Explained with ayahs 18–19
شرک کے آغاز کی روداد
مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے۔ سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت نوح ؑ تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 24
کسی چیز کا اللہ کے علم میں نہ ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ سرے سے موجود ہی نہیں، اس لیے کہ سب کچھ جو موجود ہے اللہ کے علم میں ہے۔ پس سفارشیوں کے معدوم ہونے کے لیے یہ ایک نہایت لطیف انداز بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ تو جانتا نہیں کہ زمین یا آسمان میں کوئی اس کے حضور تمہاری سفارش کرنے والا ہے، پھر یہ تم کن سفارشیوں کی اس کو خبر دے رہے ہو ؟
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ اللہ (کی توحید) کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو (عبادت نہ کرنے کی صورت میں) نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ (عبادت کرنے کی صورت میں) ان کو نفع پہنچا سکیں اور (اپنی طرف سے بلا دلیل ایک نفع تراش کر) کہتے ہیں کہ یہ (معبود) اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں (اس لئے ہم ان کی عبادت کرتے ہیں) آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم خدا تعالیٰ کو ایسی چیز بتلاتے ہو جو خدا تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں (یعنی جو چیز اللہ کے علم میں نہ ہو، اس کا وجود اور وقوع محال ہے تو تم ایک محال چیز کے پیچھے لگے ہو) اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے اور (پہلے) تمام آدمی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 19:۔ وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ۭ قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَھُمْ فِيْمَا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۔
مشرکین مکہ کی اصلی چڑ : وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔ الایہ۔ یہ اس خاص چیز کا حوالہ بھی ہے جس کے سبب سے مشرکین مکہ قرآن سے چڑتے اور اس میں ترمیم کا مطالبہ کرتے تھے…
Read the full tafseer →18۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت سے تجاوز کرکے نہ کہ اللہ کی عبادت ترک کرکے۔ کیونکہ مشرکین اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ اور غیر اللہ کی بھی۔
18۔ 2 جب کہ معبود کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے اطاعت گزاروں کو بدلہ اور اپنے نافرمانوں کو سزا دینے پر قادر ہے۔
18۔ 3 یعنی ان کی سفارش سے اللہ ہماری ضرورتیں پوری کردیتا ہے ہماری بگڑی بنا دیتا ہے یا ہمارے دشمن کی بنائی ہوئی بگاڑ دیتا ہے۔ یعنی مشرکین بھی اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے تھے ان کو نفع اور ضر میں مستقل نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ اور وسیلہ سمجھتے تھے۔
18۔ 4 یعنی اللہ کو تو اس بات کا علم نہیں کہ اس کا کوئی شریک بھی ہے یا اس کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
6: یعنی یہ قرآن میرا بنایا ہوا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہے۔ اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہارے سامنے پڑھ سکتا تھا، نہ تمہیں اس کا علم ہوسکتا تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل فرما کر مجھے حکم دیا کہ تمہیں سناؤں، اس لیے سنا رہا ہوں۔ لہذا اس میں کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
7: یعنی تمہارا یہ مطالبہ کہ میں اس قرآن کو بدل دوں۔ دراصل میری نبوت کا انکار اور مجھ پر (معاذ اللہ) جھوٹ کا الزام ہے، حالانکہ میں نے عمر کا بڑا حصہ تمہارے درمیان گزارا ہے، اور میری ساری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے رہی ہے۔ قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے تم سب مجھے سچا اور امانت دار…
