عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہاں جس نے نیک اعمال کئے اور بایمان رہا وہاں اسے بھلائیاں اور نیک بدلے ملیں گے۔ احسان کا بدلہ احسان ہے۔ ایک ایک نیکی بڑھا چڑھا کر زیادہ ملے گی ایک کے بدلے سات سات سو تک۔ جنت حور قصور وغیرہ وغیرہ آنکھوں کی طرح طرح کی ٹھنڈک، دل کی لذت اور ساتھ ہی اللہ عزوجل کے چہرے کی زیارت یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم ہے بہت سے سلف خلف صحابہ وغیرہ سے مروی ہے کہ زیادہ سے مراد اللہ عزوجل کا دیدار ہے۔ حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے اور اس وقت ایک منادی کرنے والا ندا کرے گا کہ اے جنتیو ! تم سے اللہ…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 33
یعنی ان کو صرف ان کی نیکی کے مطابق ہی اجر نہیں ملے گا بلکہ اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید انعام بھی بخشے گا۔
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دارالسلام کی دعوت تو سارے انسانوں کے لئے عام ہے اور اسی معنی کے اعتبار سے سب کے لئے ہدایت بھی عام ہے لیکن ہدایت کی خاص قسم کہ سیدھے راستہ پر کھڑا کردیا جائے اور چلنے کی توفیق دی جائے یہ خاص خاص ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔
مذکورہ دو آیتوں میں دار دنیا اور دار آخرت کا تقابل اور اہل دنیا اور اہل آخرت کے احوال کا ذکر تھا۔ اگلی چار آیتوں میں دونوں فریق کی جزاء و سزا کا بیان ہے، پہلے اہل جنت کا ذکر اس طرح فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے نیکی اختیار کی یعنی سب سے بڑی نیکی ایمان اور پھر عمل صالح پر قائم رہے ان کو ان کے عمل کا عمدہ اور بہتر بدلہ ملے گا، اور صرف بدلہ ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
25۔ 27: وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ ۭ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ۔ لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ ۚ كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْن۔
وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ۔ سلام کے معنی سکھ اور چین…
Read the full tafseer →26۔ 1 اس زیادہ کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں لیکن حدیث میں اس کی تفسیر دیدار باری تعالیٰ سے کی گئی ہے جس سے اہل جنت کو جنت کی نعمتیں دینے کے بعد، مشرف کیا جائے گا (صحیح مسلم)
Read the full tafseer →14: وعدے کا یہ انتہائی لطیف پیرایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ”کچھ اور“ کو کھول کر بیان نہیں فرمایا، بلکہ پردے میں رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں تمام بہترین نعمتوں کے علاوہ کچھ نعمتیں ایسی ہوں گی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو بیان بھی فرما دیں تو ان کی لذت اور حلاوت کو انسان اس وقت محسوس کر ہی نہیں سکتا۔ بس انسان کے سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اضافی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو انہی کی شان کے مطابق ہوں گی۔ آنحضرت ﷺ سے اس آیت کی تفسیر یہ منقول ہے کہ جب تمام جنتی جنت کی نعمتوں سے سرشار اور ان میں مگن ہوچکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہم نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا، اب…
Read the full tafseer →درس نمبر 96 ایک نظر میں
للذین احسنوا الحسنٰی وزیادۃ جن لوگوں نے (دنیا میں) نیک عمل کئے ‘ ان کیلئے (آخرت میں) اچھا ثواب ہوگا اور مزید (انعام) بھی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے احسان کی تشریح میں فرمایا : احسان (عبادت کا حسن) یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا (عبادت کے وقت) تم اس کو دیکھ رہے ہو ‘ اگر تمہارا معائنہ نہ ہو (اور یہ درجہ میسر نہ ہو تو کم سے کم اتنا یقین رکھو کہ) وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ صحیحین من حدیث عمر بن الخطاب۔ الحسنٰی سے مراد ہے اچھا ثواب ‘ یعنی جنت۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا (یعنی) لاآ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ کی…
