Explained with ayahs 21–23
احسان فراموش انسان
انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کردیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا۔ رات کو بارش ہوئی، صبح کو حضور ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ صحابہ نے کہا ہمیں کیا خبر ؟ آپ نے فرمایا اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہوجائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
سورة یُوْنُس 31
یہ توحید کے برحق ہونے کی نشانی ہر انسان کے نفس میں موجود ہے۔ جب تک اسباب سازگار رہتے ہیں، انسان خدا کو بھولا اور دنیا کی زندگی پر پھولا رہتا ہے۔ جہاں اسباب نے ساتھ چھوڑا اور وہ سب سہارے جن کے بل پر وہ جی رہا تھا ٹوٹ گئے، پھر کٹے سے کٹے مشرک اور سخت سے سخت دہریے کے قلب سے بھی یہ شہادت ابلنی شروع ہوجاتی ہے کہ اس سارے عالم اسباب پر کوئی خدا کار فرما ہے اور وہ ایک ہی خدائے غالب و توانا ہے۔ (ملاحظہ ہو الانعام، 29)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
خلاصہ تفسیر
حل لغت
عَاصِفٌ سخت تیز ہوا، حَصِيْدًا کٹی ہوئی کھیتی، كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ یہ غنی بالمکان سے مشتق ہے جس کے معنٰی کسی جگہ قیام کرنے کے ہیں۔
اور جب ہم لوگوں کو بعد اس کے کہ ان پر کوئی مصیبت پڑچکی ہو کسی نعمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں (یعنی ان سے اعراض کرتے ہیں اور ان کے ساتھ تکذیب و استہزا سے پیش آتے ہیں اور براہ اعتراض وعناد دوسرے معجزات کی فرمائشیں کرتے ہیں اور مصیبت گزشتہ سے عبرت نہیں پکڑتے پس معلوم ہوا کہ ان کے اعتراض کا اصل سبب اللہ کی نازل کردہ آیات و معجزات سے اعراض ہے اور یہ اعراض دنیا کی نعمتوں میں مست ہوجانے سے پیدا ہوا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22۔ 23۔ ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ حَتّٰى اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ ۚ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِهَا جَاۗءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَاۗءَھُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اُحِيْطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ لَىِٕنْ اَنْجَيْـتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۔ فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ۙ مَّتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۡ ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ…
Read the full tafseer →22۔ 1 یسیرکم وہ تمہیں چلاتا یا چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے ' خشکی میں ' یعنی اس نے تمہیں قدم عطا کئے جن سے تم چلتے ہو، سواریاں مہیا کیں، جن پر سوار ہو کر دور دراز کے سفر کرتے ہو ' اور سمندر میں ' یعنی اللہ نے تمہیں کشتیاں اور جہاز بنانے کی عقل اور سمجھ دی، تم نے وہ بنائیں اور ان کے ذریعے سے سمندر کا سفر کرتے ہو۔
22۔ 2 جس طرح دشمن کسی قوم یا شہر کا احاطہ یعنی محاصرہ کرلیتا ہے اور وہ دشمن کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، اسی طرح وہ جب سخت ہواؤں کے تھپیڑوں اور تلاطم خیز موجوں میں گھر جاتے ہیں اور موت ان کو سامنے نظر آتی ہے۔
22۔ 3 یعنی پھر وہ دعا میں غیر اللہ کی ملاوٹ نہیں کرتے جس طرح عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
10: جب تک مصیبت کا سامنا تھا، اس وقت تک تو بس اللہ ہی یاد آتا تھا، لیکن جب اس کی رحمت سے مصیبت دور ہوجاتی ہے اور اچھا وقت آتا ہے تو اس کی اطاعت سے منہ موڑنے کے لیے حیلے بہانے شروع ہوجاتے ہیں، جس کی مثال آگے آیت نمبر 22 میں آرہی ہے۔
11: اللہ تعالیٰ کے لیے چال کا لفظ ایک طنز کے طور پر ہے اور اس سے مراد ان کی چالبازیوں کی سزا دینا ہے۔
