Explained with ayahs 24–25
دنیا اور اس کی حقیقت۔
دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور اس کی دو گھڑی کی سہانی رونق پھر اس کی بربادی اور بےرونقی کی مثال زمین کے سبزے سے دی جا رہی ہے کہ بادل سے پانی برسا زمین لہلہا اٹھی۔ طرح طرح کی سبزیاں، چارے، پھل پھول، کھیت باغات، پیدا ہوگئے۔ انسانوں کے کھانے کی چیزں، جانوروں کے چرنے چگنے کی چیزیں، چاروں طرف پھیل پڑیں، زمین سرسبز ہوگئی، ہر چہار طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگی، کھیتی والے خوش ہوگئے، باغات والے پھولے نہیں سماتے کہ اب کے پھل اور انجاج بکثرت ہے۔ ناگہاں آندھیوں کے جھکڑ چلنے لگلے، برف باری ہوئی، اولے گرے، پالہ پڑا، پھل چھوڑ پتے بھی جل گئے۔ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، تازگی خشکی سے بدل گئی، پھل…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 32
یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے اس طریقے کی طرف جو آخرت کی زندگی میں تم کو دارالسلام کا مستحق بنائے۔ دارالسلام سے مراد ہے جنت اور اس کے معنی ہیں سلامتی کا گھر، وہ جگہ جہاں کوئی آفت، کوئی نقصان، کوئی رنج اور کوئی تکلیف نہ ہو۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اللہ تعالیٰ دارالبقاء کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر چلنے کی توفیق دے دیتا ہے (جس سے دارالبقاء تک رسائی ہو سکتی ہے، آگے جزا و سزا کا بیان ہے کہ) جن لوگوں نے نیکی کی ہے (یعنی ایمان لائے ہیں) ان کے واسطے خوبی (یعنی جنت) ہے اور مزید براں (خدا کا دیدار) بھی اور ان کے چہروں پر نہ کدورت (غم کی) چھاوے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اور جن لوگوں نے بد کام کئے (یعنی کفر و شرک کیا) ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی (بدی سے زیادہ نہ ہوگی) اور ان کو ذلت چھا لے گی، ان کو اللہ (کے عذاب) سے کوئی نہ بچا سکے گا (ان کی کدورت چہرہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
25۔ 27: وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ ۭ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ۔ لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ ۚ كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْن۔
وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ۔ سلام کے معنی سکھ اور چین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 1 حصیدا فعیل بمعنی مفعول یعنی محصود دنیا کی زندگی اس طرح کھیتی سے تشبیہ دے کر اس کے عارضی پن اور ناپائیداری کو واضح کیا گیا ہے کہ کھیتی بھی بارش کے پانی سے نشمونما پاتی اور سرسبز و شداب ہوتی ہے لیکن اس کے بعد اسے کاٹ کر فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →13: سلامتی کے گھر سے مراد جنت ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعوت تو تمام انسانوں کے لئے عام ہے کہ وہ ایمان اور عمل صالح کے ذریعے جنت حاصل کریں لیکن اس تک پہنچنے کا جو سیدھا راستہ ہے، اس تک اللہ تعالیٰ اسی کو پہنچاتا ہے جسے وہ اپنی حکمت سے چاہتا ہے اور اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اسی کو پہنچایا جائے جو اپنے اختیار اور ہمت کو کام میں لاکر جنت کی ضروری شرائط پوری کرے۔
