Explained with ayahs 21–23
احسان فراموش انسان
انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کردیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا۔ رات کو بارش ہوئی، صبح کو حضور ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ صحابہ نے کہا ہمیں کیا خبر ؟ آپ نے فرمایا اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہوجائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 29
یہ پھر اسی قحط کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 11 – 12 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم نشانی آخر کس منہ سے مانگتے ہو۔ ابھی جو قحط تم پر گزرا ہے اس میں تم اپنے ان معبودوں سے مایوس ہوگئے تھے جنہیں تم نے اللہ کے ہاں اپنا سفارشی ٹھیرا رکھا تھا اور جن کے متعلق کہا کرتے تھے کہ فلاں آستانے کی نیاز تو تیر بہدف ہے۔ اور فلاں درگاہ پر چڑھاوا چڑھانے کی دیر ہے کہ مراد بر آتی ہے۔ تم نے دیکھ لیا کہ ان نام نہاد خداؤں کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے اور سارے اختیارات کا مالک صرف اللہ ہے۔ اسی وجہ سے تو آخرکار تم اللہ ہی سے دعائیں مانگنے لگے تھے۔ کیا یہ کافی نشانی نہ تھی کہ تمہیں اس تعلیم کے برحق ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
خلاصہ تفسیر
حل لغت
عَاصِفٌ سخت تیز ہوا، حَصِيْدًا کٹی ہوئی کھیتی، كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ یہ غنی بالمکان سے مشتق ہے جس کے معنٰی کسی جگہ قیام کرنے کے ہیں۔
اور جب ہم لوگوں کو بعد اس کے کہ ان پر کوئی مصیبت پڑچکی ہو کسی نعمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں (یعنی ان سے اعراض کرتے ہیں اور ان کے ساتھ تکذیب و استہزا سے پیش آتے ہیں اور براہ اعتراض وعناد دوسرے معجزات کی فرمائشیں کرتے ہیں اور مصیبت گزشتہ سے عبرت نہیں پکڑتے پس معلوم ہوا کہ ان کے اعتراض کا اصل سبب اللہ کی نازل کردہ آیات و معجزات سے اعراض ہے اور یہ اعراض دنیا کی نعمتوں میں مست ہوجانے سے پیدا ہوا ہے،…
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَذَقْــنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ مَسَّتْھُمْ اِذَا لَھُمْ مَّكْرٌ فِيْٓ اٰيَاتِنَا ۭ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا ۭ اِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ۔
یہ حال تو قریش ہی کا بیان ہورہا ہے لیکن بات عام خطاب کے اسلوب میں کہہ دی گئی ہے تاکہ ان سے بےالتفاتی کا اظہار بھی ہوجائے اور یہ حقیقت بھی سامنے آجائے کہ اس باب خاص میں جو حال ان کا ہے وہی حال سب کا ہے۔ صرف صاحب توفیق ہی ہوتے ہیں جو اس سے الگ روش اختیار کرتے ہیں۔ فرمایا کہ اس قسم کی تنبیہی نشانیاں جو لوگوں کو دکھائی جاتی ہیں ان کا کچھ اثر بس اسی وقت تک رہتا ہے جب تک لوگ اس کی زد میں رہتے ہیں۔ جو ہی حالات…
Read the full tafseer →21۔ 1 مصیبت کے بعد نعمت کا مطلب ہے۔ تنگی، قحط سالی اور آلام و مصائب کے بعد، رزق کی فروانی، اسباب معیشت کی ارزانی وغیرہ۔
21۔ 2 اس کا مطلب ہے کہ ہماری ان نعمتوں کی قدر اور ان پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یعنی ان کی وہ بری تدبیر ہے جو اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں اختیار کرتے ہیں۔
21۔ 3 یعنی اللہ کی تدبیر ان سے کہیں زیادہ تیز ہے جو وہ اختیار کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ ان کا مواخذہ کرنے پر قادر ہے، وہ جب چاہے ان کی گرفت کرسکتا ہے، فوراً بھی اور اس کی حکمت تاخیر کا تقاضا کرنے والی ہو تو بعد میں بھی۔ مکر، عربی زبان میں خفیہ تدبیر اور حکمت عملی کو کہتے ہیں، جو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
