ایک تقابلی جائزہ
نیکوں کا حال بیان فرما کر اب بدوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ ان کی نیکیاں بڑھا کر ان کی برائیاں برابر ہی رکھی جائیں گی۔ نیکی کم مگر بدکاریاں ان کے چہروں پر سیاہیاں بن کر چڑھ جائیں گی ذلت و پستی سے ان کے منہ کالے پڑجائیں گے۔ یہ اپنے مظالم سے اللہ کو بیخبر سمجھتے رہے حالانکہ انہیں اس دن تک کی ڈھیل ملی تھی۔ آج آنکھیں چڑھ جائیں گی شکلیں بگڑ جائیں گی، کوئی نہ ہوگا جو کام آئے اور عذاب سے بچائے، کوئی بھاگنے کی جگہ نہ نظر آئے گی۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ کافروں کے چہرے ان کے کفر کی وجہ سے سیاہ ہوں گے، اب کفر کا مزہ اٹھاؤ۔ مومنوں کے منہ نورانی اور چمکیلے، گورے اور صاف ہوں گے، کافروں کے…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 34
یعنی نیکوکاروں کے برعکس بدکاروں کے ساتھ معاملہ یہ ہوگا کہ جتنی بدی ہے اتنی ہی سزا دے دی جائے گی۔ ایسا نہ ہوگا کہ جرم سے ذرہ برابر بھی زیادہ سزا دی جائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو النمل، حاشیہ 109 الف)۔
سورة یُوْنُس 35
وہ تاریکی جو مجرموں کے چہرے پر پکڑے جانے اور بچاؤ سے مایوس ہوجانے کے بعد چھا جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
اس کے بعد کی دو آیتوں میں ایک مکالمہ مذکور ہے جو اہل جہنم میں اور ان کو گمراہ کرنے والے بتوں یا شیطانوں کے درمیان محشر میں ہوگا، ارشاد فرمایا کہ اس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے تجویز کئے ہوئے معبود ذرا اپنی جگہ ٹھہرو تاکہ تمہیں اپنے عقیدہ کی حقیقت معلوم ہوجائے، اس کے بعد ان لوگوں میں اور ان کے معبودوں میں جو رشتہ اتحاد دنیا میں پایا جاتا تھا اس کو قطع کردیا جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے بت خود بول اٹھیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے، اور خدا کو گواہ بنا کر کہیں گے کہ ہم کو تمہاری مشرکانہ عبادت کی کچھ خبر بھی نہ تھی، کیونکہ نہ ہم میں حس و حرکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
25۔ 27: وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ ۭ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ۔ لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ ۚ كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْن۔
وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ۔ سلام کے معنی سکھ اور چین…
Read the full tafseer →27۔ 1 گزشتہ آیت میں اہل جنت کا تذکرہ تھا، اس میں بتلایا گیا تھا کہ انہیں ان کے نیک اعمال کی جزا کئی کئی گنا ملے گی اور پھر مزید دیدار الٰہی سے نوازے جائیں گے۔ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ برائی کا بدلہ برائی کے مثل ہی ملے گا سَيِّئَاتِ سے مراد کفر اور شرک اور دیگر معاصی ہیں۔
27۔ 2 جس طرح اہل ایمان کو بچانے والا اللہ تعالیٰ ہوگا اس طرح انہیں اس روز اپنے فضل خاص سے نوازے گا علاوہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں کو شفاعت کی اجازت بھی دے گا، جن کی شفاعت بھی وہ قبول فرمائے گا۔
27۔ 3 یہ مبالغہ ہے کہ ان کے چہرے اتنے سخت سیاہ ہونگے۔ اس کے برعکس اہل ایمان کے چہرے ترو تازہ اور روشن ہونگے جس…
Read the full tafseer →15: یعنی نیکیوں پر تو ثواب کئی گنا دیا جائے گا جس میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی وہ نعمت بھی داخل ہے جس کا ابھی ذکر ہوا، لیکن برائی کی سزا اسی برائی کے برابر ملے گی، اس سے زیادہ نہیں۔
