Yunus 10:36

Yunus · from ayah 36

10:36

وَمَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا ؕ— اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْـًٔا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ۟وَمَا يَتَّبِعُ اَكۡثَرُهُمۡ اِلَّا ظَنًّا ؕاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغۡنِىۡ مِنَ الۡحَـقِّ شَيۡـئًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ‏

اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بےشک خدا تمہارے (سب) افعال سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And most of them follow not except assumption. Indeed, assumption avails not against the truth at all. Indeed, Allah is Knowing of what they do.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 4 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:36

حقیقت یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں، حالاں کہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پُورا نہیں کرتا جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بےشک خدا تمہارے (سب) افعال سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں۔ یقیناً گمان، حق (کی معرفت) میں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا یہ جو کچھ کررہے ہیں یقیناً اللہ کو سب خبر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (حقیقت یہ ہے کہ) ان (مشرکین) میں سے اکثر لوگ کسی اور چیز کے نہیں، صرف وہمی اندازے کے پیچھے چلتے ہیں، اور یہ یقینی بات ہے کہ حق کے معاملے میں وہمی انداہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ یقین جانو جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا، بیشک اللہ ان کاموں کو جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں، بیشک گمان حق سے معمولی سا بھی بے نیاز نہیں کرسکتا، یقیناً اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر ایک گمان کی، بیشک گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ بیشک اللہ خوب جاننے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(حقیقت یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر لوگ قیاس و گمان کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ گمان حق کے مقابلہ میں کسی کام نہیں آسکتا۔ بلاشبہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان میں سے اکثر محض گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور گمان حق کا بدل ذرا بھی نہیں ہوسکتا اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس سے خوب باخبر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ پیروی نہیں کرتے مگر ظن (و گمان) کی، حالانکہ یہ قطعی بات ہے کہ ظن (گمان) حق کی طرف سے کچھ بھی کام نہیں آسکتے، بیشک اللہ پوری طرح جانتا ان سب کاموں کو جو یہ لوگ کر رہے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

ان میں سے اکثر تو صرف (اپنے) گمان کی پیروی کررہے ہیں اور یقیناً گمان تو حق (کے اثبات) میں ذرا بھی مفید نہیں یقیناً اللہ خوب واقف ہے اس سے جو کچھ یہ کررہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں پیروی کر رہے ان میں سے اکثر مگر گمان کی اور یہ گمان کسی بھی درجے میں (انسان کو) حق سے مستغنی نہیں کرسکتا۔ یقیناً اللہ جانتا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلہ میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا بیشک اللہ تمہا رے سب اعمال سے واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Most of them only follow conjectures; and surely conjecture can be no substitute for truth. Allah is well aware of whatever they do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Most of them follow nothing but conjectures. Surely, conjectures are of no avail in the matter of truth at all. Certainly, Allah is fully aware of what they do.

— Muhammad Taqi Usmani

Most of them follow nothing but conjectures. Surely, conjectures are of no avail in the matter of truth at all. Certainly, Allah is fully aware of what they do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And most of them follow nothing but conjecture. Certainly, conjecture can be of no avail against the truth. Surely, Allah is All-Aware of what they do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Most of them follow not but conjecture. Assuredly conjecture can by no means take the place of truth. Lo! Allah is Aware of what they do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And most of them follow not except assumption. Indeed, assumption avails not against the truth at all. Indeed, Allah is Knowing of what they do.

— Saheeh International

Most of the unbelievers follow only conjecture which certainly cannot serve as a substitute for the Truth. God knows well what they do.

— Muhammad Sarwar

And most of them do not follow (anything) but conjecture; surely conjecture will not avail aught against the truth; surely Allah is cognizant of what they do.

— Muhammad Habib Shakir

And most of them follow naught but an opinion; verily opinion availeth not against the truth; verily Allah is the Knower of that which they do.

