Yunus 10:28

Yunus · from ayah 28

10:28

وَیَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ ۚ— فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ ۟وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا مَكَانَكُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَكَآؤُكُمۡ‌ۚ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡ‌ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ اِيَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together - then We will say to those who associated others with Allah, "[Remain in] your place, you and your 'partners.' " Then We will separate them, and their "partners" will say, "You did not used to worship us,

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 3 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:28

جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں) اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھیر جاؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیّت کا پردہ ہٹا دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ“تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو پھر ہم ان کے آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے وه شرکا کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (یاد رکھو) وہ دن جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر جن لوگوں نے شرک کیا تھا، ان سے کہیں گے کہ :“ ذرا اپنی جگہ ٹھہرو، تم بھی اور وہ بھی جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا تھا۔”پھر ان کے درمیان (عابد اور معبود کا) جو رشتہ تھا، ہم وہ ختم کردیں گے، اور ان کے وہ شریک کہیں گے کہ :“ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے شریک تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے تم ہمیں کب پوجتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اورجس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے: تم اور تمہارے شریک (بتانِ باطل) اپنی اپنی جگہ ٹھہرو۔ پھر ہم ان کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ اور ان کے (اپنے گھڑے ہوئے) شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر ہم ان لوگوں سے جنہوں نے شریک بنائے تھے، کہیں گے اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تم اور تمہارے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان علیحدگی کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس دن ہم سب کو اکٹھا کردیں گے پھر جن لوگوں نے شرک کیا تھا انہیں ہم کہیں گے کہ : تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو پھر ہم انہیں الگ الگ کردیں گے تو ان کے بنائے ہوئے شریک انہیں کہیں گے کہ : تم تو ہماری بندگی کرتے ہی نہیں تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے پھر ہم شرک کرنے والوں کو حکم دیں گے کہ تم اور تمہارے شرکاء اپنی جگہ ٹھہرو۔ پھر ہم ان کے درمیان تفریق کریں گے اور ان کے شریک کہیں گے، تم ہم کو تو نہیں پوجتے تھے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (یاد کروائیں ہولناک دن کو اے لوگو ! کہ) جس دن ہم ان سب کو ایک ساتھ اکٹھا کر لائیں گے (اپنی عدالت میں) پھر ان لوگوں سے کہ جنہوں نے شریک کیا ہوگا ہم کہیں گے کہ اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ تم بھی، اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک بھی، پھر ہم جدائی ڈال دیں گے ان کے درمیان، اور ان کے وہ شرکاء (اس انتہائی مشکل وقت میں) ان سے کہیں گے کہ تم لوگ تو ہماری پوجا کرتے ہی نہیں تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شرکاء (خدائی) اپنی جگہ ٹھیرو۔ پھر ہم ان میں باہم خوب پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے (وہ مزعومہ) شرکاء (ان سے) کہیں گے تم ہماری عبادت تو کرتے نہ تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم کہیں گے ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا تھا کہ کھڑے رہو اپنی جگہ پر تم بھی اور تمہارے شریک بھی۔ تو ہم ان کے درمیان رشتے منقطع کردیں گے اور کہیں گے ان کے شریک (ان سے) کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے، پھر مشرکوں سے کہیں گے تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو تو ہم انہیں الگ الگ کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And the Day when We shall muster them all together, We shall say to those who associated others with Allah in His divinity: 'Keep to your places - you and those whom you associated with Allah.' Then We shall remove the veil of foreignness separating them. Those whom they had associated with Allah will say. 'It was not us that you worshipped.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (be mindful of) the Day when We shall gather them together, then We shall say to those who associated partners with Allah, :Wait in your place, you and your associate-gods. Then We will cause a split between them, and their associate-gods will say, :It was not us that you worshipped.

— Muhammad Taqi Usmani

And (be mindful of) the Day when We shall gather them together, then We shall say to those who associated partners with Allah, :Wait in your place, you and your associate-gods. Then We will cause a split between them, and their associate-gods will say, :It was not us that you worshipped.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the Day whereon We shall gather them all together, then We shall say to those who did set partners in worship with Us: "Stop at your place! You and your partners." Then We shall separate them, and their partners shall say: "It was not us that you used to worship."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when We gather them all together, then We say unto those who ascribed partners (unto Us): Stand back, ye and your (pretended) partners (of Allah)! And We separate them, the one from the other, and their (pretended) partners say: It was not us ye worshipped.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together - then We will say to those who associated others with Allah, "[Remain in] your place, you and your 'partners.' " Then We will separate them, and their "partners" will say, "You did not used to worship us,

— Saheeh International

We will tell the pagans on the day when every one is resurrected, "Stand with your idols wherever you are." Then We will separate them (from their idols) and their idols will protest against them saying, "You did not worship us.

