Yunus 10:19

Yunus · from ayah 19

10:19

وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا ؕ— وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ۟وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخۡتَلَفُوۡا‌ ؕ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ لَـقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ فِيۡمَا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ

اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے۔ اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And mankind was not but one community [united in religion], but [then] they differed. And if not for a word that preceded from your Lord, it would have been judged between them [immediately] concerning that over which they differ.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 2 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:19

ابتداءً سارے انسان ایک ہی امّت تھے، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر لی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا جاتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے۔ اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تمام لوگ ایک ہی امت کے تھے پھر انہوں نے اختلاف پیداکرلیا اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کررہے ہیں ان کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہوتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (شروع میں) تمام انسان کسی اور دین کے نہیں، صرف ایک ہی دین کے قائل تھے، پھر بعد میں وہ آپس میں اختلاف کرکے الگ الگ ہوئے۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو جس معاملے میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں، اس کا فیصلہ (دنیا ہی میں) کردیا جاتا ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوئے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو یہیں ان کے اختلافوں کا ان پر فیصلہ ہوگیا ہوتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور سارے لوگ (ابتداء) میں ایک ہی جماعت تھے پھر(باہم اختلاف کر کے) جدا جدا ہو گئے، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی (کہ عذاب میں جلد بازی نہیں ہوگی) تو ان کے درمیان ان باتوں کے بارے میں فیصلہ کیا جا چکا ہوتا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت، پھر وہ جدا جدا ہوگئے اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے طے ہوچکی تو ان کے درمیان اس بات کے بارے میں ضرور فیصلہ کردیا جاتا جس میں وہ اختلاف کرر ہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ابتداًء لوگ ایک ہی امت تھے پھر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی تو جس بات میں وہ اختلاف کر رہے تھے ان کے درمیان اس کا فیصلہ ہوچکا ہوتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور لوگ تو ایک ہی امت تھی پھر انہوں نے اختلاف کیا اور اگر تمہارے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ پاچکی ہوتی تو ان کے درمیان اس امر میں فیصلہ کردیا جاتا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور لوگ سب کے سب (شروع میں) ایک ہی طریقے پر تھے (یعنی عقیدہ توحید پر) پھر وہ (مختلف اغراض و مقاصد کی بناء پر) اختلاف میں پڑگئے، اور اگر ایک بات طے نہ ہوچکی ہوتی تمہارے رب کی طرف سے تو یقیناً ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا ان تمام باتوں کا جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور انسان تو ایک ہی طریقہ پر تھے۔ پھر انہوں نے اختلاف کیا اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے نہ ٹھیرچ کی ہوتی تو ان کے درمیان اس باب میں جس میں یہ اختلاف کررہے ہیں فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت پھر (بعد میں) انہوں نے اختلاف کیا۔ اور اگر ایک بات تیرے رب کی طرف سے پہلے سے طے نہ پا چکی ہوتی تو فیصلہ کردیا جاتا ان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور سب لوگ پہلے ایک ہی امت تھے پھر جدا جدا ہوگئے اور اگر ایک بات جو تمہارے رب کی طرف سے طے ہوچکی ہے، نہ ہوتی، تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Once all men were but a single community; then they disagreed (and formulated different beliefs and rites). Had it not been that your Lord had already so ordained, a decisive judgement would have been made regarding their disagreements.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

All the people were no more than a single community; later, they differed. But for a word from your Lord that had already come to pass, a decisive judgment would have been made about their mutual differences.

— Muhammad Taqi Usmani

All the people were no more than a single community; later, they differed. But for a word from your Lord that had already come to pass, a decisive judgment would have been made about their mutual differences.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Mankind were but one community, then they differed (later); and had not it been for a Word that went forth before from your Lord, it would have been settled between them regarding what they differed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Mankind were but one community; then they differed; and had it not been for a word that had already gone forth from thy Lord it had been judged between them in respect of that wherein they differ.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And mankind was not but one community [united in religion], but [then] they differed. And if not for a word that preceded from your Lord, it would have been judged between them [immediately] concerning that over which they differ.

— Saheeh International

All people (once) followed one belief. Then they began to follow different beliefs. Had not a word of your Lord (His decision to give every one time and free will) been decreed, God would already have settled their differences.

— Muhammad Sarwar

And people are naught but a single nation, so they disagree; and had not a word already gone forth from your Lord, the matter would have certainly been decided between them in respect of that concerning which they disagree.

— Muhammad Habib Shakir

And mankind were not but a single ccmmunity then they differed. And had not a word from thy Lord gone forth, it would have been decreed between them in respect of that wherein they differ.

