Explained with ayahs 24–25
دنیا اور اس کی حقیقت۔
دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور اس کی دو گھڑی کی سہانی رونق پھر اس کی بربادی اور بےرونقی کی مثال زمین کے سبزے سے دی جا رہی ہے کہ بادل سے پانی برسا زمین لہلہا اٹھی۔ طرح طرح کی سبزیاں، چارے، پھل پھول، کھیت باغات، پیدا ہوگئے۔ انسانوں کے کھانے کی چیزں، جانوروں کے چرنے چگنے کی چیزیں، چاروں طرف پھیل پڑیں، زمین سرسبز ہوگئی، ہر چہار طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگی، کھیتی والے خوش ہوگئے، باغات والے پھولے نہیں سماتے کہ اب کے پھل اور انجاج بکثرت ہے۔ ناگہاں آندھیوں کے جھکڑ چلنے لگلے، برف باری ہوئی، اولے گرے، پالہ پڑا، پھل چھوڑ پتے بھی جل گئے۔ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، تازگی خشکی سے بدل گئی، پھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
سورة یُوْنُس 31
یہ توحید کے برحق ہونے کی نشانی ہر انسان کے نفس میں موجود ہے۔ جب تک اسباب سازگار رہتے ہیں، انسان خدا کو بھولا اور دنیا کی زندگی پر پھولا رہتا ہے۔ جہاں اسباب نے ساتھ چھوڑا اور وہ سب سہارے جن کے بل پر وہ جی رہا تھا ٹوٹ گئے، پھر کٹے سے کٹے مشرک اور سخت سے سخت دہریے کے قلب سے بھی یہ شہادت ابلنی شروع ہوجاتی ہے کہ اس سارے عالم اسباب پر کوئی خدا کار فرما ہے اور وہ ایک ہی خدائے غالب و توانا ہے۔ (ملاحظہ ہو الانعام، 29)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(آیت) اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ، یعنی تمہارے ظلم کا وبال تمہارے ہی اوپر پڑ رہا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ظلم کا وبال یقینی ہے اور آخرت سے پہلے دنیا میں بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صلہ رحمی اور لوگوں پر احسان کرنے کا بدلہ بھی جلد دیتا ہے (کہ آخرت سے پہلے دنیا میں اس کی برکات نظر آنے لگتی ہیں اور ظلم اور قطع رحمی کا بدلہ بھی جلد دیتا ہے (کہ دنیا میں بھگتنا پڑتا ہے) (رواہ الترمذی و ابن ماجہ بسند حسن) اور ایک حدیث میں بروایت حضرت عائشہ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کا وبال اپنے کرنے والے ہی پر پڑتا ہے ظلم، بد…
Read the full tafseer →اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ ۭﱑ اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ اَهْلُهَآ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَيْهَآ ۙ اَتٰىھَآ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰھَا حَصِيْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ ۭ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۔
حیات کی تمثیل۔ انما مثل الحیوۃ الدنیا، یہ اس حیات دنیا کی تمثیل ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں متاع الحیوۃ الدنیا کے الفاظ سے ہوا ہے جس پر کفار ریجھے ہوئے ہیں اور اس کو اس قدر مامون سمجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 1 حصیدا فعیل بمعنی مفعول یعنی محصود دنیا کی زندگی اس طرح کھیتی سے تشبیہ دے کر اس کے عارضی پن اور ناپائیداری کو واضح کیا گیا ہے کہ کھیتی بھی بارش کے پانی سے نشمونما پاتی اور سرسبز و شداب ہوتی ہے لیکن اس کے بعد اسے کاٹ کر فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →12: دنیا کی حالت بھی ایسی ہی ہے کہ اس وقت وہ بڑی خوبصورت اور سجی معلوم ہوتی ہے، لیکن اول تو کبھی قیامت سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے کسی عذاب کی وجہ سے اس کی ساری خوبصورتی ملیامیٹ ہوتی ہے، دوسرے جب انسان کی موت کا وقت آتا ہے، تب بھی اس کے لئے یہ دنیا اندھیری ہوجاتی ہے، اور اگر ایمان اور عمل صالح کی پونجی پاس نہ ہو تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ساری خوبصورتی درحقیقت ایک عذاب تھی اور جب قیامت آئے گی تب تو یہ ظاہری زیب وزینت بھی پوری دنیا سے ختم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →انما مثل الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی کی عجیب حالت ‘ یعنی دنیوی زندگی بہت جلد زوال پذیر ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس پر شیفتہ ہیں ‘ یہ عجیب بات ہے۔