Read the full tafseer →7 بھلے کام کرنے والوں کو وہاں بھلی جگہ ملے گی (یعنی جنت) اور اس سے زیادہ بھی کچھ ملے گا۔ یعنی حق تعالیٰ کی رضاء اور اس کا دیدار " زیادۃ " کی تفسیر " دیدار مبارک " سے کئی احادیث صحیحہ میں وارد ہوئی ہے اور بہت سے صحابہ وتابعین ؓ سے منقول ہے۔ حضرت صہیب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو چکیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا " اے اہل جنت ! تمہارے لیے ایک وعدہ خدا کا باقی ہے جو اب پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنتی کہیں گے کہ وہ کیا ہے ؟ کیا خدا نے اپنے فضل سے ہماری حسنات کا پلہ بھاری نہیں کردیا۔ کیا اس نے ہمارے چہروں کو سفید اور نورانی نہیں…
Read the full tafseer →آیت 26 لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ
انہیں نیکی کا بدلہ بھی بہت اچھا ملے گا اور مزید برآں انہیں انعامات سے بھی نوازاجائے گا۔
Read the full tafseer →38 دیدار الہٰی کی لذت :۔ سیدنا صہیب ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب جنت والے جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ایک پکارنے والا ندا دے گا کہ تم سے اللہ نے ایک اور بھی وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ پورا کرنے والا ہے۔ جنتی کہیں گے کیا ہمارے چہرے روشن نہیں ہوئے یا اس نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی اور جنت میں داخل نہیں کردیا ؟ (تو اب کون سی کمی رہ گئی ہے ؟ ) آپ نے فرمایا تب اللہ تعالیٰ حجاب کو ہٹا دے گا اللہ کی قسم ! جنتیوں کو جو کچھ بھی ملا ہوگا ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب انہیں اللہ کی طرف نظر (دیدار) کرنا ہوگا (ترمذی، کتاب التفسیر)
اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ نیکوکاروں کو صرف ان کے اعمال کا اچھا بدلہ ہی نہ…
Read the full tafseer →45۔ یعنی دیدار الہی جو ہر نعمت اور ہر لذت سے افضل تر ہے۔ (آیت) ” زیادۃ “۔ کی یہ تفسیر خود حدیث میں آچکی ہے۔ عن النبی ﷺ فی ھذہ الایۃ قال اذا دخل اھل الجنۃ الجنۃ فیکشف الحجاب فیتجلی لھم فو اللہ ما اعطاھم شیئا احب الیھم من النظر الی اللہ (ابن جریر) قال رسول اللہ ﷺ الزیادۃ النظر الی وجہ اللہ الکریم (قرطبی عن انس ؓ) یہی حدیث صحیح مسلم میں حضرت صہیب صحابی ؓ کی روایت سے آئی۔ صحابہ ؓ وتابعین سب سے یہی تفسیر منقول ہے۔ الزیادۃ النظر الی وجہ اللہ تبارک وتعالیٰ (ابن جریر عن ابی بکر الصدیق ؓ زیادۃ النظر الی الرب (ابن جریر۔ عن الحسن ؓ الزیادۃ ھنا النظر الی وجہ الرحمن (ابن جریر۔ عن قتادہ) وھو قول ابی بکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…
Read the full tafseer →للذین احسنوا الحسنٰی وزیادۃ جن لوگوں نے (دنیا میں) نیک عمل کئے ‘ ان کیلئے (آخرت میں) اچھا ثواب ہوگا اور مزید (انعام) بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے احسان کی تشریح میں فرمایا : احسان (عبادت کا حسن) یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا (عبادت کے وقت) تم اس کو دیکھ رہے ہو ‘ اگر تمہارا معائنہ نہ ہو (اور یہ درجہ میسر نہ ہو تو کم سے کم اتنا یقین رکھو کہ) وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ صحیحین من حدیث عمر بن الخطاب۔ الحسنٰی سے مراد ہے اچھا ثواب ‘ یعنی جنت۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا (یعنی) لاآ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ کی شہادت دی۔ الْحُسْنٰی (یعنی)…
Read the full tafseer →(26) جو لوگ توحید کے قائل ہونے ان کے لیے جنت ہے اور مزید برآں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی یا یہ کہ ثواب میں زیادتی ہے اور ان کے چہروں پر نہ کدورت اور سیاہی چھائے گی اور نہ غم ذات، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ: احسان کی تفسیر حدیث جبریل میں ہے، فرمایا : (أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہٗ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہٗ فَإِنَّہٗ یَرَاکَ) [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي ﷺ۔۔ : 50 ] ”اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو یقیناً وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ مقصد یہ کہ خلوص کے ساتھ اللہ کی بندگی کرنے والوں کو جنت کے ساتھ ایک عظیم زائد چیز بھی عطا ہوگی۔ ”زِیَادَۃٌ“ میں تنکیر تعظیم کے لیے ہے۔