10: جب تک مصیبت کا سامنا تھا، اس وقت تک تو بس اللہ ہی یاد آتا تھا، لیکن جب اس کی رحمت سے مصیبت دور ہوجاتی ہے اور اچھا وقت آتا ہے تو اس کی اطاعت سے منہ موڑنے کے لیے حیلے بہانے شروع ہوجاتے ہیں، جس کی مثال آگے آیت نمبر 22 میں آرہی ہے۔
11: اللہ تعالیٰ کے لیے چال کا لفظ ایک طنز کے طور پر ہے اور اس سے مراد ان کی چالبازیوں کی سزا دینا ہے۔
Read the full tafseer →واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم جب لوگوں کو کوئی دکھ پہنچتا ہے اور پھر ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں۔ رحمت سے مراد ہے سرسبزی ‘ ارزانی ‘ فراخ دستی ‘ صحت۔ اور ضَّراء سے مراد ہے خشک سالی ‘ بدحالی ‘ افلاس اور بیماری۔
اذا لھم مکر فی ایٰتنا تو فوراً ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : مکر سے مراد ہے تکذیب و استہزاء۔ میں کہا ہوں : مکر کا معنی ہے پوشیدہ طور پر کسی کو برائی پہنچانے کا ارادہ کرنا۔ آیات کی تکذیب بظاہر رسول اللہ (ﷺ) کی تکذیب اور آپ کو برائی پہنچانے کے ارادہ کا مظاہرہ تھا ‘ اللہ کی تکذیب نہ تھی لیکن آیات اللہ حقیقت میں اللہ کا کلام تھا ‘ اسلئے درپردہ…
Read the full tafseer →5 اہل مکہ پر حق تعالیٰ نے سات سال کا قحط مسلط کیا۔ جب ہلاکت کے قریب پہنچ گئے تو گھبرا کر حضور ﷺ سے دعاء کی درخواست کی اور وعدہ کیا کہ یہ عذاب اٹھ جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے آپ ﷺ کی دعاء سے خدا نے سماں کردیا، قحط کی بلاء دور ہوئی تو پھر وہی شرارتیں کرنے لگے، خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اس کی قدرت و رحمت پر نظر نہ رکھتے۔ بلکہ انعامات الٰہیہ کو ظاہری اسباب و حیل اور محض بےاصل خیالات و اوہام کی طرف نسبت کرنے لگتے۔ اس کا جواب دیا کہ اچھا تم خوب مکروفریب اور حیلہ بازی کرلو۔ مگر یہ یاد رہے کہ تمہاری حیلہ بازیاں ایک ایک کر کے لکھی جا رہی ہیں۔ وہ سارا دفتر قیامت کے دن تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا۔…
Read the full tafseer →آیت 21 وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً مِّنْم بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُمْ اِذَا لَہُمْ مَّکْرٌ فِیْٓ اٰیَاتِنَا ط ”اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو ان پر آگئی تھی تو فوراً ہی وہ ہماری آیات کے بارے میں سازشیں کرنے لگتے ہیں۔“
پہلی امتوں میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور حضور ﷺ کی بعثت کے بعد اہل مکہ پر بھی چھوٹی چھوٹی تکالیف آتی رہی ہیں جیسے روایات میں ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں شدید نوعیت کا قحط پڑگیا تھا۔ ایسے حالات میں مشرکین مکہ کچھ نرم پڑجاتے تھے۔ حضور ﷺ کے پاس آکر بیٹھتے بھی تھے اور آپ ﷺ کی باتیں بھی سنتے تھے۔ مگر جونہی تکلیف رفع ہوجاتی تو وہ پھر سے اللہ…
Read the full tafseer →33 اس آیت میں اسی قحط کی طرف اشارہ ہے جس کا اسی سورة کی آیت نمبر 11 میں ذکر آیا ہے۔ یہ قحط مکہ پر مسلسل سات سال تک مسلط رہا پھر آپ کی دعا سے یہ مصیبت دور ہوئی اب سوال یہ ہے کہ اس قحط میں اور اس کے دور ہونے میں تمہارے لیے کوئی نشانی نہیں کہ تم اب کسی اور معجزہ کا مطالبہ کرنے لگے ہو اس قحط کے دوران تم نے دیکھ لیا کہ باوجود تمہاری فریادوں کے تمہارے معبود تمہاری اس مصیبت کو تم سے دور نہ کرسکے پھر جب اللہ نے تمہاری مصیبت دور کردی تو پھر تم اپنے وعدوں سے فرار کی راہ سوچنے لگے اور ایسے مکر اور بہانے بنانے شروع کردیے جس سے انہیں اپنے قدیم شرک پر جمے رہنے کے لیے تائید حاصل ہو اور توحید کے اقرار سے بچ…