Read the full tafseer →ویعبدون من دون اللہ ما لا یضرھم ولا ینفعھم اور مکہ کے کافر اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں کہ اگر ان کی پوجا نہ کریں تو وہ ان پجاریوں کو نقصان نہیں دے سکتیں اور اگر ان کی پوجا کریں تو پجاریوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ یعنی بتوں کی پوجا کرتے ہیں جو بالکل بےجان ہیں ‘ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور معبود میں نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت ہونی چاہئے تاکہ پوجا کرنے والے کو پوجا کا ثواب دے سکے ‘ فائدہ پہنچا سکے یا ضرر کو دفع کرسکے۔
ویقولون ھؤلآ شفعاؤنا عند اللہ اور کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں یہ (معبود) ہمارے سفارشی ہیں۔ دنیوی امور میں بھی ہماری سفارش کرتے ہیں اور اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی…
Read the full tafseer →1 وہ معاملہ تو خدا اور پیغمبر کے ساتھ تھا۔ اب ان کی خدا پرستی کا حال سنیے کہ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے قبضہ قدرت میں نفع و ضرر کچھ بھی نہیں۔ جب پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ بیشک بڑا خدا تو ایک ہے جس نے آسمان و زمین پیدا کیے مگر ان اصنام (بتوں) وغیرہ کو خوش رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ سفارش کر کے بڑے خدا سے دنیا میں ہمارے اہم کام درست کرا دیں گے اور اگر موت کے بعد دوسری زندگی کا سلسلہ ہوا تو وہاں بھی ہماری سفارش کریں گے باقی چھوٹے موٹے کام جو خود ان کے حدود اختیار میں ہیں ان کا تعلق تو صرف ان ہی سے ہے۔ بناء ً علیہ ہم کو ان کی عبادت کرنی چاہیے۔
2 یعنی بتوں کا شفیع ہونا…
Read the full tafseer →آیت 18 وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَضُرُّہُمْ وَلاَ یَنْفَعُہُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط ”اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں ‘ اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔“
اس سے مشرکین مکہ کا بنیادی عقیدہ ظاہر ہو رہا ہے۔ وہ لوگ مانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اللہ ہے۔ وہ اپنے بتوں کو کائنات کا خالق ومالک نہیں بلکہ اللہ کے قرب کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ جن ہستیوں کے نام پر یہ بت بنائے گئے ہیں وہ ہستیاں اللہ کے ہاں بہت مقرب اور محبوب ہونے کے باعث…
Read the full tafseer →28 من دون اللہ کی سفارش ؟ یعنی اللہ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو کسی کی بگڑی کو بناسکے یا اسے کوئی فائدہ پہنچا سکے لہذا ایسا عقیدہ رکھ کر کسی دوسرے کی پرستش کرنا عبث ہے اور اس لحاظ سے کہ اس نے اللہ کی صفات میں دوسروں کو شریک کیا، بہت بڑا جرم بھی ہوتا ہے۔ اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ان کی پرستش کیوں کرتے ہو ؟ تو کہتے ہیں کہ بیشک بڑا خدا تو ایک ہی ہے مگر ان دیوی دیوتاؤں کی پرستش اور انہیں خوش رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ جو تھوڑے بہت اختیار انہیں حاصل ہیں ان کے مطابق ہمارے کام درست کردیں اور جو نہیں ان کی سفارش کردیں اور اگر موت کے بعد دوسری زندگی کا سلسلہ ہوا تو وہاں بھی یہ ہماری سفارش کریں…
Read the full tafseer →32۔ اس آیت میں تمام مشرک قوموں کے معبود ان باطل کی بےحقیقتی بیان کی ہے اور ان کا یہ جھوٹا عذر بھی کہ ہم ان دیویوں دیوتاؤں کو کچھ مستقلا متصرف فی الکائنات اور خدا تھوڑے ہی مانتے ہیں ہم تو ان کی حیثیت مستقل شفیع کی مانتے ہیں۔ عرب کے مشرکین کی طرح یہی عقیدہ عیسائیوں کا بھی ہے۔ مسیحی پرستی کے سلسلہ میں تو کھلا ہوا اور سب کا اور اولیاء پرستی کے سلسلہ میں ان کے فرقہ کیتھولک کا۔ اولیاء کو وہ شفعاء ہی ٹھیراتے ہیں۔ ہمارے زمانہ کے اہل بدعات کا بھی کچھ ایسا ہی عقیدہ ہے کہ اگر قبور اکابر کی تعظیم مفرط کی جائے گی تو یہ اکابر صالحین اپنے پرستاروں کے حق میں شافع وشفیع بن جائیں گے۔ اور ہر طرح عذاب الہی سے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…
