Explained with ayahs 34–36
مصنوعی معبودوں کی حقیقت
مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کرسکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتدا پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔ بلکہ اللہ ہی ابتدا کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو ؟ کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کرسکتے ہیں ؟ یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں۔ پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 43
یہ ایک نہایت اہم سوال ہے کہ جس کو ذرا تفصیل کے ساتھ سمجھ لینا چاہیے۔ دنیا میں انسان کی ضرورتوں کا دائرہ صرف اسی حد تک محدود نہیں ہے کہ اس کو کھانے پینے پہننے اور زندگی بسر کرنے کا سامان بہم پہنچے اور آفات، مصائب اور نقصانات سے وہ محفوظ رہے۔ بلکہ اس کی ایک ضرورت (اور درحقیقت سب سے بڑی ضرورت) یہ بھی ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ معلوم ہو اور وہ جانے کہ اپنی ذات کے ساتھ، اپنی قوتوں اور قابلیتوں کے ساتھ، اس سروسامان کے ساتھ جو روئے زمین پر اس کے تصرف میں ہے، ان بیشمار انسانوں کے ساتھ جن سے مختلف، حیثیتوں میں اس کو سابقہ پیش آتا ہے، اور مجموعی طور پر اس نظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
خلاصہ تفسیر
حل لغت
لَّا يَهِدِّيْٓ، یہ لفظ دراصل لا یھتدی تھا تعلیل کرکے لَّا يَهِدِّيْٓ بن گیا، معنی لا یھتدی کے ظاہر ہیں، یعنی وہ شخص جو ہدایت نہیں پاتا۔
(آگے تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کی کہ ان لوگوں کی باطل پرستی پر مغموم ہوا کرتے تھے ارشاد ہے کہ جس طرح یہ لوگ ایمان نہیں لاتے) اسی طرح آپ کے رب کی یہ (ازلی) بات کہ یہ ایمان نہ لاویں گے تمام متمرد (سرکش) لوگوں کے حق میں ثابت ہوچکی ہے (پھر آپ کیوں مغموم ہوں اور) آپ (ان سے) یوں (بھی) کہئے کہ کیا تمہارے (تجویز کئے ہوئے) شرکاء میں (عام اس سے کہ ذوی العقول ہوں جیسے شیاطین یا غیر ذوی العقول جیسے بت) کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی (مخلوق کو) پیدا کرے پھر…
Read the full tafseer →قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ ۭ قُلِ اللّٰهُ يَهْدِيْ لِلْحَقِّ ۭ اَفَمَنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّيْٓ اِلَّآ اَنْ يُّهْدٰى ۚ فَمَا لَكُمْ ۣ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ۔
شرکاء کا وجود رہنمائی کے پہلو سے : یعنی آخرت کے معاملے میں تو تمہارے ان مزعومہ شرکاء کو وجود یوں بےکار ثابت ہوا کہ نہ ان کا کوئی دخل خلق کے ابداء میں ہے نہ اعادے میں۔ اب سوچو کہ اس دنیا میں تمہیں ان سے کیا فیض پہنچتا ہے ؟ مخلوق کی ایک بہت بڑی ضرورت خالق سے یہ وابستہ ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے معاملات میں رہنمائی فرماتا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل کیا تم کہہ…
Read the full tafseer →35۔ 1 یعنی بھٹکے ہوئے مسافرین راہ کو راستہ بتانے والا اور دلوں کو گمراہی سے ہدایت کی طرف پھیرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ان کے شرکاء میں کوئی ایسا نہیں جو یہ کام کرسکے۔
35۔ 2 یعنی پیروی کے لائق کون ہے ؟ وہ شخص جو دیکھتا سنتا اور لوگوں کی حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ؟ یا وہ جو اندھے اور بہرے ہونے کی وجہ سے خود راستے پر چل بھی نہیں سکتا، جب تک دوسرے لوگ اسے راستے پر نہ ڈال دیں یا ہاتھ پکڑ کرلے نہ جائیں ؟
35۔ 3 یعنی تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ تم کس طرح اللہ کو اور اس کی مخلوق کو برابر ٹھہرائے جا رہے ہو ؟ اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو بھی شریک عبادت بنا رہے ہو ؟ جب کہ ان دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