— Muhammad Sarwar

And on the day when We will gather them all together, then We will say to those who associated others (with Allah): Keep where you are, you and your associates; then We shall separate them widely one from another and their associates would say: It was not us that you served:

— Muhammad Habib Shakir

Remember the Day whereon We shall gather them together, then We shall say un to those who associated: keep your place, ye and your associate gods. Then We shall cause split between them: and their associate-gods will say: it was not us that ye were worshipping.

— Abdul Majid Daryabadi

One day shall We gather them all together. Then shall We say to those who joined gods (with Us): "To your place! ye and those ye joined as 'partners' We shall separate them, and their "Partners" shall say: "It was not us that ye worshipped!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 28–30

میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ سب کا حشر ہوگا، ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کردیا جائے گا۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہوجائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہوجائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہوجائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–29

سورة یُوْنُس 36 متن میں فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ کے الفاظ ہیں۔ اس کا مفہوم بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ ہم ان کا باہمی ربط وتعلق توڑ دیں گے تاکہ کسی تعلق کی بنا پر وہ ایک دوسرے کا لحاظ نہ کریں۔ لیکن یہ معنی عربی محاورے کے مطابق نہیں ہیں۔ محاورہ عرب کی رو سے اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان تمیز پیدا کردیں گے، یا ان کو ایک دوسرے سے ممیز کردیں گے۔ اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے ہم نے یہ طرز بیان اختیار کیا ہے کہ ”ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے“ یعنی مشرکین اور ان کے معبود آمنے سامنے کھڑے ہوں گے اور دونوں گروہوں کی امتیازی حیثیت ایک دوسرے پر واضح ہوگی، مشرکین جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–29

اس کے بعد کی دو آیتوں میں ایک مکالمہ مذکور ہے جو اہل جہنم میں اور ان کو گمراہ کرنے والے بتوں یا شیطانوں کے درمیان محشر میں ہوگا، ارشاد فرمایا کہ اس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے تجویز کئے ہوئے معبود ذرا اپنی جگہ ٹھہرو تاکہ تمہیں اپنے عقیدہ کی حقیقت معلوم ہوجائے، اس کے بعد ان لوگوں میں اور ان کے معبودوں میں جو رشتہ اتحاد دنیا میں پایا جاتا تھا اس کو قطع کردیا جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے بت خود بول اٹھیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے، اور خدا کو گواہ بنا کر کہیں گے کہ ہم کو تمہاری مشرکانہ عبادت کی کچھ خبر بھی نہ تھی، کیونکہ نہ ہم میں حس و حرکت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 28–29

آگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 36: اوپر، وما لہم من اللہ من عاصم، میں یہ اشارہ جو فرمایا تھا کہ ابدی مایوسی اور ذلت سے چھڑانے میں ان کے مزعومہ شرکاء اور شفعاء کچھ کام آنے والے نہیں، آگے اس اشارے کی تفصیل فرما دی کہ آخرت میں ان کا کیا حال ہوگا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی وضاحت فرمادی کہ مجرد ظن کی بنیاد پر آرزؤوں کے جو ہوائی قلعے تعمیر کیے جاتے ہیں وہ اسی طرح مسمار ہوتے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُرَكَاۗؤُكُمْ ۚفَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ۔ فَكَفٰى…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 جَمَیْعًا سے مراد، ازل سے ابد تک کے تمام اہل زمین انسان اور جنات ہیں، سب کو اللہ تعالیٰ جمع فرمائے گا جس طرح کہ دوسرے مقام پر فرمایا (ۙ وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا) 18۔ الکہف :47) ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ 28۔ 2 ان کے مقابلے میں اہل ایمان کو دوسری طرف کردیا جائے گا یعنی اہل ایمان اور اہل کفر و شرک کو الگ الگ ایک دوسرے سے ممتاز کردیا جائے گا جیسے فرمایا (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ) 36۔ یس :59) اس دن لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے ' یعنی دو گروہوں میں (ابن کثیر) 28۔ 3 یعنی دنیا میں ان کے درمیان آپس میں جو خصوصی تعلق تھا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–29