Read the full tafseer →37۔ منکرین کی مریض ذہنیت کا بیان ہے کہ وہ تسکین تو کسی معجزہ، کسی آیت سے بھی نہیں حاصل کرتے اور تسکین تو انہیں مقصود ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ اعجازی واقعہ کی کوئی نہ کوئی مادی توجیہ وتاویل پیدا ہی کرلیتے ہیں۔ اور اس پر اعتراض کر۔ چٹ دوسرے معجزہ کی فرمائش شروع کردیتے ہیں۔ (آیت) ” مکر فی ایاتنا “۔ یعنی آیات الہی میں طرح طرح کی تاویلیں اور توجیہیں۔ سمی تکذیبھم بایات اللہ مکرا لان المکر عبارۃ عن صرف الشیء عن وجھہ الظاہر بطریق الحیلۃ (کبیر) الاحتیال فی دفعھا (روح) لیجعلوا لتلک الرحمۃ سببا اخر (ابن قتیبۃ) (آیت) ” الناس “۔ سے مراد اس سیاق میں دنیا کی کافر آبادی ہے۔ الناس عام لجمیع الکفار (روح) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…
Read the full tafseer →واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم جب لوگوں کو کوئی دکھ پہنچتا ہے اور پھر ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں۔ رحمت سے مراد ہے سرسبزی ‘ ارزانی ‘ فراخ دستی ‘ صحت۔ اور ضَّراء سے مراد ہے خشک سالی ‘ بدحالی ‘ افلاس اور بیماری۔
اذا لھم مکر فی ایٰتنا تو فوراً ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : مکر سے مراد ہے تکذیب و استہزاء۔ میں کہا ہوں : مکر کا معنی ہے پوشیدہ طور پر کسی کو برائی پہنچانے کا ارادہ کرنا۔ آیات کی تکذیب بظاہر رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور آپ کو برائی پہنچانے کے ارادہ کا مظاہرہ تھا ‘ اللہ کی تکذیب نہ تھی لیکن آیات اللہ حقیقت میں اللہ کا کلام تھا ‘ اسلئے درپردہ…
Read the full tafseer →(21) اور جب ہم ان کفار کو کسی مصیبت کے بعد کسی نعمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو فورا رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے لگتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس شرارت کی سخت ترین سزا دے گا، چناچہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →اِذَا لَھُمْ مَّكْرٌ فِيْٓ اٰيَاتِنَا : یعنی جب ہم لوگوں کو بیماری کے بعد شفا، قحط کے بعد خوش حالی، جنگ کے بعد امن یا انھیں پہنچنے والی کسی بھی تکلیف کے بعد اپنی کسی رحمت کی لذت چکھاتے ہیں تو ہمارے شکر گزار ہو کر ہماری توحید اور ہمارے رسول کی رسالت ماننے کے بجائے اسے جھٹلانے اور اس کا مذاق اڑانے کی کوئی نہ کوئی چال اختیار کرتے ہیں۔ ”مکر“ کا معنی خفیہ تدبیر ہے، جو شر کے لیے ہو، یہ لفظ کبھی خیر کے لیے بھی استعمال ہوجاتا ہے، یا مقابلے میں بول لیا جاتا ہے۔ کفار کی اس عادت کی مثال فرعون کا پے در پے معجزے دیکھ کر انھیں جادو کہہ کر ایمان لانے سے انکار ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (130 تا 136) انسان کی اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 21۔
مراد کفار مکہ ہیں : (آیت) ” رحمۃ من بعد ضرآء مستھم “۔ کہا گیا ہے : مراد سختی اور تنگی کے بعد آسودگی اور خوشحالی کا آنا ہے اور خشک سالی کے بعد شادابی کا آنا ہے (2) (تفسیر ماوردی، سورة ، جلد 11، صفحہ 429)
(آیت) ” اذا لھم مکر فی ایاتنا “۔ اس میں مکر سے مراد استہزاء اور تکذیب ہے، (تو فورا وہ ہماری آیتوں کے ساتھ استہزا اور ان کی تکذیب کرنے لگتے ہیں) اور خلیل اور سیبویہ کے قول کے مطابق (آیت) ” واذا اذقنا “ کا جواب (آیت) ” اذالھم “۔ ہے۔ (آیت) ” قل اللہ اسرع “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے۔ (آیت) ” مکرا “ یہ بیان ہونے کی بنا پر منصوب ہے، یعنی وہ ان کے مکروفریب کی جزا کے طور پر سزا دینے میں بہت…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضرآ مستہم اذا لہم مکر فی ایاتنا “ یعنی آیات کے ساتھ مذاق کرنا اور ان کو جھٹلانا۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ ہر مکر قرآن میں عمل کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذَآ [اور جب ] اَذَقْــنَا [ ہم چکھاتے ہیں ] النَّاسَ [ لوگوں کو ] رَحْمَةً [ کچھ رحمت ] مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ [ اس تکلیف کے بعد جس نے ] مَسَّتْھُمْ [چھوا ان کو ] اِذَا [ جب ہی ] لَھُمْ [ ان کے لئے ] مَّكْرٌ [ کوئی تدبیر (یعنی حیلہ بہانہ ) ہے ] فِيْٓ اٰيَاتِنَا ۭ [ ہماری نشانیوں میں ] قُلِ [ آپ کہیے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَسْرَعُ [ سب سے تیز ہے ] مَكْرًا ۭ [ بلحاظ تدبیر کرنے کے ] اِنَّ [ یقینا ] رُسُلَنَا [ ہمارے رسول (یعنی فرشتے ) ] يَكْتُبُوْنَ [ لکھتے ہیں ] مَا [ اس کو جو ] تَمْكُرُوْنَ [ تم لوگ بہانے بناتے ہو ]
ترکیب : (آیت ۔ 21) بعد کا مضاف الیہ ضراء ہے اور نکرہ مخصوصہ ۔ ضراء غیر…
Read the full tafseer →صاحب روح المعانی (ص 93 ج 11) لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر سات سال تک قحط بھیج دیا تھا ‘ قریب تھا کہ اس کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں ‘ انہیں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ خوشحالی کے لئے دعا فرمائیں اگر یہ قحط کی مصیبت دور ہوجائے اور ہمیں خوشحالی مل جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آپ نے دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اور اہل مکہ پر رحم فرمایا تو ایمان لانے کی بجائے وہی پرانا ڈھنگ اختیار کرلیا اور اللہ کی آیات میں طعن کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ سے وہی معاندانہ سلوک کرنے لگے جو پہلے کرتے تھے اور ایسی شرارتیں اور حیلہ بازیاں کرنے لگے جن کو انہوں نے قرآن پر ایمان نہ لانے کا بہانہ بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
رسالت محمدیہ کے متعلق مشرکین کے ایک معاندانہ سوال کا جواب
قال اللہ تعالی۔ ویقولون لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکتبون ما تمکرون
(ربط): اس آیت میں منکرین نبوت کے چوتھے شبہ کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب تک آپ ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نہ دکھائیں گے اس وقت تک ہم آپ کی نبوت کو نہ مانیں گے حالانکہ قرآن خود ایک معجزہ تھا جسے وہ دیکھ چکے تھے تو اس کے بعد یہ کہنا کہ فلاں قسم کا معجزہ دکھلاؤ گے تو ایمان لائیں گے۔ یہ خود اس کے معاند اور ضدی ہونے کی دلیل ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا جواب دیا حاصل جواب یہ ہے کہ میری نبوت کے دلائل اور…
Read the full tafseer →37: یہ زجر ہے انسان کی ناشکری اور احسان فراموشی کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ تکلیف و مصیبت دور کر کے اسے راحت و خوشحالی سے ہمکنار کردیتا ہے تو وہ شکر بجالانے کے بجائے اللہ کی آیتوں میں حیل و حجت کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تو اللہ کا کلام ہی نہیں “ اي مکروا بایاتنا بدفعھا وانکارھا ” (مدارک ج 2 ص 121) ۔ “ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَکْرًا ” یعنی اللہ تعالیٰ ان کے جحود و انکار پر ان کو بہت جلد عذاب دے سکتا ہے۔ مشرکین نے اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں اس کی آیات کے انکار کی تدبیر سوچی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی سزا دینے کی ایک نہایت ہی لطیف تدبیر نکالی کہ کراماً کاتبین کو ان کے تمام بر بھلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کو بیان کیا پھر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل کا ذکر کیا اور سابقہ اقوام کی نافرمانیوں کا اشارۃ حال بیان کیا ، پھر قرآن کے اٹل ، دائمی ، ناقابل تحریف و ترمیم ہونے کا ذکر کیا۔ رسالت کی صداقت کے ضمن میں حضور ﷺ کی پاکیزہ زندگی کو بطور دلیل پیش کیا۔ پھر معجزات طلب کرنے والے منکرین کے جواب میں فرمایا کہ یہ لوگ محض ضد اور عناد کی وجہ سے نشانیاں طلب کرتے ہیں وگرنہ نشانیاں تو اللہ نے بیشمار ظاہر فرما دی ہیں۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ سے کہلوایا کہ کوئی نشانی پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق جب اللہ چاہتا ہے کوئی…