— Abdul Majid Daryabadi

But most of them follow nothing but fancy: truly fancy can be of no avail against truth. Verily Allah is well aware of all that they do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–36

مصنوعی معبودوں کی حقیقت مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کرسکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتدا پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔ بلکہ اللہ ہی ابتدا کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو ؟ کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کرسکتے ہیں ؟ یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں۔ پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 44 یعنی جنہوں نے مذاہب بنائے، جنہوں نے فلسفے تصنیف کیے، اور جنہوں نے قوانین حیات تجویز کیے انہوں نے بھی یہ سب کچھ علم کی بنا پر نہیں بلکہ گمان و قیاس کی بنا پر کیا۔ اور جنہوں نے ان مذہبی اور دنیوی رہنماؤں کی پیروی کی انہوں نے بھی جان کر اور سمجھ کر نہیں بلکہ محض اس گمان کی بنا پر ان کا اتباع اختیار کرلیا کہ ایسے بڑے بڑے لوگ جب یہ کہتے ہیں اور باپ دادا ان کو مانتے چلے آرہے ہیں اور ایک دنیا ان کی پیروی کر رہی ہے تو ضرور ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–36

خلاصہ تفسیر حل لغت لَّا يَهِدِّيْٓ، یہ لفظ دراصل لا یھتدی تھا تعلیل کرکے لَّا يَهِدِّيْٓ بن گیا، معنی لا یھتدی کے ظاہر ہیں، یعنی وہ شخص جو ہدایت نہیں پاتا۔ (آگے تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کی کہ ان لوگوں کی باطل پرستی پر مغموم ہوا کرتے تھے ارشاد ہے کہ جس طرح یہ لوگ ایمان نہیں لاتے) اسی طرح آپ کے رب کی یہ (ازلی) بات کہ یہ ایمان نہ لاویں گے تمام متمرد (سرکش) لوگوں کے حق میں ثابت ہوچکی ہے (پھر آپ کیوں مغموم ہوں اور) آپ (ان سے) یوں (بھی) کہئے کہ کیا تمہارے (تجویز کئے ہوئے) شرکاء میں (عام اس سے کہ ذوی العقول ہوں جیسے شیاطین یا غیر ذوی العقول جیسے بت) کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی (مخلوق کو) پیدا کرے پھر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا ۭ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔـا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ۔ محض گمان کی پیوری : لفظ " ظن " علم، یقین اور حق تینوں کے ضد کی حیثیت سے استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ علم ثابت و صحیح اور حق و اضح و معروف کے بجائے محض اپنے گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور ظاہر ہے محض اٹکل کے تیر تکے حقیقت سے بےنیاز نہیں کرسکتے۔ حقیقت جب سامنے آئے گی تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے اپنی عمارت بالکل ریت پر بنائی۔ ان اللہ علیم بما یفعلون، میں ان کے لیے دھمکی اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ حقیقت سے آنکھیں میچ کر یہ جو کر رہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 لیکن بات یہ ہے کہ لوگ محض اٹکل پچو باتوں پر چلنے والے ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ دلائل کے مقابلے میں اوہام و خیالات اور ظن و گمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ قرآن میں ظن، یقین اور گمان دونوں معنی میں استعمال ہوا ہے، یہاں دوسرا معنی مراد ہے۔ 36۔ 2 یعنی اس ہٹ دھرمی کی وہ سزا دے گا، کہ دلائل نہ رکھنے کے باوجود، یہ محض غلط وہم اور دیوانہ پن کے پیچھے لگے رہے اور عقل فہم سے ذرا کام نہ لیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–36

20: یعنی ان کی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے جو بات لکھی ہوئی تھی کہ یہ لوگ اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے اختیار کو صحیح استعمال نہیں کریں گے، اور ایمان نہیں لائیں گے وہ بات سامنے آگئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وما یتبع اکثرھم الا ظنًا اور ان میں سے اکثر لوگ (اپنے عقائد میں) صرف گمان پر چلتے ہیں۔ ان کے گمان کی تائید نہ عقلی دلائل سے ہوتی ہے نہ نقلی براہین سے۔ محض بیہودہ خیالات اور غلط قیاس انہوں نے قائم کر رکھے ہیں۔ غائب کو حاضر پر اور خالق کو مخلوق پر ایک موہوم نقطۂ اشتراک کی وجہ سے قیاس کرنا ‘ ایک بےحقیقت گمان سے زائد نہیں۔ اکثر سے مراد سب ہی کافر ہیں (کیونکہ سب ہی کافر توہم پرست ہیں اور شرک کی کوئی معقول دلیل کسی کے پاس بھی نہیں ہے) یا اکثر سے وہ لوگ مراد ہیں جو تمیز اور غور و فکر کے مدعی ہیں اور کو رانہ تقلید کے منکر ہیں (کیونکہ جب اہل دانش وتمیز وہم کو فہم اور گمان کو یقین سمجھے ہوئے ہیں تو عام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 جب معلوم ہوچکا کہ " مبدی "، " معید " اور " ہادی " وہ ہی اللہ ہے تو اس کے خلاف شرک کی راہ اختیار کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کے ہاتھ میں کون سی دلیل وبرہان ہے جس کی بناء پر " توحید " کے مسلک قویم و قدیم کو چھوڑ کر ضلالت کے گڑھے میں گرے جا رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے پاس سوائے ظنوں و اوہام اور اٹکل پچو باتوں کے کوئی چیز نہیں۔ بھلا اٹکل کے تیر حق و صداقت کی بحث میں کیا کام دے سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 35–36

