Yunus 10:23

Yunus · from ayah 23

10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ؕ— یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤی اَنْفُسِكُمْ ۙ— مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ؗ— ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟فَلَمَّاۤ اَنۡجٰٮهُمۡ اِذَا هُمۡ يَبۡغُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ‌ ؕ يٰۤـاَ يُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغۡيُكُمۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِكُمۡ‌ۙ مَّتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌ ثُمَّ اِلَـيۡنَا مَرۡجِعُكُمۡ فَنُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But when He saves them, at once they commit injustice upon the earth without right. O mankind, your injustice is only against yourselves, [being merely] the enjoyment of worldly life. Then to Us is your return, and We will inform you of what you used to do.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 3 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:23

مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو بچالیتا ہے تو فوراً ہی وه زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں اے لوگو! یہ تمہاری سرکشی تمہارے لیے وبال ہونے والی ہے دنیاوی زندگی کے (چند) فائدے ہیں، پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو بتلادیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن جب اللہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ ارے لوگو ! تمہاری یہ سرکشی درحقیقت خود تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہے۔ اب تو دنیوی زندگی کے مزے اڑا لو، آخر کو ہمارے پاس ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اللہ جب انہیں بچا لیتا ہے جبھی وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں اے لوگو! تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے دنیا کے جیتے جی برت لو (فائد اٹھالو)، پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے جو تمہارے کوتک تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب اللہ نے انہیں نجات دے دی تو وہ فوراً ہی ملک میں (حسبِ سابق) ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے (اللہ سے بغاوت کرنے والے) لوگو! بس تمہاری سرکشی و بغاوت (کا نقصان) تمہاری ہی جانوں پر ہے۔ دنیا کی زندگی کا کچھ فائدہ (اٹھالو)، بالآخر تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں ان اَعمال سے خوب آگاہ کر دیں گے جو تم کرتے رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب اس نے انھیں نجات دے دی اچانک وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! تمہاری سرکشی تمہاری جانوں ہی پر ہے، دنیا کی زندگی کے فائدے کے لیے، پھر ہماری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے، تو ہم تمہیں بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب اللہ نے انہیں بچا لیا تو فوراً حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو ! (دھیان سے سن لو) تمہاری سرکشی (کا وبال) تمہی پر پڑے گا۔ دنیا کی زندگی کے (چند روزہ) مزے لوٹ لو۔ پھر تمہیں ہمارے پاس ہی آنا ہے اور ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے وہ نجات پاتے ہی زمین میں، بلا کسی حق کے، سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ لوگو، تمہاری سرکشی کا وبال تمہارے ہی اوپر آنے والا ہے۔ چند دن دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو، پھر تمہاری واپسی ہماری ہی طرف ہے، پھر ہم تمہیں تمہاری کرتوتوں سے آگاہ کریں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر جب اس نے نجات دے دی ان کو، تو یہ چھوٹتے ہی سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق طور پر، اے لوگو ! سوائے اس کے نہیں کہ تمہاری اس سرکشی کا وبال خود تم ہی پر ہے، دنیا کی زندگی کا یہ چند روزہ نفع تو تم اٹھالو، مگر آخرکار پھر تم سب کو لوٹ کر بہرحال ہمارے ہی پاس آنا ہے، تب ہم تم کو بتادیں گے وہ سب کچھ جو تم کرتے رہے تھے (اپنی زندگیوں میں)

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو وہ فورا ہی زمین میں ناحق کی سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو یہ تمہاری سرکشی تمہارے ہی اوپر (الٹ پڑنے والی) ہے (یہی) دنیوی زندگی کا چند روزہ نفع ہے پھر ہماری ہی طرف تمہاری واپسی ہے پھر ہم تمہیں جتلا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو فوراً ہی بغاوت کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق جونہی خطرے کی گھڑی ٹل جاتی ہے تو پھر انہیں دیویاں دیوتا یاد آجاتے ہیں اور پھر سے اللہ سے سرکشی شروع ہوجاتی ہے۔ اے لوگو ! تمہاری اس بغاوت کا وبال تمہاری اپنی ہی جانوں پر آئے گا یہ دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے (اسے برت لو) پھر ہماری ہی طرف تم سب کو لوٹنا ہے پھر ہم تم کو بتلا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو زمین میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو ! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا۔ تم دنیا کی زندگی کے فائدے اٹھا لو، پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But no sooner than He delivers them than they go about committing excesses on the earth, acting unjustly. Men! The excesses you commit will be of harm only to yourselves, (Enjoy, if you will) the fleeting pleasure of this world; in me end you shall all return to Us, and then We shall tell you what you did.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But when He delivers them, they at once start rebelling on the earth wrongfully. O people, your rebellion is, in fact, against your own selves. It is only worldly life that you are enjoying. Thereafter, it is to Us that you have to return; then We will tell you what you have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

