ثبوت صداقت مانگنے والے
کہتے ہیں کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو جیسے آل ثمود کو اونٹنی ملی تھی انہیں ایسی کوئی نشانی کیوں نہیں ملی ؟ چاہیے تھا کہ یہ صفا پہاڑ کو سونا بنا دیتا یا مکہ کے پہاڑوں کو ہٹا کر یہاں کھیتیاں باغ اور نہریں بنا دیتا۔ گو اللہ کی قدرت اس سے عاجز نہیں لیکن اس کی حکمت کا تقاضا وہی جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے نبی ﷺ کے لیے باغات اور نہریں بنا دے لیکن یہ پھر بھی قیامت کے منکر ہی رہیں گے اور آخر جہنم میں جائیں گے۔ اگلوں نے بھی ایسے معجزے طلب کئے دکھائے گئے پھر بھی جھٹلایا تو عذاب اللہ آگئے آنحضرت ﷺ سے بھی یہی فرمایا گیا تھا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کے منہ مانگے معجزے دکھا دوں لیکن پھر…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 27
یعنی اس بات کی نشانی کہ یہ واقعی نبی برحق ہے اور جو کچھ پیش کر رہا ہے وہ بالکل درست ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات پیش نظر رہے کہ نشانی کے لیے ان کا یہ مطالبہ کچھ اس بنا پر نہیں تھا کہ وہ سچے دل سے دعوت حق کو قبول کرنے اور اس کے تقاضوں کے مطابق اپنے اخلاق کو، عادت کو، نظام معاشرت و تمدن کو، غرض اپنی پوری زندگی کو ڈھال لینے کے لیے تیار تھے اور بس اس وجہ سے ٹھیرے ہوئے تھے کہ نبی کی تائید میں کوئی نشانی ابھی انہوں نے ایسی نہیں دیکھی تھی جس سے انہیں اس کی نبوت کا یقین آجائے۔ اصل بات یہ تھی کہ نشانی کا یہ مطالبہ محض ایمان نہ لانے کے لیے ایک بہانے کے طور پیش کیا جاتا تھا۔ جو کچھ بھی ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
معارف و مسائل
کافر و مسلم دو قومیں الگ الگ ہیں نسلی اور وطنی قومیت لغو ہے
(آیت) كَان النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ، یعنی تمام اولاد آدم شروع میں ایک ہی امت ایک ہی قوم موحدین کی تھی، شرک و کفر کا نام نہیں تھا، پھر توحید میں اختلاف پیدا کرکے مختلف قومیں مختلف گروہ بن گئے۔
یہ زمانہ امت واحدہ اور سب کے مسلمان ہونے کا کتنا تھا اور کب تک رہا ؟ روایات حدیث و سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے زمانے تک یہی صورت تھی، نوح ؑ کے زمانے میں شرک و کفر ظاہر ہوا، حضرت نوح ؑ کو اس کا مقابلہ کرنا پڑا (تفسیر مظہری)۔
یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت آدم ؑ سے نوح ؑ تک ایک طویل زمانہ ہے دنیا میں انسانوں کی نسلیں اور آبادی…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 20 تا 27: آگے کفار کے مطالبۂ عذاب کا حوالہ دے کر اس کا جواب دیا ہے کہ یہ لوگ عذاب کی کوئی نشانی مانگتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی کوئی نشانی ان کو دکھا دی گئی تو وہ ضرور ہی ایمان لائیں گے لیکن حالت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی نشانی ظاہر ہوتی ہے تو جب تک اس کی گرفت میں ہوتے ہیں اس وقت تک تو انہیں خدا یاد آتا ہے۔ لیکن جوں ہی ذرا ڈھیل ملی تو پھر اپنی سرمستیوں میں اس طرح کھوجاتے ہیں گویا کوئی بات سرے سے پیش ہی نہیں آئی۔ ایسے لوگوں کو کوئی مزید نشانی دکھانے سے کیا حاصل ؟۔ پھر کفار کا یہ مغالطہ دور فرمایا ہے کہ آج تمہارے حالات سازگار ہیں اور ہر طرف فراغت و رفاہیت کے سروسامان…
Read the full tafseer →20۔ 1 اس سے مراد کوئی بڑا اور واضح معجزہ، جیسے قوم ثمود کے لئے اونٹنی کا ظہور ہوا ان کے لئے صفا پہاڑی سونے کا یا مکہ کے پہاڑوں کو ختم کرکے ان کی جگہ نہریں اور باغات بنانے کا یا اور اس قسم کا کوئی معجزہ صادر کرکے دکھلایا جائے۔