اَفَمَنْ یَّہْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لاَّ یَہِدِّیْٓ الآَّ اَنْ یُّہْدٰی تمام مخلوق کو ہدایت دینے والا اللہ ہے۔ چناچہ ہدایت و راہنمائی کے لیے سب اسی کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں۔ خود نبی مکرم بھی اللہ ہی سے یہ دعا مانگتے تھے : اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ تو بھلا وہ جو ہدایت دیتا ہے اس کی بات مانی جانی چاہیے یا ان کی جو خود ہدایت کے محتاج ہوں ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 انسان کے وضع کردہ قوانین حیات کی بنیاد ظن پر ہوتی ہے :۔ یعنی جن لوگوں نے مشرکانہ عقائد اور مذاہب کی داغ بیل ڈالی یا جن لوگوں نے انسانوں کے لیے قوانین حیات وضع کیے ان میں سے کسی بھی چیز کی بنیاد علم پر نہیں بلکہ محض ظن و اوہام پر ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے نتائج غلط نکلتے رہتے ہیں اور انسان کو آئے دن ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے اور جو لوگ ایسے مذہبی یا دنیوی رہنماؤں کی پیروی کرتے ہیں وہ بھی گمان و قیاس ہی سے کرتے ہیں، کہ جب بڑے بڑے لوگ یہ بات کہتے ہیں یا ہمارے آباؤ و اجداد ایسا کہتے یا کرتے چلے آئے ہیں اور لوگوں کی اکثریت ان کی پیروی کر رہی ہے تو یہ باتیں ضرور ٹھیک ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

60۔ (اور وقت مناسب پر اپنے اسی علم کامل و محیط کے مطابق جزا و سزا بھی دے گا) (آیت) ” وما۔۔۔۔ ضنا “۔ یہاں یہ صاف بتادیا کہ مشرکین ومنکرین کے پاس نہ کوئی دلیل عقلی محکم ہے اور نہ کوئی استدلال نقلی مستحکم۔ یہ لوگ تو اندھیرے میں پڑے محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔ ہمارے زمانہ کے ایک فاضل یگانہ علامہ مناظر احسن گیلانی نے یہ بات بہت خوب کہی ہے کہ اثبات توحید کے دلائل قائم کرنے کے بجائے ہم کو تو مطالبہ اہل شرک سے کرنا چاہیے کہ وہ الٹی سیدھی کوئی دلیل تو تعدد آلہہ کے ثبوت میں لائیں، ! (آیت) ” ان۔۔۔۔ شیئا “۔ یہاں سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ انسانی ظن وتخمین، وہم و خیال جن کا شاندار اور موعوب کن نام ” حکمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–40