Read the full tafseer →وا اللہ یدعوا الی دارالسلام اور اللہ (سب لوگوں کو) ایسے گھر کی طرف بلا رہا ہے جو ہر قسم کی تباہی اور ہلاکت سے سالم ہے ‘ یعنی جنت کی طرف۔ قتادہ نے کہا : جنت اللہ کا گھر ہے۔ السلام اللہ کا نام ہے (یعنی آیت میں السلام سے مراد سلامتی نہیں ہے بلکہ اللہ کا خاص نام مراد ہے اور یہ صیغۂ صفت ہے ‘ مصدر مراد نہیں ہے) لفظ السلام کا ذکر اسی مفہوم پر تنبیہ کرنے کیلئے کیا گیا۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سو رہے تھے کہ کچھ فرشتے آئے اور آپس میں کہنے لگے : تمہارے اس ساتھی کی ایک خاص حالت ہے ‘ مثال دے کر اس کی حالت بیان کرو۔ کسی فرشتے نے کہا : یہ سو رہا ہے۔ دوسرے نے کہا : اس کی آنکھ سو رہی ہے ‘ دل…
Read the full tafseer →6 یعنی دنیا کی زائل وفانی زندگی پر مت ریجھو۔ دارالسلام (جنت) کی طرف آؤ۔ خدا تم کو سلامتی کے گھر کی طرف بلا رہا ہے اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی دکھلاتا رہا ہے۔ وہ ہی گھر ہے جہاں کے رہنے والے ہر قسم کے رنج و غم، پریشانی، تکلیف، نقصان، آفت اور فناوزوال وغیرہ سے صحیح وسالم رہیں گے۔ فرشتے ان کو سلام کریں گے۔ خود رب العزّت کی طرف سے تحفہ سلام پہنچے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24 اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآءٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَأْکُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ ط
پانی کے بغیر زمین بنجر اور مردہ ہوتی ہے ‘ اس میں گھاس ‘ ہریالی وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جونہی بارش ہوتی ہے اس میں سے طرح طرح کا سبزہ نکل آتا ہے ‘ فصلیں لہلہانے لگتی ہیں ‘ باغات ہرے بھرے ہوجاتے ہیں۔
حتّٰیٓ اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّیَّنَتْ
یہاں پر بہت خوبصورت الفاظ میں زمین کی شادابی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ چھوٹے بڑے نباتات کی نمائش ‘ سبز پوش خوبصورتی کی بہار اور رنگا رنگ پھولوں کی زیبائش کے ساتھ جب زمین پوری طرح…
Read the full tafseer →37 دنیا کی اس فانی زندگی کے مقابلہ میں آخرت کی ایک پائیدار اور لازوال زندگی بھی ہے جس کی زینت اور رعنائیاں اس دنیا سے بدرجہا زیادہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اسی سلامتی کے گھر کی طرف بلارہا ہے جہاں کسی ارضی یا سماوی آفت کے آپڑنے کا کوئی اندیشہ نہیں نہ ہی وہاں موت کا خطرہ ہے اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی بتلا رہا ہے۔ لہذا دنیا کی پرفریب اور فانی زندگی پر مفتون نہ ہوجاؤ بلکہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس ہر آفت سے محفوظ گھر کا قصد کرو جہاں فرشتے بھی تمہارے لیے سلامتی کی دعائیں کریں گے اور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی تحفہ سلام پہنچے گا۔
Read the full tafseer →44۔ اور یہی لوگ ہیں جنہیں اس سلامتی کے گھر تک پہنچ جانے کی توفیق ہوجاتی ہے۔ (آیت) ”’ واللہ یدعوا “۔ اللہ اپنے بندوں کو بلاتا ہے اپنے انہیں احکام وہدایات کے ذریعہ سے۔ (آیت) ” الی دارالسلم “۔ سلامتی کا گھر یعنی اس فانی وناپائدار دنیا کے برعکس ہمیشہ قائم اور سلامت رہنے والا گھر مراد جنت ہے۔ اے الی الجنۃ (قرطبی) قال قتادۃ والحسن السلام ھو اللہ ودارہ الجنۃ وسمیت الجنۃ دارالسلام لان من دخلھا سلم من الافات (قرطبی) لاشبھۃ ان المراد من دارالسلام الجنۃ الا انھم اختلفوا فی سبب الذی لاجلہ حصل ھذا الاسم (کبیر) عارفین نے لکھا ہے کہ آیت میں مومنین کے لئے تو عبرت ہے کہ شہنشاہ خود بلا رہا ہے اور غلام حاضری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…