16: جن بتوں کو انہوں نے خدا مان رکھا تھا وہ تو بےجان تھے، اس لئے انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے، اس لئے جب اللہ تعالیٰ ان کو زبان عطا فرمائیں گے تو شروع میں تو وہ صاف انکار کردیں گے کہ یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، پھر جب بعد میں انہیں پتہ چلے گا کہ واقعی ان کی عبادت کرتے تھے تو وہ کہیں گے کہ اگر کرتے بھی تھے تو ہمیں اس کا پتہ نہیں تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–29

ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔ ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔ فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جن کو تم نے اپنے خیال میں خدا کا شریک ٹھہرا رکھا تھا، یا جن کو خدا کے بیٹے بیٹیاں کہتے تھے، مثلاً مسیح (علیہ السلام) جو نصاریٰ کے نزدیک " ابن اللہ " بلکہ " عین اللہ " تھے یا " ملائکۃ اللہ " یا " احبارو رہبان " کہ انہیں بھی ایک حیثیت سے خدائی کا منصب دے رکھا تھا، یا اصنام و اوثان جن پر مشرکین مکہ نے خدائی کے اختیارات تقسیم کر رکھے تھے، سب کو حسب مراتب اپنی اپنی جگہ کھڑے ہونے کا حکم ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ کی بات نہیں ہو رہی جن کے بارے میں کسی کو پتا نہیں کہ ان کی اصل کیا تھی ‘ بلکہ یہ اولیاء اللہ ‘ نیک اور برگزیدہ بندوں کی بات ہو رہی ہے جن کے ناموں پر مورتیاں اور بت بنا کر ان کی پوجا کی گئی ہوگی۔ جیسے قوم نوح علیہ السلام نے ودّ ‘ سواع اور یغوث وغیرہ اولیاء اللہ کی پوجا کے لیے ان کے بت بنا رکھے تھے اس بارے میں تفصیل سورة نوح میں آئے گی۔ ہمارے ہاں صرف یہ فرق ہے کہ بت نہیں بنائے جاتے ‘ قبریں پوجی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 28–29

41 زَیّل کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر اس طرح الگ کردینا ہے جس سے وہ دوسروں سے ممیز ہوسکے یعنی میدان محشر میں پہلے تو ہم مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو کہیں گے کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو پھر عبادت کرنے والوں کو الگ اور معبودوں کو الگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کریں گے تاکہ ایک دوسرے کو روبرو ہو کر سوال و جواب کرسکیں۔ 42 ان میں وہ سب اشیاء شامل ہیں جن کی دنیا میں پوجا کی جاتی رہی ہے اس میں شجر و حجر بھی شامل ہیں۔ مویشی بھی، جیسے گائے بیل، فرشتے بھی، انبیاء بھی جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور بزرگان دین اور مشائخ اور پیران طریقت بھی۔ دیوی دیوتا اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

49۔ (میدان حشر میں) (آیت) ” نحشرھم جمیعا “۔ یعنی سارے خلائق کو۔ 50۔ (ذرا کی ذرا تاکہ تم پر تمہارے عقیدہ کی حقیقت روشن ہوجائے) (آیت) ” شرکآؤکم “۔ یعنی وہ جنہیں تم اپنے زعم میں شریک خدائی سمجھتے رہے ہو۔ (آیت) ” مکانکم “۔ یعنی اپنی جگہ ٹھیرجاؤ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ امکثوا مکانکم، اے امکثوا مکانکم وقفوا فی موضعکم (ابن جریر) اے الزموا مکانکم (روح) 51۔ (تو آج ہم تمہارے شرک کے وبال میں کیوں پھنسیں) (آیت) ” زیلنا۔ زیلنا کے کھلے ہوئے معنی فرقنا کے ہیں۔ لیکن یہاں یہ صیغہ باب تفعیل سے لایا گیا ہے تاکہ معنی سے شدت تکثیر کا اظہار ہوسکے وقال فزیلنا ارادۃ تکثیرالفعل وتکریرہ ولم یقل فزلنا بینھم (ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–30