جنت کی دعوت دینے کے بعد اس کی سعادتوں کا ذکر فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں ”اَلْحُسْنیٰ“ جو ”أَحْسَنُ“ کی مؤنث ہے، اس کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 26۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “۔ حضرت انس ؓ کی حدیث سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ سے قول باری تعالیٰ وزیادۃ کے بارے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : للذین احسنوا العمل فی الدنیا لھم الحسنی وھی الجنۃ والزیادۃ النظر الی وجہ اللہ الکریم “۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 115)
(ان کے لیے جنہوں نے دنیا میں نیک عمل کیے ان کے لیے نیک جزا ہے اور وہ جنت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اور وہ اللہ کریم کے چہرہ قدرت کا دیدار ہے) یہی قول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ہے اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے بھی ایک روایت ہے، اور حضرت حذیفہ، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت کعب بن عجرہ،…
Read the full tafseer →اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا :
1:۔ الطیالسی واحمد ومسلم والترمذی وابن ماجہ وابن خزیمہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والدارقطنی نے وابن مردویہ والبیہقی نے السماء والصفات میں صہیب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ تلاوت فرمائی اور فرمایا جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے اور ایک آواز دینے والا آواز دے گا اے جنت والو ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارے لئے ایک وعدہ ہے کہ وہ ارادہ فرماتے ہیں کہ اس وعدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے جنت والے عرض کریں گے وہ کیا ہے ؟ کیا آپ نے ہمارے نیک اعمال کے وزنوں کو بھاری نہیں…
Read the full tafseer →لِلَّذِيْنَ [ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ] اَحْسَـنُوا [ بلاکم وکاست کام کیا ] الْحُسْنٰى [ سب سے خوبصورت (اجر) ہے ] وَزِيَادَةٌ ۭ [(بھی ) ہے ] وَلَا يَرْهَقُ [ اور نہیں چھائے گی ] وُجُوْهَھُمْ [ان کے چہروں پر ] قَتَرٌ [ کوئی سیاہی ] وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ [ اور نہ ہی کوئی ذلت ] اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ [ جنت والے ہیں ] ھُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
ر ھ ق ـ: (س) رھقا ۔ زبردستی کسی پر حاوی ہوجانا ۔ (1) زبردستی کرنا ۔ (2) کسی پر چڑھائی کرنا ، کسی کو ڈھانپ لینا ، چھا جانا ، زیر مطالعہ آیت ۔ 26 ۔ رھق ، اسم ذات ہے۔ زبردستی ، چودھراہٹ ، دادا…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں فرمایا (لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُو الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ) جن لوگوں نے اچھے کام کئے ان کے لئے حسنیٰ ہے اور زیادہ انعام ہے حسنیٰ فعلی کے وزن پر ہے جس کا لغوی ترجمہ ” خوبی “ سے کیا گیا ہے۔ حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ حسنی سے جنت مراد ہے اور زیادہ سے دیدار الٰہی مراد ہے۔ جنت میں ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی کسی کی کمی نہ ہوگی۔ وہ خود بہت بڑی جگہ ہے لیکن اس نعمت پر مزید نعمت یہ ہوگی کہ اہل جنت اپنے رب جل مجدہ کا دیدار بھی کریں گے۔ تفسیر در منثور (ص 305) میں حضرت صہیب ‘ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت کعب بن عجرہ اور حضرت ابی بن کعب اور حضرت انس بن مالک ؓ سے متعدد کتب حدیث کے حوالے سے نقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
دنیا کا فنا اور زوال اور اس کی ناپائیداری کی مثال اور ذکر جزائے اعمال
قال اللہ تعالی۔ انما مثل الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون
(ربط) گزشتہ آیت میں لوگوں کی سرکشی کا بیان تھا جس کا سبب دنیا کی ظاہری زیبائش و عیش و عشرت تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ دنیاوی زندگانی کے نشہ میں سر شار ہیں اب اس آیت میں دنیا کی ناپائیدار زندگی کی ایک لطیف مثال بیان کرتے ہیں جس میں غور کرنے سے دنیا کی بےثباتی اور عمر کی ناپائیدار دل پر نقش ہوجاتی ہے اور بغی اور فساد فی الارض کا جو منشاء اور اصل سبب تھا (یعنی دنیاوی عیش و عشرت) اس کی حقیقت واضح ہوجانے سے مزاج اعتدال پر آجائے گا۔