کما انزلنہ من السماء ایسی ہے جیسے ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں۔
فاختلط بہ نبات الارض مما یا کل الناس والانعام پھر اس پانی سے زمین کے نباتات جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں ‘ خوب گنجان ہو کر نکلے۔ اخْتَلَطَ گتھ جاتا ہے ‘ گھنا ہوجاتا ہے۔ مَا یَأکُلُ النَّاس یعنی انسان کی خوراک غلہ ‘ پھل ‘ سبزیاں۔ وَالْاََنْعَامُط اور چوپایوں کی خوراک یعنی گھاس ‘ چارہ۔
حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت یہاں تک کہ وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی۔…
Read the full tafseer →3 بعض نے (فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ ) 10 ۔ یونس :24) کے معنی کثرت پیداوار کے لیے ہیں۔ کیونکہ جب زمین کی پیداوار زیادہ قوی ہوتی ہے تو گنجان ہو کر ایک جز دوسرے سے مل جاتا اور لپٹ جاتا ہے۔ بعض نے " بہ " کی " ب " کو مصاحبت کے لیے لے کر یہ معنی کیے ہیں کہ زمین کا سبزہ پانی کے ساتھ رل مل جاتا ہے۔ کیونکہ نباتات اجزائے مائیہ کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں، جس طرح کھانا انسان کا جزو بدن بنتا ہے۔ ایسے ہی پانی، گویا نباتات کی غذا بنتی ہے۔ مترجم (رح) کے صنیع سے مترشح ہوتا ہے کہ اختلاط سے یہ مراد لے رہے ہیں کہ زمین اور پانی کے ملنے سے جو سبزہ نکلتا ہے اس میں آدمی کی اور جانوروں کی خوراک مخلوط (رلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24 اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآءٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَأْکُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ ط
پانی کے بغیر زمین بنجر اور مردہ ہوتی ہے ‘ اس میں گھاس ‘ ہریالی وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جونہی بارش ہوتی ہے اس میں سے طرح طرح کا سبزہ نکل آتا ہے ‘ فصلیں لہلہانے لگتی ہیں ‘ باغات ہرے بھرے ہوجاتے ہیں۔
حتّٰیٓ اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّیَّنَتْ
یہاں پر بہت خوبصورت الفاظ میں زمین کی شادابی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ چھوٹے بڑے نباتات کی نمائش ‘ سبز پوش خوبصورتی کی بہار اور رنگا رنگ پھولوں کی زیبائش کے ساتھ جب زمین پوری طرح…
Read the full tafseer →35 (فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ 24) 10 ۔ یونس :24) کے دو مفہوم ہیں ایک یہ کہ بارش کے پانی سے پیداوار اس کثرت سے پیدا ہوئی کہ آپس میں ایک دوسرے سے گتھ گئی ایک پودے کی شاخیں دوسرے میں جاگھسیں اور دوسرے کی پہلے میں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ پانی سے جو پیداوار یا نباتات حاصل ہوئی وہ انسانوں اور چوپایوں کے لئے ملی جلی یا مشترکہ تھی جیسے گندم کے دانے تو انسان کی خوراک ہیں اور بھوسہ چوپایوں کی۔ اور نباتات کی اکثر اقسام میں یہی صورت حال ہوتی ہے۔
36 دنیا کی زندگی کی کھیتی سے مثال :۔ اس آیت میں دنیا کی بےثباتی کی مثال بیان کی گئی ہے جس طرح نباتات پر جوبن…
Read the full tafseer →43۔ (سو یہ دنیا اپنی ساری زیب وزینت کے ساتھ بس ایسی ہی ناپائدار اور سریع الزوال ہے) (آیت) ” حتی اذا اخذت الارض زخرفھا “۔ یعنی اس کی خوشنمائی اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ اے استوفت واستکملت حسنھا (روح) یہاں دنیا کی بےثباتی کو مثال کی صورت میں یوں پیش کیا ہے کہ جیسے آسمان سے خوب زور شور کی بارش ہو، ہر قسم کے نباتات کی روئیدگی خوب ہو۔ آدمی کے کھانے کے قابل پھل پھلاری، میوہ، غلہ اور جانوروں کے کھانے کے قابل پتیاں، بھوسہ وغیرہ کی خوب پیداوار ہو، پھر جب ہر طرف سرسبزی وشادابی پھیل جائے، لہلہاتا کھیت، سرسبز درخت، شاداب باغ ہر طرف پورے زیب وزینت کے ساتھ نظر آنے لگیں اور انسان سمجھنے لگے کہ بس ہم ان تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…