— Abdul Majid Daryabadi

Mankind was but one nation, but differed (later). Had it not been for a word that went forth before from thy Lord, their differences would have been settled between them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–19

شرک کے آغاز کی روداد مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے۔ سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت نوح ؑ تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 25 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 230، الانعام، حاشیہ نمرب 24۔ سورة یُوْنُس 26 یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فیصلہ نہ کرلیا ہوتا کہ حقیقت کو انسانوں کے حواس سے پوشیدہ رکھ کر ان کی عقل و فہم اور ضمیر و وجدان کو آزمائش میں ڈالا جائے گا، اور جو اس آزمائش میں ناکام ہو کر غلط راہ پر جانا چاہیں گے انہیں اس راہ پر جانے اور چلنے کا موقع دیا جائے گا، تو حقیقت کو آج ہی بےنقاب کر کے سارے اختلافات کا فیصلہ کیا جاسکتا تھا۔ یہاں یہ بات ایک بڑی غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے بیان کی گئی ہے۔ عام طور پر آج بھی لوگ اس الجھن میں ہیں اور نزول قرآن کے وقت بھی تھے کہ دنیا میں بہت سے مذہب پائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–20

معارف و مسائل کافر و مسلم دو قومیں الگ الگ ہیں نسلی اور وطنی قومیت لغو ہے (آیت) كَان النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ، یعنی تمام اولاد آدم شروع میں ایک ہی امت ایک ہی قوم موحدین کی تھی، شرک و کفر کا نام نہیں تھا، پھر توحید میں اختلاف پیدا کرکے مختلف قومیں مختلف گروہ بن گئے۔ یہ زمانہ امت واحدہ اور سب کے مسلمان ہونے کا کتنا تھا اور کب تک رہا ؟ روایات حدیث و سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے زمانے تک یہی صورت تھی، نوح ؑ کے زمانے میں شرک و کفر ظاہر ہوا، حضرت نوح ؑ کو اس کا مقابلہ کرنا پڑا (تفسیر مظہری)۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت آدم ؑ سے نوح ؑ تک ایک طویل زمانہ ہے دنیا میں انسانوں کی نسلیں اور آبادی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 18–19