Read the full tafseer →ویعبدون من دون اللہ ما لا یضرھم ولا ینفعھم اور مکہ کے کافر اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں کہ اگر ان کی پوجا نہ کریں تو وہ ان پجاریوں کو نقصان نہیں دے سکتیں اور اگر ان کی پوجا کریں تو پجاریوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ یعنی بتوں کی پوجا کرتے ہیں جو بالکل بےجان ہیں ‘ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور معبود میں نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت ہونی چاہئے تاکہ پوجا کرنے والے کو پوجا کا ثواب دے سکے ‘ فائدہ پہنچا سکے یا ضرر کو دفع کرسکے۔
ویقولون ھؤلآ شفعاؤنا عند اللہ اور کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں یہ (معبود) ہمارے سفارشی ہیں۔ دنیوی امور میں بھی ہماری سفارش کرتے ہیں اور اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی…
Read the full tafseer →(18) یہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کی عبادت کرتے ہیں کہ عبادت نہ کرنے کی صورت میں نہ ان کو دنیا وآخرت میں نقصان پہنچا سکیں، اور نہ عبادت کرنے کی صورت میں دنیا وا آخرت میں ان کو کوئی نفع پہنچا سکیں اور اپنی طرف سے بلادلیل کہتے ہیں کہ یہ معبود ہمارے سفارشی ہیں۔
اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز کی خبردیتے ہیں ہو جو اس کو معلوم نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں کہ کوئی معبود اور بھی ہے جو نفع ونقصان کا مالک بھی ہو، اس کی ذات اولا، شریک اور ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بالا ہے۔
Read the full tafseer →وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : مکہ کے مشرک اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرتے تھے اور کچھ اور ہستیوں کو بھی غائبانہ پکارتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم انھیں اللہ تعالیٰ نہیں مانتے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ سے ہمارے کام کروا دیتے ہیں (دیکھیے زمر : 3) اللہ تعالیٰ ان کی سفارش رد نہیں کرتا، حالانکہ وہ نہ انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے تھے نہ نقصان (دیکھیے مائدہ : 76۔ فرقان : 3) بلکہ ان کو خبر بھی نہ ہوتی تھی کہ کوئی ہمیں پکار رہا ہے یا ہماری پوجا کر رہا ہے۔ یہی حال ہمارے زمانے کے ان لوگوں کا ہے جو پیروں فقیروں کو حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں اور مردہ اولیاء اللہ کی قبروں کو سجدہ کرتے، ان کا طواف کرتے، ان…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 18۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویعبدون من دون اللہ مالا یضرھم ولا ینفعھم “۔ (اس میں من دون اللہ سے) مراد بت ہیں۔ (آیت) ” ویقولون ھؤلاء شفعآؤنا عنداللہ “۔ یہ ان کی طرف سے جہالت کی انتہاء ہے، اس حیثیت سے کہ انجام کار کے طور پر شفاعت کا انتظار ان سے کررہے ہیں جن سے حال میں نہ نہ نفع پایا جاسکتا ہے اور نہ نقصان، اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” شفعآؤنا “۔ یعنی یہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس دنیا میں ہماری معاشی اصلاح کے بارے میں سفارش کریں گے۔