Read the full tafseer →وا اللہ یدعوا الی دارالسلام اور اللہ (سب لوگوں کو) ایسے گھر کی طرف بلا رہا ہے جو ہر قسم کی تباہی اور ہلاکت سے سالم ہے ‘ یعنی جنت کی طرف۔ قتادہ نے کہا : جنت اللہ کا گھر ہے۔ السلام اللہ کا نام ہے (یعنی آیت میں السلام سے مراد سلامتی نہیں ہے بلکہ اللہ کا خاص نام مراد ہے اور یہ صیغۂ صفت ہے ‘ مصدر مراد نہیں ہے) لفظ السلام کا ذکر اسی مفہوم پر تنبیہ کرنے کیلئے کیا گیا۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سو رہے تھے کہ کچھ فرشتے آئے اور آپس میں کہنے لگے : تمہارے اس ساتھی کی ایک خاص حالت ہے ‘ مثال دے کر اس کی حالت بیان کرو۔ کسی فرشتے نے کہا : یہ سو رہا ہے۔ دوسرے نے کہا : اس کی آنکھ سو رہی ہے ‘ دل…
Read the full tafseer →(25) اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو توحید کے ذریعے دارالبقاء کی طرف بلاتا ہے، سلام اللہ تعالیٰ کا نام اور جنت اس کا گھر ہے اور جسے چاہتا ہے، دین مستقیم یعنی دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَار السَّلٰمِ۔۔ : اوپر کی آیت میں دنیا اور اس کے بہت جلد زوال کا ذکر کرکے لوگوں کو اس کی طرف مائل ہونے سے نفرت دلائی، اب اس آیت میں جنت کی ترغیب دی اور جنت کا نام ”دار السلام“ رکھا۔ دیکھیے سورة انعام (125 تا 127) یعنی جو ہر قسم کے آفات و آلام سے پاک ہے اور اس میں سلامتی ہی سلامتی ہے، فرشتے ہر طرف سے اس میں سلام کریں گے اور اہل جنت بھی ایک دوسرے کو سلام کا تحیہ پیش کریں گے، فرمایا : (تَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ) [ یونس : 10 ] ”اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی۔“ رب رحیم کی طرف سے بھی سلام کی نعمت سے سرفراز ہوں گے، فرمایا : (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 25۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واللہ یدعوا الی دار السلم “۔ جب اللہ تعالیٰ اس دار یعنی دار دنیا کا وصف ذکر کرچکا تو اس نے آخر کا وصف بیان فرمایا اور کہا : بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا جمع کرنے کی طرف دعوت نہیں دیتا بلکہ وہ تمہیں طاعت کی طرف بلاتا ہے تاکہ تم دارالسلام یعنی جنت کے اہل ہوجاؤ، حضرت قتادہ (رح) اور حسن نے فرمایا : السلام تو خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس دار جنت ہے (1) (تفسیر طبری، سورة ، جلد 11، صفحہ 121)
اور جنت کو دارالسلام کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ جو اس میں داخل ہوگیا وہ آفات سے محفوظ ومامون ہوجائے گا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اسماء میں سے ” السلام “ ہے، تحقیق ہم نے اسے…
Read the full tafseer →1:۔ ابونعیم والدمیاطی نے اپنی معجم میں الکلبی کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) واللہ یدعوا الی دارالسلم “ یعنی اللہ تعالیٰ بلاتے ہیں جنت کے عمل کی طرف اور اللہ تعالیٰ سلام ہیں اور جنت ان کا گھر ہے۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ویھدی من یشآء “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو راستہ دکھاتا ہے شبہات فتن اور گمراہیوں سے نکلنے کے لئے۔ (آیت) واللہ یدعوا الی دارالسلم ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم (25) ۔
3:۔ احمد وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَدْعُوْٓا [ بلاتا ہے ] اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ ۭ [ سلامتی کے گھر کی طرف ] وَيَهْدِيْ [ اور وہ ہدایت دیتا ہے ] مَنْ [ اس کو جس کو ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] ااِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے کی طرف ]