18۔ 19:۔ وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ۭ قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَھُمْ فِيْمَا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۔ مشرکین مکہ کی اصلی چڑ : وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔ الایہ۔ یہ اس خاص چیز کا حوالہ بھی ہے جس کے سبب سے مشرکین مکہ قرآن سے چڑتے اور اس میں ترمیم کا مطالبہ کرتے تھے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 یعنی یہ شرک، لوگوں کی اپنی ایجاد ہے ورنہ پہلے پہل اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ تمام لوگ ایک ہی دین اور ایک ہی طریقہ پر تھے اور وہ اسلام ہے جس میں توحید کی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ حضرت نوح ؑ تک لوگ اسی توحید پر قائم رہے پھر ان میں اختلاف ہوگیا اور کچھ لوگوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی معبود، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا شروع کردیا۔ 19۔ 2 یعنی اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا کہ، تمام حجت سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتا، اس طرح اس نے مخلوق کے لئے ایک وقت کا تعین نہ کیا ہوتا تو یقینا وہ ان کے مابین اختلافات کا فیصلہ اور مومنوں کو سعادت مند اور کافروں کو عذاب میں مبتلا کرچکا ہوتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: مطلب یہ ہے کہ جب پہلے پہل حضرت آدم ؑ دنیا میں تشریف لائے تو تمام انسان توحید ہی کے دین برحق پر چلتے تھے۔ بعد میں کچھ لوگوں نے الگ الگ مذہب ایجاد کرلیے۔ اللہ تعالیٰ یہیں دنیا میں ان کے اختلافات کا فیصلہ کرسکتا تھا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پہلے ہی یہ طے فرمایا ہوا تھا کہ دنیا انسانوں کے امتحان کے لیے پیدا کی جائے گی، اور ہر شخص کو یہ موقع دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر بھیجے جائیں گے جو لوگوں کو دنیا میں آنے کا مقصد بتائی، اور دین برحق کو واضح دلائل سے بیان کردیں، پھر وہ اپنی آزاد مرضی سے جو راستہ چاہیں اختیار کریں، اور آخرت میں فیصلہ کیا جائے کہ کس کا راستہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وما کان الناس الا امۃ واحدۃ اور نہیں تھے لوگ مگر ایک گروہ۔ یعنی سب موحد تھے ‘ فطرت پر تھے یا اسلام پر تھے مطلب یہ کہ حضرت آدم کے زمانہ سے حضرت نوح کی بعثت سے کچھ پہلے تک یا طوفان کے بعد یا حضرت ابراہیم کے عہد سے عمرو بن لحی کے زمانہ تک سب لوگ توحید پر تھے۔ یا ایک امت سے مراد ہے گمراہی پر سب کا اتفاق۔ مطلب یہ کہ زمانۂ فترۃ (انقطاع رسالت) میں سب لوگ گمراہ تھے۔ فاختلفوا پس ان میں (نفس پرستی اور خواہشات کی پیروی کی وجہ سے) اختلاف ہوگیا (ان کے فرقے بن گئے) یا پیغمبروں کی بعثت کی وجہ سے گمراہ جماعت میں پھوٹ پڑگئی۔ ایک گروہ پیغمبر وں کا متبع اور دوسرا گروہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والا۔ ولولا کلمۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 ممکن تھا مشرکین کہتے کہ خدا نے تمہارے دین میں منع کیا ہوگا ہمارے دین میں منع نہیں کیا۔ اس کا جواب دے دیا کہ اللہ کا دین ہمیشہ سے ایک ہے۔ اعتقادات حقّہ میں کوئی فرق نہیں۔ درمیان میں جب لوگ بہک کر جدا جدا ہوگئے۔ خدا نے ان کے سمجھانے اور دین حق پر لانے کو انبیاء بھیجے۔ کسی زمانہ اور کسی ملت میں خدا نے شرک کو جائز نہیں رکھا باقی لوگوں کے باہمی اختلافات کو زبردستی اس لیے نہیں مٹایا گیا کہ پہلے سے خدا کے علم میں یہ بات طے شدہ تھی کہ یہ دنیا دار عمل (موقع واردات) ہے۔ قطعی اور آخری فیصلہ کی جگہ نہیں۔ یہاں انسانوں کو کسب و اختیار دے کر قدرے آزاد چھوڑا گیا ہے کہ وہ جو راہ عمل چاہیں اختیار کریں۔ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 وَمَا کَان النَّاس الآَّ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا ط ”اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت ‘ پھر بعد میں انہوں نے اختلاف کیا۔“ یہ مضمون سورة البقرۃ میں بھی گزر چکا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے انسانوں کی نسل چلی ہے ‘ چناچہ جس طرح تمام انسان نسلاً ایک تھے اسی طرح نظریاتی طور پر بھی وہ سب ایک ہی امت تھے۔ بنی نوع انسان کے مابین تمام نظریاتی اختلافات بعد کی پیداوار ہیں۔ وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ ”اور اگر ایک بات تیرے رب کی طرف سے پہلے سے طے نہ پا چکی ہوتی“ اللہ تعالیٰ نے ہر فرد اور ہر قوم کے لیے ایک اجل مقرر فر ما دی ہے۔ اسی طرح پوری کائنات کی اجل بھی طے شدہ ہے۔ اگر یہ سب…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 یعنی سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بعد کافی مدت لوگ ایک ہی دین پر رہے پھر اختلاف کرکے فرقے بن گئے ان میں سے کچھ لوگ تو سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات تسلیم کرنے کے بعد ان کے پجاری بن گئے اور کچھ لوگوں نے اپنے بزرگوں کے مجسمے بنائے اور ان کی عبادت کرنے لگے اور توحید کی سیدھی راہ کو چھوڑ کر شرک کی راہوں پر جا پڑے۔ 31 پہلے سے طے شدہ کلمہ کیا ہے ؟ وہ طے شدہ بات یہ تھی کہ چونکہ یہ دنیا دارالعمل اور دارالامتحان ہے اس لیے کسی کو بھی اس کے جرم کی پاداش میں فوری طور پر سزا نہیں دی جائے گی اگر یہ بات پہلے سے مشیت الٰہی میں نہ ہوتی تو جب کچھ لوگ کوئی نیا فرقہ بناتے تو اللہ کا عذاب انہیں فوراً تباہ و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ یعنی عذاب موعود جو عملی فیصلہ ہے اسی دنیا میں نازل ہوگیا ہوتا۔ (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک “۔ کلمۃ سے مراد یہ وعدہ یا حکم ہے کہ پورے عذاب کے لیے انہیں مہلت آخرت تک کی ملے گی۔ اشارۃ الی القضاء والقدر اے لولا ما سبق فی حکمہ (قرطبی) الکلمۃ ھنا ھو القضاء والتقدیر لبنی ادم بالاجال الموقتۃ (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان الناس الا امۃ واحدۃ اور نہیں تھے لوگ مگر ایک گروہ۔ یعنی سب موحد تھے ‘ فطرت پر تھے یا اسلام پر تھے مطلب یہ کہ حضرت آدم کے زمانہ سے حضرت نوح کی بعثت سے کچھ پہلے تک یا طوفان کے بعد یا حضرت ابراہیم کے عہد سے عمرو بن لحی کے زمانہ تک سب لوگ توحید پر تھے۔ یا ایک امت سے مراد ہے گمراہی پر سب کا اتفاق۔ مطلب یہ کہ زمانۂ فترۃ (انقطاع رسالت) میں سب لوگ گمراہ تھے۔ فاختلفوا پس ان میں (نفس پرستی اور خواہشات کی پیروی کی وجہ سے) اختلاف ہوگیا (ان کے فرقے بن گئے) یا پیغمبروں کی بعثت کی وجہ سے گمراہ جماعت میں پھوٹ پڑگئی۔ ایک گروہ پیغمبروں کا متبع اور دوسرا گروہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والا۔ ولولا کلمۃ سبقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(19) حضرت ابراہیم ؑ یا حضرت نوح ؑ کے زمانہ میں سب لوگ ایک ہی ملت پر تھے (یعنی سب موحد تھے) یا یہ کہ ملت کفر پر تھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو بھیجا جو کہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں تو اپنے کجرا ہی سے بعض مومن ہوگئے اور بعض مشرک اور اگر اس امت سے تاخیر عذاب نہ ہوتا جو کہ پہلے سے ٹھہر چکا ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کررہے ہیں یہ ہلاک اور برباد ہوچکے ہوتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَان النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا : اس زمانے کے ملحد فلسفیوں اور تاریخ سازوں کے برعکس قرآن بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کی ابتدا کفر یا شرک سے نہیں بلکہ خالص توحید سے ہوئی۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین، یعنی اسلام رکھتے تھے اور ایک ہی ان کی ملت تھی، لیکن آہستہ آہستہ انھوں نے اس دین سے انحراف کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر آپس میں اختلاف کرکے اپنی اپنی مرضی کے دین اور قانون گھڑ لیے۔ دیکھیے سورة بقرہ (213)۔ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ۔۔ : یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فیصلہ نہ کرلیا ہوتا کہ دنیا میں لوگوں کو مہلت دی جائے گی، تاکہ وہ اپنی عقل و فہم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 19۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے اور اعادہ کی ضرورت نہیں، اور زجاج نے کہا ہے : وہ عرب شرک پر تھے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے، پھر وہ بالغ ہونے کے وقت مختلف ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون “۔ یہ قضاء وقدر کی طرف اشارہ ہے، یعنی اگر اس کے حکم میں پہلے سے نہ ہوتا کہ وہ ان کے درمیان ان امور میں قیامت سے فیصلہ نہیں کرے گا جن ثواب و عقاب کے اعتبار سے وہ اختلاف کرتے ہیں تو ان کے درمیان دنیا میں فیصلہ کردیا جاتا، پس وہ مومنوں کو ان کے اعمال کے عوض جنت میں اور کافروں کو ان کے اعمال کے بدلے جہنم میں داخل کردیتا،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان الناس الا امۃ واحدۃ “ یعنی اسلام پر (سب لوگ تھے) 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما کان الناس الا امۃ واحدۃ فاختلفوا “ کے بارے میں فرمایا کہ ابن مسعود ؓ کی قرآن میں فرمایا کہ ابتدا میں (سب لوگ) ہدایت پر تھے پھر آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان الناس الا امۃ واحدۃ “ اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) میں اس حال میں آپ اکیلے تھے ” واحدۃ فاختلفوا “ جب آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھے ] النَّاسُ [ لوگ ] اِلَّآ [ مگر ] اُمَّةً وَّاحِدَةً [ ایک امت ] فَاخْتَلَفُوْا ۭ [ پھر انھوں نے اختلاف کیا ] وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] كَلِمَةٌ [ایک فرمان ] سَبَقَتْ [ جو طے ہوا ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف ) سے ] لَقُضِيَ [ تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ] بَيْنَھُمْ [ ان کے مابین ] فِيْمَا [ اس میں ] فِيْهِ [ جس میں ] يَخْتَلِفُوْنَ [ یہ لوگ اختلات کرتے ہیں ] نوٹ۔ 3: آیت ۔ 19 میں ہے کہ تمام لوگ ایک ہی امت تھے ، شرک وکفر کا نام نہیں تھا ، پھر توحید میں اختلاف کرکے مختلف قومیں بنیں ۔ سب مسلمان ہونے کا زمانہ کتنا تھا ، اور کب تک رہا ؟ روایات حدیث وسیر سے معلوم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَمَا کَان النَّاسُ اِلَّا اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا) یعنی سب لوگ ایک ہی جماعت تھے سو انہوں نے اختلاف کرلیا یعنی بنی آدم کا ایک ہی دین تھا سب موحد تھے اور دین اسلام پر تھے پھر لوگوں میں اختلاف ہوگیا اور بہت سے لوگ ایمان کو چھوڑ کر کافر ہوگئے اور بہت سے لوگ کافر ہی نہیں مشرک بھی ہوگئے۔ حضرت قتادہ سے تفسیر در منثور (ص 243 ج 1) میں نقل کیا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان جو قرنیں تھیں یہ سب ہدایت پر حق شریعت پر تھیں ‘ پھر لوگوں نے اختلاف کی راہیں نکالیں۔ بہت سے لوگوں نے دین حق کو چھوڑ دیا اور مؤمن و کافر دو جماعتیں ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–19