But when He delivers them, they at once start rebelling on the earth wrongfully. O people, your rebellion is, in fact, against your own selves. It is only worldly life that you are enjoying. Thereafter, it is to Us that you have to return; then We will tell you what you have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But when He delivers them, behold! They rebel (disobey Allah) in the earth wrongfully. O mankind! Your rebellion is only against yourselves, -- a brief enjoyment of this worldly life, then (in the end) unto Us is your return, and We shall inform you of that which you used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Yet when He hath delivered them, behold! they rebel in the earth wrongfully. O mankind! Your rebellion is only against yourselves. (Ye have) enjoyment of the life of the world; then unto Us is your return and We shall proclaim unto you what ye used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But when He saves them, at once they commit injustice upon the earth without right. O mankind, your injustice is only against yourselves, [being merely] the enjoyment of worldly life. Then to Us is your return, and We will inform you of what you used to do.

— Saheeh International

When We saved you, you started to rebel unjustly in the land. People, your rebellion will only harm yourselves. You may enjoy the worldly life but to Us you will all return and We will let you know all that you had done.

— Muhammad Sarwar

But when He delivers them, lo! they are unjustly rebellious in the earth. O men! your rebellion is against your own souls-- provision (only) of this world's life-- then to Us shall be your return, so We will inform you of what you did.

— Muhammad Habib Shakir

Then when He delivereth them. they forthwith rebel in the earth without justice. O ye! your rebellion is only against yourselves: a brief enjoyment of the life of the world; thereafter unto Us is Your return; then We will declare unto you that which ye have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

But when he delivereth them, behold! they transgress insolently through the earth in defiance of right! O mankind! your insolence is against your own souls,- an enjoyment of the life of the present: in the end, to Us is your return, and We shall show you the truth of all that ye did.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–23

احسان فراموش انسان انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کردیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا۔ رات کو بارش ہوئی، صبح کو حضور ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ صحابہ نے کہا ہمیں کیا خبر ؟ آپ نے فرمایا اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہوجائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–24

سورة یُوْنُس 31 یہ توحید کے برحق ہونے کی نشانی ہر انسان کے نفس میں موجود ہے۔ جب تک اسباب سازگار رہتے ہیں، انسان خدا کو بھولا اور دنیا کی زندگی پر پھولا رہتا ہے۔ جہاں اسباب نے ساتھ چھوڑا اور وہ سب سہارے جن کے بل پر وہ جی رہا تھا ٹوٹ گئے، پھر کٹے سے کٹے مشرک اور سخت سے سخت دہریے کے قلب سے بھی یہ شہادت ابلنی شروع ہوجاتی ہے کہ اس سارے عالم اسباب پر کوئی خدا کار فرما ہے اور وہ ایک ہی خدائے غالب و توانا ہے۔ (ملاحظہ ہو الانعام، 29)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–24

(آیت) اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ، یعنی تمہارے ظلم کا وبال تمہارے ہی اوپر پڑ رہا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ظلم کا وبال یقینی ہے اور آخرت سے پہلے دنیا میں بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صلہ رحمی اور لوگوں پر احسان کرنے کا بدلہ بھی جلد دیتا ہے (کہ آخرت سے پہلے دنیا میں اس کی برکات نظر آنے لگتی ہیں اور ظلم اور قطع رحمی کا بدلہ بھی جلد دیتا ہے (کہ دنیا میں بھگتنا پڑتا ہے) (رواہ الترمذی و ابن ماجہ بسند حسن) اور ایک حدیث میں بروایت حضرت عائشہ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کا وبال اپنے کرنے والے ہی پر پڑتا ہے ظلم، بد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 22–23

22۔ 23۔ ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ حَتّٰى اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ ۚ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِهَا جَاۗءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَاۗءَھُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اُحِيْطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ لَىِٕنْ اَنْجَيْـتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۔ فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ۙ مَّتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۡ ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 یہ انسان کی ناشکری کی عادت کا ذکر ہے جس کا تذکرہ ابھی آیت 12 میں بھی گزرا، اور قرآن میں اور بھی متعدد مقامات پر اللہ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ 23۔ 2 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تم یہ ناشکری اور سرکشی کرلو، چار روزہ متاع زندگی سے فائدہ اٹھا کر بالآخر تمہیں ہمارے ہی پاس آنا ہے، پھر تمہیں، جو کچھ تم کرتے رہے ہو گے، بتلائیں گے یعنی ان پر سزا دیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–23