Read the full tafseer →انما مثل الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی کی عجیب حالت ‘ یعنی دنیوی زندگی بہت جلد زوال پذیر ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس پر شیفتہ ہیں ‘ یہ عجیب بات ہے۔
کما انزلنہ من السماء ایسی ہے جیسے ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں۔
فاختلط بہ نبات الارض مما یا کل الناس والانعام پھر اس پانی سے زمین کے نباتات جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں ‘ خوب گنجان ہو کر نکلے۔ اخْتَلَطَ گتھ جاتا ہے ‘ گھنا ہوجاتا ہے۔ مَا یَأکُلُ النَّاس یعنی انسان کی خوراک غلہ ‘ پھل ‘ سبزیاں۔ وَالْاََنْعَامُط اور چوپایوں کی خوراک یعنی گھاس ‘ چارہ۔
حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت یہاں تک کہ وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی۔…
Read the full tafseer →(24) دنیاوی زندگی کی بقا اور فنا کی حالت تو اسی طرح ہے جس طرح کہ ہم نے بارش برسائی جس سے زمین پر پھل اور دانے اور گھاس پھوس خوب گنجان ہو کر نکلے، یہاں تک جب وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور وہ نباتات سبز، سرخ اور پیلے ہوگئے اور کاشتکاروں نے سمجھ لیا کہ اب نباتات ان کے قبضہ میں آگئی تو ایسی حالت میں ہماری طرف سے عذاب آگیا جس طرح بکریاں اپنے پیروں سے روند کر کاشتکاروں کی کھیتوں کو تباہ وبرباد کردیتی ہیں تو ہم نے ایسا صاف کردیا جیسا کہ وہ کل یہاں موجود ہی نہ تھی، جیسا کہ گرمیوں میں کھیتی کٹ جاتی ہے۔
ہم اسی طرح قرآن میں دنیا کے فانی ہونے کو واضح طور بیان کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے جو…
Read the full tafseer →اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ تم یہاں جتنی بھی سرکشی کرلو یا لذتوں میں مست ہو کر ہماری آیات کو جھٹلا لو، یہ دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور بہت جلد فنا ہوجانے والا ہے۔ اس آیت میں اس کی مثال بیان فرمائی کہ آسمان سے پانی برسنے سے زمین میں سے لوگوں کے اور ان کے چوپاؤں کے کھانے اور لذت حاصل کرنے کے لیے مختلف فصلیں، کھیتیاں، چارا اور پھل پیدا ہوئے، پھر خوب پھلے پھولے، زمین سج گئی، مالک سمجھنے لگے کہ ہمیں اس سے فائدہ اٹھانے کی اور اس سے غلہ، میوے اور سبزیاں حاصل کرنے کی پوری قدرت حاصل ہے۔
اَتٰىھَآ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَهَارًا۔۔ : ”اَمْرُنَا“ سے مراد اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 24۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” انما مثل الحیوۃ الدنیا کمآء انزلنہ من السمآء “۔ آیت کے معنی میں تشبیہ اور تمثیل ہے، یعنی دنیوی زندگی اپنے فناہ ہونے، زوال پذیر ہونے، اپنے رتبہ کے کم ہونے اور اس پر فخر کرنے کے اعتبار سے پانی کی مثل ہے، پس آیت میں کاف رفع کے محل میں ہے، اس تشبیہ کا مزید بیان سورة الکہف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ :
(آیت) ” انزلنہ من السمآء “۔ یہ ماء کی صفت ہے : (آیت) ” فاختلط “۔ حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (آیت) ” فاختلط “۔ پر وقف کیا ہے یعنی پانی زمین کے ساتھ مل گیا، پھر ابتدا کی۔ (آیت) ” بہ نبات الارض “۔ یعنی پانی کے ساتھ زمین کی سرسبزی ہے۔ پس زمین نے طرح طرح کی…
Read the full tafseer →دنیاوی زندگی کا فانی ہونا :ـ۔
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاختلط بہ نبات الارض “ کہ پانی مٹی کے ساتھ ملاتو پانی کی وجہ سے سبزہ نکلا ہر رنگ کا (آیت) ” مما یا کل الناس “ (جو لوگ کھاتے ہیں مثلا) جیسے گیہوں جو اور زمین سے اگنے والے سارے قسم کے دانے سبزیاں اور پھل اور جو چوپائے اور جانور کھاتے ہیں سوکھی گھاس اور ہر قسم کا چارہ۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وازینت “ یعنی زمین نے سبزہ اگایا اور خوبصورت ہوئی (آیت) ” کان لم تغن بالامس “ یعنی گویا نہ وہ یہاں گی اور نہ سرسبز اور…