Read the full tafseer →اہل جنت کی نعمتوں ‘ اور اہل دوزخ کی بد صورتی اور عذاب دائمی کا تذکرہ
یہ تین آیات ہیں ان میں پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دارالسلام (سلامتی کے گھر) یعنی جنت کی طرف بلاتا ہے جو دین اسلام اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور بندوں کے لئے منتخب فرمایا ہے سراپا سلامتی کا راستہ ہے اس میں دنیا میں بھی سلامتی ہے اور آخرت میں بھی ‘ چونکہ جنت میں جانے والے ہمیشہ جنت ہی میں رہیں گے ‘ وہاں نہ موت آئے گی نہ وہاں سے کہیں جانا ہوگا اور کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہوگی اس لئے اس کا ایک نام دارالسلام بھی ہے یعنی ” سلامتی کا گھر “ جنت میں لے جانے والے عقائد اور اعمال کو (سُبُلَ السَّلَامِ ) فرمایا ہے (کما فی سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
دنیا کا فنا اور زوال اور اس کی ناپائیداری کی مثال اور ذکر جزائے اعمال
قال اللہ تعالی۔ انما مثل الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون
(ربط) گزشتہ آیت میں لوگوں کی سرکشی کا بیان تھا جس کا سبب دنیا کی ظاہری زیبائش و عیش و عشرت تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ دنیاوی زندگانی کے نشہ میں سر شار ہیں اب اس آیت میں دنیا کی ناپائیدار زندگی کی ایک لطیف مثال بیان کرتے ہیں جس میں غور کرنے سے دنیا کی بےثباتی اور عمر کی ناپائیدار دل پر نقش ہوجاتی ہے اور بغی اور فساد فی الارض کا جو منشاء اور اصل سبب تھا (یعنی دنیاوی عیش و عشرت) اس کی حقیقت واضح ہوجانے سے مزاج اعتدال پر آجائے گا۔
دنیا کی چند روزہ زندگی کو پانی اور مٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
41: بشارت اخروی ہے “ دَارُ السَّلَام ” سے مراد جنت ہے “ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا ” خبر مقدم “ اَلْحُسْنٰی وَزِیَادَةٌ ” معطوف علیہ مع معطوف مبتدا مؤخر “ زِیَادَةٌ ” سے دیدار الٰہی مراد ہے “ قَتَرٌ ” سیاہی اور بےرونقی یعنی جن لوگوں نے چند روزہ دنیا پر دین کو ترجیح دی اور پورے اخلاص کے ساتھ توحید و رسالت کو مانا اور شعائر اسلام کی پیروی کی ان کیلئے آخرت میں جنت کا حتمی وعدہ ہے، ان کو ان کے تمام اعمال کی جزا ملیگی اور سب سے بڑا انعام جو انہیں وہاں ملے گا وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ جیسا کہ بہت سے صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے۔ “ (وَ زِیَادَةٌ) رؤیة الرب عز و جل کذا عن ابی بکر و حذیفة وابن عباس و ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
انسانی زندگی کی مثال
پہلے اللہ نے معاد کا ذکر کیا۔ پھر انسانوں کی غفلت ، ناشکری ، کفر ، شرک ، بغاوت اور شرارت کا تذکرہ وہوا۔ فرمایا انسانوں کی بغاوت انہیں کے نفسوں پر پڑیگی ، اس تھوڑی سی زندگی سے فائدہ اٹھالو ، بالاآخر تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے جو تمہارے اعمال تمہارے سامنے رکھ دے گا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے انسانی غفلت ہی کے سلسلے میں ایک مثال بیان فرمائی ہے اور نیکی اور بدی کرنے والوں کے انجام کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ انسانی زندگی کی مثال اس طرح بیان فرمائی ہے (آیت) ” انما مثل الحیوۃ الدنیا “ بیشک دنیا کی زندگی مثال ایسی ہے (آیت) ” کما انزلنہ من السمائ “ جیسے پانی ہو جسے ہم نے…
