Explained with ayahs 28–30
میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے
مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ سب کا حشر ہوگا، ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کردیا جائے گا۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہوجائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہوجائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہوجائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
سورة یُوْنُس 36
متن میں فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ کے الفاظ ہیں۔ اس کا مفہوم بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ ہم ان کا باہمی ربط وتعلق توڑ دیں گے تاکہ کسی تعلق کی بنا پر وہ ایک دوسرے کا لحاظ نہ کریں۔ لیکن یہ معنی عربی محاورے کے مطابق نہیں ہیں۔ محاورہ عرب کی رو سے اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان تمیز پیدا کردیں گے، یا ان کو ایک دوسرے سے ممیز کردیں گے۔ اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے ہم نے یہ طرز بیان اختیار کیا ہے کہ ”ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے“ یعنی مشرکین اور ان کے معبود آمنے سامنے کھڑے ہوں گے اور دونوں گروہوں کی امتیازی حیثیت ایک دوسرے پر واضح ہوگی، مشرکین جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
اس کے بعد کی دو آیتوں میں ایک مکالمہ مذکور ہے جو اہل جہنم میں اور ان کو گمراہ کرنے والے بتوں یا شیطانوں کے درمیان محشر میں ہوگا، ارشاد فرمایا کہ اس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے تجویز کئے ہوئے معبود ذرا اپنی جگہ ٹھہرو تاکہ تمہیں اپنے عقیدہ کی حقیقت معلوم ہوجائے، اس کے بعد ان لوگوں میں اور ان کے معبودوں میں جو رشتہ اتحاد دنیا میں پایا جاتا تھا اس کو قطع کردیا جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے بت خود بول اٹھیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے، اور خدا کو گواہ بنا کر کہیں گے کہ ہم کو تمہاری مشرکانہ عبادت کی کچھ خبر بھی نہ تھی، کیونکہ نہ ہم میں حس و حرکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 36: اوپر، وما لہم من اللہ من عاصم، میں یہ اشارہ جو فرمایا تھا کہ ابدی مایوسی اور ذلت سے چھڑانے میں ان کے مزعومہ شرکاء اور شفعاء کچھ کام آنے والے نہیں، آگے اس اشارے کی تفصیل فرما دی کہ آخرت میں ان کا کیا حال ہوگا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی وضاحت فرمادی کہ مجرد ظن کی بنیاد پر آرزؤوں کے جو ہوائی قلعے تعمیر کیے جاتے ہیں وہ اسی طرح مسمار ہوتے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُرَكَاۗؤُكُمْ ۚفَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ۔ فَكَفٰى…
Read the full tafseer →29۔ 1 یہ انکار کی وجہ ہے کہ ہمیں تو کچھ پتہ ہی نہیں، تم کیا کچھ کرتے تھے اور ہم جھوٹ بول رہے ہوں تو ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور وہ کافی ہے، اس کی گواہی کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی، یہ آیت اس بات پر صحیح ہے کہ مشرکین جن کو مدد کے لئے پکارتے تھے، بلکہ وہ عقل و شعور رکھنے والے افراد ہی ہوتے تھے جن کے مرنے کے بعد لوگ ان کے مجسمے اور بت بنا کر پوجنا شروع کردیتے تھے۔ جس طرح کہ حضرت نوح ؑ کی قوم کے طرز عمل سے ثابت ہے جس کی تصریح صحیح بخاری میں موجود ہے۔ دوسرا یہ بھی معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد، انسان کتنا بھی نیک ہو، حتیٰ کہ نبی و رسول ہو۔ اسے دنیا کے حالات کا علم نہیں ہوتا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
16: جن بتوں کو انہوں نے خدا مان رکھا تھا وہ تو بےجان تھے، اس لئے انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے، اس لئے جب اللہ تعالیٰ ان کو زبان عطا فرمائیں گے تو شروع میں تو وہ صاف انکار کردیں گے کہ یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، پھر جب بعد میں انہیں پتہ چلے گا کہ واقعی ان کی عبادت کرتے تھے تو وہ کہیں گے کہ اگر کرتے بھی تھے تو ہمیں اس کا پتہ نہیں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔
ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔
فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ…