Read the full tafseer →اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی کی مثال ] كَمَاۗءٍ [ ایسے پانی جیسی ہے ] اَنْزَلْنٰهُ [ ہم نے اتارا جس کو ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] فَاخْتَلَطَ [ تو رل مل گیا ] بِهٖ [ اس کے ذریعہ سے ] نَبَاتُ الْاَرْضِ [ زمین کا سبزہ ] مِمَّا [ جس میں سے ] يَاْكُلُ [ کھاتے ہیں ] النَّاسُ [ لوگ ] وَالْاَنْعَامُ ۭ [ اور چوپائے ] حَتّٰٓي [ یہاں تک کہ ] اِذَآ [جب ] اَخَذَتِ [ پکڑا ] الْاَرْضُ [ زمین نے ] زُخْرُفَهَا [ اپنے سنگھار کو ] وَازَّيَّنَتْ [ اور وہ سج گئی ] وَظَنَّ [ اور خیال کیا ] اَهْلُهَآ [ اس کے لوگوں نے ] اَنَّھُمْ [ کہ وہ ] قٰدِرُوْنَ [ قدرت…
Read the full tafseer →دنیا کی بےثباتی کی ایک مثال
اس آیت میں دنیا کی حالت بیان فرمائی ہے۔ دنیا کی ظاہری زیب وزینت اور ٹیپ ٹاپ پر جو لوگ ریجھے جاتے ہیں اور آخرت سے غافل رہتے ہیں ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اس تھوڑی سی حقیر دنیا کی وجہ سے آخرت سے غافل نہ ہوں ‘ ارشاد فرمایا کہ دنیا کی ایسی مثال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اس پانی کی وجہ سے طرح طرح کے پودے اگے ‘ سبزیاں نکلیں ‘ گھاس برآمدہوئی ‘ اور ان چیزوں کی وجہ سے زمین ہری بھری اور دیکھنے میں خوب خوشنما ہوگئی ‘ سبزہ لہلہانے لگا ‘ نظروں کو بھانے لگے ‘ جن لوگوں کی زمینیں تھیں وہ بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ بس اب تو یہ سب کچھ ہمارے قبضہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
دنیا کا فنا اور زوال اور اس کی ناپائیداری کی مثال اور ذکر جزائے اعمال
قال اللہ تعالی۔ انما مثل الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون
(ربط) گزشتہ آیت میں لوگوں کی سرکشی کا بیان تھا جس کا سبب دنیا کی ظاہری زیبائش و عیش و عشرت تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ دنیاوی زندگانی کے نشہ میں سر شار ہیں اب اس آیت میں دنیا کی ناپائیدار زندگی کی ایک لطیف مثال بیان کرتے ہیں جس میں غور کرنے سے دنیا کی بےثباتی اور عمر کی ناپائیدار دل پر نقش ہوجاتی ہے اور بغی اور فساد فی الارض کا جو منشاء اور اصل سبب تھا (یعنی دنیاوی عیش و عشرت) اس کی حقیقت واضح ہوجانے سے مزاج اعتدال پر آجائے گا۔
دنیا کی چند روزہ زندگی کو پانی اور مٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
39: یہ تنبیہ ہے اور اس سے دنیا کی تحقیر اور بےوقعتی کا بیان مقصود ہے “ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ ” منصوب بنزع خافض ہے “ اي فی متاع الحیوة الخ ” جس دنیا پر تم مغرور ہو کر حق کو نہیں مانے ہو وہ بہت حقیر اور بالکل ناپائیدار ہے۔ اس چند روزہ دنیا میں تم اللہ کی نافرمانی کر کے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کرلو آخر قیامت کے دن میرے سامنے آؤ گے جہاں اپنے کیے کی سزا پاؤ گے۔
40: یہ دنیا کی حقارت اور اس کی ناپائیداری کی تمثیل ہے۔ “ اِخْتَلَطَ ” زیادہ اور گنجان ہوگئی۔ “ زُخْرُفَھَا ” زیور یعنی سرسبز و شاداب کھیتوں اور بوقلموں پھولوں کی وجہ سے زمین مانند عروس خوبصورت ہوگئی۔ “ وَازَّیَّنَتْ ” یہ ماقبل کی تفسیر ہے “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
انسانی زندگی کی مثال
پہلے اللہ نے معاد کا ذکر کیا۔ پھر انسانوں کی غفلت ، ناشکری ، کفر ، شرک ، بغاوت اور شرارت کا تذکرہ وہوا۔ فرمایا انسانوں کی بغاوت انہیں کے نفسوں پر پڑیگی ، اس تھوڑی سی زندگی سے فائدہ اٹھالو ، بالاآخر تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے جو تمہارے اعمال تمہارے سامنے رکھ دے گا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے انسانی غفلت ہی کے سلسلے میں ایک مثال بیان فرمائی ہے اور نیکی اور بدی کرنے والوں کے انجام کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ انسانی زندگی کی مثال اس طرح بیان فرمائی ہے (آیت) ” انما مثل الحیوۃ الدنیا “ بیشک دنیا کی زندگی مثال ایسی ہے (آیت) ” کما انزلنہ من السمائ “ جیسے پانی ہو جسے ہم نے…