آیت نمبر 21 تا 30 ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔ ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔ فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) اور جس روز ہم ان کافروں اور ان کے تمام معبودوں کو جمع کریں گے اور ان لوگوں سے جنہوں نے بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود اپنی جگہ پر ٹھہرو، پھر ہم ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ تب کافر کہیں گے کہ انہوں نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا کہ آپ کو چھوڑ کر ان کی ہم عبادت کریں اور ان کے معبود ان کی تردید کرکے کہیں گے کہ کیا تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، کفار ان کے جواب میں کہیں گے بیشک تم نے ہمیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا : اس آیت میں بھی کفار کی ایک رسوائی بیان کی گئی ہے کہ جس دن ہم شروع سے آخر تک کے تمام جن و انس، مسلم و کافر اور نیک و بد کو اکٹھا کریں گے (دیکھیے کہف : 47۔ مریم : 93، 94) اس دن شرک کرنے والوں اور جنھیں وہ شریک بناتے رہے ان سب کو بھی اکٹھا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی عظمت و رفعت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے سے کیا ہے کہ ”ہم“ جمع کریں گے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے واحد، احد ہونے میں کیا شک ہے، پورا قرآن ہی یہ سمجھانے کے لیے نازل ہوا کہ وہ ذات پاک وحدہ لا شریک لہ ہے۔ ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۔۔ : پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 28۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویوم نحشرھم “۔ اور جس دن ہم انہیں جمع کریں گے اور حشر کا معنی جمع کرنا ہے، (آیت) ” جمیعا “ یہ حال ہے، (آیت) ” ثم نقول للذین اشرکوا “۔ پھر ہم حکم دیں گے ان کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنائے، (آیت) ” مکانکم “ یعنی تم اپنی اپنی جگہ کو لازم پکڑو اور اسی پر ثابت قدم رہو۔ اور اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو۔ (آیت) ” انتم وشرکآؤکم “۔ (تم اور تمہارے جھوٹے معبود) اور یہ وعید ہے۔ (آیت) ” فزیلنا بینھم “۔ یعنی ہم تفریق ڈال دیں گے اور ہم اس دوستی اور تعلق کو توڑ دیں گے جو ان کے درمیان دنیا میں قائم تھا، کہا جاتا ہے : زیلتہ فتزیل، ای فرقتہ فتفرق (میں نے اسے علیحدہ کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–32

معبودان باطلہ کی بیزاری : 1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویوم نحشرھم “ میں ” الحشر “ سے مراد ہے موت۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فزیلنا بینہم “ یعنی ہم نے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ جس میں نرمی ہوگی۔ مشرک لوگ توحید والوں کے سامنے یہ اظہار کریں گے کہ ان کی مغفرت کردی جائے گی تو وہ کہیں گے (آیت) ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین (22) “ (الانعام آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَوْمَ [ اور جس دن ] نَحْشُرُھُمْ [ ہم اکٹھا کریں گے ان کو ] جَمِيْعًا [ سب کے سب کو ] ثُمَّ نَقُوْلُ [ پھر ہم کہیں گے ] لِلَّذِيْنَ [ ان سے جنھوں نے ] اَشْرَكُوْا [شرک کیا ] مَكَانَكُمْ [ (تم لوگ کھڑے ہو) اپنی جگہ پر ] اَنْتُمْ [ تم بھی ] وَشُرَكَاۗؤُكُمْ ۚ [ اور تمہارے شریک بھی ] فَزَيَّلْنَا [ پھر ہم الگ الگ کریں گے ] بَيْنَھُمْ [ (ان کو ) ان کے مابین سے ] وَقَالَ [ اور کہیں گے ] شُرَكَاۗؤُھُمْ [ ان کے شریک لوگ ] مَّا كُنْتُمْ [ نہیں تھے تم کہ ] اِيَّانَا [ صرف ہماری ہی ] تَعْبُدُوْنَ [ بندگی کرتے تھے ] (آیت ۔ 28) مکانکم مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–29

باطل معبود اپنے پرستاروں سے کہیں گے کہ ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے ان آیات میں روز قیامت کا ایک منظر بیان فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ وہ دن قابل ذکر ہے جبکہ ہم سب کو جمع کریں گے۔ جمع ہونے والوں میں موحدین بھی ہوں گے اور مشرکین بھی ‘ مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے وہ بھی حاضر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ شرک کرنے والو ! تم اور تمہارے وہ معبود جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ یعنی انتظار کرو اور دیکھو تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے درمیان جدائی کردی جائے گی۔ مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے وہ اپنی پرستش کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم ہماری عبادت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–30

میدان حشر میں کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان قال اللہ تعالیٰ ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان کے درجات اخروی اور نعیم ابدی اور کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان تھا۔ اب اس آیت میں بھی کافروں کی ایک اور ذلت اور رسوائی کا بیان ہے وہ یہ کہ قیامت کے دن عابد اور معبود۔ دنوں ہی کا حشر ہوگا اور بعد ازاں وہ معبود جن کی یہ مشرکین دنیا میں پرستش کرتے تھے اور جن کو اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔ قیامت کے دن۔ یہ معبودین اپنے عابدین سے بری اور بیزار ہوجائیں گے کہ تم لوگ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اپنی خواہش کی پرستش کرتے تھے ہمیں تو تمہاری پرستش کی خبر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