Read the full tafseer →4 یعنی اسی وقت عجیب افراتفری اور نفسی نفسی ہوگی۔ عابدین و معبودین میں جدائی پڑجائے گی اور دنیا میں اپنے اوہام و خیالات کے موافق جو رشتے جوڑ رکھے تھے، سب توڑ دیے جائیں گے۔ اس ہولناک وقت میں جبکہ مشرکین کو اپنے فرضی معبودوں سے بہت کچھ توقعات تھیں، وہ صاف جواب دے دیں گے کہ تمہارا ہم سے کیا تعلق۔ تم جھوٹ بکتے ہو کہ ہماری بندگی کرتے تھے (تم اپنے عقیدہ کے موافق جس چیز کو پوجتے تھے اس کے لیے وہ خدائی صفات تجویز کرتے تھے، جو فی الواقع اس میں موجود نہیں تھیں تو حقیقت میں وہ عبادت اور بندگی واقعی " مسیح " یا " ملائکہ " کی نہ ہوئی اور نہ حقیقت میں بےجان مورتیوں کی پوجا تھی۔ محض اپنے خیال اور وہم یا…
Read the full tafseer →آیت 29 فَکَفٰی باللّٰہِ شَہِیْدًام بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغٰفِلِیْنَ
یعنی اگر تم ہماری پوجا کرتے بھی رہے ہو تو ہمیں بالکل اس کی خبر نہیں ‘ ہم پر اس کا کچھ الزام نہیں۔ ہم تمہارے اس گھناؤنے فعل سے بالکل بری ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
41 زَیّل کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر اس طرح الگ کردینا ہے جس سے وہ دوسروں سے ممیز ہوسکے یعنی میدان محشر میں پہلے تو ہم مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو کہیں گے کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو پھر عبادت کرنے والوں کو الگ اور معبودوں کو الگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کریں گے تاکہ ایک دوسرے کو روبرو ہو کر سوال و جواب کرسکیں۔
42 ان میں وہ سب اشیاء شامل ہیں جن کی دنیا میں پوجا کی جاتی رہی ہے اس میں شجر و حجر بھی شامل ہیں۔ مویشی بھی، جیسے گائے بیل، فرشتے بھی، انبیاء بھی جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور بزرگان دین اور مشائخ اور پیران طریقت بھی۔ دیوی دیوتا اور ان کے…
Read the full tafseer →52۔ (چہ جائیکہ ہم اس سے راضی ہوتے ! ) عجب نہیں یہ گفتگو پتھر کی مورتیاں اور ٹھاکردواروں کے بت اپنے بچاریوں سے کررہے ہوں۔ قیل الاصنام فینطقھا اللہ تعالیٰ فتکون بینھم ھذہ المحاورۃ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…
Read the full tafseer →فکفٰے باللہ شھیدًا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغٰفلین۔ سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ہم تو تمہاری عبادت سے بیخبر تھے ‘ نہ سنتے تھے ‘ نہ دیکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے۔
Read the full tafseer →(29) پھر ان کے معبود کہیں گے سو ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے کہ ہمیں تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی اور ہم سے بیخبر تھے۔
Read the full tafseer →فَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا۔۔ : یہ الفاظ قسم کے معنی میں بھی آتے ہیں۔ ”اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ“ میں ”اِنْ كُنَّا“ دراصل ”اِنَّا کُنَّا“ تھا، ”غَافِلِیْنَ“ پر لام کا آنا اس بات کی دلیل ہے، اس لیے اس ”اِنْ كُنَّا“ کا معنی ”اِنَّا کُنَّا“ کیا ہے، یعنی یہاں ”إِنَّ“ کا ایک نون اور جمع متکلم کی ضمیر ”نَا“ دونوں مقدر ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 29۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فکفی باللہ شھیدا بیننا وبینکم، شھیدا “۔ یہ مفعول ہے یعنی کفی اللہ شھیدا یا یہ تمیز ہے، یعنی اکتف بہ شھیدا بیننا وبینکم یعنی اللہ تعالیٰ پر اکتفا کرو بطور گواہ ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان اگر ہم نے تمہیں اس بارے حکم دیا ہے یا ہم نے اسے تم سے پسند کیا ہے (اور رضا مندی کا اظہار کیا ہے) (آیت) ” ان کنا “ یعنی ہم نہیں تھے۔ عن عبادتکم لغفلین “۔ تمہاری پر ستش کے بارے میں بالکل بیخبر ، نہ ہم سنتے تھے، نہ دیکھتے تھے اور نہ عقل رکھتے تھے، کیونکہ ہم تو جمادات تھے ہم میں روح نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
معبودان باطلہ کی بیزاری :
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویوم نحشرھم “ میں ” الحشر “ سے مراد ہے موت۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فزیلنا بینہم “ یعنی ہم نے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ جس میں نرمی ہوگی۔ مشرک لوگ توحید والوں کے سامنے یہ اظہار کریں گے کہ ان کی مغفرت کردی جائے گی تو وہ کہیں گے (آیت) ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین (22) “ (الانعام آیت…