(آیت) ” قل اتنبئون اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض “۔ عام قرات تنبئون تشدید کے ساتھ ہے، اور ابو السحال العدوی نے اتنبئون اللہ مخفف کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نصر نے کہا جب قیامت کا دن ہوگا میرے لئے لات اور عزی سفارش کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ (آیت) ” فمن اظلم ممن الفتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ، انہ لا یفلغ المجرمون (17) وعبدون من دون اللہ مالا یضرہم ولا ینفعہم ویقولون ھولآء شفعآ وناعنداللہ۔
Read the full tafseer →وَيَعْبُدُوْنَ (اور وہ سب عبادت کرتے ہیں ) مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ (اللہ کے علاوہ کی) [مَا : جو ] لَا يَضُرُّھُمْ [ تکلیف نہیں دیتا ہے ان کو ] وَلَا يَنْفَعُھُمْ [ اور نہ ہی نفع دیتا ہے ان کو ] وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ کہتے ہیں ] هٰٓؤُلَاۗءِ [یہ لوگ ] شُفَعَاۗؤُنَا [ شفاعت کرنے والے ہیں ہماری ] عِنْدَاللّٰهِ ۭ [ اللہ کے پاس ] قُلْ [ آپ کہیے ] اَ [ کیا ] تُنَبِّـــــُٔوْنَ [ تم لوگ خبر دیتے ہو [ اللّٰهَ [ اللہ کو ] بِمَا [ اس کی جو ] لَا يَعْلَمُ [ وہ نہیں جانتا ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] وَلَا فِي الْاَرْضِ ۭ [ اور نہ ہی زمین میں ] سُبْحٰنَهٗ [ پاکیزگی اس کی ہے ] وَتَعٰلٰى [ اور وہ بلند ہے…
Read the full tafseer →مشرکین کی گمراہی ‘ اور ان کے قول وعمل کی تردید
ان آیات میں اول تو مشرکین کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ شانہ ‘ کی توحید کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کرتے ہیں ان میں بعض جاندار بھی ہیں جیسے بعض حیوانات اور بےجان بھی ہیں جیسے اصنام واوثان یعنی بت اور یہ ان کے معبود ان باطل نفع اور ضرر پہنچانے سے بالکل ہی عاجز ہیں ‘ جو نفع ضرر کچھ بھی نہ پہنچا سکے اس کی عبادت کرنا اور اپنے خالق کو چھوڑنا بہت بڑی حماقت ہے اور بہت دور کی گمراہی ہے۔ جب مشرکین کو ان کی گمراہی پر متنبہ کیا گیا تو انہوں نے اپنی جہالت سے یہ نکتہ نکالا کہ ہمارا اصل مقصود تو اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ابطال شرک اور مشرکین کے ایک شبہ کا ازالہ
قال اللہ تعالی۔ ویعبدون من دون اللہ مالا یضرھم ولا ینفعہم۔۔۔ الی۔۔۔ فیما فیہ یختلفون۔
(ربط): ان آیات میں بھی مشرکین کی جہالت اور گمراہی کا بیان ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہماری سفارش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ ان کا یہ دعوی بالکل غلط اور بےاصل ہے جس پر کوئی دلیل نہیں اگر اس چیز کا کوئی وجود ہوتا تو ضرور اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا یہ ناممکن ہے کہ کوئی چیز ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہ ہو نیز اس سے بڑھ کر کیا حماقت ہوگی کہ ایسی چیز کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں کہ اگر یہ ان کی عبادت کریں تو وہ ان کو…
Read the full tafseer →31: یہ زجر ہے بطور شکویٰ اور توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ عقلِ سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ عبادت اور پکار صرف ایسی ذات کے لیے جائز ہے جس کے اختیار و تصرف میں مخلوق کا نفع ونقصان ہو اور ایسی ذات سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ مشرکین جن کو نافع وضار سمجھ کر پکارتے ہیں وہ بالکل عاجز و بےبس ہیں۔ نفع و ضرر ان کے اختیار میں نہیں۔ لہذا ان کی عبادت و پکار بھی جائز نہیں۔ یہاں دعوائے سورت بھی ضمنًا مذکور ہے یعنی مشرکین اپنے معبودانِ باطلہ کو عنداللہ شفیعِ غالب سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ اختیار نہیں دیا۔
32: یہ مشرکین کی طرف سے اپنے فعلِ شرک کے ارتکاب کے لیے معذرت ہے۔ یعنی ہم اللہ کے جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ربط آیات۔