ابطال شرک اور مشرکین کے ایک شبہ کا ازالہ قال اللہ تعالی۔ ویعبدون من دون اللہ مالا یضرھم ولا ینفعہم۔۔۔ الی۔۔۔ فیما فیہ یختلفون۔ (ربط): ان آیات میں بھی مشرکین کی جہالت اور گمراہی کا بیان ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہماری سفارش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ ان کا یہ دعوی بالکل غلط اور بےاصل ہے جس پر کوئی دلیل نہیں اگر اس چیز کا کوئی وجود ہوتا تو ضرور اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا یہ ناممکن ہے کہ کوئی چیز ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہ ہو نیز اس سے بڑھ کر کیا حماقت ہوگی کہ ایسی چیز کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں کہ اگر یہ ان کی عبادت کریں تو وہ ان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

34:“ فَاخْتَلَفُوْا ” کے بعد کا مضمون مقدر ہے۔ “ اي بعث اللہ النبیین الخ ” بقرینہ سورة بقرہ “ کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَ ةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیِّیْنَ الخ ” اور سورة بقرہ میں “ فَبَعثَ ” سے پہلے “ فَاخْتَلَفُوْا ” مقدر ہے بقرینہ آیت زیر تفسیر جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے (ص 101، حاشیہ نمبر 405) لوگوں کے امت واحدہ ہونے اور پھر مختلف گروہوں میں بٹ جانے کا مضمون قرآن مجید میں کئی جگہوں میں مذکور ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے توحید تھی اور تمام لوگ توحید پر متفق تھے کیونکہ توحید دین فطرت ہے۔ اس کے بعد بد عمل اور بےدین لوگوں نے توحید میں اختلاف کیا اور محض ضد کی وجہ سے مسئلہ توحید…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–20

ربط آیات۔ اس سورة کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا ، مشرک لوگ اس قرآن کو ماننے کے لیے اس لیے تیار نہ تھے کہ اس میں ان کے عقائد کی تردید تھے کہتے تھے اس میں ہمارے معبودوں کی توہین کی گئی ہے ، لہٰذا آپ کوئی دوسرا قرآن لے آئیں یا اسی میں ہماری مرضی کے مطابق ترمیم کردیں تو ہم ماننے کے لیے تیار ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا کہ کتاب اللہ میں تغیر وتبدل کرنا میرے اختیار میں نہیں میں تو صرف وحی الٰہی کی پیروی کرتا ہوں۔ اگر میں اس میں تبدیلی کی کوشش کروں تو بڑے دن کے عذاب میں پھنس جائوں گا۔ ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ خود کسی حکم کو اٹھادے اور اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا۝ 0 ۭ وَلَوْلَا كَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَھُمْ فِيْمَا فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ۝ 19 نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ یعنی حق و باطل کی حقیقت کا انکشاف کلی قیامت ہی پر منحصر ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو دنیا میں بھی کردکھاتے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا ط وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ فِیْمَا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (یونس : 19) (اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت۔ پھر انھوں نے اختلاف کیا اور اگر تیرے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ پاچکی ہوتی تو فیصلہ کردیا جاتا ان کے درمیان جس چیز میں وہ باہم اختلاف کررہے تھے) ۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ کے ذریعے انسانوں کی متعدد گمراہیوں اور غلط تصورات کی اصلاح کی ہے جسے ہم ایک ترتیب سے عرض کرتے ہیں۔ متعدد گمراہیوں کی اصلاح 1 آج کا فلسفی یہ سمجھتا ہے اور تاریخِ انسان کا مؤرخ بھی یہ لکھتا ہے کہ انسان کی زندگی کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–20