20۔ 2 یعنی اگر اللہ چاہے تو ان کی خواہشات کے مطابق وہ معجزے تو ظاہر کرکے دکھا سکتا ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی اگر وہ ایمان نہ لائے تو پھر اللہ کا قانون یہ ہے کہ ایسی قوم کو فوراً وہ ہلاک کردیتا ہے۔ اس لئے اس بات کا علم صرف اسی کو ہے کہ کسی قوم کے لئے اس کی خواہشات کے مطابق معجزے ظاہر کردیتا اس کے حق میں بہتر ہے یا نہیں ؟ اور اس طرح اس بات کا علم بھی صرف اسی کو ہے کہ ان کے…
Read the full tafseer →9: اس آیت میں نشانی سے مراد معجزہ ہے یوں تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات عطا فرمائے تھے، اور آپ کے امی ہونے کے باوجود قرآن کریم کا آپ کی زبان مبارک پر جاری ہونا بذات خود بہت بڑا معجزہ تھا۔ لیکن کفار مکہ آپ سے نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے جن کا کچھ بیان سورة بنی اسرائیل (93:17) ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ کافروں کے اس قسم کے ہر مطالبے کو پورا کریں، اور ہر کس و ناکس کی فرمائش پر ہر روز نئے معجزات دکھایا کریں، بالخصوص، جب یہ بات معلوم ہو کہ مطالبہ کرنے والے محض وقت گذاری اور بہانہ بازی کے لیے ایسی فرمائشیں کر رہے ہوں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو ایسی…
Read the full tafseer →ویقولون لو لا انزل علیہ ایۃ من ربہ اور (کفار مکہ) کہتے ہیں کہ اس پر (ہماری مطلوبہ آیات میں سے) کوئی آیت کیوں نازل نہیں کی گئی۔
فقل انما الغیب اللہ تو آپ کہہ دیجئے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے ‘ وہی جانتا ہے کہ مطلوبہ آیات کا نزول کیوں نہ ہوا ‘ مانع کیا ہے۔ یا الغیب سے مراد ہے مَا غَابَ عَنِ النَّاس یعنی اللہ کا امر جو لوگوں کو معلوم نہیں ‘ اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
فانتظروا پس تم منتظر رہو۔ یعنی مطلوبہ آیات کے نزول کا انتظار کرو ‘ یا ہمارے تمہارے درمیان اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو کہ ہم میں سے کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔
انی معکم من المنتظرین۔ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اور دیکھ رہا…
Read the full tafseer →4 یعنی جن نشانیوں کی وہ فرمائش کرتے تھے، ان میں سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ؟ جواب کا حاصل یہ ہے کہ صداقت کے نشان پہلے بہتیرے دیکھ چکے ہو۔ فرمائشی نشان دکھلانا ضروری نہیں نہ چنداں مفید ہے۔ آئندہ جو خدا کی مصلحت ہوگی وہ نشان دکھلائے گا۔ اس کا علم خدا ہی کو ہے کہ مستقبل میں کس شان اور نوعیت کے نشان ظاہر کرے گا۔ سو تم منتظر رہو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ " موضح القرآن " میں ہے۔ " یعنی اگر کہیں کہ ہم کا ہے سے جانیں کہ تمہاری بات سچ ہے، فرمایا کہ آگے دیکھو حق تعالیٰ اس دین کو روشن کرے گا اور مخالف ذلیل ہوں گے برباد ہوجائیں گے سو ویسا ہی ہوا۔ سچ کی نشانی ایک بار کافی ہے اور ہر بار مخالف ذلیل ہوں تو…
Read the full tafseer →آیت 20 وَیَقُوْلُوْنَ لَوْلاآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ج ”اور وہ کہتے ہیں کیوں نہ اتاری گئی کوئی نشانی معجزہ اس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس کے رب کی طرف سے ؟“
فَقُلْ اِنَّمَاالْغَیْبُ لِلّٰہِ فَانْتَظِرُوْاج اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے ‘ پس انتظار کرو ‘ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔“
اپنی اس ضد اور ہٹ دھرمی کے بعد انتظار کرو کہ مشیت ایزدی سے کب ‘ کیا شے ظہور میں آتی ہے۔