Read the full tafseer →اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ 0 ۭ حَتّٰٓي اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ اَہْلُہَآ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَيْہَآ 0 ۙ اَتٰىھَآ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَہَارًا فَجَعَلْنٰھَا حَصِيْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ 0 ۭ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 24
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
1 ؎ یعنی پانی سے۔ پانی جب زمین میں پیوست ہوتا ہے تو اس امتزاج سے نباتات پیدا ہوتی ہیں جن کو انسان وبہائم کھاتے ہیں۔ آسمان کا پانی بمنزلہ زوج کے پانی کے اور زمین بمنزلہ رحم انثیٰ کے ہے۔ یہ اختلاطان کے اختلاط کے مشابہ ہے نباتات کی روئیدگی انسانی تولد سے مشابہ ہے یا برعکس کہو کیونکہ مشابہت طرفین سے ہے اب جس طرح یہ نباتات لہلہاتی اور بہار پر آتی ہیں اسی طرح انسان بھی جوانی اور بالیدگی کے ایام میں لہلہاتا ہے۔ پر جس طرح اس چند روزہ بہار کے بعد اس روئیدگی پر فنا کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں کہ زرد پڑتی گئی آخر گر پڑی اور ہوا میں ذرہ ذرہ ہو کر اڑنے لگی اور پائوں میں روندی گئی اور خاک سے نکلی تھی پھر…
Read the full tafseer →اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآئٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآئِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْکُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ ط حَتّٰیٓ اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَھَا وَازَّیَّنَتُ وَظَنَّ اَھْلُھَآ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْھَآ لا اَتٰھَآ اَمْرُنَا لَیْلاً اَوْنَھَارًا فَجَعَلْنٰھَا حَصِیْدًا کَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ ط کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (یونس : 24)
(پس مثال حیات دنیا کی ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی اتارا۔ پس اس سے زمین کی نباتات خوب گھنی ہوگئی جس سے انسان بھی کھاتے ہیں اور حیوان بھی۔ یہاں تک کہ جب لے لیا زمین نے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلے بیان ہوا ہے کہ انسان جتنا چاہے باغی اور سرکش بن جائے بالآخر اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے یہ بات مزید واضح کرنے کے لیے ارشاد ہوتا ہے کہ جس دنیا پر تم اتراتے ہو یہ بالکل عارضی اور ناپائیدار ہے۔
قرآن مجید انسان کو دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے یہ باور کراتا ہے۔ کہ اے انسان دنیا کی ہر چیز اور خود تیرا وجود اور قیام عارضی ہے۔ جس دنیا کی خاطر تو اپنے رب کو بھلاتا اور آخرت کا انکار کرتا ہے۔ اس دنیا کی مثال تو اس طرح ہے جس طرح موسم برسات کے بعد ہر جگہ ہریالی آجاتی ہے۔ اس سے انسان اور حیوان فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہر سو سبزہ ہونے کی وجہ سے…
Read the full tafseer →دُنیا کی مثال :
24: اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاکَمَآئٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآئِ (دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی اتارا) بادلوں سیفَاخْتَلَطَ بہٖ (اس پانی کے ساتھ مل گیا) نَبَاتُ الْاَرْضِ (زمین کا سبزہ) یعنی اسکی وجہ سے گنجان ہو کر نکلا جو ایک دوسرے میں گھسا ہوا ہے۔ مِمَّا یَاْکُلُ النَّاسُ (جس سے لوگ کھاتے ہیں) یعنی غلہ، پھل، سبزیات وَالْاَنْعَامُ (چوپائے) یعنی گھاس وغیرہ حَتّٰی اِذَآ اَخََذَتِ الْاَ رْضُ زُخْرُفَھَا (یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی زینت لے لی) یعنی نباتات سے اس کو زینت دی جس نبات کی رنگتیں الگ الگ ہیں۔ وَازَّیَّنَتْ زمین اس سے مزین ہوئی۔ یہ اصل میں…