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَذَقْــنَا النَّاسَ رَحْمَۃً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ مَسَّتْھُمْ اِذَا لَھُمْ مَّكْرٌ فِيْٓ اٰيَاتِنَا 0 ۭ قُلِ اللہُ اَسْرَعُ مَكْرًا 0 ۭ اِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ 21
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
3 ؎ چناچہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے جب بوقت صلیب یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تو نہ دکھایا جیسا کہ انجیل متی کے 28 باب میں ہے پھر پادری صاحب اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے معجزات کا انکار کیوں کرتے ہیں۔ 12 منہ
4 ؎ اخیر نتیجہ کا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً مِّنْ م بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْھُمْ اِذَآ لَھُمْ مَّکْرٌفِیْ ٓاٰیَاتِنَا ط قُلِ اللّٰہُ اَسْرَعُ مَکْرًا ط اِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُوْنَ مَاتَمْکُرُوْنَ ۔ (یونس : 21)
(اور جب ہم لوگوں کو کسی تکلیف کے بعد ” جو ان کو پہنچ چکی ہے “ اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چالیں چلنے لگتے ہیں۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ اپنی تدبیر میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ بیشک ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں جو چالیں تم چل رہے ہو۔ )
اس آیت کریمہ میں روئے سخن مشرکینِ مکہ ہی کی طرف ہے، لیکن بات ان سے خطاب کرنے کی بجائے عام اسلوب میں کہی گئی ہے تاکہ انھیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی معظم ﷺ سے کفار عذاب لانے کا مطالبہ کرتے تھے انہیں آگاہ کیا کہ جس خبط میں تم مبتلا ہو وہ عذاب ہی تو ہے۔
اہل مکہ نبی اکرم ﷺ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا۔ اس کا اشارتًا جواب دیا گیا ہے کہ جس قحط سالی میں تم مبتلا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر عذاب نہیں تو کیا ہے ؟ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اہل مکہ کی ایذارسانیوں اور ان کے بار بار مطالبہ کی وجہ سے رسول محترم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ بددعا کی کہ اے رب ذوالجلال ان پر ایسا قحط نازل فرما جس طرح تو نے یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں قوم مصر پر نازل…
Read the full tafseer →مکہ والوں کے عداوتی منصوبے :
21: وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ (جب ہم لوگوں کو چکھاتے ہیں) الناس سے اہل مکہ مراد ہیں۔ رَحْمَۃً (مہربانی) خوشحالی ووسعت مِّنْم بَعْدِ ضَرَّآ ئَ مَسَّتْھُمْ (اس دکھ کے بعد جو ان کو پہنچا) ضراء یعنی قحط، بھوک اِذَا لَھُمْ مَّکْرٌ فِیْ اٰیَاتِنَا (اسی وقت وہ ہماری آیات کے متعلق تدابیر کرنے لگتے ہیں) یعنی ان آیات کے انکار اور دفع کی تدابیر کرنے لگتے ہیں روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر سات سال قحط کو مسلط کردیا یہاں تک کہ ہلاکت کے قریب پہنچ گئے پھر بارش دیکر ان پر مہربانی فرمائی۔ جب مہربانی ہوئی تو اسی وقت اللہ تعالیٰ کی آیات پر طعنہ زنی شروع کردی اور رسول…