Read the full tafseer →ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر اللہ وہی ہے جو خشکی اور سمندر میں تم کو چلاتا ہے۔ یعنی تم کو سفر پر آمادہ کرتا اور چلنے کی طاقت دیتا ہے۔
حتی اذا کنتم فی الفلک یہاں تک کہ جب تم کشتیوں (اور جہازوں) میں ہوتے ہو۔ فُلک کا استعمال ایک
کیلئے بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ کیلئے بھی (گویا یہ لفظ واحد بھی ہے اور جمع بھی) اس آیت میں جمع کا معنی مراد ہے کیونکہ آئندہ فقرہ میں جمع کی ضمیر اس لفظ کی طرف راجع کی گئی ہے۔
وجرین بھم اور کشتیاں (یا جہاز) اپنی سواریوں کو لے کر چلتے ہیں۔ کنتم میں خطاب ہے اور بھم میں ضمیر غائب ہے۔
عبارت کی یہ رنگینی کلام میں زور پیدا کرنے کیلئے اختیار کی گئی۔ ھِمْ کا لفظ بتا رہا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
1 یعنی ابتداء میں ہوا خوشگوار اور موافق تھی۔ مسافر ہنستے کھیلتے آرام سے چلے جا رہے تھے کہ یکایک ایک زور کا طوفانی جھکڑ چلنے لگا اور چاروں طرف سے پانی کے پہاڑ اٹھ کر کشتی (یا جہاز) سے ٹکرانے لگے۔ جب سمجھ لیا کہ ہر طرف سے موت کے منہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ بھاگنے اور نکلنے کی کوئی سبیل نہیں، تو سارے فرضی معبودوں کو چھوڑ کر خدائے واحد کو پکارنے لگے جو اصل فطرت انسانی کا تقاضا تھا، ہر چیز سے مایوس ہو کر خالص خدا کی بندگی اختیار کی اور بڑے پکے عہد و پیمان باندھے کہ اگر مصیبت سے خدا نے نجات دی تو ہمیشہ اس کے شکر گذار رہیں گے۔ کوئی بات کفران نعمت کی نہ کریں گے لیکن جہاں ذرا امن نصیب ہوا ساحل پر قدم رکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت 22 ہُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط ”وہی ہے جو تمہیں سیر کراتا ہے خشکی اور سمندر میں۔“
یعنی اللہ تعالیٰ نے مختلف قوانین طبعی کے تحت مختلف چیزوں کو سواریوں کے طور پر انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہے۔
حَتّٰیٓ اِذَا کُنْتُمْ فِی الْْفُلْکِج وَجَرَیْنَ بِہِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَّفَرِحُوْا بِہَا ”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو ‘ اور وہ چل رہی ہوتی ہیں انہیں سواروں کو لے کر خوشگوار موافق ہوا کے ساتھ اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں“
جَآءَ تْہَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَ ہُمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ اُحِیْطَ بِہِمْلا ”کہ اچانک تیز ہوا کا جھکڑ چل پڑتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
34 جب موت سامنے کھڑی نظر آئے تو صرف اللہ کو پکارنا :۔ اس آیت میں ایک بہت بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے جو یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی ایسا مشکل وقت آپڑتا ہے جب تمام اسباب اور سہارے منقطع ہوتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت اس کی نظر اسباب سے اٹھ کر ایک اللہ پر آلگتی ہے اور وہ خالصتاً اللہ کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ سختی کا وقت گزر جاتا ہے تو پھر انسان اللہ کو بھول جاتا ہے اور اس کی نظر پھر اسباب کی طرف جمنے لگتی ہے۔ وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں پھر اللہ تعالیٰ ویسی ہی تکلیف اور سختی کا ایک اور سبب نہ کھڑا کردے کیونکہ اسباب کی باگ ڈور بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔
عکرمہ بن ابی جہل کا اسلام لانا :۔ مشرکین…
Read the full tafseer →39۔ (اور اب نجات پانے کی کوئی سبیل مادی اسباب وذرائع سے ممکن نہیں) (آیت) ” ھو الذی۔۔۔۔ البحر “۔ یعنی انہیں سفر بری و سیاحت بحری کے آلات واسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔ زمین اور سمندر دونوں کے طے کرنے کے لئے سواریاں، گھوڑے، گدھے، ہاتھی، اونٹ سے لے کر ریل، موٹر سائیکل، موٹر لانچ، آبدوز کشتی، آہن پو ش جہاز وغیرہا تک جتنی بھی نکل چکی ہیں یا آیندہ نکل سکیں، یہ سب بالکل آخر میں جا کر کسی علت فاعلی پر ٹھیرتی ہیں ؟ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ یا حق تعالیٰ کی بخشی ہوئی قوتوں پر۔ قرآن مجید درمیانی واسطوں کو چھوڑ کر علت حقیقی کی یاد دلارہا ہے۔ (آیت) ” جرین بھم “۔ صنعت التفات کے لئے ملاحظہ ہودیباچہ تفسیر۔ حاضر سے معا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…