Read the full tafseer →تفسیر (24)” انما مثل الحیوۃ الدنیا “ اس کے فنا اور زوال میں ” کماء انزلنا ہ من السماء فاختلط بہ “ بارش کے ساتھ ” نبات الارض ‘ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پانی سے ہر رنگ کی چیزیں اگیں ۔ ” مما یا کل الناس “ غلہ اور پھل ” والانعام “ گھاس چارہ ” حتی اذا اخذت الارض زخرفھا “ اپنے حسن اور رونق اور سرسبز ہوگئی۔ ” وازینت “ یعنی تزئین و آرائش وزیبائش اور اس طرح ابن مسعود ؓ کی قرأت میں تزینت ہے۔ ” وظن اھلھا انھم قادرون علیھا “ اس کے کاٹنے اور چننے پر ۔ ضمیر الارض کی طرف لوٹ رہی ہے لیکن مراد نبایات ہیں ، اور بعض نے کہا ہے اس کو ” الفلۃ “ کی طرف لوٹایا ہے اور بعض نے کہا ہے ” الزینۃ “ کی طرف ۔ ” اتاھا امرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 25۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سرکش اور نافرمان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں انسان کی زندگی کی مثال اس لئے فرمائی کہ سرکش لوگوں کو عبرت ہو کہ جس زندگی کے بھروسہ پر وہ سرکشی اور نافرمانی کرتے ہیں وہ زندگی ہی خود ایک ناپائیدار چیز ہے جس طرح جنگل کی کھیتی ہے کہ کاشتکاری کی موسم میں کچھ سر سبز نظر آتی ہے پھر خاک اڑتی دکھائی دیتی ہے اسی طرح انسان کی زیست کا ایک موسم شادابی کا جوانی میں آن کر ساتھ ہی اس کے گھٹاؤ کے آثار شروع ہوجاتے ہیں دانت ادھر جواب دیتے ہیں آنکھیں کمزوری جتانے لگتی ہیں ہاتھ پاؤں کو دیکھ تو نہ وہ بل باقی ہے نہ وہ زور ہے تھوڑے دنوں میں گویا درخت تھا کہ سوکھتے سوکھتے…
Read the full tafseer →آیت : (24)
یہ بہترین مثال ہے اور یہ مثال دنیا کی حالت سے مطابقت رکھتی ہے کیونکہ دنیا کی لذات و شہوات اور اس کا مال و جاہ دنیا کے حریض بندے کے لئے بہت پرکشش ہے اگرچہ اس کی چمک دمک بہت تھوڑے وقت کے لئے ہے۔ جب دنیا مکمل ہوجاتی ہے تو مضحمل ہو کر اپنے چاہنے والے سے زائل ہوجاتی ہے یا چاہنے والا دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ پس بندہ بنیا سے خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور اس کا دل حزن و ٹم اور حسرت سے لبریز ہوجاتا ہے۔
اس کی مثال ایسے ہے (کماء انزلنہ من السماء فاخطلط بہ نبات الارض) ” مانند اس پانی کے جیسے ہم نے آسمان سے اتارا ‘ پھر مل جل گیا اس سے سبزہ زمین کا “ یعنی زمین کے اندر ہر قسم کی نباتات اور خوبصورت چوڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →46 ۔ دنیاوی زندگی کی مثال کھیتی کی سی : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ دنیاوی زندگی کی مثال کھیتی کی سی ہے۔ یعنی اس کی رنگینی، بےثباتی اور اس سے دھوکہ دہی میں۔ سو جس طرح ظاہری اور معروف کھیتی کی یہ چمک دمک اور زیب وزینت چند رروزہ ہوتی ہے اس کے بعد اس کا فناء وزوال ایک بدیہی قطعی اور لازمی امر ہے، بعینہ یہی حال دنیا کی اس کھیتی کا ہے کہ یہ بھی ایک فانی چیز ہے اس نے اور اس کی چمک دمک نے بھی اپنے وقت مقرر پر بہرحال فنا ہوکررہنا ہے۔ سو بڑے خسارے اور دھوکے میں ہیں وہ لوگ جو اسی دنیاکوسب کچھ سمجھ کر اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس انسان کے لیے راہ نجات یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
کفار کا مصیبت میں خالص اللہ کو پکارنا
تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی ایسا مشکل وقت آن پڑتا ہے جب تمام اسباب اور سہارے منقطع ہوتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت اس کی نظر اسباب سے اٹھ کر ایک اللہ پر آلگتی ہے اور وہ خالصتاً اللہ کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ مصیبت اور سختی کا وقت گزر جاتا ہے اور اسکی نظر پھر اسباب کی طرف جمنے لگ جاتی ہے وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ تعالیٰ پھر ویسی تکلیف اور سختی کا ایک اور سبب نہ کھڑا کر دے۔ مشرکین مکہ کی ایسی ہی عادت تھی جس کا اس آیت میں ذکر آیا ہے، فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ بن ابوجہل اس ڈر سے مکہ سے بھاگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21 تا 30