Read the full tafseer →(21)” واذ ا اذقنا الناس “ یعنی کفار کو ” رحمۃ من م بعد ضراء “ یعنی راحت اور نرمی مصائب کے بعد اور بعض نے کہا قحط کے بعد بارش ، ” مستھم “ یعنی ان کو پہنچے ” اذا لھم مکر فی ایتنا “۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ تکذیب اور مذاق اڑانا اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق آیا ہے وہ کہتے ہیں کہ وہاں ستارے کی وجہ سے بارش آئی ہے۔” قال للہ اسرع مکرا “ جلدی عذاب دینے والا اور سخت پکڑنے والا جزاء پر مکمل با اختیار ہے۔ مراد یہ ہے کہ ان کا عذاب حق کو ٹالنے کی ان کی کوششوں سے بہت تیزی سے آئے گا ۔” ان رسلنا “ ہمارے حفاظت کرنے والے ” یکتبون ما تمکرون “۔
روح نے یعقوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
21۔ 23۔ انسان پر جب کوئی سختی ہوتی ہے اور کوئی تدبیریں نہیں آتی تو خدا کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اس سے نجات پالیتا ہے تو اسے خیال بھی نہیں رہتا کہ مجھ پر کوئی سختی گزری تھی صحیح بخاری و مسلم میں زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اور روز رات کو مینہ برسا۔ حضرت ﷺ نے اس روز صبح کی نماز کے بعد لوگوں سے کہا کہ تم جانتے ہو آج رات کو خدا نے کیا کہا لوگ کہنے لگے خدا اور خدا کا رسول جانتا ہے ہم لوگوں کو کیا خبر۔ فرمایا یہ کہا کہ صبح کو جب میرے بندے اٹھیں گے تو اکثر مومن ہوں گے اور بہتیرے کافر۔ کیوں کہ رات کو جو بارش ہوئی ہے جو اس کو یوں کہے گا کہ خدا نے اپنے فضل سے مینہ برسایا ہے…
Read the full tafseer →آیت : (21)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (واذ اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم) ” اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا ‘ ایک تکلیف کے بعد جو ان کو پہنچی تھی “ مثلاً مرض کے بعد صحت ‘ تنگ دستی کے بعد فراخی اور خوف کے بعد امن ‘ تو وہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں کیا تکلیف پہنچی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فراخی اور اس کی رحمت کا اس کا شکر ادا نہیں کرتے ‘ بلکہ وہ اپنی سازشوں اور سرکشی پر جمے رہتے ہیں۔
بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ فرمایا : (اذالھم مکر فی ایاتنا) ’‘’ اسی وقت بنانے لگیں وہ حیلے ہماری آیتوں میں “ یعنی وہ باطل میں کوشاں رہتے ہیں ‘ تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو باطل ثابت کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →38 ۔ انسان کی تنگ ظرفی کا عالم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کی تنگ ظرفی اور کوتاہ نظری کا عالم یہ ہے کہ اگر ہم ان کو چکھا دیں کوئی رحمت کسی ایسی تکلیف کے بعد جو ان کو پہنچ چکی ہوتی ہے تو یہ چھوٹتے ہی چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ہماری آیتوں کے بارے میں (من رحمۃ) من تنکیر عموم کا فائدہ دے رہی ہے یعنی کوئی بھی رحمت اور نعت ہو۔ خواہ روپیہ پیسہ اور مال ودولت کی صورت میں ہو یا عزت و اقتدار، جاہ و مرتبہ صدارت ووزارت اور سیادت و قیادت وغیرہ وغیرہ کی کسی بھی شکل میں۔ تو یہ تنگ ظرف اور مادہ پرست انسان ایسے موقع پر خوشی سے پھولا نہیں سماتا اور وہ آپے سے باہر ہوکرناچنے کو دنے اور بھنگڑا ڈالنے لگتا ہے وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
کفار کا مصیبت میں خالص اللہ کو پکارنا
تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی ایسا مشکل وقت آن پڑتا ہے جب تمام اسباب اور سہارے منقطع ہوتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت اس کی نظر اسباب سے اٹھ کر ایک اللہ پر آلگتی ہے اور وہ خالصتاً اللہ کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ مصیبت اور سختی کا وقت گزر جاتا ہے اور اسکی نظر پھر اسباب کی طرف جمنے لگ جاتی ہے وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ تعالیٰ پھر ویسی تکلیف اور سختی کا ایک اور سبب نہ کھڑا کر دے۔ مشرکین مکہ کی ایسی ہی عادت تھی جس کا اس آیت میں ذکر آیا ہے، فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ بن ابوجہل اس ڈر سے مکہ سے بھاگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21 تا 30