Read the full tafseer →32 کفار مکہ کا حسی معجزہ کا مطالبہ :۔ معجزہ سے مراد ایسا حسی معجزہ ہے جس کا کفار مطالبہ کر رہے تھے۔ مثلاً یہ کہ فلاں پہاڑ سونے کا بن جائے یا اس سرزمین سے کوئی چشمہ پھوٹ نکلے یا ہمارے گزرے ہوئے آباؤ اجداد زندہ ہو کر ہمارے سامنے آکر ہمیں حقیقت حال سے مطلع کریں وغیرہ وغیرہ۔ ان کا مطالبہ کچھ اس لیے نہ تھا کہ جونہی وہ معجزہ دیکھ لیں گے تو فوراً ایمان لے آئیں گے بلکہ یہ محض ایمان نہ لانے کا بہانہ تھا ورنہ وہ کئی معجزات ایسے دیکھ چکے تھے جو ایمان لانے کے لیے بہت کافی تھے مثلاً ان میں سرفہرست قرآن بذات خود ایک ایسا معجزہ تھا۔ ان کافروں کے مطالبہ معجزہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان سے…
Read the full tafseer →35۔ (ہمارے فرمایشی نشانوں اور معجزات میں سے) پیغمبر کی زندگی تو سر تا پا معجزہ ہی ہوتی ہے اس کی ایک ایک بات سے خدائی روح ٹپکتی رہتی اور قدم قدم پر اس کے اور عام مخلوق کے درمیان فرق نمایاں رہتا ہے۔ ع روئے وآواز پیغمبر معجزہ ست : لیکن یہ سب صرف اہل بصیرت کے لیے ہے۔ باقی معاندین، جہلاء ہر زمانہ میں مخصوص فرمایشیں کر کر کے فلاں فلاں متعین مادی معجزات کی طلب کرتے رہے ہیں، فلاں پہاڑ سونے کا ہوجائے، فلاں فلاں کھانوں کا خوان آسمان سے نازل ہوجائے، آسمان کا ٹکڑا ٹوٹ کر زمین پر گر پڑے۔ وقس علی ھذا۔ چناچہ یہاں بھی ایۃ سے مراد اسی قسم کے متعین فرمایشی معجزات ہیں۔ اے من الایات التی اقترحوھا (بیضاوی) (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…
Read the full tafseer →ویقولون لو لا انزل علیہ ایۃ من ربہ اور (کفار مکہ) کہتے ہیں کہ اس پر (ہماری مطلوبہ آیات میں سے) کوئی آیت کیوں نازل نہیں کی گئی۔
فقل انما الغیب اللہ تو آپ کہہ دیجئے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے ‘ وہی جانتا ہے کہ مطلوبہ آیات کا نزول کیوں نہ ہوا ‘ مانع کیا ہے۔ یا الغیب سے مراد ہے مَا غَابَ عَنِ النَّاس یعنی اللہ کا امر جو لوگوں کو معلوم نہیں ‘ اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
فانتظروا پس تم منتظر رہو۔ یعنی مطلوبہ آیات کے نزول کا انتظار کرو ‘ یا ہمارے تمہارے درمیان اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو کہ ہم میں سے کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔
انی معکم من المنتظرین۔ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اور دیکھ رہا…
Read the full tafseer →(20) اور یہ کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں ہوا جیسا کہ یہ نبوت کا دعوی کرتے ہیں آپ ﷺ فرما دیجیے نزول معجزہ کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے تم بھی میرے ہلاک ہونے کا انتظار کرو، میں بھی تمہاری ہلاکت کا انتظار کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُوْنَ لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ : مثلاً یہ مکہ کے سب پہاڑ سونے کے کردیتا، ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا، یا کوئی فرشتہ اتار دیتا جو ہمارے ساتھ بازاروں اور گلی کوچوں میں چل پھر کر اعلان کرتا کہ واقعی محمد ﷺ کو اللہ ہی نے اپنا پیغمبر بنا کر دنیا میں بھیجا ہے۔ سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) میں ان کی معجزوں کی کئی فرمائشیں ذکر ہوئی ہیں۔
فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ کے سوا کوئی غیب کی بات نہیں جانتا، لہٰذا مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس قسم کی کوئی نشانی اتارے گا کہ نہیں اور اگر اتارے گا تو کب اتارے گا۔ نشانی اتارنا یا نہ اتارنا اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 20۔
