس باطل عقیدہ کی ٹھوس دلیل نہیں صرف سنی سنائی باتوں اور وہم و گمان پر بنیاد ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کا انکار اور نبی اکرم ﷺ پر الزام کہ قرآن مجید اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں۔ اس کی بنیاد بھی وہم و گمان اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں۔
کفار مکہ اور منکرین اسلام کی ابتدا سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح قرآن کو من گھڑت اور جھوٹا ثابت کیا جائے۔ تاکہ اسلام کی بنیاد منہدم ہو کر رہ جائے، کبھی کہتے کہ یہ نبی کسی عجمی سے سیکھ کر ہمیں بتلاتا ہے۔ کبھی یہ الزام دیتے کہ اپنی طرف سے بنا لیتا ہے۔ اس طرح ان کی سرتوڑ کوشش تھی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →قرآن من گھڑت نہیں بلکہ بلاریب ہے :
37: وَمَا کَانَ ھٰذَاالْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰی مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے جو افتراء کیا گیا ہو اللہ کی طرف سے نہ ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کے سواء اوروں کی طرف سے گھڑنامطلب یہ ہے کہ یہ صحیح اور درست نہیں کہ اس جیسا بلند کلام اور حد اعجاز تک پہنچاہوا من گھڑت کلام ہو۔ وَلٰکِنْ (لیکن) یہ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ (تصدیق ہے اسکی جو اس سے پہلے ہے) جو کتابیں اس سے قبل نازل ہوچکیں۔
وتَفْصِیْلَ الْکِتٰبِ (اور کتاب کی تفصیل ہے) جو فرائض و احکام لازم و فرض کئے گئے ان کی تشریح ہے یہ معنی اس آیت النساء 24 کتاب اللّٰہ علیکم۔ کی روشنی میں ہے۔ لَا…
Read the full tafseer →(37) ” وما کان ھذا القرآن ان یفتری من دون اللہ “ فراء فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کی مثل کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے غیر سے گھڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” وما کان لنبی ان یغل “ کی طرح اور بعض نے کہا ہے کہ ” ان “ لا م کے معنی میں ہے یعنی ” وما کان ھذا القرآن لیفتری من دون اللہ “ ولکن تصدیق الذی بین یدیہ “ قرآن کے سامنے توریت اور انجیل کی اور بعض نے کہا کہ قرآن کے آگے قیامت اور بعث کی تصدیق ہے۔ ” و تفصیل الکتاب “ یعنی کتاب میں جو حلال و حرام ، فرائض و احکام ہیں ان کا بیان ہے ۔ ” لا ریب فیہ من رب العالمین ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
37۔ 39۔ اوپر کی آیتوں میں ثبوت توحید کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ثبوت رسالت کے لئے قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی دلیلیں بیان کی گئی ہیں اور فرمایا کہ یہ قرآن بشر کا بنایا ہوا نہیں ہے تم سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ نے اپنے جی سے بنایا ہوگا لیکن تم یہ نہیں دیکھتے کہ پہلے انبیا اور رسولوں کے قصے اور وہی باتیں جو پہلی قوموں کو بتلائی گئیں تھیں اس میں بھی ہیں حضرت ﷺ نہ کسی عالم کی صحبت میں بیٹھے اور نہ کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھا نہ کسی نے ان کو پہلی امتوں کے قصے بتائے پھر کیوں کر وہ گزری ہوئی باتیں اور ایسی صاف ستھری زبان میں بیان کرتے یہ قرآن تو توریت و انجیل کل آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور جو جو باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
آیت : (37-41)
(وما کان ھذا الرآن ان یفتری من دون اللہ) ” اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ یلا جائے اللہ کے ورے ورے ہی “ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا : (لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید) (حتم السجدۃ : 43/41) ” باطل کا دخل اس میں آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے ‘ یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔ “ یہ ایسی کتاب ہے (لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یا توا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا) (بنی اسرائیل : 88/17) ” اگر تمام انسان اور جن اس بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →70 ۔ قرآن حکیم کوئی من گھڑت کتاب ہو ہی نہیں سکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کتاب حکیم جو تمام ضروری احکام کی تفصیل ہے کوئی ایسی کتاب نہیں جسے وحی خداوندی کے بغیر یونہی گھڑ لیا جائے کہ یہ بات طاقت بشری سے خارج ہے۔ اور یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ یہ کلام حضرت حق جل مجدہ کا کلام صدق التیام، اور مینارہ رشد و ہدایت ہے۔ کسی بشر کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایسا کلام خود بنا کر لائے۔ اگرچہ روئے زمین کے تمام لوگ اس کے لیے مل کر بھی کوشش کریں۔ سو یہ ایک عظیم الشان اور جلیل القدر اور بےمثل کتاب ہے جس کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں۔ یہ تمام بنی نوع انسان کے لیے سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے۔ نیز یہ کتاب حکیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