Read the full tafseer →وَاللہُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ 0 ۭ وَيَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ 25
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
1 ؎ یعنی پانی سے۔ پانی جب زمین میں پیوست ہوتا ہے تو اس امتزاج سے نباتات پیدا ہوتی ہیں جن کو انسان وبہائم کھاتے ہیں۔ آسمان کا پانی بمنزلہ زوج کے پانی کے اور زمین بمنزلہ رحم انثیٰ کے ہے۔ یہ اختلاطان کے اختلاط کے مشابہ ہے نباتات کی روئیدگی انسانی تولد سے مشابہ ہے یا برعکس کہو کیونکہ مشابہت طرفین سے ہے اب جس طرح یہ نباتات لہلہاتی اور بہار پر آتی ہیں اسی طرح انسان بھی جوانی اور بالیدگی کے ایام میں لہلہاتا ہے۔ پر جس طرح اس چند روزہ بہار کے بعد اس روئیدگی پر فنا کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں کہ زرد پڑتی گئی آخر گر پڑی اور ہوا میں ذرہ ذرہ ہو کر اڑنے لگی اور پائوں میں روندی گئی اور خاک سے نکلی تھی پھر…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ یَدْعُوْآ اِلٰی دَارِالسَّلٰمِ ط وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ ط وَلاَ یَرْھَقُ وُجُوْھَھُمْ فَتَرٌوَّلاَ ذِلَّۃٌ ط اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآئُ سَیِّئَۃٍ م بِمِثْلِھَا لا وَتَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ ط مَالَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مُنْ عَاصِمٍ ج کَاَنَّمَآ اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا ط اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (یونس : 25، 26، 27)
(اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کی ناپائیداری اور بےثباتی پر غور کرنے کا یہ نتیجہ نکلتا ہے اور نکلنا چاہیے کہ انسان عارضی اور ناپائیدار چیزوں پر دل لگانے کی بجائے دائمی اور مستقل چیز کی طرف توجہ کرے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور سلامتی کا گھر ہے۔
خوش قسمت ہے وہ انسان جس نے دنیا کی رعنائی اور دلفریبیوں سے اپنے آپ کو بچاکر صراط مستقیم پر گامزن رکھا جو سلامتی کا راستہ اور گھر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اسی سلامتی کی دعوت دیتا ہے جب بندہ اپنی عاقبت کی فکر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت کے راستے پر گامزن کردیتا ہے ایسے خوش نصیب کے لیے دنیا میں سلامتی اور آخرت میں جنت ہوگی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا…
Read the full tafseer →دارالسلام :
25: وَاللّٰہُ یَدْعُوْا اِلٰی دَارِالسَّلٰمِ (اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے) وہ جنت ہے، السلام جنت کا نام ہے اور اسکی اضافت نام کی طرف کر کے اسکی عظمت کو بیان کیا۔ نمبر 2۔ السلام کا معنی سلامتی ہے کیونکہ اہل جنت ہر ناپسند چیز سے محفوظ کردیئے گئے ہیں۔ نمبر 3۔ ان کے مابین السلام علیکم بہت کہا جائے گا۔ اور فرشتے بھی ان کو سلام کریں گے۔ جیسا کہ الواقعہ 26 میں اِلَّا قِیْلاً سَلٰمًا سَلٰمًا ہے۔ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (اور جس کو چاہتا ہے توفیق دیتا ہے) ۔ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (سیدھے راستے کی طرف) ۔ نمبر 1۔ یعنی اسلام کی طرف یا نمبر 2۔ سنت کے راستہ کی طرف۔
نکتہ :…