دنیا کی چند روزہ زندگی کو پانی اور مٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
41: بشارت اخروی ہے “ دَارُ السَّلَام ” سے مراد جنت ہے “ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا ” خبر مقدم “ اَلْحُسْنٰی وَزِیَادَةٌ ” معطوف علیہ مع معطوف مبتدا مؤخر “ زِیَادَةٌ ” سے دیدار الٰہی مراد ہے “ قَتَرٌ ” سیاہی اور بےرونقی یعنی جن لوگوں نے چند روزہ دنیا پر دین کو ترجیح دی اور پورے اخلاص کے ساتھ توحید و رسالت کو مانا اور شعائر اسلام کی پیروی کی ان کیلئے آخرت میں جنت کا حتمی وعدہ ہے، ان کو ان کے تمام اعمال کی جزا ملیگی اور سب سے بڑا انعام جو انہیں وہاں ملے گا وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ جیسا کہ بہت سے صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے۔ “ (وَ زِیَادَةٌ) رؤیة الرب عز و جل کذا عن ابی بکر و حذیفة وابن عباس و ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
انسانی زندگی کی مثال
پہلے اللہ نے معاد کا ذکر کیا۔ پھر انسانوں کی غفلت ، ناشکری ، کفر ، شرک ، بغاوت اور شرارت کا تذکرہ وہوا۔ فرمایا انسانوں کی بغاوت انہیں کے نفسوں پر پڑیگی ، اس تھوڑی سی زندگی سے فائدہ اٹھالو ، بالاآخر تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے جو تمہارے اعمال تمہارے سامنے رکھ دے گا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے انسانی غفلت ہی کے سلسلے میں ایک مثال بیان فرمائی ہے اور نیکی اور بدی کرنے والوں کے انجام کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ انسانی زندگی کی مثال اس طرح بیان فرمائی ہے (آیت) ” انما مثل الحیوۃ الدنیا “ بیشک دنیا کی زندگی مثال ایسی ہے (آیت) ” کما انزلنہ من السمائ “ جیسے پانی ہو جسے ہم نے…
Read the full tafseer →لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَۃٌ 0 ۭ وَلَا يَرْہَقُ وُجُوْہَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّۃٌ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ 0 ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ 26
احسان
الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» .
فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل
واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
1 ؎ یعنی پانی سے۔ پانی جب زمین میں پیوست ہوتا ہے تو اس امتزاج سے نباتات پیدا ہوتی ہیں جن کو انسان وبہائم کھاتے ہیں۔ آسمان کا پانی بمنزلہ زوج کے پانی کے اور زمین بمنزلہ رحم انثیٰ کے ہے۔ یہ اختلاطان کے اختلاط کے مشابہ ہے نباتات کی روئیدگی انسانی تولد سے مشابہ ہے یا برعکس کہو کیونکہ مشابہت طرفین سے ہے اب جس طرح یہ نباتات لہلہاتی اور بہار پر آتی ہیں اسی طرح انسان بھی جوانی اور بالیدگی کے ایام میں لہلہاتا ہے۔ پر جس طرح اس چند روزہ بہار کے بعد اس روئیدگی پر فنا کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں کہ زرد پڑتی گئی آخر گر پڑی اور ہوا میں ذرہ ذرہ ہو کر اڑنے لگی اور پائوں میں روندی گئی اور خاک سے نکلی تھی پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ ج فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُ ھُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَاتَعْبُدُوْنَ ۔ (یونس : 28)
(اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم جمع کریں گے سب کو، پھر ہم شرک کرنے والوں کو حکم دیں گے کہ ٹھہر جاؤ اپنی جگہوں پر تم اور تمہارے شرکاء، پھر ہم ان کے درمیان تفریق کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ )
مشرکین اور ان کے شرکاء آخرت میں
گزشتہ آیات کریمہ میں شرک کے ابطال پر مختلف قسم کے دلائل دیئے گئے ہیں جن میں عقلی بھی ہیں، تاریخی بھی، واقعاتی بھی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کی ناپائیداری اور بےثباتی پر غور کرنے کا یہ نتیجہ نکلتا ہے اور نکلنا چاہیے کہ انسان عارضی اور ناپائیدار چیزوں پر دل لگانے کی بجائے دائمی اور مستقل چیز کی طرف توجہ کرے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور سلامتی کا گھر ہے۔