مراد ہل مکہ ہیں، یعنی کیوں نہ نازل کی گئی ان پر کوئی آیت یعنی معجزہ جو اس معجزہ کے سوا ہوتا کہ وہ ہمارے پہاڑوں کو سونا بنا دے اور اس کے لیے انتہائی خوبصورت (سونے کا) گھر ہو اور ہمارے لیے انہیں زندہ کرے جو ہمارے آباء و اجداد میں سے مر چکے ہیں، اور ضحاک (رح) نے کہا ہے : مراد عصا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا تھا (یعنی ایسا معجزہ کیوں نہ نازل کیا گیا) (آیت) ” فقل انما الغیب للہ “۔ یعنی آپ فرما دیجئے اے محمد ﷺ بیشک آیت کا نازل ہونا غیب ہے، (آیت) ” فانتظروا “۔ پس تم انتظار کرو۔ (آیت) ” انی معکم من المنتظرین “۔ بیشک میں بھی اس کے نازل ہونے کا تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فانتظروا انی معکم من المنتظرین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کو اپنے عذاب اور سزا سے خوف دلایا۔
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ کہتے ہیں ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [اتاری گئی ] عَلَيْهِ [ ان پر ] اٰيَةٌ [ کوئی نشانی ] مِّنْ رَّبِّهٖ ۚ [ ان کے رب (کی طرف) سے ] فَقُلْ [ تو آپ کہیں ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْغَيْبُ [ غیب تو ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لیے ہے ] فَانْتَظِرُوْا ۚ [ پس تم لوگ انتظار کرو ] اِنِّىْ [ بیشک میں (بھی) ] مَعَكُمْ [تمہارے ساتھ ] مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ [ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَیَقُوْلُوْنَ لَوْ لَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ) ( اور وہ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نازل نہ ہوئی) یعنی ہم جو معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کا ظہور کیوں نہیں ہوا ؟ چونکہ ایمان لانا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے ایسی باتیں کرتے تھے ‘ طالب حق کے لئے ایک ہی معجزہ کافی ہے۔
معجزے بہت دیکھے لیکن فرمائشی معجزہ چاہتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں ہے جو لوگوں کی مرضی کے مطابق معجزے ظاہر فرمائے ‘ پھر یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ سابقہ امتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ رہا ہے کہ فرمائشی معجزہ ظاہر ہونے پر ایمان نہ لائے تو ہلاک کر دئیے گئے۔ لہٰذا فرمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
رسالت محمدیہ کے متعلق مشرکین کے ایک معاندانہ سوال کا جواب
قال اللہ تعالی۔ ویقولون لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکتبون ما تمکرون
(ربط): اس آیت میں منکرین نبوت کے چوتھے شبہ کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب تک آپ ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نہ دکھائیں گے اس وقت تک ہم آپ کی نبوت کو نہ مانیں گے حالانکہ قرآن خود ایک معجزہ تھا جسے وہ دیکھ چکے تھے تو اس کے بعد یہ کہنا کہ فلاں قسم کا معجزہ دکھلاؤ گے تو ایمان لائیں گے۔ یہ خود اس کے معاند اور ضدی ہونے کی دلیل ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا جواب دیا حاصل جواب یہ ہے کہ میری نبوت کے دلائل اور…
Read the full tafseer →35: یہ شکویٰ ہے۔ “ اٰیةً ” یعنی ان کا منہ مانگا معجزہ۔ مشرکین اگرچہ بڑے بڑے معجزے دیکھ چکے اور توحید کے واضح دلائل وبراہین سن چکے تھے مگر ضد وعناد اور انتہائی سرکشی کی بناء پر ان میں غور وفکر نہ کیا اور مزید معجزہ لانے کا مطالبہ کردیا۔ “ ارادو اٰیة من الایات التی اقترحوھا کانھم لفرط العتو والفساد ونھایة التمادی فی المکابرة والعناد لم یعدوا البینات النازلة علیه علیه السلام من جنس الایت واقترحوا غیرھا مع انه قد انزل علیه من الایت الباھرة و المعجزات المتکاثرة الخ ” (ابو السعود ج 4 ص 808) ۔ مشرکین کہتے مکہ کے پہاڑوں کو ہمارے لیے سونا بنا دو یا کم از کم تمہارا گھر ہی سونے کا ہو یا ہمارے فلاں فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ربط آیات۔