Read the full tafseer →(25) ” واللہ یدعوالی دارالسلام “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ سلام اللہ تعالیٰ ہیں اور اس کا گھر جنت ہے اور بعض نے کہا ہے کہ سلام سلامتی کے معنی میں ہے جنت کو دارالسلام اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جو اس میں داخل ہوگا آفات سے محفوظ ہوجائے گا ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس فرشتے آئے ۔ آپ (علیہ السلام) سو رہے تھے تو وہ کہنے لگے کہ تمہارے اس ساتھی کی ایک مثال ہے اس کے لیے مثان بیان کرو تو ان میں سے بعض نے کہا کہ سوئے ہوئے ہیں تو وہ کہنے لگے کہ تمہارے اس ساتھی کی ایک مثال ہے اس کے لیے مثال بیان کرو تو ان میں سے بعض نے کہا کہ یہ سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا بیشک آنکھ سوئی ہوئی ہے اور دل جاگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 25۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سرکش اور نافرمان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں انسان کی زندگی کی مثال اس لئے فرمائی کہ سرکش لوگوں کو عبرت ہو کہ جس زندگی کے بھروسہ پر وہ سرکشی اور نافرمانی کرتے ہیں وہ زندگی ہی خود ایک ناپائیدار چیز ہے جس طرح جنگل کی کھیتی ہے کہ کاشتکاری کی موسم میں کچھ سر سبز نظر آتی ہے پھر خاک اڑتی دکھائی دیتی ہے اسی طرح انسان کی زیست کا ایک موسم شادابی کا جوانی میں آن کر ساتھ ہی اس کے گھٹاؤ کے آثار شروع ہوجاتے ہیں دانت ادھر جواب دیتے ہیں آنکھیں کمزوری جتانے لگتی ہیں ہاتھ پاؤں کو دیکھ تو نہ وہ بل باقی ہے نہ وہ زور ہے تھوڑے دنوں میں گویا درخت تھا کہ سوکھتے سوکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت : (25-26)
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف عام دعوت اور اس اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ جس کو اپنے لئے خالص کر کے چن لینا چاہتا ہے اس کیلئے ہدایت کو مخصوص کردیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے لئے اپنی رحمت کو مختص کردیتا ہے ‘ یہ اس کا عدل و حکمت ہے اور حق و باطل کو بیان کردینے اور رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد کسی کے لئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ” دارالسلام “ کے نام سے اس لئے موسوم کیا ہے کہ یہ تمام آفات اور نقائص سے محفوظ اور سلامت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نعمتیں کامل ‘ ہمیشہ رہنے والی اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →50 ۔ اللہ کی دعوت سلامتی کے گھر کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف۔ یعنی جنت کی طرف جس میں ہر طرح کی اور ہر طرف سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ اور اس تک پہنچنے کا راستہ ایمان و یقین اور اعمال صالحہ کا وہ راستہ ہے جس کی طرف اللہ پاک طرح طرح سے بلاتا اور دعوت دیتا ہے۔ جو کہ تقاضا ہے اس کی رحمت بےنہایت اور عنایت بےنہایت کا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو کتنا بڑا کرم واحسان ہے اس مالک الملک کا کہ وہ اپنے بندوں کو اس طرح سلامتی کے اس عظیم الشان گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور کس قدر بےانصاف اور ناشکرا ہے یہ انسان جو اس سے منہ موڑتا اور اعراض برتتا ہے۔ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
اچھے اعمال کا انعام اور برے اعمال کا بدلہ