20: یعنی ان کی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے جو بات لکھی ہوئی تھی کہ یہ لوگ اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے اختیار کو صحیح استعمال نہیں کریں گے، اور ایمان نہیں لائیں گے وہ بات سامنے آگئی۔
Read the full tafseer →قل ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق آپ پوچھئے کہ کیا تمہارے (مفروضہ) شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو (دلائل قائم کر کے اور پیغمبروں کو بھیج کر اور صحیح غور وفکر کی توفیق عطا فرما کر اور ہدایت کے طریقے پیدا کر کے) حق کا راستہ بتاتا ہے۔
قل اللہ یھدی الحق آپ (خود ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی حق کی ہدایت کرتا ہے ‘ کسی اور میں اس کی طاقت نہیں۔
افن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی تو پھر کیا وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے جو امر حق کا راستہ بتاتا ہو یا وہ جس کو بغیر بتائے ہوئے خود ہی راستہ نہ سوجھے۔ یعنی جس وقت اللہ اس کو ہدایت کر دے تو وہ خود بھی ہدایت پا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت کرسکتا…
Read the full tafseer →4 " مبدأ " و " معاد " کے بعد درمیانی وسائط کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح اول پیدا کرنے والا اور دوبارہ چلانے والا وہ ہی خدا ہے، ایسے ہی " معاد " کی صحیح راہ بتلانے والا بھی کوئی دوسرا نہیں۔ خدا ہی بندوں کی صحیح اور سچی راہنمائی کرسکتا ہے۔ مخلوق میں کوئی بڑا ہو یا چھوٹا، سب اسی کی راہنمائی کے محتاج ہیں۔ اسی کی ہدایت و راہنمائی پر سب کو چلنا چاہئے۔ بت مسکین تو کس شمار میں ہیں جو کسی کی راہنمائی سے بھی چلنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ بڑے بڑے مقربین (انبیاء و ملائکہ علیہم السلام) بھی برابر یہ اقرار کرتے آئے ہیں کہ خدا کی ہدایت و دستگیری کے بدون ہم ایک قدم نہیں اٹھا سکتے۔ ان کی راہنمائی بھی اسی لیے بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
اَفَمَنْ یَّہْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لاَّ یَہِدِّیْٓ الآَّ اَنْ یُّہْدٰی
تمام مخلوق کو ہدایت دینے والا اللہ ہے۔ چناچہ ہدایت و راہنمائی کے لیے سب اسی کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں۔ خود نبی مکرم بھی اللہ ہی سے یہ دعا مانگتے تھے : اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ تو بھلا وہ جو ہدایت دیتا ہے اس کی بات مانی جانی چاہیے یا ان کی جو خود ہدایت کے محتاج ہوں ؟
Read the full tafseer →50 ہدایت انسان کی اہم ضرورت ہے اور وہ صرف اللہ ہی دے سکتا ہے :۔ ہدایت حق سے مراد زندگی گزارنے کا وہ صحیح راستہ ہے جس سے انسان کو ہر شعبہ حیات مثلاً تہذیب، اخلاق، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست، معرفت و روحانیت، معیشت و کسب حلال وغیرہ کے متعلق ایسے اصول بتلا دیئے جائیں جن میں فرد اور معاشرہ میں سے ہر ایک کے حقوق کی پوری پوری نگہداشت ملحوظ رکھی گئی ہو اور ظاہر ہے کہ ایسی ہدایت، بےجان اور بےسمجھ معبود تو کجا سمجھ دار معبود بھی نہیں دے سکتے۔ ایسی جامع ہدایات کے لیے جس قدر وسیع علم و حکمت کی ضرورت ہے وہ اللہ کے علاوہ کسی کے پاس موجود نہیں اور اگر کوئی انسان یا سربراہ مملکت یا کوئی ادارہ ایسی ہدایات…
Read the full tafseer →59۔ (کہ توحید جیسی سیدھی بات نہیں قبول کرتے ہو۔ اور شرک پر اڑے ہوئے ہو) مشرکوں سے سوال ہے کہ جو (خالق) راستہ دکھا اور بتارہا ہے، وہ پیروی کئے جانے کا اہل ہے یا وہ (مخلوق) جسے خود ہی راستہ معلوم نہیں اور وہ اپنی راہ یابی میں دوسروں کا محتاج ہے ؟ (آیت) ” من یھدی الی الحق “۔ یعنی حق پر چلاتا ہو اپنی قدرت ونصرت سے۔ (آیت) ” من لا یھدی الا ان یھدی “۔ اس عموم کے تحت میں ساری مخلوق آجاتی ہے۔ باقی اگر شیاطین ہی مراد لئے جائیں تو وہ تو اور بھی گئے گزرے ہوئے ہیں انہیں تو بتانے اور بجھانے پر بھی راستہ نہیں سوجھتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : ان سے پوچھو آسمان سے بارش کے ذریعہ اور زمین سے نباتات کے ذریعہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ سَمْعٌ بمعنی اَسْمَاعٌ ہے یعنی کس نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو مخلوق کے معاملات کا نظم کرتا ہے ضرور وہ یہی کہیں گے وہ اللہ ہے تو ان سے کہو کہ پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے کہ ایمان لے آؤ، سو یہ جو ان تمام چیزوں کا کرنے والا ہے اللہ ہے جو تمہارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد بجز گمراہی کے اور باقی رہ ہی کیا گیا ؟ استفہام تقریری ہے یعنی اس کے بعد کچھ باقی…
Read the full tafseer →قل ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق آپ پوچھئے کہ کیا تمہارے (مفروضہ) شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو (دلائل قائم کر کے اور پیغمبروں کو بھیج کر اور صحیح غور وفکر کی توفیق عطا فرما کر اور ہدایت کے طریقے پیدا کر کے) حق کا راستہ بتاتا ہے۔
قل اللہ یھدی الحق آپ (خود ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی حق کی ہدایت کرتا ہے ‘ کسی اور میں اس کی طاقت نہیں۔
افن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی تو پھر کیا وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے جو امر حق کا راستہ بتاتا ہو یا وہ جس کو بغیر بتائے ہوئے خود ہی راستہ نہ سوجھے۔ یعنی جس وقت اللہ اس کو ہدایت کر دے تو وہ خود بھی ہدایت پاسکتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت کرسکتا ہے۔…
Read the full tafseer →(35) یا یہ کہ اے محمد ﷺ آپ دیکھیے تو یہ کہاں کی جھوٹ باتیں ملاتے ہیں۔
اور آپ ان سے یوں بھی فرمائیے کہ کیا تمہارے معبودوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو امر حق اور ہدایت کا راستہ بتائے اگر وہ اس کا کچھ جواب دے سکیں تو خیر ! ورنہ ان سے فرما دیجیے کہ اللہ ہی امر حق اور ہدایت کا بھی راستہ بتلاتا ہے۔
تو پھر جو شخص امر حق اور ہدایت کا راستہ بتلاتا ہو تو وہ زیادہ اتباع اور اطاعت کے لائق ہے یا وہ شخص جس کو امر حق اور ہدایت کا بغیر بتلائے ہوئے اور اس پر چلائے بغیرراستہ نہ سوجھے، تمہیں کیا ہوا کہ اپنے لیے بدترین تجویزیں کرتے ہو۔
Read the full tafseer →قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ۔۔ : ”يَّهْدِيْٓ“ ہدایت دیتا ہے۔ ”لَّا يَهِدِّيْٓ“ اصل میں ”لاَ یَھْتَدِیْ“ تھا، تاء کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کردیا، جس کا معنی ہے ہدایت نہیں پاتا، یعنی آپ ان سے پوچھیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرکے ان کی حق کی طرف راہنمائی کا انتظام بھی فرمایا، رسول بھیجے، کتابیں اتاریں، شریعت مقرر فرمائی، کائنات کا نہایت دقیق و مستحکم نظام مقرر کیا کہ اس کے مقرر کردہ راستے سے کوئی چیز ایک ذرہ ادھر ادھر نہیں ہوتی۔ انسان کو پیدا ہوتے ہی پستان چوسنا سکھایا، فرمایا : (ۙوَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ) [ البلد : 16 ] ”اور ہم نے اسے دو واضح…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 35۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ھل من شرکائکم، من یھدی الی الحق “۔ کہا جاتا ہے : ھداہ الطریق والی الطریق دونوں کا معنی ایک ہے (اس نے اسے راستے کی رہنمائی کی) اور یہ پہلے گزر چکا ہے، یعنی کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی ہے جو دین اسلام کی طرف رہنمائی کرسکتا ہو۔ پس جب وہ کہیں نہیں اور یہ ضروری ہے۔ (آیت) ” قل اللہ یھدی للحق “۔ تو پھر آپ انہیں فرمائیے : اللہ ہی حق کی طرف رہنمائی فرماتا ہے۔ پھر آپ انہیں زجر وتوبیخ کرتے ہوئے اور بات کو پختہ کرتے ہوئے فرمائیے :) (آیت) ” افمن یھدی “ تو کیا وہ جو رہنمائی کرتا ہے (آیت) ” الی الحق “۔ (حق کی طرف) اور وہ اللہ سبحانہ وہ تعالیٰ ہے۔ (آیت) ” احق ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” امن لا یھدی الا ان یھدی “ (یا وہ خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ اس کی رہنمائی کی جائے) سے مراد بت ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے سوا جس کو چاہے رہنمائی فرمائے۔