اعجاز قرآن کے مختلف پہلو اور کفار کا انکار
تشریح : ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور مضامین کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ کتاب کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں یہ کتاب آخری اس لیے ہے کہ اس میں گذشتہ بھیجی گئی تمام کتابوں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جب ان کے بارے میں نہ تو کوئی تاریخی کتاب موجود تھی اور نہ ہی وہ قومیں موجود تھیں اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کو گزرے ہوئے حالات کا علم تھا بلکہ آپ ﷺ تو ان پڑھ تھے۔ تو پھر ان گذری ہوئی قوموں، آسمانی کتابوں کا ذکر قرآن پاک میں اس قدر تفصیل سے کیسے بیان کیا گیا ہے ؟ قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کی یہ بھی ایک دلیل ہے، پھر اس کا انداز بیان، مضامین، قوانین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40
اسرار و معارف
اگر انھیں اب بھی اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو تو آپ ان سے پوچھتے کہ ذرایہ بتاؤ ! آسمانوں سے پانی برسا کر کھیتیاں اور پھل کون اگاتا ہے اور ارض وسما کی نعمتوں کو کون پیدا کرتا ہے اور تمہاری خدمت پہ لگا دیتا ہے ۔ یہ ہوا ، یہ فضا ، یہ طرح طرح کے پھل چشمے جانور دورھ گھی اور گوشت یہ تمہاری زندگی کے سامان کون پیدا کرتا ہے ؟ ارے یہ تو خارجی چیزیں ہیں خود تمہارے وجود کے اندر جو نعمتیں رکھی ہیں مثلا حواس ہی کو لے لوتویہ آنکھ کان وغیرہ تمہارے وجود کا حصہ ہونے کے باوجود کس کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جب چاہتا ہے میں روشن کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے یہ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ تین ید یہ۔۔ توراۃ و انجیل اور جملہ کتب الہیہ شامل ہیں یعنی ان کو چاہیے کہ ظن وتخمین کی پیروی چھوڑ کر اسی کتاب کی اتباع کریں۔ جو دلائل و برامین پر مشتمل ہے اور عقائد وا اعمال میں سے ہر چیز کو نہایت توضیح اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس کا تعلق آیت ” انت بقران غیر ھذا او بدلہ “ سے ہے یعنی قرآن پاک ایسا معجزہ کامل ہے کہ میں کیا کوئی بھی اس کی نظیر اپنی طرف سے تصنیف کرکے پیش نہیں کرسکتا۔ واللہ اعلم (روح المعانی) ۔
Read the full tafseer →(10:37) ما کان ھذا القرآن ان یفتری من دون اللہ۔ اسکی تقدیر یوں ہے ما کان ھذا القران لان یفتری من دون اللہ۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے وما کان المؤمنون لیتفروا کافۃ (9:122) ایسا نہیں ہوسکتا کہ مومن نکل کھڑے ہوں سارے کے سارے اس آیت کا مطلب ہوگا کہ یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور بنا سکے۔
افتراء بمعنی اختلاق۔ گھڑنا۔ یعنی کسی اور کا خود ساختہ ہو۔ کان فعل ناقص۔ ھذا اسم کان۔ القرآن تعریف اسم۔ ان بفتری خبر اول کان من دون اللہ خبر ثانی۔
ولکن تصدیق الذی بین یدیہ۔ تصدیق۔ کا نصب دودرجہ سے ہوسکتا ہے :۔ (1) کہ اس سے قبل کان مقدر ہے اور یہ اس کی خبر ہے ۔ یا (2) اس سے قبل فعل انزلہ محذوف ہے اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
لغات القرآن (آیت نمبر 37 تا 40)
یفتریٰ (گھڑا گیا، بنایا گیا) تصدیق (سچ بتانے والا) بین یدہ (اپنے ہاتھوں کے سامنے) تفصیل (تفصیل، وضاحت) قاتوا (پھر تم آئو (لے آئو) ادعوا (تم بلائو، تم پکارو) استطعتم (تمہاری طاقت ہو، ہمت ہو) لم یحیطوا (احاطہ نہیں کرتے، گھیر نہیں سکے) تاویل (انجام ، نتیجہ) عافیۃ (انجام) اعلم (زیادہ جاننے والا )
تشریح : آیت نمبر 37 تا 40
کفار اور مشرکین مکہ قرآن جیسی عظیم کتاب اور بلند تر مضامین کے سامنے جب بےبس ہوگئے اور انہوں نے دیکھ لیا کہ مکہ مکرمہ کے لوگ قرآن کریم کی عظمت کے سامنے گھٹنے ٹیک رہے ہیں اس وقت انہوں نے لوگوں کو متنفر کرنے کے لئے قرآن سے متعلق طرح طرح کی افواہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ثبوت رسالت کا ذکر