آیت نمبر 31 تا 40 ترجمہ : ان سے پوچھو آسمان سے بارش کے ذریعہ اور زمین سے نباتات کے ذریعہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ سَمْعٌ بمعنی اَسْمَاعٌ ہے یعنی کس نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو مخلوق کے معاملات کا نظم کرتا ہے ضرور وہ یہی کہیں گے وہ اللہ ہے تو ان سے کہو کہ پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے کہ ایمان لے آؤ، سو یہ جو ان تمام چیزوں کا کرنے والا ہے اللہ ہے جو تمہارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد بجز گمراہی کے اور باقی رہ ہی کیا گیا ؟ استفہام تقریری ہے یعنی اس کے بعد کچھ باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما یتبع اکثرھم الا ظنًا اور ان میں سے اکثر لوگ (اپنے عقائد میں) صرف گمان پر چلتے ہیں۔ ان کے گمان کی تائید نہ عقلی دلائل سے ہوتی ہے نہ نقلی براہین سے۔ محض بیہودہ خیالات اور غلط قیاس انہوں نے قائم کر رکھے ہیں۔ غائب کو حاضر پر اور خالق کو مخلوق پر ایک موہوم نقطۂ اشتراک کی وجہ سے قیاس کرنا ‘ ایک بےحقیقت گمان سے زائد نہیں۔ اکثر سے مراد سب ہی کافر ہیں (کیونکہ سب ہی کافر توہم پرست ہیں اور شرک کی کوئی معقول دلیل کسی کے پاس بھی نہیں ہے) یا اکثر سے وہ لوگ مراد ہیں جو تمیز اور غور و فکر کے مدعی ہیں اور کو رانہ تقلید کے منکر ہیں (کیونکہ جب اہل دانش وتمیز وہم کو فہم اور گمان کو یقین سمجھے ہوئے ہیں تو عام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(36) بلکہ ان میں سے بہت لوگ اپنے معبودوں کی صرف بےبنیاد خیالات پر پرستش کررہے ہیں، یقیناً ان کی محض اپنے خیالات کے مطابق پرستش عذاب الہی سے نجات دلانے میں ذرا بھی کارگر نہیں۔ یہ جو کچھ شرک اور بتوں وغیرہ کی پوجا کررہے ہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ کو اس سب کی خبر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا۔۔ : ظن کا لفظ اگرچہ بعض اوقات یقین پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ) [ البقرۃ : 46 ] ”وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں۔“ بعض اوقات غالب گمان کے معنی میں بھی آتا ہے، جو صحیح گمان ہو، اگرچہ اس میں خطا کا بھی نہایت کمزور سا احتمال ہو۔ جہاں یہ معانی مراد ہوں وہاں اس کا قرینہ اور دلیل بھی موجود ہوتی ہے۔ اس معنی میں ظن پر دنیا کے تمام معاملات چل رہے ہیں، جب تک کسی دلیل سے اس کا غلط ہونا ثابت نہ ہو اس پر عمل واجب ہوتا ہے۔ خط، ٹیلی فون، پیغام کے ذریعے سے پہنچنے والی تمام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 36۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما یتبع اکثرھم الا ظنا “۔ مراد ان کے رؤسا (سردار) ہیں، یعنی وہ اس بارے میں محض تیز فہمی اور ظن وتخمین کی پیروی کرتے ہیں کہ وہ معبود ہیں اور وہ شفاعت کریں گے اور ان کے پاس اس پر کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔ اور رہے ان کی اتباع والے تو وہ صرف تقلید کے طور پر ان کی پیروی کرتے ہیں۔ (آیت) ” ان الظن لا یغنی من الحق شیئا “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے (وہم و گمان انہیں بےنیاز نہیں کرسکتا) اور حق تو خود اللہ تعالیٰ ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں الحق سے مراد یقین ہے، یعنی ظن یقین کی مثل نہیں ہے، اور اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ عقائد میں صرف ظن پر اکتفا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–40

1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” امن لا یھدی الا ان یھدی “ (یا وہ خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ اس کی رہنمائی کی جائے) سے مراد بت ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے سوا جس کو چاہے رہنمائی فرمائے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا يَتَّبِعُ [ اور پیروی نہیں کرتے ] اَكْثَرُھُمْ [ ان کے اکثر ] اِلَّا [ مگر ] ظَنًّا ۭ [ گمان کی ] اِنَّ [ بیشک ] الظَّنَّ [ گمان ] لَا يُغْنِيْ [ بےپر واہ نہیں کرتا ] مِنَ الْحَقِّ [ حق سے ] شَـيْــــًٔـا ۭ [ کچھ بھی ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] عَلِيْمٌۢ [ جاننے والا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (انَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِمَا یَفْعَلُوْنَ ) کہ بلاشبہ اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اپنے علم کے مطابق وہ انہیں سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–36