Read the full tafseer →قُلْ (کہہ دیں) هَلْ (کیا) مِّنْ (سے ) شُرَكَاۗىِٕكُمْ (تمہارے شریکوں ) مَنْ ( جس پر ) يَّهْدِيْٓ (ہدایت دیتا ہے ) اِلَى (تک) الْحَقِّ (حق ) قُلِ (کہ دو “ کہ ”) اللّٰهُ (اللہ)] يَهْدِيْ [ ہدایت دیتا ہے ] لِلْحَقِّ ۭ [ حق کے لیے ] اَفَمَنْ [ تو کیا وہ جو ] يَّهْدِيْٓ [ہدایت دیتا ہے ] اِلَى الْحَقِّ [ حق کی طرف ] اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ہے ] اَنْ [کہ ] يُّتَّبَعَ [ اس کی پیروی کی جائے ] اَمَّنْ [ یا اس کی جو ] لَّا يَهِدِّيْٓ [ ہدایت نہیں پاتا ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] يُّهْدٰى ۚ [اس کو ہدایت دی جائے ] فَمَا لَكُمْ ۣ [ تو کیا ہے تمہیں ] كَيْفَ [ کیسا ] تَحْكُمُوْنَ [ تم لوگ حکم لگاتے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
مشرکین سے مزید سوالات اور توحید پر آنے کی دعوت
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ مشرکین نے جو شرک کو اپنا رکھا ہے اور سمجھانے کے باوجود توحید پر نہیں آتے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ ان کے بارے میں مغموم نہ ہوں ان کو ایمان لانا نہیں ‘ اس کے بعد فرمایا کہ ان سے دریافت کیجئے کہ وہ کون ہے جو ابتداءً مخلوق کو پیدا فرماتا ہے پھر موت دے کر دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ اس بات کو جان لو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پیدا فرماتا ہے اور موت دے کر وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد تم کہاں الٹے پھرے جا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
احقاق توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل من یرزقکم من السماء والارض۔۔۔ الی۔۔۔ علیکم بما یفعلون
(ربط): گزشتہ آیات میں بھی دلائل قاطعہ کے ساتھ اثبات توحید اور ابطال شرک کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں پھر یہی ابطال شرک کا مضمون اس طرح بیان ہوتا ہے کہ مکر کو سوائے اعتراف اور اقرار کے کوئی چارہ نہ رہے۔
ان آیات میں حق تعالیٰ نے بطلان شرک پر دلیل یہ بیان فرمائی کہ قابل پرستش اور لائق عبادت وہ ذات ہے جس میں یہ اوصاپائے جاتے ہیں اور کافر بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے۔ کہ یہ اوصاف بجز وحدہ لاشریک لہ کے کسی اور میں نہیں پائے جاتے تو پھر کیوں دوسروں کی پرستش کرتے ہیں۔ اور اس مقام پر الوہیت کے چار خواص ذکر…
Read the full tafseer →50: اب تم ہی بتاؤ جو اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور ہدایت و ضلالت جس کے اختیار میں ہے اس کی پیروی اور عبادت بہتر ہے یا ان کی جو کسی کو ہدایت دینا تو درکنار خود بھی ہدایت نہیں پاسکتے۔ “ فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ” ان عاجز معبودوں کی عبادت و پکار سے تمہیں کیا ملتا ہے اور تم اپنے لیے کیسا باطل فیصلہ کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ربط آیات
آج کا درس بھی پہلی آیات کے ساتھ مربوط ہے۔ اس میں بھی توحید کے اثبات شرک کی تردید اور مشرکین کی ذہنی پستی کا ذکر ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ نے توحید کے دلائل اس انداز میں بیان فرمائے کہ ذرا بتائو تو سہی کہ آسمان و زمین سے روزی کون نازل کرتا ہے ؟ کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے کون پیدا کرتا ہے ؟ اور تمام معاملات کی تدبیر کون کرتا ہے ؟ اس کا جواب خود ہی بیان فرمایا کہ سب لوگ یہی کہیں گے کہ مذکورہ تمام امور انجام دینے والا فقط اللہ ہی ہے پھر خود ہی فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر اس الہ سے ڈرتے کیوں نہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کیوں ٹھہراتے ہو ؟…