Read the full tafseer →ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر اللہ وہی ہے جو خشکی اور سمندر میں تم کو چلاتا ہے۔ یعنی تم کو سفر پر آمادہ کرتا اور چلنے کی طاقت دیتا ہے۔
حتی اذا کنتم فی الفلک یہاں تک کہ جب تم کشتیوں (اور جہازوں) میں ہوتے ہو۔ فُلک کا استعمال ایک
کیلئے بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ کیلئے بھی (گویا یہ لفظ واحد بھی ہے اور جمع بھی) اس آیت میں جمع کا معنی مراد ہے کیونکہ آئندہ فقرہ میں جمع کی ضمیر اس لفظ کی طرف راجع کی گئی ہے۔
وجرین بھم اور کشتیاں (یا جہاز) اپنی سواریوں کو لے کر چلتے ہیں۔ کنتم میں خطاب ہے اور بھم میں ضمیر غائب ہے۔
عبارت کی یہ رنگینی کلام میں زور پیدا کرنے کیلئے اختیار کی گئی۔ ھِمْ کا لفظ بتارہا ہے کہ…
Read the full tafseer →(22) ہمارے فرشتے، جو کچھ جھوٹ کہہ رہے ہو اور جو خداوند کی نافرمانیاں کررہے ہو، سب کچھ لکھ رہے ہیں یعنی جس وقت تم خشکی میں سواری پر سفر کرتے ہو اور دریا میں کشتیوں میں سفر کرتے ہو، وہ تمہاری حفاظت کرتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات جب تم کشتی میں سوار ہوتے ہو، اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعے سے لے کر چلتی ہیں اور کشتی چلانے والے موافق ہوا سے خوش ہوتے ہیں اس حالت میں اچانک ایک جھونکا ان کشتیوں پر سخت ترین باد مخالف کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان لوگوں پر موجیں اٹھی چلی آتی ہیں، اس وقت انھیں اس بات کا قطعی یقین اور علم ہوجاتا ہے کہ سب ہلاک ہوجائیں گے، تب سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے…
Read the full tafseer →ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔۔ : اس آیت میں بھی پہلے مشرکین کو مخاطب کرکے فرمایا کہ وہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے۔ آگے چل کر ان کا ذکر غائب کے ساتھ کیا کہ وہ کشتیاں انھیں لے کر چل پڑتی ہیں۔ مخاطب کو غائب کے الفاظ سے ذکر کرنا التفات کہلاتا ہے۔ یہ التفات بھی ناراضگی کے اظہار کے لیے ہے کہ یہ لوگ اپنی بدعہدی کی وجہ سے خطاب کے قابل نہیں، اس لیے ان کا غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا کہ جب وہ کشتیاں موافق اور طیب ہوا کے ساتھ ان کی خواہش کے مطابق چل رہی ہوتی ہیں تو اچانک تند و تیز آندھی آجاتی ہے اور انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ وہ گھیرے میں آ چکے ہیں، اب اگر اللہ تعالیٰ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت نمبر : 22 تا 23۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وھو الذی یسیرکم فی البروالبحر، حتی اذا کنتم فی الفلک، وجرین بھم “۔ یعنی وہ تمہیں خشکی میں چوپاؤں پر اور سمندر میں کشتیوں پر سوار کرتا ہے اور کلبی (رح) نے کہا ہے : وہ سیر میں تمہارے حفاظت کرتا ہے، اور یہ آیت ان نعمتوں کے شمار کرنے کو متضمن ہے جو اس کے راستے میں لوگوں کو جانوروں پر اور سمندر میں سوار کرنے میں سے پائی جاتی ہیں۔ سمندر میں سوار ہونے کے بارے میں کلام سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور (آیت) ” یسیرکم “۔ قرات عامہ ہے۔ ابن عامر نے ینشرکم نون اور شین کے ساتھ قراءت کی ہے، یعنی وہ تمہیں پھیلاتا ہے اور متفرق کردیتا ہے، اور الفلک کا اطلاق واحد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