43: تخویف اخروی مع بیان ثمرہ دلیل۔ “ مَکَانَکُمْ ” سے پہلے فعل ناصب محذوف ہے اي الزموا۔ مذکورہ بالا دلائل سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ مشرکین جن معبودانِ باطلہ کی عبادت کرتے اور جن کو عنداللہ شفیعِ غالب خیال کرتے ہیں وہ محض عاجز و درماندہ ہیں اور ان کے اختیار میں کسی کا نفع و ضرر نہیں یہاں بطور نتیجہ اور ثمرہ آخرت کا منظر پیش کیا گیا کہ دیکھ لو جن کو تم متصرف و کارساز اور سفارشی سمجھتے ہو قیامت کے دن وہ تمہارے کام تو کیا آئیں گے یا تمہاری سفارز تو کیا کریں گے بلکہ وہ تو سرے سے تمہاری عبادت اور پکار ہی کا انکار کدیں گے اور میدانِ حشر میں علی رؤوس الشہاد خدا کی قسم کھا کر اعلان کریں گے کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 28–30

میدان حشر ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی ایک دوسرے طریقے پر تردید فرمائی ہے اور ساتھ ساتھ معاد کا مسئلہ بھی بیان فرمایا ہے ۔ قیامت پر یقین رکھنا بھی اہم اجزائے ایمان میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں قیامت اور حشر نشر کے واقعات کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے اس سورة میں پہلے شرک کی تردید اور نیکی اور بدی کا انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے اور اب حشر نشر کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویوم نحشرھم جمیعا “ اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ حشر کا معنی اکٹھا کرنا ہوتا ہے دوسری جگہ فرمایا (آیت) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ (الصفت) اکٹھا کرو ان کو جنہوں نے ظلم یعنی کفر اور شرک کیا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُرَكَاۗؤُكُمْ۝ 0 ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ۝ 28 حشر الحَشْرُ : إخراج الجماعة عن مقرّهم وإزعاجهم عنه إلى الحرب ونحوها، وروي : «النّساء لا يُحْشَرن» أي : لا يخرجن إلى الغزو، ويقال ذلک في الإنسان وفي غيره، يقال : حَشَرَتِ السنة مال بني فلان، أي : أزالته عنهم، ولا يقال الحشر إلا في الجماعة، قال اللہ تعالی: وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] وَحَشَرْناهُمْ فَلَمْ نُغادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً [ الكهف/ 47] ، وسمي يوم القیامة يوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–32

ترکیب : عامل یوم اذکر محذوف مکانکم ظرف مبنی ہے لوقوعہ موقع الامر ای الزموا وفیہ ضمیر فاعل وانتم توکید لہ والکاف والمیم فی موضع جر عند قوم وعند آخرین الکاف للخطاب لا موضع لھا کاف فی ایاکم وشرکاء کم عطف علی الفاعل فزیلنا عین الکلمۃ و اولانہ من زال 2 ؎ یزول وقیل ہومن زلت الشیء ازیلہ فعینہ یائ۔ تفسیر : ویوم نحشرھم یہ بیان سابقہ کا تتمہ ہے یعنی ان بت پرستوں کے ساتھ حشر کے روز یہ کیا جاوے گا جو لوگ دنیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو پوجتے ہیں خواہ ملائکہ کو ‘ خواہ جنوں اور ارواح انبیاء و اولیاء اللہ کو ‘ خواہ عناصر اور کواکب کو ‘ خواہ ان کے نام کی مورتیں بنا کر یا یونہی ان کو پکارتے ہر کاروبار میں ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–29

وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ ج فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُ ھُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَاتَعْبُدُوْنَ ۔ (یونس : 28) (اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم جمع کریں گے سب کو، پھر ہم شرک کرنے والوں کو حکم دیں گے کہ ٹھہر جاؤ اپنی جگہوں پر تم اور تمہارے شرکاء، پھر ہم ان کے درمیان تفریق کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ ) مشرکین اور ان کے شرکاء آخرت میں گزشتہ آیات کریمہ میں شرک کے ابطال پر مختلف قسم کے دلائل دیئے گئے ہیں جن میں عقلی بھی ہیں، تاریخی بھی، واقعاتی بھی ہیں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کو جہنم دھکیلنے سے پہلے ایک مقام پر ٹھہرا کر یہ سوال کیا جائے گا۔ لوگوں کے درمیان جب عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ صادر ہوجائے گا تو جنتیوں کو جنت میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ وہ شاداں وفرحاں، خراماں خراماں جنت میں داخل ہوں گے اور جگہ جگہ ملائکہ انہیں سلام پیش کریں گے۔ ان کے مقابلے میں جب جہنمیوں کو جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا تو لمحہ لمحہ اور قد م قدم پر ان پر اللہ کی پھٹکار اور ملائکہ کی جھڑکیاں ہوں گی۔ جہنم کے کنارے کھڑا کرکے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم ان معبودوں کی عبادت کرتے تھے ؟ جہنم کی ہولناکیاں اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو دیکھتے ہوئے مشرکین کے معبود واشگاف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

منظر حشر : 28: وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ ۔ ہُمْ سے کفار وغیرہ مراد ہیں۔ جَمِیْعًا (تمام) یہ حال ہے۔ ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ ترجمہ : یعنی تم اپنی جگہ رک جائو۔ اس وقت تک یہاں سے نہ ہٹو جب تک اپنا انجام نہ دیکھ لو۔ اَنْتُمْ (تم) ۔ اس سے مکانکم کی ضمیر کی تاکید کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ الزموا کے قائم مقام استعمال ہوا۔ وَشُرَکَآ ؤُ کُمْ (اور تمہارے شرکاء) ماقبل پر معطوف ہے۔ فَزَیَّلْنَا (ہم تفریق کردیں گے) ۔ بَیْنَھُمْ (ان کے درمیان) ان کے ساتھیوں کو الگ کردیں گے۔ اور وہ تعلق کاٹ دیں گے جو دنیا میں ان کے درمیان تھا۔ وَقَالَ شُرَکَآ ؤُ ھُمْ (کہیں گے ان کے شریک) جنکی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(28) ویوم نحشر ھم جمعیا ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم یعنی تم اپنی جگہ کو لازم پکڑو انتم و شرکائو کم “ ۔ یعنی بت : اور مطلب یہ ہے کہ پھر ہم ان شرک کرنے والوں کو کہیں گے کہ تم اور تمہارے شرکاء اپنی جگہ کو لازم پکڑو وہاں سے نہ ہٹو ۔” فزیلنا “ ہم مؤمنین کو ان سے دور کردیں گے اور ان کے آپس کے دنیاوی رشتے کاٹ دیں گے ۔ یہاں تک کہ ان کے معبود بھی ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے۔ ” بینھم “ مشرکین اور ان کے شرکاء کو اور دنیا کا جو تعلق تھا وہ ختم کردیں گے۔ یہ اس ” شرکاء و ھم “ یعنی بت ” ما کنتم ایا تعبدون “ ہمارے مطالبہ کی وجہ سے تو وہ مشرکین کہیں گے کیوں نہیں ہم تو تمہاری عبادت کرتے تھے تو بت جواب میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

28۔ پہلے صور کے ساتھ سب دنیا فنا ہو کر دوسرے صور کے ساتھ سب قبروں سے ننگے پنڈے ننگے پاؤں جو اٹھیں گے اور شام کے ملک کے ایک صاف میدان میں حساب کے لئے جمع ہوں گے یہ اس وقت کا حال ہے اسی وقت آفتاب نیچا ہوگا اور شدت کی گرمی ہو کر لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے موافق پسینا آوے گا کسی کو ٹخنوں تک اور کسی کو گھٹنوں تک اور کوئی اپنے پسینے میں غوطے کھاوے گا اور چالیس برس تک لوگ اسی حال میں حساب کے منتظر کھڑے رہیں گے اس حال سے لوگ یہاں تک اکتاویں گے کہ کہیں گے خیر ہمارا حساب ہو کہ ہم دوزخ میں ہی بھیج دئیے جاویں۔ آفتاب جو نیچا ہوگا اس کی مقدار کی بابت مقداد ؓ کی روایت سے مسلم کی حدیث میں یہ ہے کہ لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–30

آیت : (28-30) (ویوم نحشرھم جمیعا) ” اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ “ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے ‘ ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ (ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکاء کم) ” پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ ‘ تم اور تمہارے شریک “ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو ‘ تاکہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ (فزیلنا بینھم) ” پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں ہے۔ “ یعنی ہم بعد بدنی اور بعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے ‘ دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لئے خالص محبت و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–29