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی وحدت بیان فرما کر ثابت کیا گیا ہے کہ شرک سے پہلے لوگ توحید پر قائم تھے اور توحید ہی لوگوں کے درمیان اتحاد کے ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرتاً توحید پر پیدا فرمایا ہے۔ یہ فطرت کی آواز اور اس کا تقاضا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر اس کی پشت سے اس کی تمام اولاد کو پیدا کیا اور ان سے۔ ( اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تمام بنی آدم نے توحید کا اقرار اور اس کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ کیوں نہیں، آپ ہی ہمارے رب ہیں فرمایا اس پر گواہ رہنا۔ قیامت کو یہ نہ کہنے پاؤ کہ ہمیں تو اس عہد کا علم ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سب کا ایک دین : 19: وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّااُمَّۃً وَّاحِدَۃً (پہلے انسان ایک ہی جماعت تھے) سب سے کٹ کر ایک اللہ تعالیٰ کے متقی بندے ایک ملت پر قائم تھے۔ ان میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ یہ آدم (علیہ السلام) کے زمانہ کی بات ہے جب تک کہ ہابیل کا قتل پیش نہ آیا۔ نمبر 2۔ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد جبکہ فقط مومن باقی رہ گئے کوئی کافر نہ رہا۔ اس وقت لوگ ایک دین پر تھے۔ دنیا امتحان گاہ ہے نہ کہ فیصلہ گاہ : فَاخْتَلَفُوْا (پھر وہ الگ الگ ہوگئے) پس وہ مذاہب میں بٹ گئے۔ وَلَوْلَاکَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ (اگر آپ کے رب کی طے شدہ بات پہلے سے نہ ہوتی) وہ بات حکم کو قیامت تک کیلئے مؤخر کرنا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(19) ” وما کان الناس الا امۃ واحدۃ “ یعنی اسلا م پر اور ہم اس میں اختلاف کو سورة بقرہ میں ذکر کرچکے ہیں ۔ ” فاختلفوا “ مؤمن اور کافر گروہ بن گئے ۔ ” ولو لا کملۃ سبقت من ربک “ بایں طور کہ ہر امت کے لیے ایک وقت مقررکر دیا ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس امت کو مہلت دینا اور دنیا میں عذاب دے کر ہلاک نہ کرنا ہے۔ ” لقضی بینھم “ عذاب نازل کر کے اور جھٹلانے والوں کو جلدی سزا دے کر اور یہ عذاب فیصلہ ہوتا ہے ان کے درمیان ۔ ” فیما فیہ یختلفون “ جس (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اللہ کے حکم میں یہ بات طے نہ ہوچکی ہوتی کہ قیامت سے پہلے ان کے ثواب اور عقاب میں اختلاف کا یہ فیصلہ نہ کریں گے تو دنیا میں ہی ان کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–19

18۔ 19۔ مطلب یہ ہے کہ خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر یہ لوگ بتوں کو پوجتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ بت خدا سے ان کی شفاعت کریں گے یہ ان کی انتہا درجہ کی گمراہی ہے کہ جو دنیا میں ذرہ برابر بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ آخرت میں کیا شفاعت کرے گا پھر حضرت محمد ﷺ کو فرمایا کہ ان سے کہو کہ تم لوگ ایسی بات خدا کو جتلا رہے ہو جس کا سر نہ پاؤں بغیر حکم خدا کے کس کی مجال ہے جو کسی کی کوئی شفاعت کرے پھر خدا نے اپنی پاکی بیان فرمائی کہ وہ شرک سے بالکل پاک صاف ہے اور اگر مشرک شاید یہ کہیں تمہارے دین میں یہ منع ہوگا ہمارے دین میں تو یہ منع نہیں ہے تو فرمایا کہ یہ عقیدہ تم لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–20

آیت : (19-20) (وما کان الناس الا امۃ واحد) ” اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت “ یعنی تمام لوگ صحیح دین پر متفق تھے ‘ پھر ان میں اختلاف واقع ہوگیا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے جو خوشخبری سنانے والے اور برے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ‘ تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بارے میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (ولو لا کلمۃ سبقت من ربک) ” اور ار نہ ہوتی ایک بات جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے طے ہوچکی ہے “ کہ نافرمانوں کو مہلت دینی ہے اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کا فوری مواخذہ نہیں کرنا۔ (لقضی بینھم) ” تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا ہے “ بایں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 19–20