احقاق توحید وابطال شرک قال اللہ تعالیٰ ۔ قل من یرزقکم من السماء والارض۔۔۔ الی۔۔۔ علیکم بما یفعلون (ربط): گزشتہ آیات میں بھی دلائل قاطعہ کے ساتھ اثبات توحید اور ابطال شرک کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں پھر یہی ابطال شرک کا مضمون اس طرح بیان ہوتا ہے کہ مکر کو سوائے اعتراف اور اقرار کے کوئی چارہ نہ رہے۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے بطلان شرک پر دلیل یہ بیان فرمائی کہ قابل پرستش اور لائق عبادت وہ ذات ہے جس میں یہ اوصاپائے جاتے ہیں اور کافر بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے۔ کہ یہ اوصاف بجز وحدہ لاشریک لہ کے کسی اور میں نہیں پائے جاتے تو پھر کیوں دوسروں کی پرستش کرتے ہیں۔ اور اس مقام پر الوہیت کے چار خواص ذکر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

51: مشرکین میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو محض ظن وتخمین کی پیروی کرتے اور بطور رسم و رواج دوسروں کی دیکھا دیکھی غلط راستے پر چلتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–36

ربط آیات آج کا درس بھی پہلی آیات کے ساتھ مربوط ہے۔ اس میں بھی توحید کے اثبات شرک کی تردید اور مشرکین کی ذہنی پستی کا ذکر ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ نے توحید کے دلائل اس انداز میں بیان فرمائے کہ ذرا بتائو تو سہی کہ آسمان و زمین سے روزی کون نازل کرتا ہے ؟ کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے کون پیدا کرتا ہے ؟ اور تمام معاملات کی تدبیر کون کرتا ہے ؟ اس کا جواب خود ہی بیان فرمایا کہ سب لوگ یہی کہیں گے کہ مذکورہ تمام امور انجام دینے والا فقط اللہ ہی ہے پھر خود ہی فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر اس الہ سے ڈرتے کیوں نہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کیوں ٹھہراتے ہو ؟…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا يَتَّبِـــعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا۝ 0 ۭ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔـا۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ۝ 36 تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–37

ترکیب : من الخ مبتداء من شرکاء کم خبر جملہ استفہامیہ افمن یہدی مبتدائء احق خبر ھذا القرآن اسم کان ان یفترٰی خبر افترًا من دون اللّٰہ تفصیل مفعول لا نزل محذوف کا۔ تفسیر : قل ھل من شرکائکم یہ دوسری دلیل ابطال شرک پر ہے اس کی تشریح اور آیات میں ہے کہ وہ انسان کو نطفہ سے علقہ پھر مضغہ سے انسان کیونکر بناتا ہے اور آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر کی چیزوں کو کس طرح سے بنایا اور پھر کیونکر دوبارہ پیدا کرے گا۔ اس لئے یہاں اجمال اور استفہام پر اکتفا کیا گیا اور جو بات مخالف کے نزدیک ظاہر ہو اور اس میں غور کرنے سے یقین کرسکتا ہو تو فصحاؤ بلغا اس کو بطور استفہام کے ذکر کرتے ہیں جس سے مخاطب کے دل پر بڑا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُھُمُ اِلاَّ ظَنًّا ط اِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْائً ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِمَا یَفْعَلُوْنَ ۔ (یونس : 36) (ان میں سے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی، حالانکہ گمان حق کا بدل ذرا بھی نہیں ہوسکتا۔ بیشک اللہ جاننے والا ہے جو کچھ یہ کررہے ہیں۔ ) حق کے مقابلے میں ظن کی پیروی قیامت پر عقیدہ نہ ہونے کی وجہ سے چونکہ زندگی میں سنجیدگی اور فکرمندی پیدا نہیں ہوتی اور آدمی اپنے آپ کو ہر طرح کی داروگیر اور جواب طلبی سے آزاد سمجھتا ہے۔ خواہشاتِ نفس اسے جس طرف کھینچ لے جاتی ہیں اسی طرف چل دیتا ہے۔ ہر طرح کی ہوس مقصد زندگی بن جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 35–36