اس سورة کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا ، مشرک لوگ اس قرآن کو ماننے کے لیے اس لیے تیار نہ تھے کہ اس میں ان کے عقائد کی تردید تھے کہتے تھے اس میں ہمارے معبودوں کی توہین کی گئی ہے ، لہٰذا آپ کوئی دوسرا قرآن لے آئیں یا اسی میں ہماری مرضی کے مطابق ترمیم کردیں تو ہم ماننے کے لیے تیار ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا کہ کتاب اللہ میں تغیر وتبدل کرنا میرے اختیار میں نہیں میں تو صرف وحی الٰہی کی پیروی کرتا ہوں۔ اگر میں اس میں تبدیلی کی کوشش کروں تو بڑے دن کے عذاب میں پھنس جائوں گا۔ ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ خود کسی حکم کو اٹھادے اور اس…
Read the full tafseer →وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَ اللہِ 0 ۭ قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللہَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ 0 ۭ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 18
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في…
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی اس کا کہیں بھی وجود نہیں فرضی بات ہے۔ 12 منہ
ترکیب : مالایضرھم مفعول ہے یعبدون کا من دون اللّٰہ مفعول کی صفت سبحانہ منصوب ہے مصدر ہو کر فعل محذوف کا واذا اذقنا شرط اذا مفاجاتیہ جواب اذاھم فلما کا جواب۔
تفسیر : لا یفلح المجرمون کے بعد ان کے جرم صریح اور اعتقاد قبیح کی تصریح فرماتا ہے کہ یعبدون الخ خدا کے سوا ایسی بےسود چیزوں کی عبادت کرتے ہیں کہ نہ ان کو کچھ نفع دے سکتی ہیں عبادت کرنے سے نہ نقصان ترک عبادت سے اور اپنے زعم فاسد میں ان کا ان سے یہ نفع خیال کرنا بھی غلط ہی ہے لا شفاؤنا عند اللّٰہ یہ ہماری خدا کے ہاں سفارش کرتے ہیں ہم ان مورتوں یا اپنے بزرگوں سے مانگتے ہیں وہ اللہ سے…
Read the full tafseer →وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَضُرُّھُمْ وَلاَ یَنْفَعُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُلَآئِ شُفُعَآؤُنَا عِنْدَاللّٰہِ ط قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰہَ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ ط سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (یونس : 18)
(اور وہ اللہ کے سوا ان کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچاسکیں اور نہ نفع۔ اور کہتے ہیں یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے پیغمبر کہہ دیجیے کیا تم اللہ کو خبر دیتے ہو ایسی بات کی جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک اور بالاو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں) ۔
گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
فہم القرآن
ربط کلام : مجر موں اور ہلاک ہونے والوں کا یہ بھی جرم تھا کہ وہ کتاب الٰہی کا انکار کرتے اور آخرت کے منکر تھے۔
پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح اہل مکہ کا کردار بھی یہی تھا کہ وہ قیامت کے دن کی جواب دہی کا تصور بھول چکے تھے۔ جس بنا پر اس قدر بےخوف اور دلیر ہوئے کہ جب بھی ان کے سامنے ٹھوس اور واضح آیات نازل ہوتیں یا نبی معظم ﷺ ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کرتے تو وہ سر تسلیم خم کرنے کی بجائے گردن اکڑا کر یہ کہتے کہ ہم اسے ہرگز نہیں مانیں گے۔ اگر ہمیں منوانا چاہتے ہو تو۔ اس قرآن کی جگہ کوئی دوسری کتاب لے آؤ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم اس میں اتنی تبدیلی ضرور کرو۔ جس میں ہمارے اور تمہارے…