تشریح : ان آیات میں سلامتی کے گھر، یعنی جنت کا ذکر ہے پھر جنت حاصل کرنے والے اور دوزخ میں جانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ انسان کو پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے اس کو زندگی اور زندگی گزارنے کے لیے تمام سہولتیں، آسائشیں عطا فرمائیں۔ تو اس طرح بندے اور اللہ کا تعلق آقا اور غلام کا ہوگیا۔ اب غلام کی زندگی کا مقصد کامیاب زندگی گزارنے کے لیے تین اصولوں پر قائم رہنا ہے۔ یعنی آقا کی وفاداری، آقا کی اطاعت گزاری، آقا کا ادب اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا۔ ان تین باتوں کا جب ایک مسلمان زندگی کے ہر لمحہ میں خیال رکھتا ہے وہ گویا دنیا کا ہر کام عبادت سمجھ کر کرتا ہے۔ ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21 تا 30
اسرار و معارف
کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…
Read the full tafseer →ف 5۔ اوپر کی آیت میں دنیا اور اس کے سرعت زوال کا ذکر کرکے لوگوں کو اس کی طرف مائل ہونے سے نفرت دلائی۔ اب اس آیت میں جنت کی ترغیب دی اور جنت کا نام ” دار السلام “ رکھا یعنی جو ہر قسم کے ذلت و آلام سے پاک ہے اور اس میں سلامتی ہی سلامتی ہے۔ فرشتے ہر طرف سے اس میں سلام کریں گے اور اہل جنت بھی ایک دوسرے کو سلام کا تحفہ پیش کریں گے۔ تحتھم فیھا سلام۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ لوگوں کو جنت کی دعوت دی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری اور میری امت کی مثال ایسی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک محل بنایا پھر اس میں ایک شاندار دعوت کا اہتمام کیا اور لوگوں کو بلانے کے لئے اپنا ایک…
Read the full tafseer →(10:25) دارالسلام۔ سلامتی کا گھر۔ یعنی جنت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 25
مثل (مثال) اختلط (رل مل گیا) نبات الارض (زمین کا سبزہ، پیداوار) الانعام (مویشی، چو پائے) اخذت (پکڑ لیا) زخرف (رونق) ازینت (آراستہ ہوگئی، سنور گئی) ظن (گمان کرلیا) اھل (مالک، (کاشتکار) امرنا (ہمارا حکم (فیصلہ) حصید (کٹا ہوا ڈھیر، کٹی ہوئی کھیتی ) لم تغن (آیا نہ رہی تھی، لم تغن جو اصل میں لم تغنا تھا آخر کا الف گر گیا تغن کا معنی ہیں آباد ہونا، رہنا سہنا۔ امس (جو کل گذر گئی اس کو امس کہتے ہیں) ۔ نفصل (ہم تفصیل (صاف صاف) بیان کرتے ہیں یدعوا (وہ بلاتا ہے، پکارتا ہے، دعوت دیتا ہے ۔ دار السلام (سلامتی کا گھر، (جنت ، آخرت) صراط مستقیم (وہ راستہ جو بالکل سیدھا (منزل تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
انسانی زندگی کی مثال کا ذکر
شان نزول : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سرکش اور نافرمان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا۔ ان آیتوں میں انسان کی زندگی کی مثال اس لئے بیان فرمائی کہ سرکش لوگوں کو عبرت ہو کہ جس زندگی کے بھروسہ پر وہ سرکشی اور نافرمانی کرتے ہیں، پھر خاک اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح انسان کی زیست کا ایک موسم شادابی کا جوانی میں آن کر ساتھ ہی اس کے گھٹاؤ کے آثار شروع ہوجاتے ہیں۔ دانت الگ جواب دیتے ہیں، آنکھیں الگ کمزوری جتانے لگتی ہیں۔ ہاتھ پاؤں کو دیکھو تو نہ وہ بل باقی ہے نہ وہ زور ہے۔ تھوڑے دنوں میں گویا درخت تھا کہ سوکھتے سوکھتے جڑ سے اکھڑ گیا۔ کھیتی کی ایک مثال اللہ تعالیٰ نے بہت سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
[18] یعنی سلامتی کا گھر۔ مراد اس سے جنت ہے۔
[19] یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے اس طریقے کی طرف بلا رہا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر تم آخرت میں جنت کے مستحق ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →دنیا کی ایک مثال :