Read the full tafseer →قُلْ ہَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّہْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ 0 ۭ قُلِ اللہُ يَہْدِيْ لِلْحَقِّ 0 ۭ اَفَمَنْ يَّہْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَہِدِّيْٓ اِلَّآ اَنْ يُّہْدٰى 0 ۚ فَمَا لَكُمْ 0 ۣ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ 35
شرك
وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان :
أحدهما : الشِّرْكُ العظیم،
وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ،
والثاني : الشِّرْكُ الصّغير،
وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ترکیب : من الخ مبتداء من شرکاء کم خبر جملہ استفہامیہ افمن یہدی مبتدائء احق خبر ھذا القرآن اسم کان ان یفترٰی خبر افترًا من دون اللّٰہ تفصیل مفعول لا نزل محذوف کا۔
تفسیر : قل ھل من شرکائکم یہ دوسری دلیل ابطال شرک پر ہے اس کی تشریح اور آیات میں ہے کہ وہ انسان کو نطفہ سے علقہ پھر مضغہ سے انسان کیونکر بناتا ہے اور آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر کی چیزوں کو کس طرح سے بنایا اور پھر کیونکر دوبارہ پیدا کرے گا۔ اس لئے یہاں اجمال اور استفہام پر اکتفا کیا گیا اور جو بات مخالف کے نزدیک ظاہر ہو اور اس میں غور کرنے سے یقین کرسکتا ہو تو فصحاؤ بلغا اس کو بطور استفہام کے ذکر کرتے ہیں جس سے مخاطب کے دل پر بڑا…
Read the full tafseer →قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّن یَّھْدِیْ ٓ اِلَی الْحَق ط قُلِ اللّٰہُ یَھْدِیْ لِلْحَقِّ ط اَفَمَنْ یَّھْدِیْ ٓ اِلَی الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لاَّ یَھِدِّیْ ٓ اِلَّآ اَنْ یُّھْدٰی ج فَمَا لَکُمْ قف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ۔ (یونس : 35)
(اے پیغمبر ! ان سے پوچھئے کیا تمہارے شرکاء میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو، کہہ دیجیے وہ اللہ ہی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ تو کیا جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود راہ نہیں پاتا الا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے تو تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔ )
رہنمائی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
کرتا ہے اور اس پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔ اب بتاؤ جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرے اس کی اتباع اور حکم ماننا چاہیے یا جو کسی کی رہنمائی کرنے کی بجائے خود رہنمائی کا محتاج ہو۔ اس کی اتباع کرنی چاہیے۔ ذرا سوچو کہ تم کیسے فیصلے کرتے ہو ؟ ظاہر ہے۔ پیروی تو اس کی کرنی چاہیے جو ہدایت کی راہنمائی کرتا ہے اور خود ہدایت والا ہے۔
درحقیقت تم محض فرسودہ خیالات، صرف سنی سنائی باتوں اور اپنے وہم و گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔ لیکن یاد رکھو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔
ظن کا معنی وہم و گمان، اٹکل پچو اور شک کے ہیں۔ البتہ عربی میں کبھی ظن، یقین کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اس کا معنی اٹکل پچو…
Read the full tafseer →حق کی طرف راہنمائی کرنے والے اور کافر بےراہ کے پیروکار :
35: قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَآپکُمْ مَّنْ یَّھْدِیْ اِلَی الْحَقِّ (آپ فرما دیجئے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے کہ امر حق کا راستہ بتلاتا ہو) اسکی طرف راہنمائی کرنے قُلِ اللّٰہُ یَھْدِیْ لِلْحَقِّ اَفَمَنْ یَّھْدِیْ اِلَی الْحَقِّ اَحَقُّ اَں ْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَھِدِّیْ اِلَّآ اَنْ یُّھْدٰی عربی میں ھداہ للحق، الی الحق دو آتے ہیں۔ یہاں دونوں لغات کو جمع کردیا۔ اور اسی طرح ھدی بنفسہٖ بمعنی اھتدی کے آتا ہے جیسا کہ شری بمعنی اشترٰی اور اسی سے۔