Read the full tafseer →والذین کسبوا السیات جزاء سیءۃ بمثلھا وترھقھم ذلۃ اور جن لوگوں نے برے کام کئے ‘ ان کو بدی کی سزا بدی کے برابر ملے گی ‘ اور ان پر ذلت چھائے گی۔ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا کا عطف اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْاپر ہے ‘ یا یہ مبتداء ہے اور جزآء سیءۃ خبر ہے ‘ یا کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ خبر ہے ‘ یا اولٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّار خبر ہے۔ تَرْھَقُھُمْ یعنی ان کو ڈھانک لے گی۔
مالھم من اللہ من عاصم ان کو اللہ کے غضب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مِنْ عَاصِمٍ میں مِنْ زائد ہے۔ یا اللہ کی طرف سے کوئی بھی ان کو عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا۔
کانما اغشیت وجوھھم قطعًا من الیل مظلمًا ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات…
Read the full tafseer →1 یعنی ہدی سے زائد نہ ہوگا۔ کم سزا دیں یا بعض برائیوں کو بالکل معاف کردیں ان کو اختیار ہے۔
2 یعنی ان کے چہرے اس قدر سیاہ و تاریک ہوں گے گویا اندھیری رات کی تہیں ان پر جما دی گئی ہیں (اعاذنا اللہ منہا)
Read the full tafseer →آیت 27 وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍم بِمِثْلِہَالا
یعنی جیسی ان کی برائی ہوگی ویسا ہی اس کا بدلہ ہوگا ‘ اس میں کچھ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →40 اس دنیا میں بھی جب کوئی مجرم پکڑا جاتا ہے یا اپنی رہائی سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس کے چہرے پر سیاہی اور ذلت چھا جاتی ہے اور یہ لوگ چونکہ عادی مجرم ہوں گے پھر ان کے بچاؤ کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ لہذا ان کے چہروں پر اس قدر تاریکی چھا رہی ہوگی جیسے اندھیری رات کا کچھ حصہ ان کے چہروں پر جما دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →47۔ اور ان کے دیوی، دیوتا، اکابر واعاظم جن پر آج انہیں اتنا بھروسہ ہے، یہ سب اس روز بیکار ہی نظر آئیں گے۔ (آیت) ” بمثلھا “۔ یعنی بدی کی سزا بس بدی کے برابر ہی ملے گی، اس سے زاید نہیں، یہ لفظ جزاء بدی کے سلسلہ میں وزیادۃ کے مقابل آیا ہے جو نیکی کے سلسلہ میں آچکا ہے۔ یعنی نیکی کا صلہ تو اصل معاوضہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ملے گا لیکن بدی کا معاوضہ بس اسی درجہ کا ملے گا، اس سے زاید نہیں۔ والمقصود من ھذا القید التنبیہ علی الفرق بین الحسنات وبین السیات لانہ تعالیٰ ذکر فی اعمال البرانہ یوصل الی المشتغلین بھا الثواب مع الزیادۃ واما فی عمل السیئات فانہ تعالیٰ ذکر انہ لا یجازی الا بالمثل (کبیر) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…
Read the full tafseer →والذین کسبوا السیات جزاء سیءۃ بمثلھا وترھقھم ذلۃ اور جن لوگوں نے برے کام کئے ‘ ان کو بدی کی سزا بدی کے برابر ملے گی ‘ اور ان پر ذلت چھائے گی۔ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا کا عطف اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا پر ہے ‘ یا یہ مبتداء ہے اور جزآء سیءۃ خبر ہے ‘ یا کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ خبر ہے ‘ یا اولٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّار خبر ہے۔ تَرْھَقُھُمْ یعنی ان کو ڈھانک لے گی۔
مالھم من اللہ من عاصم ان کو اللہ کے غضب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مِنْ عَاصِمٍ میں مِنْ زائد ہے۔ یا اللہ کی طرف سے کوئی بھی ان کو عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا۔
کانما اغشیت وجوھھم قطعًا من الیل مظلمًا ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ان کے چہروں پر اندھیری…