Read the full tafseer →18: وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّھُمْ (اور وہ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوائے ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو کچھ نقصان دے سکتے ہیں) اگر وہ ان کی عبادت کو ترک کردیں۔ وَلَا یَنْفَعُھُمْ (اور نہ ان کو نفع دے سکتے ہیں) اگر وہ ان کی عبادت کریں۔ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُ لَآ ئِ شُفَعَآ ؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ (اور وہ کافر اسطرح کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں) ھٰؤلاء سے اصنام کی طرف اشارہ ہے عند اللہ سے دنیا اور اس کے دوران زندگی مراد ہے کیونکہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہ تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی پختہ قسمیں اٹھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرنے والوں کو بالکل نہ اٹھائے…
Read the full tafseer →تفسیر :۔ (18)” ویعبدون من دون اللہ مالا یضرھم “ اگر اس کی نافرمانی کریں اور اس کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ” ولا ینفعھم “ اگر ان بتوں کی عبادت کریں ۔ ” ویقولون ھولاء شفعا ئو نا عند اللہ قل اتنبئون اللہ “ کیا تم اللہ کو خبر دیتے ہو ” بما لا یعلم “ اللہ اس کے صحیح ہونے کو اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کو خبر دیتے ہو کہ اس کا کوئی شریک ہے اور اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر بھی سارش کرنے والے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تو اپنا کوئی شریک معلوم نہیں ۔” فی السموات ولا فی الارض سبحنہ و تعلیٰ عما یشرکون “۔
حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ” تشرکون “ تاء کے ساتھ یہاں اور سورة النحل میں دو جگہ پڑھا ہے اور سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 19۔ مطلب یہ ہے کہ خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر یہ لوگ بتوں کو پوجتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ بت خدا سے ان کی شفاعت کریں گے یہ ان کی انتہا درجہ کی گمراہی ہے کہ جو دنیا میں ذرہ برابر بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ آخرت میں کیا شفاعت کرے گا پھر حضرت محمد ﷺ کو فرمایا کہ ان سے کہو کہ تم لوگ ایسی بات خدا کو جتلا رہے ہو جس کا سر نہ پاؤں بغیر حکم خدا کے کس کی مجال ہے جو کسی کی کوئی شفاعت کرے پھر خدا نے اپنی پاکی بیان فرمائی کہ وہ شرک سے بالکل پاک صاف ہے اور اگر مشرک شاید یہ کہیں تمہارے دین میں یہ منع ہوگا ہمارے دین میں تو یہ منع نہیں ہے تو فرمایا کہ یہ عقیدہ تم لوگوں نے…
Read the full tafseer →آیت : (18)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ویعبدون) ” اور پرستش کرتے ہیں “ یعنی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین۔ (من دون اللہ ما لا یضروھم ولا ینفعھم) ” اللہ کے سوا ‘ اس چیز کی جو ان کو نقصان پہنچا سکے نہ نفع “ یعنی ان کے معبودان باطل ان کو ذرہ بھر فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان سے کسی ضرر کو دور کرسکتے ہیں۔ (ویقولون) ” اور وہ کہتے ہیں۔ “ ایسی بات جو دلیل سے بالکل خالی ہے۔ (ھولاء شفعاؤنا عند اللہ) ” یہ اللہ کے ہاں ہمار سفارشی ہیں “ یعنی وہ ان معبودان باطل کی عبادت محض اس لئے کرتے ہیں ‘ تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ ایہ ان کی اپنی طرف سے گھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →32 ۔ غیر اللہ کی پرستش وپوجاعقل کا ماتم۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے سوا کسی بھی اور چیز کی پوجاعقل کا ماتم ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایسے ایسے کھلے دلائل اور واضح حقائق کے باوجود اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نفع دے سکے نہ نقصان۔ تو جو چیز نہ نفع دے سکے اور نہ نقصان سے بچا سکے وہ معبود برحق کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور اس کی پوجا کس طرح کی جاسکتی ہے ؟ پس ایسوں کو معبود ماننا دراصل اپنی عقلوں کا ماتم کرنا ہے۔ اور تم جو ان کو از خود اپنے طور پر حاجت روا ومشکل کشا سمجھتے ہو یہ محض تمہارے اپنے مونہوں کی باتیں اور خودساختہ وبے…