36 کفار کی طرف سے فرمائشی معجزے کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاردی گئی ان کے رب کی طرف سے یعنی ان کی اقتراح و فرمائش کے مطابق۔ ورنہ مطلق نشانیاں تو آپ کو بیشمار عطا فرمادی گئی تھیں۔ اور اتنی کہ کسی اور کو نہیں عطا فرمائی گئیں۔ اور آپ کا سب سے بڑا معجزہ تو قرآن حکیم کا یہ معجزہ خالدہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ مگر ان ضدی و عنادی ہٹ دھرم کافروں کی خاص فرمائشیں تھیں کہ یہ اور یہ نشانیاں ہمیں دکھاؤ۔ مثلا " ناقہ صالح " " عصائے موسیٰ " اور یہ کہ کوہ صفاکوسونے کا پہاڑ بنادیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ (جامع البیان، محاسن التاویل، قرطبی، بیضاوی وغٰیرہ وغیرہ) سو یہ بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–20

فوری سزا نہ دینے کی حکمت تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ایک اور پہلو ظاہر کیا گیا ہے ، یعنی شروع میں انسان ایک ہی ملت ، ایک ہی مذہب اور ایک ہی والدین کی اولاد تھے۔ پھر انکی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی اور وہ اپنی ایک علیحدہ پہچان کے لیے گھر، خاندان، قبیلہ، محلہ، شہر اور پھر ملک میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔ اور آہستہ آہستہ توحید کا وہ سبق جو ان کو ان کے والدین حضرت آدم و حضرت حوا (علیہما السلام) کی طرف سے دیا گیا تھا اور اللہ کی طرف سے دل و دماغ میں ڈال دیا گیا تھا۔ ماحول، تربیت اور سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے تبدیل ہونا شروع ہوگیا۔ جیسا کہ ارسطو نے انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ” انسان پیدائشی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

آیات 11 تا 20 اسرار و معارف انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9۔ اس زمانے کے ملحد فلسفیوں اور تاریخ دانوں کے برعکس قرآن یہ بار بار اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کی ابتداء کفر یا شرک سے نہیں بلکہ خالص توحید سے ہوئی۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین۔ اسلام۔ رکھتے تھے اور ایک ہی ان کی ملت تھی لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے اس دین سے انحراف کیا اور آپس میں اختلاف کرکے اپنی مرضی کے ادیان اور قوانین گھڑ لئے۔ (نیز دیکھئے بقرہ آیت 312) 1۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فیصلہ نہ کرلیا ہوتا کہ دنیا میں لوگوں کو مہلت دی جائے گی تاکہ اپنی عقل و فہم سے کام لے کر جس راستہ کو چاہیں اختیار کریں اور جس راستہ کو چاہیں چھوڑ دیں اور قیامت ہی کی دن انہیں ان کے اچھے یا برے اعمال…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:19) فاختلفوا۔ بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنالئے۔ بعد میں مختلف عقیدوں میں بٹ گئے۔ کلمۃ ۔ ای القضاء والتقدیر۔ ایک بات پہلے سے طے شدہ ۔ ازلی حکم۔ سبقت (جو) پہلے سے (طے) ہوچکا ہے۔ واحد مؤنث غائب۔ باب ضرب سے۔ اسی سے مسابقہ اور استباق آتے ہیں۔ اس کے اصل معنی چلنے میں آگے ہونے کے ہیں۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون ۔ اگر تیرے رب کا فیصلہ پہلے سے صادر نہ ہوچکا ہوتا تو ان کا آپس میں جھگڑا کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–20

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 20 امۃ (جماعت، گروہ) سبقت (گزر گئی، طے کردی گئی) قضی (فیصلہ کردیا گیا ہے) آیۃ (نشانی، معجزہ) الغیب (بن دیکھی حقیقتیں ) انتظروا (تم انتظار کرو) تشریح : آیت نمبر 19 تا 20 ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں :- 1) ابتداء میں سارے انسان ایک ہی امت تھے۔ یعنی ان میں نہ تو فرمانی اور شرک و کفر کے جذبات تھے اور نہ وہ زبان رنگ و نسل، قوم اور قبیلہ میں تقسیم تھے بلکہ ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ بعد میں شیاطن کے بہکانے سے ان میں عقیدہ اور فکر و ذہن کے اختلاف پیدا ہوگئے اور وہ مختلف قومیتوں میں تقسیم ہوگئے۔ اس طرح ایک امت کا وہ تصور دھندلاتا چلا گیا جس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–19