اسرار و معارف
کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…
Read the full tafseer →ف 10۔ یعنی یہ دنیا جس کی لذتوں میں بدمست ہو کر تم ہماری آیتوں کو جھٹلا رہے ہو، غیر ثابت اور جلد فنا ہوجانے میں اس کی مثال ایسی ہے…
1۔ یعنی اس سے فائدہ اٹھانے اور اس سے غلے، میوے اور سبزیاں اگانے کو ہمیں پوری قدرت حاصل ہے۔
2۔ یعنی پک کر زرد ہوگئی پھر کٹی یا کوئی فوج آپڑی کہ کچی کاٹ ڈالی یعنی موت ناگہانی آتی ہے۔ (از موضح) ۔
3۔ یہی وہ انسانی زندگی کا ہے۔ روح پانی کی طرح آسمان سے اترتی ہے بدن اس سے مل کر خوب پھلتا پھولتا ہے جب جوانی پر آتا ہے، علم وہ ہنر سیکھتا ہے اور امید ہوجاتی ہے کہ چند روز جی کر مزے اڑائیں گے تو یکایک موت آتی ہے اور تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیتی ہے اور ایسے معلوم ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →(10:24) اختلط۔ اختلاط سے (باب افتعال) وہ مل گیا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ بہ ای بالماء (بارش کے) پانی کے ساتھ۔
نبات الارض۔ زمین کا سبزہ۔ اگنے والی ہر چیز۔ نبت ینبت (نصر) اگنا۔ اگانا۔
فاختلط بہ نبات الارض مما یا کل الناس والانعام۔ زمین سے اگنے والا سبزہ جس میں سے بعض کو انسان اور چوپائے کھاتے ہیں بارش کے پانی سے مل گیا۔ (اور بکثرت اگ آیا) ۔
زخرف۔ ملمع۔ سنہری۔ سونا۔ آراستہ۔ زینت۔ کسی شے کے کمال حسن کو زخرف کہتے ہیں ۔ لیکن جب اس کا استعمال قول کے لئے ہو تو جھوٹ سے آراستہ اور ملمع سازی کی باتیں کرنے کے معنی ہوں گے۔ جیسے قرآن میں آیا ہے۔ زخرف القول غرورا (6:112) ملمع کی باتیں ۔ فریب کی باتیں۔
اخذت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 25
مثل (مثال) اختلط (رل مل گیا) نبات الارض (زمین کا سبزہ، پیداوار) الانعام (مویشی، چو پائے) اخذت (پکڑ لیا) زخرف (رونق) ازینت (آراستہ ہوگئی، سنور گئی) ظن (گمان کرلیا) اھل (مالک، (کاشتکار) امرنا (ہمارا حکم (فیصلہ) حصید (کٹا ہوا ڈھیر، کٹی ہوئی کھیتی ) لم تغن (آیا نہ رہی تھی، لم تغن جو اصل میں لم تغنا تھا آخر کا الف گر گیا تغن کا معنی ہیں آباد ہونا، رہنا سہنا۔ امس (جو کل گذر گئی اس کو امس کہتے ہیں) ۔ نفصل (ہم تفصیل (صاف صاف) بیان کرتے ہیں یدعوا (وہ بلاتا ہے، پکارتا ہے، دعوت دیتا ہے ۔ دار السلام (سلامتی کا گھر، (جنت ، آخرت) صراط مستقیم (وہ راستہ جو بالکل سیدھا (منزل تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
انسانی زندگی کی مثال کا ذکر
شان نزول : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سرکش اور نافرمان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا۔ ان آیتوں میں انسان کی زندگی کی مثال اس لئے بیان فرمائی کہ سرکش لوگوں کو عبرت ہو کہ جس زندگی کے بھروسہ پر وہ سرکشی اور نافرمانی کرتے ہیں، پھر خاک اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح انسان کی زیست کا ایک موسم شادابی کا جوانی میں آن کر ساتھ ہی اس کے گھٹاؤ کے آثار شروع ہوجاتے ہیں۔ دانت الگ جواب دیتے ہیں، آنکھیں الگ کمزوری جتانے لگتی ہیں۔ ہاتھ پاؤں کو دیکھو تو نہ وہ بل باقی ہے نہ وہ زور ہے۔ تھوڑے دنوں میں گویا درخت تھا کہ سوکھتے سوکھتے جڑ سے اکھڑ گیا۔ کھیتی کی ایک مثال اللہ تعالیٰ نے بہت سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
[16] لوگوں سے مراد کافر ہیں جیسا کہ سیاق سے واضح ہے۔