59 ۔ معبودان من دون اللہ اپنے پجاریوں کی پوجا سے قطعی بیخبر : سو اس سے تصریح فرمادی گئی کہ مشرکوں کے خود ساختہ شرکاء اور معبود من دون اللہ اپنے عابدوں سے صاف وصریح طور پر کہیں گے کہ ہم تمہاری عبادت و بندگی سے قطعی طور پر بیخبر تھے۔ ان کے جواب کی تاکید ملاحظہ ہو کہ اول تو (ان) تاکید یہ ہے۔ کیونکہ اصل میں یہ نون ثقیلہ ہے یعنی (ان) اور پھر خبر پر لام تاکید بھی داخل ہے۔ سو اس طرح وہ تاکید در تاکید کے ساتھ ان کی عبادت کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ نہ تو ہمیں تمہاری اس عبادت کا پتہ تھا نہ ہم نے کبھی تمہیں اس کا حکم دیا تھا اور نہ ہم اس پر راضی تھے۔ یہ سب کچھ تم لوگوں نے ازخود شیطان کے اغواء واضلال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 28–30

حساب کتاب کا دن تشریح : ان آیات میں حشر نشر، یعنی میدان حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ہر قسم کے گنہگار کو اس کے گناہ کے مطابق سزا ملے گی یہاں مشرکین کے بارے میں ذکر کیا جا رہا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں کو کہیں گے ہمیں بچائو، جبکہ وہ چھوٹے خدا خواہ چاند، سورج ستارے، آگ، ہوا، پانی، بت، قبر یا مزار ہوں وہ بھلا اتنی اہلیت کہاں رکھ سکتے ہیں کہ وہ ان کو بچا سکیں یا یہ جان سکیں کہ ہاں یہ لوگ ہماری عبادت کرتے تھے لہٰذا وہ صاف انکار کردیں گے۔ کیونکہ عبادت کے لائق تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کو وقت پر خبردار کردیا جائے کہ انہوں نے مرنے کے بعد اللہ کے حضور ضرور حاضر ہونا ہے وہاں بڑا سخت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–30

آیات 21 تا 30 اسرار و معارف کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ۔ اس آیت میں بھی کفار کی فضیحت کا بیان ہے۔ (کبیر) یعنی مشرکین اور ان کے معبودوں کو ایک جگہ جمع ہونے کا حکم دیں گے تاکہ ان کے معاملے کا فیصلہ کیا جائے۔9 ۔ یعنی ان کے درمیان دنیا میں جو دوستی یا عبدیت و معبودیت کا تعلق تھا وہ منقطع ہوجائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بت ہمارے شفیع بنیں گے مگر یہ قیامت کے دن ان سے اظہار برأت کرینگے اس میں مشرکین کی انتہائی رسوائی کی طرف اشارہ ہے۔ (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:28) مکانکم۔ ای الزموا مکانکم ولا تبرحوا۔ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ۔ اپنی اپنی جگہ کو مت چھوڑو۔ اپنی اپنی جگہ پر قائم رہو۔ زیلنا۔ زیل یزیل تزییل (تفعیل) متفرق اور پراگندہ کرنا۔ زیلنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے جدا کردیا۔ ہم نے تفریق کردی۔ فزیلنا بینہم پھر ہم ان کے باہمی تعلقات منقطع کردیں گے۔ ماضی بمعنی مضارع زیل مادہ۔ ما کنتم ایان تعبدون ۔ ما نافیہ ہے۔ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–30

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30 الحسنی (بھلائی، نیکی) لا یرھق (نہ ڈھانپ لے گی) فتر (سیاہی، اندھیرا) کسبوا (انہوں نے کمایا) السیئات (سیتہ) ، برائیاں عاصم (بچانے والا) اغشیت (ڈھانپ لی گئی) قطع (ٹکڑے) مظلم (سیاہی) نحشر (ہم جمع کریں گے) مکانکم (تم اپنی جگہ رہو) زیلنا (ہم پھوٹ ڈال دیں گے) ھنالک (اسی جگہ) اسلفت (اس نے پہلے سے کیا تھا) ضل (گم ہوگیا، گم ہوجائیں گے) تشریح :- آیت نمبر 26 تا 30 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم یعنی اچھے اور برے اعمال کے نتائج اور انجام کی وضاحت فرمائی ہے ۔ فرمایا کہ وہ دن جب سارے انسان میدان حشر میں جمع ہوں گے اس وقت اہل جنت کے چہرے تو چمک رہے ہوں گے جب کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قیامت کے دن بتوں اور مشرکوں کا جھگڑا اور بتوں کا کلام کرنا پہلے صور کے ساتھ سب دنیا فنا ہو کر دوسرے صور کے سات سب قبروں سے ننگے پنڈے جو اٹھیں گے، اور شام کے ملک کے قریب ایک صاف میدان میں حساب کے لئے جمع ہوں گے۔ یہ اس وقت کا حال ہے جس وقت آفتاب نیچا ہوگا اور گرمی کی شدت سے لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے موافق پسینہ آئے گا۔ پھر مشرکوں سے سوال ہوگا کہ تم اور تمہارے شرکاء اپنے مقاموں پر ٹھہرے رہو۔ پھر ہم ان مشرکوں اور ان کے معبودوں کے درمیان جدائی کردیں گے اور کافروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے بتوں کی پرستش کیوں کی۔ کافر کہیں گے کہ ان بتوں نے ہم کو اپنی عبادت کا حکم کیا تھا۔ حق تعالیٰ ان بتوں کو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–30