1: بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ تمیم داری نے عمر بن خطاب سے سمندر میں سوار ہونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے غار میں قصر کرنے کا حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ھوالذی یسیرکم فی البر والبحر “۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بہم “ کے بارے میں فرمایا اور اس کا ذکر کیا پھر ان کے سوا دوسروں کے لئے اس بات کو ایک دوسری بات میں شمار کیا اور فرمایا (آیت) ” وجرین “ پھر بات کو ان کی طرف منسوب کیا پس اول چیز یہ ہے کہ تم کشتیوں میں سوار ہوئے اور ان کے ساتھ چلیں جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے تھے پھر فرماتے…
Read the full tafseer →ھُوَ [ وہ ] الَّذِيْ [وہ ہے جو ] يُسَيِّرُكُمْ [ گھماتا پھراتا ہے تم لوگوں کو ] فِي الْبَرِّ [ خشکی میں ] وَالْبَحْرِ ۭ [ اور سمندر میں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [جب ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہوتے ہو ] فِي الْفُلْكِ ۚ [ کشتی میں ] وَجَرَيْنَ [ اور وہ بہتی ہیں ] بِهِمْ [ ان کے ساتھ ] بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ [ ایک ساز گار ہوا کے ذریعہ سے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] فَرِحُوْا [ وہ خوش ہوتے ہیں ] بِهَا [ اس سے ] جَاۗءَتْهَا [(اور جب ) آتی ہے اس (کشتی ) کے پاس ] رِيْحٌ عَاصِفٌ [ ایک تیز وتندہوا ] وَّجَاۗءَھُمُ [ اور آتی ہے ان لوگوں کے پاس ] الْمَوْجُ [موج ] مِنْ كُلِّ مَكَانٍ [ ہر جگہ سے ] وَّظَنُّوْٓا [ اور…
Read the full tafseer →اس کے بعد اللہ جل شانہ ‘ نے اپنے بہت بڑے انعام کا تذکرہ فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَّرِ وَالْبَحْرِ ) (الایۃ) (اللہ تعالیٰ تمہیں خشکی میں اور سمندر میں چلاتا ہے) خشکی میں تو پاؤں سے اور جانوروں پر اور دوسری سواریوں پر سوار ہو کر چلتے پھرتے ہیں۔ دور دراز کا سفر کر کے اپنی حاجت کی چیزیں فراہم کرتے ہیں اور سمندر کا سفر چھوٹی بڑی کشتیوں میں کرتے ہیں یہ کشتیاں بھی انسان کی حاجت پوری کرنے کا ذریعہ ہیں اس کنارہ سے اس کنارہ اس شہر سے دوسرے شہر ‘ اور اس براعظم سے دوسرے براعظم تک پانی کے جہاز آتے جاتے ہیں اور انسان کی ضروریات فراہم کرتے ہیں۔ زمانہ نزول قرآن میں باد بانی کشتیاں ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
بیان توحید مقرون بہ وعید
قال اللہ تعالی۔ ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر۔۔۔ الی۔۔۔ فننبئکم بما کنتم تعملون۔
(ربط اوپر توحید کا بیان تھا۔ اب پھر توحید کا مضمون بیان ہوتا ہے جو زجر اور وعید کو بھی متضمن ہے اور اثبات صانع کی دلیل بھی ہے اور یہ آیت درحقیت گزشتہ آیت واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم اذا لھم مکر فی آیاتنا کی تفسیر اور تشریح ہے جس میں ضراء کے بعد رحمت پہنچنے کی اور پھر رحمت اور نعمت ملنے کے بعد ان کے مکر فی الآیات کی مثال بیان کی گئی ہے کیونکہ مثال سے شئے کی حقیقت اور کیفیت واضح ہوجاتی ہے۔
حکایت : امام جعفر صادق سے کسی نے سوال کیا کہ میرے لیے اثبات صانع کی کوئی دلیل ذکر کیجئے تو…
Read the full tafseer →38: یہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے۔ “ جَرَیْنَ بِھِمْ ” یہاں خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے۔ یعنی پہلے مشرکین کو ضمیر خطاب سے مخاطب فرمایا اس کے بعد ضمیر خطاب کی ضمیر غائب استعمال فرمائی۔ جب مشرکین سمندروں اور دریاؤں میں سفر کرتے اور ہوا کا رخ موافق ہوتا تو بہت خوش ہوتے لیکن اگر ان کی کشتیاں طوفانِ باد و باراں میں گھر جاتیں تو نہایت خلوص سے اللہ تعالیٰ کو پکارانا شروع کردیتے اور معبودان باطلہ کو بھول جاتے اور ساتھ ہی یہ بھی عہد کرتے کہ اے اللہ ! اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دیدی تو ہم تیرا شکر ادا کریں گے اور صرف تیری ہی عبادت کریں گے اور ہر کام میں تجھے ہی پکارا کریں گے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کو بیان کیا پھر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل کا ذکر کیا اور سابقہ اقوام کی نافرمانیوں کا اشارۃ حال بیان کیا ، پھر قرآن کے اٹل ، دائمی ، ناقابل تحریف و ترمیم ہونے کا ذکر کیا۔ رسالت کی صداقت کے ضمن میں حضور ﷺ کی پاکیزہ زندگی کو بطور دلیل پیش کیا۔ پھر معجزات طلب کرنے والے منکرین کے جواب میں فرمایا کہ یہ لوگ محض ضد اور عناد کی وجہ سے نشانیاں طلب کرتے ہیں وگرنہ نشانیاں تو اللہ نے بیشمار ظاہر فرما دی ہیں۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ سے کہلوایا کہ کوئی نشانی پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق جب اللہ چاہتا ہے کوئی…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ 0 ۭ حَتّٰٓي اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ 0 ۚ وَجَرَيْنَ بِہِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَۃٍ وَّفَرِحُوْا بِہَا جَاۗءَتْہَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَاۗءَھُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اُحِيْطَ بِہِمْ 0 ۙ دَعَوُا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ 0ۥۚ لَىِٕنْ اَنْجَيْـتَنَا مِنْ ہٰذِہٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ 22
سار
السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير، فمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
1 ؎ ریح عاصف ہے ذات عصف وقیل العصوف مختص بالریح فلاحاجۃ الی الفارق وقیل الریح قدیذکر 12 ابو السعود۔ ومعنی العصف السرعۃ یقال ناقۃ عاصف کبیر 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ھُوَالَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط حَتّٰیٓ اِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ ج وَجَرَیْنَ بِھِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَّفَرِحُوْا بِھَاجَآئَ ْتھَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآئَ ھُمُ الْمَوْجُ مِنْ کِلِّ مَکَانٍ وَّظَنُّوْا اَنَّھُمْ اُحِیْطَ بِہِمْ لادَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ 5 ج لَئِنْ اَنْجْیْتَنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ فَلَمَّآ اَنْجٰھُمْ اِذَا ھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ ط یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُکُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ لا مَّتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ز ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجُعْکُمْ فَنُنَبِّئُکُمْ بِمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اور کافر کی فطرت خبیثہ کا ذکر۔
اس سے پہلی آیات میں مسئلہ شفاعت کے حوالے توحید بیان کی گئی۔ درمیان میں کفار کے عذاب کا مطالبہ کرنے پر انہیں ہلکی سی سرزنش کی گئی۔ اب پھر توحید کے دلائل دیے جاتے ہیں۔ مضمون کا ربط قائم کرنے اور سابقہ دلائل کے استحضار کے لیے ( ھُوَالَّذِیْ ) کے الفاظ استعمال فرمائے۔ اس اللہ کی ذات اور صفات ماننے کی دعوت دی جارہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے۔ ذراغور کرو اور سوچو ! کہ کتنے تمہارے جیسے انسان ہیں جن کی ٹانگیں ہیں مگر کسی بیماری کی وجہ سے چل نہیں سکتے، وجود ہیں مگر حرکت نہیں کرسکتے، روح ہے مگر زندگی سے بےزار ہوچکے ہیں۔ اسی طرح…
Read the full tafseer →وقتی وصیت پر توبہ پھر سرکشی :
22: ھُوَا لَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (وہ اللہ تعالیٰ جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے) اس نے تم کو پائوں سے چلنے اور چوپائوں اور کشتیوں کے ذریعہ مسافت طے کرنے کی ہمت بخشی ہے یا وہ چلنے کو تم میں پیدا کرتا ہے۔