خوش قسمت ہے وہ انسان جس نے دنیا کی رعنائی اور دلفریبیوں سے اپنے آپ کو بچاکر صراط مستقیم پر گامزن رکھا جو سلامتی کا راستہ اور گھر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اسی سلامتی کی دعوت دیتا ہے جب بندہ اپنی عاقبت کی فکر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت کے راستے پر گامزن کردیتا ہے ایسے خوش نصیب کے لیے دنیا میں سلامتی اور آخرت میں جنت ہوگی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا…
Read the full tafseer →زیادۃ کی تفسیر دیدار الٰہی :
26: لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا احسان سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا مراد ہے۔ الْحُسْنٰی خوبی ہے عمدہ ثواب اور وہ جنت ہے۔ وَزِیَادَۃٌ (اور زائد) وہ دیدار الٰہی ہے حضرت ابو بکر، حذیفہ، ابن عباس، ابو موسیٰ اشعری، عبادہ بن الصامت ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔
بعض تفاسیر میں اس بات پر مفسرین کا اتفاق نقل کیا ہے کہ زیادہ کی تفسیر اللہ تعالیٰ کا دیدارہی ہے۔ حضرت صہیب ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ جب جنت والے جنت میں داخل ہوچکیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم ایسی چیز چاہتے ہو جو میں ان نعمتوں پر اضافہ کروں۔ وہ کہیں گے کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں…
Read the full tafseer →حسن عبادت کا صلہ جنت میں کیا ہوگا
تفسیر (26)” للذین احسنوالحسنیٰ وزیادۃ “ یعنی جو لوگ دنیا میں اچھے عمل کرتے ہیں ان کے لیے حسنیٰ ہے اور حسنیٰ جنت ہے اور زیادہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ۔ یہ صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت کا قول ہے جن میں حضرت ابوبکر صدیق ، حذیفہ، ابو موسیٰ ، عبادہ بن صامت ؓ ہیں اور یہی حسن ، عکرمہ ، عطاء ، مقاتل ، ضحاک اور سدی رحمہم اللہ کا قول ہے۔ حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی ” للذین احسنوا الحسنیٰ پھر فرمایا کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جہنمی جہنم میں تو ایک پکارنے والا آواز دے گا اے اہل جنت تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک وعدہ تھا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
66۔ 27۔ مطلب یہ ہے کہ نیکی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ سوائے جزائے مقررہ کے اپنی طرف سے اور زیادہ انعام بھی عنایت فرمادے گا اگرچہ بعضے مفسروں نے اس زیادہ انعام کی تفسیر کی ہے کہ نیکی کا بدلہ ایک درجہ تک تو جزا ہے دس درجہ سے سات سو درجہ تک ثواب ملنے کا ذکر جو صحیح بخاری و مسلم کی چند روایتوں میں آیا ہے وہی انعام ہے لیکن صحیح تفسیر اس انعام کی وہی ہے جس کا ذکر خاص طور پر صحیح حدیث میں آچکا ہے۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہوجاویں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرماوے گا کہ کیا تمہارے دل میں کچھ اور زیادہ انعام کی ہوس ہے اہل جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت : (25-26)
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف عام دعوت اور اس اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ جس کو اپنے لئے خالص کر کے چن لینا چاہتا ہے اس کیلئے ہدایت کو مخصوص کردیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے لئے اپنی رحمت کو مختص کردیتا ہے ‘ یہ اس کا عدل و حکمت ہے اور حق و باطل کو بیان کردینے اور رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد کسی کے لئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ” دارالسلام “ کے نام سے اس لئے موسوم کیا ہے کہ یہ تمام آفات اور نقائص سے محفوظ اور سلامت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نعمتیں کامل ‘ ہمیشہ رہنے والی اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →52 ۔ بھلائی کرنے والوں کیلئے بھلائی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے بھلائی ہے جو کہ حقیقی دائمی اور ابدی بھلائی ہے یعنی جنت۔ اور جس کو وہ بھلائی مل گئی اس کو وہاں کی دائمی نعمتوں کے علاوہ اس حیات دنیا کی سعادتیں بھی مل گئیں کہ جنت تو انہی خوش نصیبوں کو ملتی ہے جن کو یہاں حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " نصیب ہوتی ہے پس احسان والوں کے لئے دارین کی سعادتوں کا مژدہ ہے۔ اللہم اجعلنا منہم بمحض منک وکرمک یآارحم الراحمین۔ یعنی جن کی نیتیں اور ارادے بھی درست ہوتے ہیں اور ان کے اعمال واطوار صحیح ہوتے ہیں اور ان کے طور طریقے بھی درست ہوتے ہیں۔ باللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