10: جب تک مصیبت کا سامنا تھا، اس وقت تک تو بس اللہ ہی یاد آتا تھا، لیکن جب اس کی رحمت سے مصیبت دور ہوجاتی ہے اور اچھا وقت آتا ہے تو اس کی اطاعت سے منہ موڑنے کے لیے حیلے بہانے شروع ہوجاتے ہیں، جس کی مثال آگے آیت نمبر 22 میں آرہی ہے۔ 11: اللہ تعالیٰ کے لیے چال کا لفظ ایک طنز کے طور پر ہے اور اس سے مراد ان کی چالبازیوں کی سزا دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فلما انجھم اذاھم یبغون فی الارض بغیر الحق پھر جب اللہ ان کو اس مہلکہ سے بچا لیتا ہے تو فوراً ہی وہ اطراف زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اللہ جب ان کی دعا قبول کرلیتا ہے اور طوفان سے رہائی دے دیتا ہے تو یکدم وہ حدود فساد میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اِذَامفاجات کیلئے ہے اور بغی سے مراد ہے اباحت کی حدود سے نکل کر فساد کی طرف بڑھنا۔ بغیر الحق کے لفظ سے یبغون کے مفہوم کی تاکید ہو رہی ہے کیونکہ فساد تو ہوتا ہی ناحق ہے۔ شبہ ہو سکتا تھا کہ مسلمان بھی کافروں کی بستیوں کو تباہ کرتے ‘ ان کی کھیتیوں کو اجاڑتے اور باغوں کو ویران کرتے۔ یہ بھی تو فساد ہے۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ (فساد نما)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 22–23

1 یعنی ابتداء میں ہوا خوشگوار اور موافق تھی۔ مسافر ہنستے کھیلتے آرام سے چلے جا رہے تھے کہ یکایک ایک زور کا طوفانی جھکڑ چلنے لگا اور چاروں طرف سے پانی کے پہاڑ اٹھ کر کشتی (یا جہاز) سے ٹکرانے لگے۔ جب سمجھ لیا کہ ہر طرف سے موت کے منہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ بھاگنے اور نکلنے کی کوئی سبیل نہیں، تو سارے فرضی معبودوں کو چھوڑ کر خدائے واحد کو پکارنے لگے جو اصل فطرت انسانی کا تقاضا تھا، ہر چیز سے مایوس ہو کر خالص خدا کی بندگی اختیار کی اور بڑے پکے عہد و پیمان باندھے کہ اگر مصیبت سے خدا نے نجات دی تو ہمیشہ اس کے شکر گذار رہیں گے۔ کوئی بات کفران نعمت کی نہ کریں گے لیکن جہاں ذرا امن نصیب ہوا ساحل پر قدم رکھتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22 ہُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط ”وہی ہے جو تمہیں سیر کراتا ہے خشکی اور سمندر میں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے مختلف قوانین طبعی کے تحت مختلف چیزوں کو سواریوں کے طور پر انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہے۔ حَتّٰیٓ اِذَا کُنْتُمْ فِی الْْفُلْکِج وَجَرَیْنَ بِہِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَّفَرِحُوْا بِہَا ”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو ‘ اور وہ چل رہی ہوتی ہیں انہیں سواروں کو لے کر خوشگوار موافق ہوا کے ساتھ اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں“ جَآءَ تْہَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَ ہُمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ اُحِیْطَ بِہِمْلا ”کہ اچانک تیز ہوا کا جھکڑ چل پڑتا ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 22–23

34 جب موت سامنے کھڑی نظر آئے تو صرف اللہ کو پکارنا :۔ اس آیت میں ایک بہت بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے جو یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی ایسا مشکل وقت آپڑتا ہے جب تمام اسباب اور سہارے منقطع ہوتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت اس کی نظر اسباب سے اٹھ کر ایک اللہ پر آلگتی ہے اور وہ خالصتاً اللہ کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ سختی کا وقت گزر جاتا ہے تو پھر انسان اللہ کو بھول جاتا ہے اور اس کی نظر پھر اسباب کی طرف جمنے لگتی ہے۔ وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں پھر اللہ تعالیٰ ویسی ہی تکلیف اور سختی کا ایک اور سبب نہ کھڑا کردے کیونکہ اسباب کی باگ ڈور بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ عکرمہ بن ابی جہل کا اسلام لانا :۔ مشرکین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

41۔ (اور اپنے اس وعدہ واقرار کو بھول بھال کر پھر شرک و فساد میں لگ جاتے ہیں) (آیت) ” بغیر الحق “۔ کی قید اس لئے ہے کہ ان لوگوں کی یہ زیادتی اور سرکشی خود ان کے ضمیر میں اور ان کے معیار سے بھی جرم تھی۔ 42۔ یہاں اس حقیقت کا اعلان ہے کہ کفر ومعصیت کے ساتھ دنیا میں جو عیش و کامرانی جمع ہوسکتی ہے وہ محض چند روزہ ہے اس کی دائمی سزا آخرت میں بھگتنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–30