اوپر کی آیتوں میں ثبوت توحید کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ثبوت رسالت کے لئے قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی دلیلیں بیان کی گئی ہیں، اور فرمایا ہے کہ یہ قرآن بشر کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ نے اپنے جی سے بنایا ہوگا۔ لیکن تم یہ نہیں دیکھتے کہ اس میں پہلے انبیاء اور رسولوں کے قصے اور وہی باتیں جو پہلی قوموں کو بتلائی گئی تھیں اس میں بھی ہیں ۔ آنحضرت ﷺ کسی عالم کی صحبت میں بیٹھے اور نہ کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھا نہ کسی نے ان کو پہلی امتوں کے قصے بتلائے۔ پھر کو نکر وہ گزری ہوئی ایسی صاف ستھری زبان میں بیان کرتے ۔ یہ قرآن تو توریت وانجیل کل آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–38
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حواشی 33، 34 صفحہ 923۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
کتاب الہی :
(ف 1) قرآن حکیم کا تعارف ہے کہ یہ کتاب دماغی افتراع نہیں ، عقل و دانش انسان کی رہن منت نہیں ، اس کا تعلق الہام ووحی سے ہے ، یہ صحیفہ آسمانی خدا کی جانب سے ، ہے نبوت یہ ہے کہ اس کا تعلق تمام سابقہ کتب سے ہے ، یہ تمام صداقتوں اور سچائیوں کی تصدیق کرتی ہے ، ہر صداقت کا خیر مقدم کرتی ہے ، اور اس میں اور دنیا کی تمام کتابوں میں ایک ربط موجود ہے پھر یہ بھی کہ ضروریات انسانی کی اس میں تفصیل ہے ، تمام معاشی واخلاقی الجھنوں کو سنبھلا گیا ہے زندگی کا لائحہ عمل اور پروگرام اس میں موجود ہے ، قلب وروح کے تمام تقاضوں کی اس میں تکمیل ہے اور غیر مشکوک کلام ہے ، اسے تسلیم کرلینے میں کوئی منطقی…
Read the full tafseer →37 اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اس کو خدا کے سوا کوئی اور بنا کر اور گھڑ کر لاسکے لیکن یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں اور اپنے سے پہلے کلام کو سچا بتانے والا اور احکام شرعیہ ضروریہ کی تفصیل بیان کرنے والا ہے اس قرآن میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ اس کی طرف سے نازل ہوا ہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے یعنی یہ قرآن کریم ایسا نہیں کہ اس کو کوئی بناس کے اور غیر خدا سے صادر ہو اس کی فصاحت و بلاغت اور اس کا اعجاز اس بات کا متقضی ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کا بنایا ہوا نہیں ہے اپنے سے اگلے کلام کی تصدیق کرنیوالا ہے یعنی پہلی کتابوں کو سچا بتاتا ہے یا جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 1۔ یعنی اگر نعوذ باللہ میں نے تصنیف کرلیا ہے تو تم بھی تصنیف کرلاو۔
Read the full tafseer →قرآن کریم ان تمام وحیوں کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں۔
۔ 59 قرآن کریم لوگوں کے اختراعی اصول و ضوابط نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے پر مخالفین کو اعتراض کیا ہے ؟ فقط یہ کہ ہم اس کو اللہ کا کلام نہیں مانتے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے ہرگز ہرگز تیار نہ تھے کیوں ؟ محض اس لئے کہ یہ بات ان کے فہم و ادراک سے بالاتر تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی انسان (بندے) پر کوئی کلام نازل ہوتا ہے۔ لیکن اس ہٹ دھرمی کے باوجود قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت سے انہیں انکار نہیں تھا بلکہ دل ہی دل میں وہ اس کی تعلیم سے حد درجہ متاثر اور مرعوب تھے۔ قرآن کریم کی اس حیرت انگیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted…
Read the full tafseer →45.The statement that it is 'a confirmation of the revelation made before it' underscores that the Qur'an lays no claim of introducing anything novel, of coming forth with any innovation at variance with the fundamental teachings already communicated to man through the Prophets (peace be on them). The Qur'anic claim merely consists of confirming and authenticating those teachings. Had the Qur'an been the product of the imagination of the founder of an altogether new religion, the outcome of a creative brain, it would have borne traces of novelty in order to emphasize its distinctiveness.
The…
Read the full tafseer →