Read the full tafseer →(27) اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کیا تو اس کے بدلہ میں انہیں جہنم ملے گی اور ان پر ذلت و غم سوار ہوگا اور انھیں اللہ کی عذاب سے کوئی نہ بچا سکے گا گویا کہ غم سے ان کے چہروں پر اندھیری رات پردے چڑھادیئے گئے یہ لوگ دوزخی ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ۔۔ : اوپر محسنین (نیکی کرنے والوں) کا بیان تھا، اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جو سیئات (برائیوں) کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ”سَیِّئَۃٍ“ میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کسی بھی برائی“ کیا ہے۔ گزشتہ آیت میں ذکر ہے کہ نیکی کا بدلہ اس سے بہت اچھا، یعنی جنت اور مزید دیدارِ الٰہی کی صورت میں ملے گا، اب بتایا کہ برائی خواہ کوئی ہو اس کا بدلہ صرف اس کے برابر ملے گا، زیادہ یا کئی گنا نہیں ملے گا۔ انھیں بہت بڑی ذلت گھیرے ہوئے ہوگی، یعنی ”ذِلَّۃٌ“ میں تنوین تہویل و تعظیم کے لیے ہے۔
مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ : حقیقت میں تو دنیا ہو یا آخرت، کہیں بھی اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 27۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” والذین کسبوا السیات “ اور جنہوں نے گناہ کے اعمال کیے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد شرک ہے (یعنی جنہوں نے شرک کیا) (آیت) ” جزآء سیئۃ بمثلھا “۔ جزآء یہ مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور اس کی خبر (آیت) ” بمثلھا “ ہے، ابن کیسان نے کہا ہے : اس میں ہازائدہ ہے اور اس کا معنی ہے (آیت) ” جزآء سیئۃ بمثلھا “۔ (برائی کی سزا اس کی مثل ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہا اپنے ما بعد سمیت خبر ہے اور یہ محذوف کے متعلق ہے اور یہ اس کے قائم مقام ہے اور اس کا معنی ہے : جزاء سیئۃ کائن بمثلھا (برائی کی سزا اسی جیسی ہوگی) جیسا کہ تیرا یہ قول ہے : انما انا بک یعنی انما انا کائن بک اور…
Read the full tafseer →برے لوگوں کا برا انجام :
1:۔ ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین کسبوا السیات “ یعنی جن لوگوں نے بڑے گناہ کئے (اور) (آیت) ” جزآء سیئۃ بمثلھا “ یعنی اس برائی کی سزا آگ ہے (آیت ) ” وترھقہم ذلۃ “ یعنی ذلت (ان کو چھاجائے گی) (آیت) ” کانما اغشیت وجوھہم قطعا من الیل مظلما “ میں قطع سے مراد ہے۔ سیاہی اس کو سورة بقرہ کی اس آیت نے منسوخ کردیا یعنی (آیت ) ” بلی من کسب سیئۃ “ (البقرہ آیت 87)
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وترھقہم ذلۃ “ یعنی ان کو ذلت اور سخت ڈھانک لے گی۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابو الشیخ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مالہم من…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور جنھوں نے ] كَسَبُوا [ کمائیں ] السَّيِّاٰتِ [ برائیاں ] جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ [ (تو) کسی برائی کا بدلہ ] بِمِثْلِهَا ۙ [ اسی کے جیسا ہے ] وَتَرْهَقُھُمْ [ اور چھائے گی ان پر ] ذِلَّةٌ ۭ [ ایک ذلت ] مَا لَھُمْ [ نہیں ہے ان کے لیے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ] مِنْ عَاصِمٍ ۚ [ کوئی بھی بچانے والا ] كَاَنَّمَآ [ جیسے کہ بس ] اُغْشِيَتْ [ ڈھانپ دیئے گئے ] وُجُوْهُھُمْ [ ان کے چہرے ] قِطَعًا [ ایک ٹکڑے سے ] مِّنَ الَّيْلِ [ رات میں سے ] مُظْلِمًا ۭ [ اندھیری ہوتے ہوتے ] اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ] اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ [ آگ والے ہیں ] ھُمْ [ وہ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں دوزخیوں کا تذکرہ فرمایا (وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍ م بِمِثْلِھَا) اور جن لوگوں نے برے کام کئے (جن میں سب سے زیادہ برا عمل کفر و شرک ہے) ان کی سزا ان کے اعمال جیسی ہوگی ان پر نہ کوئی ظلم ہوگا نہ زیادتی ہوگی۔ برابر سرابر کا بدلہ ہوگا (وَتَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ) (اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی) (مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ ) قیامت کے دن انہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا) ان کی بد صورتی کا یہ حال ہوگا کہ گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانک دیا گیا ہے کافر دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
میدان حشر میں کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان کے درجات اخروی اور نعیم ابدی اور کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان تھا۔ اب اس آیت میں بھی کافروں کی ایک اور ذلت اور رسوائی کا بیان ہے وہ یہ کہ قیامت کے دن عابد اور معبود۔ دنوں ہی کا حشر ہوگا اور بعد ازاں وہ معبود جن کی یہ مشرکین دنیا میں پرستش کرتے تھے اور جن کو اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔ قیامت کے دن۔ یہ معبودین اپنے عابدین سے بری اور بیزار ہوجائیں گے کہ تم لوگ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اپنی خواہش کی پرستش کرتے تھے ہمیں تو تمہاری پرستش کی خبر…
Read the full tafseer →42: تخویف برائے مشرکین۔ جن لوگوں نے لذات دنیا میں منہمک ہو کر حق کو ٹھکرا دیا، بد اعمالیوں اور مشرکانہ افعال میں زندگیاں بسر کردیں آخرت میں ان کا بہت برا حال ہوگا۔ میدان حشر میں ذلیل ورسوا ہوں گے اور ان کے چہرے اس قدر سیاہ ہوں گے گویا کہ ان کے چہروں پر اندھیری رات کی تاریکی کی تہیں جمی ہوئی ہیں وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے اور ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ “ کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ الخ یعنی کانما البست وجوھھم سوادا من اللیل المظلم ” (خازن ج 3 ص 187) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
انسانی زندگی کی مثال
پہلے اللہ نے معاد کا ذکر کیا۔ پھر انسانوں کی غفلت ، ناشکری ، کفر ، شرک ، بغاوت اور شرارت کا تذکرہ وہوا۔ فرمایا انسانوں کی بغاوت انہیں کے نفسوں پر پڑیگی ، اس تھوڑی سی زندگی سے فائدہ اٹھالو ، بالاآخر تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے جو تمہارے اعمال تمہارے سامنے رکھ دے گا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے انسانی غفلت ہی کے سلسلے میں ایک مثال بیان فرمائی ہے اور نیکی اور بدی کرنے والوں کے انجام کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ انسانی زندگی کی مثال اس طرح بیان فرمائی ہے (آیت) ” انما مثل الحیوۃ الدنیا “ بیشک دنیا کی زندگی مثال ایسی ہے (آیت) ” کما انزلنہ من السمائ “ جیسے پانی ہو جسے ہم نے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاۗءُ سَـيِّئَۃٍؚبِمِثْلِہَا 0 ۙ وَتَرْہَقُھُمْ ذِلَّۃٌ 0 ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللہِ مِنْ عَاصِمٍ 0 ۚ كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْہُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ 0 ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ 27
كسب ( عمل رزق)
الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