آیت نمبر 21 تا 30 ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما انجھم اذاھم یبغون فی الارض بغیر الحق پھر جب اللہ ان کو اس مہلکہ سے بچا لیتا ہے تو فوراً ہی وہ اطراف زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اللہ جب ان کی دعا قبول کرلیتا ہے اور طوفان سے رہائی دے دیتا ہے تو یکدم وہ حدود فساد میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اِذَامفاجات کیلئے ہے اور بغی سے مراد ہے اباحت کی حدود سے نکل کر فساد کی طرف بڑھنا۔ بغیر الحق کے لفظ سے یبغون کے مفہوم کی تاکید ہو رہی ہے کیونکہ فساد تو ہوتا ہی ناحق ہے۔ شبہ ہوسکتا تھا کہ مسلمان بھی کافروں کی بستیوں کو تباہ کرتے ‘ ان کی کھیتیوں کو اجاڑتے اور باغوں کو ویران کرتے۔ یہ بھی تو فساد ہے۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ (فساد نما)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(23) پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اس ہوا اور غرق ہونے سے بچا لیتا ہے تو وہ فورا ہی حق سے سرکشی کرنے لگتے ہیں اے مکہ والو یہ تمہاری سرکشی اور ایک دوسرے پر ظلم وستم تمہارے لیے وبال بن جان بن جانے والا ہے اور دنیاوی منافع عارضی ہیں، ان کو بقا نہیں اور مرنے کے بعد ہمارے پاس تمہیں آنا ہے پھر جو کچھ تم نیکیاں اور برائیاں کرتے تھے، ہم سب تمہیں بتلا دیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ۔۔ : یعنی طوفان سے بچ نکلنے پر پھر وہی ناحق سرکشی اور ظلم شروع کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ مشرکین کے اس رویے کا ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (65، 66) اور لقمان (32) ہاں، کوئی سعادت مند ہو تو اپنے عہد پر قائم رہتا ہے مگر وہ اتنے کم ہیں کہ نہ ہونے کے برابر ہیں، جیسا کہ سعد ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن چار مردوں اور دو عورتوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ جہاں پائے جائیں قتل کردیے جائیں۔ ان میں سے ایک عکرمہ بن ابوجہل بھی تھے۔ عکرمہ نے یہ سنا تو سمندر کے راستے راہ فرار اختیار کی، لیکن جب سفر شروع ہوا تو کشتی والوں کو تند و تیز…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

آیت نمبر : 22 تا 23۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وھو الذی یسیرکم فی البروالبحر، حتی اذا کنتم فی الفلک، وجرین بھم “۔ یعنی وہ تمہیں خشکی میں چوپاؤں پر اور سمندر میں کشتیوں پر سوار کرتا ہے اور کلبی (رح) نے کہا ہے : وہ سیر میں تمہارے حفاظت کرتا ہے، اور یہ آیت ان نعمتوں کے شمار کرنے کو متضمن ہے جو اس کے راستے میں لوگوں کو جانوروں پر اور سمندر میں سوار کرنے میں سے پائی جاتی ہیں۔ سمندر میں سوار ہونے کے بارے میں کلام سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور (آیت) ” یسیرکم “۔ قرات عامہ ہے۔ ابن عامر نے ینشرکم نون اور شین کے ساتھ قراءت کی ہے، یعنی وہ تمہیں پھیلاتا ہے اور متفرق کردیتا ہے، اور الفلک کا اطلاق واحد اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–23

1: بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ تمیم داری نے عمر بن خطاب سے سمندر میں سوار ہونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے غار میں قصر کرنے کا حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ھوالذی یسیرکم فی البر والبحر “۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بہم “ کے بارے میں فرمایا اور اس کا ذکر کیا پھر ان کے سوا دوسروں کے لئے اس بات کو ایک دوسری بات میں شمار کیا اور فرمایا (آیت) ” وجرین “ پھر بات کو ان کی طرف منسوب کیا پس اول چیز یہ ہے کہ تم کشتیوں میں سوار ہوئے اور ان کے ساتھ چلیں جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے تھے پھر فرماتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَنْجٰىھُمْ [ ہم نجات دیتے ہیں ان کو ] اِذَا [ جب ہی ] ھُمْ [ وہ لوگ ] يَبْغُوْنَ [ سرکشی کرتے ہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ [ حق کے بغیر ] يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ [ اے لوگوں ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] بَغْيُكُمْ [ تمہاری سرکشی ] عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ۙ [ تمہاری اپنی جانوں پر ہے ] مَّتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۡ [ (تو فائدہ اٹھا لو) دنیوی زندگی کے سامان سے ] ثُمَّ اِلَيْنَا [ پھر ہماری طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ [ تمہارا لوٹنا ہے ] فَنُنَبِّئُكُمْ [ تو ہم بتادیں گے تم کو ] بِمَا [ وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کرتے تھے ] (آیت ۔ 23) متاع…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اسی کو فرمایا (فَلَمَّا اَنْجٰھُمْ اِذَا ھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ) (سو جب اللہ نے انہیں نجات دے دی تو اچانک زمین میں ناحق بغاوت کرنے لگتے ہیں) ۔ پھر فرمایا (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُکُمْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ ) (اے لوگو تمہاری بغاوت اپنی ہی جانوں پر ہے ‘ کیونکہ اس کا وبال تمہارے ہی اوپر پڑنے والا ہے) (مَّتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) (تم دنیا والی زندگی میں نفع حاصل کر رہے ہو) یہ تھوڑا سا نفع ہے اور تھوڑے دن کا نفع ہے۔ کما قال تعالیٰ فی سورة النساء (قُلْ مَتَاع الدُّنْیَا قَلِیْلٌ) پھر فرمایا (ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُکُمْ فَنُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–23