قراءت : حمزہ و علی امّن لّا یھِدّی بمعنی یھتدی ہے۔ اور لا یَہَدِّی مکی، شامی اور ورش کی…
Read the full tafseer →(35)” قل ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق “ جب وہ کہیں نہیں اور لازمی طور پر وہ کہیں گے ” قل اللہ یھدی للحق “ حق کی طرف ” افمن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ھاء کے سکون کے ساتھ اول کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے دال کی شد کے ساتھ پڑھا ہے ، پھر ابو جعفر اور قالون نے ھاء کی سکون کے ساتھ دونوں طرح پڑھا ہے اور ابو عمر و زبر اور سکون کے درمیان ھاء داخل کرتے ہیں اور حفص نے یاء کے زبر اور یاء کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور ابوبکر دونوں یاء کو زیر اور باقی حضرات دونوں کے زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس کا معنی تمام صورتوں میں ” ہدایت دیتا “ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
34۔ 36۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے مشرکوں کے جھوٹے دعوے کو یوں بےبنیاد ٹھہرا کر مشرکوں کو خطاب کیا اور فرمایا کہ تم جنہیں معبود سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہو کیا ان میں یہ قدرت ہے کہ طرح طرح کی مخلوق پیدا کریں جن چیزوں کا وجود نہیں نہ کانوں نے سنا نہ آنکھوں نے دیکھا کیا یہ چیزیں وہ بنا سکتے ہیں ان میں کسی شے کی ایجاد کی طاقت ہے اور پھر مخلوق کے فنا ہونے کے بعد دوبارہ ویسے کا ویسا بنا سکتے ہیں پھر فرمایا کہ یہ کام اللہ ہی کا ہے تم نے جن کو اپنے گمان میں معبود سمجھ رکھا ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ جس نے پہلے سب کچھ پیدا کیا وہ دوبارہ بھی سب کچھ کرسکتا ہے۔ اس کا انکار کسی عقلمند کا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
آیت : ( 34-36)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بےبسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا ‘ جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں ‘ ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (قل ھل من شرکائکم من بیدوا الخلق) ” کہہ دیجئے ! کیا ہے تمہارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو “ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے ؟ (ثم یعیدہ) ” پھر اسے دوبارہ زندہ کرے “ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے ‘ یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کرسکتی ہو ‘ وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔
(قل اللہ یبدو الخلق ثم یعیدہ) ” کہہ دیجئے ! کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے ‘ پھر وہی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →67 ۔ جو حق کی راہنمائی نہ کرسکے وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ حق کی راہنمائی ہی وہ اصل اور حقیقی ضرورت ہے جس کے لیے انسان خدا کی طرف رجوع کرتا ہے اور نور حق و ہدایت کی دولت ہی وہ واحد دولت ہے جو انسان کو انسان بناتی اور اس کو " خیر البریۃ " (بہترین مخلوق) کے شرف و امتیاز سے مشرف و ممتاز کرتی ہے جبکہ اس سے محرومی کی صورت میں۔ والعیاذ باللہ انسان " شر البریۃ " (بد ترین مخلوق) کے ہاویے میں جا گرتا ہے۔ سو اسی بناء پر مشرکوں سے ان کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئی یہ سوال کیا گیا کہ کیا تمہارے ان من گھڑت اور خود ساختہ شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرسکے ؟ اور جب ایسا کوئی نہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
اللہ ہی معبود برحق ہے