اسرار و معارف
کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…
Read the full tafseer →ف 4۔ انہیں جھٹلاتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔
5۔ اللہ کی چال سے مراد ہو سزا ہے جو وہ مشرکین کو ان کی مکاریوں اور چالبازیوں پر دیتا ہے اور وہ ہے اس کا انہیں ان کا باغیانہ روش پر چھوٹ دینا اور انہیں اپنے رزق اور نعمتوں سے نوازتے رہنا تاکہ وہ جی بھر کر اپنا نامہ اعمال سیاہ کرتے رہیں۔
6۔ یعنی جب تمہارا نامہ اعمال خوب سیاہ ہوجائے گا تو اچانک موت کا پیغام آجائے گا اور تم اپنے اعمال کا حساب دینے کے لئے دھر لئے جائو گے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : سختی کے وقت آدمی کی نظر اسباب سے اٹھ کر اللہ پر رہتی ہے جب کام بن گیا تو لگا اسباب پر نگاہ رکھنے۔ سو ڈرتا نہیں کہ اللہ پھر ایک اسباب کھڑا کردے۔…
Read the full tafseer →(10:21) اذقنا۔ ماضی جمع متکلم۔ اذاقۃ۔ مصدر۔ (افعال) ذوق (اجوف وادی) اذاق یذیق اذاقۃ چکھانا۔ ماضٰ بمعنی مجارع۔ ہم چکھاتے ہیں۔ اذقنا الناس رحمۃ۔ لوگوں کو رحمت سے نوازتے ہیں۔
مستھم۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان کو پہنچی۔ ان کو لاحق ہوئی۔ مس یمس (نصر) چھونا۔ پہنچنا۔ مس المرض او الکبر فلانا۔ فلاں کو بیماری یا پڑھاپا لاحق ہوا۔
مکر۔ المکر کے معنی حیلہ سے کسی شخص کو اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں۔ اگر اس چال سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو یہ محمود ہے ورنہ مذموم۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو ہمیشہ اول الذکر معنی میں آتا ہے جیسے قرآن میں آیا ہے واللہ خیر الماکرین (3:54)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 23
اذقنا (ہم نے چکھا دیا) ضرآء (ضرر، نقصان، تکلیفیں، مصیبتیں) مست (پہنچی) مکر (شرارت، مکر و فریب) اسرع (بہت جلد) یکتبون (وہ لکھتے ہیں) تمکرون (تم مکر و فریب کرتے ہو، تم شرارتیں کرتے ہو) یسیر (وہ چلاتا ہے) البر (خشکی، زمین) البحر (تری، سمندر) جرین (وہ چلتی ہیں) ریح طیب (پاک ہوا یعنی موافق ہوا) فرحوا (انہوں نے فرحت اور خوشی محسوس کی) عاصف (طوفانی ہوا ، طوفان) احیط (گھیر لیا گیا) مخلصین (خالص کرنے والے) الدین (انصاف، اعتقاد) انجیتنا (تو نے ہمیں نجات دے دی) یبغون (وہ بغاوت و نافرمانی کرتے ہیں) بغیر الحق (ناحق، جس کا ان کو حق حاصل نہ تھا متاع (سامان ، زندگی کا لطف و کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
انسان پر جب کوئی سختی ہوتی ہے اور کوئی تدبیر نہیں آتی تو خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب اس سے نجات پالیتا ہے تو اسے خیال بھی نہیں رہتا کہ مجھ پر کوئی سختی گزری تھی۔ پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے حیلے ہیں تم ان سے کہہ دو کہ اللہ کی تدبیر کے سامنے تمہارے مکر وحیلہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے فرشتے ذرہ ذرہ ان کے اعمال لکھ رہے ہیں۔ جب تک ڈھیل ہے، جب پکڑے گا تو ذرا سی بھی مہلت نہ دے گا ۔ مجرم یہ گمان کر رہے ہیں کہ خدا اب عذاب نہ کرے گا۔ یہ اس کی شان ہے کہ تم کو خشکی مین اور دریا میں چلاتا پھرتا ہے، تمہاری کشتیاں موافق ہوا پاکر منزل کی طرف جلدی جلدی جاتی دکھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
[16] لوگوں سے مراد کافر ہیں جیسا کہ سیاق سے واضح ہے۔
[17] یعنی طرح طرح کی تاویلیں اور توجیہیں کرنے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(ف 1) ایۃ سے مراد مطلوبہ معجزات ہیں ، قرآن کی آیت نہیں ۔
حل لغات :