1 ؎ یعنی پانی سے۔ پانی جب زمین میں پیوست ہوتا ہے تو اس امتزاج سے نباتات پیدا ہوتی ہیں جن کو انسان وبہائم کھاتے ہیں۔ آسمان کا پانی بمنزلہ زوج کے پانی کے اور زمین بمنزلہ رحم انثیٰ کے ہے۔ یہ اختلاطان کے اختلاط کے مشابہ ہے نباتات کی روئیدگی انسانی تولد سے مشابہ ہے یا برعکس کہو کیونکہ مشابہت طرفین سے ہے اب جس طرح یہ نباتات لہلہاتی اور بہار پر آتی ہیں اسی طرح انسان بھی جوانی اور بالیدگی کے ایام میں لہلہاتا ہے۔ پر جس طرح اس چند روزہ بہار کے بعد اس روئیدگی پر فنا کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں کہ زرد پڑتی گئی آخر گر پڑی اور ہوا میں ذرہ ذرہ ہو کر اڑنے لگی اور پائوں میں روندی گئی اور خاک سے نکلی تھی پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ ج فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُ ھُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَاتَعْبُدُوْنَ ۔ (یونس : 28)
(اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم جمع کریں گے سب کو، پھر ہم شرک کرنے والوں کو حکم دیں گے کہ ٹھہر جاؤ اپنی جگہوں پر تم اور تمہارے شرکاء، پھر ہم ان کے درمیان تفریق کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ )
مشرکین اور ان کے شرکاء آخرت میں
گزشتہ آیات کریمہ میں شرک کے ابطال پر مختلف قسم کے دلائل دیئے گئے ہیں جن میں عقلی بھی ہیں، تاریخی بھی، واقعاتی بھی ہیں اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نیک لوگوں کے انجام کے بعد برے لوگوں کا انجام اور ان کی سزا کا بیان۔
فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے اصحاب کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک کے بعد بد اور جنت کی نعمتوں کے بعد جہنم کی ہولناکیوں کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ اچھے اور برے انجام کا تصور بیک وقت سامنے آئے اور قرآن کی تلاوت کرنے والا اپنے کردار کا تجزیہ کرسکے۔ پچھلی آیت میں نیک لوگوں کو ان کی نیکی کے بدلے جزا دینے کے ساتھ مزید عنایات کا اعلان ہوا ہے۔ یہاں برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی سزا بتلاتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی کہ انہیں فقط اتنی سزا دی جائے گی جس درجے کے انہوں نے گناہ اور جرائم کیے ہوں گے۔ گناہوں کے مطابق…
Read the full tafseer →بروں کا انجام :
27: وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا اسکا عطف للذین احسنوا پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی وللذین کسبوا۔ السَّیِّاٰتِ (رنگا رنگ کے شرک) جَزَآ ئُ سَیِّئَۃٍم بِمِثْلِھَا (برائی کا بدلہ اس کے مثل سے ہے) اس میں یا اسی طرح زائد ہے جیسا اس ارشاد میں جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا [ الشورٰی : 40] یا تقدیر عبارت اس طرح ہو جزاء سیئۃ مقدر بمثلھا۔ برائی کا بدلہ طے شدہ ہے اس کے مثل سے وَتَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ ذلت و رسوائی مَالَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ (انہیں اللہ سے بچانے والا) اسکی سزا سے مِنْ عَاصِمٍ (کوئی نہیں ہوگا) یعنی اسکی ناراضی اور سزا سے ان کو کوئی نہ بچائے گا۔ کَاَنَّمَآ اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْ قِطَعًا مِّنَ…
Read the full tafseer →(27) ” والذین کسبوا السیات جزاء سیئۃ م بمثلھا “ یعنی ان کے لیے اس کی مثل ہوگا جیسے دوسری جگہ فرماتا ” ومن جاء بالسیئۃ فلا یجزی الا مثلھا “ ۔۔۔۔۔ ” و ترھقھم ذلہ مالھم من اللہ من عاصم م اور من صلہ ہے یعنی ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ ” کانما اغشیت “ پہنچائے گئے ” وجوھھم قطعا “ قطعۃ کی جمع ہے۔ ” من اللیل مظلما “ ہمارے نزدیک اس پر نصب حال ہونے کی وجہ سے نہ کہ صف ہونے کی وجہ سے۔ اسی وجہ سے تو ” مظلمۃ “ نہیں کہا ۔ اصل عبارت یوں ہے ” قطعا من الیل مظلما اوقطعا من اللیل المظلم “ اور ابن کثیر کسائی اور یعقوب نے ( قطعا ً ) طاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی بعض کا فرمان ( یقطع من اللیل) اولئک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