بیان توحید مقرون بہ وعید قال اللہ تعالی۔ ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر۔۔۔ الی۔۔۔ فننبئکم بما کنتم تعملون۔ (ربط اوپر توحید کا بیان تھا۔ اب پھر توحید کا مضمون بیان ہوتا ہے جو زجر اور وعید کو بھی متضمن ہے اور اثبات صانع کی دلیل بھی ہے اور یہ آیت درحقیت گزشتہ آیت واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم اذا لھم مکر فی آیاتنا کی تفسیر اور تشریح ہے جس میں ضراء کے بعد رحمت پہنچنے کی اور پھر رحمت اور نعمت ملنے کے بعد ان کے مکر فی الآیات کی مثال بیان کی گئی ہے کیونکہ مثال سے شئے کی حقیقت اور کیفیت واضح ہوجاتی ہے۔ حکایت : امام جعفر صادق سے کسی نے سوال کیا کہ میرے لیے اثبات صانع کی کوئی دلیل ذکر کیجئے تو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

39: یہ تنبیہ ہے اور اس سے دنیا کی تحقیر اور بےوقعتی کا بیان مقصود ہے “ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ ” منصوب بنزع خافض ہے “ اي فی متاع الحیوة الخ ” جس دنیا پر تم مغرور ہو کر حق کو نہیں مانے ہو وہ بہت حقیر اور بالکل ناپائیدار ہے۔ اس چند روزہ دنیا میں تم اللہ کی نافرمانی کر کے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کرلو آخر قیامت کے دن میرے سامنے آؤ گے جہاں اپنے کیے کی سزا پاؤ گے۔ 40: یہ دنیا کی حقارت اور اس کی ناپائیداری کی تمثیل ہے۔ “ اِخْتَلَطَ ” زیادہ اور گنجان ہوگئی۔ “ زُخْرُفَھَا ” زیور یعنی سرسبز و شاداب کھیتوں اور بوقلموں پھولوں کی وجہ سے زمین مانند عروس خوبصورت ہوگئی۔ “ وَازَّیَّنَتْ ” یہ ماقبل کی تفسیر ہے “…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–23

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کو بیان کیا پھر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل کا ذکر کیا اور سابقہ اقوام کی نافرمانیوں کا اشارۃ حال بیان کیا ، پھر قرآن کے اٹل ، دائمی ، ناقابل تحریف و ترمیم ہونے کا ذکر کیا۔ رسالت کی صداقت کے ضمن میں حضور ﷺ کی پاکیزہ زندگی کو بطور دلیل پیش کیا۔ پھر معجزات طلب کرنے والے منکرین کے جواب میں فرمایا کہ یہ لوگ محض ضد اور عناد کی وجہ سے نشانیاں طلب کرتے ہیں وگرنہ نشانیاں تو اللہ نے بیشمار ظاہر فرما دی ہیں۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ سے کہلوایا کہ کوئی نشانی پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق جب اللہ چاہتا ہے کوئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ۝ 0 ۭ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ۝ 0 ۙ مَّتَاعَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝ 0 ۡثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 23 لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–23

1 ؎ ریح عاصف ہے ذات عصف وقیل العصوف مختص بالریح فلاحاجۃ الی الفارق وقیل الریح قدیذکر 12 ابو السعود۔ ومعنی العصف السرعۃ یقال ناقۃ عاصف کبیر 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 22–23

ھُوَالَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط حَتّٰیٓ اِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ ج وَجَرَیْنَ بِھِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَّفَرِحُوْا بِھَاجَآئَ ْتھَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآئَ ھُمُ الْمَوْجُ مِنْ کِلِّ مَکَانٍ وَّظَنُّوْا اَنَّھُمْ اُحِیْطَ بِہِمْ لادَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ 5 ج لَئِنْ اَنْجْیْتَنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ فَلَمَّآ اَنْجٰھُمْ اِذَا ھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ ط یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُکُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ لا مَّتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ز ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجُعْکُمْ فَنُنَبِّئُکُمْ بِمَا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–23