53 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
اچھے اعمال کا انعام اور برے اعمال کا بدلہ
تشریح : ان آیات میں سلامتی کے گھر، یعنی جنت کا ذکر ہے پھر جنت حاصل کرنے والے اور دوزخ میں جانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ انسان کو پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے اس کو زندگی اور زندگی گزارنے کے لیے تمام سہولتیں، آسائشیں عطا فرمائیں۔ تو اس طرح بندے اور اللہ کا تعلق آقا اور غلام کا ہوگیا۔ اب غلام کی زندگی کا مقصد کامیاب زندگی گزارنے کے لیے تین اصولوں پر قائم رہنا ہے۔ یعنی آقا کی وفاداری، آقا کی اطاعت گزاری، آقا کا ادب اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا۔ ان تین باتوں کا جب ایک مسلمان زندگی کے ہر لمحہ میں خیال رکھتا ہے وہ گویا دنیا کا ہر کام عبادت سمجھ کر کرتا ہے۔ ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21 تا 30
اسرار و معارف
کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ جنت کی دعوت دینے کے بعد اس کی سعادتوں کا ذکر فرمایا دیا۔ (ابن کثیر) اس آیت کریمیہ میں ” الحسنی “ سے مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں اور ” زیادہ “ سے اللہ تعالیٰ کا یدار جیسا کہ متعدد صحیح احادیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے مثلاً حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر فرمایا : جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو ایک منادی کرنیوالا پکارے گا۔” اے جنت والو ! اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا وہ اس آج پورا کرنا چاہتا ہے۔ وہ عرض کریں گے وہ کونسا وعدہ ہے کیا اس نے ہمارے معازین (نیک اعمال کے تول) بھاری نہیں کردئیے ؟ یا اس نے ہمیں سرخرو بنا کر…
Read the full tafseer →(10:26) احسنوا۔ انہوں نے بھلائی کی۔ انہوں نے احسان کیا۔ احسان سے ماضی جمع مذکر غائب۔ یعنی جس کام کے کرنے کا حکم تھا اس کو بجالائے۔ اور جس سے منع کیا گیا اس سے باز رہے۔
حضور رسول اکرم ﷺ نے احسان کی تعریف یہ کی ہے : ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔ کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے جیسا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو اس طرح کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے
الحسنی۔ حسن سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث۔ اچھی۔ عمدہ نیک جزاء ای المنزلۃ الحسنی۔ یعنی جنت۔
وزیادۃ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ یعنی دیدار الٰہی۔ لایرھق مضارع منفی واحد مذکر غائب رھق مصدر (باب سمع) نہیں چھائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
الحسنی (بھلائی، نیکی) لا یرھق (نہ ڈھانپ لے گی) فتر (سیاہی، اندھیرا) کسبوا (انہوں نے کمایا) السیئات (سیتہ) ، برائیاں عاصم (بچانے والا) اغشیت (ڈھانپ لی گئی) قطع (ٹکڑے) مظلم (سیاہی) نحشر (ہم جمع کریں گے) مکانکم (تم اپنی جگہ رہو) زیلنا (ہم پھوٹ ڈال دیں گے) ھنالک (اسی جگہ) اسلفت (اس نے پہلے سے کیا تھا) ضل (گم ہوگیا، گم ہوجائیں گے)
تشریح :- آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم یعنی اچھے اور برے اعمال کے نتائج اور انجام کی وضاحت فرمائی ہے ۔ فرمایا کہ وہ دن جب سارے انسان میدان حشر میں جمع ہوں گے اس وقت اہل جنت کے چہرے تو چمک رہے ہوں گے جب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کرنے والون کو اللہ تعالیٰ سوائے جزائے مقررہ کے اپنی طرف سے اور زیادہ انعام بھی عنایت فرماوے گا۔ اگرچہ بعضے مفسرین نے اس زیادہ انعام کی تفسیر یہ کی ہے کہ نیکیی کا بدلہ ایک درجہ تک تو جزا کا ہے، دس درجہ سے سات سو درجہ تک ثواب ملنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرماوے گا کہ : ” کیا تمہارے دل میں کچھ اور زیادہ انعام کی ہوس ہے۔ اہل جنت عرض کریں گے : ” یا اللہ ! تو نے ہم کو جنت میں داخل کیا ہے یہی ہم کو بڑا انعام ہے “۔ اللہ تعالیٰ فرماوے گا : ” ابھی تمہارا انعام باقی ہے “ یہ فرما کر پھر ان کو اپنے دیدار سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