تشریح : ان آیات میں ان مشرکین و کفار کے بارے میں ذکر ہے کہ یہ لوگ اصل میں اللہ ہی کو اپنا خالق ومالک مانتے ہیں کیونکہ یہ عالم ارواح میں اللہ سے وعدہ کرچکے ہیں یعنی، (عہد الست) جس کا مطلب اللہ کو رب ماننے کا وعدہ اور یہ کہ مالک و خالق رب العالمین صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی ہے۔ پھر بھی یہ لوگ کفر و شرک کی ظلمتوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو ہٹ دھرمی اور ناسمجھی نے اس قدر گھیر رکھا ہے کہ یہ سیدھا راستہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اگر تھوڑی سی عقل بھی یہ استعمال کریں تو کوئی مشکل بات نہیں یہ فوراً سمجھ سکتے ہیں کہ اصل خالق ومالک تو صرف وہی اللہ ہی ہے جس نے انہیں پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40
اسرار و معارف
اگر انھیں اب بھی اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو تو آپ ان سے پوچھتے کہ ذرایہ بتاؤ ! آسمانوں سے پانی برسا کر کھیتیاں اور پھل کون اگاتا ہے اور ارض وسما کی نعمتوں کو کون پیدا کرتا ہے اور تمہاری خدمت پہ لگا دیتا ہے ۔ یہ ہوا ، یہ فضا ، یہ طرح طرح کے پھل چشمے جانور دورھ گھی اور گوشت یہ تمہاری زندگی کے سامان کون پیدا کرتا ہے ؟ ارے یہ تو خارجی چیزیں ہیں خود تمہارے وجود کے اندر جو نعمتیں رکھی ہیں مثلا حواس ہی کو لے لوتویہ آنکھ کان وغیرہ تمہارے وجود کا حصہ ہونے کے باوجود کس کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جب چاہتا ہے میں روشن کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے یہ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ…
Read the full tafseer →ف 13 ۔ یعنی جو خود ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہوسکتا۔ اس سے مراد بت ہیں۔
1 ۔ کیسے فیصلے کرتے ہو ؟ ان کے باطل مذہب غلط مسلک پر تعجب کا اظہار ہے۔ (کبیر) ۔
Read the full tafseer →(10:35) لایھدی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اصل میں یھتدی تھا ۔ بمعنی وہ ہدایت نہیں پاتا ہے۔ وہ راہ نہیں پاتا ہے۔
یھدی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب اس کو ہدایت کی جائے ۔ اس کی رہنمائی کی جائے۔
لایھدی الا ان یھدی۔ جو ازخود راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ الھدی سے یہاں مراد نقل و حرکت ہے چناچہ جب کسی عورت کی ڈولی اپنے خاوند کے گھر جاتی ہے تو کہتے ہیں اھدیت المرأۃ الی زوجھا ھدی۔
اسی طرح قربانی کو جو حرم کی طرف لے جائی جاتی ہے الھدی کہتے ہیں۔ اور تحفہ کو ہدیہ اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ ایک آدمی سے دوسرے آدمی کے پاس منتقل ہوتا ہے۔ اسی طرح جو آدمی دوسرے دو آدمیوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 36
یبدا (وہ ابتدا کرتا ہے) یعید (وہ لوٹاتا ہے، دوبارہ کرتا ہے) الخلق (مخلوق ، پیدا کرنا) احق (زیادہ حق دار ہے) ان یتبع (یہ کہ اس کی پیروی کی جائے، کہا مانا جائے) امن (یا وہ شخص) لایھدی (راستہ نہیں دکھاتا) تحکمون (تم فیصلہ کرتے ہو) الظن (گمان، خیال، بےبنیاد بات) لایغنی (بےنیاز نہیں کرتا، کام نہیں کرتا)
تشریح : آیت نمبر 34 تا 36
آج کے انسان کو ان ترقیات پر بڑا ناز ہے جو اس نے ایجاد کی ہیں۔ فضاؤں پر ہواؤں پر زمین و آسمان کی گہرائیوں پر اس کا کنٹرول ہے علمی اور تحقیقی انداز سے ان کی یہ کامیابیاں قابل قدر ہیں جو اس نے حاصل کی ہیں دین اسلام بھی ان ترقیات کا مخالف نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ثبوت توحید کا ذکر
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے جھوٹے دعوے کو یوں بےبنیاد ٹھہرا کر مشرکوں کو خطاب کیا اور فرمایا کہ تم جنہیں معبود سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہو کیا ان میں یہ قدرت ہے کہ طرح طرح کی مخلوق پیدا کریں، جن چیزوں کا وجود نہیں ۔ نہ کانوں نے سنا نہ آنکھوں نے دیکھا ، کیا یہ چیزیں وہ بنا سکتے ہیں۔ ان میں کسی شے کے ایجاد کی طاقت ہے، اور پھر مخلوق کے فنا ہونے کے بعد دوبارہ ویسے کا ویسا بنا سکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ کام اللہ ہی کا ہے تم نے جن کو اپنے گمان میں معبود سمجھ رکھا ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے ۔ کیونکہ جس نے پہلے سب کچھ پیدا کیا وہ دوبارہ بھی سب کچھ کرسکتا ہے۔ اس کا انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–38