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر یہ لوگ بتوں کو پوجتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ بت خدا سے ان کی شفاعت کرے گا۔ یہ ان کی انتہا درجہ کی گمراہی ہے کہ جو دنیا میں ذرہ برابر بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ آخرت میں کیا شفاعت کرے گا۔ پھر حضرت ﷺ کو فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ تم لوگ ایسی بات خدا کو جتلا رہے ہو جس کا سر نہ پاؤں۔ بغیر حکم خدا کے کس کی مجال ہے جو کسی کی کوئی شفاعت کرے۔ پھر خدا نے اپنی پاکی بیان فرمائی کہ وہ شرک سے بلکل پاک صاف ہے اور اگر مشرک شاید یہ کہیں : ” تمہارے دین میں یہ منع ہوگا، ہمارے دین میں تو یہ منع نہیں ہے “ تو فرمایا کہ یہ عقیدہ تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] یعنی سب موحد تھے کیونکہ آدم (علیہ السلام) موحد تھے لہذا بہت دنوں تک ان کی اولاد ان ہی کے طریقے پر رہی۔ [14] یعنی یہ بات کہ لوگ مختلف راہوں پر چلیں گے اور اس اختلاف میں ان کے لئے آزمائش عمل ہوگی، کیونکہ دنیا کی زندگی تو ہے ہی امتحان کے لئے اور سارا امتحان اس بات کا ہے کہ لوگ حق کو دیکھے بغیر عقل و شعور سے پہچانتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–19

(ف 2) (آیت) ” بما لا یعلم فی السموت “۔ سے غرض یہ نہیں کہ ایسے معبودان باطل بھی کائنات میں موجود ہیں ، جن کو خدا نہیں جانتا ، بلکہ غرض یہ ہے کہ اللہ کا علم چونکہ نہایت کامل اور حاوی ہے ، اس لئے جب اس کے علم میں اس کا کوئی ساجھی نہیں تو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اس کے سوا دوسرون کو بھی خدا گردانتے ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

19 اور تمام انسان پہلے ایک ہی طریقہ پر تھے پھر وہ اپنی غلط رائے کی وجہ سے جدا جدا ہوگئے اور انہوں نے اختلاف پیدا کرلیا اور اگر آپ کے رب کی پہلے سے ایک طے شدہ بات نہ ہوتی تو یہ لوگ جس چیز میں اختلاف کر رہے ہیں ان کے درمیان کبھی کاف یصلہ ہوچکا ہوتا۔ یعنی یہ کہ آخری فیصلہ اور آخری عذاب قیامت میں ہوگا یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جا چکی ہے اگر یہ فیصلہ نہ ہوتا تو دنیاہی میں آخری عذاب بھیج کر فیصلہ کردیاجاتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–19

ف 3۔ یعنی سب موحد تھے کیونکہ آدم (علیہ السلام) موحد تھے بہت روز تک ان کی اولاد ان ہی کے طریقہ پر رہی پس سب موحد رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سارے انسان ایک ہی گروہ تھے پھر وہ آپس میں اختلاف کر کے الگ الگ ہو گئے ۔ 31 ” سارے انسان من حیث الجنس ایک ہی طرح کے انسان تھے اور ایک ہی طریقہ پر تھے۔ پھر انہوں نے اختلاف کیا۔ “ قرآن کریم کے اس نظریہ میں اس بات کی پوری پوری وضاحت کردی کہ دین میں ” ارتقاء “ مطلق نہیں ہوا بلکہ اصل دین توحید ہی تھا اس کے ” ارتقاء “ کے نہیں انحطاط کے اثر سے شرک ، بت پرستی “ قبر پرستی اور شخصیت پرستی کی مختلف صورتیں ظہور میں آئیں جو لوگ دین میں ارتقاء کیقائل ہیں ان کا رداس آیت سے اور اس جیسی دوسری آیتوں سے واضح ہے۔ اب اس کی وضاحت اس طرح کی جا رہی ہے کہ چاہئے تو یہ تھا کہ جب انہوں نے حق کو قبول کرنے سے دانستہ انکار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

Commentary Disbelievers and Believers are two separate nationalities: Nationality based on race and country is absurd The statement: كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً (And people were but one community) in verse 19 means that the progeny of Sayyidna Adam (علیہ السلام) was essentially a single community of monotheists in the earlier stages of man's presence in the world. Shirk and Kufr were unknown as such. Then came up difference in the principle of pure monotheism that divided human beings in different nations and groups of people. How long this period of a single community of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25. For further elaboration see Towards Understanding the Qur'an, vol. I, al-Baqarah 2, n. 230, pp. 165-6, and ibid., vol. II, al-An 'am 6, n. 24, pp. 228-9 -Ed. 26. The fact is that God has wilfully kept reality beyond the ken of man's sense-perception. This was done so as to test whether man, by making proper use of his reason, conscience and intuition, is able to find the right way. As a logical corollary of this, God allows those who decide to follow any other way rather than the right one to do so. Had this not been the case, the reality could have been instantly unmasked and that would…

Read the full tafseer →