قراءت : یَنشُرکم شامی نے پڑھا ہے۔
حَتّٰی اِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ (یہاں تک کہ جب تم کشی میں ہوتے ہو) فُلک ؔ کشتیاں، جمع ہے۔ وَجَرَیْنَ (وہ کشتیاں چلتی ہیں) ۔ بِھِمْ (ان کے ساتھ) یعنی ان کو لیکر جو ان میں ہیں مبالغہ کی خاطر خطاب سے غیب کی طرف رجوع کیا بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ (موافق ہوائیں) آہستہ مناسب چلنے والی جو آندھی نہ ہو اور نہ بہت…
Read the full tafseer →تفسیر :(22)” ھو الذی یسیرکم “ تم کو چلاتا اور سوار کراتا ہے اور ابو جعفر اور ابن عامر رحمہما اللہ نے ” ینشر کم “ نون اور شین کے ساتھ نثر سے پڑھا ہے اور وہ پھیلانا ۔ فی البرجانور کی پیٹھوں پر ۔ ” والبحر “ کشتیوں پر ” حتی اذا کنتم فی الفلک “ فلک کا استعمال واحد اور جمع دونوں ہوتا ہے۔ ” وجرین بھم “ کشتیاں لوگوں کو لے کر چلیں ۔ یہاں خطاب کے صیغوں سے غائب کے صیغہ کی طرف رجوع کیا ۔ ’ یریح طیبۃ “ نرم ” وفرحوابھا “ ہوا سے ” جاء تھا ریح “ کشتیوں پر سخت آندھی آجاتی ہے۔ عاصف کا معنی سخت آندھی ’ ’ ریحی عاصف “ نہیں کہاکیون کہ اریح عاصف کے ساتھ مختص ہے اور بعض نے کہا ہے الریح مذکر اور مونث دونوں طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
21۔ 23۔ انسان پر جب کوئی سختی ہوتی ہے اور کوئی تدبیریں نہیں آتی تو خدا کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اس سے نجات پالیتا ہے تو اسے خیال بھی نہیں رہتا کہ مجھ پر کوئی سختی گزری تھی صحیح بخاری و مسلم میں زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اور روز رات کو مینہ برسا۔ حضرت ﷺ نے اس روز صبح کی نماز کے بعد لوگوں سے کہا کہ تم جانتے ہو آج رات کو خدا نے کیا کہا لوگ کہنے لگے خدا اور خدا کا رسول جانتا ہے ہم لوگوں کو کیا خبر۔ فرمایا یہ کہا کہ صبح کو جب میرے بندے اٹھیں گے تو اکثر مومن ہوں گے اور بہتیرے کافر۔ کیوں کہ رات کو جو بارش ہوئی ہے جو اس کو یوں کہے گا کہ خدا نے اپنے فضل سے مینہ برسایا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت : (22-23)
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانون کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے ‘ تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھو الذی یسیر کم فی البر والبحر) ” وہی ہے جو تمہیں چلاتا ہے خشکی اور سمند میں “ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمہیں مہیا کئے ہیں اور ان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے (حتیٰ ان کنتم فی الفلک) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →42 ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت خشکی اور تری دونوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی اللہ تم لوگوں کو چلاتا ہے خشکی میں بھی اور تری میں بھی۔ سو خشکی اور تری دونوں میں اس کی رحمت و عنایت تم لوگوں پر سایہ فگن ہے۔ پس چلانے والا تمہیں حقیقت میں وہی وحدہ لاشریک ہے خشکی میں بھی تری میں۔ اس کی رحمت اور اس کے فضل وکرم کے بغیرتم لوگ کہیں بھی نہیں چل سکتے اور تم کچھ بھی نہیں ہو۔ فسبحٰنہ مآاعظم شانہ ومآاجل واعم احسانہ۔ مگر تم لوگ ہو کہ خشکی اور تری کے اپنے ان سفروں کے دوران اس کو چھوڑ کر اور بھول کر اس کی طرح طرح کی عاجز اور بےبس مخلوق کو پکارتے اور اسی پر تکیہ اور بھروسہ کرتے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
کفار کا مصیبت میں خالص اللہ کو پکارنا
تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی ایسا مشکل وقت آن پڑتا ہے جب تمام اسباب اور سہارے منقطع ہوتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت اس کی نظر اسباب سے اٹھ کر ایک اللہ پر آلگتی ہے اور وہ خالصتاً اللہ کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ مصیبت اور سختی کا وقت گزر جاتا ہے اور اسکی نظر پھر اسباب کی طرف جمنے لگ جاتی ہے وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ تعالیٰ پھر ویسی تکلیف اور سختی کا ایک اور سبب نہ کھڑا کر دے۔ مشرکین مکہ کی ایسی ہی عادت تھی جس کا اس آیت میں ذکر آیا ہے، فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ بن ابوجہل اس ڈر سے مکہ سے بھاگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21 تا 30