Read the full tafseer →فَكَفٰى [ تو کافی ہے ] بِاللّٰهِ [ اللہ ] شَهِيْدًۢا [ بطور گواہ کے ] بَيْنَنَا [ ہمارے درمیان ] وَبَيْنَكُمْ [ اور تمہارے درمیان ] اِنْ [ یقینا ] كُنَّا [ ہم تھے ] عَنْ عِبَادَتِكُمْ [ تمہاری عبادت سے ] لَغٰفِلِيْنَ [بالکل غافل ]
(آیت ۔ 29) ان کنا میں ان مخففہ ہے جس کے معنی ہیں یقینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
باطل معبود اپنے پرستاروں سے کہیں گے کہ ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے
ان آیات میں روز قیامت کا ایک منظر بیان فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ وہ دن قابل ذکر ہے جبکہ ہم سب کو جمع کریں گے۔ جمع ہونے والوں میں موحدین بھی ہوں گے اور مشرکین بھی ‘ مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے وہ بھی حاضر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ شرک کرنے والو ! تم اور تمہارے وہ معبود جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ یعنی انتظار کرو اور دیکھو تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے درمیان جدائی کردی جائے گی۔ مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے وہ اپنی پرستش کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم ہماری عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
میدان حشر میں کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان کے درجات اخروی اور نعیم ابدی اور کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان تھا۔ اب اس آیت میں بھی کافروں کی ایک اور ذلت اور رسوائی کا بیان ہے وہ یہ کہ قیامت کے دن عابد اور معبود۔ دنوں ہی کا حشر ہوگا اور بعد ازاں وہ معبود جن کی یہ مشرکین دنیا میں پرستش کرتے تھے اور جن کو اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔ قیامت کے دن۔ یہ معبودین اپنے عابدین سے بری اور بیزار ہوجائیں گے کہ تم لوگ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اپنی خواہش کی پرستش کرتے تھے ہمیں تو تمہاری پرستش کی خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
43: تخویف اخروی مع بیان ثمرہ دلیل۔ “ مَکَانَکُمْ ” سے پہلے فعل ناصب محذوف ہے اي الزموا۔ مذکورہ بالا دلائل سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ مشرکین جن معبودانِ باطلہ کی عبادت کرتے اور جن کو عنداللہ شفیعِ غالب خیال کرتے ہیں وہ محض عاجز و درماندہ ہیں اور ان کے اختیار میں کسی کا نفع و ضرر نہیں یہاں بطور نتیجہ اور ثمرہ آخرت کا منظر پیش کیا گیا کہ دیکھ لو جن کو تم متصرف و کارساز اور سفارشی سمجھتے ہو قیامت کے دن وہ تمہارے کام تو کیا آئیں گے یا تمہاری سفارز تو کیا کریں گے بلکہ وہ تو سرے سے تمہاری عبادت اور پکار ہی کا انکار کدیں گے اور میدانِ حشر میں علی رؤوس الشہاد خدا کی قسم کھا کر اعلان کریں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
میدان حشر
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی ایک دوسرے طریقے پر تردید فرمائی ہے اور ساتھ ساتھ معاد کا مسئلہ بھی بیان فرمایا ہے ۔ قیامت پر یقین رکھنا بھی اہم اجزائے ایمان میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں قیامت اور حشر نشر کے واقعات کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے اس سورة میں پہلے شرک کی تردید اور نیکی اور بدی کا انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے اور اب حشر نشر کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویوم نحشرھم جمیعا “ اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ حشر کا معنی اکٹھا کرنا ہوتا ہے دوسری جگہ فرمایا (آیت) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ (الصفت) اکٹھا کرو ان کو جنہوں نے ظلم یعنی کفر اور شرک کیا ہے…
Read the full tafseer →فَكَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ 29
كفى
الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ
[ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ فلان من رجل، کقولک : حسبک من رجل .