فہم القرآن ربط کلام : مشرک اور کافر کی فطرت خبیثہ کا ذکر۔ اس سے پہلی آیات میں مسئلہ شفاعت کے حوالے توحید بیان کی گئی۔ درمیان میں کفار کے عذاب کا مطالبہ کرنے پر انہیں ہلکی سی سرزنش کی گئی۔ اب پھر توحید کے دلائل دیے جاتے ہیں۔ مضمون کا ربط قائم کرنے اور سابقہ دلائل کے استحضار کے لیے ( ھُوَالَّذِیْ ) کے الفاظ استعمال فرمائے۔ اس اللہ کی ذات اور صفات ماننے کی دعوت دی جارہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے۔ ذراغور کرو اور سوچو ! کہ کتنے تمہارے جیسے انسان ہیں جن کی ٹانگیں ہیں مگر کسی بیماری کی وجہ سے چل نہیں سکتے، وجود ہیں مگر حرکت نہیں کرسکتے، روح ہے مگر زندگی سے بےزار ہوچکے ہیں۔ اسی طرح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

23: فَلَمَّآ اَنْجٰھُمْ اِذَاھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ (جب اللہ تعالیٰ ان کو اس طوفان سے نجات دے دیتا ہے تو وہ زمین میں بےجاسرکشی اختیار کرتے ہیں۔ ) فساد مچاتے ہیں بِغَیْرِ الْحَقِّ (ناحق) باطل یعنی باطل پر ستی اختیار کرنے والے ہیں۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُکُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ (اے لوگو ! تمہاری سرکشی کا وبال تم پر پڑنے والا ہے) یعنی تمہارا ظلم تمہاری طرف لوٹ آئے گا جیسا کہ فصلت 46 میں فرمایا۔ من عمل صالحًا فلنفسہٖ ومن اساء فعلیھا۔ مَّتَاعَ الْحَیٰوۃِالدُّنْیَا (تم دنیا کے سازو سامان سے فائدہ اٹھا لو) یہ حفص کی قراءت کے مطابق ہے یعنی وہ نفع اٹھاتے ہیں جو نفع دنیا کی زندگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(23) ” فلما انجھم اذا ھم یبغون فی الارض “ ظلم کرتے ہیں اور زمین میں اللہ کے حکم کے علاوہ کی طرف جاتے ہیں ۔ ” بغیر الحق “ قتال کے ساتھ ” یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم “ اس لیے کہ اس کا وبال تم پر ہی لوٹے گا ۔ پھر نئی کلام شروع اور فرمایا ” متاع الحیوۃ الدنیا “ یعنی ” ھذا متاع الحیوۃ الدنیا “ یہ خبر ہے اس کا مبتداء محذوف ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” لم یلبثوا الا ساعۃ من نھار بلغ “ ہے ، یعنی یہ بلاغ ہے ، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ لکام متصل ہے ” البیغ “ مبتداء ہے اور متاع اس کی خبر ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ تمہاری سرکشی دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا نفع ہے یہ تمہاری آخرت کا ذخیرہ نہیں بن سکتا کیونکہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–23

21۔ 23۔ انسان پر جب کوئی سختی ہوتی ہے اور کوئی تدبیریں نہیں آتی تو خدا کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اس سے نجات پالیتا ہے تو اسے خیال بھی نہیں رہتا کہ مجھ پر کوئی سختی گزری تھی صحیح بخاری و مسلم میں زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اور روز رات کو مینہ برسا۔ حضرت ﷺ نے اس روز صبح کی نماز کے بعد لوگوں سے کہا کہ تم جانتے ہو آج رات کو خدا نے کیا کہا لوگ کہنے لگے خدا اور خدا کا رسول جانتا ہے ہم لوگوں کو کیا خبر۔ فرمایا یہ کہا کہ صبح کو جب میرے بندے اٹھیں گے تو اکثر مومن ہوں گے اور بہتیرے کافر۔ کیوں کہ رات کو جو بارش ہوئی ہے جو اس کو یوں کہے گا کہ خدا نے اپنے فضل سے مینہ برسایا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–23

آیت : (22-23) جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانون کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے ‘ تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھو الذی یسیر کم فی البر والبحر) ” وہی ہے جو تمہیں چلاتا ہے خشکی اور سمند میں “ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمہیں مہیا کئے ہیں اور ان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے (حتیٰ ان کنتم فی الفلک) ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

44 ۔ انسان کی ناشکری اور احسان فراموشی کا ایک اور مظہر : کہ ایسے لوگ اس مصیبت سے چھوٹتے ہی شرک کرنے لگتے ہیں کفرو شرک کے اپنے سابقہ طریقوں کے ذریعے۔ پس کفرو شرک اور بت پرستی و مخلوق پرستی درحقیقت بغاوت و سرکشی اور فسادفی الارض ہے۔ اگرچہ اس کے فرزند اور اصلاح و درستگی کے بلند بانگ دعوے ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ سو یہ بھی انسان کی ناشکری اور احسان فراموشی کا ایک مظہر ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ بغی و سرکشی لازمی نتیجہ ہے " استکبارفی الارض " یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ کا۔ حالانکہ کبریائی اور بڑائی کا حق اسی کو پہنچ سکتا ہے جس کا خلق و تدبیر میں کوئی حصہ ہو۔ پس جو خودمخلوق اور ہر چیز میں اپنے خالق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–24