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حواشی 33، 34 صفحہ 923۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
دعوت توحید :
(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے توحید کی جانب انسانوں کو دعوت دی ہے ، ان سے پوچھا ہے کہ تمہیں رزق کون دیتا ہے ، کون تمہارے لئے کھانے پینے کا سامان مہیا کرتا ہے ، وہ کون ہے ، جس نے کان عطا کہئے کس نے آنکھیں بخشیں ، زندگی کو موت سے اور موت کو زندگی کے خوشگوار لمحات میں تبدیل کرنے والا کون ہے ؟ کائنات کا نظم ونسق کس کے اشارہ چشم کا محتاج ہے ، ظاہر ہے ان باتوں کا فطرت انسانی کی جانب سے یہی جواب ملے گا ، کہ اللہ قرآن حکیم میں پوچھتا ہے ، کہ جب اللہ ہی اس کا رحیات کو چلا رہا ہے ، تو پھر تم میں کیوں توحید کے جذبات پیدا نہیں ہوتے ، تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کہ ایسے حکیم وقدیر…
Read the full tafseer →35 اے پیغمبر آپ ان سے دریافت کیجئے کیا تمہارے بنائے ہوئے اور تجویز کردہ شرکاء میں سے کوئی ایسا ہے جو امر حق اور دین حق کا راستہ دکھا سکے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہی امرحق کی جانب رہنمائی کرتا ہے بھلا وہ جو امر حق کی جانب رہنمائی کرتا ہے وہ پیروی اور اتباع کا زیادہ حقدار ہے یا وہ ہے جو بدون کسی دوسرے کے راستہ بتائے خود بھی راستہ نہ پا سکے تو اے مشرکو ! تم کو کیا ہوگیا تم کیسافیصلہ کرتے ہو۔ یعنی تمہارے شرکاء میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو راہ راست بتاسکتا ہو اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ راہ راست بتاتا ہے جیسا کہ پیغمبروں کو بھیجتا ہے کتابیں نازل کرتا ہے تو وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے کہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 7۔ چناچہ اس نے عقل دی انبیاء بھیجے بخلاف شیاطین کے کہ اولا وہ ان افعال پر قادر نہیں اور محض تعلیم جس کی قدرت ان کو دی گئی ہے وہ اس کا اضلال واغوا میں صرف کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ہدایت حواس و عقل اور اس سے استدلال
۔ 57 زیر نظر آیت قرآن کریم کی مہمات حجج سے بےمگر افسوس ہے کہ مفسرین نے اس کی حقیقت بھی اس طرح ضائع کردی جس طرح اکثر دلائل قرآنیہ ضائع کردی ہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
قل ھل من شرکآ ئکم من یھدی الی الحق ؟ قل اللہ یھدی للحق افمن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی ؟ فما لکم کیف تحکمون ؟ یعنی جن لوگوں کو تم نے خدا کا شریک ٹھہرا لیا ہے ان میں کوئی ہے جو ” حق “ کی طرف ” ہدایت “ کرتا ہے ؟ یہ تو اللہ ہی کی ذات ہے جو حق کی راہ چلاتی ہے اچھا تو پھر بتلائو جو ہستی حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے وہ اس کی حق دار ہے کہ اس کے پیچھے چلیں یا اس کے پیچھے چلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted…
Read the full tafseer →43. This verse raises an important issue which should be grasped well. Man's necessities in his worldly life are not confined to subsistence, to the provision of shelter and clothing, to protection from calamities, hardships and losses. Man also needs something else, and this is his direst need. This is the need to know how to live in the world; how he should relate with himself and the powers and potentialities with which he has been endowed; how he should relate with the resources of the world which have been placed under his control, with the innumerable human beings with whom he comes…
Read the full tafseer →