اس سورة کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا ، مشرک لوگ اس قرآن کو ماننے کے لیے اس لیے تیار نہ تھے کہ اس میں ان کے عقائد کی تردید تھے کہتے تھے اس میں ہمارے معبودوں کی توہین کی گئی ہے ، لہٰذا آپ کوئی دوسرا قرآن لے آئیں یا اسی میں ہماری مرضی کے مطابق ترمیم کردیں تو ہم ماننے کے لیے تیار ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا کہ کتاب اللہ میں تغیر وتبدل کرنا میرے اختیار میں نہیں میں تو صرف وحی الٰہی کی پیروی کرتا ہوں۔ اگر میں اس میں تبدیلی کی کوشش کروں تو بڑے دن کے عذاب میں پھنس جائوں گا۔ ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ خود کسی حکم کو اٹھادے اور اس…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُوْنَ لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْہِ اٰيَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ 0 ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلہِ فَانْتَظِرُوْا 0 ۚ اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ 20 ۧ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
3 ؎ چناچہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے جب بوقت صلیب یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تو نہ دکھایا جیسا کہ انجیل متی کے 28 باب میں ہے پھر پادری صاحب اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے معجزات کا انکار کیوں کرتے ہیں۔ 12 منہ
4 ؎ اخیر نتیجہ کا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَیَقُوْلُوْنَ لَوْلَآاُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ج فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰہِ فَانْتَظِرُوْا ج اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْن۔ (یونس : 20)
(اور وہ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی تو آپ کہہ دیجیے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے۔ تو تم لوگ انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ )
اللہ کے نبیوں کی تاریخ یہ ہے کہ انھیں جس عظیم منصب یعنی انسانوں کی ہدایت پر مامور کیا جاتا ہے وہ اس کی ادائیگی کے لیے ہمت سے بڑھ کر جان لڑاتے ہیں۔ زبان کی پوری قوت، ذہن کی تمام تر رعنائی اور قلب کا سارا سوز و گداز اس راستے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی وحدت بیان فرما کر ثابت کیا گیا ہے کہ شرک سے پہلے لوگ توحید پر قائم تھے اور توحید ہی لوگوں کے درمیان اتحاد کے ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرتاً توحید پر پیدا فرمایا ہے۔ یہ فطرت کی آواز اور اس کا تقاضا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر اس کی پشت سے اس کی تمام اولاد کو پیدا کیا اور ان سے۔ ( اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تمام بنی آدم نے توحید کا اقرار اور اس کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ کیوں نہیں، آپ ہی ہمارے رب ہیں فرمایا اس پر گواہ رہنا۔ قیامت کو یہ نہ کہنے پاؤ کہ ہمیں تو اس عہد کا علم ہی نہیں…
Read the full tafseer →مُنہ مانگی نشانی کا مطالبہ :
20: وَیَقُوْلُوْنَ لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰ یَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ (اور یہ اس طرح کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں اترا) آیت سے وہ نشانی مراد ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے۔ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰہِ (کہہ دیں کہ بیشک غیب کی خبر تو اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات علم غیب کے ساتھ خاص ہے وہی جانتا ہے کہ مطلوبہ آیات سے کونسی چیز رکاوٹ ہے اور کوئی نہیں جانتا۔ فَانْتَظِرُوْا (تم بھی انتظار کرو) اس تجویز شدہ نشانی کے اترنے کا۔ اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ (میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں) جو اللہ…