شفعآؤنا : جمع شفیع ، سفارش کرنے والا ۔ امۃ : مشترک العقیدہ جماعت ، ہدایت شرط نہیں ، ہر گروہ جو کسی مقصد میں متحد ہو امت کہلائے گا مگر یہاں صحیح العقیدہ لوگ مراد ہیں ، کیونکہ (آیت) ” فاختلفوا “۔ کا قرینہ اس پر دلالت کر رہا ہے ۔
Read the full tafseer →21 اور جب ہم لوگوں پر کسی مصیبت اور تکلیف پہونچنے کے بعدان لوگوں کو اپنی کسی نعمت اور مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں تو اسی وقت وہ ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت اور حیلہ سازی کرنے لگتے ہیں آپ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ اس شرارت اور مکروفریب کی سزا دینے میں بہت جلدی کرنے والا ہے بلاشبہ ہمارے فرشتے تمہاری سب شرارتیں اور مکاریاں لکھتے رہتے ہیں یعنی جب کوئی تکلیف انسان کو پہونچتی ہے اور اس کے بعداللہ تعالیٰ دکھ دور کرکے کسی نعمت سے سرفراز کردیتا ہے تو انسان پھر وہی کرنے لگتا ہے جو پہلے کرتا تھا ان ہی شرارتوں میں اور آیات قدرت کے انکار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سختی کے وقت…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی اس سے اعراض کرتے ہیں اور ان کے ساتھ تکذیب و استہزاء سے پیش آتے ہیں اور براہ عناد و اعتراض دوسرے معجزات کی فرمائشیں کرتے ہیں اور مصیبت گذشتہ سے عبرت نہیں پکڑتے پس علت اعتراض ہے اور اس کی علت تنعم ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ جب اپنی رحمت کا مزہ لوگوں کو چکھاتا ہے تو وہ کٹ حجتیاں کرنے لگتے ہیں۔
۔ 34 اس آیت میں منکرین کی مریض ذہنیت کا بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کی تسکین تو آپ کے کسی معجزہ ، کسی نشان اور کسی آیت سے بھی نصیب نہیں ہوگی ، کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تسکین حاصل کرنا تو ان کے ارداہ ہی میں نہیں ہے ان کا مقصد تو محض ٹانگ اڑانا ہے آج ایک بات کریں گے اگر وہ پوری ہو گیتو کل دوسری بات پیش کریں گے کیونکہ انہوں نے کچھ نہ کچھ کہتے رہنے کی ٹھان لی ہوئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ہماری بات بڑی رہے اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے اللہ کی ذات سے کون ہے جس کی بات بڑی ہو سکے۔ یہ لوگ چھوٹی چھوٹی اور مخفی سے مخفی سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
Commentary
The word: مَک (رح) ر (makr) used in verse 21: قُلِ اللَّـهُ أَسْرَعُ مَكْرًا (Say, "Allah is more swift in making plans" ) means secret plan or move that could be good or bad. Wherever this word has become a part of the local language, care should be taken that it is not rendered as ` deception'. For instance, in Urdu, the original language of this Commentary, it means just this. It is obvious that Allah Ta` ala is free from it. (1)
(1) The English language has no such problems as the open sense of makr can be transmitted through ` plan' or ` move' (Translator)
Read the full tafseer →29. This again alludes to the famine which was referred to earlier in verses 11-12 of the present surah. The unbelievers are virtually being told that it did not behove them to ask for any miraculous sign. For, not long ago they had suffered from a famine during which they had abjured faith in those very deities whom they had earlier considered their intercessors with God. They had seen with their own eyes how their cherished deities had failed them. They had clearly seen the extent of the supernatural powers of those very deities at whose altars they made offerings and sacrifices in the firm…
Read the full tafseer →