Read the full tafseer →مشرکین کا عقیدہ سفارش اور اس کا رد
تشریح : اس آیت میں ان لوگوں کی عقل بتائی جا رہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کو قرآن پاک میں ردو بدل کرنے کا کہہ رہے تھے۔ یعنی ان لوگوں میں اتنی بھی سوجھ بوجھ نہ تھی کہ ہم جو یہ بےجان بتوں کو پوج رہے ہیں ان سے منتیں مرادیں مانگتے ہیں تو یہ بےحس و حرکت ہمیں کیا سکھ چین دے سکتے ہیں۔ ایسے لوگ آج بھی اس دنیا میں موجود ہیں جو کوئی آگ، سانپ، ہاتھی، چاند، سورج، ستارے، پانی، بتوں، مزاروں اور قبروں کی پوجا کرتے ہیں۔ اور جب ان سے پوچھا جائے کہ بھئی یہ تم کیا بیوقوفی کر رہے ہو تو جواب دیتے ہیں کہ ویسے تو ہم اللہ کو مانتے ہیں ان کو تو صرف سفارش کے لیے پوجتے ہیں کہ ہماری مرادیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار و معارف
انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…
Read the full tafseer →ف 6۔ یہی حال ہمارے زمانہ کے ان لوگوں کا ہے جو پیروں فقیروں کو مانتے ہیں اور مردہ اولیا اللہ کی قبروں کو سجدہ کرتے اور ان پر چڑھا وے چڑھاتے ہیں۔ انہیں سمجھانے کے لئے جب کوئی بات کی جاتی ہے تو وہ یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہم ان بزرگوں کو یہ سمجھ کر تو سجدہ نہیں کرتے اور نہ ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ یہ خود خدا ہیں بلکہ انہیں صرف خدا کے ہاں اپنا سفارشی سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا خدا پر اتنا زور ہے کہ وہ ان کی کوئی سفارش سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا خدا پر اتنا زور ہے کہ وہ ان کی کوئی سفارش رد نہیں کرسکتا۔ اسی چیز کا جواب اگلے جملہ میں دیا جا رہا ہے۔ (وحیدی) ۔
7۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پہنچانتا ہے۔…
Read the full tafseer →(10:18) اتنبئون۔ الف استفہام کے لئے ہے تنبئون جمع مذکر حضر۔ تنبئۃ اور تنبئی سے۔ کیا تم خبر دیتے ہو۔ کیا تم آگاہ کرتے ہو۔
اتنبئون اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض کیا تم اللہ کو ایسی بات بتا رہے ہو جو زمین و آسمان میں اس کے علم میں نہیں۔ یعنی زمین و آسمان کی ہر بات تو اس کے علم میں ہے پھر تم یہ کیا بات اس کو بتا رہے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری اس بات کا وجود ہی نہیں اور تم محض ایک بےبنیاد ۔ من گھڑت بات بنا رہے ہو (اس سے کفار کی بتوں سے شفاعت کی امید کی حقیقت کی نفی قطعی طور پر مقصود ہے) ۔
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 18
یعبدون (وہ عبادت و بندگی کرتے ہیں) لایضر (وہ نقصان نہیں پہنچاتا ہے) لاینفع (وہ نفع نہیں دیتا ہے) شفعآء (شفیع) سفارش کرنے والے اتنبئون (کیا تم خبر دیتے ہو ؟ ) تعالیٰ (بلندو برتر)
تشریح :- آیت نمبر 18
کفار مکہ نبی کریم ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے کہ یا تو اس قرآن کو بدل دو یا اس میں ایسی ترمیم کر دو جس سے ہمارے بتوں کی عبادت و بندگی کی گنجئاش نکل آئے اور ہمارے درمیان کے اختلافات دور ہوجائیں۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا بھرپور انداز میں جواب ارشاد فرمایا تھا اس آیت میں اللہ نے ان ناسمجھ پتھروں کے پجاریوں سے یہ فرمایا ہے کہ بےعقلی کی انتہا یہ ہے کہ وہ بت جو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر یہ لوگ بتوں کو پوجتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ بت خدا سے ان کی شفاعت کرے گا۔ یہ ان کی انتہا درجہ کی گمراہی ہے کہ جو دنیا میں ذرہ برابر بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ آخرت میں کیا شفاعت کرے گا۔ پھر حضرت ﷺ کو فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ تم لوگ ایسی بات خدا کو جتلا رہے ہو جس کا سر نہ پاؤں۔ بغیر حکم خدا کے کس کی مجال ہے جو کسی کی کوئی شفاعت کرے۔ پھر خدا نے اپنی پاکی بیان فرمائی کہ وہ شرک سے بلکل پاک صاف ہے اور اگر مشرک شاید یہ کہیں : ” تمہارے دین میں یہ منع ہوگا، ہمارے دین میں تو یہ منع نہیں ہے “ تو فرمایا کہ یہ عقیدہ تم…