(ف 1) جب کہ دنیا کا یہ حشر ہے تو پھرجائے پناہ کہاں ہے ؟ وہ کون ہے جس کی وجہ سے صحبت وسل امتی کی راہیں کھلتی ہیں ، اس آیت میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر فنا وموت کے بعد نجات حاصل کرنا چاہتے ، اور دائمی خوش زندگی کے خواہشمند ہو تو اللہ سے اچھا تعلق پیدا کرو ، وہ حی وقیوم ہے ، اسی کی ذات کو ثبات وقرار ہے ، وہ سل امتی کی دعوت دیتا ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

28 اور وہ دن قابل ذکر ہے کہ جس دن ہم ان کو جمع کریں گے پھر ہم ان سے کہیں گے کہ جنہوں نے شرک کا ارتکاب کیا ہے اور جو مشرک ہیں کہ تم اور تمہارے وہ خود ساختہ شریک اپنی انی جگہ کھڑے رہو پھر ہم ان مشرکوں میں اور ان کے تجویزکردہ شرکاء اور معبودان باطلہ میں تفرقہ اور پھوٹ ڈال دیں گے اور وہ خود ساختہ شریک ان مشرکوں سے کہیں گے تم تو ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے اور تم تو ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–29

ف 1۔ اگر کسی کو شبہہ ہوگیا کہ کیا بت بھی بولیں گے تو جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی محال نہیں۔ 2۔ ان کا غافل ہونا ان کی عبادت سے ظاہر ہے اس واسطے کہ بتوں کو ایسا شعور ظاہر ہے اس کہ یہاں نہیں ہے اور اگر معبودین مثل ملائکہ وغیرہم کو بھی عام لیا جائے تو بھی غافل ہونا صحیح ہے کیونکہ علم ملائکہ وغیرہم کا محیط نہیں ہے اور سب اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 28–29

سب کے جمع ہونے کے روز اہل شرک و کفر سے کیا کیا جائے گا ؟ ۔ 47 جس دن سب اچھے اور برے لوگوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کیا جائے گا اس روز ہم مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے وہ لوگ جن کو تم نے اپنے عقیدہ میں اپنے معبود بنائے رکھا تھا اس جگہ ٹھہر جائو اور اس طرح ان کو پیش آنے والے واقعات سنا کر انہی غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ آج تم کو ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ دلائل پیش کر کے دعوت توحید دے رہا ہے لیکن تم پرواہ نہیں کرتے اور اپنے ان بزرگوں اور دوستوں کو جن کی وفات کے بعدتم نے ان کے بت یا قبریں بنا لی ہیں اور ان کو پوجنے لگے ہو یاد رکھو کہ قیامت کا دن آنے والا ہے اس روز تمہارے یہ سارے معبود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–29

In the two verses (27, 28) appearing next, there is a dialogue between the people of Jahannam and the idols or satans who had led them astray. The locale will be the plain of Resurrection. It was said: On that day, We shall gather everyone. Then, to the Mushriks We shall say that, ` you and your gods whom you had associated' with Us in Our divinity stay in your places where you are, so that you can find out the reality of your conviction.' After that, the connection between these people and their so-called gods as it existed in the mortal world will be disconnected. The result will be that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36. The words of the Qur'anic text are Some Qur'an- commentators have interpreted these words to signify that God will sunder the relationship that has come to exist in the worldly life between false deities and their polytheistic devotees with the result that one will not show any solicitude to the other. But such an interpretation is not consistent with the Arabic literary usage. According to Arabic usage, the words suggest that God will cause the one to become distinct from the other. It is this sense which is reflected in our translation: '. . . We shall remove the veil of strangeness…

Read the full tafseer →