کرتا ہے اور اس پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔ اب بتاؤ جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرے اس کی اتباع اور حکم ماننا چاہیے یا جو کسی کی رہنمائی کرنے کی بجائے خود رہنمائی کا محتاج ہو۔ اس کی اتباع کرنی چاہیے۔ ذرا سوچو کہ تم کیسے فیصلے کرتے ہو ؟ ظاہر ہے۔ پیروی تو اس کی کرنی چاہیے جو ہدایت کی راہنمائی کرتا ہے اور خود ہدایت والا ہے۔ درحقیقت تم محض فرسودہ خیالات، صرف سنی سنائی باتوں اور اپنے وہم و گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔ لیکن یاد رکھو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔ ظن کا معنی وہم و گمان، اٹکل پچو اور شک کے ہیں۔ البتہ عربی میں کبھی ظن، یقین کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اس کا معنی اٹکل پچو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36: وَمَایَتَّبِعُ اَکْثَرُھُمْ بتوں کے متعلق اس بات میں کہ وہ معبود ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں زبردستی چھڑا لیں گے۔ اکثر سے مراد تمام ہیں۔ اِلَّا ظَنًّا (مگر محض گمان) بلا دلیل وہ اپنے آباء سلف کی اتباع و اقتداء ہے جو اس گمان سے کرتے تھے کہ وہ درست راستے پر تھے۔ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ وہ علم ہے۔ شَیْئًا (ذرہ بھر) یہ مصدر کی جگہ پر ہے اصل اس طرح اغنائً شیئًا اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بِمَا یَفْعَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ کرتے ہیں) یعنی اتباع ظن اور ترک حق۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (36)” وما یتبع اکثرھم الا ظنا “ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ بت معبود ہیں اور ان کا گمان ہے کہ وہ آخرت میں ان کی سفارش کریں گے ، اس ظن پر نہ کوئی کتاب ہے اور نہ کوئی رسول اور اکثر سے مراد یہ بات کہنے والے تمام لوگ مراد ہیں ۔ ” ان الظن لا یغنی من الحق شیئا “ یعنی ان سے اللہ کے عذاب کو دور نہیں کرسکتا ، اور بعض نے کہا علم کے قائم مقام ہے ۔ ” ان اللہ علیم بما یفعلون “ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–36

34۔ 36۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے مشرکوں کے جھوٹے دعوے کو یوں بےبنیاد ٹھہرا کر مشرکوں کو خطاب کیا اور فرمایا کہ تم جنہیں معبود سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہو کیا ان میں یہ قدرت ہے کہ طرح طرح کی مخلوق پیدا کریں جن چیزوں کا وجود نہیں نہ کانوں نے سنا نہ آنکھوں نے دیکھا کیا یہ چیزیں وہ بنا سکتے ہیں ان میں کسی شے کی ایجاد کی طاقت ہے اور پھر مخلوق کے فنا ہونے کے بعد دوبارہ ویسے کا ویسا بنا سکتے ہیں پھر فرمایا کہ یہ کام اللہ ہی کا ہے تم نے جن کو اپنے گمان میں معبود سمجھ رکھا ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ جس نے پہلے سب کچھ پیدا کیا وہ دوبارہ بھی سب کچھ کرسکتا ہے۔ اس کا انکار کسی عقلمند کا کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–36

آیت : ( 34-36) اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بےبسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا ‘ جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں ‘ ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (قل ھل من شرکائکم من بیدوا الخلق) ” کہہ دیجئے ! کیا ہے تمہارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو “ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے ؟ (ثم یعیدہ) ” پھر اسے دوبارہ زندہ کرے “ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے ‘ یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کرسکتی ہو ‘ وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔ (قل اللہ یبدو الخلق ثم یعیدہ) ” کہہ دیجئے ! کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے ‘ پھر وہی اس کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 ۔ لوگوں کی اکثریت ظن و گمان ہی کی پیروی کرتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کی اکثریت پیروی نہیں کرتی مگر ظن و گمان کی۔ یہی ہے فساد کی اصل جڑ جس کو قرآن کریم نے مختلف مقامات پر اور طرح طرح سے بیان فرمایا ہے۔ چناچہ آپ غور کرکے دیکھ لیں آپ کو ہر جگہ یہی حقیقت چمکتی دمکتی نظر آئے گی جو قرآن حکیم نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ ایک دنیا ہے جو ظن وتخمین اور بےبنیاد خیالات کی پیروی میں لگی ہوئی ہے۔ آج بھی اگر آپ ان سے پوچھیں کہ تم لوگ جو ان آستانوں پر جھکتے، ان کے گرد پھیر لگاتے اور ان کی پوجا پاٹ کرتے ہو تو آخر اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے ؟ تو یہ کہیں گے کہ ہمارے خیال میں یہ کہ ہمارا دل یونہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–36