Read the full tafseer →(20)” ویقولون “ یعنی مکہ والے ” لو لا انز ل علیہ “ یعنی محمد ﷺ پر ” ایۃ من ربہ “ جس کا ہم مطالبہ کرتے ہیں ۔” فقل انما الغیب للہ “ یعنی آپ (علیہ السلام) فرما دیں کہ تم نے مجھ سے غیب کی بات کا سوال کیا ہے اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہے، کوئی اور نہیں جانتا اور بعض نے کہا غیب سے مراد آیتوں کا نازل ہونا ہے کہ وہ کب نازل ہوں گی اس کو کوئی نہیں جانتا ۔ ” فانتظروا “ ان کے نازل ہونے کا ” انی معکم من المنتظرین “ اور بعض نے کہا کہ تم اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو جو ہمارے درمیان حق کو باطل پر ظاہر کر کے کرے گا ۔
Read the full tafseer →20۔ کفار مکہ حضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے ہم کس طرح جانیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے رسول ہیں کوئی نشانی دکھلائیے حالانکہ وہ لوگ بڑے بڑے معجزے آپ کے دیکھ چکے تھے شق القمر کا معجزہ ایسا عجیب و غریب تھا جس کا جواب نہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک آدھا پہاڑ کہ اس طرف ہوگیا اور بہت دیر تک اسی حالت پر رہا چناچہ اس باب میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے اس کے علاوہ اور بہت سے معجزے آپ سے صادر ہوئے اور یہ قرآن کیا کم معجزہ تھا کہ عرب کے بڑے بڑے عالم اور زبان کے جاننے والے ایک آیت بھی اس کے مثل نہ بناسکے وہ تو یہ کہتے تھے کہ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کردیتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت : (19-20)
(وما کان الناس الا امۃ واحد) ” اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت “ یعنی تمام لوگ صحیح دین پر متفق تھے ‘ پھر ان میں اختلاف واقع ہوگیا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے جو خوشخبری سنانے والے اور برے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ‘ تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بارے میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (ولو لا کلمۃ سبقت من ربک) ” اور ار نہ ہوتی ایک بات جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے طے ہوچکی ہے “ کہ نافرمانوں کو مہلت دینی ہے اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کا فوری مواخذہ نہیں کرنا۔ (لقضی بینھم) ” تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا ہے “ بایں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
36 کفار کی طرف سے فرمائشی معجزے کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاردی گئی ان کے رب کی طرف سے یعنی ان کی اقتراح و فرمائش کے مطابق۔ ورنہ مطلق نشانیاں تو آپ کو بیشمار عطا فرمادی گئی تھیں۔ اور اتنی کہ کسی اور کو نہیں عطا فرمائی گئیں۔ اور آپ کا سب سے بڑا معجزہ تو قرآن حکیم کا یہ معجزہ خالدہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ مگر ان ضدی و عنادی ہٹ دھرم کافروں کی خاص فرمائشیں تھیں کہ یہ اور یہ نشانیاں ہمیں دکھاؤ۔ مثلا " ناقہ صالح " " عصائے موسیٰ " اور یہ کہ کوہ صفاکوسونے کا پہاڑ بنادیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ (جامع البیان، محاسن التاویل، قرطبی، بیضاوی وغٰیرہ وغیرہ) سو یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فوری سزا نہ دینے کی حکمت
تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ایک اور پہلو ظاہر کیا گیا ہے ، یعنی شروع میں انسان ایک ہی ملت ، ایک ہی مذہب اور ایک ہی والدین کی اولاد تھے۔ پھر انکی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی اور وہ اپنی ایک علیحدہ پہچان کے لیے گھر، خاندان، قبیلہ، محلہ، شہر اور پھر ملک میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔ اور آہستہ آہستہ توحید کا وہ سبق جو ان کو ان کے والدین حضرت آدم و حضرت حوا (علیہما السلام) کی طرف سے دیا گیا تھا اور اللہ کی طرف سے دل و دماغ میں ڈال دیا گیا تھا۔ ماحول، تربیت اور سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے تبدیل ہونا شروع ہوگیا۔ جیسا کہ ارسطو نے انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
” انسان پیدائشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار و معارف
انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…
Read the full tafseer →ف 2۔ مثلاً مکہ کے پہاڑ سونے کے کردیتا یا ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا یا کوئی فرشتہ اتار دیتا جو ہمارے ساتھ بازاروں کا اور گلی کوچوں میں چل پھر کر اعلان کرتا کہ واقعی محمد (ﷺ) کو اللہ ہی نے اپنا پیغمبر بنا کر دنیا میں بھیجا ہے۔
3۔ یعنی اس کے سوا کوئی غیب کی بات نہیں جانتا۔ لہٰذا مجھے معلوم نہیں کہ وہ اس قسم کی کوئی نشانی اتارے گا کہ نہیں۔ اور اگر اتارے گا تو کب اتارے گا۔ نشانی اتارنا یا نہ اتارنا اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ اگر تم سمجھے ہو کہ وہ نشانی اتارے گا تب تم ایمان لائو گے تو بیٹھے انتظار کرتے رہو میں بھی دیکھوں گا کہ تمہارا یہ مطالبہ پورا ہوتا ہے یا نہیں ؟۔
Read the full tafseer →(10:20) لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ۔ (کیوں نہ نازل کی گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی جانب سے۔ کفار کا ابتداء سے یہ طریق رہا ہے کہ جو نشان نازل ہوچکے ہیں ان کو تو مانتے نہیں ۔ اور یہ رٹ لگائے رہتے ہیں کہ کوئی نشان کیوں نہیں نازل ہوا۔ نشان سے اصل مقصد ان کا اپنا مطلوبہ نشان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 20
امۃ (جماعت، گروہ) سبقت (گزر گئی، طے کردی گئی) قضی (فیصلہ کردیا گیا ہے) آیۃ (نشانی، معجزہ) الغیب (بن دیکھی حقیقتیں ) انتظروا (تم انتظار کرو)
تشریح : آیت نمبر 19 تا 20
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں :-
1) ابتداء میں سارے انسان ایک ہی امت تھے۔ یعنی ان میں نہ تو فرمانی اور شرک و کفر کے جذبات تھے اور نہ وہ زبان رنگ و نسل، قوم اور قبیلہ میں تقسیم تھے بلکہ ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ بعد میں شیاطن کے بہکانے سے ان میں عقیدہ اور فکر و ذہن کے اختلاف پیدا ہوگئے اور وہ مختلف قومیتوں میں تقسیم ہوگئے۔ اس طرح ایک امت کا وہ تصور دھندلاتا چلا گیا جس کے…
Read the full tafseer →کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کہ کہتے تھے : ” ہم کسی طرح جانیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے رسول ہیں کوئی نشانی دکھائیے “۔ حالانکہ وہ لوگ بڑے بڑے معجزے آپ کے دیکھ چکے تھے۔ شق القمر کے معجزے کے علاوہ بہت سے معجزے آپ سے صادر ہوئے اور یہ قرآن کیا کم معجزہ تھا وہ تو یہ کہتے تھے : ” صفا پہاڑ کو سونا بنادیجئے “ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کہہ دو غیب کا علم نہ مجھ کو ہے نہ تم کو، بلکہ کسی مخلوق کو نہیں، خدا ہی جانتا ہے۔ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں، کیونکہ اللہ پاک تو بڑا علیم اور حکیم ہے۔ اس کی ہمشہ یہی عادت رہی ہے کہ جب کسی قوم نے اپنے رسول سے کسی بات کو کہا اور رسول نے خدا کے حکم سے اس…
Read the full tafseer →[15] یعنی محمد ﷺ پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(ف 1) ایۃ سے مراد مطلوبہ معجزات ہیں ، قرآن کی آیت نہیں ۔
حل لغات :