[18] یعنی سلامتی کا گھر۔ مراد اس سے جنت ہے۔
[19] یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے اس طریقے کی طرف بلا رہا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر تم آخرت میں جنت کے مستحق ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(ف 1) جب کہ دنیا کا یہ حشر ہے تو پھرجائے پناہ کہاں ہے ؟ وہ کون ہے جس کی وجہ سے صحبت وسل امتی کی راہیں کھلتی ہیں ، اس آیت میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر فنا وموت کے بعد نجات حاصل کرنا چاہتے ، اور دائمی خوش زندگی کے خواہشمند ہو تو اللہ سے اچھا تعلق پیدا کرو ، وہ حی وقیوم ہے ، اسی کی ذات کو ثبات وقرار ہے ، وہ سل امتی کی دعوت دیتا ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔
اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Read the full tafseer →26 جن لوگوں نے اچھے اور بھلے کام کئے ان کے لئے خوبی اور بھلی چیز ہے اور اس سے زیادہ بھی ہے اور ان کے چہروں پر نہ تو غم اور پریشانی کی سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت یہی لوگ جنتی اور اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ بھلے کام کرنے والوں کے لئے بھلی چیز سے مراد جنت ہے یعنی جنہوں نے عبادت اچھے طور پر ادا کی ان کو اچھا بدلہ ملے گا اور فرمایا اس سے زیادہ بھی اس کے بہت سے معنی ہیں اور قول راحج یہ ہے کہ اس سے مراد دیدارِ الٰہی ہے سیاہی سے مراد وہ پھٹکار اور ذلت و رسوائی جو اہل دوزخ کے چہروں سے نمایاں ہوگی اس سے ان کے چہرے محفوظ ہوں گے بلکہ ان کے چہروں سے مسرت اور خوشی ٹپک رہی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 4۔ یعنی شرک وکفر کیا۔
5۔ اوپر مشرکین کے حق میں فرمایا تھا مالھم من اللہ من عاصم چونکہ وہ لوگ اپنے معبودوں کو اپناشفیع کہتے تھے اس لیے آگے ان معبودین کا ان عابدین سے قیامت میں بےتعلقی ظاہر کرنا جس کے لیے عدم نفع لازم ہے بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →نیکی کا بدلہ یقینا نیک ہوگا اور ان کے منہ کبھی بھی کالے نہیں ہوں گے
۔ 44 جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لا کر نیک عمل کیے ان کے لئے جنت ہے اور مزید اس کا فضل ہے کہ ایک نیکی کے بدلے دس گنا ثواب عنایت فرمائے گا اور اپنے دیدار سے بھی نوازے گا۔ یہ ایسے خوش نصیب اور نیک بخت ہوں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہروں پر سیاہی اور رسوائی نہ چھائے گی ، وہ جنت کے مستحق ہیں جن میں ان کی ہر خواہش جو اس وقت ہوگی پوری کی جائے گی اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اس آیت میں اس کی وضاحت فرما دی گئی کہ اطاعت گزار اور فرمانبردار بندوں کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوگا کہ جتنی انہوں نے نیکیاں کی ہیں ناپ تول کر ان کے…
Read the full tafseer →The sense is that the invitation to the Abode of Peace (Daru 's-Salam) is universal, open to all human beings and, in terms of this sense, guidance too is open to all. But, there is a kind of guidance that is special. Here, a seeker is made to stand on the straight path and given the ability to move ahead on course. This is Taufiq at its best. Only fortunate people are blessed with it.
Compared in the first two verses (24, 25) were the two Abodes of the present world and the world-to-come. Mention was also made of the states in which their dwellers were. The next four verses (26-29)…
Read the full tafseer →33. Apart from rewarding human beings in proportion to the good deeds that they have done, God also confers upon them, out of His sheer grace and bounty, a reward which is far in excess of their good deeds.
Read the full tafseer →