اللہ ہی معبود برحق ہے تشریح : ان آیات میں ان مشرکین و کفار کے بارے میں ذکر ہے کہ یہ لوگ اصل میں اللہ ہی کو اپنا خالق ومالک مانتے ہیں کیونکہ یہ عالم ارواح میں اللہ سے وعدہ کرچکے ہیں یعنی، (عہد الست) جس کا مطلب اللہ کو رب ماننے کا وعدہ اور یہ کہ مالک و خالق رب العالمین صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی ہے۔ پھر بھی یہ لوگ کفر و شرک کی ظلمتوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو ہٹ دھرمی اور ناسمجھی نے اس قدر گھیر رکھا ہے کہ یہ سیدھا راستہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اگر تھوڑی سی عقل بھی یہ استعمال کریں تو کوئی مشکل بات نہیں یہ فوراً سمجھ سکتے ہیں کہ اصل خالق ومالک تو صرف وہی اللہ ہی ہے جس نے انہیں پیدا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40 اسرار و معارف اگر انھیں اب بھی اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو تو آپ ان سے پوچھتے کہ ذرایہ بتاؤ ! آسمانوں سے پانی برسا کر کھیتیاں اور پھل کون اگاتا ہے اور ارض وسما کی نعمتوں کو کون پیدا کرتا ہے اور تمہاری خدمت پہ لگا دیتا ہے ۔ یہ ہوا ، یہ فضا ، یہ طرح طرح کے پھل چشمے جانور دورھ گھی اور گوشت یہ تمہاری زندگی کے سامان کون پیدا کرتا ہے ؟ ارے یہ تو خارجی چیزیں ہیں خود تمہارے وجود کے اندر جو نعمتیں رکھی ہیں مثلا حواس ہی کو لے لوتویہ آنکھ کان وغیرہ تمہارے وجود کا حصہ ہونے کے باوجود کس کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جب چاہتا ہے میں روشن کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے یہ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ یعنی ان مشرکین میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اللہ تعالیٰ کا قرار تو کرتے ہیں مگر اس اقرار کی بنیاد ظن اور تخمین پر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے متعلق اپنے اسلاف سے سنی سنائی باتوں کی اتباع کرت ہیں۔ ورنہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی بت پرستی کی بیاد کسی دلیل پر نہیں ہے بلکہ اپنے باپ دادا کی پیروی کر رہے ہیں اور انہوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہمارے باپ دادا ٹھیک تھے۔ اس صورت میں اکثر بمعنی کل ہوگا۔ (کبیر) ۔ یہی حال ہمارے زمانہ کے جاہل مسلمانوں کا ہے جو بزرگوں کی قربیں پوجتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بزرگ اور اولیاء اللہ کے کارخانہ کے مختار ہیں۔ ایسے ہی بہت سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:36) لا یغنی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اغنی یغنی اغناء (افعال) فائدہ نہیں دیگا بےنیاز نہیں کرے گا۔ اغنی من۔ کسی چیز سے بےنیاز کرنا۔ اس کا قائم مقام ہوکر اس کی ضرورت پوری کرنا ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–36

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 36 یبدا (وہ ابتدا کرتا ہے) یعید (وہ لوٹاتا ہے، دوبارہ کرتا ہے) الخلق (مخلوق ، پیدا کرنا) احق (زیادہ حق دار ہے) ان یتبع (یہ کہ اس کی پیروی کی جائے، کہا مانا جائے) امن (یا وہ شخص) لایھدی (راستہ نہیں دکھاتا) تحکمون (تم فیصلہ کرتے ہو) الظن (گمان، خیال، بےبنیاد بات) لایغنی (بےنیاز نہیں کرتا، کام نہیں کرتا) تشریح : آیت نمبر 34 تا 36 آج کے انسان کو ان ترقیات پر بڑا ناز ہے جو اس نے ایجاد کی ہیں۔ فضاؤں پر ہواؤں پر زمین و آسمان کی گہرائیوں پر اس کا کنٹرول ہے علمی اور تحقیقی انداز سے ان کی یہ کامیابیاں قابل قدر ہیں جو اس نے حاصل کی ہیں دین اسلام بھی ان ترقیات کا مخالف نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–36