[17] یعنی طرح طرح کی تاویلیں اور توجیہیں کرنے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(ف 1) فطرت کے لحاظ سے ہر شخص کو پاکیزہ پیدا کیا گیا ہے ہر قلب میں اللہ کی توحید کے چشمے بہتے ہیں ، ہر آنکھ جلوہ ہائے طور وسینا کا تماشہ کرسکتی ہے ، مگر ہوتا یہ ہے کہ زندگی کی کثافتوں میں فطرت کی پاکیزگی ضائع ہوجاتی ہے ، خیالات فاسدہ کی وجہ سے دل بےنور ہوجاتا ہے ، اور جہالت تعصب کی وجہ سے بصیرت بھی باقی نہیں رہتی ، عیش وتنعم کی زندگی میں انسان اللہ کو بھول جاتا ہے ۔
مگر جونہی کوئی حوادث سے آنکھیں کھلتی ہیں ، سوئی ہوئی فطرت بیدار نظر آتی ہے ، دل کے تمام حجاب ایک ایک کر کے اٹھ جاتے ہیں ، اور قہر قلب سے توحید کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔
ان آیات میں انسان کی اس فطرت مستور کا حال بیان کیا ہے کہ…
Read the full tafseer →24 دنیوی زندگی کی حالت تو بس ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی سے زمین کی نبانات جس کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں خوب گنجان ہوکر بڑھی یہاں تک کہ جب زمین نے اس سبزی اور نبانات سے خوب اپنی رونق حاصل کرلی اور اپنی رونق کا پورا حصہ لے لیا اور خوب سنگار پر آئی اور آراستہ ہوگئی اور اس زمین کے مالکوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ اس کھیتی پر پوری طرح دسترس رکھتے ہیں اور ہم اس پر بالکل قابض ہوگئے تو اسی حال میں رات کو یاد دن کو اس کھیتی کو ناگہاں ہمارا فرمان عذاب پہونچ گیا پھر ہم نے اس کو کاٹ کر ایسا کردیا گویا کل وہاں ان کے لئے کچھ موجود ہی نہ تھا اور کچھ آگاہی نہ تھا ہم اسی طرح اپنی…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی سبزہ سے خوش نما معلوم ہونے لگی۔
Read the full tafseer →دنیوی زندگی کے عروج پر زوال کی دوسری مثال بیان کی جا رہی ہے
۔ 40 اس مثال میں بھی وہی بات سمجھائی ہے جو پہلی مثال میں سمجھائی گئی تھی۔ انسانی زندگی کے عروج وزوال اور بہار و خزاں کی ایک اور اثر انگیز اور دل نشین مثال سمجھائی جا رہی ہے جو حقیقت سے اتنی قریب ہے کہ کسی وضاحت کی کوئی حاجت نہیں اور اتنی کثرت سے وقوع پذیر ہے کہ اس میں کسی کو تردد نہیں۔ ہمارے خیال میں زمین کو جو آراستگی اور زیبائش آج نصیب ہے شاہد ہی کبھی نصیب ہوئی ہوگی۔ عمارتیں ہیں جو اپنی بلندی میں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں ان کے برقی طاقتور قمقمے اپنی چمک دمک میں ستاروں کو شرما رہے ہیں۔ دریائوں کے سرکش پانیوں کو ڈیموں میں بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
The warning given in verse 23: إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰ أَنفُسِكُم (your rebellion is, in fact, against your own-selves) tells us that the curse of injustice is certain and, much before matters are settled in the Hereafter, one who is guilty of doing injustice must suffer from its evil consequences in this world as well.
The Holy Prophet ﷺ has said: ` Allah Ta` ala hastens to repay mercy shown to relatives and favour done to people (whereby its blessings start becoming visible in this world, much before the Hereafter). And He also hastens to repay injustices done and relationships severed…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
31. This particular 'sign' which testifies to the truth of belief in the One True God is innate in human nature and hence can be witnessed by all. However, as long as the means of self-indulgence are plentiful, man tends to forget God and exults in his worldly enjoyment. But as soon as the means which have led him to his worldly efflorescence are gone, even the most die-hard polytheists and atheists begin to appreciate this innate sign testifying that there indeed is a God Who has His firm grip over the universe, and that it is the One True God alone Who is all-powerful and Who holds sway…
Read the full tafseer →