اسرار و معارف
کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…
Read the full tafseer →ف 7۔ اور اپنے تمام بتوں اور معبودوں کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ وزاری کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔
8۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کا حال بیان فرمایا مگر ہمارے زمانے کے بعض نام کے مسلمانوں کا حال اس سے بھی بدتر ہے ان پر جب کوئی بڑی مصیبت آتی ہے مثلاً دریا میں ڈوبنے یا آگ میں جلنے لگتے ہیں تو بھی شرک سے توبہ نہیں کرتے اور وہی ” یا خواجہ خضر “ یا علی مدد کا نعرہ لگاتے ہیں بلکہ مرتے اور ڈوبتے وقت بھی اللہ کو نہیں پکارتے۔ لاحول ولا قوہ الا باللہ۔ (ازوحیدی)
Read the full tafseer →(10:22) یسیرکم۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو سیر کراتا ہے۔ تم کو لئے پھرتا ہے۔ تسیر (تفعیل) مصدر۔ الفلک۔ کشتی۔ جہاز۔ یہ لفظ مؤنث ۔ مزکر ۔ واحد ۔ جمع سب کے لئے آتا ہے ۔ یہاں جمع کے لئے آیا ہے۔
جرین۔ ماضی جمع مؤنث غائب۔ جری یجری (ضرب) جری سے۔ وہ چلیں ۔ وہ جاری ہوئیں۔ وہ رواں ہوئیں۔
بھم۔ ان کو لے کر۔ بریح میں ب سببیہ ہے۔ ریح طیبہ کی وجہ سے۔ یعنی موافق ہوا کی وجہ سے۔ ریح عاصف کی ضد ہے۔
فرحوا بھا۔ وہ اس موافق ہوا کی وجہ سے شادان وفرحاں ہیں۔
ریح عاصف۔ باد تند ۔ آندھی۔ عاصف عصف یعصف (ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ عصفت الریح۔ ہوا تیز چلی۔ عصف الرجل آدمی تیز دوڑا۔
احیط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 23
اذقنا (ہم نے چکھا دیا) ضرآء (ضرر، نقصان، تکلیفیں، مصیبتیں) مست (پہنچی) مکر (شرارت، مکر و فریب) اسرع (بہت جلد) یکتبون (وہ لکھتے ہیں) تمکرون (تم مکر و فریب کرتے ہو، تم شرارتیں کرتے ہو) یسیر (وہ چلاتا ہے) البر (خشکی، زمین) البحر (تری، سمندر) جرین (وہ چلتی ہیں) ریح طیب (پاک ہوا یعنی موافق ہوا) فرحوا (انہوں نے فرحت اور خوشی محسوس کی) عاصف (طوفانی ہوا ، طوفان) احیط (گھیر لیا گیا) مخلصین (خالص کرنے والے) الدین (انصاف، اعتقاد) انجیتنا (تو نے ہمیں نجات دے دی) یبغون (وہ بغاوت و نافرمانی کرتے ہیں) بغیر الحق (ناحق، جس کا ان کو حق حاصل نہ تھا متاع (سامان ، زندگی کا لطف و کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
انسان پر جب کوئی سختی ہوتی ہے اور کوئی تدبیر نہیں آتی تو خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب اس سے نجات پالیتا ہے تو اسے خیال بھی نہیں رہتا کہ مجھ پر کوئی سختی گزری تھی۔ پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے حیلے ہیں تم ان سے کہہ دو کہ اللہ کی تدبیر کے سامنے تمہارے مکر وحیلہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے فرشتے ذرہ ذرہ ان کے اعمال لکھ رہے ہیں۔ جب تک ڈھیل ہے، جب پکڑے گا تو ذرا سی بھی مہلت نہ دے گا ۔ مجرم یہ گمان کر رہے ہیں کہ خدا اب عذاب نہ کرے گا۔ یہ اس کی شان ہے کہ تم کو خشکی مین اور دریا میں چلاتا پھرتا ہے، تمہاری کشتیاں موافق ہوا پاکر منزل کی طرف جلدی جلدی جاتی دکھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
[16] لوگوں سے مراد کافر ہیں جیسا کہ سیاق سے واضح ہے۔
[17] یعنی طرح طرح کی تاویلیں اور توجیہیں کرنے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(ف 1) فطرت کے لحاظ سے ہر شخص کو پاکیزہ پیدا کیا گیا ہے ہر قلب میں اللہ کی توحید کے چشمے بہتے ہیں ، ہر آنکھ جلوہ ہائے طور وسینا کا تماشہ کرسکتی ہے ، مگر ہوتا یہ ہے کہ زندگی کی کثافتوں میں فطرت کی پاکیزگی ضائع ہوجاتی ہے ، خیالات فاسدہ کی وجہ سے دل بےنور ہوجاتا ہے ، اور جہالت تعصب کی وجہ سے بصیرت بھی باقی نہیں رہتی ، عیش وتنعم کی زندگی میں انسان اللہ کو بھول جاتا ہے ۔