کفار کا مصیبت میں خالص اللہ کو پکارنا تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی ایسا مشکل وقت آن پڑتا ہے جب تمام اسباب اور سہارے منقطع ہوتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت اس کی نظر اسباب سے اٹھ کر ایک اللہ پر آلگتی ہے اور وہ خالصتاً اللہ کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ مصیبت اور سختی کا وقت گزر جاتا ہے اور اسکی نظر پھر اسباب کی طرف جمنے لگ جاتی ہے وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ تعالیٰ پھر ویسی تکلیف اور سختی کا ایک اور سبب نہ کھڑا کر دے۔ مشرکین مکہ کی ایسی ہی عادت تھی جس کا اس آیت میں ذکر آیا ہے، فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ بن ابوجہل اس ڈر سے مکہ سے بھاگ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–30

آیات 21 تا 30 اسرار و معارف کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ” مکرو فریب “ عہد شکنی اور بغی (فساد و شرارت) ایسے کام ہیں جن کا وبال ان کے کرنیوالوں پر ہی پڑتا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (درمنشورِ ) نیز حدیث میں ہے کہ یہ گناہ ایسے ہیں کہ دنیا میں بھی ان کی سزا ملے گی اور آخرت میں بھی (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:23) انجھم۔ اس نے ان کو نجات دلائی۔ اس نے ان کو بچا لیا۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اذا۔ یہاں اور آیہ (21) اذا لہم مکر۔ میں بطور حرف مفاجاۃ استعمال ہوا ہے۔ تو ۔ لو۔ اچانک (اچانک اپنا رویہ بدل کر دوسرا رخ اختیار کرلیتے ہیں) اس کو اذا الفجائیہ بھی کہتے ہیں خرجت فاذا اسد بالباب۔ میں نکلا تو اچانک دروازہ پر شیر تھا۔ یبغون۔ بغی یبغی بغی (باب ضرب) زیادتی کرنے لگتے ہیں۔ سرکشی کرنے لگتے ہیں بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اصل میں یبغیون تھا۔ ی کی حرکت ماقبل کو دی۔ ی اجتماع ساکنین سے گرگیا۔ اسی باب سے چاہنا اور طلب کرنے کے معنی بھی آتے ہیں۔ بغی کا تعلق فعل محمود اور فعل مذموم دونوں سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–25

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 25 مثل (مثال) اختلط (رل مل گیا) نبات الارض (زمین کا سبزہ، پیداوار) الانعام (مویشی، چو پائے) اخذت (پکڑ لیا) زخرف (رونق) ازینت (آراستہ ہوگئی، سنور گئی) ظن (گمان کرلیا) اھل (مالک، (کاشتکار) امرنا (ہمارا حکم (فیصلہ) حصید (کٹا ہوا ڈھیر، کٹی ہوئی کھیتی ) لم تغن (آیا نہ رہی تھی، لم تغن جو اصل میں لم تغنا تھا آخر کا الف گر گیا تغن کا معنی ہیں آباد ہونا، رہنا سہنا۔ امس (جو کل گذر گئی اس کو امس کہتے ہیں) ۔ نفصل (ہم تفصیل (صاف صاف) بیان کرتے ہیں یدعوا (وہ بلاتا ہے، پکارتا ہے، دعوت دیتا ہے ۔ دار السلام (سلامتی کا گھر، (جنت ، آخرت) صراط مستقیم (وہ راستہ جو بالکل سیدھا (منزل تک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–23

انسان پر جب کوئی سختی ہوتی ہے اور کوئی تدبیر نہیں آتی تو خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب اس سے نجات پالیتا ہے تو اسے خیال بھی نہیں رہتا کہ مجھ پر کوئی سختی گزری تھی۔ پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے حیلے ہیں تم ان سے کہہ دو کہ اللہ کی تدبیر کے سامنے تمہارے مکر وحیلہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے فرشتے ذرہ ذرہ ان کے اعمال لکھ رہے ہیں۔ جب تک ڈھیل ہے، جب پکڑے گا تو ذرا سی بھی مہلت نہ دے گا ۔ مجرم یہ گمان کر رہے ہیں کہ خدا اب عذاب نہ کرے گا۔ یہ اس کی شان ہے کہ تم کو خشکی مین اور دریا میں چلاتا پھرتا ہے، تمہاری کشتیاں موافق ہوا پاکر منزل کی طرف جلدی جلدی جاتی دکھائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–24