(ف 1) دنیائے دوں ہزار لباس فاخرہ پہن کر جلوہ گر ہو ، مرد مومن سے اس کے عیوب پنہاں نہیں رہ سکتے وہ بالغ النظر ہوتا ہے ، اس کی نظریں محسن ظاہری سے گزر کر تبع باطن تک پہنچ جاتی ہیں ، مگر وہ لوگ جو صرف ظاہر پرست ہیں ، اس کے جلوؤں سے آنکھیں خیرہ کرلیتے ہیں ۔
اس آیت میں آرائش عالم کی کیفیت کو واضح صورت میں پیش کیا ہے ، اور بتایا ہے کہ دنیا کا جو پہلو تمہیں نظر آتا ہے ، وہ حسین نہیں ، غور سے دیکھو ، اس کے چہرہ پر سرور پر فنا اور موت کی کس قدر خوفناک جھریاں پڑی ہوئی ہیں ۔
آج جہاں دولت ہے کل افلاس ہے جس جگہ قصر ومحل تھے وہاں جھونپڑیاں نظر آرہی ہیں جنہیں مخمل و باغات پر قدم رکھنا…
Read the full tafseer →25 اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو دارالسلام اور سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ یعنی دارالسلام فرمایا جنت کو اس میں ہمیشہ کے لئے ہر آفت سے سلامتی میسر ہوگی اور یہ جو فرمایا رہنمائی کرتا ہے سیدھی راہ کی یعنی جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عنایت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 4۔ یعنی شرک وکفر کیا۔
5۔ اوپر مشرکین کے حق میں فرمایا تھا مالھم من اللہ من عاصم چونکہ وہ لوگ اپنے معبودوں کو اپناشفیع کہتے تھے اس لیے آگے ان معبودین کا ان عابدین سے قیامت میں بےتعلقی ظاہر کرنا جس کے لیے عدم نفع لازم ہے بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہمیشہ تم کو سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے
۔ 43 رہی لوگ جو اللہ کی باتوں کو غور و فکر کے ساتھ سنتے ہیں ، ان کو اس سلامتی کے گھر تک پہنچ جانے کی توفیق ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس فانی دنیا اور اس کی فنا پذیر لذتوں میں کھو جانے سے اس لئے روکتا ہے کہ تم کہیں ہوا و ہوس کی زنجیروں میں مقید ہو کر نہ رہ جائو۔ نفس و شیطانی کے فریب میں پھنس کر اپنے حقیقی مقام سے بیخبر نہ ہو جائو ۔ اللہ تعالیٰ تم کو ایسی راہ پر چلنے کی دعوت دیتا ہے جس پر چل کر تم اپنی منزل پا لو گے اگر تم کو اپنی منزل یاد ہے تمہاری روح بھی چین محسوس کرے گی اور تم قریب الٰہی کی سعادت سے بھی بہرہ اندوز ہوجائے گے اور…
Read the full tafseer →Commentary
In the previous verse (24), the transitory nature of worldly life was likened to a field. Water came from the heavens and it became verdant with flowers and fruits and crops. Growers were happy to presume that this will take care of everything they needed. But, because of their acts of disobedience, some unforeseen Divine punishment descended during the time of the night or day. Everything stood wiped off - as if nothing had existed there. This was the state of worldly life. After that comes a description of the life-to-come as it would be (25).
It was said: وَاللَّـهُ يَدْعُو…
Read the full tafseer →32. God calls man to the path which would ensure for him his entry into the 'Abode of Peace1 in the Hereafter. The expression Dar al-salam which literally means the 'Abode of Peace', stands for Paradise, whose inhabitants shall be secure against every calamity, loss, sorrow or suffering.
Read the full tafseer →