مگر جونہی کوئی حوادث سے آنکھیں کھلتی ہیں ، سوئی ہوئی فطرت بیدار نظر آتی ہے ، دل کے تمام حجاب ایک ایک کر کے اٹھ جاتے ہیں ، اور قہر قلب سے توحید کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔
ان آیات میں انسان کی اس فطرت مستور کا حال بیان کیا ہے کہ…
Read the full tafseer →22 وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو تمک و خشکی اور دریا میں چلاتا ہے اور لئے لئے پھرتا ہے یہاں تک کہ جب کبھی تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ لیکر چلتی ہیں اور وہ لوگ اس ہوا سے اور کشتیوں کے چلنے سے بہت خوش ہوتے ہیں کہ یک بیک ان کشتیوں پر مخالف ہوا کا ایک تیز جھکڑ آجاتا ہے اور ہر طرف سے ان لوگوں پر موجیں اٹھنے لگتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر چکے ہیں تو اس وقت خاصل اعتقاد اور عبادت اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اے خدا اگر تو ہم کو اس آفت سے بچا لے تو ہم ضرور تیرے شکر گزار ہوں گے ۔ یعنی مصیبت کے وقت معبودان باطلہ کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی جن آلات و اسباب سے تم چلتے پھرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے دیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →جب کسی ایک مصیبت میں پھنسے کہ نکلنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو اللہ یاد آ گیا
۔ 37 انسان کی اس عجیب و غریب حالت کا بیان کہ جب اس پر مصیبتوں کے مہیب بادل چھا جاتے ہیں اور وہ ان بادلوں میں گھر کر رہ جاتا ہے اور جب غم واندوہ کا اندھیر اس پر چھا جاتا ہے اور اس کے سارے مصنوعی سہارے ٹوٹ جاتے ہیں اور جب تمام دوست و احباب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور جب اس کے دل کی کشتی مایوسی اور نا امیدی کے طوفان میں ڈوبنے لگتی ہے تو اس وقت انسان کی آنکھیں کھلتی ہیں اور ایک ایسی ہستی کا یقین آنے لگتا ہے جس کے ماننے سے آج تک وہ انکار کرتا رہا تھا خواہ یہ انکار زبانی ہو یا عملی تو اس وقت اس کے دامن رحمت میں سرچھپانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
Commentary
The word: مَک (رح) ر (makr) used in verse 21: قُلِ اللَّـهُ أَسْرَعُ مَكْرًا (Say, "Allah is more swift in making plans" ) means secret plan or move that could be good or bad. Wherever this word has become a part of the local language, care should be taken that it is not rendered as ` deception'. For instance, in Urdu, the original language of this Commentary, it means just this. It is obvious that Allah Ta` ala is free from it. (1)
(1) The English language has no such problems as the open sense of makr can be transmitted through ` plan' or ` move' (Translator)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
31. This particular 'sign' which testifies to the truth of belief in the One True God is innate in human nature and hence can be witnessed by all. However, as long as the means of self-indulgence are plentiful, man tends to forget God and exults in his worldly enjoyment. But as soon as the means which have led him to his worldly efflorescence are gone, even the most die-hard polytheists and atheists begin to appreciate this innate sign testifying that there indeed is a God Who has His firm grip over the universe, and that it is the One True God alone Who is all-powerful and Who holds sway…
Read the full tafseer →