[16] لوگوں سے مراد کافر ہیں جیسا کہ سیاق سے واضح ہے۔ [17] یعنی طرح طرح کی تاویلیں اور توجیہیں کرنے لگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–24

(ف 1) فطرت کے لحاظ سے ہر شخص کو پاکیزہ پیدا کیا گیا ہے ہر قلب میں اللہ کی توحید کے چشمے بہتے ہیں ، ہر آنکھ جلوہ ہائے طور وسینا کا تماشہ کرسکتی ہے ، مگر ہوتا یہ ہے کہ زندگی کی کثافتوں میں فطرت کی پاکیزگی ضائع ہوجاتی ہے ، خیالات فاسدہ کی وجہ سے دل بےنور ہوجاتا ہے ، اور جہالت تعصب کی وجہ سے بصیرت بھی باقی نہیں رہتی ، عیش وتنعم کی زندگی میں انسان اللہ کو بھول جاتا ہے ۔ مگر جونہی کوئی حوادث سے آنکھیں کھلتی ہیں ، سوئی ہوئی فطرت بیدار نظر آتی ہے ، دل کے تمام حجاب ایک ایک کر کے اٹھ جاتے ہیں ، اور قہر قلب سے توحید کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ ان آیات میں انسان کی اس فطرت مستور کا حال بیان کیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

23 پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اس طوفان اور آفت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ خشکی پر پہونچتے ہی روئے زمین پر بےجا سرکشی اور شرارت کرنے لگتے ہیں۔ اے بنی نوع انسان ! یاد رکھو کہ یہ تمہاری سرکشی شرارت اور بغاوت تمہارے ہی لئے وبال جان ہوگی اور تمہاری سرکشی کا وبال بس تم پر ہی پڑنے والا ہے تم دنیوی زندگی کے سازو سامان سے فائدہ اٹھالو پھر تم کو ہماری ہی طرف واپس آنا ہے پھر ہم تم کو ان سب کاموں کی حقیقت سے آگاہ کردیں گے جو تم کیا کرتے تھے ۔ یعنی خشکی پر پہونچنے کے بعد پھر زمین پر اسی کفرو شرک کی حرکات کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں جو پہلے سے کرتے رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ان حرکات کا اثر تم ہی پر پڑنے والا ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی وہی شرک و معصیت۔ 2۔ اوپر یا ایھا الناس انما بغیکم میں فرمایا تھا کہ یہ تمہاری کامرانی کفرومعاصی سے دنیا میں چند روزہ ہے پھر آخرت میں اس کی سزا بھگتنا ہے آگے دنیا کا فانی ہونا اور آخرت کی جزا وسزا کا باقی ہونا مع تفصیل جزا وسزا اور اس کے مستحقین کے مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

۔ 38 ذرا مصیبت دور ہوئی تو وہ دوبارہ فساد میں مبتلا ہو گیا ۔ 38 بغاوت تو پہلے ہی بغاوت ہوتی ہے پھر اس کے ساتھ ” ناحق “ کے لفظ کا اضافہ کے کیا معنی ؟ کیا کوئی ” بغی “ حق بھی ہے ؟ اس کی ضرورت اس طرح پڑی کہ ان لوگوں کی یہ زیادتی اور سرکشی خود ان کے ضمیر میں اور ان کے معیار سے بھی کھلا جرم تسلیم ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کا ارتکاب کیا حالانکہ ان کو یہ سجھ لینے کے بعد اسکا حق نہیں تھا اس لئے ان کے اس کام کو اس لفظ نے ان کی نادانی اور ناسمجھی کے عذر کو دفع کردیا اور فرمایا کہ انہوں نے جو کچھ کیا جانتے بوجھتے کیا کہ ایسا کرنا ہمارا حق نہیں تھا۔ یاد رہے کہ ” بغی “ کے عنی سرکش کے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–24

The warning given in verse 23: إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰ أَنفُسِكُم (your rebellion is, in fact, against your own-selves) tells us that the curse of injustice is certain and, much before matters are settled in the Hereafter, one who is guilty of doing injustice must suffer from its evil consequences in this world as well. The Holy Prophet ﷺ has said: ` Allah Ta` ala hastens to repay mercy shown to relatives and favour done to people (whereby its blessings start becoming visible in this world, much before the Hereafter). And He also hastens to repay injustices done and relationships severed…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–24

31. This particular 'sign' which testifies to the truth of belief in the One True God is innate in human nature and hence can be witnessed by all. However, as long as the means of self-indulgence are plentiful, man tends to forget God and exults in his worldly enjoyment. But as soon as the means which have led him to his worldly efflorescence are gone, even the most die-hard polytheists and atheists begin to appreciate this innate sign testifying that there indeed is a God Who has His firm grip over the universe, and that it is the One True God alone Who is all-powerful and Who holds sway…

Read the full tafseer →