شفعآؤنا : جمع شفیع ، سفارش کرنے والا ۔ امۃ : مشترک العقیدہ جماعت ، ہدایت شرط نہیں ، ہر گروہ جو کسی مقصد میں متحد ہو امت کہلائے گا مگر یہاں صحیح العقیدہ لوگ مراد ہیں ، کیونکہ (آیت) ” فاختلفوا “۔ کا قرینہ اس پر دلالت کر رہا ہے ۔
Read the full tafseer →20 اور یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر ہماری حسب منشاء اور ہمارا منہ مانگا کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا تو آپ فرما دیجئے کہ غیب کی خبر تو بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے لہٰذا تم بھی منتظر ہو اور بعد میں تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں ۔ یوں تو بیشمار معجزات پیغمبر سے ظہور میں آئے لیکن فرمائشی معجزہ نہیں دکھایا گیا اگر فرمائشی معجزے کے بعد بھی کوئی قوم ایمان نہ لائے تو اس کا بالکل استیصال کردیاجاتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر کہیں کہ ہم کیوں کر جانیں کہ تمہاری بات سچ ہے فرمایا کہ آگے دیکھو حق تعالیٰ اس دین کو روشن کرے گا اور مخالف ذلیل ہوں گے برباد ہوجائیں گے سو ایسا ہی ہوا سچ…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی محمد ﷺ پر۔
5۔ خلاصہ یہ کہ ان امور کو منصب رسالت یا اس کے لوازم سے کوئی تعلق نہیں میں نہیں جانتا نہ مجھ کو کوئی دخل۔ اصل مقصود کے اثبات کے لیے البتہ ہر وقت آمادہ ہوں اور ثابت بھی کرچکا ہوں۔
Read the full tafseer →مشرکین کا یہ اعتراض کہ ایسا کیوں نہیں کہ پیغمبر پر کوئی نشانی اترتی
۔ 32 پیغمبر کیا ہوتا ہے ؟ مکمل اور کامل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لئے ایک معجزہ اور بہت بڑا نشان۔ جس کے مقابلے کا اور کوئی نشان اس وقت موجود نہیں ہوتا۔ پھر وہ کیوں کہتے کہ ” اگر یہ پیغمبر ہوتا تو اس پر کوئی نشانی اتری ؟ “ اسمیں کوئی بات اچنبھے کی نہیں اس لئے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارا اپنا وجود تو ہر وقت موجود ہے اور اس ہمارے اپنے وجود سے بڑا کوئی اور معجزہ نہیں ہو سکتا پھر کیا ہم اس کو معجزہ مانتے ہیں ؟ ہمارا وجود کیسے معجزہ ہے ؟ ہم اپنے وجود جیسا کوئی دوسرا انسان نہیں پیدا کرسکتے اور ساری دنیا مل کر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
Commentary
Disbelievers and Believers are two separate nationalities: Nationality based on race and country is absurd
The statement: كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً (And people were but one community) in verse 19 means that the progeny of Sayyidna Adam (علیہ السلام) was essentially a single community of monotheists in the earlier stages of man's presence in the world. Shirk and Kufr were unknown as such. Then came up difference in the principle of pure monotheism that divided human beings in different nations and groups of people.
How long this period of a single community of…
Read the full tafseer →27. The word 'sign' in the verse refers to the proof which supports a person's claim that he is a true Prophet and that his teaching is truly from God. In this connection it ought to be remembered that the demand of the unbelievers that the Prophet (peace be on him) should bring forth some sign to support his claim to be a Prophet was not made with sincerity, Their position was not that of a group of sincere people who were otherwise keen to accept the truth as soon as it became apparent to them, and who were ready to mould their own conduct, habits and social life according to its…
Read the full tafseer →