ثبوت توحید کا ذکر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے جھوٹے دعوے کو یوں بےبنیاد ٹھہرا کر مشرکوں کو خطاب کیا اور فرمایا کہ تم جنہیں معبود سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہو کیا ان میں یہ قدرت ہے کہ طرح طرح کی مخلوق پیدا کریں، جن چیزوں کا وجود نہیں ۔ نہ کانوں نے سنا نہ آنکھوں نے دیکھا ، کیا یہ چیزیں وہ بنا سکتے ہیں۔ ان میں کسی شے کے ایجاد کی طاقت ہے، اور پھر مخلوق کے فنا ہونے کے بعد دوبارہ ویسے کا ویسا بنا سکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ کام اللہ ہی کا ہے تم نے جن کو اپنے گمان میں معبود سمجھ رکھا ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے ۔ کیونکہ جس نے پہلے سب کچھ پیدا کیا وہ دوبارہ بھی سب کچھ کرسکتا ہے۔ اس کا انکار…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–36

دعوت توحید : (ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے توحید کی جانب انسانوں کو دعوت دی ہے ، ان سے پوچھا ہے کہ تمہیں رزق کون دیتا ہے ، کون تمہارے لئے کھانے پینے کا سامان مہیا کرتا ہے ، وہ کون ہے ، جس نے کان عطا کہئے کس نے آنکھیں بخشیں ، زندگی کو موت سے اور موت کو زندگی کے خوشگوار لمحات میں تبدیل کرنے والا کون ہے ؟ کائنات کا نظم ونسق کس کے اشارہ چشم کا محتاج ہے ، ظاہر ہے ان باتوں کا فطرت انسانی کی جانب سے یہی جواب ملے گا ، کہ اللہ قرآن حکیم میں پوچھتا ہے ، کہ جب اللہ ہی اس کا رحیات کو چلا رہا ہے ، تو پھر تم میں کیوں توحید کے جذبات پیدا نہیں ہوتے ، تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کہ ایسے حکیم وقدیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

36 اور ان کے اکثر لوگ تو محتاج محض گمان اور اٹکل اور بےاصل باتوں کی پیروی کرتے ہیں اور بلاشبہ امر حق اور یقین کے مقابلہ میں محض شک کچھ مفید نہیں ہوسکتا اور نہ یقین کے مقابلہ میں شک اور بےاصل باتیں کارآمد ہوسکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ یقینا ان اعمال سے باخبر ہے جو یہ کر رہے ہیں یعنی کہاں یقینی بات اور کہاں شک اور اٹکل کی باتیں دونوں میں کیا نسبت۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–38

ف 1۔ یعنی اگر نعوذ باللہ میں نے تصنیف کرلیا ہے تو تم بھی تصنیف کرلاو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوگ وہم و گمان ہی سے کام لیتے ہیں حالانکہ وہم و گمان حق کے مقابلہ میں کچھ نہیں ۔ 58 اس جگہ اس کی وضاحت فرما دی گئی کہ مشرکین و منکرین کے پاس نہ کوئی دلیل عقل محکم ہے اور نہ کوئی استدلال نقلی مستحکم۔ یہ لوگ اندھیرے میں پڑے محض اٹل کے تیرے چلا رہے ہیں۔ لفظ ” ظن “ جو اس جگہ استعمال ہوتا ہے صاحب تاج العروس نے اس لفظ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” قرآن کریم میں لفظ ” ظن “ چار معنوں میں استعمال ہوا ہے اور یہی بات امام زمحشری نے بھی تحریر کی ہے کہ الظن الوھم و الخیال یعنی اس جگہ ” ظن “ اپنے آخری معنوں یعنی ” وہم و گمان ‘ ذ کے ہیں اور قرآن کریم کی اس آیتنے فیصلہ فرما دیا کہ ظن و گمان ” حق “ سے کچھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–44

In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَ‌بُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44. Those who, in disregard of God's guidance, invented religions, developed philosophies and prescribed laws to govern human life did not do this with the help of any definite knowledge that they possessed; rather, it would be the result of their conjecture and fancy. Likewise, those who followed their religious and worldly leaders did so not because they fully knew and fully understood all that the latter espoused. Rather, they followed those leaders merely on the gratuitous assumption that whatever was being taught by those great people, and whatever had been recognized as 'right1 by their…

Read the full tafseer →