( کی ) الکفایۃ
وہ چیز جس سے ضرورت پوری اور مراد حاصل ہوجائے ۔ قرآن میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
ترکیب : عامل یوم اذکر محذوف مکانکم ظرف مبنی ہے لوقوعہ موقع الامر ای الزموا وفیہ ضمیر فاعل وانتم توکید لہ والکاف والمیم فی موضع جر عند قوم وعند آخرین الکاف للخطاب لا موضع لھا کاف فی ایاکم وشرکاء کم عطف علی الفاعل فزیلنا عین الکلمۃ و اولانہ من زال 2 ؎ یزول وقیل ہومن زلت الشیء ازیلہ فعینہ یائ۔
تفسیر : ویوم نحشرھم یہ بیان سابقہ کا تتمہ ہے یعنی ان بت پرستوں کے ساتھ حشر کے روز یہ کیا جاوے گا جو لوگ دنیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو پوجتے ہیں خواہ ملائکہ کو ‘ خواہ جنوں اور ارواح انبیاء و اولیاء اللہ کو ‘ خواہ عناصر اور کواکب کو ‘ خواہ ان کے نام کی مورتیں بنا کر یا یونہی ان کو پکارتے ہر کاروبار میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ ج فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُ ھُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَاتَعْبُدُوْنَ ۔ (یونس : 28)
(اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم جمع کریں گے سب کو، پھر ہم شرک کرنے والوں کو حکم دیں گے کہ ٹھہر جاؤ اپنی جگہوں پر تم اور تمہارے شرکاء، پھر ہم ان کے درمیان تفریق کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ )
مشرکین اور ان کے شرکاء آخرت میں
گزشتہ آیات کریمہ میں شرک کے ابطال پر مختلف قسم کے دلائل دیئے گئے ہیں جن میں عقلی بھی ہیں، تاریخی بھی، واقعاتی بھی ہیں اور…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن معبودان باطل سے سوال کرنا اور ان کا جواب :
(وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللَّہِ فَیَقُوْلُ أَأَنْتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ہٰؤُلَاءِ أَمْ ہُمْ ضَلُّوْا السَّبِیْلَ ۔ قَالُوْا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَا أَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ أَوْلِیَآءَ وَلَکِنْ مَتَّعْتَہُمْ وَاٰبَآءَ ہُمْ حَتّٰی نَسُوْا الذِّکْرَ وَکَانُوْا قَوْمًا بُوْرًا )[ الفرقان : 17۔ 18]
” اور جس دن اللہ انہیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے اکٹھا کرے گا تو ان سے سوال کرے گا کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا خود ہی وہ راہ راست سے بھٹک گئے تھے وہ…
Read the full tafseer →29: فَکَفٰٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًام بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ یعنی اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی کے لحاظ سے شھیدًا یہ تمیز ہے۔ اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغٰفِلِیْنَ اِنْ یہ مخففہ من المثقلہ ہے لام اسکی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →(29)” فکفیٰ باللہ شھیدا ً بیننا و بینکم ان کنا عن عبادتکم لغافلین “ ہم تو تمہاری عبادت سے غافل تھے کیونکہ نہ ہم سن سکتے تھے اور نہ دیکھ سکتے تھے اور نہ عقل رکھتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔ 30۔ اس سے پہلے کی آیت میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ حشر کے میدان میں مشرک اور ان کے معبود ایک جگہ کھڑے کئے جائیں گے اور اللہ پاک یہ ارشاد فرمائے گا کہ تم یہیں کھڑے رہو تم سے سوال کیا جائے گا اور مشرک دنیا میں جن جن کی عبادت کرتے تھے وہ معبود ان سے بیزار ہو کر کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے اپنی خواہش کو پوجتے تھے اور انکار کریں گے کہ ہم نے کبھی تمہیں اپنی مورتوں کی پوجا کرنے کو نہیں کہا تھا اور ہمیں اس کی خبر بھی نہیں کہ تم ہم کو پوجتے تھے اگر ہم تمہاری عبادت سے رضا مند تھے یا ذرا بھی ہمیں اس کی خبر تھی تو خدا بھی جانتا ہوگا تفسیر ابن مردویہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت : (28-30)
(ویوم نحشرھم جمیعا) ” اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ “ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے ‘ ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ (ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکاء کم) ” پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ ‘ تم اور تمہارے شریک “ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو ‘ تاکہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ (فزیلنا بینھم) ” پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں ہے۔ “ یعنی ہم بعد بدنی اور بعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے ‘ دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لئے خالص محبت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