66۔ 27۔ مطلب یہ ہے کہ نیکی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ سوائے جزائے مقررہ کے اپنی طرف سے اور زیادہ انعام بھی عنایت فرمادے گا اگرچہ بعضے مفسروں نے اس زیادہ انعام کی تفسیر کی ہے کہ نیکی کا بدلہ ایک درجہ تک تو جزا ہے دس درجہ سے سات سو درجہ تک ثواب ملنے کا ذکر جو صحیح بخاری و مسلم کی چند روایتوں میں آیا ہے وہی انعام ہے لیکن صحیح تفسیر اس انعام کی وہی ہے جس کا ذکر خاص طور پر صحیح حدیث میں آچکا ہے۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہوجاویں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرماوے گا کہ کیا تمہارے دل میں کچھ اور زیادہ انعام کی ہوس ہے اہل جنت…
Read the full tafseer →آیت : (27)
اصحاب جنت کا ذخر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کا ذکر فرمایا کہ ان کی کل کمائی جس کا انہوں نے دنیا میں اکتساب کیا ‘ برے اعمال ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے ‘ مثلاً کفر کی مختلف انواع ‘ انبیاء کی تکذیب اور گناہ کی مختلف اقسام۔ (جزاء سیءۃ بمثلھا) ” تو برائی کا بدلہ بھی ویسا ہی ہوگا۔ “ یعنی ان کو ایسی جزا دی جائے گی جو ان کے مختلف احوال اور ان کے برے اعمال کے مطابق بری ہوگی۔ (وتر ھقھم) ” اور ان کو ڈھانک لے گی۔ “ (ذلۃ) ” رسوائی “ یعنی ان کے دلوں میں ذلت اور اللہ کے عذاب کا خوب ہوگا۔ کوئی ان سے اس خوف کو دور نہیں کرس کے گا اور نہ کوئی بچانے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →55 ۔ دوزخیوں کے حال بد کا ذکر۔۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ برائیاں کمانے والوں کا حال اس روز بہت برا ہوگا ان کے چہروں پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ ان کے لیے کوئی اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہیں ہوگا۔ اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ گویا ڈھانک دیا ان کی چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں نے وہ یار ہوں گے دوزخ کے اور انہوں نے ہمیشہ اس ہولناک آگ میں رہنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس بدعقیدگی اور بدعملی کی جو سیاہی اس دنیا میں ان لوگوں کے بواطن میں مستور و پوشیدہ تھی وہ کشف حقائق کے اس جہان میں ان کے چہروں مہروں پر امڈآئے گی کہ وہ جہان ہے ہی مشاہدہ اور ظہور کا جہاں۔ جبکہ یہ جہان مجاہدہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
اچھے اعمال کا انعام اور برے اعمال کا بدلہ
تشریح : ان آیات میں سلامتی کے گھر، یعنی جنت کا ذکر ہے پھر جنت حاصل کرنے والے اور دوزخ میں جانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ انسان کو پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے اس کو زندگی اور زندگی گزارنے کے لیے تمام سہولتیں، آسائشیں عطا فرمائیں۔ تو اس طرح بندے اور اللہ کا تعلق آقا اور غلام کا ہوگیا۔ اب غلام کی زندگی کا مقصد کامیاب زندگی گزارنے کے لیے تین اصولوں پر قائم رہنا ہے۔ یعنی آقا کی وفاداری، آقا کی اطاعت گزاری، آقا کا ادب اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا۔ ان تین باتوں کا جب ایک مسلمان زندگی کے ہر لمحہ میں خیال رکھتا ہے وہ گویا دنیا کا ہر کام عبادت سمجھ کر کرتا ہے۔ ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21 تا 30
اسرار و معارف
کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ اوپر محسنین کا ذکر فرمایا اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جو سینئات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (کبیر) دراصل تو دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر دنیا میں انسان بہت سے سہارے تلاش کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کے ذریعہ میں نے اپنی مراد حاصل کرلی ہے مگر آخرت میں اس قسم کے اسباب سب ختم ہوجائیں گے اور ہر ایک کو یہ یقین ہوجائے گا کہ اب اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے جیسا کہ سورة قیامہ میں ہے “۔ کلا لا ولد، الھار بامہ یومئذ المستقر “ ہرگز کوئی پناہ کی جگہ نہ ہوگی اور رب ہی کے پاس اس روز ٹھکانا ملے گا۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(10:27) والذین کسبوا السیئات۔ اس کا عطف للذین احسنوا پر ہے۔ ای وللذین کسبوا السیئات۔ اور سیئات سے مراد برائیاں از قسم کفر و شرک۔
جزائ۔ یہاں بمعنی سزا کے ہے۔ یا بمعنی بدلہ۔ بمثلہا۔ باء زائدہ ہے۔ یا متعلقہ بجزاء ہے۔
جزاء سییۃ بمثلہا۔ برائی کی سزا اس برائی جیسی ہی ہوگی۔ یعنی یہ لوگ جیسا کریں گے ویسا بھریں گے یہاں اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کریں گے اور برائی کا بدلہ اس سے زیادہ نہیں بلکہ اس کے برابر ہی دیں گے بخلاف اپنی اس کرم نوازی کے جو احسان کرنے والوں پر فرمائی تھی وہاں نیکی بدلہ الحسنیٰ سے دے کر فرمایا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
عاصم۔ بچانے والا۔ حفاظت کرنے والا۔ روکنے والا۔ عصمۃ سے جس کے معنی حفاظت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
الحسنی (بھلائی، نیکی) لا یرھق (نہ ڈھانپ لے گی) فتر (سیاہی، اندھیرا) کسبوا (انہوں نے کمایا) السیئات (سیتہ) ، برائیاں عاصم (بچانے والا) اغشیت (ڈھانپ لی گئی) قطع (ٹکڑے) مظلم (سیاہی) نحشر (ہم جمع کریں گے) مکانکم (تم اپنی جگہ رہو) زیلنا (ہم پھوٹ ڈال دیں گے) ھنالک (اسی جگہ) اسلفت (اس نے پہلے سے کیا تھا) ضل (گم ہوگیا، گم ہوجائیں گے)
تشریح :- آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم یعنی اچھے اور برے اعمال کے نتائج اور انجام کی وضاحت فرمائی ہے ۔ فرمایا کہ وہ دن جب سارے انسان میدان حشر میں جمع ہوں گے اس وقت اہل جنت کے چہرے تو چمک رہے ہوں گے جب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کرنے والون کو اللہ تعالیٰ سوائے جزائے مقررہ کے اپنی طرف سے اور زیادہ انعام بھی عنایت فرماوے گا۔ اگرچہ بعضے مفسرین نے اس زیادہ انعام کی تفسیر یہ کی ہے کہ نیکیی کا بدلہ ایک درجہ تک تو جزا کا ہے، دس درجہ سے سات سو درجہ تک ثواب ملنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرماوے گا کہ : ” کیا تمہارے دل میں کچھ اور زیادہ انعام کی ہوس ہے۔ اہل جنت عرض کریں گے : ” یا اللہ ! تو نے ہم کو جنت میں داخل کیا ہے یہی ہم کو بڑا انعام ہے “۔ اللہ تعالیٰ فرماوے گا : ” ابھی تمہارا انعام باقی ہے “ یہ فرما کر پھر ان کو اپنے دیدار سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
[18] یعنی سلامتی کا گھر۔ مراد اس سے جنت ہے۔
[19] یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے اس طریقے کی طرف بلا رہا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر تم آخرت میں جنت کے مستحق ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(ف 1) جب کہ دنیا کا یہ حشر ہے تو پھرجائے پناہ کہاں ہے ؟ وہ کون ہے جس کی وجہ سے صحبت وسل امتی کی راہیں کھلتی ہیں ، اس آیت میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر فنا وموت کے بعد نجات حاصل کرنا چاہتے ، اور دائمی خوش زندگی کے خواہشمند ہو تو اللہ سے اچھا تعلق پیدا کرو ، وہ حی وقیوم ہے ، اسی کی ذات کو ثبات وقرار ہے ، وہ سل امتی کی دعوت دیتا ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔
اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Read the full tafseer →27 اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں اور برے کام کئے تو برائی کا بدلہ اسی برائی کی مثل ہوگا اور ان پر ذلت و پھٹکار برستی ہوگی اور ذلت و نکبت چھائی ہوگی ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ان کے منہ ایسے سیاہ ہوں گے گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے ڈھانک دئیے گئے ہیں اور تاریک رات کے ٹکڑوں کو ان کے چہروں پر چپکا دیا گیا ہے یہی لوگ اہل جہنم ہیں وہ اس جہنم میں ہمیشہ پڑے رہیں گے۔
یعنی اہل کفر و شرک کے ساتھ یہ سلوک ہوگا ۔ بدی کی سزا میں کوئی زیادتی نہ ہوگی جیسی بدی ویسی سزا ، چہروں کی سیاہی کو تشبیہ اندھیری رات کے ٹکڑوں سے کیا خوب تشبیہہ ہے گویا اندھیری رات کے ٹکڑے کاٹ کر چہرے پر چپکا دئیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 4۔ یعنی شرک وکفر کیا۔
5۔ اوپر مشرکین کے حق میں فرمایا تھا مالھم من اللہ من عاصم چونکہ وہ لوگ اپنے معبودوں کو اپناشفیع کہتے تھے اس لیے آگے ان معبودین کا ان عابدین سے قیامت میں بےتعلقی ظاہر کرنا جس کے لیے عدم نفع لازم ہے بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کہ اس نے برائی کی ہو گی
۔ 45 جن لوگوں نے کفر و شرک اور نفاق جیسے نہایت ہی برے کام کئے ہوں گے وہ ویسی ہی اس کی سخت سزا پائیں گے اور ذلت و رسوائی ان پر یقینا مسلط ہوگی۔ ان کے چہرے ایسے سیاہ ہوں گے جیسے رتا کے سیاہ پردے لیکن اس طرح جو سزا ان کو دی جائے گی ان کے جرم سے زیادہ مطلق نہیں ہوگی۔ نیک بندوں کے ساتھ جود و عطا کا معاملہ کیا جائے گا لیکن بدکاروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں عدل و انصاف کو پیش نظر رکھا جائے گا۔
چہرے کالے پڑنے کا مطلب دراصل ناکامی و نامرادی ہے
۔ 46 ان کے چہرے ہی سیاہ ہوں گے یعنی ذلت و رسوائی ان پر چھائی ہوگی اور یہی وہ عذاب الٰہی ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
In the two verses (27, 28) appearing next, there is a dialogue between the people of Jahannam and the idols or satans who had led them astray. The locale will be the plain of Resurrection. It was said: On that day, We shall gather everyone. Then, to the Mushriks We shall say that, ` you and your gods whom you had associated' with Us in Our divinity stay in your places where you are, so that you can find out the reality of your conviction.' After that, the connection between these people and their so-called gods as it existed in the mortal world will be disconnected. The result will be that…
Read the full tafseer →34. The manner in which the evil ones will be treated is quite different from the way in which the righteous will be treated. As we have seen, the reward of the righteous will be far in excess of their good deeds. However, so far as the evil-doers are concerned, their punishment will be strictly in proportion to the evil they have committed, not even an iota more than that. (For further elaboration see a!-Nahl 16, n. 109a.)
35. This refers to the darkness and gloom that covers the faces of the criminals after they have been seized and after they have lost all hope of escaping God's punishment.
Read the full tafseer →