Read the full tafseer →[12] یہاں سفارشیوں کے معدوم ہونے کی وجہ نہایت لطیف انداز میں بیان کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ کے علم میں نہیں اس کا وجود ہی باطل ہے، پھر وہ کون سے سفارشی ہیں جن کے بارے میں تم اللہ کو خبر دے رہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(ف 2) (آیت) ” بما لا یعلم فی السموت “۔ سے غرض یہ نہیں کہ ایسے معبودان باطل بھی کائنات میں موجود ہیں ، جن کو خدا نہیں جانتا ، بلکہ غرض یہ ہے کہ اللہ کا علم چونکہ نہایت کامل اور حاوی ہے ، اس لئے جب اس کے علم میں اس کا کوئی ساجھی نہیں تو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اس کے سوا دوسرون کو بھی خدا گردانتے ہو ۔
Read the full tafseer →18 اور یہ مشرک اللہ کی عبادت اور توحید کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو کوئی نقصان پہونچا سکتی ہیں نہ ان کا کچھ بھلا کرسکتی ہیں اور یہ مشرک یوں کہتے ہیں کہ یہ معبود اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز سے آگاہ کرنا چاہتے ہو جس کے موجود ہونیکا علم نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں۔ خدا تعالیٰ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بالاتر ہے۔ یعنی ان کی عبادت نہ کرو تو کچھ تمہارا بگاڑ نہ کرسکیں اور ان کی عبادت کرو تو کچھ فائدہ نہ پہونچا سکیں اور یہ سفارشی والی بات ایسی ہے کہ اول تو سفارشی کی عبادت لازم نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقرر نہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 3۔ یعنی سب موحد تھے کیونکہ آدم (علیہ السلام) موحد تھے بہت روز تک ان کی اولاد ان ہی کے طریقہ پر رہی پس سب موحد رہے۔
Read the full tafseer →وہ اللہ کے سوا ان شخصیتوں کو پکارتے ہیں جو ان کو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان
29 ؎ زیر نظر آیت اور اس جیسی ان گنت آیتوں میں تمام مشرک قوموں کے معبود ان باطل کی بےحقیقی واضح کی جا رہی ہے اور ان کا یہ جھوٹا عذر بھی کہ ان دیویوں ، دیوتائوں ، پیروں ، ولیوں اور بزرگوں اور اس طرح ان نیک لوگوں کے بتوں اور قبروں ، مجسموں اور استھانوں کو کچھ مستقل متصرف فی الکائنات اور رب و الٰہ تھوڑا ہی مانتے ہیں ہم تو ان کی حیثیت مستقل شفیع کی مانتے ہیں اور عرب کے مشرکین کی طرح یہی عقیدہ عیسائیوں کا بھی ہے۔ مسیح پرستی کے سلسلہ میں تو کھلا ہوا اور عیسائیوں کے سارے فرقوں ، گروہوں اور پارٹیوں کا اور اولاء پرستی کے سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
The last verse (17) emphasizes the subject conclusively by warning that attributing any statement to Allah Ta` ala that was not His Word, or denying what actually was, were crimes deserving severe punishment.
Read the full tafseer →24. To say that something is not known to God amounts to saying that it does not exist. For, quite obviously, all that exists is known to God. The above verse thus subtly points out the non-existence of any intercessors on behalf of unbelievers insofar as God does not know that there exist any in the heavens, or on the earth who would intercede on behalf of the unbelievers. That being so, who are those intercessors about whose existence and whose power of intercession with God the unbelievers wanted to inform the Prophet (peace be on him)?
Read the full tafseer →