59 ۔ معبودان من دون اللہ اپنے پجاریوں کی پوجا سے قطعی بیخبر : سو اس سے تصریح فرمادی گئی کہ مشرکوں کے خود ساختہ شرکاء اور معبود من دون اللہ اپنے عابدوں سے صاف وصریح طور پر کہیں گے کہ ہم تمہاری عبادت و بندگی سے قطعی طور پر بیخبر تھے۔ ان کے جواب کی تاکید ملاحظہ ہو کہ اول تو (ان) تاکید یہ ہے۔ کیونکہ اصل میں یہ نون ثقیلہ ہے یعنی (ان) اور پھر خبر پر لام تاکید بھی داخل ہے۔ سو اس طرح وہ تاکید در تاکید کے ساتھ ان کی عبادت کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ نہ تو ہمیں تمہاری اس عبادت کا پتہ تھا نہ ہم نے کبھی تمہیں اس کا حکم دیا تھا اور نہ ہم اس پر راضی تھے۔ یہ سب کچھ تم لوگوں نے ازخود شیطان کے اغواء واضلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
حساب کتاب کا دن
تشریح : ان آیات میں حشر نشر، یعنی میدان حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ہر قسم کے گنہگار کو اس کے گناہ کے مطابق سزا ملے گی یہاں مشرکین کے بارے میں ذکر کیا جا رہا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں کو کہیں گے ہمیں بچائو، جبکہ وہ چھوٹے خدا خواہ چاند، سورج ستارے، آگ، ہوا، پانی، بت، قبر یا مزار ہوں وہ بھلا اتنی اہلیت کہاں رکھ سکتے ہیں کہ وہ ان کو بچا سکیں یا یہ جان سکیں کہ ہاں یہ لوگ ہماری عبادت کرتے تھے لہٰذا وہ صاف انکار کردیں گے۔ کیونکہ عبادت کے لائق تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کو وقت پر خبردار کردیا جائے کہ انہوں نے مرنے کے بعد اللہ کے حضور ضرور حاضر ہونا ہے وہاں بڑا سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21 تا 30
اسرار و معارف
کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ جتنے مشرک ہیں وہ درحقیقت اپنے خیال اور وہم شیطان کی پرستش کرتے ہیں گونام نیک لوگوں کا لیتے ہیں۔ قیامت کے دن معلوم ہوگا کہ وہ نیک لوگ ان سے کس قدر بیزار ہوں گے۔ (از موضح) ۔ اس سے ثابت ہوا کہ قیامت کے دن ان معبودوں کا یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ تم ہماری پرستش کرتے تھے اور چونکہ ان کے ظاہری معبود بےحس بت تھے اس لئے ان کا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ ہم تمہاری عبادت بالکل بیخبر تھے۔ پس ان دونوں جملوں میں تعارض یا تضاد نہیں ہے۔ (کبیر) ۔
Read the full tafseer →(10:29) ان۔ ان سے مخفف ہے اور لغافلین میں لام ان مخففہ اور نافیہ میں فرق کے لئے آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
الحسنی (بھلائی، نیکی) لا یرھق (نہ ڈھانپ لے گی) فتر (سیاہی، اندھیرا) کسبوا (انہوں نے کمایا) السیئات (سیتہ) ، برائیاں عاصم (بچانے والا) اغشیت (ڈھانپ لی گئی) قطع (ٹکڑے) مظلم (سیاہی) نحشر (ہم جمع کریں گے) مکانکم (تم اپنی جگہ رہو) زیلنا (ہم پھوٹ ڈال دیں گے) ھنالک (اسی جگہ) اسلفت (اس نے پہلے سے کیا تھا) ضل (گم ہوگیا، گم ہوجائیں گے)
تشریح :- آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم یعنی اچھے اور برے اعمال کے نتائج اور انجام کی وضاحت فرمائی ہے ۔ فرمایا کہ وہ دن جب سارے انسان میدان حشر میں جمع ہوں گے اس وقت اہل جنت کے چہرے تو چمک رہے ہوں گے جب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
خدا کی قدرت کا نظارہ
ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے محبوب ! (ﷺ) تم ان سے کہہ دو کہ تم جو خدا کی عبادت سے بیزار ہو۔ اتنا غور نہیں کرتے کہ تمہارے رزق کا سامان کون کرتا ہے، آسمان سے مینہ کون برساتا ہے، اور زمین کی پیدا وار کس کا کام ہے، سماعت اور بصارت کس کے اختیار میں ہے، کون ان کی حفاظت کرتا ہے، کون انہیں آفت میں پھنساتا ہے، اور انسان کو نطفہ سے، اور نطفہ کو انسان سے، پرند کو انڈے سے، اور انڈے کو پرند سے، مومن کو کافر اور کافر کو مومن سے، عالم کو جاہل اور جاہل کو عالم سے۔ کہو ذرا غور کریں کہ تمام عالم کا مدبر کون ہے۔ یہ چونکہ صاف بات ہے اور اس میں جھگڑے کی گنجائش نہیں ہے پس ان کو کہنا ہی پڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[21] یعنی وہ تمام فرشتے جن کو دیویاں قرار دے کر پوجا گیا اور انبیاء، اولیاء اور جنات جن کو اللہ کا شریک ٹھہرایا گیا تھا۔ وہ اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجا لا رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(ف 1) جب کہ دنیا کا یہ حشر ہے تو پھرجائے پناہ کہاں ہے ؟ وہ کون ہے جس کی وجہ سے صحبت وسل امتی کی راہیں کھلتی ہیں ، اس آیت میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر فنا وموت کے بعد نجات حاصل کرنا چاہتے ، اور دائمی خوش زندگی کے خواہشمند ہو تو اللہ سے اچھا تعلق پیدا کرو ، وہ حی وقیوم ہے ، اسی کی ذات کو ثبات وقرار ہے ، وہ سل امتی کی دعوت دیتا ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔
اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Read the full tafseer →29 اب ہمارے تمہارے درمیان بس خدا ہی شاہد ہے کہ ہم واقعی تمہاری پرستش اور تمہاری پوجا سے بالکل باخبر تھے۔ اس تفریق اور تزئیل کا یہ اثر ہوگا کہ آپس میں جھگڑا شروع ہوجائے گا اور یہ واقعہ بھی ہے کہ مشرکین کو شیاطین بہکاتے ہیں اور وہ مشرک ان کے کہنے پر عمل کرتے ہیں تو درحقیقت شیاطین کی پوجا کیا کرتے ہیں ورنہ جن کا نام لیتے ہیں ان کو کیا خبر ؟
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جنتے مشرک ہیں اپنے خیال کو پوجتے ہیں یا شیطان کو اور نام لیتے ہیں نیکوں کا ۔ اس کام سے بیزار ہیں آخرت میں معلو ہوگا 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 1۔ اگر کسی کو شبہہ ہوگیا کہ کیا بت بھی بولیں گے تو جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی محال نہیں۔
2۔ ان کا غافل ہونا ان کی عبادت سے ظاہر ہے اس واسطے کہ بتوں کو ایسا شعور ظاہر ہے اس کہ یہاں نہیں ہے اور اگر معبودین مثل ملائکہ وغیرہم کو بھی عام لیا جائے تو بھی غافل ہونا صحیح ہے کیونکہ علم ملائکہ وغیرہم کا محیط نہیں ہے اور سب اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
سب کے جمع ہونے کے روز اہل شرک و کفر سے کیا کیا جائے گا ؟
۔ 47 جس دن سب اچھے اور برے لوگوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کیا جائے گا اس روز ہم مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے وہ لوگ جن کو تم نے اپنے عقیدہ میں اپنے معبود بنائے رکھا تھا اس جگہ ٹھہر جائو اور اس طرح ان کو پیش آنے والے واقعات سنا کر انہی غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ آج تم کو ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ دلائل پیش کر کے دعوت توحید دے رہا ہے لیکن تم پرواہ نہیں کرتے اور اپنے ان بزرگوں اور دوستوں کو جن کی وفات کے بعدتم نے ان کے بت یا قبریں بنا لی ہیں اور ان کو پوجنے لگے ہو یاد رکھو کہ قیامت کا دن آنے والا ہے اس روز تمہارے یہ سارے معبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
In the two verses (27, 28) appearing next, there is a dialogue between the people of Jahannam and the idols or satans who had led them astray. The locale will be the plain of Resurrection. It was said: On that day, We shall gather everyone. Then, to the Mushriks We shall say that, ` you and your gods whom you had associated' with Us in Our divinity stay in your places where you are, so that you can find out the reality of your conviction.' After that, the connection between these people and their so-called gods as it existed in the mortal world will be disconnected. The result will be that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
37. This shows how the false gods will react to their worshippers. Angels who had been declared gods and goddesses and therefore, worshipped, the jinn, the spirits, the forefathers of yore, the Prophets, and the saints and martyrs who were considered to share with God some of His attributes, will all disavow their devotees. They will tell the latter in quite plain terms that they were not even aware that they were being worshipped; that even if they had been prayed to, called upon or cried out to, or had had offerings or sacrifices made in their name, or who had had reverence, adoration,…
Read the full tafseer →